Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Last Episode)
Rate this Novel
Mohabbatein (Last Episode)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
یہ تمہاری زبان اُس کی چھوٹ پہ چل رہی ہیں نہ۔زویا غصے سے پاگل ہوتی ہوئی بولی
آپ جو بھی سمجھے۔عبیر کی بات ایک اور تھپڑ اُس کے چہرے پہ رسید کرتی جب عماد کمرے میں داخل ہوا
کیا ہورہا ہے یہاں؟عماد ایک نظر روتی ہوئی عبیر پہ ڈال کر زویا سے بولا
تم دونوں بہن بھائی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔زویا غصے سے کہتی کمرے سے باہر چلی گئ۔
عبیر کیا بات ہے رو کیوں رہی ہو اتنا۔عماد اُس کی آنکھیں صاف کرتا نرمی سے بولا
عماد وہ۔عبیر بتاتے بتاتے چپ ہوگئ اُس کو ڈر لگ رہا تھا جانے عماد اُس کے بارے میں کیا سوچتا عماد اُس کی کیفیت سمجھ گیا تھا تبھی اُس کو رلیکس کرنے کی خاطر بولا
میں جانتا ہوں تمہارے نکاح کے بارے میں۔عماد نے بتایا تو اُس کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
تم کیسے؟عبیر کو سمجھ نہیں آیا کیا بولیں۔
تبریز امی کے ہسپتال گیا تھا اُس کے اور امی کے درمیان جو باتیں ہوئی وہ میں نے سن لی تھی اور تم پریشان مت ہو اگر تمہاری خوشی اُس انسان میں ہے تو کوئی تمہارے اُس کے درمیان نہیں آئے گا۔عماد اُس کے سر پہ ہاتھ رکھتا تسلی آمیز لہجے میں بولا۔
پر امی۔عبیر ہچکچائی۔
اُن کو میں سنبھال لوں گا ڈیڈ سے بات کرتا ہوں تاکہ وہ تبریز کے گھروالوں سے بات کریں۔عماد کی بات پہ عبیر کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
تم بہت اچھے ہو۔عبیر نے کہا تو ہنس پڑا
اچھا جی اگر تمہارے کام آیا تو اچھا ہوگیا۔عماد اُس کو مصنوعی گھوری سے نوازتے ہوئے بولا
نہیں ویسے بھی بہت اچھے ہو سب کا سوچنے والے سب کا خیال کرنے والے یو آر گریٹ۔عبیر جھٹ سے بولی تو عماد نفی میں سرہلانے لگا





معصومہ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔سرفراز نے جیسے ہی یونی میں معصومہ کو اکیلا دیکھا تو اُس کی طرف آتا بولا
سوری پر مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔معصومہ صاف انکار کیا۔
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتی ہو۔سرفراز کو معصومہ سے ایسی اُمید ہرگز نہیں تھی۔
میں کیا کرسکتی ہوں کیا نہیں یہ تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔معصومہ نے گھور کر کہا
تمہارے کزن نے میرے ساتھ چیٹ کیا تھا اُس نے مجھے اغوہ کرلیا تھا۔سرفراز اپنے دفاع میں بولا
او ریئلی تم کوئی ننہے بچے ہو جس کو میرے کزن نے اغوہ کرلیا اور تم اغوہ ہو بھی گئے اچھا مذاق ہے۔معصومہ خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی۔
تم میری بات پہ یقین نہیں۔سرفراز کو صدمہ لگا۔
نہیں۔معصومہ نے بنا تاخیر کیے کہا جس پہ سرفراز پہلے تو اُس کو دیکھتا پر جیسے ہی جانے کے لیے پلٹا تو عماد پہ نظر پڑی جو جانے کب سے اُس کے پیچھے کھڑا تھا
تم۔سرفراز کے چہرے پہ ناگوار کے تاثرات نمایاں ہوئے
ہاں میں عماد معصومہ کا شوہر۔عماد نے دانت پہ دانت جمائے بتایا اِس انکشاف پہ سرفراز غصہ دباتا وہاں سےنکل گیا۔
کیا ٹائم پہ اینٹری مارتے ہو۔عماد اُس کے ساتھ بیٹھا تو معصومہ نے داد بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔
دوبارہ اُس سے بات مت کرنا۔عماد اُس کی بات نظرانداز کرتا بولا
اوکے نہیں کروں گی۔معصومہ نے فرمانبرادری سے کہا تو عماد نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا اُس کو معصومہ سے اتنی تابعداری کی اُمید نہیں تھی۔
طبیعت ٹھیک ہے اتنی فرمانبرادری۔عماد اُس کا ماتھا چیک کرتا فکرمند ہوا۔
پڑو ہٹو سیدھا بولوں عزت راس نہیں تمکو۔معصومہ اُس کا ہاتھ جھٹکتی گھور کر بولی
ناراض کیوں ہورہی ہو مذاق کررہا ہوں۔عماد جلدی سے اُس کا ہاتھ تھام کر بولا جو اُٹھ کر جارہی تھی۔
اچھا کہیں باہر چلیں۔معصومہ اپنے مطلب کی بات پہ آئی تو عماد اُس کو دیکھتا رہ گیا۔
میں بھی کہوں تم عزت اور مجھے دو ایمپوسبل۔عماد بولا تو معصومہ نے آنکھیں گُھمائی۔





آج پھر۔تبریز کو کالج کی گیٹ پہ کھڑا دیکھا تو کہا۔
ہاں سوچا اپنی بیوی کے ساتھ لنچ کیا جائے۔تبریز بائیک چابی لہراتا بولا
منکوحہ سے بیوی کیسے بن گئ۔عبیر ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
تمہاری ہٹلر اماں حضور جو میری زندگی میں مفت میں ویلن کا رول پلے کررہی ہے تو میں نے سوچا خود ہی رخصتی کروادوں اِس لیے آج سے تم میری بیوی۔تبریز شرارت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی۔
اچھا اچھا اب چلیں۔عبیر تاسف سے سرہلاتی بولی تو تبریز نے سر پہ ہاتھ مارا۔
آؤ اور یہاں تمہارے بھائی نے بتایا مجھے اُس نے انکل سے بات کردی ہے اِس لیے ایک دو دن تک میرے گھر والیں آجائے گے۔تبریز نے آگاہ کیا تو وہ پریشان ہوئی۔
امی نہیں راضی۔عبیر نے دُکھ سے بتایا
مجھے اُن کی رضامندی کی پرواہ نہیں۔تبریز بے زاری سے بولا۔جس پہ عبیر خاموش رہی







اب تو عماد کو طلاق دینی پڑے گی۔زویا ہاتھ میں پوائزن کی بوتل پکڑے پُراسرار لہجے میں خود سے بولی اُس نے سوچ لیا تھا عماد اور عبیر کو اپنی بات پہ کیسے قائل کرنا ہے اب اُس کو انتظار تھا تو کل کا تھا تبھی کلک کی آواز پہ اُس نے جلدی سے بوتل چھپائی اُور اپنے تاثرات نارمل کیے۔
کل عبیر کی رخصتی مانگنے آئے گے اِس لیے کوئی تماشا نہیں کرنا۔عمار کمرے میں داخل ہوتا اُس کو وارن کرنا لگا جس پہ زویا کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی۔
حد ہے بیٹی بنا خبر کیے نکاح کر آئی اور ایک تم ہو جس کو کوئی پرواہ نہیں اور رخصتی کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہو۔زویا نے طنزیہ کرنا ضروری سمجھا۔
تبریز بھائی کی فرینڈ کا بیٹا ہے اور مجھے میری بیٹی پہ بھروسہ ہے اِس لیے تم اپنے طنزیہ اپنے تک محدود کرو۔عمار ناگواری سے بولا
تو میری بھی بات سن لو میں عبیر کو مجبور کرلوں گی کے وہ اُس لڑکے سے طلاق مانگے اور دیکھنا عماد بھی پھر معصومہ کو طلاق دے گا پھر میں دونوں کی اپنی پسند سے شادی کرؤاں گی۔زویا کے لہجے پہ جانے کیا تھا جس پہ عمار ٹھٹکا
میں پہلے ہی بتاچُکا ہوں کوئی ڈرامہ مت کرنا اور تم کیسی اور عورت کیسی ماں ہو جس کو اپنی اولاد کی خوشیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔عمار نے اُس کو شرم دلانی چاہی جو کی ناممکن سی بات تھی۔
مجھ پہ تمہاری یہ باتیں اثر کرنے والی نہیں مجھے جو کرنا ہوگا میں وہ کروں گی۔زویا سرجھٹک کر بولی۔
میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں اگر کوئی ڈرامہ کیا تو میں تمہارا گلا اپنے ہاتھوں سے دبادوں گا۔عمار سخت لہجے میں کہتا کمرے سے باہر نکل گیا اُس کے جاتے ہی زویا نے اپنی نظریں پوائزن بوتل پہ جمائی۔





کھاؤ گے۔معصومہ ساری آئسکریم کھا کر آخر میں عماد سے پوچھنے لگی جو اپنے موبائل میں مصروف تھا۔
نہیں شکریہ تم کھاؤ۔عماد آئسکریم کپ پہ ایک نظر ڈالتا دانت پیس کر بولا جس میں آئسکریم نہ ہونے کے برابر تھی اِس لیے معصومہ کھسانی سی ہوکر ہنس پڑی۔
میں نے سوچا بعد میں تم یہ نہ کہو میں نے پوچھا نہیں۔معصومہ نے احسان کرنے والے لہجے میں بتایا۔
گھر چلیں دیر ہوگئ ہے۔عماد اُس کی بات نظرانداز کرتا موبائیل جیب میں ڈالیں معصومہ سے بولا
ہاں چلو۔معصومہ سر کو جنبش دیتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔




آج تبریز والوں نے آنا تھا ایک دل طرف عبیر خوش تھی تو دوسری طرف اُس کو زویا کی ٹینشن تھی جس نے اُس کے ساتھ بول چال بند کر رکھی تھی۔
واہ جی واہ تم تو بڑی چھپی رستم نکلی۔معصومہ دھڑام سے دروازہ کھول کر عبیر کے کمرے میں آتی بولی۔
میں تو نہیں۔عبیر گِڑبڑا کر بولی۔
اچھا جی تم نہیں تو کون چوری چوری چُھپکے چُھپکے کس نے نکاح کیا۔معصومہ آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھور کر بولی
وہ تو بس اتفاق تھا۔عبیر نے اپنا دفاع کیا۔
واہ اتنا حسین اتفاق جس میں ڈائریکٹ نہ جان نہ پہچان بس نکاح ہوجاتا ہے اور تو اور دونوں شریکوں میں سے کسی کو اعتراض بھی نہیں کوئی واہ کیا اتفاق ہے فلمی ٹائپ کا جو میری زندگی میں تو نہیں ہوا۔معصومہ ہاتھ نچا نچا کر بولی تو عبیر بے چاری بلاوجہ شرمندہ ہوئی پھر چونک کر معصومہ سے بولی۔
شریکوں کو مطلب؟عبیر کے پوچھنے پہ اب معصومہ گِڑبڑائی۔
یہ تم نہ مجھ سے لفظوں کی معنی مت پوچھا کرو میں کون سا اُردو کی ڈکشنری ہاتھ میں لیے پِھرتی ہوں۔معصومہ اپنی خجالت مٹانے کے غرض سے بولی
پھر بھی زیادہ نہیں تو اتنا تو پتا ہونا چاہیے نہ جو آپ بول رہے ہیں اُس کا مطلب کیا ہے۔ عبیر نے سمجھداری کی بات کی۔
اچھا چھوڑو دفع کرو یہ بتاؤ کونسا ڈریس پہنوں گی اور آج میں تمہیں تیار کروں گی آفٹر آل تم میری اکلوتی نند ہو۔معصومہ خوشگوار لہجے میں بولی ۔
ٹھیک ہے میری اکلوتی بھابھی۔عبیر نے کہا جس پہ معصومہ نے کمر پہ ہاتھ رکھے۔
اکلوتی بھابھی سے کیا مُراد دو تین اور بھی چاہیے کیا۔معصومہ سخت چتونوں سے اُس کو گھور کر بولی
نہیں یار تم لفظوں کو پکڑا مت کرو میں نے ایسی ہی بات کی۔عبیر جھنجھلا کر بولی
اچھا اچھا نہیں کہتی اب تیار تو ہوجاؤ ورنہ تمہاری ساس کیا کہے گی۔معصومہ مسکراہٹ ضبط کیے بولی۔





عمار۔ سوہا ہاتھ میں فون پکڑتی پریشانی سے عمار کے پاس آئی جو تبریز اور مناہل کا استقبال کررہا تھا۔
ہمم کیا بات ہے؟ عمار اُس کی جانب متوجہ ہوا
ہمیں ابھی ہسپتال کے لیے نکلنا ہوگا ایمرجنسی کیس ہے۔ سوہا نے بتایا تو عمار کے چہرے پہ بھی فکرمندی کے ساے لہراے
ٹھیک ہے یہاں بھائی سب سنبھال لیں گا ہم چلتے ہیں تم زویا سے کہوں آنے کا۔ عمار سنجیدگی سے بولا
اُس کو رہنے دو اِس وقت بیٹی کو سب سے زیادہ ماں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوہا نے کجھ سوچ کر کہا
پر ہم جس پیشے میں ہیں وہاں سب سے پہلے مریضوں کو نظر میں رکھا جاتا ہے۔
ہم جا تو رہے ہیں نہ اور بھی اسٹاف ہوگا اور تم دیر مت کرو جلدی کرو۔ سوہا نے عجلت بھرے لہجے میں کہا تو عمار نے بھی زیادہ بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا نام فرشتے کیوں ہے؟ حماد نے فرشتے کو دیکھا تو اُس کی شرارت کی رگ پھرکی۔
تمہارا نام حماد کیوں ہیں؟ فرشتے نے اُلٹا اُس سے سوال داغا
کیونکہ میرے دادا کا نام حنان ہے بابا کا نام عباد ہے چاچا کا نام عمار ہے اِن سب سے میچنگ میرا نام حماد ہے۔ حماد نے اچھی خاصی تقریر کی۔
توبہ ہے۔ فرشتے کانوں کو ہاتھ لگائے بولی۔
ہاں نہ تو تمہاری ماں کا نام مناہل ہے تو تمہارا نام یا تو منال ہونا چاہیے تھا یہ پھر تمہارے باپ کا نام جنید ہے تو تمہارا نام حُنین ہونا چاہیے تھا یا پھر تمہارے بھائی کا نام تبریز ہے تو تمہارا نام تربیلا ڈرم ہونا چاہیے تھا۔ بات کرتے کرتے آخر میں حماد اُس کو چِڑانا نہیں بُھولا۔
تم فضول انسان بکواس مت کرو اگر مجھے میری ماں کے غصے کا خیال نہ ہوتا تو اُس دن تمہیں گنجا کرنے والی خواہش حسرت کو آج پورا کرتی۔ فرشتے دانت پیس کر بولی تو حماد دانتوں کی نمائش کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوری ہوسپٹل میں ایمرجنیسی ہوگئ تبھی سوہا اور عمار وہاں چلے گئے۔ عباد تبریز اور مناہل کو دیکھتا معذرت خواہ لہجے میں بولا۔
کوئی بات نہیں وہاں جانا زیادہ ضروری تھا۔ مناہل مسکراکر بولی جب کی تبریز کو بے چینی سے عبیر کے آنے کا انتظار تھا۔
کجھ چاہیے تمہیں؟ عماد تبریز کے ساتھ بیٹھتا مصنوعی حیرت سے پوچھنے لگا۔
نہیں مجھے کیا چاہیے ہوگا۔ تبریز اپنا لہجہ سرسری کیے بولا
اچھا اچھا ویسے تم یہاں کیوں آئے ہو یہ باتیں تو بڑے طے کرتے ہیں۔ عماد کی بات پہ تبریز سمجھ گیا وہ اپنا بدل لینے کا اِرادہ رکھتا ہے۔
بدلا لیں رہے ہو۔ تبریز دانت پہ دانت جمائے بولا
کس چیز کا بدلا۔ عماد نے ناسمجھنے کی حد ہی پار کردی۔
مجھے غصہ مت دلاؤ۔تبریز نے وارن کیا۔
لان میں چلیں کُھلی ہوا ہوگی تو تمہارا غصہ بھی اُڑ جائے گا۔عماد جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے بولا اُس سے پہلے تبریز جواب میں کجھ کہتا زویا معصومہ کو بازوں سے پکڑتی ڈرائینگ روم میں لائی۔
چھوڑے مجھے۔معصومہ اپنا بازوں آزاد کرواتی بول کر جلدی سے عماد کے ساتھ کھڑی ہوئی باقی سب بھی اپنی جگہ کھڑے ہوگئے تھے۔
یہ کیا حرکت ہے زویا۔ عباد دھیمے مگر سخت لہجے میں بولا۔
آج کوئی نہیں بولے گا عماد تم ابھی کے ابھی معصومہ کو طلاق دو۔ زویا کی بات سب پہ بم کی طرح گِری۔
امی اندر چل کر بات کرتے ہیں۔ عماد سب کی موجودگی کا خیال کرتا بولا معصومہ نے زور سے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کیا۔
نہیں سب کے سامنے اِس کو طلاق دو ورنہ میں زہر کھالوں گی۔ زویا نے اچانک سے شیشی سامنے کی تو سب کا رنگ فق ہوا سب کے برعکس تبریز نے آنکھیں گُھمائی اُس کو یہ سب ڈرامہ لگ رہا تھا۔
کیا پاگل پن ہے پھینکو اِسے۔ عباد غصے سے کہتا اُس کی طرف بڑھنے لگا پر زویا نے ہاتھ کے اِشارے سے روک کیا ساتھ میں بوتل کا ڈھکن بھی کھول دیا۔
آہ ہاں مت آنا ورنہ میں ایک لمحے کی دیر نہیں کروں گی اِس کو پینے میں۔ زویا کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔
امی۔ عماد بے بس ہوا۔
اپنی ماں عزیز ہے تو ابھی کے ابھی طلاق دے کر فارغ کرو۔ زویا بوتل اپنے منہ کے قریب کیے بولی۔
تم اپنی خودساختہ نفرت میں اتنی آگے کیسے بڑھ سکتی ہو جو مرنے مارنے پہ اُتر آئی ہو۔ عباد تاسف سے بولا
میں محبت کرتا ہوں طلاق نہیں دوں گا آپ پلیز ضد چھوڑدے ہمارا خیال کرے۔ عماد کا دل خوف سے دھڑک رہا تھا وہ جتنا آہستہ اُس کی طرف قدم بڑھاتا زویا اُتنی تیزی سے پیچھے لیتی۔
اگر ایسا ہے تو میں زہر کھالوں گی اور میں یہ بس بول نہیں رہی۔ زویا نے ایک اور کوشش کی پر عماد کی طرف خاموشی پاکر ایک لمحے کی دیر کیے بنا زہر اپنے اندر انڈیلا
زویا
عباد اور مناہل چیخ کر اُس کی طرف بڑھے جب کی تبریز دنگ سا زمین پہ پڑا زویا کا وجود دیکھ رہا تھا جس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اُس کو یقین نہیں آرہا تھا وہ اِس حدتک جاسکتی ہے۔
امی۔ ۔۔۔۔
عماد تڑپ کر معصومہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ کرکے زویا کی طرف بڑھا
اُس کے جانے کے بعد معصومہ کی ساکت نظریں اپنے خالی ہاتھ پہ تھی جس میں پہلے عماد کا ہاتھ تھا۔
