No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
حاکم جیسے ہی کمرے سے باہر گیا تھا۔دعا خاموش سی ہو گئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شادی تو حاکم نے کرنی ہی تھی اگر اس کے ساتھ نکاح ہو گیا تو وہ اتنا غصہ کیوں ہو رہا ہے۔
یہی بات اسے سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
کیا ہوا دعا؟ عدن نے رباب کے پاس بیٹھتے پوچھا۔
ہاں کچھ بھی نہیں دعا نے ہوش میں آتے جلدی سے کہا۔
اچھا تم جلدی سے چینج کر لو پھر تم لوگوں نے نکلنا بھی ہے میں نے گڑیا کو تیار کر دیا ہے وہ اپنی پاپا کے پاس ہے۔عدن نے دعا کو دیکھتے کہا۔
میں نے کہاں جانا ہے؟ دعا نے ناسمجھی سے عدن کو دیکھتے پوچھا۔
عدن نے گھور کر دعا کو دیکھا تھا۔
باجی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آپ کا نکاح ہوا ہے حاکم بھائی کے ساتھ اور اب آپ نے اُن کے ساتھ جانا ہے۔عدن مے میٹھے سے لہجے میں طنز کرتے کہا۔
اوہ ہاں میرا تو نکاح ہوا ہے دعا نے جلدی سے کہا۔
ابھی نکاح ہوا ہے اور میڈم کا دماغ بھی گھوم گیا۔
میری بہن تم نے اپنا دماغ سیٹ رکھنا ہے بلکہ حاکم بھائی کے دماغ کی چٹنی بنانی یے اپنی نہیں جاؤ چینج کرکے آؤ باہر سب تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔عدن نے سرخ رنگ کا جوڑا بیڈ پر رکھتے کہا۔اور خود باہر چلی گئی۔
لو دعا آج سے تیرا اللہ مالک ہے پتہ نہیں حاکم کس بات کا غصہ تجھ پر نکال رہے ہیں دعا نے وہاں سے اٹھتے ہوئے جوڑے کو پکڑتے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور چینج کرنے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
دعا باہر آئی تو حاکم گڑیا کو اٹھائے کھڑا تھا۔
جو شاید اسی کر انتظار کر رہا تھا۔
دعا ابتہاج کے پاس آئی جس نے اسکے سر پر پیار دیا تھا۔
اپنا بہت سا خیال رکھنا ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دعا سب سے ملنے کے بعد آخر میں عمیر کے پاس آئی جو کے مسکرا کر دیکھا تھا۔
میں اپنی دوست کو ہنستا مسکراتا بھیج رہا ہوں جب تم یہاں واپس آؤ تو یہی خوشی تمھارے چہرے پر ہو ٹھیک ہے؟ عمیر نے مسکرا کر کہا۔
میں پوری کوشش کروں گی تمھاری ہنستی مسکراتی دوست کو واپس لانے کی دعا نے ایک نظر حاکم کو دیکھتے کہا۔
چلو بچو فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے دادا جان نے کہا حاکم تو بائے روڈ جانا چاہتا تھا لیکن ابتہاج ٹکٹ لے آیا جس کی وجہ سے حاکم کو بھی ابتہاج کی بات ماننی پڑی۔
آخر سالے کی بھی تو بات ماننی تھی۔
دعا نے گہرا سانس لیا اور سب کی دعاؤں میں تینوں گھر سے نکلے تھے۔
گڑیا تو پورے راستے سوتی رہی تھی۔حاکم نے دعا سے بات نہیں کی تھی۔
گھر پہنچتے ان کو صبح ہو گئی تھی۔
حاکم کو اس کی کمپنی کی طرف سے فلیٹ ملا تھا۔
دعا تو آتے ہی گڑیا کو لے کر کمرے میں جا کر سو گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
تم مجھے گھور کیوں رہی ہو؟ صنان نے سنجیدگی سے نوال کو دیکھتے پوچھا جو کب سے بیٹھی صنان کو دیکھ رہی تھی۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے نوال نے سیدھی ہوتے صنان کو کہا۔
ہاں کرو صنان نے بغور نوال کا چہرہ دیکھتے کہا۔
دیکھو ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا نہیں چاہیے اس لیے تم مجھے جلدی سے سوری بولو اور بات کو ختم کرو نوال نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔
صنان تو اپنی بیوی کی سوچ پر عش عش کر اٹھا تھا۔
جھگڑا کس نے کیا زرا آپ مجھے بتانا پسند کریں گئی؟ صنان نے سینے پر ہاتھ باندھتے دانت پیستے پوچھا.
افکورس تم نے اب تمہیں زیادہ شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اور جلدی سے مجھے سوری بولو نوال نے کندھے اچکاتے کہا۔
یا اللہ کیا لڑکی ہے یہ؟ صنان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
نوال میڈم یہ خادم آپ سے معافی مانگتا ہے برائے مہربانی اسے معاف کر دیں اس سے ایک بہت بڑی غلطی سر زرد ہو گئی ہے تو وہ آپ سے تہہ دل سے معافی کا طلبگار ہے۔صنان نے نوال کو دیکھتے نظریں جھکا کر مودبانہ انداز کہا۔
نوال صنان کو دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
ٹھیک ہے میں تمہیں معاف کرتی ہوں کیا یاد کرو گئے کہ کس سخی سے پالا پڑا تھا تمھارا نوال نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔
صنان نے نوال کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
تم سے محبت کرتا ہوں اس لیے تمھاری کوئی بھی بات میں آنکھیں بند کر کے ماننے کو تیار ہوں بس کوشش کیا کرو کہ اپنی قینچی کی طرح چلتی زبان کو تھوڑا قابو میں رکھو
صنان نے نوال کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے مسکراہٹ دباتے کہا۔
تم ایک نمبر بتميز انسان ہو صنان نوال نے دانت پیستے کہا۔
ہاں جانتا ہوں اور موم کہہ رہی تھی تمہیں ولیمے کا جوڑا دلا دوں تو آج تیار رہنا صنان نے نوال کے ناک کو کھنچتے ہوئے کہا۔
میں تو کہی نہیں جا رہی بلکہ دادی جان کو جا کر کہتی ہوں کہ میں تمھارے ساتھ شاپنگ پر جانا چاہتی لیکن تم منع کر رہے ہو جب دادی جان کی ڈانٹ پڑیں گی نا پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ میری زبان کتنی تیز ہے۔نوال نے غصے سے صنان کو دیکھتے کہا۔جو قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
میں نے تیز تو کہا ہی نہیں صنان نے ہنستے ہوئے کہا۔
اوہ ہاں قینچی کی طرح چلتی ہے یہ تو کہا ہے نا نوال نے جلدی سے کہا۔
اچھی طرح سوچ لو کہ میں نے کیا کہا ہے اور تھوڑی دیر تک نکلتے ہیں تیار رہنا ڈرامہ کوئین صنان نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے نوال صنان کی پشت لو گھور کر دیکھ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
تم سارا دن کچن میں کیا کرتی رہتی ہو؟ ابتہاج جو ابھی آفس سے سیدھا یہاں آیا تھا رباب کو کچن میں دیکھتے کہا۔
آپ کو آفس میں کیا کام نہیں ہوتا جو اتنی جلدی گھر واپس آجاتے ہیں آپ؟ رباب نے مڑ کر ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
اپنے کام کا یہی تو فائدہ ہوتا جب مرضی آجاؤ
ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
رباب شکر ہے تم مجھے یہی مل گئی غزالہ نے کچن میں داخل ہوتے کہا۔
جی پھپھو آپ کو کچھ کام تھا ؟رباب نے پوچھا۔
ہاں وہ میں کہہ رہی تھی آج ڈنر میں تم بریانی بنا لو ساتھ قورمہ، کباب،شامی اور میٹھے میں بھی کچھ اچھا ہی بنا لینا ماہا کا دل کر رہا ہے یہ سب چیزیں کھانے کو غزالہ نے رباب کو دیکھتے کہا۔
ابتہاج سنجیدگی سے کھڑا سن رہا تھا۔
اتنی ساری چیزیں میرے خیال سے جب گھر میں کوئی فنکشن ہوتا تو پھر بنتی ہیں اور میری مسز کا بھی روزہ ہے تو آپ ملازمہ سے کہہ دیں وہ یہ سب چیزیں بنا دے گی۔
رباب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ابتہاج بول پڑا تھا۔
ارے کھانا تو یہی بناتی ہے نا اور اگر میں نے اسے کچھ بنانے کے لیے کہہ دیا تو کون سی قیامت آگئی ہے۔کیا زمانہ آگیا ہے چھوٹا اُٹھ کر مجھے باتیں سنا رہا ہے آخر دے ہی دیا نا تم نے مجھے یہاں آنے کا طعنہ اور میں تمھارے گھر نہیں آئے اپنے ماں باپ کے گھر آئی ہوں غزالہ نے ابتہاج کو دیکھتے ہوئے کہا اور بولتی ہوئی باہر چلی گئی یقیناً وہ کوئی نا کوئی ڈرامہ کرنے والی تھی۔
پھپھو میری بات سنے میں بنا دیتی ہوں رباب نے غزالہ کو بولتے ہوئے دیکھا تو پریشانی سے غزالہ کے پیچھے جانے لگی لیکن ابتہاج نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
آج سے تم مجھے کچن میں نظر نہیں آؤ گی سمجھ آئی ابتہاج نے سنجیدگی سے کہا۔
ابتہاج آپ کو کیا ضرورت تھی پھپھو کو کچھ بھی کہنے کی میں بنا دیتی رباب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
ان کی عادت ہے چھوٹی سی بات کو لے کر جھگڑا کرنا اور اب باہر بھی یہی کر رہی ہوں گی ابھی کچھ نہیں کہا تو اتنا بول رہی ہیں اگر میں کچھ کہہ دیتا تو پتہ نہیں کیا کرتی اُن کی تو عادت ہی ایسی ہے ابتہاج نے عام سے لہجے میں کہا۔
ابتہاج باہر اُنہوں نے سب کو اکٹھا کیا ہو گا۔رباب نے پریشانی سے کہا۔
تم کیوں ڈر رہی ہو میں ہوں نا سب سنبھال لو گا۔ابتہاج نے مسکرا کر کہا اور کچن سے باہر چلا گیا رباب بھی باہر چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
دعا گڑیا کی آواز پر اٹھی تھی۔جو رونے میں مصروف تھی۔اس نے کمرے میں نظریں پھیری وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔
دعا نے گڑیا کو پکڑا اور کمرے سے باہر لے آئی کچن میں داخل ہوئی تو وہاں پر بھی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔
اس نے گڑیا کے لیے دودھ گرم کرنا تھا۔لیکن دودھ بھی نہیں تھا اور حاکم بھی ناجانے کہاں پر تھا۔
گڑیا کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا۔اسے بھوک لگی تھی۔دعا نے حاکم کو کال کی جس کا نمبر بند جا رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد حاکم گھر میں داخل ہوا اور گڑیا کو روتا دیکھ جلدی سے اُس کے پاس آیا۔
چھوڑو اسے اگر تم اسے سنبھال نہیں سکتی تھی تو مجھ سے نکاح کیوں کیا۔
حاکم نے غصے سے گڑیا کو دعا کی گود سے لیتے ہوئے کہا اور اُسے خاموش کروانے لگا جو چپ بھی کر گئی تھی دعا نے حیرانگی سے حاکم کو دیکھا۔
مجھے باتیں سنانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی غلطی تسلیم کریں گھر میں کوئی بھی چیز نہیں ہے گڑیا کو بھوک لگی ہے اس لیے وہ رو روہی تھی اور آپ جناب کا فون بھی بند جا رہا تھا۔
اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سرانجام دیں پھر مجھے باتیں سنائیے گا۔دعا نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔وہ بھی دعا تھی کب تک اپنی بےعزتی برداشت کرتی.
حاکم نے ماتھے پر بل ڈالے دعا کو جاتے ہوئے دیکھا تھا۔گڑیا شاید پھر سے سو گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
غزالہ کیا ہو گیا ہے کیوں تم نے پورے گھر میں شور مچایا ہوا ہے؟ نمرہ بیگم نے غزالہ کو دیکھتے پوچھا جو کھڑی وہاں بول رہی تھی۔
بھابھی اگر آپ لوگوں کو میں اور میرے بچے اچھے نہیں لگتے تو صاف صاف لفظوں میں بتا دیں میں اپنے بچوں کو یہاں سے لے کر چلی جاؤں گی لیکن چھوٹوں سے ذلیل ہونے کا مجھے بلکل بھی شوق نہیں ہے۔غزالہ نے نمرہ کو دیکھتے کہا۔
دادی جان بھی آواز ان کر کمرے سے باہر آگئی تھیں۔
صنان جو نوال کو کمرے میں شاپنگ کے لیے بلانے جا رہا تھا وہی رک گیا نوال بھی وہی آگئی تھی۔
ہوا کیا ہے؟ راحیلہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا بھابھی آپ کے داماد کو میں اور میرے بچے بلکل بھی پسند نہیں ہیں اس لیے تو چھوٹا ہو کر مجھے بتاتیں سنا رہا ہے۔غزالہ نے کہا۔
ابتہاج آرام سے کھڑا غزالہ کی باتیں سن رہا تھا۔
راحیلہ بیگم کے ساتھ باقی سب نے بھی ابتہاج کی طرف دیکھا تھا۔
خیر پھپھو جان میں جھوٹ نہیں بولتا اور رمضان میں تو بلکل بھی نہیں میں بس اتنا کہوں گا میں نے آپ کو کچھ نہیں کہا اور ایک بات یہ بھی اچھے سے سمجھ لیں میری بیوی کچن میں اب سے قدم بھی نہیں رکھے گی کیونکہ مجھے پسند ہیں کہ روزے میں وہ سارا دن چولہے کے آگے کھڑی رہے اور ویسے بھی کچھ دنوں تک اُس کا ولیمہ ہے تو لڑکیاں تو ویسے ہی سب کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور جو لسٹ خالہ جان نے رباب کو بنانے کی.دی تھی مجھے تو لگا کہ کسی کا نکاح ہے جو اتنی چیزیں بن رہی ہے اور بعد میں پتہ چلا ان کی بیٹی کا دل کر رہا ہے اور میں نے یہی کہا کہ ملازمہ سے بنوا لو بس اس کے علاوہ میں نے کچھ نہیں کہا۔ابتہاج مے سنجیدگی سے کہا۔
بھابھی آپ کو بھی معلوم ہے کہ کھانا ملازمہ نہیں بناتی تو اس نے میرے منہ پر صاف صاف منع کر دیا یہ عزت ہے میری غزالہ نے نا آنے والے آنسو کو صاف کرتے کہا۔
بس کر دو تم لوگ دادی جان نے سنجیدگی سے کہا۔
اور اس گھر میں جو بھی رہتا ہے یہ گھر بھی اُس کا اپنا ہے تو کچن بھی اپنا ہی ہوا تو جو کھانا ہو خود بنا لو کیسی پر حکم چلانے کی ضرورت نہیں ہے جو کھانا بنتا ہے اس کے علاوہ اگر کسی کا دل کر رہا ہے کچھ اور کھانے کا تو وہ خود کچن میں جا کر بنائے کسی نے روکا نہیں ہے سب لوگوں اس گھر کو اپنا سمجھے اور اپنے گھروں میں اپنے کام خود کیے جاتے ہیں۔
اور رباب، نوال تم دونوں اپنے ولیمے کی تیاری کرو کچن کا کام تم لوگوں کی مائیں دیکھ لیں گی اب مزید بحث نا ہو۔دادی جان نے کرخت لہجے میں کہا اور دوبارہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
غزالہ ابھی بھی وہی کھڑی دانت پیس رہی تھی۔دادی جان اپنی بیٹی کی عادت سے اچھی طرح واقف تھیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کرنا اس کی عادت تھی۔
ابتہاج نے مسکرا کر رباب کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔غزالہ غصے میں وہاں سے پیر پٹخ کر چلی گئی تھی۔
بیٹا تم پریشان مت ہو یہ سب کچھ تو اب چلتا رہے گا نمرہ بیگم نے پیار سے رباب کو دیکھتے کہا۔اور جاؤ اپنے کمرے میں آرام کروں
نمرہ بیگم کے کہنے پر رباب نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔
موم میں آپ کی بہو کو شاپنگ کروانے لے جا رہا ہوں ہمیں دیر بھی ہو سکتی ہے صنان نے نوال کو بازو سے پکڑتے کہا اور اسے باہر دروازے کی طرف لے گیا۔
حیرت ہے کل اس کا موڈ ٹھیک نہیں تھا اور آج دونوں شاپنگ پر جا رہے ہیں نمرہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
بھابھی نوال ابھی بچی ہے اور صنان بھی اس کے ساتھ بچہ ہی بن جاتا ہے۔لیکن مجھے غزالہ پر حیرت ہو رہی ہے مجھے پورا یقین ہے کہ ابتہاج جھوٹ نہیں بولتا اور نا ہی وہ بدتمیزی کر سکتا ہے۔لیکن پتہ نہیں کیوں غزالہ جھوٹ بول رہی ہے راشدہ نے پریشانی سے کہا۔
یہ تو ابھی شروعات ہے آگے دیکھو وہ کیا کچھ کرتی نمرہ نے سنجیدگی سے کہا۔
اللہ کرے کہ اس کی وجہ سے ہماری فیملی کو کوئی نقصان نا پہنچے راحیلہ بیگم نے کہا۔نمرہ نے دل میں آمین کہا تھا آج جو کچھ انہوں نے دیکھا تھا ان کو آگے کے آثار کچھ اچھے نظر نہیں آرہے تھے۔
💜 💜 💜
تمہیں میں نے کہا تھا نا کہ میں تمھارے ساتھ کہی نہیں جا رہی نوال نے دانت پیستے صنان کو دیکھتے کہا جو آرام سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
میں تم سے بات کر رہی ہوں نوال نے غصے سے کہا۔
صنان نے گاڑی روک کر نوال کی طرف دیکھا۔
مال آگیا ہے۔صنان نے کہا اور گاڑی سے باہر نکلا
سچ میں بہت بدتمیز ہے یہ انسان نوال نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور گاڑی سے باہر آئی۔
میں اپنی پسند کا سوٹ لوں گی نوال نے صنان کو دیکھتے کہا۔
لیکن اس کی نظر پیچھے کھڑی دو لڑکیوں پر پڑی تھی۔
جو صنان کو دیکھ کر مسکرا کر رہی تھی۔نوال نے گھور کر ان لڑکیوں کو دیکھا اور اپنے قدم ان کی طرف بڑھا دیے صنان نے حیرانگی سے نوال کو دیکھا تھا۔
اگر آپ لوگوں کو میرا کھڑوس شوہر اتنا ہی پسند ہے تو ایسا کرو تم دونوں رکھ لو آدھا آدھا کر لینا نوال نے کمر پر ہاتھ رکھتے دونوں کو دیکھتے کہا۔صنان فوراً نوال کے پاس آیا تھا۔
ہم تمھارے ہینڈسم شوہر کو خوشی خوشی رکھنے ہے لیے تیار ہے ان میں سے ایک لڑکی نے بےباکی سے کہا۔
صنان جو وہاں آیا تھا لڑکی کی بات سن کر حیران ضرور ہوا تھا۔
سوری بہنوں میری بیوی کچھ زیادہ ہی جذباتی ہے صنان نے جلدی سے کہا۔اور نوال کا ہاتھ پکڑ کر اسے مال میں لے گیا۔
پیچھے لڑکیوں کا منہ بن گیا تھا۔جو ان دونوں کو بھائی بول کر چلا گیا تھا۔
کیا ضرورت ہے ہر ایک سے الجھنے کی صنان نے نوال کو دیکھتے پوچھا۔
میری مرضی نوال نے کندھے اچکاتے کہا۔
دونوں بس بحث ہی کرتے جا رہے تھے۔لیکن کسی کی آنکھوں میں یہ منظر مرچیں گھول گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
دعا کو بھوک نے ستایا تو باہر آئی حاکم سارا سامان لا چکا تھا۔دعا نے اپنے لیے کچھ ہلکا پھلکا بنایا اتنے میں حاکم وہاں آیا۔
آپ کے لیے کچھ بنا دو؟ دعا نے حاکم کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں میرے ہاتھ ہیں اور مجھے تمھاری مدد کی ضرورت بھی نہیں ہے حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے بھی شوق نہیں ہے بنا لے اپنے لیے دعا نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگی۔
تمھاری زبان کچھ زیادہ ہی لمبی نہیں ہے میرے سامنے سوچ سمجھ کر بولا کرو حاکم نے دعا کا بازو پکڑتے کہا۔
اور آپ بھی کیونکہ میں بھی آپ کی بیوی ہوں تو آپ بھی سوچ سمجھ کر بولا کریں دعا نے بھی حاکم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
بیوی نہیں زبردستی کی بیوی سمجھی حاکم نے گھورتے ہوئے کہا تو دعا کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات ابھرے تھے۔
آپ نے نکاح تو کرنا ہی تھا اگر میرے ساتھ آپ کا نکاح ہو گیا تو اس میں مسئلہ کیا ہے اور آپ کو کس نے نکاح کے لیے فورس کیا؟ آپ نے اپنی مرضی سے نکاح کے لیے ہامی بھری تھی۔
دعا نے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے کہا لیکن حاکم کی گرفت مضبوط تھی۔
میں نے نکاح کے لیے ہانی اس کے بھری تھی کیونکہ مجھے پورا یقین تھا کوئی بھی لڑکی صرف میری بیٹی کو سنبھالنے کے لیے مجھ سے نکاح نہیں کرے گی میں کوئی بھروسے مند ملازمہ گڑیا کی دیکھ بھال کے لیے رکھ لیتا لیکن درمیان میں تم آگئی تم نے نانو سے کہانا کہ تم مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہو تمھارے سر پر بھوت سوار تھا۔اور جب سامنے نانو کی نواسی تھیں تو میں نا چاہتے ہوئے بھی اُن کو انکار نہیں کرسکتا تھا۔کیونکہ اُنبکےو اپنی نواسی میں کوئی برائی کبھی نظر نا آتی۔
میرا نکاح کرنے کا بلکل بھی ارادہ نہیں تھا صرف تمھاری وجہ سے مجھے نکاح کرنا پڑا
حاکم نے دعا کے بازو کو چھوڑتے ہوئے غصے سے کہا جس کے قدم حاکم کے چھوڑنے پر لڑکھڑائے تھے لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا۔
دعا نے خاموشی سے ایک نظر حاکم پر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔اس کا کھانا وہی ٹیبل پر پڑا تھا۔
حاکم نے کھانے کی طرف دیکھا تو زور سے ٹیبل پر غصے سے ہاتھ مارا۔
