Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 02)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

جانے وہ کونسے شوہر ہوگے جو اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جان کی قربانی تک دے ڈالتے ہیں۔سوہا بیڈ پہ بیٹھ کر عباد کو دیکھ کر بولی جو سنجیدہ سا لیپ ٹاپ پہ کجھ ٹائپ کررہا تھا۔

یہ پکڑو اِس میں بہت مل جائے گے۔عباد نے اُس کے تکیے کے نیچے ڈائجسٹ نکال کر دیا تو سوہا کا منہ بن گیا۔

یہ نہ ہوسکا کے کہہ دوں ایک جیتی جاگتی مثال تمہارے سامنے ہے۔سوہا نروٹھے پن سے بولی

تمہیں خوش کرنے کا مطلب اپنے پیروں پہ کلہاڑی مارنے متراف ہے جو کی میں افورڈ نہیں کرسکتا۔عباد نے آرام سے جواب دیا۔

اب ایسا بھی نہیں آپ کو تو بس بہانا چاہیے رولا ڈالنے کا۔سوہا سرجھٹک کر بولی۔

میڈم سوہا میں جانتا ہوں تمہارے دماغ میں رات کے بارہ بجے کیا کھچڑی پک رہی ہے اِس لیے سارے فضول خیالات نکال کر چپ چاپ سونے کی کرو۔عباد کی بات پہ اُس کا منہ کُھلا کا کھلا رہ گیا کیونکہ وہ واقع ایسا سوچ رہی تھی۔

اگر آپ کو پتا چل گیا ہے تو یہ نہ ہوا خود مجھے آفر دیتے چلو باہر گھومنے چلتے ہیں۔سوہا اُس کا لیپ ٹاپ بند کرتی بولی۔

سوہا تنگ مت کرو میں امپورٹنٹ فائل بنارہا ہوں۔عباد نے دوبارہ لیپ ٹاپ کھول کر کہا

افف میری کیا قسمت ہے پہلے کتابیں سوتن تھی اب یہ آپ کا لیپ ٹاپ جو ہر وقت آپ ساتھ لگائے بیٹھتے ہیں۔سوہا بے زاری سے بولی

تمہیں ہی ہر ایک میں سوتن نظر آتی ہے ناولز پڑھ کر دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔عباد نے مزے سے کہا

آپ کو پتا ہے آج میں نے جو ناول پڑھا اُس میں ہیرو اپنی ہیروئن کے لیے کیا کرتا ہے۔سوہا متجسس ہوتی بولی۔

تم نہ بتاؤ میں اندازہ لگا سکتا ہوں ہیروئن کی سالگرہ ہوگی اور وہ اُس کو چاند پہ لیں گیا ہوگا پھر دونوں نے کیک چاند پہ کاٹا ہوگا یا اُس کو آسمان کی سیر کروانے کے لیے لے گیا ہوگا۔عباد کی بات پہ وہ سخت بدمزہ ہوئی۔

اب ایسی بھی بات نہیں دراصل نہ ہیروئن کو ایک رِنگ پسند آئی تھی بدلے میں ہیرو نے کیا کیا سارہ شاپنگ مال اپنی ہیروئن کے لیے خرید لیا۔سوہا پرجوش ہوتی بولی۔

بِل گیٹ کے خاندان سے ہوگا نہ۔عباد نے طنزیہ بولا

آپ سے بات کرنا بے کار ہے میں ہی پاگل ہوں جو آپ سے بات کرتی ہوں اب نہیں کرتی میں۔سوہا اُس کی بات پہ ناراض ہوتی بولی۔

اچھا سنیں۔کجھ منٹ بعد پھر سوہا نے عباد کو مخاطب کیا تو عباد کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی

جی بولیں۔عباد نے بے حد پیار سے جواب دیا۔

آپ کو بچے پسند ہیں؟سوہا کے سوال کیا

ہاں بچے تو سب کو پسند ہوتے ہیں۔عباد عام انداز میں بولا۔

میں سب کا نہیں آپ کا پوچھ رہی ہوں

مجھے بھی پسند ہے۔عباد نے جواب دیا

کتنے؟سوہا نے پھر پوچھا

معصوم بچے ہو تو بہت زیادہ اگر دن میں تارے دیکھانے والے ہو تو اپنے والدین کو مبارک۔عباد نے آرام سے کہا

اچھا اگر آپ کے بچے دن میں تارے اور رات میں سورج دیکھانے والے ہو تو آپ کیا کریں گے۔سوہا نے مسکراہٹ دبائے پوچھا۔

اللہ نہ کریں تم نہ سوجاؤ رات کے وقت کیسی باتیں کیے جارہی ہو۔عباد توبہ کیے بولا۔

💕
💕
💕
💕

اللہ اپنے بندوں کو کبھی دے کر آزماتا ہے تو کبھی لیکر زویا میری بات غور سے سننا اگر اللہ نے تمہیں اولاد کی نعمت سے نوازا ہے تو اُس پہ غرور مت کرنا غرور اللہ کو ناپسند ہے غرور کرنا ہے تو اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا پھر اُس پہ کرنا۔عائشہ نے ہمیشہ کی طرح زویا کو سمجھایا۔

میں کیوں کرنے لگی غرور ویسے بھی مجھے بہت خوشی ہے ماں بننے کا احساس بہت خوبصورت ہے اور تم دیکھنا میں اپنی اولاد کی اچھے سے تربیت کروں گی تاکہ وہ مجھ پہ نہیں اپنے باپ پہ جائے۔زویا نے سنجیدگی سے کہا

انشااللہ اللہ تمہیں تمہارے مقصد پہ کامیاب کریں اور میں بھی خوش ہوں تمہاری خوشی میں۔عائشہ نے مسکراکر کہا

💕
💕
💕
💕
💕

آج سوہا کے انٹری ٹیسٹ کا پتا لگنا تھا کے اُس نے ٹیسٹ پاس کیا یا نہیں اس بات کے لیے سوہا بے چینی سے انتظار کرنے کے بجائے ہاتھ میں پاپ کارن کا باؤل پکڑے ٹیوی پہ سی آے ڈی ڈرامہ دیکھنے میں مشغول تھی۔

سوہا

سوہا۔

لو جی آگئ شوہر کو میری یاد ضرور ٹیسٹ کے بارے میں جاننا ہوگا میں نہیں دیتی جواب۔

عباد کے بار بار آواز دینے پہ سوہا بڑبڑائی۔

سوہا

تم یہاں بیٹھی ہو اور میں کب سے تمہیں آوازیں دیئے جارہا ہوں کانوں پہ تیل ڈالا ہے کیا۔عباد ٹی وی لاوٴنج میں آتا سوہا کے سر پہ نازل ہوا

اوو ہو یہ بات مجھے آپ کی ذرہ پسند نہیں جو آپ ٹی وی کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں دوسری یہ کے میں نے آج تک اپنے ریشمی ملائم بالوں پہ تیل نہیں ڈالا تو کانوں میں کیوں ڈالنے لگی۔سوہا نے آرام سے جواب دیا۔

ریموٹ مجھے دو۔عباد اُس کے ہاتھ سے ریموٹ کھینچ کر ٹیوی کی بند کیا۔

یہ کیا کردیا ابھی تو اصل مجرم کا پتا لگنا لگا تھا۔سوہا جھٹکے سے کھڑی ہوتی بولی۔

ڈرامے کے مجرم کو جاننے کے لیے بے چینی ہے پر ٹیسٹ کے رزلٹ کی نہیں۔عباد نے جیسے افسوس کیا۔

ہے ا

او پلیز سوہا اب یہ مت کہنا کے پریشانی دور کرنے کے لیے ڈرامہ دیکھ رہی ہوں۔عباد اُس کی بات بیچ میں کاٹتا بولا

اچھا اگر آپ کو پتا ہے تو اب بتادے۔سوہا نے منہ بسور کر کہا تو عباد کا ڈمپل نمایاں ہوا۔

تم نے ٹیسٹ پاس کرلیا ہے اور جلد کلاسس بھی ہوگی۔عباد کی بات سن کر سوہا کی آنکھیں حیرت سے پھیل ہوگئ اُس کو اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آیا۔

یہ کیا بول رہے ہیں سوچ سنبھل کر بولا کریں۔سوہا اپنے دل کو تسلی کرواتی بولی۔

لُک۔عباد جیب سے موبائل نکالتا کجھ دیکھاتا بولا۔

پورے نمبرز

عباد کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی جب سوہا لہراکر اُس کے بازوں میں جھول گئ۔

سوہا

سوہا

کیا ہوا۔عباد پریشانی سے اُس کا گال تھپتھپاکر آواز دینے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد پریشان سا کبھی زویا کو دیکھتا تو کبھی بیڈ پہ لیٹی سوہا کو۔

زویا کیوں اِتنا سسپینس پِھیلایا ہوا ہے بتادو بھی دو کیا ماجرہ ہے۔عباد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو بولا۔

عباد ایک تو تم باہر کھڑے ہوکر انتظار نہیں کیا اُپر سے اتنی جلدی مچائی ہوئی ہے۔زویا نے گھور کر کہا

سوہا کی طبیعت کیسی ہے کیوں ہوگئ وہ بیہوش۔عباد نے پوچھا

کوئی شاکنگ نیوز سُنی ہے اور۔زویا اتنا کہتی خاموش ہوئی۔

اور۔عباد بے تابی سے بولا

اور سوہا ایک ماہ سے اُمید سے ہے۔زویا کی بات پہ عباد کجھ پل تو اُس کا دیکھتا رہا پھر ساری بات سمجھ آنے کے بعد اُس کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔

آر یو سیریس۔عباد نے پھر بھی کنفرم کرنا چاہا

یس۔زویا نے مسکراکر کہا

تم سوہا کے ساتھ رہو میں نیچے سب کو بتاتی ہوں اور امی کو بھی کال کرلوں گی۔زویا دوبارہ کہتی کمرے سے باہر چلی گئ۔

عباد چلتا سوہا کے سرہانے بیٹھ گیا۔

دُنیا اِدھر کی اُدھر ہوسکتی ہے پر تمہاری عقل ٹھکانے نہیں آسکتی۔عباد سوہا کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بڑبڑایا۔

💕
💕
💕
💕

سوہا کو ہوش آیا تو سب کمرے میں موجود تھے

سوہا کانگریس تم ماں بننے والی ہوں۔سوہا جو انٹری ٹیسٹ میں پاس ہونے پہ سوگ منانے کا ارداہ رکھتی تھی زویا کی بات پہ حیرت سے عباد کو دیکھنے لگی جو مسکراکر اُس کو دیکھ رہا تھا۔

کیا واقع پھر تو مجھے میڈیکل نہیں کرنا ہوگا۔سوہا پرجوش آواز میں بولی عباد کا دل کیا اپنا سر دیوار پہ دے مارے۔

اللہ اللہ کرکے تو تم نے پاس کیا ہے میڈیکل کا ٹیسٹ اب ایسا تو نہ بولوں۔صغریٰ بیگم کی بات پہ اُس نے منہ بسورا

امی بلکل ٹھیک بول رہی ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد ہم ہیں اُس کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اِس لیے تم آرام سے اپنا کالج جانے کی تیار کرو۔عباد کی بات پہ سوہا نے اُس کو گھورا

کاش میری شادی کسی ان پڑھ سے ہوئی ہوتی۔سوہا یہ بس سوچ سکی اِس وقت عباد اُس کو سب سے زیادہ اپنا دشمن لگا جو جانے کس بات کا بدلا لیں رہا تھا اُس سے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم نے بچے کے لیے نام سوچا ہے۔زویا نے عمار سے پوچھا۔

ہممم بیٹی ہوئی تو میں اُس کا نام عبیر سوچا ہے جبکی بیٹے کا نام تم اپنی مرضی سے رکھنا۔عمار نے مسکراکر کہا

میں نے عماد نام سوچا ہے اور کیا پتا جڑواں بچے ہو۔زویا کی بات پہ عمار جو موبائل میں مصروف تھا ٹھٹک کر زویا کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔

تم اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتی ہو۔عمار نے سوال داغا

تین ماہ ہوگئے ہیں عمار اور مجھے دو دلوں کی دھڑکن محسوس ہوتی ہیں آخر کو میں ایک ڈاکٹر ہوں بنا ٹیسٹ کے بھی جان سکتی ہوں۔زویا گہری مسکراہٹ سے بولی

ہوسکتا ہے کیونکہ آنٹی نے بھی تو جڑواں بیٹیوں کو جنم دیا تھا۔عمار مسکرار بولا

کتنا اچھا ہو اگر دونوں بیٹے ہو۔زویا کھوئے ہوئے لہجے میں بولی

بیٹا ہو یا بیٹی بس صالح اور تندرست ہو۔عمار نے سنجیدگی سے کہا تو زویا نے آمین کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

عباد کمرے میں آیا تو سوہا کو روزانہ کی طرح ٹیوی میں گم ہوتا دیکھا عباد تاسف سے اُس کو دیکھتا بیڈ کی دوسری سائیڈ بیٹھ گیا۔

ڈرامہ دیکھنے سے اچھا تھا میڈیکل کورس دیکھتی۔عباد نے سوہا سے کہا

دیکھا اتنی موٹی کتابیں دیکھ کر ڈپریشن ہونے لگی میں تبھی بند کردی۔سوہا نے مزے سے کہا

آج میں تمہیں ایک قصہ سناتا ہوں۔عباد نے کہا

پڑھائی سے ریلٹیڈ نہیں تو میں تن من گوش ہوں۔سوہا جھٹ سے بولی

ایک عورت کے یہاں بچہ کی پیدائش ہوئی تو وہ بہت رو رہا تھا اُن میاں بیوی نے بہت بہلانے کی کوشش کی پر بچہ پھر بھی چپ نہ ہوا تو وہ ڈاکٹر کے پاس لے آئے ڈاکٹر نے دوائی دی تو کجھ خاموش ہوا پھر دوبارہ سے بچے نے رونا شروع کیا میاں بیوی پریشان ہوکر دوبارہ سے اُس کو ڈاکٹر کے پاس لے آئے تو ڈاکٹر نے اُس عورت سے پوچھا کے آپ حمل کے دوران کیا چیز زیادہ کرتی تھی جس پہ اُس عورت نے کہا وہ وقت گُزاری کے لیے ان دنوں میں زیادہ تر ٹیوی دیکھا کرتی تھی مطلب تیز آواز میں گانا سنا کرتی تھی جس پہ ڈاکٹر نے کہا اب بھی تیز آواز پہ ٹی وی چلالیں بچہ خودبخود خاموش ہوجائے گا جس پہ ان دونوں میاں بیوی کو ڈاکٹر کی بات پہ غصہ آیا اور انہیں باتیں سُنائی بُرا بہلا کہہ کر واپس گھر کو لوٹ آئے بچے کی حالت ویسے ہی تو شوہر نے کہا اپنی بیوی سے کے ڈاکٹر نے جو کہا اُس پہ عمل کرکے دیکھتے ہیں جب بیوی نے ٹی وی چلائی تو اُن کا بچہ پرسکون ہوگیا مسکرانے لگا میان بیوی ایک دوسرے سے نظریں چُرانے لگے پھر دوسرے دن ڈاکٹر کے پاس گئے اُن سے معافی مانگنے کے لیے جس پہ ڈاکٹر نے کہا حمل کے دوران عورت جس کام کو زیادہ کرتی ہے بچے پہ بھی اُس کا اثر ہوتا ہے۔

عباد اپنی بات کہہ کر سوہا کو دیکھنے لگا جس نے ٹی وی بند کردی۔

سیدھا سیدھا بول دیتے ٹی وی نہ دیکھو اتنی تقریر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔سوہا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا تو عباد ہنس پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *