Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Last Episode)Part 2

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

کجھ دیر بعد!

یہ ہوا کیسے؟سوہا کانپتے لہجے میں عباد سے بولی جو سپاٹ تاثرات سجائے کھڑا تھا۔

دعا کرو بس۔ عباد سرد لہجے میں بولا تو سوہا عماد کی طرف بڑھی جو بکھری حالت میں تھا معصومہ اُس کو تسلی کروا رہی تھی پر وہ کجھ سمجھنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا۔

مم عماد بلکل خاموش ہوگیا ہے۔معصومہ پریشانی سے سوہا سے بولی۔

عبیر کہاں ہیں؟ سوہا ایک نظر عماد پہ ڈالتی عبیر کا پوچھنے لگی کیونکہ اُس نے ہسپتال میں اُس کو نہیں دیکھا تو۔

بہت رو رہی تھی تبریز کے ساتھ ہے وہ اُس نے کہا وہ سنبھال لیں گا۔ معصومہ نے بتایا۔

عماد

سوہا نے اُس سے کجھ کہنا چاہا اُس سے پہلے عماد بول پڑا۔

امی ٹھیک ہوجائے گی نہ؟

ان شاءاللہ تم دعا کرو عمار دیکھ رہا ہے نہ اُس کو۔ سوہا نے اُس پرسکون کرنا چاہا جو ناممکن سا تھا۔

انہوں نے ایسا کیوں کیا؟کیا مجھ سے یا عبیر سے پیار نہیں تھا اُن کو۔ عماد کے لہجے میں زویا کے لیے ناراضگی تھی جس کو محسوس کرکے اُس نے ٹھنڈی سانس خارج کی۔

تم دونوں سے پیار تھا تبھی تو ایسا کیا۔

کیا ایسی محبت ہوتی ہے۔ عماد نے پوچھا

زویا کی محبت ایسی ہوتی ہے خودغرض۔ سوہا سرجھٹک کر بولی تبھی عمار کے ساتھ ایک لیڈی ڈاکٹر آئی تو سب اُن کی جانب متوجہ ہوئے۔ عماد کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یار عبیر پلیز چپ ہوجاؤ ورنہ طبیعت خراب ہوجائے گی۔تبریز کب سے عبیر کو چپ کروانے کی کوشش میں تھا مگر ایک عبیر تھی جو رو رو کر نڈھار ہوچکی تھی پھر بھی رونا بند نہیں کررہی تھی۔

یہ۔۔۔سب۔۔۔۔میری وجہ سے ہوا ہے۔عبیر ہچکیوں کے درمیان روتی ہوئی بولی

تمہاری وجہ سے کجھ نہیں ہوا تمہاری ماں کا اپنا دماغ خراب تھا۔ تبریز اکتاہٹ سے بولا

میری ماں کے بارے میں فلحال کوئی بات نہ کریں آپ پلیز دعا کریں۔ عبیر جیسے بول کر خاموش ہوئی تبریز کا فون رنگ کرنے لگا۔ تبریز ایک نظر عبیر پہ ڈال کر کال ریسیو کرنے لگا جہاں دل دُہلانے والی خبر اُس کی منتظر تھی۔

ہیلو

اوو۔ تبریز ایک رحم بھری نظر عبیر پہ ڈالتا کال بند کرگیا۔

کون تھا کیا کہہ رہا تھا امی تو ٹھیک ہے نہ؟ عبیر اُس کا بازوں جھنجھوڑتی پوچھنے لگی۔

زہر پوری بوڈی میں پھیل گیا تھا۔

تو۔ عبیر اُس کی بات بیچ میں کاٹ کر بولی

تو تمہاری ماں اِس دُنیا میں نہیں رہی۔ تبریز پریشان نظروں سے اُس کو دیکھتا بولا یہ خبر سن کر عبیر ساکت نظروں سے تبریز کو دیکھنے لگی جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو جو اُس نے سُنا وہ واقع سچ تھا؟ اتنا بھیانک اتنا دردناک اُس کی ماں اب نہیں وہ ماں کے لمس سے محروم ہوچکی تھی۔ جانے کتنے آنسو اُس کی آنکھوں سے بہہ نکلے پر عبیر کو کوئی ہوش نہیں تھا

💕
💕
💕
💕
💕

ایک ہفتہ بعد!

وقت کا کام تھا گُزرنا سو گُزر ہی جاتا ہے زویا کی موت کا ابھی تک کسی کو یقین نہیں آرہا تھا جو اپنے حسد کی آگ میں خود کو ہی جلا بیٹھی تھی۔

امی کیا بہنیں ایسی ہوتی ہیں وہ تو میری جڑواں تھی ایسا کیسے کرگئ۔سوہا نم لہجے میں سویرہ بیگم سے بولی معصومہ بھی ساتھ تھی

ہماری پرورش میں کمی رہ گئ جس سے وہ حسد کا شکار ہوئی کبھی کبھی ماں باپ کی کوتاہیاں بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔سویرہ بیگم کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں آپ؟سوہا کو اُن کا ایسا کہنا ٹھیک نہیں لگا۔

تو اور کیا کروں بچپن سے وہ کہا کرتی تھی ہم اُس پہ توجہ نہیں تھے سوہا پہ زیادہ دیتے ہیں بچی سمجھ کر ٹالتے رہے ہمیں کیا پتا تھا وہ اپنی زندگی برباد کردے گی۔سویرہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔معصومہ سے مزید رہا نہیں گیا تو وہاں سے اُٹھ گئ۔

ایک ہفتہ ہوگیا تھا عماد نے اُس سے کوئی بات نہیں تھی بس اپنے کمرے میں سارا دن رہتا تھا کمرہ لاک کرکے جس وجہ سے معصومہ واپس اپنے کمرے میں آگئ تھی جس حالات سے وہ گُزر رہا تھا اُس میں کسی نے بھی اُس کو یا عبیر کو پریشان نہیں کیا اُن کو اکیلا رہنے دیا تاکہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکتے معصومہ کا بہت بار دل کیا اُس کے پاس جائے اُس کو تسلی کروائے اُس کو اپنا کندھا پیش کرے پر عماد نے کوئی موقع نہیں دیا تھا جس وہ دل مسوس کرکے رہ جاتی زویا کی موت کا اُس کو غم تھا پر عماد کی نظراندازی سب پہ بھاری پڑگئ تھی اِس لیے اُس کو اپنا ہوش بھی نہیں تھا۔

آپ نے کوئی فرق تو نہیں کیا۔سوہا کی اپنی حالت غیر ہورہی تھی

اُس کے لیے مغفرت کی دعا کیا کرو خودکشی حرام ہے بہت بڑا گناہ رکھا ہے اللہ نے اُس کا۔سویرہ بیگم کی بات پہ سوہا کا دل تڑپ گیا تھا۔

💕
💕
💕
💕

کیسی ہو؟تبریز نے آج عبیر کو کال کی تھی اُس کا حال دریافت کرنے کے لیے جو بہت کالز بعد ریسیو کی گئ تھی تبھی تبریز نے نرمی بات کا آغاز کیا۔

ٹھیک۔عبیر نے یکلفظی جواب دیا

اللہ کو یہی منظور تھا تمہاری ماں کو تمہاری دعاؤں کی ضرورت ہے ایسے روؤں گی تو اُن کی روح تڑپے گی۔تبریز نے کہا تو عبیر نے جلدی سے اپنا چہرہ صاف کیا جو آنسوؤ سے تر تھا۔

میں نہیں رو رہی بس سوچ رہی تھی وہ جلدی سے ہمیں چھوڑ کر چلی گئ بچے کو تو ہر عمر میں اپنے ماں کی ضرورت ہوتی ہے نہ۔عبیر نے بھیگے لہجے میں کہا

ہوتی تو ہے پر تم پھر بھی خوشقسمت ہو جو زندگی کے چوبیس سال تم نے اُن کے ساتھ گُزرا میں نے تو کبھی اپنی ماں کا لمس محسوس نہیں کیا نہ بچپن میں رات کے وقت اُن کے سینے پہ سر رکھ کر سویا نہ کبھی مجھے یہ احساس ہوا گھر جلدی جانا ہے میری ماں میرا انتظار کررہی ہوگی۔تبریز بے تاثر لہجے میں بولا تو عبیر کجھ بول نہیں پائی واقع اُس کا غم اگر بڑا تھا تو تبریز کا کئ زیادہ بڑا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ایک ماہ ہوگیا تھا معصومہ کو اپنے کمرے میں ہی رہے اُس کو انتظار تھا تو بس عماد کا کب اُس کو کمی محسوس ہوگی عبیر کی سادگی میں رخصتی کی تاریخ بھی طے پاگئ تھی۔جس سے سب مطمئن تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عماد اپنے کمرے میں آیا تو آج پہلی بار شدت سے کجھ ادھورا محسوس ہوا اُس نے آس پاس نظر گُھمائی تو معصومہ کہیں نظر نہیں عماد کے دماغ اچانک سے کجھ کلک ہوا تو جلدی سے کمرے سے باہر آتا معصومہ کے کمرے میں آیا جہاں وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے ہوئے تھی۔

یہاں کیوں ہو؟عماد کی آواز پہ معصومہ نے جھٹ سے اپنی آنکھوں کو کُھولا

آگئ بیوی کی یاد۔معصومہ نے شکوہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔

بیوی بھولنے والی چیز ہوتی ہے کیا؟عماد بیڈ پہ اُس کے پاس بیٹھ کر ہاتھ تھام کر بولا

ایک مہینے سے میں یہاں ہوں۔

کیوں ہو تمہیں تو میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا مجھے ضرورت تھی تمہاری۔عماد نے جوابً کہا

کمرے لاک کیا ہوا تھا کیسے آتی مسٹر ایکس تو میں ہوں نہیں یا میرے پاس کوئی سلمانی ٹوپی تھی جو بے وقت ہر جگہ پائی جاتی۔معصومہ نے طنزیہ کیا تو عماد مسکرایا پر آنکھوں نے اُس کی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دیا۔

سوری میں نے تمہیں وقت نہیں دیا۔عماد اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر بولا تو معصومہ کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی۔

مجھے ڈر تھا۔

کس بات کا؟عماد نے پوچھا

مجھ یہ ڈر تھا کے کہیں تم مجھے چھوڑ نہ دو۔معصومہ نے بتایا۔

تمہیں چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا امی کو کھوچُکا ہوں تمہیں کھونے کی ہمت مجھ میں نہیں۔عماد اُس کو اپنے سینے سے لگائے جذب سے بولا جس پہ معصومہ نے پرسکون ہوکر آنکھیں موندلی۔

💕
💕
💕

دو سال بعد!

دو سال ہوگئے تھے سب اپنی اپنی زندگیوں میں خوش وخرم تھے تبریز اور عبیر کی شادی ہوگئ تھی اور آج اللہ نے اُس کو بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا جس سے سب بہت خوش تھے سب سے زیادہ خوش تو تبریز تھا جس کی زندگی عبیر کے آنے کے بعد پھر بیٹے کی آمد پہ مکمل ہوچکی تھی۔جب کی معصومہ کو ابھی اولاد نہیں ہوئی تھی پر وہ پرسکون تھی کے آج نہیں تو کل اللہ اُس کو بھی اولاد کی نعمت یا رحمت سے ضرور نوازے گا۔

نام کیا سوچا ہے؟معصومہ ننہے سے بچے کو اپنی گود میں اُٹھاتی پرجوش آواز میں پوچھنے لگی۔

سکندر۔عبیر ایک نظر تبریز پہ ڈال کر بتانے لگی جو اُس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔

مااشاللہ نام تو بہت پیارا سوچا ہے۔معصومہ خوش ہوتی ہوئی بولی۔

معصومہ اب بچے کی جان چھوڑو تاکہ عبیر بھی اپنے بچے کو اٹھائے۔سوہا نے گھورتے ہوئے معصومہ سے کہا جو بہت وقت سے سکندر کو گود میں اٹھائے ہوئے تھی۔

کیا یار مم میں اِس کی خالہ عرف مامی ہوں تو میرا زیادہ حق ہے اُس پہ کیونکہ میرے دو دو رشتے نکلتے ہیں جب کی عبیر کا بس ایک ہے۔معصومہ نے اپنا فلسفہ جہاڑا تو سب ہنس پڑے۔

اچھا ابھی باہر چلو عبیر کو آرام کرنا ہوگا۔سوہا کو عبیر کے آرام کا خیال آیا تو معصومہ سرہلاتی اُن کے کمرے سے باہر چلی گئ باقی سب بھی باری باری نکلتے گئے۔

آپ خوش ہیں۔عبیر نے سب کے جانے کے بعد تبریز سے پوچھا جس کے چہرے پہ آج الگ چمک تھی۔

تمہاری سوچ سے زیادہ۔تبریز اُس کی ناک دباتا بولا تو وہ مسکرائی۔

شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے مجھے اتنا انمول تحفہ دینے کے لیے۔تبریز اُس کے ہاتھ پہ لب رکھتا بولا۔

شکریہ تو مجھے آپ کا کرنا چاہیے آپ نے اتنی محبت دی مجھے۔عبیر کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے تھے جن کو تبریز نے اپنی پوروں سے چُنا۔

ٹھیک ہے پھر ہم دونوں تاعمر ایک دوسرے کے مشکور رہے گے کیونکہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو مکمل کیا ہے۔تبریز شرارت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو عبیر ہنس کر سرہلانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕

دیر تھی لیکن اللہ نے پانچ سالوں بعد معصومہ کو بھی اپنی رحمت سے نوازا تھا آج کجھ گھنٹے پہلے اُس نے دو جڑواں بچیوں کو جنم دیا تھا جس پہ عماد کے پیر زمین پہ نہیں ٹِک رہے تھے وہ آج حد سے زیادہ خوش تھا ایک لمحے کے لیے بھی معصومہ سے الگ نہیں ہورہا تھا۔

ہسپتال کے پرائیوٹ روم میں معصومہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ساتھ میں عماد بیٹھا تھا جس کی گود میں بچی تھی جبکی دوسری بچی سوہا کے پاس تھی جو والہانہ انداز میں اُس کو چوم رہی تھی۔حماد جب کی بس خاموشی سے سب کو دیکھ رہا تھا دو سال پہلے اُس کی شادی بھی فرشتے سے ہوگئ تھی سارا دن اُن کا لڑائی کرنے میں گؐزرتا اب تو فرشتے کو بھی پریگنسی میں آٹھواں مہینہ چل رہا تھا۔

عماد پانی دینا۔معصومہ نے آہستہ آواز میں عماد سے کہا تو عماد نے جلدی سے پانی کا گلاس اُس کے سامنے کیا۔

ایک بچی کا نام تم اپنی مرضی سے رکھنا پر اِس کا نام میں رکھوں گی زویا۔سوہا کا لہجہ نم ہوگیا تھا اُس کی بات پہ عماد ساکت ہوا تھا وہی پانی پیتی معصومہ کو زبردست قسم کا اچھو لگا تھا عماد ہوش میں آتا جلدی سے اُس کی پیٹھ سہلانے لگا جب کی معصومہ سوہا کو ایسے دیکھنے لگی جیسے بول رہی ہو مجھ پہ نہیں میری معصوم بچی پہ رحم کرلیں۔

امی آپ لوگوں نے میرا نام معصومہ رکھا تھا یہ کہہ کرکے نام شخصیت پہ اثر کرتا ہے۔معصومہ کا خون خشک ہوا تھا زویا نام پہ جانے کیوں؟

تو زویا نام کا مطلب بہت پیارا ہے۔سوہا اُس کے ڈر سے بے نیاز اپنی دُھن میں بولی۔

اگر میری بیٹی کی شخصیت خالہ پہ جائے تو نہیں آپ دوسرا نام سوچے۔معصومہ عماد کا خیال کیے بنا بولی۔

تمہارے نام نے تمہاری شخصیت پہ اثر نہیں کیا تھا تو یہ بھی نہیں کرے گا۔سوہا زبردست قسم کی گھوری سے اُس کو نواز کر بولی جو بنا عماد کی موجودگی کا خیال کیے اپنی زبان کے جوہر دیکھا رہی تھی۔

آپو جیسے آپ کے نام نے اُلٹا اثر کیا ہوسکتا ہے اِس بار بھی ایسا ہو۔حماد نے سرسری لہجے میں کہا پر کون جانتا تھا عنقریب یہ سچ ہونے والا تھا۔

پھر بھی زوہا رکھے گے یہ نہیں ہہ۔معصومہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔

اچھا اچھا میں آتی ہوں۔سوہا یہ کہتی زوہا کو اپنے ساتھ لیکر چلی گئ عماد بھی اُٹھ کر جانے والا تھا پر معصومہ نے ہاتھ پکڑ کر روکا

ناراض ہوکر جارہے ہو؟پر عماد میری بات میری جالت کا بھی تو سوچو میرا ڈر بلاوجہ کا تو نہیں۔معصومہ نے سنجیدگی سے کہا

ناراض نہیں مسجد جارہا تھا نماز کا وقت ہورہا ہے۔عماد بنا حماد کے ہونے کا احساس کرتا اُس کا ماتھا چوم کر بولا جس پہ حماد یہاں وہاں دیکھتا گانا گانے لگا۔

نہ شرم نہ حیا

ایک بار آیا۔

اُس کے گانے پہ عماد نے تگڑی گھوری سے نوازا

تم ہی شرم کرلوں چلو نماز پڑھنے۔عماد نے کہا تو حماد سرہلاتا اُس کے ساتھ باہر نکلا کجھ دیر بعد سوہا واپس آئی تو معصومہ نے کہا

امی کیا یہ بڑی ہوکر ایک جیسی نظر آئے گی تو میں پہچانوں گی کیسے؟اُس کی بات پہ سوہا نے مسکراکر دونوں بچیوں کو دیکھا جن کے چہرے پہ کوئی فرق نہیں تھا ایک دوسرے کی کاپی تھی۔

فکر نہیں کرو امی کہتی تھی پانچ سال تک میں اور زویا ایک جیسی نظر آتی تھی پھر نہیں۔سوہا نے بتایا

مجھے زیادہ تو نہیں پتا آپ کے ماضی میں کون قصوروار تھا نانو یا خالہ پر میں اپنی بیٹیوں کی تربیت بہت اچھے سے کروں گی اپنا سارا وقت اُن پہ وقف کروں گی اِن دونوں میں کوئی زویا نہیں ہوگی میری ایک بیٹی آئرہ جس کی جان ہوگی اپنی بہن زوہا میں اور زوہا کی آئرہ میں میری بیٹیاں دو جسم ایک جان ہوگی کوئی کینہ بغض حسد اُن کے دلوں میں موجود اُن کو میلا نہیں کرے گا یہ بس محبت کرنا اور مجبت بانٹنا جانتی ہوگی۔معصومہ کے لہجے میں ایک عزم تھا جس کو سن کر سوہا نے بے اختیار آمین اور ان شاءاللہ کہا تھا۔

💕
💕
💕

کجھ عرصے بعد!

ذرہ سا جھوم لوں میں

ارے نارے بابا نا

آ تجھے چوم لوں میں

ارے نارے بابا نا۔

اُٹھارہ سالہ آئرہ ہاتھوں میں کلرز کی بالٹی پکڑے گول گول جھوم کر گانے گانا میں مگن تھی نیچے گھاس پہ مختلف قسم کے پینسل کلرز تھے اور اُس کی انوکھی بنائی ہوئی پینٹگ بھی پڑی تھی۔

ذرہ سا جھوم لوں میں

ارے نارے بابا نا

آ تجھے چوم لوں میں

ارے نارے بابا نا

میں چلی۔۔۔۔۔۔بن کر

ہواااااااااا

ربا میرے۔۔۔۔

مینو بچ

اُس سے پہلے وہ مزید گانا گاتی اُس کا پیر اپنے دوسری پیر پہ اٹکا جس سے ہاتھ میں پکڑی بالٹی سیدھا اندر آتے سکندر پہ پڑی جس سے اُس کی وائٹ کلر کی شرٹ رنگین ہوگئ تھی۔

سکندر تبریز کا رنگ غصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا اُس نے خونخوار نظروں سے آئرہ کو دیکھا جو اُس کے دیکھنے پہ مسکراہٹ پاس کرنے لگی تھی۔

واٹ دا۔سکندر دھاڑا

یہ میں ہوں یہ ہمارے گھر کا خوبصورت لان ہے اور یہ میری بنائی گئ پینٹگ ہیں بتائے کیسی ہے۔آئرہ گھاس پہ پڑی اپنی پینٹگ سامنے کیے بولی جس کو دیکھ کر سکندر کا غصہ مزید ہائے ہوا کیونکہ پینٹگ عزیم ہستی گدھے کی تھی۔

یہ واحیات پینٹگ بنائی ہے۔سکندر دانت پیس کر بولا

ایسے نہ بولیں ڈونکی کو بُرا لگے گا۔ آئرہ منہ بناکر کہتی پینٹگ پہ ہاتھ پھیرنے لگی سکندر تو بس اُس کو دیکھتا رہ گیا۔

او ریئلی گدھے کو بُرا بھی لگتا ہے۔ سکندر نے طنزیہ کیا

ہاں کیوں کیا اُن کے پاس دل نہیں ہوتا۔آئرہ نے بڑی عزت سے گدھے کا ذکر کیا۔

بڑا احساس ہے گدھے کا۔سکندر سرجھٹک کر اپنی پہنی شرٹ کو دیکھنے لگا جس کی حالت بُری تھی۔

گدھا نہ بولیں عزت سے نام لیں ڈونکی۔آئرہ لڑاکا انداز میں بولی پر سکندر اُس کو نظرانداز کرتا گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گیا آئرہ بھی کندھے اُچکاتی اپنے کام میں مگن ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *