No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
جواب دو زیادہ شوق ہے نا تمہیں مجھ سے شادی کا؟ حاکم نے زور سے دیوار پر ہاتھ مارتے کہا۔دعا نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
اب ڈر کیوں رہی ہو؟
پوری زندگی شادی کے بعد میرے ساتھ ہی تو گزارنی ہے تو ابھی سے ڈرنا کیسا؟ اور میں تو شادی کے بعد دوبارہ اپنے گھر چلا جاؤں گا پھر تمہیں میرے قہر سے کون بچائے گا؟حاکم نے دعا کے ڈرے ہوئے چہرے پر نظریں گاڑھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
اب تو میں بھی چاہتا ہوں یہ نکاح ہو اور جو تمھارے سر پر میرے پیار کا بھوت چڑھا ہوا ہے وہ بھی اتر جائے گا۔
حاکم نے دانت پیستے کہا اسے دعا پر شدید غصہ آرہا تھا۔جو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی خراب کرنا چاہتی تھی حاکم جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی دعا کو خوش نہیں رکھ سکتا۔لیکن دعا تو پیار میں کچھ زیادہ ہی آندھی ہو گئی تھی۔
جاؤ یہاں سے اور نکاح سے پہلے مجھے اپنی شکل مت دکھانا تم سے اُس دن بات کروں گا جس دن تمھارے جملہ حقوق اپنے نام کر لوں گا۔
حاکم نے دعا کو ہاتھ سے پکڑ کر اسے دروازے سے باہر بھیجتے کہا اور اس کے منہ پر دروازہ بند کیا تھا۔
دعا کا چہرہ ذلت اور شرمندگی سے سرخ ہو گیا تھا۔
آنسو ناچتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے باہر آئے تھے۔
دعا نے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا اور بھاگتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔
شکر ہے سب اپنے کمروں میں تھے اور کسی نے اسے نہیں دیکھا۔
دعا اپنے کمرے میں داخل ہوتے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے رونے لگی۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن ماریہ کو یونی میں کچھ کام تھا اور وہ اکیلی یونی گئی تھی۔صفیہ نے عمیر کو اسے واپس لانے کا کہا لیکن ریحان نے عمیر کو منع کر دیا ہے وہ خود اسے لے آئے گا۔
ریحان گاڑی میں بیٹھا ماریہ کا انتظار کر رہا تھا جب اسے ماریہ سامنے سے چلتی ہوئی نظر آئی لیکن اس کے ساتھ ایک لڑکا بھی موجود تھا اور ریحان کو اس کا ہنس پر بات کرنا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔
ریحان اپنی گاڑی سے باہر نکلا گلاسز ابھی بھی اس نے لگائی ہوئی تھی۔
ماریہ نے عمیر کی جگہ ریحان کو سامنے دیکھا تو ایک پل کے لیے ماریہ کے چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزرا۔
یہ کون ہے ماریہ؟ لڑکے نے ریحان کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
آپ کے ساتھ جو محترمہ کھڑی ہیں وہ میری زوجہ محترمہ ہیں ریحان نے تیکھے لہجے میں کہا۔لڑکے کے ساتھ ماریہ کی آنکھیں بھی حیرت سے پھیل گئی تھیں۔
ماریہ تمھاری شادی کب ہوئی؟لڑکے نے حیرانگی سے پوچھا۔
ایک سال ہو گیا ہے اور بہت جلد رخصتی بھی ہے تم ضرور آنا بہن کی رخصتی میں بھائی کا ہونا بھی تو ضروری ہے۔ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا اور ماریہ کو بازو سے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھایا سامنے وہ لڑکا حیران کھڑا تھا جو ماریہ کا دوست بھی تھا۔
ریحان نے غصے سے گاڑی سٹارٹ کی ماریہ کو تو اسے خاموش دیکھ کر خوف آرہا تھا وہ پوری رات ریحان کے بارے میں سوچتی رہی تھی اب جب اس کے دل میں تھوڑی سی ریحان کے لیے نرمی آئی تھی۔شاید پھر سے ختم ہونے والی تھی۔
ریحان گاڑی آہستہ چلاؤ ۔ماریہ نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
فکر مت کرو تمہیں مرنے نہیں دوں گا ریحان نے دانت پستے کہا۔
وہ میرا صرف دوست ہے ماریہ نے جلدی سے کہا وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ کیوں اسے صفائی دے رہی ہے۔ماریہ کی بات سن کر ریحان بکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔لیکن فوراً ہی اس نے اپنی مسکراہٹ چھپا لی
میں نے تم سے پوچھا؟ ریحان نے گاڑی روکتے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
میں صرف بتا رہی ہوں اور تم نے کیوں اُس کے سامنے کہا کہ میں تمھاری بیوی ہوں ؟ماریہ نے پوچھا۔
تو کیا نہیں ہو؟ ریحان نے الٹا سوال کیا۔
ہوں لیکن ماریہ کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے۔
میں نے اس لیے اُسے بتایا کہ کہ آئندہ وہ تم سے کچھ فاصلے پر رہ کر بات کرے اور جتنی جلدی ہو سکے لڑکوں سے اپنی دوستی ختم کر لو ریحان نے سامنے.دیکھتے کہا۔
کیوں میں کیوں تمھاری بات مانو میں وہی کروں گی جو میرا دل چاہے گا ماریہ نے ریحان کو گھورتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے مسز میں بھی وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا۔ریحان نے ماریہ کی طرف جھکتے اس کے ہونٹوں پر نظریں گاڑھتے ذومعنی انداز میں کہا۔
یہ کیا کر رہے ہو تم؟ ماریہ نے ریحان کو اپنی طرف آتے دیکھا تو گھبرائے لہجے میں پوچھا۔
اپنی مرضی ریحان نے گہری نظروں سے ماریہ کو دیکھتے کہا جو سچ میں گھبرا گئی تھی۔
ریحان نے ماریہ کی سہمی ہوئی شکل دیکھی تو قہقہہ لگائے ہنس پڑا اور ماریہ سے پیچھے ہٹ گیا۔
تم خود کو جتنا مرضی بہادر بنا لو میرے سامنے تمھاری بولتی بند ہو جاتی ہے ریحان نے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا۔
ماریہ نے گہرا سانس لے کر ریحان کو گھورا تھا اس وقت وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتی تھی اس لیے خاموشی سے باہر سڑک کو دیکھنے لگی۔
💜 💜 💜 💜
مجھے آپ سب سے حاکم کے رشتے کی بات کرنی ہے دادی جان نے سب کے چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
سب لوگ دادی جان کو دیکھ رہے تھے۔میں چاہتی ہوں کہ باہر کی لڑکی لانے سے بہتر ہے ہم اپنے ارد گرد دیکھ لیں۔ہوسکتا ہے باہر کی لڑکی کو لانے کی ضرورت نا پڑے۔
اب پتہ نہیں باہر کی لڑکی کسی ہوتی ہے گڑیا کا خیال رکھتی ہے یا نہیں مجھے نہیں معلوم اس لیے میں چاہتی ہوں کہ دعا کا نکاح حاکم سے پڑھوا دیا جائے وہ گڑیا کا بھی اچھے سے خیال رکھے گی اور حاکم کو بھی سنبھال لے گی۔دادی جان کی آخری بات پر حاکم کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے تھے۔
باقی سب تو دادی جان کی بات سن کر حیران تھے کیونکہ دعا حاکم سے بہت چھوٹی تھی۔
امی جان آپ نے یہ فیصلہ کیا ہے تو سوچ سمجھ کر لیا ہو گا لیکن پہلے سکینہ اور جہانگیر سے بھی پوچھ لینا چاہیے۔
صاقب صاحب نے کہا۔
بھائی صاحب مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہاں مجھے پوری امید ہے کہ میری بیٹی حاکم کے ساتھ خوش رہے گی۔جہانگیر جو دو دن پہلے ہی واپس آیا تھا اس نے مسکرا کر کہا۔
سکینہ کے ساتھ ابتہاج بھی مطمئن تھا۔
کیونکہ رات دادی جان سکینہ اور ابتہاج سے بات کر چکی تھی۔ابتہاج کو حاکم سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن وہ دعا بہت چھوٹی تھی۔اور حاکم پہلے سے شادی شدہ تھا اور ایک بچی کا باپ بھی تھا اور اپنا یہی پوائنٹ ابتہاج نے دادی جا کے سامنے رکھا لیکن جب دادی جان نے بتایا کہ دعا حاکم کو پسند کرتی ہے تو دونوں خاموش ہو گئے کیونکہ ابتہاج کو اپنی بہن کی خوشی زیادہ عزیز تھی جب دعا کی اپنی پسند شامل تھی تو پیچھے کچھ رہتا ہی نہیں تھا باقی حاکم میں کوئی برائی نہیں تھی۔
اور سکینہ بیگم نے جہانگیر صاحب سے بھی بات کر لی تھی۔
حاکم خاموشی سے بیٹھا سن رہا تھا لیکن غزالہ کو یہ رشتہ بلکل بھی منظور نہیں تھا وہ شروع سے سکینہ سے جلتی تھی اب اُس کی بیٹی کو بہو بنانا بلکل بھی نہیں چاہتی تھی۔
امی جان مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے غزالہ نے سنجیدگی سے کہا۔
تجھے کیا مسئلہ ہے؟ دادی جان نے سرد لہجے میں پوچھا۔
امی جان دعا بہت چھوٹی ہے میرا مطلب ہے کہ حاکم اور دعا کا کوئی جوڑ نہیں بنتا غزالہ نے جلدی سے کہا۔
چھوٹی نہیں بائیس سال کی ہے اور تو اپنے تجربے اپنے پاس رکھ دونوں بہت خوش رہیں گئے۔دادی جان نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے امی جان اگر کسی کو اس رشتے سے مسئلہ نہیں تو ہمیں کیا ہو سکتا ہے اور حاکم اپنا بچہ ہے دعا اپنوں میں ہی جا رہی ہے اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے راشد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تو پھر ٹھیک ہے ابتہاج اور صنان کے ولیمے پر ان دونوں کا بھی نکاح پڑھوا دیں گئے دادا جان نے خوشی سے کہا۔
نانا جان مجھے بھی ایک بات کرنی تھی۔
عید میں ابھی کچھ دن پڑے ہیں اور مجھے میرا بوس کام کے سلسلے میں دوسرے شہر بھیج رہا ہے تو میں چاہتا ہوں میرا کل ہی نکا ہو جائے اور میں دعا اور گڑیا دونوں کو اپنے ساتھ لے جاؤں کیونکہ میں گڑیا کو یہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تو دعا اُسے سنبھال لے گی۔اور میرا جانا بھی ضروری ہے۔حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
کل کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں ہے میرا مطلب ہے اس ہفتے کے آخر میں یہ نکاح رکھ لیتے ہیں۔دادا جان نے کہا۔
نانا جان اگر گڑیا بکا مسئلہ نا ہوتا تو میں آپ سب کی بات مان لیتا لیکن گڑیا کو میں اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں کیونکہ اُس کے بغیر میں نہیں رہ سکتا اور کل رات میں نے نکلنا ہے اور پھر نکاح تو پڑھوانا ہی ہے تو کل کیوں نہیں حاکم نے دادا جان کو دیکھتے کہا۔
نانا جان حاکم ٹھیک کہہ رہا ہے کام بھی ضروری ہے تو کل ہی ان دونوں کا نکاح پڑھوا دیتے ہیں ابتہاج نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔
ٹھیک ہے پھر بہو تم لوگ نکاح کی تیاریاں کرو۔کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے دادا جان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
غزالہ ابھی بھی غصے میں بیٹھی تھی۔
سکینہ نے غزالہ کو دیکھا اور وہاں سے چلی گئی آہستہ آہستہ باقی سب بھی وہاں سے نکل گئے تھے۔پیچھے صاقب اور راشد کو دادا جان سے بزنس کے معاملے میں کچھ بات کرنی تھی اس لیے وہ دونوں وہی رکے تھے
💜 💜 💜 💜
میری تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے لڑکے کی ماں ہوں لیکن مجھ سے کسی نے پوچھنا گوارا نہیں کیا۔
غزالہ اپنا غصہ ماہا کے سامنے نکال رہی تھی۔
موم کیا ہو گیا ہے بھائی کون سا پہلے آپ کی مٹھی میں تھے جو اب انہوں نے آپ کے خلاف جاکر دعا سے نکاح کر رہے ہیں۔
وہ ہمیشہ اپنی مرضی کرتے تھے اور اب بھی اپنی مرضی کر رہے ہیں اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟ ماہا نے موبائل سے نظریں اٹھاتے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
مجھے مسئلہ دعا سے نہیں ہے مجھے مسئلہ اپنی بہن سے ہے جو مجھے کبھی بھی ایک آنکھ بھی پسند نہیں ہے اب اُس کی بیٹی کو میں اپنی بہو بنا لوں ہرگز نہیں غزالہ نے غصے سے کہا۔
موم کہہ تو آپ ایسے رہی ہیں جیسے آپ کے کچھ بھی کرنے سے یہ نکاح رک جائے گا؟ آپ کچھ بھی کر لیں یہ نکاح تو کر رہے گا خیر مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے میں جا رہی ہوں آپ ٹھنڈا پانی پیں غصہ ٹھنڈا ہو گا ماہا نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔غزالہ نے غصے سے ماہا کو جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
ٹھیک ہی تو وہ کہہ کر گئی تھی کون میری سنے گا غزالہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜
دعا پوری رات بے چین رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ حاکم اتنا غصے میں کیوں تھا پوری رات سوچنے کے بعد اس نے سوچا تھا کہ اتنی جلدی وہ ہار نہیں مان سکتی اگر وہ سچ میں حاکم سے محبت کرتی ہے تو اس کے دل میں اپنے لیے محبت کا جگانا ہو گا۔اور آج ایک نئے عزم سے دعا اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی اسے لگ رہا تھا کہ سب کچھ بہت آسان ہے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی جو شخص شادی سے پہلے اسے سخت نا پسند کرتا ہے وہ شادی کے بعد اس کے ساتھ کیا کرے گا۔
کیسی ہو دعا؟رباب نے دعا کو دیکھتے پوچھا۔جو نوال سے ملنے آئی تھی۔نوال پیچھلے دو دنوں سے یہی پر تھی۔
میں ٹھیک ہوں آپی آپ کیسی ہے دعا نے خوشگوار لہجے میں پوچھا۔
میں بھی ٹھیک ہوں یہ بتاؤ نوال کہاں ہے؟ رباب نے پوچھا۔
اپنے کمرے میں بند ہے پتہ نہیں اُسے کیا ہو گیا ہے دعا نے نوال کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
چلو ٹھیک ہے میں اُسے دیکھ لیتی ہوں اور تمہیں بہت بہت مبارک ہو رباب نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
یہ مجھے کس خوشی میں مبارکباد دے کر گئی ہیں؟ دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔اور دادی جان کے گھر کی طرف چلی گئی۔
💜💜 💜 💜
رباب دروازہ ناک کرکے کمرے میں داخل ہوئی تو نوال بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
ارے آپی آپ؟ نہیں بھابھی صاحبہ نوال نے رباب کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔
جس پر رباب بھی ہنس پڑی تھی۔ تمھاری طبیعت ٹھیک ہے؟ تم آئی نہیں وہاں رباب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
جی آپی میں ٹھیک ہوں نوال نے نظریں جھکا کر کہا۔
صنان سے جھگڑا ہوا ہے؟ رباب نے پیار سے نوال کا چہرہ اوپر کرتے پوچھا۔جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
غلطی کس کی تھی؟ رباب نے دوسرا سوال کیا۔
صنان کی نہیں.میری بھی ہم.دونوں کی تھی مجھے لگتاہے میں کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔نوال نے رباب کو دیکھتے کہا۔
میاں بیوی میں جھگڑے تو ہوتے رہتے ہیں نوال تم دونوں کو آپس میں بات کرکے اس مسئلے کو حل کرنا چاہے ایک دوسرے سے بات نہیں کرو گئے تو مزید غلط فہمیاں پیدا ہو گی۔
رباب نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
جی آپی میں نے بھی سوچا ہے کہ صنان سے بات کروں گی۔نوال نے رباب کو دیکھتے کہا۔
گڈ گرل اب جلدی سے تیار ہو جاؤ اور تمہیں پتہ ہے کل دعا اور حاکم بھائی کا نکاح ہے رباب نے خوشی سے نوال کو دیکھتے کہا۔
کیا؟ کل دعا کا نکاح ہے اور مجھے کسی نے بتایا نہیں لیکن اتنی جلدی وہ بھی حاکم بھائی سے؟ نوال نے ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ ڈالے
لڑکی بریک پر پاؤں رکھو میں بتاتی ہوں رباب نے کہا اور اسے ساری بات بتانے لگی جسے نوال بہت غور سے سن رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
تمھاری امی حضور اُس لفنگے زوہیب کے ساتھ تمھاری شادی کروانا چاہتی ہے؟ براق غصے میں زوہا کے سامنے آیا اور سنجیدگی سے پوچھا وہ ابھی غزالہ اور صفیہ کی بات سن کر آرہا تھا۔جو زوہا اور زوہیب کی بات کر رہی تھیں۔
تمہیں کس نے کہا؟ زوہا نے حیرانگی سے پوچھا۔
تمھاری امی اور پھپھو کی باتیں سن کر آرہا جب سے یہ پھوپھو گھر آئی ہیں کچھ کا کچھ نا کچھ الٹا ہی کر جے دم. لیں گی۔براق نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
براق وہ تم سے بڑی ہیں تمیز سے بات کرو زوہا نے گھورتے ہوئے کہا۔
میرے اندر تمیز بلکل بھی نہیں ہے اور ہاں اگر تم نے اس شادی کے لیے ہاں کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔براق نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زوہا ابھی بھی حیران کھڑی تھی۔کیا یہ سچ کہہ رہا تھا؟ زوہیب اور میں نہیں نہیں میرا ٹیسٹ اتنا بھی خراب نہیں ہے لیکن یہ کیا بول کر گیا ہے اسے کیوں میری شادی کا سن کر اتنا غصہ آرہا ہے زوہا نے پرسوچ انداز میں کہا۔
خیر تمہیں تو بعد میں دیکھتی ہوں ابھی مجھے بہت کام ہیں۔زوہا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜
رباب کمرے سے باہر آگئی تھی اور نوال کا انتظار کر رہی تھی جس نے کہا تھا کہ وہ پانچ منٹ تک آتی ہیں۔لیکن ابھی تک نہیں آئی تھی۔
زہِ نصیب محترمہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ ابتہاج نے رباب کو دیکھتے پوچھا۔
جس کا چہرہ ابتہاج کو دیکھتے ہی سرخ ہو گیا تھا۔ابتہاج نے یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا۔
ابتہاج نے اپنے قدم رباب کی طرف بڑھائے
آپ وہی رک جائیں میں گھر جا رہی ہوں رباب نے ابتہاج کو خود کی طرف آتے دیکھا تو جلدی سے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
تم ڈر کیوں رہی ہو مسز؟ ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
کیونکہ آپ کو شرم نہیں آتی کہی بھی شروع ہو جاتے ہیں رباب کی زباب پھسلی اور جو منہ میں آیا بول دیا۔
میں نے ایسا کیا کیا مسز؟ ابتہاج نے رباب کے قریب آتے اس کے نچلے ہونٹ کو سہلاتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں پوچھا۔
ابتہاج کے قریب آنے پر رباب نے اپنا خشک حلق تر کیا تھا۔
وہ میرا مطلب تھا رباب نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
کیا مطلب تھا آپ کا؟ابتہاج نے جھک کر پوچھا۔
آپ کو اچانک کیا ہو گیا ہے؟ رباب نے معصومیت سے ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے بس تمھارا جادو چل گیا ہے۔جادو گرنی ابتہاج نے شرارتی لہجے میں کہا اور رباب کی گال پر بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا کیونکہ اس نے نوال کو سیڑھیاں اترتے دیکھ لیا تھا۔
میں جادوگرنی ہوں؟ رباب نے اپنی گال پر ہاتھ رکھے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیا ہوا آپی؟ نوال نے رباب کو بت بنے دیکھا تو پوچھا۔
ہاں کچھ بھی نہیں چلو رباب نے جلدی سے کہا اور نوال کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گئی۔
💜 💜💜 💜 💜
گھر میں نکاح کی تیاریاں چل رہی تھی۔دعا نے جب اپنے نکاح کا سنا تو اسے یقین نہیں آیا لیکن وہ بہت خوش تھی۔اور اپنی خوشی میں یہ بھی بھول گئی تھی کہ حاکم نے اسے کیا کہا تھا۔
تم خوش ہو؟ عمیر نے دعا کو اکیلے کھڑے دیکھا تو پوچھا۔
ہاں میں بہت خوش ہوں تھینک یو سو مچ دعا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مجھے تمھارا شکریہ نہیں چاہیے دیکھو دعا تمھاری اور حاکم بھائی کی نیچر میں زمین آسان کا فرق ہے۔اگر تمہیں لگتا ہے کہ زندگی بہت آسان گزرے گی تو ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔
میں بس تمہیں یہی کہنا چاہوں گا تمہیں بہادر بننا ہو گا جتنی بھی مشکلات آئیں صبر سے کام لینا عمیر نے سنجیدگی سے کہا۔
عمیر تم مجھے ڈرا کیوں رہے ہو دعا نے گہرا سانس لیتے کہا۔
ڈرا نہیں رہا حقیقت بتا رہا ہوں سب کچھ جیسا نظر آتا ہے ویسا بلکل بھی نہیں ہوتا۔
میری یہی دعا ہے کہ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے آگے تمھارا اپنا نصیب عمیر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
دعا اس کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
پورا دن تیاریوں میں گزرا تھا اور اگلا دن میں آگیا تھا۔
ظہر کے بعد بڑوں کی موجودگی میں دونوں کا نکاح پڑھوا دیا گیا تھا۔
دعا کے چہرے سے مسکراہٹ جانے کا نام نہیں بلے رہی تھی۔وہ بہت خوش تھی۔
اس نے سفید رنگ کا شرارہ پہنا ہوا تھا۔جس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
تم خوش ہو نا دعا؟ سکینہ بیگم نے دعا کے سامنے بیٹھتے پوچھا۔
ماما میں بہت خوش ہوں دعا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میری دعا ہے میری بیٹی ہمیشہ خوش ہی رہے سکینہ نے پیار سے دعا کا ماتھا چومتے کہا۔
میں چاہتی تو نہیں تھی کہ یہ سب کچھ اتنی جلدی ہو لیکن حاکم کی بات بھی ٹھیک ہے اُس کا جانا بھی ضروری ہے۔سکینہ نے افسردگی سے کہا۔
ماما آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں میری بہن سب سنبھال لیں گی اور بہت جلد اس نے واپس آجانا کچھ دنوں کی تو بات ہے نوال نے ماحول کو ہلکا پھلکا کرتے کہا۔
اور دعا تم مجھے بتا دو میں میں تمھارا بیگ پیک کر دیتی ہوں نوال نے مسکراتے ہوئے کہا تو دعا اسے اپنے کپڑوں کا بتانے لگی تھی۔
سکینہ دونوں کو خوش دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔تھوڑی دیر بعد سکینہ بیگم وہاں سے چلی گئی جب دروازہ ناک ہوا نوال نے دیکھا تو وہاں حاکم کھڑا تھا۔
مجھے دعا سے بات کرنی تھی۔
حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
جی جی ضرور نوال کہتے ہی دعا کو ایک ماری اور وہاں سے چلی گئی۔
لیکن ناجانے کیوں حاکم کو دیکھ کر دعا کے چہرے پر ڈر کا سایہ لہرایا تھا۔
حاکم سنجیدگی سے دعا کو دیکھ رہا تھا جو سفید رنگ کے سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی لیکن حاکم کو دعا کی خوبصورتی سے کہاں فرق پڑتا تھا۔
نکاح مبارک ہوں مسز حاکم اور حاکم چلتا ہوا دعا کے قریب آیا دعا چہرے پر خود لیے حاکم کو دیکھ رہی تھی حاکم نے جھک کر اس کے کان کے پاس کہا۔
اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب تمہیں میرے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا۔تم نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی مجھ سے نکاح کرکے کی ہے جس کا پچھتاوا تمہیں ساری زندگی رہے گا۔
تمہیں کیا لگتا ہے کیوں میں نے جلدی نکاح کیا؟ تاکہ تمھارے سر پر چڑھے پیار کے بھوت کو اتار سکوں حاکم نے طنزیہ لہجے میں دعا کے کان کے پاس کہا اس کی گرم سانسوں کی تپش اس کی گردن کو جھلسا رہی تھی۔
