Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 11)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

عبیر کا آج کالج میں پہلا دن تھا وہ بُری طرح سے کنفیوز تھی ابھی وہ اپنے ڈپارٹمنٹ میں جاتی جب لڑکوں کا ایک گروپ اُس کے سامنے آیا عبیر نے سہمی نظروں سے اُن کو دیکھ کر پھر آس پاس دیکھا جہاں ہر کوئی خود میں مگن تھا عبیر نے اپنی پہنی ہوئی چادر پہ گرفت مضبوط کی اور سائیڈ سے گُزرنا چاہا جب وہ پھر سے اُس کے سامنے آ کھرے ہوئے۔

ہیلو میں شجاع آپ کا سینئر ہوں جونیئر۔ایک لڑکا اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھائے شرارت بھرے لہجے میں بولا

مجھے کیوں بتارہے ہیں آپ۔ عبیر نے ہمت کرکے پوچھا

کیونکہ جونیئر کو سینئر سے بناکر رکھنی چاہیے آخر کو انہوں نے ہی کام آنا ہے دوسرے نے جواب دے کر اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے عبیر اُلٹے قدم لیتی پیچھے کی طرف جانے لگی

دیکھے آپ مجھے تنگ مت کرے ورنہ

عبیر اتنا کہتی چپ ہوگئ کیونکہ اُس کی اتنی سی بات پہ اُن لوگوں کا قہقہقہ گونج اُٹھا تھا

مس ڈبو آپ کو نہیں پتا کالج میں نیو کمر کی ریکنگ کی جاتی ہے۔ شجاع نے مصنوعی حیرت سے پوچھا

عبیر جو اپنے قدم پیچھے کی طور لیں رہی تھی اپنی پشت کسی پہ لگتی محسوس ہوئی تو سٹپٹا کر سائیڈ پہ ہوکر دیکھا جہاں اسکائے کلر کی شرٹ کے کف بازوں تک فولڈ کیے بالوں کو پف کی اسٹائل سے سیٹ کیے کھڑا شخص لڑکوں کو وارن کرتی نظروں سے دیکھ رہا تھا عبیر نے لڑکے کو دیکھا تو اُس کو کل والا واقع یاد آیا جس پہ اُن غور سے اُس لڑکے کو دیکھا جس کے چہرے کی گوری رنگت پہ سرخی چھائی ہوئی تھی۔

اپنے ڈپارٹمنٹ میں جاؤ اگر میرا ایکسرہ نکال دیا ہو تو۔تبریز ان لڑکوں کے جانے کے بعد عبیر کی طرف آکر طنِزیہ لہجے میں بولا عبیر کو اپنی حرکت پہ شرمندگی محسوس ہوئی

میں بھول گئ ہو۔ عبیر نے منمناکر بتایا تبریز جو سیٹی کی دُھن بجاتا جارہا تھا اُس کی آواز پہ پلٹ کر اُس کو دیکھا جو کالی چادر میں چھپی نظریں جھکائے کھڑی ہوئی تھی۔

اپنا ڈپارٹمنٹ یا اُس کا نام؟ تبریز نے پوچھا

نام کیسے بھول سکتی ہوں وہ یاد ہے بس کالج بڑا ہے تو ڈپارٹمنٹ کا راستہ بھول چُکی ہوں۔ عبیر نے جلدی سے بتایا

بڑی بات ہے اپنا ڈپارٹمنٹ نہیں اُس کا نام تو یاد ہے۔ تبریز بڑبڑایا۔

آؤ میں لیں چلتا ہوں۔تبریز نے آفر کی

آپ بس بتادے چلی میں خود جاؤں گی۔عبیر نے کہا

راستے میں پھر کوئی مل جائے گا اور پھر تم راستہ بھول جاؤں گی پھر ہر بار میں تو نہیں ملوں گا ایسا نہ ہو کے اِس بار اپنے گھر اور خود کا نام ہی نہ بھول جاؤ۔تبریز کی بات پہ عبیر خفت کا شکار ہوئی تبھی بنا چوں چراں کیے اُس کے ہمقدم ہوئی۔

تمہیں دیکھ کر ایسا نہیں لگتا میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہوں بلکہ یہ فیل ہورہا ہے جیسے تم اسلامی درس یا میلاد پہ آئی ہو۔تبریز اُس کے ساتھ چلتا اُس کی پہنی ہوئی چادر پہ چوٹ کیے بولا

ضروری تو نہیں انسان بس میلاد یا اسلامی درس پہ چادر لیں۔عبیر کو تبریز کی بات بُری لگی تبھی کہا

ہو یا نہ ہو مجھے کیا۔تبریز نے شانے اُچکائے پھر رک گیا تو عبیر نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

آگیا تمہارا ڈپارٹمنٹ۔تبریز جواب دے کر چلاگیا عبیر کی نظروں نے دور تک اُس کی پشت کو دیکھا پھر سر جھٹک کر کلاس کی جانب آئی۔

تمہیں تبریز چھوڑ کر گیا ہے۔عبیر جیسے ہی کلاس میں داخل ہوئی دو لڑکیاں اُس کے دائیں بائیں کھڑی ہوتی متحسس ہوتی پوچھنے لگی۔

کون تبریز۔ عبیر ناسمجھی سے اُن انجان لڑکیوں دیکھ کر پوچھنے لگی۔

ارے وہی اسکاے شرٹ سیکس پیک مضبوط بازوں کُسرتی جسم والا۔ لڑکی نے آنکھ ونک کیے کہا تو عبیر بے چاری خوامخواہ سرخ ہوگئ لڑکی کا لہجہ اتنا بے باک اور تفصیلی جو تھا۔

جی انہوں نے میری مدد کی۔ عبیر نے آہستہ آواس میں بتایا

لٙکی ہو ورنہ ہمیں تو دیکھتا تک نہیں امیر باپ کا بگڑا اور خوبصورت نواب زادہ ہے۔ لڑکی نے جیسے افسوس کیا عبیر کو لگا جیسے وہ میڈیکل پڑھنے نہیں تبریز نامی شخص کے بارے میں جاننے آئی ہو۔

وہ اچھے انسان تھے۔ عبیر حمایت بولی

تمہاری مدد جو کی ورنہ بہت منہ پھٹ قسم کا بندہ ہے ہے تو سینئر ہمارے کالج کا پر لڑائی کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ دوسری لڑکی نے ٹکڑا دیا اب جو اُس نے کہا عبیر متفق ہوئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماشاللہ اِس بار آپ نے اچھی کارکردگی دی ہے کلاس میں۔ بزنس ڈپارٹمنٹ کی ٹیچر نے معصومہ کے اسائمنٹ پہ فل مارکس دے کر کہا

شکریہ۔ معصومہ باچھیں پھیلائے بولی

وجہ پہلے تو آپ نے اتنا سیریس نہیں لیا تھا پڑھائی کو پھر؟ ڈپارٹمنٹ کی ٹیچر واقع ایمپریس ہوئی تھی معصومہ کا اسائمنٹ دیکھ کر جو عماد نے بناکر معصومہ کو دیا تھا معصومہ کو تو یہ بھی نہیں تھا پتا پہلی پیراگراف میں لکھا کیا ہے اور کس بارے میں ہے کیونکہ اُس نے کُھولنا تک گوارہ نہیں کیا تھا۔

جی بس اللہ کا کرم ہے میں کیا اپنی تعریف کروں اللہ نے مجھے اتنے شاندار دماغ سے نوازا ہے بس میں نے پہچانا نہیں۔ معصومہ نے بات کی شروعات تقریر سے کرنا چاہی عماد تو اُس کے سفید جھوٹ پہ دل ہی دل میں داد دیئے بنا نہ رہ سکا جو اُس کی رات جگے محنت کو اپنے شاندار دماغ کا نام دے رہی تھی۔

جی پھر کیسے پہچانا۔ ٹیچر مطلب کی بات پہ آنا چاہی

جی بتاتی ہوں تھوڑا صبر کریں۔ معصومہ نے اپنی بات شروع کی۔

اصل میں میری جو امی ہے وہ جب میری عمر کی تھی تو پڑھائی سے سخت الرجک تھی اور میرے جو ڈیڈی ہے وہ بہت سیریس تھے پڑھائی کے معاملے وہ چاہتے تھے میری امی بھی لیں اور وہ میڈیکل کریں پر میری ماں کے لیے یہ سب بہت کھٹن تھا۔ معصومہ نے بڑی سنجیدہ شکل بنانے بتایا۔ ٹیچر نے اُس وقت کو کوسا جب معصومہ سے سوال کرنے کا سوچا کلاس کے باقی اسٹوڈنٹس چہرہ جُھکا کر اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگے عماد کو بس یہ ڈر تھا کہی وہ سارا کجھ نہ بتادے۔

پر میرے ڈیڈی بھی اپنے نام کے ایک تھے ارادوں کے مضبوط انہوں نے میری امی کو منہ دیکھائی میں میڈیکل کالج کا فارم دیا بطورِ گفٹ کے طور پہ دیا جب مجھے یہ بات پتا چلی میں بہت حیران ہوئی مطلب بندہ منہ دیکھائی میں کوئی گولڈن کی چیز یا رومانٹک سا کوئی گفٹ دیتا ہے تبھی میں نے خود سے عزم کرلیا تھا میں اپنی اسٹڈی پہ فوکس کروں گی اگر نہیں کروں گی تو کل کو میرا شوہر بھی کسی کالج کا فارم ہاتھ میں پکڑائے گا۔ معصومہ بات کے احتتام پہ کون کو ہاتھ لگانے لگی جہاں ٹیچر کی آنکھوں میں ستار کے بجائے تاسف آیا تھا وہی پوری کلاس میں قہقہقہ کی آوازیں گونج اُٹھی تھی عماد نے اپنا سر پکڑلیا تھا۔

بات کرنے وقت یہ دیکھ لیا کریں کیا کہہ رہی ہیں اور کس سے کررہی ہیں۔ ٹیچر نے خشمگین لہجے میں کہا تو معصومہ نے منہ بسورہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذرہ جو بات کرنے کا سلیقہ ہو جو آتا ہے بس بولتی چلی جاتی ہوں یہ تک نہیں سوچتی لوگ کیا سوچے گے بس جو منہ میں آتا ہے بنا بریک بولتی چلی جاتی ہو۔ عماد کلاس ختم ہونے کے بعد معصومہ کو سُنانے میں مگن تھا جو کان لپیٹے اُس کے ساتھ چل رہی تھی۔

پہلے شاپنگ مال چلتے ہیں اُس کے بعد لونگ ڈرائیون پہ۔ معصومہ گاڑی میں بیٹھتی عماد سے بولی جو اُس کی بات پہ تپ اُٹھا تھا میں نے بھی کجھ کہا تھا وہ تو سُنا نہیں تم نے۔ عماد نے اُس کو گھورا۔

تو کیا غلط کہا بس اپنے خیالات بتائے تمہیں تو موقع چاہیے ہوتا ہے مجھے باتیں سُنانے کا۔ معصومہ گاڑی کا ڈور لاک کرتی بولی

کام ہی ایسے ہوتے ہیں تمہارے بندہ سنائے بنا نہ رہ پائے۔ عماد اگنیشن میں چابی گُھماتا بولا پر معصومہ نے نظرانداز کرنا لازمی سمجھا۔

💕
💕
💕
💕

عبیر کی کلاسس ختم ہوگئ تھی باہر اُس کو لینے ڈرائیور بھی آگیا تھا پر ستم یہ تھا کے وہ کالج سے باہر جانے کا راستہ بھول گئ تھی اُس کو یاد نہیں آرہا تھا کس طرف جانا ہے کس طرف گیٹ ہوگا کسی سے پوچھ کر وہ اپنا مذاق نہیں بنوانا چاہتی تھی تبھی سیڑھیوں کے پاس بیٹھ کر بار بار اپنی آنکھوں میں اُترتی نمی کو پیچھے دھکیلنے کی کوششوں میں تھی۔

تمہارا آج یہاں کا اسٹے ہے کیا؟ تبریز جو فرشتے کی کال پہ جلدی سے باہر جارہا تھا سیڑھیوں کے عبیر کو دیکھا تو رک کر پوچھنے لگا چادر دیکھ کر وہ پہچان گیا تھا تبھی جاننا چاہا عبیر نے نظریں اُٹھا اُس شاندار شخص کو دیکھا پر اِس بار اُس کو بتاکر اپنا مذاق نہیں اُڑانا چاہتی تھی تبھی خاموش رہی۔

کیا ہوا مجھے بتاؤ۔تبریز نے نرمی سے اِس بار پوچھا

وہ میں باہر جانے کا راستہ بھول چُکی ہوں۔عبیر کا اتنا کہنا تھا تبریز کا جاندار قہقہقہ فضا میں گونجا عبیر کی آنکھیں لبالب آنسو سے بھرگئ تھی جس کو دیکھ کر تبریز نے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا۔

کیا چیز ہو یار تم اتنی بُھلکر ہو تو اینٹری ٹیسٹ کیسا یاد کیا پاس کیسے ہوگئ ہے تمہارے یہ پانچ سال کیسے گُزرے گے۔ تبریز کو واقع تعجب ہوا تھا وہ اِس بات بھول چُکا تھا اُس کو کہی جانا بھی تھا۔

کالج اتنا بڑا ہے( سوں) ایک جیسے راستے( سوں)ہیں نیو بندہ کنفیوز ہوجاتا ہے( سوں۔)اِس میں میرا کیا قصور۔ عبیر اپنی آنکھیں صاف کرتی سوں سوں کرتی بتانے لگی تبریز ٹھوڑی پہ ہاتھ ٹِکاتا دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔

واقع تم بے قصور ہو قصوروار تو کالج تعمیر کرنے والے ہیں ان کو چاہیے تھا ہر ایک دیوار پہ لکھتے کے یہ راستہ کہاں جاتا ہے اور کہاں نہیں۔ تبریز نے بڑی سنجیدگی سے کہا

اور نہیں تو۔ عبیر بنا اُس کے لفظوں پہ غور کیے بولی تبریز کے چہرے پہ پھر سے مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔

چلیں میں چھوڑ دیتا ہوں باہر تک پر آپ اِس بار یاد کرلیں۔ تبریز کھڑا ہوتا ہوا بولا

شکریہ آپ کا۔ عبیر کی اٹکی سانس بحال ہوئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

عماد اور معصومہ شاپنگ مال آچُکے تھے معصومہ باری باری سب ڈریسز چیک کررہی تھی پر اُس کو کوئی خاص پسند نہیں آرہا تھا جب کی عماد اُس کے پیچھے چل رہا تھا۔

عماد یہ کیسا ہے۔ معصومہ نے پنک کلر کا شارٹ سیلولیس فراق اپنے ساتھ لگائے عماد سے پوچھا

بے کار۔ عماد نے بنا بازوں کے فراق دیکھا تو ناگواری سے کہا معصومہ نے ناک چِڑھائی

اِتنا اچھا تو ہے یہ دیکھو کام اتنا نفیس اور خوبصورت سا ہے۔ معصومہ نے منہ بناکر کہا

وہ ڈریسز لو جو پورے ہو ایسے سیلولیس ڈرسسز کی اجازت میں نہیں دوں گا۔ عماد نے صاف لفظوں میں باور کروایا۔

اپنی بیوی کو تو گھر میں بھی عبایا پہنانا ہے تمہیں۔معصومہ ڈریس واپس جگہ پہ رکھتی بولی

عماد میری مدد کرو نہ کونسا ڈریس لوں فنکشن کے لحاظ سے۔ معصومہ کو کافی دیر تک کجھ سمجھ نہیں آیا تو عماد کا ہاتھ تھام کر بولی

میم پارٹی ڈریسر اُس کلیکشن میں موجود ہے لیٹسٹ۔عماد کے کہنے سے پہلے سیلز گرل اُس کی بات سن کر بولی۔

پہلے بتانا تھا کس حساب سے لینا ہے خوامخواہ اتنا خوار کروایا۔ عماد اُس کو گھور کر کہہ کر دوسری سمت لیں جانے لگا عماد کے ساتھ چلتے چلتے معصومہ کی نظر میل شاپ پہ ایک شرٹ پہ اٹک گئ جو نیلے رنگ کی تھی معصومہ کو وہ عماد کے لیے پسند آئی عماد کو سالگرہ پہ دینے کا سوچتی اُس نے اپنا ہاتھ عماد کے ہاتھ سے نکالا۔

کیا ہوا۔ عماد نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

تم میرے لیے کوئی پارٹی ڈریس پسند کرو تب تک میں ایک کام کرکے آتی ہوں۔ معصومہ نے بتایا

تم کہاں جارہی ہوں ابھی یہی رہو میری پسند کیا پتا تمہیں اچھی نہ لگے۔ عماد نے سنجیدگی سے کہا

آجائے گی تم لو نہ بھی آئی تو چینج کروادے گے۔ معصومہ نے عجلت سے کہا اُس کو ابھی شرٹ لینے کی بے چینی تھی اِس لیے میل شاپ کی طرف آئی اُس نے جیسے ہی شرٹ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا اُسی وقت کسی اور نے بھی رکھا معصومہ کی نظر پہلے سفید رنگت والے ہاتھ کو دیکھا جس کی رگیں صاف نمایاں تھی جس سے ہاتھ کافی خوبصورت لگ رہا تھا پھر نظریں بازوں پڑتے اُس کے چہرے پہ پڑی جو اپنی نیلی آنکھوں سے اُس کو گھور رہا تھا۔

کیا مسٹر کچا چباجانے ہے کیا چھوڑو شرٹ کو۔ معصومہ نے ڈبل گھوری سے نوازتے شرٹ کو اپنی طرف کرکے کہا

مس اے ٹو ذی آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے یہ میل شرٹ ہے آپ گرلز شاپ پہ جائے۔ تبریز نے بامشکل اپنے لہجے کو نارمل کیے کہا

پتا ہے تمہیں سے نہیں پوچھا میں نے اور ساری شاپ چھوڑ کر تمہیں یہی شرٹ نظر آئی کیا یہ نئ ٹِرک ہے خوبصورت لڑکی سے بات کرنے کا بہانا تلاش کرنے کی۔ معصومہ جیسے ساری بات کی تہہ تک پہنچ کر اب مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی تبریز آئبرو اُپر کرکے اُس کو دیکھنے لگا جیسے معصومہ نے اُس کو کوئی جوک سُنایا ہو۔

محترمہ اتنا خوشفہم ہونا بھی اچھی بات نہیں کبھی فرصت سے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا کسی چڑیل سے مشابہت رکھتی ہے۔ تبریز نے حساب بے باک کیا

تہمیز سے خود کیا ہو تم زکوٹہ جن مونسٹر اور جو بھی ہے ہوتے سب ہو تم۔ اپنے لیے چڑیل کا نام سن کر معصومہ کے سر پہ لگی تلوو پہ بُجھی

مجھے تمہارے منہ نہیں لگنا چپ چاپ ہاتھ ہٹاؤ شرٹ سے۔تبریز نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو گھور کر کہا

تم جیسے مگرمچھ کے منہ لگنا چاہتا کون ہے اور یہ شرٹ پہلے میں نے دیکھی تھی ہاتھ بھی میں نے ڈالا تھا اِس لیے یہ اب میری۔معصومہ نے دونوں ہاتھ شرٹ پہ جمائے

عماد ہاتھ میں شاپنگ بیگ لاتا حیرت سے معصومہ کو کسی لڑکے سے لڑتا دیکھنے لگا۔

کیا ہو رہا ہے یہاں اور تم یہاں کیا کررہی ہو۔عماد دونوں کے پاس آتا معصومہ کو مخاطب کرنے لگا

میں نے یہ شرٹ پسند کی تھی تمہارے لیے اب یہ ندیدوں کی طرح شرٹ مجھ سے لینا چاہتا ہے پر میں نہیں دوں گی۔معصومہ تبریز کو گھورتی عماد کو جواب دینے لگی۔

لِسن مس پٹاخہ اپنی لینگویج پہ دھیان دو۔تبریز مٹھیاں بھینچ کر بولا

نہیں کرتی میں دھیان تم اپنا راستہ ناپو۔معصومہ لاپرواہی سے بولی

دیکھتا ہوں کیسے لیتی ہو تم شرٹ اب تو میں اِس کو لیکر رہوں گا۔تبریز نے چیلنج کیا

کیا ایک شرٹ کے لیے لڑرہے ہو چھوڑو اِس کو ہم دوسری لینگے۔عمار کوفت سے بولا

نہیں نو نیور ایور یہ تو مطلب یہ۔معصومہ بضد ہوئی۔

مجھے نہیں چاہیے یہ شرٹ۔عماد نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا۔

کہا نہ یہ تو مطلب یہ دیکھتی ہوں کس ماں کا لال مجھے یہ شرٹ لینے سے روکتا ہے۔معصومہ کی بات پہ تبریز کا ضبط ٹوٹا تھا اُس کا ہاتھ بے اختیار معصومہ کی طرف اُٹھنے لگا تھا جس کو عماد نے بنا دیکھے بیچ میں روک لیا تھا معصومہ پہلے حیرت پھر گہری مسکراہٹ سے عماد کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

شرم آنی چاہیے آپ کو ایک شرٹ کے لیے لڑکی ذات پہ ہاتھ اُٹھانے والے تھے اِس بار تو آپ نے یہ حرکت کرنی چاہی اگلی بار سوچیے گا بھی نہیں۔عماد تبریز کی طرف پلٹتا ایک ایک لفظ پہ زور دیتا بولا معصومہ کا دل جھوم اُٹھا تھا اُس کو اپنی خوشی کنٹرول نہیں ہورہی تھی۔

یہ بات اِس لڑکی کو سمجھاؤ اور تم نے آج تو میرا ہاتھ روک کیا اگلی بار کیا تو انجام کے ذمیدار خود ہوگے۔تبریز اپنا ہاتھ جھٹکتا بولا

یہ پکڑے شرٹ نہیں چاہیے ہمیں آپ کو مبارک ہو۔عماد معصومہ کے ہاتھ سے شرٹ کو کھینچتا تبریز کے منہ پہ مار کر بولتے معصومہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر جانے لگا تبریز کی آنکھیں خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگئ تھی اُس نے شرٹ کو دو ٹکڑے میں پھاڑ کر دندناتا اُن دونوں کے سامنے کھڑا ہوا۔

یہ دو ٹکے کی شرٹ تم دونوں ڈیزرو کرتے ہو۔تبریز ایک شرٹ کا ایک حصہ عماد تو دوسرا معصومہ کی طرف پھینک کر بولا جہاں عماد کے چہرے پہ ناگواری آئی تھی وہی معصومہ کا غصہ عود آیا

اے ہیلو ای ٹو ذی یہ وہی دو ٹکے کی شرٹ ہے جس کو لینے کے لیے تم مرے جارہے تھے اِس لیے پکڑو تم بہت سوٹ کرے گی تم پہ۔معصومہ نے تیز آواز میں کہا

فرشتے جو سارے مال میں تبریز کو تلاش کررہی تھی اُس کو اُپر والے فلور پہ دیکھا تو جھٹ سے وہاں آئی اور تعجب سے اُس کا لال انگارہ چہرہ دیکھ کر ساری بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔

یہ مجھ پہ نہیں تمہارے بھائی پہ سوٹ کرے گی۔تبریز طنزیہ مسکراہٹ سے بولا اُس کی بات پہ عماد نے بے ساختہ لاحول پڑھا معصومہ کا منہ حیرت سے پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا

بہت شوق ہے بھائی چارہ بنا نے کا تو اپنے لیے بہن تلاش کرو اور یہ میرا کزن ہے دوبارہ میرا بھائی کہا تو منہ توڑدوں گی میں۔معصومہ تلملا کر بولی فرشتے اب مزے سے اُن کا لڑائی والا سین دیکھ رہی تھی جن کے لڑنے کا انداز پانچ چھے سال بچوں سے بھی پچکانہ تھا

تمہارے ساتھ بات کرکے اب میں اپنا ٹائم ویسٹ نہیں کروں گا۔تبریز کی بات پہ معصومہ نے آنکھیں گُھمائی

جاتے ہوئے اپنی سوتن کو لیں جاؤ۔معصومہ نے شرٹ اُس کی طرف پھینکی۔

یہ تمہاری ہوتی سوتی ہے خود سنبھالوں۔تبریز واپس شرٹ اُس کی طرف پھینک کر بولا

عماد نے اپنا ماتھا پیٹ لیا فرشتے جب کی اب باقاعدہ قہقہقہ لگا رہی تھی۔

مرے جارہے تھے اب لو تمہاری بلی جیسی آنکھوں سے میچ کھاتی ہے۔معصوم نے اُس کی خوبصورت نیلی آنکھوں پہ ٹونٹ کیے کہا

اب اگر تم نے کوئی فضول گوئی کی نہ تو میں جان سے مارنے ہرگز گریز نہیں کروں گا۔تبریز ہاتھ کی انگلی اُٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولا

کوئی لاوارث سمجھا ہوا ہے جو جان سے ماردو گے ہاتھ تو لگا کر دیکھاؤ پھر میں بتاتا ہوں موت ہوتی کیا ہے۔عماد جو اب تک خاموش تھا سخت لہجے بولا

بھائی اب بس کردیں اُس سے پہلے سیکیوریٹی گارڈز آپ تینوں کو دھکے مار کر باہر نکالیں۔فرشتے کا دل تو نہیں کررہا تھا مداخلت کرنے کا پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی دیکھی تو بول پڑی۔

چلو معصومہ۔عماد ایک اچٹنی نظر تبریز پہ ڈال کر معصومہ سے بولا جس کا بس نہیں چل رہا تھا مال میں ہی بھنگڑا ڈالنے لگ جاتی۔

بھائی آپ بھی چلیں۔تبریز کی خون آشام نظریں اُن دونوں پہ محسوس کیے فرشتے تبریز کا بازوں تھام کر بولی جس سے تبریز اس کا ہاتھ پکڑتا دوسری سمت چلا جاتے وقت فرشتے نے پلٹ کر اُن دونوں کی پشت کو ضرور دیکھا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *