No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
اگلے دن سکینہ اپنے گھر میں شفٹ ہو گئی تھی۔رباب کا پاؤں اب قدرِ بہتر تھا۔
سکینہ بیگم نے ابتہاج کے کمرے کی سیٹنگ رباب کی مرضی سے کروائی تھی۔
رباب سے زیادہ تو حیرت ابتہاج کو ہوئی تھی۔
موم میرے کمرے کی سیٹنگ آپ اس سے پوچھ کر کیوں کروا رہی ہیں وہ میرا کمرا ہے اور اُس میں چیزیں بھی میرے مطابق ہونی چاہیے۔ابتہاج نے اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا ان کے ساتھ ہی رباب بیٹھی تھی۔
نوال اور دعا باقی کے کاموں کو دیکھ رہی تھیں۔
بیٹا جی رباب آپ کی بیوی ہے اور اُس کی پسند بھی اہمیت رکھتی ہے اب ایک ماہ بعد ولیمہ ہے تو وہ یہی آکر رہے گی نا تو اس کی پسند کی چیزیں ہونی چاہیے۔سکینہ نے پیار سے رباب کو دیکھتے کہا۔
ابھی یہ محترمہ یہاں آئی بھی نہیں ہے اور آپ ان کی مرضی سے سب کچھ کر وا رہی ہیں اس کے آتے ہی آپ نے تو مجھے بھول جانا ہے۔
ابتہاج نے ناراضی سے کہا۔
سکینہ بیگم ابتہاج کی بات سن کر ہنس پڑی تھیں۔
تمہیں میں کیسے بھول سکتی ہوں بیٹا ہاں مجھے یاد آیا اوپر کمرے میں نوال اور دعا نے مجھے لگتا ہے ابھی تک اپنی الماری سیٹ نہیں کی میں اُن دونوں کو دیکھ کر آتی ہوں۔
سکینہ نے یاد آنے پر کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
رباب نظریں نیچے کیے بیٹھی ہوئی تھی جیسے یہاں پر موجود ہی نا ہو۔سکینہ کے جانے کے بعد ابتہاج نے رباب کی طرف دیکھا۔
تمھارا پاؤں اب کیسا ہے؟ ابتہاج نہیں جانتا تھا کہ اُس نے یہ سوال کیوں پوچھا ہے لیکن اب تو پوچھ لیا تھا۔
ٹھیک ہے رباب نے دولفظی جواب دیا۔
نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد رباب کی آواز گونجی۔
مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔رباب نے نظریں اٹھا کر ابتہاج کو دیکھتے کہا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
تم خود سے کوئی بات بھی کرتی ہو مجھے معلوم نہیں تھا خیر کرو کیا بات کرنی ہے؟
ابتہاج نے میٹھا سا طنز کرتے کہا۔
رباب نے ابتہاج کو گھور کر دیکھا تھا۔
وہ آپ جس بھی لڑکی کو پسند کرتے ہیں اُس سے شادی کر لیں لیکن مجھے مت چھوڑیے گا کیونکہ دادا اور دادی جان کو آپ کے اس فیصلے سے بہت تکلیف پہنچے گی اور میں نہیں چاہتی میری وجہ سے اُن کو کچھ بھی ہو میں کبھی بھی آپ کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کروں گی۔
رباب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا جس کے چہرے کے تاثرات سرد ہو گئے تھے۔رباب نے پوری رات اس بارے میں سوچا تھا اور اس فیصلے پر پہنچی تھی کہ وہ اپنی وجہ سے اپنے عزیز لوگوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتی۔
ابتہاج اپنی جگہ سے اٹھا اور چلتا ہوا رباب کے پاس آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کیا۔
ابتہاج کو سامنے دیکھ کر کچھ پل کے لیے رباب ڈر گئی تھی۔
کیا تم اُس لڑکی کو میرے ساتھ برداشت کر لو گی؟ ابتہاج نے ہاتھ آگے بڑھا کر رباب کے چہرے پر جھولتے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے آہستگی سے پوچھا۔
رباب نے ابتہاج کے لمس پر کچھ پل کے لیے اپنے سانس کو روک لیا تھا۔
کیا تمھارے میں اتنی ہمت ہے کہ اپنی سوتن کو برداشت کر سکو جب میں اُسے تم پر فوقیت دوں گا تو کیا تمہیں تکلیف نہیں ہو گی؟ ابتہاج نے تھوڑی سے پکڑ کر رباب کا چہرہ اوپر کرتے مزید کہا۔
باتیں کرنی بہت آسان ہوتی ہے مسز جب اُن پر عمل کرنا پڑا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے اور اب میں تمہیں تکلیف میں بھی تو نہیں دیکھ سکتا آخری بات ابتہاج نے دل میں کہی تھی۔
ان سب باتوں کو اچھی طرح سوچ لیا پھر مجھے جواب دینا۔کیونکہ میری دوسری شادی سے سب سے زیادہ تکلیف گی وہ تمہیں ہی ہو گی۔ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
رباب سانس روکے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔
میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے اور نا میں آپ کو پسند کرتی ہوں نا آپ مجھے مجھے پسند کرتے ہیں اور جب ہمارا یہ رشتہ صرف نام کا ہے تو اس میں تکلیف کہاں سے آگئی۔
تکلیف تو تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا آپ کو دے اور آپ میرے اپنے نہیں ہیں۔
رباب نے ابتہاج کا ہاتھ پیچھے کرتے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی۔
ابتہاج نے یقینی کی کیفیت میں وہاں کھڑا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک چھوٹی سی لڑکی اتنی بڑی باتیں کر سکتی ہے۔
سنبھل کر رہنا پھر یہ نا ہو کہی میں تمھارا بہت خاص اور اپنوں میں شمار ہو جاؤں پھر تمھارے لیے ہی مسئلہ ہو گا۔
ابتہاج نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا۔
ایسی نوبت کبھی نہیں آئے گی رباب نے رک کر جواب دیا اور وہاں سے چلی گئی۔
دیکھ لیتے ہیں مسز ابتہاج نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
💜💜💜💜
دادا جان آپ کہاں جا رہے ہیں؟ صنان نے دادا جان کو تیار دیکھا تو پوچھا۔
میں اور ابتہاج حاکم کے گھر جا رہے ہیں۔
دادا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
دادا جان آپ کو لگتا ہے کہ وہ یہاں آجائے گا؟
صنان نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
مجھے امید تو بلکل بھی نہیں ہے لیکن بات کرنے میں کیا جاتا ہے۔
دادا جان نے صنان کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔
دادا جان آپ حاکم کی دوسری شادی کروا دیں
کچھ دیر سوچنے کے بعد صنان نے کہا۔
تمہیں کیا لگتا ہے وہ خوشی خوشی دوسری شادی کے لیے مان جائے گا؟ دادا جان نے حیرانگی سے پوچھا۔
دادا جان وہ مانے گا تو ہرگز نہیں لیکن آپ کی بات تو مانتا ہے اور آپ کو کبھی منع نہیں کرے گا۔ا س طرح اس کی بیٹی کو ماں بھی مل جائے گی اور ہو سکتا ہے اس کی پہلی بیوی کی وجہ سے جو حاکم کے دل میں عورتوں کے لیے بدگمانیاں پل رہی ہے وہ بھی ختم ہو جائیں صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
ہمم کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو لیکن اس کے لیے ایک اچھی لڑکی کا ہونا بھی ضروری ہے میں آج اُس سے بات کرتا ہوں اگر وہ مان جاتا ہے تو اس کے لیے رشتے دیکھتے ہیں۔
دادا جان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
جی بہتر صنان نے کہا اتنے میں ابتہاج بھی وہاں آگیا تھا۔
نانا جان آپ تیار ہیں تو ہم لوگ نکلتے ہیں ابتہاج نے دادا جان کو دیکھتے کہا۔
ہاں چلو اور صنان تم سکینہ کی طرف چلے جاؤ ابتہاج میرے ساتھ جا رہا ہے اگر سکینہ کو کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوئی تو کر دینا اور براق کو اپنے ساتھ لے جاؤ دادا جان کہتے ہی وہاں سے چلے گئے۔صنان بھی وہاں سے چلا گیا۔
💜💜💜💜
دادا جان اور ابتہاج باہر آئے تو دعا سامنے بلیک کلر کی شلوار سوٹ میں تیار کھڑی تھی۔
میاں جی اب جا رہے ہو تو میرے نواسے کو ساتھ ہی لے کر آنا دادی جان نے خاور صاحب کو دیکھتے کہا۔
آپ کا نواسا بہت ضدی ہے بلکل آپ پر گیا ہے دادا جان نے آخری بات آہستہ آواز میں کہی لیکن دادی جان نے آواز سن لی تھی۔
میرے کان ابھی ٹھیک ہیں میاں جی جلدی جائیں اور جلدی واپس آنے کی کریں دادی جان نے اپنا چشمہ درست کرتے کہا۔
دادا جان آرام سے وہاں سے نکل گئے تھے ابتہاج اور دعا مسکرا پڑے۔
💜 💜💜 💜 💜
دعا چلی گئی تھی تو زوہا نوال کے ساتھ کام کروا رہی تھی۔آپی یار اب بس کر دیتے ہیں میری تو سچ میں بس ہو گئی روزے میں کام کرنا بہت مشکل ہے نوال نے دھڑام سے بیڈ پر گرنے والے انداز میں کہا۔
تم آرام کروں میں دیکھ لیتی ہوں زوہا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ارے رہنے دیں آپ بھی آرام کریں اور عدن کہاں ہے میرا روزہ ہے ورنہ میں.ل اُس عورت کو اچھی خاصی سناتی اسے تو شاپنگ سے فرصت نہیں ملتی اس کے شوہر نے تو کانوں کو ہاتھ لگانا ہے ہر دوسرے دن تو یہ شاپنگ کرنے نکلی ہوتی ہے۔نوال نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔کیونکہ عدن نے کہا تھا کہ وہ نوال کے ساتھ کام کروائے گی لیکن وہ میڈم اپنے کمرے میں آرام سے بیٹھی ہوئی تھی۔
اُس کے موبائل کا غم ابھی ہلکا نہیں ہوا اس لیے اپنے کمرے میں بند ہے۔زوہا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لو موبائل ہی تو ہے یہاں لوگوں کے دل ٹوٹ جاتے اور کسی کو فرق نہیں پڑتا اور یہ محترمہ موبائل کے ٹوٹنے پر مجنوں بنی بیٹھی ہے۔واللہ آپی کتنا اچھا ڈائیلاگ بولا ہے میں نے مجھے لگتا ہے کہ مجھے ناول لکھنے چاہیے بہت اچھی رائٹر بنو گی۔نوال نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے خوشی سے کہا۔
بس کر دو لڑکی اتنی خود کے منہ سے خود کے لیے تعریف اچھی نہیں ہوتی زوہا نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
آپی یار میں سچ کہہ رہی ہوں نوال نے منہ بسوڑتے کہا۔
لیڈیز کسی طرح کی مدد کی ضرورت ہے؟ براق نے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
اس کے پیچھے صنان بھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔ہاں ساتھ والے کمرے کا ٹیبل اٹھا کر باہر رکھ دو چلو میں تمہیں بتاتی ہوں زوہا نے براق کو پیچھے آنے ک اشارہ کرتے کہا اور دونوں وہاں سے نکل گئے۔
پیچھے صنان اور نوال رہ گئے تھے۔
صنان ابھی کوئی بھی فضول بات مت کرنا میرا موڈ نہیں ہے۔ جو نے پہلے حرکت کی تھی میں ابھی بھولی نہیں ہوں اور بعد میں تم سے پوچھوں گی نوال نے صنان کو دیکھتے جلدی سے کہا اور وہاں سے باہر بھاگ گئی۔
صنان نوال کی بات پر ہنس پڑا تھا۔وہ تو پوچھنے والا تھا کہ کوئی ہیلپ چاہیے تو بتا دو لیکن نوال خود ہی بول کر وہاں سے چلی گئی۔
اس لڑکی کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آسکتی صنان نے خود سے کہا۔اور نیچے سکینہ بیگم کے پاس چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
روزےدار سے کام کرواتے تمہیں شرم نہیں آتی لڑکی براق نے ڈرامائی انداز میں ٹیبل کو زمین پر رکھتے کہا۔
ایک ٹیبل اٹھایا ہے تم نے اور اپنی ڈرامے بازیاں چیک کرو زوہا نے کمر پر ہاتھ رکھتے گھورتے ہوئے کہا۔
ویسے ایک بات تو سچ ہے جب تم اس طرح گھورتی ہو نا تو چڑیل لگتی ہو۔جس کے ابھی لمبے دانت نکل آئیں گئے۔
براق نے اس قدر سنجیدگی سے کہا کہ ایک پل کے لیے زوہا بھی حیران ہو گئی تھی۔لیکن جیسے ہی اسے سمجھ آیا تو دانت پیستے اس نے براق کو دیکھا تھا۔
اگر تم نہیں چاہتے کہ روزے کی حالت میں میرے ہاتھوں شہید ہو جاؤ ایک منٹ سے پہلے یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تمھارا اچار بنا دوں گی۔زوہا نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
اچار کیوں؟ قیمہ کیوں نہیں اُف تمہیں قیمہ کہنا چاہے تھا یار اب ہر ایک چیز مجھے تمہیں بتانی پڑے گی۔
براق نے افسوس سے زوہا کو دیکھتے کہا اور باہر دوڑ لگا دی کیونکہ وہ زوہا چہرے پر خطرناک تیور لیے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔
تمھاری تو آج میں جان لے لوں گی زوہا نے پیچھے سے ہانک لگاتے کہا اور خود بھی کمرے سے باہر چلی گئی۔
💜 💜 💜
اللہ کرے حاکم کو عقل آجائے اور یہاں آجائے پتہ نہیں یہ اتنا ضدی کیوں ہے۔عزالہ نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اچھا ہے نا ایک پیس اچھا نکل آیا۔عدن نے وہاں سے گزرتے ہانکتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی کیونکہ وہ عزالہ کی بات سن چکی تھی۔
یہ کیا بول کر گئی ہے؟ عزالہ نے پاس بیٹھے عمیر لو دیکھتے پوچھا۔
کچھ خاص نہیں پھپھو میں نے آپ کو ایک بات بتانی تھی۔عمیر نے اپنی مسکراہٹ دباتے رازداری سے عزالہ کو دیکھتے کہا۔
کیا؟ عزالہ نے بھی دلچسپی سے پوچھا۔
کل جب آپ نے کھانا کھایا تو کیا بنا تھا؟ عمیر نے سوال کیا۔
ٹینڈے عزالہ نے منہ بسوڑتے کہا۔
یہی بات میں نے آپ کو بتانی تھی۔اب نا گھر میں صرف ٹینڈے بنتے ہیں دادا جان نے سختی سے منع کیا ہے کہ ٹینڈے کے علاوہ کوئی سبزی نہیں بنے گی۔ہم تو ٹینڈے کھا کھا اکتا گئے ہیں لیکن مجھے آپ کے لیے افسوس ہو رہا ہے۔اب آپ کو بھی ٹینڈے کھانے پڑیں گئے۔
عمیر نے معصومیت سے عزالہ کو دیکھتے کہا۔جو سچ میں عمیر کی بات سن کر پریشان ہو گئی تھی۔
ایسے کیسے چلے گا میں ابھی بھابھی سے پوچھتی ہوں کہ آج کیا بنے گا۔ایسے تو ٹینڈے کھا کر ایک دن میں اور میرے بچے بھی ٹینڈے بن جائیں گئے باقی سبزیاں کیا ختم ہو گئی ہیں عزالہ کے وہاں سے اٹھتے ہوئے غصے سے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی۔
پیچھے عمیر لا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔اس نے نمرہ بیگم سے ضد کرکے آج پھر ٹینڈے بنوائے تھے۔تاکہ عزالہ کو چڑا سکے۔
ہیزام جو وہاں آیا تھا اور عمیر کی ساری باتیں سن چکا تھا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
عمیر سدھر جاؤ ہیزام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بھائی آپ نے پھپھو کی شکل دیکھی عمیر نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہنستے ہوئے کہا۔
اور اب جب انہیں پتہ چلے گا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے تو تمھاری خیر نہیں ہیزام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی بھائی عمیر نے بتیسی دکھاتے کہا۔ہیزام نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا۔
💜💜💜💜
دادا جان حاکم کے گھر پہنچ گئے تھے حاکم تو دادا جان کو اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
دعا نے حاکم کی طرف دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئی اس نے حاکم کو سلام کیا جس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا لیکن ابتہاج سے بہت اچھی طرح ملا تھا۔
دعا نے گڑیا کا پوچھا تو حاکم نے اسے بتایا وہ کمرے میں ہے اور سو رہی ہے تھوڑی دیر بعد کمرے سے رونے کی آواز آئی تو دعا کمرے میں چلی گئی تھی۔
حاکم میں چاہتا ہوں تم ہمارے ساتھ چلو دادا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
نانا جان میں وہاں نہیں جاسکتا پتہ نہیں کیوں لیکن مجھے اچھا نہیں لگا رہا حاکم نے اپنے دل کی بات بتاتے کہا۔
ٹھیک ہے تم وہاں زیادہ دن مت رہنا لیکن کچھ دنوں کے لیے تو اپنے نانا نانو کے پاس رہنے کے لیے اسکتے ہو نا؟ دادا جان نے حل بتاتے کہا۔
آپ مجھے بس یہاں سے لے کر جانا چاہتے ہیں حاکم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
ہاں ایسا ہی ہے کیونکہ تمھاری نانو نے کہا ہے میرے نواسے کے بغیر گھر نا آنا اب تو تمھارا جانا زیادہ ضروری ہے۔دادا جان نے کہا تو حاکم مسکرا پڑا۔
ٹھیک ہے لیکن میں وہاں کچھ دن ہی رہوں گا پھر میں واپس آجاؤ گا۔حاکم نے اپنی شرط سامنے رکھتے کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا جی لیکن ابھی جانے کی تیاری کرو دادا جان نے کہا تو اتنے میں دعا گڑیا کو اٹھائے باہر لے آئی تھی۔
بھائی آپ اسے پکڑیں میں اس کے لیے دودھ لے کر آتی ہوں دعا کے گڑیا کو ابتہاج کی گود میں بیٹھاتے ہوئے کہا۔اور کچن کی طرف چلی گئی لیکن وہاں جا کر اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو واپس آکر اس نے حاکم سے پوچھا کہ دودھ وغیرہ کدھر پڑا ہوا ہے؟ مجھے نہیں مل رہا آپ پلیز مجھے بتا دیں۔
حاکم نے جواب نہیں دیا اور اُٹھ کر کچن کی طرف چلا گیا۔وہ جب ابتہاج کے گھر گیا تھا اُسی وقت اسے پتہ چل گیا تھا کہ دعا اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے پسند کرتی ہے۔
کچن میں جاکر اس نے دودھ وغیرہ کا دعا کو بتایا۔دعا بہت غور سے حاکم کو دیکھ رہی تھی۔
اگر آپ نے مجھے گھور لیا ہو تو چیزوں پر بھی دھیان دے دیں حاکم نے سنجیدگی سے دعا کو دیکھتے کہا۔اگر اسے لگ رہا تھا کہ حاکم اسے نوٹس نہیں کر رہا تو یہ اس کی غلط فہمی تھی۔
دعا ایک دم ہوش میں آئی اور بوکھلائے ہوئے انداز میں چیزوں کی طرف دیکھنے لگی۔اور وہاں سے مڑ کر حاکم سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہونے لگی تاکہ حاکم باہر جا سکے کیونکہ وہ سامنے کھڑی تھی۔لیکن اس کا پاؤں مڑا اور گرنے ہی والی تھی جب حاکم نے اسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا۔
آنکھیں دیکھنے کے لیے ہوتی ہیں حاکم نے سرد لہجے میں کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔
دعا کو خود پر غصہ آرہا تھا کیوں وہ حاکم کے معاملے میں بےبس ہو جاتی ہے۔ ویسے تو میں ہر ایک کو جواب دے دیتی ہوں لیکن ان محترم کے سامنے ناجانے مجھے کیا ہو جاتا ہے۔آگے ناجانے میرا کیا ہو گا۔یہ تو ایک نمبر کا نک چڑا انسان ہے۔دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور پھر کچن سے باہر چلی. گئی۔
💜 💜 💜 💜
صنان نیچے آیا تو سکینہ بیگم سے باتیں کرنے میں بزی ہو گیا تھا۔اور اس نے اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
سکینہ بیگم کو صنان سے کچھ کام تھا اس لیے اسے کچن میں لے گئی صنان کا موبائل وہی پڑا ہوا تھا جو تھوڑی دیر بعد رنگ ہوا تھا۔
نوال جو وہاں سے گزر رہی تھی اس نے کال کی آواز سنی تو موبائل کے پاس گئی۔
یہ تو صنان کا فون ہے لیکن جناب خود کہاں ہے۔نوال نے موبائل پکڑتے خود سے کہا۔
جس ہر زائشہ لکھا تھا۔
زائشہ یہ کون ہے؟ نوال نے حیرانگی سے کہا اور کال اٹینڈ کرکے موبائل کان سے لگایا….
