No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️
کیا چاہتے ہو تم؟ دادا جان نے صنان کو دیکھتے پوچھا۔
رخصتی اور وہ بھی کل صنان نے اپنا فیصلہ سنایا۔
کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟ دادا جان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نوال میری بیوی ہے اور ہمارے نکاح کو اتنے اسال ہو گئے ہیں تو اب بھی آپ رخصتی نہیں کرنا چاہتے؟ صنان نے الٹا سوال کرتے کہا۔
بیٹا جی عید کے دوسرے دن تمھارا اور نوال کا ولیمہ ہے کچھ دنوں کی بات ہے تھوڑا صبر کر لو اتنی جلدی رخصتی نہیں ہو سکتی تم بھی سمجھنے کی کوشش کرو اور اچانک تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم نے رخصتی کی رٹ لگا لی ہے؟
دادا جان نے نے نا سمجھی سے صنان کو دیکھتے پوچھا۔جس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
دادا جان آپ کی نواسی کا دماغ خراب ہو گیا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر الگ ہونے کی بات کرتی ہے۔
اور جتنا میرا صبر یہ لڑکی آزماتی ہے اتنا کسی نے نہیں آزمایا اور اب میری بس ہو چکی ہے۔
آپ ہماری رخصتی کر وا دیں کم از کم اُسکے چھوٹے سے دماغ سے یہ خیال تو نکل جائے کہ وہ مجھ سے الگ ہو سکتی ہے۔صنان نے غصے سے کہا۔جس پر دادا جان مسکرا پڑے تھے۔
تو یہ بات ہے۔برخوردار وہ لڑکی اتنے سال تمھارے نام پر بیٹھی رہی ہے۔تمہیں اُس کی آنکھوں میں نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے شوہر سے کتنی محبت کرتی ہے؟ عورت ذات کبھی بھی اپنی زبان سے اقرار نہیں کرتی کہ وہ آپ سے کتنی محبت کرتی ہے۔نوال کا بھی یہی حال ہے وہ اپنے معاملات میں بہت حساس ہے۔اور مجھے لگ رہا ہے تمہیں لے کر وہ کچھ زیادہ ہی حساس ہو جاتی ہے۔اور بیٹا جی ہر کوئی اپنے شوہر کے معاملے میں ہوتا ہے تمھاری دادی تو بہت زیادہ تھی ابھی بھی ہے۔ جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے تم دونوں میں جھگڑا اس لیے ہوا ہو گا کہ نوال نے دیکھا ہو گا کہ کوئی تیسرا تم دونوں کے درمیان آرہا ہے اس لیے وہ زیادہ جزباتی ہو گئی ہو گی۔دادا جان نے ہنستے ہوئے کہا۔
صنان دادا جان کی بات سن کر حیران ہوا تھا جنہوں نے بلکل ٹھیک اندازہ لگایا تھا۔
لیکن بیٹا جی میری ایک بات یاد رکھنا عورت اُس وقت تک مرد پر اپنی محبت نچھاور کرتی ہے جب وہ صرف اُس ایک کا بن کر رہتا ہے۔
اُس کے ساتھ وفادار رہتا ہے لیکن جس دن وہ عورت کو دھوکہ دیتا ہے وہ اندر سے ٹوٹ جاتی ہے بےشک وہ پھر اپنے شوہر کے ساتھ اپنے بچوں کی وجہ سے یا جو بھی وجوہات ہو اُس کی وجہ سے گزارا تو کر لیتی ہے لیکن پھر اپنے دل میں مرد کو وہ مقام نہیں دیتی جس پر وہ پہلے فائز تھا۔دادا جان نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
صنان بہت غور سے دادا جان کی بات سن رہا تھا۔
دادا جان آپ سے ایک بات پوچھوں؟ دادا نے دادا جان کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل بیٹا جی دادا جان نے اجازت دیتے کہا۔
اسلام میں تو مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تو پھر جب وہ دوسری شادی کرتا ہے تو اُس کی پہلی بیوی اس سے خوش کیوں نہیں ہوتی؟اور اگر ایک بیوی کی ساری ضروریات پوری کرے دوسری کی نا کرے کیونکہ وہ اُس کی پسند کی نہیں ہے تو اُسے کیا کرنا چاہے؟ صنان کے سوال پر کچھ پل دادا جان نے صنان کو دیکھا تھا۔
بیٹا جی دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے۔اور دوسری اور اہم بات چاہے شادی پسند کی ہو یا نا ہو نکاح تو ہوا ہے نا آپ کا تو جو لوگ دو یا تین شادیاں تو کر لیتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح اپنی بیویوں کو برابری دیں اور اسلام میں یہ بھی ہے اگر آپ نے اپنی ایک بیوی کو کوئی چھوٹی سی بھی چیز لے کر دی ہے تو دوسری کو بھی وہی چیز یا اتنی قیمت کی چیز لے کر دی جائے بیٹا جی یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بہت اہم ہوتی ہیں جسے آجکل کے لوگ سمجھتے نہیں ہے اگر مرد اپنی بیویوں میں ہر ایک کو برابری کے حقوق نہیں دیتا تو آخرت میں اُس کا جواب دہ ہو گا۔
دوسری شادی کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا اور جو تمھارا سوال ہے کہ پہلی بیوی اپنے شوہر کی دوسری شادی سے خوش کیوں نہیں ہوتی
تو تم مجھے بتاؤ جس چیز میں تمھاری جان بسی ہو جس پر صرف تم اپنا حق سمجھتے ہو اور پھر اُس میں کوئی دوسرا حقدار بھی آجائیں تو کیا تم برداشت کرو گئے؟
مرد تو کبھی برداشت نہیں کرتا اور یہ عورت کی ہمت ہوتی ہے کہ وہ اپنی سوتن کو برداشت کرتی ہے۔مرد کو چاہیے کہ اپنی دونوں بیویوں کو برابری کے حقوق دیں اور اگر وہ دونوں کو خوش رکھےاور کسی ایک کا موازنہ دوسری کے ساتھ نا کرے تو اس طرح دونوں خوش رہیں گئی۔لیکن کوئی بھی لڑکی سوتن برداشت نہیں کرتی اور نوال کا شمار بھی ان لڑکیوں میں ہوتا ہے جو اپنی پسندیدہ چیز تک کسی دوسرے کو دینا گوارہ نہیں کرتی تم تو پھر اُس کے شوہر ہو۔دادا نے سنجیدگی سے کہا۔
صنان نے گہرا سانس لیا تھا۔
جی دادا جی میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں۔
صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
اچھی بات ہے کہ تم سمجھ گئے ہو دادا جان نے کہا وہ کافی حد تک معاملے کو سمجھ گئے تھے اتنا تو ان کو یقین آگیا تھا کہ کوئی تیسرا انسان نوال اور صنان کے درمیان آیا ہے۔اور اُسی لحاظ سے دادا جان نے اسے سمجھایا تھا۔
بیٹا جی کوئی بھی ایسا کام مت کرنا جس سے نوال اور تمھارے دادا جان کو تکلیف پہنچے دادا جان نے صنان کے کندھے کو تھپتھپاتے کہا اور وہاں سے چلے گئے۔
صنان کہاں پھنس گئے ہو تم صنان نے پریشانی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜
حاکم تم نے دوسری شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ دادی جان نے پاس بیٹھے حاکم کو دیکھتے پوچھا۔
نانی جان مجھے شادی نہیں کرنی حاکم نے صاف لفظوں میں منع کرتے کہا۔
ٹھیک ہے تم شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن گڑیا کا سوچا ہے تم نے کہ اُسے ماں کی ضرورت ہے؟ تم کچھ دنوں تک یہاں سے چلے جاؤ گئے وہاں جا کر کام پر جاؤ گئے یا اپنی بیٹی کا خیال رکھو گئے؟
نانی جان میں مینج کر لوں گا لیکن مجھے شادی نہیں کرنی حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
بیٹا جی اگر تم کوئی نوکرانی رکھنے کا سوچ رہے ہو تو ایک بات میری یاد اپنی بیٹی کو کبھی اُس کے ساتھ چھوڑ کر مت جانا آجکل کا زمانہ تو ویسے ہی بہت خراب ہے آئے دن خبروں میں ایسا ہی کچھ نا کچھ چل رہا ہوتا ہے۔
اگر تم ایسا کرو گئے تو اس کے نتائج برے بھی ہو سکتے ہیں اپنے لیے نا سہی تو اپنی بیٹی کے لیے اس بارے میں ضرور سوچنا اُسے ماں کی ضرورت ہے دادی جان نے پیار سے کہا۔
آپ کو کیا لگتا ہے کوئی بھی لڑکی صرف اس لیے مجھ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی کہ وہ میری بیٹی کا خیال رکھے؟
حاکم نے الٹا سوال کیا۔
ہم ایسی لڑکی ڈھونڈ لیں گئے اور مجھے یقین ہے کوئی نا کوئی ایسی لڑکی ضرور مل جائے گی۔دادی جان نے مسکرا کر کہا۔
حاکم کچھ دیر خاموش رہا تھا۔اور گڑیا کے بارے میں سوچنے لگا اسے دادی کی بات ٹھیک لگی تھی گڑیا کو ماں کی ضرورت تھی۔جسے وہ خود بھی پورا نہیں کر سکتا تھا۔
ٹھیک ہے نانی جان میں تیار ہوں لیکن صرف اپنی بیٹی کے لیے اور ہاں جو بھی لڑکی ہو مجھ سے کسی قسم کی امید نا لگائے اور اس بارے میں آپ پہلے ہی بات کر لیجیے گا۔
حاکم نے کھڑے ہوتے کہا اور وہاں سے چلا گیا پیچھے دادی جان خوش ہو گئی تھیں وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ کس طرح حاکم سے بات منوانی ہے۔
💜💜💜💜
میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم میرے کمرے میں کافی لے کر آؤ گی تم نے ملازمہ کے ہاتھ کیوں بھیجی؟
رباب جو اپنے کمرے میں ابھی داخل ہی ہوئی تھی جب ابتہاج نے اسے دروازہ بند کرتے اس کے ساتھ پن کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔
رباب پہلے تو ابتہاج کے ایک دم قریب آنے پر بوکھلا گئی تھی۔
آپ رات کے اس پہر میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں؟ رباب نے مظبوط لہجے میں ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
رات کے اس پہر ایک شوہر اپنی بیوی کے کمرے میں کیوں آتا ہے مسز؟
ابتہاج نے تھوڑی سے پکڑ کر رباب کا چہرہ اوپر کرتے الٹا سوال کیا۔
کیوں آتا ہے؟ رباب نے ناسمجھی سے پوچھا جس پر ابتہاج ہنس پڑا تھا۔
ابھی بتاتا ہوں ابتہاج نے کہا اور بنا رباب کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر جھک کر اس کے ہونٹوں کو ہلکا سا چھوا
ابتہاج کی اس حرکت پر رباب کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں۔
ابتہاج نے رباب کے چہرے کے تاثرات دیکھے تو ہنس پڑا۔
کیا ہوا مسز یہ تو ابھی شروعات ہے اور ابھی سے تم شوکڈ ہو گئی؟ ابتہاج نے شرارتی لہجے میں رباب کو دیکھتے کہا۔جو ابھی بھی بنا پلکیں جھکائے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔
آپ بہت عجیب ہیں رباب نے ہوش میں آتے کہا۔
جانتا ہوں ابتہاج نے رباب کے ہونٹوں پر نظریں جمائے ذومعنی الفاظ میں کہا۔
آپ میری عادت خراب کر رہے ہیں ابتہاج آج اگر آپ مجھے آسمان پر پہنچا رہے ہیں تو کل اپنی باتوں سے دوبارہ مجھے زمین پر لا کر پٹخ دیں گئے اور وہ مرحلہ میرے لیے بہت تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔مجھے آپ کی باتیں بہت تکلیف دیتی ہیں آگر آپ کسی اور لڑکی کو پسند کرتے ہیں تو میرے قریب کیوں آتے ہیں؟ رباب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
جو سنجیدگی سے رباب کو دیکھ رہا تھا۔
حق رکھتا ہوں میں تم پر اور تمھارے قریب بھی آسکتا ہوں۔ابتہاج نے رباب کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا۔
اگر حق کی بات ہے تو ایک بار میں ہی اپنا حق وصول کر لیں اور پھر میرا پیچھا چھوڑ دیں رباب نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن ابتہاج کو اس کی بات کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی۔
میری بات کان کھول کر سن لو مسز
ابتہاج نے رباب کے بازو کو پیچھے اس کی کمر کے ساتھ پن کرتے غصے سے کہا۔
آئندہ اس قسم کی بےہودہ بات کرنے سے پہلے سو بار سوچنا تم نے مجھے اتنا گرا ہوا انسان سمجھا ہوا ہے جو میں اپنا حق وصول کرنے کے لیے ایسی اوچھی حرکتیں کروں گا؟ ابتہاج نے غصے سے کہا۔
تکلیف سے رباب کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
مجھے درد ہو رہی ہے۔
چھوڑیں میرا ہاتھ رباب نے ابتہاج کی گرفت میں مچلتے ہوئے کہا۔
ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں پانی دیکھا تو اس کے بازو کو چھوڑ کر اسے دروازے سے پیچھے کیے باہر نکل گیا اس وقت اسے رباب پر بہت غصہ آرہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہاں رکا تو مزید رباب کو تکلیف دے گا۔
رباب نے بے بسی سے دروازے کو دیکھا تھا۔اب تو آنسو مزید آنکھوں سے نکلنے لگے تھے۔
💜 💜 💜 💜
مجھے تم سے بات کرنی ہے نوال
اگلے دن صنان نے نوال کو کمرے سے باہر نکلتے دیکھا تو سنجیدگی سے کہا۔
لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی نوال نے صنان کی بات کو اگنور کرتے کہا۔
نوال میری بات سنو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں صنان نے اس بار تھوڑا غصے سے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔
صنان میں نے کہا نا میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتی بلکہ میں تمھاری شکل میں بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔
نوال نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے چیخ کر کہا۔اس کا ہاتھ لگنے کی وجہ سے گلاس جو ٹیبل پر پڑا تھا زمین پر جا گرا اور چکنا چور ہو گیا۔
صنان نے غصے سے نوال کا ہاتھ چھوڑا تھا جو سیدھی بیڈ پر جا گری تھی۔
تم خود کو سمجھتے کیا ہو میں تمھاری جان لے لوں گی نوال نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
لیکن صنان نے اسے اٹھے کا موقع نہیں دیا۔اور اس کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھ کر گھیرا بنایا۔ نوال کے دونوں. بازو صنان کے ہاتھ میں تھے۔
تمہیں ہو کیا گیا ہے ایک دن میں تم اتنا کیسے بدل سکتی ہو؟ صنان نے سنجیدگی سے نوال کو دیکھتے پوچھا۔
جیسے تم بدل گئے ہو جانتے ہو کل تم نے مجھے کیا کچھ کہا۔اُس لڑکی کی وجہ سے تم نے مجھے ہرٹ کیا۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی چھوڑو مجھے نوال نے غصے سے اپنے بازو صنان کی گرفت سے الگ کرواتے کہا۔
تم بہت ضدی اور عقل سے پیدل لڑکی ہو۔صنان نے نوال سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
تو کس نے کہا مجھ سے بات کرنے کو جاؤ اُسی لڑکی سے بات کرو ہو سکتا ہے اُس میں مجھ سے زیادہ عقل ہو نوال نے چیختے ہوئے کہا۔
اللہ کا واسطہ ہے تمہیں بس کر دو کیوں رائی کا پہاڑ بنا رہی ہو؟
اور ایک بات میری یاد رکھنا اگر تم نے زیادہ نخرے کیے تو میں تمہیں چھوڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا تمہارے جیسی لڑکیاں مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہیں جتنا میں تمھارے ساتھ پیار سے بات کرنے کی کوشش کر رہا اتنا ہی تم مجھے گرا ہوا انسان سمجھ رہی ہو جو چوبیس گھنٹے تمھارے پیچھے چلتا رہو صنان نے اس بار چلا کر کہا۔
اس کا صبر جواب دے گیا تھا۔اور اکثر یہ غصے میں ایسا ہی کچھ فضول بول جاتا جس کا بعد میں اسے پچھتاوا ہوتا تھا۔اور اب بھی یہی ہوا تھا۔
نوال نے آنکھوں میں پانی لیے صنان کو دیکھا اور خاموش کے ساتھ بنا کچھ کہے وہاں سے جانے لگی۔
اسے جاتا دیکھ صنان بھی ہوش میں آیا تھا۔
نوال میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
صنان نے نوال کا ہاتھ پکڑتے کہا جس نے زور سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا لیکن نوال اپنا متوازن برقرار نہیں رکھ پائی اور زمین پر اوندھے منہ جا گری گری تھی وہاں پر گرا کانچ کا ٹکرا اس کے ہاتھ پر لگ گیا تھا۔
صنان جلدی سے آگے بڑھا اور اسے اٹھانے لگا لیکن نوال نے اسے منع کر دیا تھا اور خود ہی کھڑی ہو گئی۔
ہاتھ سے اس کے خون نکل رہا تھا۔آنسو پورے چہرے پر پھیل گئے تھے۔
صنان نے خون دیکھا تو دوبارہ نوال کی طرف بڑھنے لگا۔ میں کے کہا نا مجھے ہاتھ مت لگانا نوال نے بھاری لہجے میں صنان کو دیکھتے کہا۔
نوال تمھارے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے صنان نے پریشانی سے کہا۔
اتنے سے خون نکلنے کی وجہ سے میں مر نہیں جاؤں گی اور تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔نوال نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلی گئی زمین پر اس کے خون کے قطرے گرے ہوئے تھے۔
یا اللہ یہ میں نے کیا کر دیا۔صنان نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے پریشانی سے کہا۔
💜 💜💜 💜 💜
دادی جان نے اُسی وقت رشتے والی سے حاکم کے رشتے کی بات کی تھی۔
غزالہ تو حیران تھی کہ حاکم مان کیسے گیا اس نے تو بہت بار حاکم کو کہا تھا لیکن وہ ہمیشہ منع کر دیتا تھا۔اور آج لڑکی والے ان کے گھر آرہے تھے۔دادی جان کے کہنے پر پہلے لڑکی والے دیکھنے آرہے تھے۔
دعا کافی پریشان تھی لیکن عمیر آرام سے بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
تم نے کچھ کرنے کا سوچا بھی ہے یا یہاں بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے رہو گئے؟
مجھے لگتا ہے گھر والے حاکم کا نکاح کروا کر ہی دم لیں گئے۔دعا نے عمیر کے ہاتھ سے ریموٹ لیتے کہا۔
لڑکی تھوڑا صبر کر لو بس لڑکی والوں کو آنے دو پھر دیکھنا میرا کمال عمیر نے چہرے ہر شیطانی مسکراہٹ لاتے کہا۔
کیا کرنے والے ہو؟ دعا نے دلچسپی سے پوچھا۔
وہ تمہیں خود تھوڑی دیر تک پتہ چل جائے گا۔اور ابھی مجھے ٹی وی دیکھنے دو عمیر نے کہتے ہی دوبارہ ٹی وی اون کر لیا۔
دعا وہاں سے کچن کی طرف چلی گئی۔
گڑیا کا زیادہ خیال یہ خود ہی رکھ رہی تھی اور گڑیا اس کے پاس خوش بھی رہتی تھی۔
دعا نے گڑیا کے لیے فیڈر تیار کیا اور کمرے کی طرف چلی گئی۔
وہاں پر پہلے سے حاکم موجود تھا۔دعا کو دیکھتے ہی اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔
لیکن حاکم کو دیکھ کر دعا کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھیلے تھے۔حاکم وہاں سے اٹھ گیا اور وہاں سے باہر جانے لگا لیکن پھر اس نے مڑ کر دعا کی طرف دیکھا۔
گڑیا کو زیادہ اپنی عادت مت ڈالوں ورنہ بعد میں وہ مجھے تنگ کرے گی حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
عادت ڈالی نہیں جاتی خودبخود پڑ جاتی ہے اور گڑیا کو بھی میری عادت پڑ چکی ہے میں اب کچھ نہیں کر سکتی دعا نے عام سے لہجے میں کہا۔
اندر سے دل تو اس کا بہت خوش ہو رہا تھا کہ حاکم نے اس سے خود بات کی ہے۔
حاکم نے غور سے سامنے بیڈ پر بیٹھی چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا۔
دعا نے بھی نظریں اٹھا کر دیکھا ایک ہل کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھیں۔حاکم نے جلدی سے اپنی نظروں کا تعاقب تبدل کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا پیچھے دعا ہنس پڑی تھ
