58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

کیا بات کرنی تھی تم نے موم سے یقیناً میری ہی کوئی بات تھی اس لیے مجھے دیکھ کر تمھارے منہ پر بارہ بج گئے ابتہاج نے پہلے اپنی دو انگلیوں سے رباب کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا اور اس کے قریب ہوتے انگلی کی پور سے رباب کی ناک میں پہنی بالی کو چھوتے ہوئے گہرے لہجے میں پوچھا۔
میں آپ کو کیوں بتاؤں؟ رباب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
اور ابتہاج کو اس وقت معصوم سی رباب اپنے دل کے بے حد قریب محسوس ہوئی تھی۔وہ لگ ہی اتنی معصوم رہی تھی کہ نا چاہتے ہوئے بھی ابتہاج مسکرا پڑا۔
رباب نے ابتہاج کو گھور کر دیکھا تھا میں نے آپ کو کوئی لطیفہ نہیں سنایا رباب کو ابتہاج کا ہنسنا ایک آنکھ بھی نہیں بہایا تھا۔
اگر تم کوئی لطیفہ بھی سناؤ گی تب بھی میں ہنس پڑوں گا مسز ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
اب بتاؤ موم کو کیا کہنے والی تھی۔ابتہاج نے بازو سے پکڑ کر رباب کو قریب کرتے کہا۔اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کیا۔
رباب کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
آپ یہ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے رباب نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
پہلے میرے سوال کا جواب دو ابتہاج نے رباب کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا۔
ابتہاج کوئی جائے گا رباب نے دروازے کی طرف دیکھتے کہا۔ٹھیک ہے کمرے میں چلتے ہیں اور پھر آرام سے بات کرتے ہیں ابتہاج نے شرارتی لہجے میں کہا اور بنا رباب کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اپنے کمرے میں لے گیا۔
ابتہاج پلیز چھوڑیں مجھے رباب نے بھاری لہجے میں کہا۔اب تو اسے رونا آرہا تھا کہ کیوں وہ یہاں پر آئی۔
ابتہاج نے اسے اپنے کمرے میں آتے ہی چھوڑ دیا اور مڑ کر دروازہ بند کیا۔
رباب کے چہرے پر ڈر دیکھ کر ابتہاج کو ہنسی کے ساتھ اس پر پیار بھی آرہا تھا۔
ابتہاج آپ دروازہ کیوں بند کر رہے ہیں؟ رباب نے اپنے خشک لبوں کو تر کرتے پوچھا۔
تاکہ کوئی ہمیں ڈسٹرب نا کر سکے ابتہاج نے اپنے قدم رباب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
اگر آپ نے کچھ کیا تو میں نے رونے لگ جانا ہے رباب نے ابتہاج کو خود کی طرف بڑھتے دیکھا تو معصوم سی دھمکی دیتے کہا۔
جس پر ابتہاج کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجا تھا۔
اس نے رباب کے قریب آتے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا۔اور اس کے بالوں کو سہلانے لگا تم بہت معصوم ہو مسز لیکن میری ایک بات یاد رکھنا اگر تم نے موم یا کسی کو بھی ہمارے اس رشتے کے بارے میں فضول کہا تو میرے قہر سے تمہیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔
ابتہاج نے پیار سے رباب کو دھمکی دیتے کہا۔
آپ میرے ساتھ کچھ بھی کرتے رہیں تو کیا میں کیسی کو بتا بھی نہیں سکتی؟ رباب نے غصے سے ابتہاج کو دیکھتے کہا جو ہنس پڑا تھا۔
اس کا مطلب کہ تم موم سے میری شکایت لگانے آئی تھی؟ ابتہاج نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
آپ میرا مزاح بنا رہے ہیں؟ دعا نے غصے سے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
تم باتیں ہی ایسی کرتی ہو کہ مجھے ہنسی آجاتی ہے اور میں تمھارا مزاح کیوں بناؤں گا؟
ابتہاج نے رباب کو دیکھتے کہا۔
آج میرا موڈ ہے باہر جانے کا چلو تمہیں ولیمے کے لیے ایک اچھا سا سوٹ لے کر دیتا ہوں۔
ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
کیا؟ میں کہی نہیں جا رہی رباب نے جلدی سے کہا۔
کیوں مسز کچھ دن تو رہ گئے ہیں پھر ہمارا ولیمہ ہے اور تم اسی روم میں آؤ گی سر سے لے کر پاؤں تک میرے لیے تم تیار ہو گی۔اور اس سے آگے بھی بتاؤں؟ ابتہاج نے شرارتی لہجے میں رباب کو دیکھتے پوچھا جس کے گال سرخ ہو گئے تھے۔
ابتہاج تو رباب کو دیکھتا ہی رہ گیا۔
آپ بہت بےشرم ہیں اور مجھے کہی نہیں جانا رباب نے ابتہاج سے الگ ہوتے کہا لیکن اس نے رباب کے بازو کو پکڑ کر مزید خود کے قریب کر لیا تھا۔
جب میں تمھارے قریب آؤں تو مجھ سے دور جانے کی کوشش مت کیا کرو مجھے تمہاری یہ حرکت بلکل بھی پسند نہیں ہے۔
ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تنبیہ کرتے کہا۔
آپ بہت برے ہیں اپنی مرضی کرتے ہیں مجھے آپ کے ساتھ کہی نہیں جانا کب آپ کا موڈ تبدل ہو جائے مجھے پتہ نہیں چلتا
رباب بے جلدی سے کہا۔
فلحال تو میرا موڈ تبدل نہیں ہو گا۔جلدی سے باہر آجاؤ میں گاڑی میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔ابتہاج نے کہا۔
لیکن میں نے تو گھر میں بھی کسی کو نہیں بتایا میں دادی جان کو بتائے بغیر کہی نہیں جاؤں گی رباب نے کہا۔
میں نے ہیزام کو میسج کر دیا ہے کہ میں اپنے بیوی کو مارکیٹ لے کر جا رہا ہوں وہ گھر میں بتا دے گا۔اور اگر تم نا آئی تو باہر گاڑی تک تمہیں اپنی بانہوں اٹھا کر لے جاؤں گا ابتہاج نے دھمکی دیتے کہا۔
آرہی ہوں میں نے کب منع کیا۔رباب نے جلدی سے کہا اور باہر چلی گئی۔ابتہاج کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔اُسے رباب کے ساتھ وقت گزارا اچھا لگ رہا تھا کیوں وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
رباب کہاں ہے بھابھی؟ نظر نہیں آرہی غزالہ نے نمرہ بیگم کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔راشدہ بیگم بھی وہی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
وہ ابتہاج اُسے مارکیٹ لے کر گیا ہے۔نمرہ نے مسکرا کر کہا۔
واہ یہ تو اچھی بات ہے لیکن بھابھی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تو میرا نہیں خیال کہ رباب کو اس طرح ساتھ جانا چاہیے ۔اب ابتہاج باہر سے پڑھ لکھ کر آیا ہے اُس کی عادت بھی الگ ہے کل کو رخصتی سے پہلے ہی اُسے چھوڑ دے تو آپ لوگ کیا کریں گئے۔غزالہ نے سنجیدگی سے کہا۔
راشدہ رباب کی ماں جو غور سے عزالہ کی بات سن رہی تھی فوراً بول پڑی۔
اللہ نا کرے عزالہ کیسے فضول باتیں کر رہی ہو۔ابتہاج اپنا بچہ ہے مجھے پورا یقین ہے اُس پر کبھی بھی اسی حرکت نہیں کرے گا۔اور دونوں کا نکاح ہوا ہے دونوں میاں بیوی ہیں ہم میں سے کوئی بھی اُن کو کچھ نہیں کہہ سکتا اور سوچ سمجھ کر بولا کرو بےشک ابتہاج نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ لندن میں گزرا ہے لیکن اُسے اچھی طرح پتہ ہے کس طرح رشتوں کو نبھانا ہے۔راشدہ نے تھوڑا غصے سے کہا۔سکینہ جو وہی آرہی تھی عزالہ کی بات سن کر وہی رک گئی لیکن راشدہ کی سوچ نے سکینہ کو خوش کر دیا تھا۔
ارے بھابھی آپ تو ناراض ہی ہو گئی ہیں میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی آپ کو زیادہ معلوم ہو گا اپنے بچوں کے بارے میں
خیر میں آتی ہوں غزالہ نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
سکینہ وہاں آکر بیٹھ گئی تھی۔سکینہ یقیناً تم نے عزالہ کی بات سنی ہو گی نمرہ بیگم نے کہا۔
ارے بھابھی کیوں پریشان ہو رہی ہیں آپ جب اُس کی ایک ماں نے اُس کی سائیڈ لے لی ہے تو میرا بات کرنا تو اب بنتا ہی نہیں ہے اور ویسے بھی غزالہ کی عادت ہی ایسی ہے آپ دونوں پریشان مت ہوں سکینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جس پر دونوں کے چہروں پر مطمئن سی مسکراہٹ آگئی تھی۔
ہاں یہ تو ہے اور میں کہہ رہی تھی کہ روزے کتنی جلدی گزر گئے ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں چلا
راشدہ نے بات تبدیل کرتے کہا۔
جی بھابھی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اور میں سوچ رہی تھی کہ کچھ ہی روزے رہ گئے ہیں تو ولیمے کی شاپنگ کر لیتے ہیں پھر جلدبازی میں چیزیں بھول جاتی ہیں۔سکینہ نے مسکراتے کہا۔
ہاں یہ تو ہے میں امی جان سے بھی بات کر لیتی ہوں پھر شاپنگ کے لیے جاتے ہیں اور لڑکیوں کی شاپنگ تو ویسے بھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔نمرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ تو بلکل ٹھیک کہا آپ نے بھابھی سکینہ نے کہا اور پھر تینوں عید کے بارے میں بات کرنے لگیں۔
💜 💜 💜 💜
دادا جان مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔ہیزام نے دادا جان کے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
ہاں بیٹا کہو دادا جان نے ہیزام کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے کہا۔
دادا جان میں شادی کرنا چاہتا ہوں ہیزام نے سیدھا مدعے کی بات پر آتے کہا۔
برخوردار اگر تم نے شادی کا فیصلہ کیا ہے تو لڑکی بھی ہو گی تمھاری نظر میں دادا جان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔جس پر ہی بھی ہنس پڑا تھا۔
جی دادا جان میں عدن سے شادی کرنا چاہتا ہوں ہیزام نے گہرا سانس لیتے کہا۔
تو لڑکی کیا چاہتی ہے کیا اُسے تم منظور ہو؟ دادا جان نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
دادا جان مجھ میں کیا کمی ہے کوئی بھی لڑکی شادی کے لیے مان سکتی ہے۔ہیزام نے فرضی کالر اٹھاتے کہا۔جس پر دادا جان ہنس پڑے تھے۔
تم سے پہلے ماہا میرے پاس آچکی ہے اور اُس نے تمھارے ساتھ شادی کرنے کی اپنی خواہش ظاہر کی ہے۔اب بتاؤ میں کس کی بات سنو؟ اگر تمھاری بات مانی تو اُسے لگے گا میں نے اُس کے ساتھ غلط کیا اگر اُس کی بات مانی تو تمھارے ساتھ غلط ہو گا۔
اس لیے میں نے عدن سے بات کرنے کا سوچا اور میں نہیں جانتا کیوں لیکن عدن نے منع کر. دیا کہ وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی اُسے لگتا ہے تم کسی اور کو پسند کرتے ہو لیکن اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ جسے تم پسند کرتے ہو وہ کوئی اور نہیں عدن ہی ہے۔دادا جان نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
ہیزام دادا جان کی بات سن کر حیران ہوا تھا اسے عدن سے امید نہیں تھی کہ وہ منع کر دے گی۔ تمہیں تو میں بعد میں دیکھتا ہوں عدن ہیزام نے دل میں سوچا۔
دادا جان میں عدن کو پسند کرتا ہوں اگر آپ ماہا کے حق میں فیصلہ کریں گئے تو میں آپ سے پہلے ہی معزرت کرتا ہوں مجھے منظور نہیں ہو گا اور مجھے آپ کے فیصلے کے خلاف جانا پڑے گا یہ میری زندگی ہے اور میں اُسی سے شادی کروں گا جو مجھے پسند ہو گی جو میرے لیے سکون کا باعث ہو گی۔
ہم سب کزن ایک ہی گھر میں رہتی ہے لیکن آپ یقین کریں میں نے کبھی عدن کے ساتھ کسی قسم کی فضول حرکت اور فضول گوئی نہیں کی کیونکہ میں اُسے اپنی عزت مانتا ہوں اور کبھی نہیں چاہوں گا کہ میری وجہ سے اُس ہر کوئی انگلی اٹھائے
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے جو آپ کا فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہو گا۔ہیزام نے سنجیدگی سے دادا جان کو دیکھتے کہا۔جو ہیزام کی بات پر کھل کر مسکرائے تھے۔
بیٹا جی آپ اپنا فیصلہ مجھے سنا چکے ہو اور آخر میں یہ بھی کہہ رہے ہو کہ میرا فیصلہ تمہیں منظور ہو گا؟ دادا جان نے لہجے میں حیرانگی لاتے کہا۔
دادا جان میں نے وہی آپ سے کہا جو سچ ہے۔ہیزام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا میں اسے بارے میں تمھارے باپ سے بھی بات کرتا ہوں اور نماز کو وقت ہو گیا ہے تم بھی پڑھ لو دادا جان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
جی دادا جان ہیزام نے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
پہلے تو مجھے ان محترمہ کا دماغ درست کرنا ہے۔ہیزام نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اپنے قدم عدن کے کمرے کی طرف بڑھا لیے۔
ہیزام دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوا تو عدن ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی اور اسی سٹائل میں ڈوپٹہ لیا ہوا تھا۔
ایک پل کے لیے عدن کو دیکھ کر ہیزام اپنی جگہ پر منجمد ہو گیا۔
جی؟ عدن نے ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔
تم نے دادا جان کو منع کیوں کیا کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی؟ ہیزام نے سیدھا سوال کیا۔
کیوں تم نے ہی تو کہا تھا تم کسی اور لڑکی کو پسند کرتے ہو تو عدن ایسے انسان کے پیچھے کیوں پڑے جس کا دل پہلے ہی کسی اور پر آچکا ہے؟ عدن نے منہ بسوڑتے کہا۔
ہیزام حیرانگی سے عدن کو دیکھ رہا تھا۔
تو اگر میں کسی اور لڑکی سے شادی کر لوں کیا تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ ہیزام نے اپنے قدم عدن کی طرف بڑھاتے پوچھا۔
بلکل پڑے گا لیکن میں برداشت کر لوں گی عدن نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے کہا۔
میں جس لڑکی کو پسند کرتا ہوں وہ کوئی اور نہیں بلکہ تم ہی ہو ہیزام نے دانت پیستے کہا۔
اور ہاں بولنے سے پہلے سو بار سوچ لیا کرو کیونکہ عقلمند انسان پہلے سوچتا ہے پھر بولتا ہے لیکن تمھارے میں تو ہمیشہ سے عقل کی کمی تھی اور مجھے لگتا ہے ہمیشہ رہے گی۔
ہیزام نے اپنی بھڑاس نکالتے کہا۔
عدن کا دل تو ابھی یہ سن کر ہی خوش ہوا تھا کہ ہیزام اسے پسند کرتا ہے لیکن اس کی اگلی باتوں نء عدن کو غصہ دلا دیا تھا۔
مسٹر آپ کچھ زیادہ ہی بول رہے ہیں الحمدللہ آپ سے زیادہ عقل میرے پاس ہے تو خبردار اگر مجھے کچھ کہا تو عدن نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہیزام کو تنبیہ کرتے کہا۔
اگر تمھارے پاس عقل ہے تو اُسے استعمال بھی کیا کرو ہیزام نے تھوڑا عدن کی طرف جھک کر کہا اور پھر وہاں سے نکل گیا۔
عدن ابھی بھی منہ کھولے حیران کھڑی تھی۔
تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گی لیکن ابھی میں تھوڑا خوش ہو جاؤں ہائے یہ کھڑوس بھی مجھے پسند کرتا ہے یااللہ مجھے یقین نہیں آرہا عدن نے خوشی سے جھولتے ہوئے کہا۔
لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ دونوں کی لو سٹوری میں ماہا ویلن بن کر آنے والی ہے۔
جو دونوں کی زندگی حرام کر دے گی۔
💜 💜 💜 💜
صنان بیٹا میں سوچ رہی تھی کہ تم نوال کو شاپنگ کے لیے لے جاؤ اور اُسے اُس کی مرضی کا ولیمے کے لیے جوڑا دلا دینا نمرہ بیگم نے صنان کو تیار دیکھا تو کہا جو شاید باہر جا رہا تھا۔
آپ ایک بار اپنی لاڈلی سے پوچھ لیں کہ وہ میرے ساتھ جانا بھی چاہتی ہے یا نہیں اور آج میں تھوڑا بزی ہوں صنان نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
اسے کیا ہوا؟ لگتا ہے ان دونوں میں پھر سے کوئی نا کوئی جھگڑا ہوا ہے نمرہ بیگم نے پریشانی سے کہا. اور وہاں سے کچن کی طرف چلی گئی۔
صنان آئرپورٹ پر زائشہ کو لینے جا رہا تھا۔وہاں جاتے ہی اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا سامنے ہی اسے بلیک کرتا اور ساتھ بلیک ہی جینز میں چلتی ہوئی زائشہ نظر آگئی تھی۔
بےشک سامنے سے آتے لڑکی بہت خوبصورت تھی۔
زائشہ صنان کے پاس آتے ہی اس کے گلے لگنے لگی لیکن صنان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔
چلیں؟ صنان نے اپنی گلاسز لگاتے کہا تو زائشہ بنا کچھ کہے اس کے ساتھ چل پڑی
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
تم مجھے اپنے گھر لے کر جاؤ گئے؟ زائشہ نے پوچھا۔
کیوں؟ تمہیں میں وہاں کیوں لے کر جاؤں گا؟ صنان نے الٹا سوال کیا۔
کیونکہ میں تمھاری بیوی ہوں زائشہ نے کہا۔
اسی بات کا احترام کرتے ہوئے تمھارا اتنا خیال رکھ رہا ہوں اور تم میرے فلیٹ پر رہو گی۔اور اُس کی تلاش کرو جس کے لیے تم یہاں آئی ہو صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
زائشہ خاموش ہو گئی تھی اس کے بعد صنان نے اسے فلیٹ چھوڑا اور خود وہاں سے چلا آیا۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج نے بہت سے سوٹ دیکھے تھے لیکن اسے رباب کے لیے کوئی پسند نہیں آرہا تھا اب تو رباب بھی تھک گئی تھی۔
ہم گھر کب جائیں گئے؟ رباب نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
جب مجھے تمھارا لیے کوئی اچھا سا سوٹ پسند آجائے گا ابتہاج نے سنجیدگی سے کہا۔
اتنے زیادہ سوٹ پڑے ہیں ان میں سے کوئی بھی پسند کر لیں رباب نے سامنے پڑے ڈریس کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
شکریہ بتانے کا ابتہاج نے گھورتے ہوئے کہا۔
چلو کسی دوسری شاپ سے دیکھتے ہیں۔ابتہاج نے رباب کا ہاتھ پکڑتے اسے وہاں سے لے جاتے ہوئے کہا۔
ابتہاج میں تھک گئی ہوں رباب نے معصومیت سے کہا۔
ابتہاج نے رک کر رباب کی طرف دیکھا اور مسکرا پڑا۔
اور ویسے بھی آپ کون سا اس شادی سے خوش ہیں جو اپنی پسند کا میرے لیے سوٹ لینا چاہتے ہیں کوئی بھی لے دیں رباب نے منہ بسوڑتے کہا۔
ابتہاج نے حیرانگی سے رباب کو دیکھا تھا
تمہیں کیا لگتا ہے جو لڑکی مجھے پسند ناہو اُس کے ساتھ اس طرح گھوم کر شاپنگ کی جاتی ہے؟
ابتہاج نے گھورتے ہوئے پوچھا لیکن رباب کو اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
اس سے پہلے رباب کچھ کہتی ایک نسوانی آواز نے ابتہاج کا نام پکارا تھا۔
تم پاکستان کب آئے؟ لڑکی نے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات لاتے ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
رباب نے اس لڑکی کو سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔جس نے شارٹ شرٹ اور ساتھ گھٹنوں سے اوپر تک کیپری پہنی تھی ڈوپٹہ تو اس کے پاس بلکل بھی نہیں تھا۔
بس کچھ وقت ہی ہوا ہے۔تم کیسی ہو؟ ابتہاج نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
میں بھی ٹھیک ہوں اور یہ ڈول کون ہے؟ لڑکی نے رباب کی طرف دیکھتے پوچھا رباب نے جلدی سے نے سلام کیا تھا جس کا جواب لڑکی نے خوشی سے دیا۔
شی از مائی وائف ابتہاج نے کمر سے پکڑ کر رباب کو خود کے قریب کرتے کہا۔
واؤ تم نے شادی کر لی اور بتایا بھی نہیں؟لڑکی نے کہا۔
تم آنا نا ہمارے ولیمے پر ابھی صرف نکاح ہوا ہے ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں میں ضرور آتی لیکن میں کچھ دنوں بعد واپس لندن جا رہی ہوں اس لیے تمہیں ابھی مبارک باد دے دیتی ہوں لڑکی نے مسکرا کر کہا۔
شکریہ اور علی کو میرا سلام کہنا ابتہاج نے کہا تو پھر وہ لڑکی رباب سے ملنے کے بعد وہاں سے چلی گئی۔
ابتہاج نے رباب کے چہرے کی طرف دیکھا جو سچ میں تھک چکی تھی۔
چلو گھر چلتے ہیں میں خود تمھارے لیے ڈریس لے آؤں گا ابتہاج نے کہا تو رباب نے اثبات میں سر ہلا دیا دل تو اُس لڑکی کو دیکھ کر ہی اداس ہو گیا تھا وہ کچھ اور ہی سمجھ رہی تھی۔
ابتہاج گاڑی میں بیٹھا تو سامنے سڑک پر اس کی نظری مزکور تھیں ۔
تم کچھ پوچھنا چاہتی ہو؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔
رباب کو حیرانگی ہوئی تھی کہ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ کچھ پوچھنا چاہتی ہے۔
جی…..
کیا یہ وہی لڑکی تھی جسے آپ پسند کرتے ہیں؟ رباب نے ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔جس نے حیرانگی سے رباب کی طرف دیکھا تھا۔
تمہیں کس نے کہا کہ یہ وہی لڑکی ہے؟ ابتہاج نے الٹا سوال کیا۔
آپ ہی نے تو کہا تھا وہ مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی اور خوبصورت ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی وہ لڑکی ہے جسے آپ پسند کرتے ہیں رباب نے سنجیدگی سے کہا۔
اگر یہ وہی لڑکی ہوتی تو کیا اُسے میں بتایا کہ تم میری بیوی ہو؟اور کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر تم کہہ دو گی کہ اُس لڑکی کو میں پسند کرتا ہوں؟ وہ لڑکی اور علی میرے کلاس فیلو تھے اور دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اس لیے دونوں نے شادی کر لی علی اُس لڑکی کا شوہر ہے۔ابتہاج نے سنجیدگی سے رباب کو دیکھتے کہا جس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
اس کا مطلب جس لڑکی کو آپ پسند کرتے وہ کوئی اور ہے؟ رباب نے کہا۔
ابتہاج جس کی نظریں رباب کے ہونٹوں پر جمی ہوئی تھیں اس نے جھک پر رباب کی بولتی بند کر دی جس کی آنکھیں پھیل گئیں۔سب کچھ اچانک ہوا تھا کہ رباب کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا
تھوڑی دیر بعد ابتہاج پیچھے ہٹا تو ابھی بھی رباب آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
دوبارہ یہی سب کروں پھر ہوش میں آؤ گی؟ ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
رباب فوراً ہوش میں آئی اور ارد گرد دیکھنے لگی۔
کسی نے ہمیں نہیں دیکھا اور ویسے بھی رات ہے تو گاڑی کے اندر کا تو بلکل بھی نظر نہیں آتا ابتہاج نے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا۔
رباب نے کھڑی کی طرف اپنا چہرہ کر لیا تھا اس کا دل ایک سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ابتہاج کو دیکھ سکے ابتہاج رباب کو رخ موڑے دیکھ ہنس پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
دادی جان مجھے نا آپ کو ایک مشورہ دینا تھا۔عمیر نے دادی جان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا اس وقت اُن کے کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔
ہاں بول کہی پھر تو کوئی گڑ بڑ تو نہیں کر آیا؟ دادی جان نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
ارے نہیں دادی جان میں نے تو حاکم بھائی کے رشتے کے مطلق بات کرنی تھی۔اور اس میں آپ لوگوں کا ہی فائدہ ہے۔عمیر نے جلدی سے کہا۔
اچھا ٹھیک ہے بول دادی جان نے اپنا چشمہ نیچے کرتے عمیر کی طرف دیکھتے کہا۔
دادی جان میرا نہیں خیال کے کوئی باہر کی لڑکی حاکم بھائی کے ساتھ ٹک سکتی میرا مطلب گزارا کر سکتی ہے اور ایسی کوئی لڑکی چاہیے جو گڑیا کو بھی ماں بن کر پالے عمیر نے دادی جان کو دیکھتے کہا۔
تیری نظر میں کوئی لڑکی ہے تو بتا دادی جان نے فورا کہا۔
میری نظر میں ہے تو لیکن پتہ نہیں آپ کو میری بات پسند آئے گی بھی یا نہیں عمیر نے دادی جان کے تاثرات دیکھتے کہا۔تو بس نام بتا دادی جان نے کہا۔
میں دعا کی بات کر رہا ہوں وہ گڑیا کو بہت اچھی طرح سنبھالتی ہے۔اور مجھے لگتا ہے حاکم بھائی کو بھی سیٹ میرا مطلب سنبھال لے گی۔عمیر نے جلدی سے اپنے لفظوں کی درستگی کرتے کہا۔
تجھے کیا لگتا ہے دعا مان جائے گی کچھ دیر بعد دادی نے سوچتے ہوئے کہا۔
دادی جان مجھے ایسا لگتا ہے کہ دعا حاکم بھائی کو پسند کرتی ہے دیکھیے دادی جان آپ کچھ غلط مت سمجھیے گا پسند کرنا کوئی بری بات نہیں ہے عمیر نے جلدی سے صفائی دیتے کہا۔
ارے میں نے کب کہا کہ بری بات ہے یہ تو اچھی بات ہے اگر دعا مان جاتی تو ہمیں باہر کی لڑکی لانے کی ضرورت نہیں ہے تو ایسا کر دعا کو میرے پاس بھیج میں ایک بار بچی سے بات کر لوں اگر اُسے کوئی مسئلہ نا ہوا تو گھر میں بات چلاتے ہیں دادی جان نے خوشی سے عمیر کو کہا۔
جی دادی جان میں ابھی بھیجتا ہوں عمیر نے خوشی سے کہا اور وہاں سے باہر چلا گیا۔
باہر نکل کر اس نے بھنگڑے ڈالے تھے۔
تمہیں کیا ہوا؟ دماغ ٹھیک ہے تمھارا دعا جو اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی اسے بھنگڑے ڈالتے دیکھ حیرانگی بسے پوچھا۔
بس سمجھو تمھارا کام ہو گیا جاؤ دادی جان تمہیں بلا رہی ہیں
عمیر نے اسے کمرے میں دھکیلتے ہوئے کہا۔
دعا کو تو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔
نانو آپ نے مجھے بلایا؟ دعا نے دادی جان کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں بیٹا بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے
دادی جان نے کہا۔
دعا دادی جان کے سامنے ہی بیٹھ گئی تھی۔
میں سیدھی بات کروں گی کیا تم حاکم سے شادی کرنا چاہتی ہو؟دادی کی بات پر ایک پل ہے لیے دعا شوکڈ ضرور ہوئی تھی اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔
نانو میری پسند اتنی اہم نہیں ہے دعا نے سنجیدگی نسے کہا۔
ارے کیسے اہم نہیں ہے۔تو بس مجھے بتا میں خود تیرا نکاح اُس سے پڑھوا دوں گی دادی جان نے کہا۔
کیا گھر والے مان جائیں گئے؟ دعا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
کیسے نہیں مانے گئے تو بس ہاں یا ناں بول دادی نے اپنی چھڑی پکڑتی کہا۔
میری طرف سے ہاں ہیں نانو دعا نے دادی جان کے گلے لگتے کہا۔
لو میری بچی مجھے تو پہلے بتا دیتی فضول میں ہم باہر رشتے تلاش کر رہے تھے۔
اب بس تو سب کچھ اپنی نانو پر چھوڑ دے دادی نے پیار سے دعا کا ماتھا چومتے کہا۔
چلو اب اپنے گھر جاؤ رات کافی ہو گئی ہے۔دادی جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جی نانو جان دعا نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
لیکن سامنے ہی حاکم کھڑا خونخوار نظروں سے دعا کو دیکھ ریا تھا۔ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سب کچھ سن چکا ہے اور یہ سچ بھی تھا وہ یہاں دادی سے بات کرنے آیا تھا جب اس نے دونوں کی بات سنی۔
حاکم نے دعا کی کلائی پکڑی اور اسے کھینچنے کے انداز میں اپنے کمرے کی طرف لے گیا۔
کمرے میں جاتے ہی اس نے دروازہ بند کیا۔
دعا کے ہاتھ کو چھوڑا جو دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔
تمہیں کچھ زیادہ ہی شوق نہیں ہے اپنی زندگی جہنم بنانے کا حاکم نے دعا کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ کا گھیرا بناتے کرخت لہجے میں کہا۔
غصے سے اس کی ماتھے کی رگیں پھول رہی تھیں۔اتنے قریب سے حاکم کو غصے میں دیکھ کر دعا کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
جواب دو زیادہ شوق ہے نا تمہیں مجھ سے شادی کا؟ حاکم نے زور سے دیوار پر ہاتھ مارتے کہا۔دعا نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔