58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

کچھ سال پہلے
زوہیب ضد کرکے اپنے دوستوں کے ساتھ امریکہ گیا تھا۔اُس وقت زوہیب کا باپ بھی زندہ تھا اور اُسی نے جانے کی اجازت دی تھی ورنہ حاکم اس کے باہر جانے کے حق میں نہیں تھا۔
وہاں کلب میں اسے زائشہ نظر آئی تھی۔
زوہیب ہر لڑکی کو تم متاثر کر لیتے ہو تو اُس لڑکی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
زوہیب کے دوست نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے زائشہ کی طرف اشارہ کرتے کہا جو نشے میں دھت ایک لڑکے کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی۔
لڑکی تو پٹاخہ ہے اور خوبصورت لڑکیوں پر تو صرف تمھارے بھائی کا حق ہے. زوہیب نے آنکھوں میں ہوس لیے زائشہ کو دیکھتے کہا۔
جس نے بلیک کلر کی چست پنٹ شرٹ پہنی تھی۔گلہ بھی کافی گہرا تھا۔
تم بس دیکھتے جاؤ کہ اب تمھارا بھائی کیا کرتا ہے۔زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا۔
کیا کرنے والے ہو تم؟ اس کے دوسرے دوست نے دلچسپی سے زوہیب کو دیکھتے پوچھا۔
اُس کے لیے تم دونوں کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔کیونکہ جلدی کا کام شیطان کا کام ہوتا ہے اور ہمارا کام توہے ہی شیطان کا لیکن پھر بھی ہم آرام سے کریں گئے زوہیب نے قہقہہ لگائے کہا اس کے دونوں دوست بھی ہنس پڑے تھے۔
💜 💜 💜 💜
رات کافی ہو گئی تھی کلب سے بھی لوگ جا رہے تھے۔زائشہ ٹیبل پر سر رکھے بےہوش پڑی تھی۔زوہیب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
جب سب لوگ وہاں سے چلے گئے تو زوہیب اُٹھ کر زائشہ کے پاس آیا۔
کیا میں آپ کی کوئی ہیلپ کر سکتا ہوں؟ زوہیب نے مودبانہ انداز میں زائشہ کو دیکھتے پوچھا جس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کیونکہ وہ نشے میں دھت پڑی تھی۔
سر ان کے والٹ میں ان کے گھر کا ایڈریس موجود ہے آپ ان کو گھر چھوڑ دیجیے گا۔
ویٹر کہہ کر وہاں سے چلا گیا کیونکہ ایسا ہی ہوتا تھا کوئی نا کوئی لڑکا اسے گھر چھوڑ آتا تھا۔
زوہیب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے زائشہ کو اٹھایا اور اسے کلب سے باہر لے گیا۔
اور اپنی گاڑی میں بیٹھایا۔
اس کے دوست جا چکے تھے۔زوہیب زائشہ کو اپنے ہوٹل روم لے گیا تھا جہاں پر وہ خود ٹھہرا ہوا تھا۔
کمرے میں آتے ہی زوہیب نے زائشہ کو بیڈ پر لیٹایا اور اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
کتنی خوبصورت ہو تم زوہیب نے اپنے ہاتھ کی پشت سے زائشہ کی گال کو چھوتے ہوئے کہا۔
لیکن ابھی میں تمھارے ساتھ کچھ نہیں کروں گا۔تمھارا اعتماد بھی تو جیتنا ہے۔پھر خود تم میرے پاس آؤ گی ۔زوہیب نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے اُٹھ گیا۔
💜💜💜💜
صبح سورج کی کرنیں زائشہ کے چہرے پر پڑی تو کسمسا کر اس نے آنکھیں کھولی ابھی بھی اس کی آنکھیں پوری طرح نہیں کھلی تھیں۔
گڈ مارننگ زوہیب نے خوشگوار لہجے میں زائشہ کو دیکھتے کہا اور اس کے پاس کافی کا کپ رکھا جو اب اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس کے چہرے پر گھبراہٹ نہیں تھی۔
تم مجھے میرے گھر کیوں نہیں لے کر گئے؟ زائشہ نے اپنے ماتھے کو دباتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں یقین ہے کہ میں نے تمھارا غلط فائدہ نہیں اٹھایا؟ زوہیب نے زائشہ کی بات کو اگنور کرتے پوچھا۔
میں بچی نہیں ہوں جو مجھے پتہ نہیں چلے گا۔اور جلدی سے ناشتہ منگواؤ پھر مجھے نکلنا ہے۔زائشہ نے کافی کے کپ کو پکڑتے کہا۔یہ اس طرح بات کر رہی تھی جیسے ان کی صدیوں کی جان پہچان ہو۔
زوہیب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔
ناشتہ کرنے کے بعد زائشہ نے اپنا نمبر زوہیب کو دیا اور وہاں سے چلی گئی اس نے آج پھر اُسی کلب میں زوہیب کو بلایا تھا۔
اس کے بعد دونوں کلب میں ملنے لگے تھے زوہیب نے اسے اپنا نام ٹھیک بتایا تھا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ پاکستان سے آیا ہے اس کے علاوہ اس نے باقی سب کچھ اس سے جھوٹ بولا تھا۔
باقی جتنے دن زوہیب وہاں رہا زائشہ کے ساتھ رہا تھا۔دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی تھی۔اور زائشہ زوہیب کے ساتھ اس کے ہی روم میں رہنے لگی تھی۔
اس نے خلیل صاحب کو یہی کہا تھا کہ وہ اپنی فرینڈز کے ساتھ رہ رہی ہے لیکن وہ زوہیب کے ساتھ رہ رہی تھی۔
زوہیب واپس پاکستان جانے والا تھا۔
جب زائشہ کو پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے زائشہ نے ایسا نہیں سوچا تھا اس نے زوہیب کو کہا تو اُس نے کہا کہ وہ پاکستان جاتے ہی اسے بلا لے گا اور وہ اُس کے ساتھ شادی بھی کرنا چاہتا ہے لیکن زوہیب نے پاکستان جاتے ہی اپنا نمبر تبدیل کر لیا تھا۔
زائشہ نے بھی سوچا وہ زوہیب سے شادی کر لے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
لیکن جب زوہیب کا کچھ پتہ نہیں چلا تو زائشہ نے سوچا کہ وہ اپنے باپ کو پتہ چلنے سے پہلے ابورشن کروا لے گی لیکن رپورٹ صنان کے ہاتھ لگ گئی تھی اب اسے ڈر تھا کہ کہی وہ اس کے باپ کو نا بتا دے
اگر غصے میں اس کے باپ نے اسے جائیداد سے عاق کر دیا تو یہ کیا کرے گی۔
💜 💜 💜 💜
مجھے تم سے بات کرنی ہے صنان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا جب زائشہ وہاں آئی
کہو؟ صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
تم مجھ سے شادی کر لو پلیز اس بچے کو اپنا نام دے دو بعد میں بے شک تم مجھے چھوڑ دینا لیکن ابھی اگر ڈیڈ کو پتہ چل گیا تو وہ برداشت نہیں کر پائے گئے۔
اور میں اپنے ڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتی زائشہ نے صنان کو دیکھتے کہا۔سچ وہ بتانا نہیں چاہتی تھی کہ کہی اس کا باپ غصے میں اسے جائیداد سے عاق نا کر دے۔
تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ جانتی بھی ہو کیا بول رہی ہو؟ اور میں تم سے نکاح کیوں کروں؟
میرا نکاح ہو چکا ہے سمجھی اور دوبارہ مجھ سے اس بارے میں بات مت کرنا اب جاؤ یہاں سے صنان نے غصے سے کہا اور رخ موڑے کھڑا ہو گیا۔
زائشہ کو غصہ تو بہت آیا لیکن خاموشی سے وہاں سے چلی گئی تھی۔
اب دیکھنا میں کیا کرتی ہوں نکاح تو تمہیں مجھ سے کرنا ہو گا تم نے مجھے منع کر کے اچھا نہیں کیا۔
زائشہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔نا جانے اب یہ کیا کرنے والی تھی۔
💜 💜 💜 💜
زائشہ یہ سب کیا ہے؟ خلیل صاحب نے بے یقینی سے زائشہ کو دیکھتے پوچھا ان کے ہاتھ میں زائشہ کی رپورٹ موجود تھیں اب خلیل صاحب کے کمرے میں زائشہ کی رپورٹ کیسے گئی یہ تو صرف زائشہ کو ہی معلوم تھا۔خلیل صاحب بہت کمزور ہو چکے تھے۔
صنان بھی ابھی باہر سے آیا تھا اور وہی رک گیا۔
زائشہ نے صنان کو دیکھا اور جلدی سے خلیل صاحب کے پاس آئی۔
ڈیڈ میں آپ کو بتانے ہی والی تھی میں اور صنان بہت پہلے نکاح کے چکے ہیں اور یہ اسی کا بچہ ہے ہم دونوں بہت جلد آپ کو بتانے والے تھے لیکن بھائی کی دیتھ کے بعد بتا نہیں سکے زائشہ نے ایک ہی سانس میں جلدی سے کہہ دیا۔
صنان کو تو اپنے پیروں تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
خلیل صاحب نے پاس پڑی ٹیبل کا سہارا لیا اور وہی بیٹھ گئے۔
لیکن تم دونوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا یہ چھپ کر نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
خلیل صاحب نے گہرے سانس لیتے کہا۔
صنان جلدی سے خلیل صاحب کے پاس آیا تھا۔
جاؤ گاڑی نکالو ان کی طبعیت خراب ہو رہی ہے۔صنان نے کہا تو زائشہ وہاں سے باہر چلی گئی۔
صنان خلیل صاحب کو ہسپتال لے گیا تھا۔چہرہ اسکا سرخ ہو رہا تھا۔
صنان دیکھو مجھے نہیں معلوم کیسے ڈیڈ کو وہ رپورٹ مل گئی مجھے اُس وقت کچھ سمجھ نہیں آیا اس لیے میں نے تمھارا نام لے لیا۔
میں اپنے بھائی کو کھو چکی ہوں اپنے ڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتی زائشہ نے روتے ہوئے کہا اس سے پہلے صنان کچھ کہتا ڈاکٹر باہر آیا تھا۔
میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا۔کہ ان کو خوش رکھے آج انکی قسمت نے ساتھ دیا اور ہم نے سب سنبھال لیا لیکن ہر بار ایسا نہیں ہو گا۔ان کی جان بھی جا سکتی ہے وہ پہلے ہی ہارٹ پیشنٹ ہیں تو کوشش کریں انکو زیادہ سے زیادہ خوش رکھنے کی۔ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا۔
جی ڈاکٹر کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں؟ صنان نے پوچھا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تھوڑی دیر تک ان کو ہوش آجائے گا پھر آپ مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد خلیل صاحب کو ہوش آگیا تھا۔
صنان اور زائشہ اس وقت خلیل صاحب کے سامنے موجود تھے۔
بیٹا اگر تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے تو مجھے بتا دیتے میں خوشی خوشی تم دونوں کا نکاح کروا دیتا خلیل صاحب نے صنان کو دیکھتے کہا۔
ڈیڈ یہ میری غلطی ہے اور مجھے لگا شاید آپ منع کر دیں گئے ورنہ صنان تو آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔زائشہ نے جلدی سے کہا۔
بیٹا مجھے تم پر بہت بھروسہ ہے تم بھی میرے لیے حمزہ کی طرح ہو مجھے خوشی ہے کہ میری بیٹی تمھارے ساتھ خوش رہے گی اور میں جانتا ہوں کہ تم میری بیٹی کا اچھے سے خیال رکھو گئے۔لیکن میری ایک خواہش تھی۔کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح اپنی آنکھوں کے سامنے کرواؤں اب تم دونوں نکاح تو کر چکے ہو لیکن دوبارہ کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
خلیل صاحب نے صنان کو دیکھتے کہا۔جس نے بھسم کر دینے والی نظروں سے زائشہ کو دیکھا تھا لیکن وہ تو اندر سے خوش ہو رہی تھی وہ ایسا ہی تو چاہتی تھی۔
جواب دو بیٹا تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں؟ خلیل صاحب نے صنان کو دیکھتے پوچھا۔
ایک طرف خلیل صاحب تھے اگر وہ انکو سچ بتا دیتا تو وہ کبھی بھی برداشت نہیں کر پاتے کہ ان کی بیٹی بنا نکاح کے ماں بننے والی ہے اور وہ نہیں چاہتا تھی کہ اس کی وجہ سے خلیل صاحب کو کچھ ہو۔
جی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد صنان نے سرد لہجے میں کہا زائشہ جو صنان کے جواب کی منتظر تھی صنان کا جواب سن کر دل تو اس کا بہت خوش ہوا تھا۔
جیتے رہو بیٹا خلیل صاحب نے مسکرا کر کہا۔
صنان وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن خلیل صاحب گھر آگئے تھے اور آتے ہی انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دونوں کا نکاح کروایا تھا۔زائشہ تو بہت خوش تھی لیکن صنان کی حالت بری تھی اس نے ہیزام کو کال کرکے سب کچھ بتا دیا تھا جس نے اسے کہا تھا۔
کہ تجھے نکاح نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن وہ بھی سمجھ گیا تھا کہ کیا صورتحال بن گئی ہ گی۔لیکن صنان نے اسے کہا تھا کہ وہ بہت جلدی زائشہ کو طلاق دے دیں گا۔
کچھ دنوں بعد صنان نے پاکستان واپس جانا تھا نکاح کے بعد تو صنان نے زائشہ کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔
لیکن زائشہ کو اب فکر کھائی جا رہی تھی کہ اگر صنان پاکستان چلا گیا تو وہاں سے اسے طلاق نامہ بھیج دے گا۔
اور زائشہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔
صنان نے خلیل صاحب کو تو کہا تھا کہ وہ کچھ ماہ بعد زائشہ کو بھی اپنے پاس بلا لے گا لیکن یہ سب جھوٹ تھا۔وہاں جا کر صنان کا ارادہ زائشہ کو طلاق دینے کا تھا۔لیکن اسے بچے کی پیدائش تک صبر کرنا تھا اُس کے بعد اسے طلاق دینی تھی اس نے سوچا اُس وقت تک زائشہ بھی اپنے باپ کو سمجھا دے گی لیکن اُسے نہیں معلوم تھا کہ یہ سارا پلان اُسی کا تھا۔
صنان خلیل صاحب سے مل کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
صنان کے جانے کے بعد پیچھے زائشہ نے ایک پلان بنایا اب ایک ہی طریقہ تھا جس سے وہ صنان کی ہمدردی حاصل کر سکتی تھی ابھی صنان کو پاکستان گئے دو دن ہی گزرے تھے جب اسے زائشہ کی کال آئی جو روتے ہوئے بتا رہی تھی کہ خلیل صاحب سیڑھیوں سے گر گئے ہیں اور سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے اُن کا انتقال ہو گیا۔
صنان نے جب یہ خبر سنی تو اسے یقین نہیں آیا۔
صنان کافی پریشان تھا اسے کافی دکھ پہنچا تھا۔اُنکی خاطر تو اس نے نکاح کیا تھا۔
دوبارہ زائشہ کی کال آئی جو کہہ رہی تھی کہ وہ اکیلی یہاں کیسے رہے گی۔
میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں تمھارے باپ کی خاطر میں نے تم سے نکاح کیا تھا تو اب وہ نہیں رہے تو اس نکاح کا بھی کوئی مقصد نہیں ہے صنان نے سرد لہجے میں کہا۔
نہیں صنان تم پلیز مجھے پاکستان بلا لو میں اُس انسان کو ڈھونڈنا چاہتی ہوں جس کا یہ بچہ ہے وہ پاکستان سے تھا اُس کے بعد بے شک تم. مجھے طلاق دے دینا زائشہ نے جلدی سے کہا۔
صنان نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی تھی۔زائشہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
تمھاری خاطر ہی تو میں نے اپنے ڈیڈ کو سیڑھیوں سے دھکا دیا تاکہ تمھاری ہمدردی حاصل کر سکوں اور پاکستان آ سکوں۔تم اتنے وقت سے میرے گھر رہ رہے تھے میں نے تم پر دھیان کیوں نہیں دیا۔اور اب پتہ نہیں کیوں اچانک ہی تم دل میں آ بسے ہو۔
زائشہ نے مسکراتے ہوئے سوچا اس نے یہی پلان بنایا تھا کہ اپنے باپ کو سیڑھیوں سے گرا کر مار دے گی اور صنان کی ہمدردی حاصل کرکے پاکستان اس کے پاس چلی جائے گی۔
💜 💜 💜 💜 💜
صاقب صاحب نے اپنے بیٹے کو پریشان دیکھا تو اس کے پاس بیٹھتے وجہ پوچھی۔
کافی دیر سوچنے کے بعد صنان نے اپنے باپ کو سب سچ بتا دیا تھا۔جو سنجیدگی سے صنان کی بات سن رہے تھے۔
ڈیڈ مجھے نہیں پتہ آپ میری بات کا یقین کریں گئے یا نہیں لیکن میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور جب میں نے کچھ غلط نہیں کیا تو بات کو چھپانے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لیے میں نے آپ کو سب سچ بتا دیا۔
صنان نے اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
تم نے آگے کا کیا سوچا ہے؟ صاقب صاحب نے پوچھا۔
ڈیڈ وہ پاکستان آنا چاہتی ہے اور اُس انسان کو تلاش کرنا چاہتی ہے جسکا وہ بچہ ہے اور پھر میں اُسے طلاق دے دوں گا۔
صنان نے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوئے کہا۔
تم پریشان مت ہو تم نے ایک بوڑھے انسان کی مدد کی ہے اگر تم اُن کو سچ بتا دیتے تو وہ کبھی برداشت نہیں کر پاتے اور اب اُن کا انتقال ہو گیا ہے اللہ اُن کی مغفرت فرمائے لیکن وہ اتنی ہی زندگی لکھوا کر آئے تھے۔تمھارا باپ تمھارے ساتھ ہے پریشان مت ہونا صاقب صاحب نے مسکرا کر کہا۔
تھینک یو ڈیڈ صنان نے اپنے باپ کے گلے لگتے کہا۔تھوڑا بہت اسے حوصلہ ہوا تھا کہ اس کا باپ اس کے ساتھ ہے۔
کچھ دنوں بعد زائشہ پاکستان آگئی تھی پھر اس نے یہاں آکر بھی تماشہ لگایا تھا۔ اب آگے پتہ نہیں اس نے کیا کچھ کرنا تھا۔
💜💜💜💜💜
نوال بیٹا رونا تو بند کرو تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے سکینہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔لیکن نوال کے رونے میں کمی نہیں آئی تھی جب سے اسے ہوش آیا تھا بس روتی جا رہی تھی رباب نے بھی کوشش کی لیکن وہ چپ نہیں کر رہی تھی۔
آپ لوگ ابھی باہر جائیں انکو آرام کرنے دیں نرس نے کمرے میں داخل ہوتے کہا اور نوال کو نیند کا انجیکشن لگایا جو تھوڑی دیر بعد ہی نیند کی وادیوں میں چلی گئی تھی۔
ایک ہی دن میں میری بچی کی کیا حالت ہو گئی ہے۔سکینہ بیگم نے دکھی لہجے میں کہا۔
پھپھو سب ٹھیک ہو جائے گا آپ پریشان مت ہو۔
رباب نے سکینہ بیگم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
کیسے پریشان نا ہوں بیٹا تم نے نوال کی حالت دیکھی ہے نا میرا تو اُسے دیکھ کر دل کٹ سا گیا ہے پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے میری بیٹی کو سکینہ نے بےبسی سے کہا تو رباب بھی خاموش ہو گئی تھی۔سچ ہی تو وہ کہہ رہی تھیں سب کچھ ٹھیک تھا نوال بھی خوش تھی لیکن اچانک سب کچھ بدل گیا۔
موم مجھے لگتا ہے اب آپ کو گھر چلنا چاہیے تھوڑا آرام کر لیں ابتہاج جو ابھی وہاں آیا تھا اس نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
نہیں ابتہاج میں ٹھیک ہوں اور میں کہی نہیں جاؤں گی تم ایسا کروں رباب کو اپنے ساتھ لے جاؤ اُس کا ہاتھ ابھی ٹھیک نہیں ہوا سکینہ بیگم نے کہا۔
لیکن پھپھو میں ٹھیک ہوں رباب نے جلدی سے کہا۔
نہیں بیٹا تم گھر جاؤ عدن بھی چلی گئی ہے تھوڑی دیر بعد آجانا وہ بھی واپس جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔
سکینہ نے کہا تو مجبوراً رباب کو وہاں سے جانا پڑا۔
تم رباب کو لے جاؤ میں یہی پر ہوں اور تھوڑی دیر بعد میں خالہ کو بھی گھر لے آؤں گا حاکم نے ابتہاج کے پاس آتے کہا۔
شکریہ یار ابتہاج نے حاکم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
کس بات کا شکریہ؟ حاکم نے سنجیدگی سے پوچھا تو ابتہاج ہلکا سا مسکرا پڑا۔
بس ویسے ہی دل کیا تو کہہ دیا اچھا میں چلتا ہوں ابتہاج نے کہا اور وہاں سے رباب کو لے کر چلا گیا۔
💜 💜 💜
صاقب تمھارے بیٹے نے یہ کیا کیا ہے؟ مجھے صنان سے ایسی امید بلکل بھی نہیں تھی۔
دادا جان نے اپنے بیٹے کو دیکھتے کہا۔
ابو جان صنان نے ایسا کچھ نہیں کیا وہ جب واپس آیا تھا تو مجھے سارا سچ بتا چکا تھا۔
اس میں صنان کی کوئی غلطی نہیں ہے اُس نے ایک انسان کی مدد کی جو پہلے ہی اپنے بیٹے کے جانے کے دکھ میں مبتلا تھا۔
میں نہیں جانتا کہ کیوں زائشہ نے جھوٹ بولا لیکن جیسا نظر آرہا ہے ویسا بلکل بھی نہیں ہے۔صاقب صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
جہانگیر، عرفان اور راشد صاحب بھی یہی موجود تھے۔
کیا کہنا چاہ رہے ہو صاقب صاف لفظوں میں کہو تم پہلے سے جانتے تھے کہ صنان نکاح کر چکا ہے؟ دادا جان نے غصے سے پوچھا۔
0
ابو جان وہ مجھے بتا چکا تھا اور بہت جلد آپ کو بھی بتانے والا تھا اُس نے اگر غلط کیا ہوتا تو سب سے چھپاتا۔
صاقب نے کہا اور پوری کہانی سب کو بتانے لگا۔
تو وہ لڑکی پھر جھوٹ کیوں بول رہی ہے؟ مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا پورے خاندان کے سامنے ہمارا مزاح بن گیا ہے۔دادا جان کے اپنا سر پکڑتے کہا۔
ابو جان آپ پریشان مت ہوں اگر صنان نے کہا ہے کہ وہ سب سنبھال لے گا تو وہ سنبھال لے گا اور ویسے بھی آپ نے ہم سب کو یہی سکھایا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے صنان نے بھی مدد کی ہے۔
راشد صاحب نے دادا جان کو دیکھتے کہا جو خاموش رہے تھے انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
عرفان نے صاقب صاحب کی طرف دیکھا جس نے نظروں سے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ایم ریلی سوری رباب ابتہاج نے گاڑی ڈرائیور کرتے رباب کو کہا۔
رباب کو نہیں معلوم تھا کہ ابتہاج نے کس بات کے لیے سوری کہا ہے لیکن اسے زیادہ حیرت تو اس کے سوری بولنے پر ہوئی تھی۔
آپ مجھ سے کس بات کی معافی مانگ رہے ہیں؟ رباب نے حیرانگی سے ابتہاج لی طرف دیکھتے پوچھا۔
میں جانتا ہوں کل کا دن ہر لڑکی کے لیے بہت معنی رکھتا ہے اور یہ سب ہو گیا اُس کے لیے میں شرمندہ ہوں۔ نوال اور صنان دونوں کا مجھے نہیں معلوم آگے کیا ہونے والا ہے۔لیکن کل تمھارا دن بھی تھا جو ان سب میں گزر گیا۔ابتہاج نے گہرا سانس لیتے کہا۔
ابتہاج آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے نوال میری چھوٹی بہن ہے اور اگر اُسے تکلیف ہو گی تو درد مجھے بھی ہو گا۔
اور اگر میری بہن تکلیف میں ہو تو میں کیسے خوش ہو سکتی ہوں۔
مصیبت بتا کر نہیں آتی اگر ایسا ہوتا تو سب لوگ پہلے سے ہی تیار ہو جاتے اور اُس مصیبت کا آسانی سے سامنا کر لیتے رباب نے دھیمی لہجے میں کہا۔
تم بہت اچھی ہو رباب پتہ نہیں میں نے تمہیں جاننے میں اتنی دیر کیوں کر دی ابتہاج نے کہا تو رباب ہنس پڑی تھی۔
دیر آئے درست آئے رباب نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
ویسے مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔رباب نے جلدی سے کہا۔
ہاں پوچھو ابتہاج نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔
یہ ابتہاج کی محبت کا ہی اثر تھا کہ اب رباب بنا جھجھکتے بات کر لیتی تھی۔
آپ نے شروع میں کہا تھا کہ ایک لڑکی ہے جیسے آپ پسند کرتے ہیں کیا سچ میں وہ لڑکی آپ کو پسند ہے؟ ااور اگر آپ کو وہ لڑکی پسند ہے تو کیا آپ اُس سے بھی شادی کریں گئے؟ رباب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ابتہاج بہت غور سے رباب کی بات سن رہا تھا۔
اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی اور اپنا رخ رباب کی طرف کیا۔
مسز شاید آپ کو یاد نہیں ہے آپ نے ہی کہا تھا کہ تمہیں نا چھوڑوں اور بےشک اُس لڑکی سے بھی شادی کر لوں جیسے میں پسند کرتا ہوں اور تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
آپ سچ میں اُس سے شادی کر لیں گئے؟ رباب نے بھاری لہجے میں ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہو گئے تھے۔
ابتہاج ایک دم سیدھا ہوا تھا وہ تو رباب کے ساتھ مزاح کر رہا تھا۔اسے امید نہیں تھی کہ اب رباب اس سے اس قسم کا سوال پوچھے گی۔
یار مزاح کر رہا ہوں ابتہاج نے جلدی سے رباب کے آنسو اپنی انگلی کی پور سے صاف کرتے کہا۔
پھر مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا آپ اُسی لڑکی کے ساتھ رہنا رباب نے روتے ہوئے معصومیت سے کہا ابتہاج اب کھل کر ہنسا تھا۔
مائی کیوٹ ڈول میری طرف دیکھو ابتہاج نے ہاتھ کے پیالے میں رباب کا چہرہ بھرتے ہوئے کہا۔
میں تمھاری یہ ساری غلط فہمی اپنے ولیمے کی رات کو دور کرنا چاہتا تھا۔
میں بہت بےوقوف تھا جو تم جیسی پیاری لڑکی کو ٹھہرا رہا تھا۔میں جانتا ہوں میرے الفاظ نے بھی تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے اور میں تم سے معافی مانگتا ہوں اور سچ کہوں تو اگر تم میرے ساتھ لندن آجاتی تو میرا ارادہ کچھ اور تھا لیکن کہتے ہیں نا جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اور اچھا ہوا ہم لندن نہیں گئے۔اور جہاں تک بات ہے لڑکی کی تو وہ میں نے جھوٹ بولا تھا کہ یہ جاننے کے بعد تم یہ رشتہ ختم کر دو لیکن میں ہی پاگل تھا اور شکر ہے تم نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا میں بہت خوش قسمت ہوں رباب جو تم میری زندگی میں آئی میں نہیں جانتا کہ میں نے ایسا کون سا اچھا کام کیا ہے جس کے بدلے تم مجھے ملی۔
ابتہاج نے مسکرا کر کہا اور جھک کر رباب کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
ابتہاج کی باتیں سننے کے بعد رباب نے سکون سے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
اور ہاں تمھارا تحفہ ابتہاج نے یاد آنے پر اپنی جیب سے ایک ڈبی نکالی اور اس میں سے ایک ڈائمنڈ رنگ نکالی اور پیار سے رباب کا ہاتھ پکڑ کر اسے پہنانے لگا۔
رباب کے چہرے ہر مسکراہٹ آگئی تھی۔
کیسی ہے؟ ابتہاج نے رنگ کو دیکھتے پوچھا۔
بہت پیاری رباب نے جلدی سے مسکرا کر کہا۔
ایسے ہی مسکراتی رہا کروں اچھی لگتی ہوں۔ابتہاج نے کہا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
اور ہاں اگر تم نے مجھے کوئی سزا دینی ہو تو غلام ہر قسم کی سزا کے لیے تیار ہے کیونکہ ناچیز نے اپنی ملکہ کا دل دکھایا ہے تو سزا کا تو حقدار ہے نا ابتہاج نے رباب کی طرف دیکھتے مسکرا کر کہا۔
رباب ہنس پڑی تھی۔سزا تو آپ کو ضرور ملے گی لیکن بعد میں رباب نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
مجھے انتظار رہے گا مسز ابتہاج نے کہا اور گاڑی سٹارٹ کر دی باقی کا راستہ بھی ایسے ہی باتوں میں گزرا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
حاکم گھر آیا تو سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا رات کافی ہو چکی تھی۔
حاکم نے دروازہ کھولا تو گڑیا بیڈ پر سوئی ہوئی تھی اور دعا صوفے پر آڑی ترچھی لیتی تھی بلکہ سو چکی تھی۔
دعا کو بچوں کی طرح سوتے دیکھ حاکم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اس نے آگے بڑھ کر آرام سے دعا کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اسے بیڈ پر لیٹایا۔
یہ کام حاکم نے بہت آرام سے کیا تھا۔کہ کہی وہ جاگ نا جائے۔
حاکم نے آرام سے دعا کو لیٹایا اور اس کے پاس ہی بیٹھ گیا اور دعا کے چہرے کو دیکھنے لگا جو سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی۔کوئی تمہیں دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ تمھاری زبان کتنی لمبی ہے حاکم نے دل میں سوچا سوچا اور خود بھی ہنس پڑا۔حاکم نے اپنا ہاتھ دعا کے چہرے کے طرف بڑھایا اور اس کے چہرے پر جھولتی لٹوں کو پیچھے کیا۔
گڑیا نے آنکھیں کھول کر اپنے باپ کو دیکھا حاکم نے جلدی سے گڑیا کو اٹھایا اور وہاں سے باہر لے گیا کہی دعا کی نیند خراب ناہو جائے۔
رونا نہیں ہے ورنہ ماما جاگ جائیں گی آپ کو تو کچھ نہیں کہیں گی مجھے بتاتیں سنائیں گی اس لیے رونا نہیں ہے حاکم نے گڑیا کو دیکھتے کہا۔جو اسسے حاکم کو دیکھ رہی تھی جیسے اس کی باتیں سمجھ رہی ہو۔
بھوک لگی ہے؟ چلو میں تمھارے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں مطلب پینے کو حاکم نے کہا اور اسے کچن کی طرف لے گیا۔
💜💜💜💜