Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 27)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

کس سے پوچھ کر۔عماد ناگواری سے بولا اُس کی بات پہ سب نے تعجب سے عماد کو دیکھا

عباد اُس کا باپ ہے اُس کی اجازت سے اور تم کمرے میں چلو تھک گئے ہوگے۔زویا اُس کے بازوں پہ ہاتھ رکھتی بتانے لگی

میرے خیال سے میں بھی اِس گھر کا فرد ہوں کسی نے راے کرنا تو دور بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔عماد کے لہجے میں گہرا دُکھ بول رہا تھا جس سے عباد کو کجھ شرمندگی ہوئی تھی

ایسی بات نہیں بس سب اچانک طے ہو پایا معصومہ نے اپنی پسند بتائی تو۔سوہا نے وضاحت دیتے کہا تو عماد نے خون آشام نظروں سے معصومہ کو دیکھا جس کی نظر سرفراز کے ہاتھ میں موجود انگھوٹی پہ تھی۔

تو صدمے میں کیوں ہو پہناؤ یا ایسا کرو میں پہنا دیتا ہوں۔عماد اچانک لہجہ بدلتا سرفراز کے پاس آتا بولا جو اچانک عماد کی آمد پہ بے یقین سا تھا جب اُس کے ہاتھ سے عماد نے انگھوٹی چھینی تو وہ ہوش میں آیا پر جب عماد نے بنا ایک سیکنڈ کی تاخیر کیے خود معصومہ کو انگھوٹی پہنائی تو اُس کی حالت صدمے والی سی کیفیت ہوگئ پر کسی نے عماد کی حرکت کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

کانگریس نہیں بولوں گے مجھے؟عماد تیکھی نظروں سے سرفراز کو دیکھتا آہستہ آواز میں بولا

منگنی میری ہے۔سرفراز نے باور کروانا چاہا

اچھا۔عماد اتنا کہتا دل کھول کر ہنسا

بڑی انوکھی تھی خیر میں تھک گیا ہوں اب آرام کروں گا نائیس ٹو میٹ یو۔۔۔۔۔۔۔ ناٹ۔عماد سرفراز کا گال تھپتھپاکر بچوں کی طرح پچکاکر بولا پر آخر میں اُس کا لہجہ عجیب ہوگیا تھا جس سے سرفراز بس ضبط کرتا رہ گیا عماد ایک نظر معصومہ پہ ڈالتا ڈرائینگ روم سے نکل گیا۔

عماد کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔سرفراز نے دوبارہ سب کو باتوں میں مگن دیکھا تو معصومہ سے کہا

کیا کردیا اُس نے۔معصومہ اپنی تصویریں بناتی بولی

کجھ نہیں کیا۔سرفراز جل بھن کے بولا تو معصومہ کندھے اُچکاتی دوبارہ تصویریں بنانے لگی۔

تو نکاح کب کریں۔حمیرا بیگم نے پوچھا تو سوہا نے سوالیہ نظروں سے عباد کو دیکھا جس نے اِشارے سے خود بات کرنے کا کہا

اِس مہینے کی آخری تاریخ کو پر رخصتی معصومہ کی پڑھائی کے بعد ہوگی۔سوہا نے کہا تو سب خوش ہوئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ اِس نکاح نامے کا کیا کرے گے؟

اچار ڈالوں گا۔ایس پی کی بات سن کر تبریز تپ کے بولا

مذاق اچھا کرلیتے ہیں۔ایس پی دلچسپ نظروں سے تبریز کو دیکھتے بولا جس کی رنگت سرخ ہوتی جارہی تھی ساتھ میں وہ بار بار اپنے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے مسل رہا تھا

اور آپ زچ اچھا کرلیتے ہیں۔تبریز دوبدو بولا

کیا کریں ہمارا پیشہ ہی کجھ ایسا ہے آپ یہ بتائے ہاتھوں کو کیوں ایسے مسل رہے ہیں۔ایس پی ہنس کر بولا

کیونکہ ہفتے میں ایک دو لوگ میرے ہاتھوں پیٹتے ضرور ہیں پر اب ایک ماہ سے مجھے ایسا موقع نہیں مل رہا تبھی ہاتھوں میں کُھجلی ہورہی ہے۔تبریز کے جواب پہ ایس پی جلال میں آیا

تم تھانے میں بیٹھ کر پولیس والے کو دھمکی دے رہو

نہ میں بھلا ایسا کیوں کرنے لگا ویسے بھی آپ جس پیشے میں ہیں آپ کے تو ہزاروں دشمن ہوگے کب کہاں کوئی وار کرے کسی کو کیا پتا۔تبریز کندھے اُچکاکر لاپرواہی سے بولا تو ایس پی نے ٹیبل کا دراز کھولا

یہ پکڑو اپنی امانت۔ ایس پی نکاح نامہ اُس کی طرف بڑھا کر بولا

خوامخواہ میرا وقت ضائع کردیا تبریز نکاح نامہ پکڑتا بولا تو ایس پی اُس کو دیکھتا رہ گیا جو اُس کو ایٹیٹیوڈ دیکھا رہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕

عماد اپنے بیگ سے کپڑے نکال کر وارڈروب سیٹ کررہا تھا جب اُس کے سیل فون پہ فیصل کی کال آنے لگی جس کو عماد نے ریسیو کرلیا

ہیلو عماد تمہیں ایک بات بتانی تھی۔ دوسری طرف فیصل بے چینی سے بولا

اگر میں غلط نہیں تو یہی کے معصومہ کی منگنی سرفرا کے ساتھ۔ عماد سکون سے بولا

تمہیں پتا ہے یہ بات پھر بھی اتنے سکون میں ہو۔ فیصل کو جیسے یقین نہیں آیا

کیوں مجھے کیا ڈپریشن میں ہونا چاہیے تھا۔ عماد سرجھٹک کر بولا

عماد میرے ساتھ ڈرامے نہ کرو۔ فیصل نے وارن کیا

میں کیوں کرنے لگا ڈرامے کزن ہے وہ میری مجھے تو خوشی ہوئی ہے۔ عماد کی بات سن کر فیصل کو اُس کے دماغی حالت پہ شک گُزرا ایک دو بات اور کرنے کے بعد اُس نے کال بند کردی کال بند ہونے کے بعد عماد سنجیدگی سے آج کے واقعے کے بارے میں سوچنے لگا۔

معصومہ سرفراز ویری نامعقول۔ عماد بے زارگی سے بولا

معصومہ عماد ساؤنڈ از کول۔عماد اپنی بات کے آخر میں عجیب انداز میں مسکرایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا سوچ رہے ہو۔ زویا نے عمار کو سوچو میں گم دیکھا تو پوچھا

عماد کے ری ایکشن کے بارے میں۔عمار نے بتایا

کونسے ری ایکشن کے بارے میں؟ زویا ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

وہی جو اُس نے معصومہ کے رشتے کی بات سن کر دیا کیا کبھی تم سے عماد نے کہا وہ معصومہ کو پسند کرتا ہے؟ عمار نے بات کرتے کرتے اُس سے پوچھا

نہیں کیونکہ ایسی کوئی بات نہیں کہاں میرا بیٹا عماد اور کہاں معصومہ۔ زویا بے زاری سے بولی تو عمار افسوس کرتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

کیا بُرائی ہے معصومہ میں۔

بُرائی نہیں اگر تو ایسی بھی کوئی بات نہیں اُس میں جو میرا بیٹا اُس کو پسند کرے معصومہ جیسی دس لڑکیاں بھی عماد کا مقابلہ نہیں کرسکتی نہ ذہانت میں اور نہ خوبصورتی میں۔زویا مغرور لہجے میں بولی

تم سے بات کرنا مطلب خود کو ذہینی ڈپریشن میں مبتلہ کرنا ہے۔ عمار سنجیدگی سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا پیچھے زویا نے اُس کی پشت کو گھور کر دیکھا

💕
💕
💕
💕
💕

کیااااا تم دونوں کی منگنی ہوگئ اور مجھے انوائٹ تک نہیں کیا ابھی تو بس رشتہ پکا ہونے کی بات ہونی تھی تو یہ منگنی کا کیا چکر۔ سرفراز نے جیسے ہی اجوہ کو کال کرکے بتایا اجوہ چیختی بولی

آہستہ بولو اور خاک منگنی ہوئی اُس کی تاریخ طے ہونی تھی پر معصومہ کے فادر نے ڈائری نکاح کی بات کہی تو موم نے رسم آج کردی انگھوٹی پہنانے کی۔ سرفراز کوفت سے بولا

یہ تو اچھی بات ہے

کیا اچھی بات ہے تمہیں پتا ہے عماد نے کتنی چلاکی سے معصومہ کو انگھوٹی پہنائی اگر نکاح کے دن بھی ایسے میرے ہاتھ سے پین چھین کر خود سائن کردے تو۔ سرفراز تیز آواز میں بولا

ایسا نہیں ہوگا۔ اجوہ نے سمجھانا چاہا

ایسا ہونا چاہیے بھی نہیں۔ سرفراز دو ٹوک لہجے میں بولا

معصومہ کیا کہتی ہے۔ اجوہ نے جاننا چاہا

اُس نے تو کجھ نہیں کہا

تو بس تم بھی زیادہ مت سوچو ہوسکتا ہے تم زیادہ فیل کررہے ہو اور حقیقت کجھ اور ہو۔ اجوہ نے سنجیدگی سے کہا تو سرفراز کو بھی اُس کی بات درست لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕

معصومہ کچن میں آئی تو عماد کو پہلے کچن میں موجود پایا جو سنجیدگی سے شاید اپنے لیے کافی بنارہا تھا۔

اِس طرح گال پُھلاتے ہوئے بچپن والے گولوں مولوں لگ رہے ہو۔ معصومہ اُس کو دیکھتی مزاحیہ لہجے میں بولی پر عماد نے کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ دیکھو انگھوٹی کسی ہے میں نے خود پسند کی تھی مال سے سرفراز کے ساتھ جاکر۔ معصومہ اپنا ہاتھ عماد کے سامنے لہراکر بولی عماد پہلے تو سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھتا رہا پھر اچانک سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر انگلی سے انگھوٹی نکال چولہے سے ساس پین ہٹا کر انگھوٹی چولہے کی نظر کردی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کے معصومہ کو احتجاج کرنے کا موقع تک نہیں ملا مگر جب اُس نے اپنی انگھوٹی کو چولہے پہ دیکھا تو صدمے میں آگئ

یہ کیا کردیا جاہل انسان؟ معصومہ ہوش میں آتی چیخی اپنا ہاتھ چولہے پہ ڈال کر انگھوٹی نکالنی چاہی پر عماد نے سختی سے اُس کا ہاتھ دبوچ لیا

تم نے پوچھا کسی لگی مجھے اچھی نہیں لگی۔عماد کندھے اُچکاکر سکون بھرے لہجے میں بولا

تو پاگل انسان ایسا بھی کیوں کیا۔ معصومہ اُس کے بازوں پہ مکے برساتی بولی

ایک انگھوٹی کے لیے کیا رونا کیوں ڈال رہی ہوں میں اِس سے زیادہ اچھی اور مہنگی خرید کے دے ڈالوں گا۔عماد نے اُس کو جیسے لالچ دی

یہ میری انگیجمنٹ رنگ تھی۔ معصومہ نے دانت پیس کر کہا

یس مائے ڈیئر کزن وہ تھی اور جو میں دوں گا وہ ہمیشہ تمہارے پاس موجود ہوگی گاٹ اِٹ۔ عماد سنجیدگی سے اُس کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا

یہ کسی باتیں کررہے ہو عماد تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا میں چچا جان سے تمہاری شکایت کروں گی آخر ایسا کیوں کیا؟ معصومہ نے اُس کو جاتا دیکھا تو جھنجھلا کر کہا اُس کی بات سن کر عماد پلٹ کر اُس کی طرف آیا

بچی تو نہیں تم معصومہ ویسے بھی تمہارا بس نام معصومہ ہے تم خود معصوم نہیں تو کیا تم انجان ہو۔ عماد کی بات پہ معصومہ الجھن بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی اُس کو واقع عماد کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔

کیا مطلب؟معصومہ نے پوچھا

مطلب صاف ہے اگر دوبارہ اُس پولیوں کے مریض سے اکیلی کہی گئ تو دونوں کو آگ کی نظر کردوں گا۔عماد گھورتے ہوئے بولا

پولیوں کا مریض؟ معصومہ کی سوئی پولیوں کا مریض پہ اٹکی گئ تو عماد کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی

ہاں نہ بے چارہ کتنا کمزور ہیں لگتا ہے بچپن میں پولیوں کے انجیکشن نہیں کرواے۔ عماد کی بات سن کر معصومہ کو آگ لگ گئ

شرم کرو کسی کا مذاق نہیں بناتے دوسری بات اتنا بھی وہ کمزور نہیں تمہاری طرح بلڈوزر جسمامت کا مالک نہیں تو کیا ہوا۔ معصومہ ایک ایک لفظ چباکر بولی

میں نے جو کہہ دیا اُس بات کو ذہین نشین کرلوں میں بار بار اپنی بات نہیں کہوں گا۔ عماد دوبارہ سنجیدہ ہوکر بولا

پندرا دن بعد ہمارا نکاح ہے تم مجھ پہ روعب نہیں جما سکتے۔ معصومہ کی بات پہ عماد نے سرخ آنکھوں سے اُس کو دیکھا

دیکھتا ہوں کیسا ہوتا ہے یہ نکاح۔ عماد اپنی بات کہتا وہاں سے چلاگیا معصومہ اُس کا عجیب وغریب رویہ سوچتی فریج سے پانی کی بوتل نکالنے لگی ساتھ میں ایک دُکھ بھری نظر چولہے پہ بھی ڈال لیتی۔

💕
💕
💕
💕

پندرا دن کم عرصہ نہیں۔ سوہا نے پرسوچ لہجے میں عباد سے کہا

یہ تو تمہیں کہنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ عباد کی بات پہ سوہا نے اُس کو گھورا

زیادہ عرصہ ہے سارے کام ہوجائے گے میں تو بس یہ جاننا چاہتی تھی آپ کیا کہتے ہیں پر آپ کو تو بس موقع چاہیے مجھ بتانے سُنانے کا۔سوہا نروٹھے پن سے گویا ہوئی۔

تم نے معصومہ سے پوچھا تھا اُس کو نکاح سے کوئی مسئلہ تو نہیں۔عباد اُس کی بات نظرانداز کرتا بولا

میں نے تو نہیں پوچھا معصومہ کو مسئلہ کیا ہوگا اُس کی خود کی پسند ہے سرفراز۔سوہا نے بتایا

یہ تو ہے لیکن ایک بار پھر بھی پوچھ لینا کیا پتا وہ نکاح نہیں منگنی چاہتی ہو۔عباد نے کہا تو اُس نے سر کو ہاں میں جنبش دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھتی ہوں کیسے ویلن کا رول ادا کرتا ہے یہ عماد میں جان سے ماردوں گی اگر اُس نے کوئی گڑبڑ کی تو ہائے میری انگھوٹی۔معصومہ اپنے کمرے میں ٹہلتی مسلسل خود سے تانے بانے جوڑ رہی تھی جب اُس کو اپنی انگھوٹی یاد آئی اور اب اُس کو عماد سے اچھے کی اُمید نہیں تھی عماد کا رویہ بدلا ہوا لگا تھا جس سے وہ سوچنے پہ مجبور ہوگئ تھی۔

ہوسکتا ہے مذاق کررہا ہو میں نے اُس کو انفارم نہیں کیا اِس وجہ سے۔ایک خیال اچانک دماغ میں کوندا تو معصومہ چونک گئ۔

عماد سے بات کرتی ہوں سب کجھ کلیئر کردیتی ہوں تاکہ وہ کوئی مسئلہ نہ کریں۔معصومہ خود سے کہتی عماد کے کمرے کی طرف بڑھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یس۔

عماد لیپ ٹاپ پہ اپنا اسائمنٹ بنارہا تھا جب دروازہ نوک ہونے پہ اُس نے بنا سر اُٹھائے آنے کی اجازت دی۔

بات کرنی ہے تم سے۔دروازے کو کُھلا چھوڑ کر معصومہ نے عماد سے کہا

میں بزی ہوں۔عماد لاپرواہی سے بولا اُس کا ایٹیٹیوڈ دیکھ کر معصومہ نے دانت پہ دانت جمائے۔

یہ آجکل تم کِن ہواؤں میں بنا پروں کے؟معصومہ نے میٹھا سا طنزیہ کیا

بات کرو پھر جاؤ میرا یونی کا بہت کام پینڈنگ پہ ہے۔عماد اُس کی بات نظرانداز کرتا بولا

تم مجھ سے ناراض ہو؟معصومہ نے پوچھا

نہیں۔یکلفظی جواب

پھر ٹھیک سے بات کیوں نہیں کررہے؟دوسرا سوال

میرا موڈ نہیں۔عماد نے بتایا

اور آپ محترم کا یہ موڈ شریف کب سہی ہوگا۔معصومہ اب تپ کے بولی

جب آپ محترمہ اپنے سر سے نکاح کا بھوت سر سے اُتار لینگی۔عماد نے جھٹ سے کہا

تمہیں میرے نکاح سے کیا مسئلہ ہے؟معصومہ جھنجھلا کر بولی

سرفراز تمہارے لائق نہیں۔

اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟

لڑکی کو اُس لڑکے سے شادی کرنی چاہیے جو زندگی میں آگے چل کر اُس کو پروٹیکٹ کرے ناکہ پروٹیک کرنے کے وقت اکیلا چھوڑ کر چلاجائے۔عماد نے سنجیدگی سے کہا

تمہیں کیوں لگتا ہے سرفراز مجھے پروٹیکٹ نہیں کرسکتا۔معصومہ کے منہ سے بار بار سرفراز کا نام سن کر عماد نے اپنی پیشانی کو مسلہ

کیونکہ اُس کو خود کسی پروٹیکٹر کی ضرورت ہے۔

ایسا نہیں ہے دوسری بات یہ ہے میں معصومہ عباد ہوں اور معصومہ عباد خود کو پروٹیکٹ کرسکتی ہے۔معصومہ اب کی سنجیدگی سے بولی

لڑکی خود کو کتنی ہی توپ چیز کیوں نہ سمجھ لیں پر زندگی میں ایسا موڑ آتا ہے جہاں اُس کو مرد کی ضرورت پڑتی ہے مضبوط مرد کی جو ہر حالات میں اُس کا ساتھ دے اُس کو پروٹیکٹ کرے تپتی دھوپ سے اُٹھاکر ٹھنڈک بخشنے والی جگہ پہ لیں جائے۔عماد اپنی بات پہ زور دیتا بولا

مجھے نہیں پتا کجھ میں بس یہ کہنے آئی تھی میں شادی صرف اور صرف سرفراز سے کروں گی تم کیوں سین کریٹ مت کرنا۔معصومہ اپنی بات کہتے جیسی ہی پلٹنے لگی ٹھاہ کی آواز سے حیرت سے دوبارہ عماد کی طرف دیکھا جس نے اپنا لیپ ٹاپ زور سے زمین پہ پھینکا تھا جب کی عماد کی سپید جلد خون چھلکانے کی حدتک سرخ انار ہوگئ تھی۔

یہ ک

آؤٹ۔معصومہ کجھ کہنے والی تھی جب عماد دھاڑ کر بولا معصومہ عماد کا ایسا روپ دیکھ کر ایک پل کے لیے خوفزدہ ہوگئ تھی۔

پر

جب کہا جاے آؤٹ تو مطلب آؤٹ۔عماد ایک جست میں بیڈ سے اُترتا معصومہ کی کلائی سے پکڑ کر کمرے سے باہر نکال کر دروازہ زور سے بند کیا معصومہ حق دق سی بند دروازے کو دیکھنے لگی اُس کو یقین نہیں آرہا تھا واقع عماد نے اُس کو کمرے سے باہر نکال دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *