Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 21)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 21)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
آپ مجھ سے ناراض تو نہیں نہ؟ معصومہ کچن میں آتی سوہا سے بولی
تمہیں کیا تم اپنی منمانی کرو۔ سوہا فریج سے گوشت نکال کر جوابً بولی
کیا یار امی اتنی محنت اور لگن سے روٹیاں بنائی تھی پھر بھی آپ ایسا بول رہی۔ معصومہ منہ بسور کر بولی۔
جی تمہاری محنت اور لگن نظر آرہی تھی۔ سوہا کی بات پہ وہ ہنسی
مم لگتا ہے مستقبل میں آپ اپنی بہو کو ٹف ٹائیم دینے والی ہیں۔ معصومہ شریر لہجے میں بولی۔
باہر جاؤ میرا دماغ نہیں خراب کرو۔سوہا نے بے زاری سے کہا
آج کُک چُھٹی پہ ہے؟معصومہ کجھ سنجیدہ ہوئی۔
ہمم۔
تو خالہ جان عرف چچی سے کہے آپ کی مدد کروائے اکیلے آپ کتنا کریں گی آج آپ آئی بھی لیٹ تھی۔معصومہ فکرمند ہوئی
ماں کا اتنا خیال ہے تو خود مدد کرو۔سوہا چولہے کی آنچ تیز کرتی بولی۔
میری مدد سے آپ کے کام میں اضافہ ہوگا تبھی کہا۔معصومہ نے کندھ اُچکائے۔
اچھا اُپر بنے کبرڈ سے مرچوں کا ڈبہ نکال کے دو۔سوہا نے کہا تو معصومہ نے اپنے پیچھے اُپر کبرڈ دیکھا تب تک عبیر بھی وہاں آچُکی تھی۔
وہاں میں کیسے پہنچوں گی۔معصومہ اُپر دیکھتی ہاتھ کمر پہ ٹکائے بولی
میرے سر پہ چڑھ کر سامنے پڑا سٹول نظر نہیں آرہا اُس پہ چڑھو۔سوہا تپ کے بولی تو معصومہ سر پہ ہاتھ مارتی سٹول اُٹھانے لگی۔
خالہ میں کوئی ہیلپ کروادوں۔عبیر پانی کی بوتل فریج سے نکال کر بولی
ہاں اِن سبزیوں میں سے آلو کاٹ لو تم معصومہ سے فروٹ کٹوالوں گی حماد نے فروٹ چاٹ کی فرمائش کی تھی صبح۔سوہا نے سبزیاں عبیر کو دے کر کہا تو اُس نے سر کو جنبش دی۔
تمہاری ماں کہاں ہیں؟معصومہ سٹول پہ بیٹھتی عبیر سے بولی
اپنے کمرے میں کیوں؟عبیر نے جواب دے کر پوچھا
ان کو پتا ہوگا رات کا وقت ہے کُک چھٹی پہ ہے رات کے وقت کھانا بھی بنانا ہوتا ہے تو اُن کو یہاں ہونا چاہیے تھا نہ۔معصومہ کی بات پہ عبیر خاموش ہوگئ پر سوہا نے اپنا ماتھا پیٹا
معصومہ باہر جاؤ جب دیکھو میرا صبر آزمانے آجاتی ہو۔سوہا کفگیر اُس کے سامنے کرتی بولی تو معصومہ اُچھل کر دور ہوئی۔
کیا ہوگیا ہے جارہی ہو۔معصومہ دل پہ ہاتھ رکھتی کچن سے نو دو گیارہ ہوگئ اُس کی حرکت پہ سوہا مسکراکر سرجھٹک کے رہ گئ.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبیر کو دیکھا تم نے؟معصومہ اپنے کمرے میں جارہی تھی جب زویا اُس کے سامنے آتی پوچھنے لگی۔
جی بہت بار دیکھا ہے۔معصومہ نے آنکھیں پٹپٹاکر جواب دیا
میرا مطلب ابھی دیکھا ہے کہاں ہے وہ۔زویا اُس کو گھور کر بولی
ابھی تو میں آپ کو دیکھ رہی ہوں۔معصومہ زچ کرنے سے باز نہ آئی
فضول لڑکی۔زویا بڑبڑاتی جانے لگی جب معصومہ یکدم اُس کے سامنے آئی۔
شکر ہے آپ نے فضول عورت نہیں کہا دوسری بات عبیر کچن میں موجود آپ کے حصے کا کام کررہی ہے کیونکہ اُس کو پتا ہے آپ نے کجھ کرنا تو ہے نہیں۔معصومہ کی بات پہ زویا نے آنکھیں سکڑ کر اُس کو دیکھا پھر اُس کو سائیڈ پہ کرتی کچن کے راستے چل دی۔
چل معصومہ اُس سے پہلے تیری لگائی ہوئی آگ رخ بدل کر تیرے پاس آئے توں اپنے کمرے میں جا۔معصومہ زویا کی پشت دیکھتی خود سے کہہ کر بھاگ کر اپنے کمرے میں گئ۔
تم یہاں کیا کررہی ہو۔زویا عبیر کے ہاتھ سے چُھڑی لیکر سبزیاں سائیڈ پہ کرتی سخت لہجے میں پوچھنے لگی سوہا نے اُس کے آنے کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا
سبزیاں کاٹ رہی تھی آپ کو کوئی کام تھا۔عبیر نے آہستہ آواز میں جواب دیا
تمہاری کل پریزیٹیشن ہے نہ تو تمہیں اِس وقت اُس کی تیاری کرنی چاہیے تھی ناکہ ہانڈی چولہا کرنے کی۔زویا نے ایک نظر بے نیاز کھڑی سوہا پہ ڈال کر عبیر سے کہا
اُس کی تیاری میں نے کردی ہے۔عبیر نے خوشی سے بتایا
اچھا ابھی جاؤ یہاں سے ایک دفع اچھے سے اور کرو کھانا لگ جائے گا تو میں بلوالوں گی۔زویا نے حکیمہ لہجے میں کہا
پر سبزیان۔عبیر سوہا کو دیکھتی زویا سے بولی
وہ میں کردوں گی تم جاؤ۔زویا کی بات پہ وہ لب دانتوں تلے کچلتی کچن سے باہر نکل گئ۔
یہ کام تم مجھے یا اپنی بیٹی کو بھی کہہ سکتی تھی عبیر کو کہنے کی کیا ضرورت تھی پتا ہے نہ عبیر کی پڑھائی کتنی مشکل ہے۔عبیر کے جانے کے بعد زویا سوہا پہ پھٹ پڑی۔
عبیر کو میں نے نہیں کہا اپنی مرضی سے آئی اور کرنے کا کہا رہی بات تمہیں کہنے کی تو تم کیا انجان ہو تمہیں نہیں پتا مغرب کی آذان کے بعد ہمارے یہاں رات کے کھانے کی تیاریاں شروع ہوتی ہیں زیادہ نہیں تو ایک مرتبہ آکر چیک کرلیا کرو کیا حالت ہے کچن کی ہیپلرز ٹھیک سے کام کرتے ہیں یا نہیں اگر وہ چھٹی پہ ہیں تو کسی کام کی ضرورت تو نہیں آخری بات کے معصومہ کو کہتی تو معصومہ کو کیا کہتی سبزیاں کٹتی یا نہیں اپنا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتی۔سوہا نے آرام سے جواب دیا۔
تو ساری عمر اُس کو مہارانی بناکر رکھو گی؟زویا طنزیہ بولی
نہیں آہستہ آہستہ کرلیں گی وہ۔سوہا نے جواب دیا
آٹا گوند کے دو میں روٹیاں ڈال دوں۔زویا نے بات بدل کر کہا اُس کی بات پہ سوہا جو دیھچکی کا ڈھکن اُٹھا رہی تھی آئبرو اُپر کر اُس کو دیکھا۔
بریانی دم پہ ہے روٹیاں میں نے پہلے ہی پکاکے رکھی ہیں بس رائٹہ اور کڑھائی رہتی ہے جو کی تقریبً تیار ہے تمہارا شکریہ۔سوہا نے گہری سانس بھر کر بتایا
تو یہ سبزیاں؟زویا بنا شرمندہ ہوئی اگلا سوال پوچھنے لگی۔
آلو ہیں بس معصومہ کے لیے چپس بنانی تھی۔سوہا نے سبزیوں کا باسکٹ اپنی طرف کیے کہا
رات کے وقت تمہاری اولاد کی فرمائش عجیب وغریب ہوتی ہیں ضرور رات میں پھر اُس کو کسی مووی دیکھنے کی وجہ سے جاگنا ہوگا۔زویا نے افسوس کیا جیسے
جیسی بھی فرمائشیں ہوتی ہیں مجھ سے کرتی ہے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔سوہا نے ٹوکتے کہا تو زویا بنا کوئی اور بات کیے باہر چلی گئ۔




آج عماد کو لاہور گئے دو دن ہوگئے تھے معصومہ کی اُس کے ساتھ ایک دفع بھی کال پہ بات نہیں ہوئی تھی اُس نے عمار کے ساتھ یونی جانا سٹارٹ کرلیا تھا۔
اُس دن کے بعد تبریز اور عبیر کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی دونوں طرف میں سے کسی نے بھی پہل نہیں کی تھی ہر ایک اپنے خول میں بند تھا تبریز کے ایکزمز قریب تھے جس وجہ سے وہ اب اُس کی تیاریوں میں مصروف رہتا تھا
بات کرنی ہے۔عبیر لائبریری کی سے جیسے ہی نکلی سامنے اُس کی کلاس فیلو اور ایک لڑکی اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی بولی
جی کہے۔عبیر نے رسانیت سے جواب دیا
تبریز سے کیا رشتہ ہے تمہارا۔تبسم کے ساتھ کھڑی لڑکی نے کاٹ دار لہجے میں پوچھا
کیا مطلب آپ کا اِس بات سے۔عبیر نے ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
زیادہ بنو مت سب آتا ہے صرف چہرے سے معصوم نظر آتی ہوں ورنہ اچھے بندے کو اپنی مٹھی میں قید کیا ہے۔لڑکی نے نفرت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
محترمہ اپنی حد میں رہے میں چپ ہوں تو چپ رہنے دے ورنہ زبان میرے منہ میں بھی ہیں۔عبیر کو اپنے اُپر ایسے گھٹیا الزام برداشت نہیں ہوا تو سارے لحاظ بلائے طاق کیے بولی
لو جی آگئ نہ معصومیت کے خول سے باہر آخر کیسے اپنا اصلی رنگ چھپاتی۔اُس نے پھر سے زہر اُگلہ
جو جیسا ہوتا ہے باقیوں کو بھی ویسا سمجھتا ہے کبھی کبھی غلط سامنے والا نہیں ہوتا بلکہ آپ کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔عبیر کی بات پہ اشتعال میں آکر اُس نے جیسے ہی تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اُٹھاکر مارنا چاہا پر کسی نے بیچ میں ہی روک لیا






تمہارا کزن نہیں آتا۔سرفراز معصومہ کے ساتھ بیٹھتا استفسار کرنے لگا دو چار دنوں میں اُس کے اور سرفراز کے درمیان اچھی خاصی بات چیت شروع ہوچکی تھی معصومہ کو وہ نیچر کے حساب سے بہت پسند آیا
وہ آؤٹ آف سٹی ہے۔معصومہ نے نوٹس بناتے جواب دیا۔
اووو کب تک آئے گا؟سرفراز نے دوسرا سوال کیا
تم اُس کو مس کررہے ہو کیا؟معصومہ اُس کے سوالوں سے بے زار ہوئی۔
ارے نہیں بس ایسے ہی تمہیں بُرا لگا تو سوری۔سرفراز ہاتھ کھڑا کیے ہنس کر بولا
گائیز آج کہی باہر لنچ کریں۔اجوہ پرجوش آواز میں آکر اُن سے بولی۔
شیور۔معصومہ نے کجھ سوچ کر کہا
ہاں اچھا آئیڈیا ہے بہت ٹائیم سے اکھٹے لنچ نہیں کیا۔اُن کی دوسری دوست کلثوم نے بھی اتفاق کیا
تم لوگ کیا کہتے ہو۔اجوہ نے اب کی سرفراز اور اُس کے دوست احمد سے پوچھا
چلتے ہیں ہمیں کیا اعتراض ہونا۔سرفراز نے کندھے اُچکا کر جواب دیا
آج ہمارے ایک فرینڈ کی برتھ ڈے ہے جس کی سیلیبریشن ہم نے شام کے وقت ریسٹورنٹ میں کرنے کا سوچا ہے اگر تم تینوں کو اعتراض نہ ہو تو آجانا۔احمد نے کہا
اور کون کون ہوگا؟کلثوم نے جاننا چاہا
یونی کے کجھ کلاس فیلو اور یونی فیلو۔اب کی سرفراز نے جواب دیا
اوکے ڈن۔معصومہ نے تھمب کا اِشارہ کیے بیگ سے اپنا سیل فون نکلا۔
کس کو کال کررہی ہو؟اجوہ نے پاس بیٹھ کر پوچھا
امی کو بتادوں نہ آج کا اپنا پلان۔معصومہ جواب دیتی اُٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ دوسری طرف سے کال اُٹھالی گئ تھی جس وجہ سے معصومہ نے سائیڈ پہ بات کرنے کا سوچا






مس عیشال کیا اپنے سے جونیئرز کے ساتھ ایک برتاؤ کیا جاتا ہے۔تبریز جھٹکے سے اُس کا ہاتھ چھوڑتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا جس سے وہ بُری طرح گڑبڑا گئ تھی تبسم پہلے ہی تبریز کو دیکھ کر نو دو گیارہ ہوگئ تھی۔
وہ در
سٹاپ۔تبریز نے ہاتھ اُٹھا کر بولنے سے ٹوک دیا
سے سوری۔تبریز پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنساتا سکون سے بولا اُس کی بات پہ عبیر نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑے تبریز کو دیکھا جو اچانک سے آکر اُس کی ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا تھا پر اُس کو یہ سب ایک آنکھ پسند نہیں آرہا تھا کیونکہ اُس کی نظر میں تبریز کی وجہ سے لوگ اُس کو غلط سمجھ رہے تھے۔
واٹ سوری آپ بنا میری سُنے بغیر ایسے کیسے بول سکتے ہیں۔عیشال ہتھے سے اُکھرگئ۔
وضاحت تب مانگتا جب آپ میرے لیے انجان ہوتی میں آپ کو اچھے سے جانتا ہوں اِس لیے میرا ٹائیم ویسٹ مت کرو تمہاری طرح فری نہیں ہوں۔تبریز نے آرام سے آپ سے تم تک کا سفر کیا۔
سوری۔عیشال احسان کرنے والے انداز میں عبیر سے بولی
سوری بولنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے بس یوں منہ پھاڑ کر سوری کرکے احسان نہیں کیا جاتا اِس لیے مس عبیر سے دوبارہ سوری بولے۔تبریز کی نئ بات پہ اُس نے دانت کچکچائے جب کی عبیر یہ سمجھنے کی کوشش میں تھی تبریز کیوں بنا انویٹیشن کے اُس کے معاملے میں گُھس رہا تھا
سوری مس عبیر مجھے آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔عیشال اتنا کہتی تن فن کرتی وہاں سے چلی گئ اُس کے جانے کے بعد تبریز عبیر کی طرف پلٹا جس کا منہ حیرت سے کُھلا ہوا تھا۔
منہ بند کرو مکھی چلی جائے گی۔تبریز اُس کے سامنے چٹکی بجاکر ہوش کی دنیا میں لایا تو اُس نے سرجھکادیا۔
اپنے لیے اسٹینڈ لیا جاتا ہے یوں مجسمہ بن کر کسی اور کا انتظار نہ کیا جاتا کے کوئی آئے اور آپ کی مدد کریں۔تبریز اُس کے جھکے سر کو دیکھتا بولا
میں نے بولا۔عبیر فورن سے بولی
اچھا کیا بولا؟تبریز سینے پہ بازوں باندھتا پوچھنے لگا
کے میرے منہ میں بھی زبان ہے۔عبیر کی بات پہ اُس نے بمشکل اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا۔
اچھا دیکھاؤ۔تبریز نے سنجیدگی سے کہا
کیا؟عبیر کو تبریز کی بات سمجھ نہیں آئی تبھی ناسمجھی سے اُس کی طرف دیکھ کر کہا
اپنی زبان۔تبریز یہ کہہ کر ہنس پڑا تو عبیر کا منہ بن گیا
صرف آپ میرا مذاق بناتے ہیں۔عبیر نے اُس کو پاگلوں کی طرح ہنستا دیکھا تو شکوہ کیا
کسی اور کو بنانے کا حق میں دوں گا بھی نہیں۔تبریز کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تو وہ خاموش ہوگیا چپ تو اپنی جگہ عبیر بھی ہوگئ تھی۔
تمہیں کہی جانا نہیں آج؟تبریز آس پاس نظر گُھماتا بات بدل گیا۔
مجھے کہاں جانا ہوگا؟عبیر نے اُلٹا اُس سے سوال داغا
میں جب تم سے بات کرتا ہوں تو تمہارے ڈرائیوروں انکل آجاتے ہیں نہ تو کیا آج نہیں آنا۔تبریز نے ‘ڈرائیور انکل’ پہ زور دیتے کہا
نہیں ابھی تو مجھے لیبارٹری میں جانا ہے۔عبیر نے بتایا تو تبریز نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پہ وقت دیکھا۔
ہممم ٹھیک ہے۔تبریز اتنا کہ کر خود لائبریری کی طرف بڑھا







معصومہ اجوہ کلثوم یہ تینوں شام کے وقت سرفراز کے بتائے گئے ریسٹورنٹ کی طرف آئے تھے جہاں بہت لوگ پہلے موجود تھے معصومہ کو اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر اکتاہٹ ہونے لگی لاشعوری طور پہ اُس کا ہاتھ کندھے پہ پڑے اپنے ڈوپٹے پہ پڑا جس کو ہاتھ میں لیکر اُس نے سر پہ اچھے سے پہنا کیونکہ وہاں جتنی لڑکیاں تھی اُتنے لڑکے بھی تھے۔
یہ سب ہمارے یونی کے ہیں؟معصومہ نے اپنے ساتھ کھڑی اجوہ سے کہا جو پرشوق نظروں سے آس پاس کا جائزہ لیں رہی تھی۔
کجھ اور بھی ہیں۔جواب کلثوم نے کوفت سے دیا
تم یہاں کیا کررہی ہو اندر چلو۔سرفراز اُن کو ایک جگہ کھڑا پایا تو کہا
چلتے ہیں۔اجوہ نے جھٹ سے کہا
یہ تم نے سر پہ ڈوپٹہ کیوں اوڑھ لیا ہے اُتاردو آجکل کون یوز کرتا ہے۔سرفراز معصومہ کے سر پہ ڈوپٹہ دیکھا تو مذاق اُڑانے والے لہجے میں کہا
ہاں معصومہ تم کب سے یہ پہننے لگی۔اجوہ نے سرفراز کی ہاں میں ہاں ملائی تو معصومہ نے سر سے کجھ ہٹا کر اُن کے ہمقدم ہوئی جب اُس کے دماغ میں کجھ سال پہلے والا واقع گُھوما
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گولو مولوں میرے ساتھ چل رہے ہو یا میں تمہارا سر اپنی پستول سے بھون ڈالوں۔بارہ سالہ معصومہ تپ کے عماد سے بولی جو لان میں اپنی جگہ ٹِک کے کھڑا ہوگیا تھا جب کی معصومہ کب سے اُس کو پارک میں ساتھ چلنے کا کہہ رہی تھی۔
تم میرا سر بھون ڈالوں پر میں تب تک تمہاری بات نہیں مانوں گا جب تم میری بات نہیں مان لیتی۔عماد اٹل لہجے میں بولا
دیکھو مجھے گھٹن ہوتی ہے سر پہ ڈوپٹہ پہنتی ہوں تو اور تم ہوتے کون ہو مجھ پہ روعب یا حکم کرنے والے میری مرضی میں ڈوپٹہ پہنوں یا نہیں۔معصومہ اُس پہ چڑھ ڈوری
اگر میں کجھ نہیں تو اُس کو لیں جاؤ جو تمہارا کجھ لگتا ہو میرا کیا کام۔عماد ناراض لہجے میں بولا
یہ دیکھو گلے میں پہن لیا میرے باپ اب تو مان لو۔معصومہ کوفت کا شکار ہوئی
سر پہ اچھے سے لو میری عزت کا سوال ہے۔عماد کی بات پہ معصومہ نے اُس کو گھورا
بڑی عزت ہے تمہاری۔معصومہ نے بھگو کر طنزیہ کیا
اور نہیں تو کیا اب تم بڑی ہوگئ ہو خیال کرو اپنا کل قرآن پڑھانے والے امام صاحب نے کیا کہا تھا اللہ عورت کو پردے کا حکم دیتا ہے جب کی مرد کو نظر جھکاکر چلنا چاہیے عورت کو اپنی عصمت کی خود حفاظت کرنا چاہیے تاکہ کسی غیرمرد کی اُس پہ بُری نظر نہ پڑے زمانہ چاہے کتنا آگے کیوں نہ چلاجائے ہمارا اسلام ہمارا دین اُس کے احکام وہی ہیں۔۔عماد سر جھٹک کر بولا تو معصومہ بھی اپنی جگہ چور سی ہوگئ
حجاب کرلیا اب اگر کوئی اور شوشہ تم نے چھوڑا تو میں روڈ پہ چلتی گاڑی کے پاس تمہیں کرڈالوں گی۔معصومہ نے عماد کو بضد دیکھا تو اپنے گلے میں پہنا ڈوپٹہ اچھے سے سر پہ پہن کر عماد سے بولا جو اپنی بات مان جانے پہ دل کھول کر مسکرا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معصومہ ماضی کی یادوں سے باہر آتی گہری سانس ہوا میں خارج کرتی اپنے ڈوپٹے کو اچھے سے کھول کر سر پہ پہنا
کوئی کجھ بھی کہے تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے تم نے کب کسی کی باتوں کا اثر لیا یا اُن کی پرواہ کی کے لوگ کیا کہیں گے۔معصومہ اجوہ اور سرفراز پہ نظر ڈال کر خود سے کہا
کیا ہوگیا ہے معصومہ لوگوں نے ہنسنا ہے ہم پہ کے کس مولانی کو ساتھ لائے ہیں۔سرفراز جھنجھلا کر بولا
میں واپس جارہی ہوں دوسرا یہ مجھے کسی کی باتوں سے فرق نہیں پڑتا اور آجکل کوئی ڈوپٹہ چادر پردہ کرے نہ کرے یہ اُن کا فعل ہے جس میں میرا بھی شمار ہوتا تھا پر اب معصومہ عباد اتنی غافل نہیں رہے گی کیونکہ زمانہ چاہے آسمان چھو لیں ہمارا مذہب یہی کہتا ہے اپنے گھر کی عورتوں سے کہو پردہ کرکے باہر نکلا کریں مجھے یہاں نمائش کا سامان بننے کا کوئی شوق نہیں زندگی میں شاید میں نے کبھی خود کو اور اپنی عزت کو غیرمحفوظ محسوس کیا ہے مجھے اگر تھوڑا بھی اندازہ ہوتا ریسٹورنٹ کے نام پہ میں کسی ریڈ ایریا کے علاقے سے زیادہ بدتر ماحول میں آنے والی ہوں تو ایسی جگہ پہ تھوکنا بھی گوارہ نہ کرتی۔معصومہ سرد سپاٹ لہجے میں کہتی اُن سب کو حیران کرگئ اُس کو اُلجھن ہورہی تھی وہاں کھڑے سب لڑکوں کی خود پہ نظریں محسوس کرکے اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ یہاں سے ایک منٹ سے پہلے غائب ہوجاتی تبھی اُس نے اپنے قدم واپسی کے لیے بڑھائے۔
معصومہ ویٹ یار کیا ہوگیا ہے۔اجوہ اُس کے پیچھے آتی حیرت انگیز طور پر بولی
کجھ نہیں ہوا۔معصومہ نے بے زاری سے جواب دیا
پھر وہاں جو تم نے اتنا سب کہا وہ کیا تھا؟اجوہ نے اُس کو گھورا
یار اجوہ سچ بتاؤ تو میں کبھی عماد کے علاوہ اکیلی نہیں گئ کہی تمہاری سالگرہ ہم یونی میں مناتے ہیں اگر کسی فرینڈ کے گھر ہو تو عماد ساتھ ہوتا ہے آج پہلی بار میں خود سے آئی ہوں اُس کے بغیر یہ تو نہیں کہوں گی مجھے اُس کی یاد آرہی ہے پر اگر وہ میرے ساتھ ہوتا تو وہاں کسی ایک لڑکے کی بھی ہمت نہ ہوتی میرے پہ نظر ڈالنے کی عماد اُس کی آنکھیں نکال لیتا آج وہ میرے ساتھ نہیں تھا میں نے خود کو حد سے سوا انسکیور فیل کیا۔معصومہ ایک سانس میں بولتی چلی گئ۔
تم اور ری ایکٹ کررہی ہو ورنہ ایسی کوئی بات نہیں۔اجوہ اپنی حیرانی پہ قابو پاتی بولی
شاید پر مجھے یہاں اچھا نہیں لگ رہا اِس لیے میں جارہی ہو ٹیک کیئر۔معصومہ اُس کے گلے لگتی پورچ کی جانب آئی
جاؤ گی کیسے؟اجوہ نے پیچھے سے آواز لگائی۔
تمہارے گلے لگتے وقت میں نے تمہاری پرس سے تمہاری گاڑی کی چابیاں نکال لی تھی۔معصومہ بنا مُڑے ہاتھ اُپر کرکے چابیاں دیکھا کر کہا تو اجوہ نے اُس کی پشت کو گھورا وہ جو کجھ دیر کے لیے سمجھی تھی شاید معصومہ بدلنے لگی ہے اب اپنی سوچ پہ افسوس ہوا اور یقین ہوگیا دُنیا اِدھر کی اُدھر ہوجائے معصومہ عباد سدھرنے والی ہڈی بلکل نہیں ہے۔
