58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

بچیوں کہاں جانے کی تیاری ہے؟ دادا جان نے لڑکیوں کو تیار ہوتے دیکھا تو حیرانگی سے پوچھا۔
دادا جان میرا بھائی واپس آرہا ہے ہم سب اُسے ہی لینے جا رہے ہیں عدن نے دادا کو دیکھتے کہا۔
تم سب لوگ ائرپورٹ پر صنان کو لینے جا رہی ہو؟ وہ پڑھائی مکمل کر کے آرہا بارات لے کر نہیں آرہا جو تم سب لوگ اتنا تیار ہو کر اُسے لینے جا رہی ہو اور زیادہ لوگ ائرپورٹ نہیں جائیں گئے اُس نے گھر ہی تو آنا ہے۔دادا جان سنجیدگی سے کہتے ہی وہاں سے چلے گئے تھے۔
یہ کیا بات ہوئی میرا بھائی اتنے سالوں بعد واپس آرہا ہے اور ہم اُسے لینے بھی نہیں جائیں گئے؟
اللہ میں نے تو سپیشل آج کے دن کے لیے اپنا نیلا سوٹ شبنم آنٹی کو کہہ کر سلوایا تھا۔عدن نے گلے سے ڈوپٹہ اتارتے بال باندھتے منہ لٹکائے کہا۔جبکہ باقی لڑکیوں کا بھی یہی حال تھا اگر کوئی سکون سے بیٹھا چپس کھا رہا تھا تو وہ میڈم نوال تھیں۔
میں نے تو تم لوگوں کو پہلے ہی کہا تھا کہ کوئی بھی اتنا بڑا ٹولہ لے کر ائرپورٹ نہیں جائے گا وہ ائرپورٹ ہے شادی ہال نہیں ہے کہ پوری فیملی بنا ٹکٹ کے گھس جائے۔نوال نے عدن کو دیکھتے دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر لیے کہا۔
تم تو چپ ہی رہو منحوس عورت تمھاری دعا قبول ہوئی ہے تم تو پہلے ہی نہیں چاہتی تھی کہ ہم لوگ ائرپورٹ جائیں۔عدن نے کھا جانے والی نظروں سے نوال کو دیکھتے کہا جس کا ہاتھ منہ تک جاتا رک گیا تھا۔
کیا کہا تم نے؟ میں تمہیں کہاں سے عورت لگتی ہوں؟ نوال نے عدن کے سامنے کھڑے ہوتے کمر پر ہاتھ رکھتے گھورتے ہوئے پوچھا۔
خیر ابھی میرا تمھارے ساتھ بحث کرنے کا موڈ نہیں ہے ہائے میرا دکھ ابھی بھی ہرا ہے عدن نے نا آنے والے آنسوؤں کو صاف کرتے کہا۔
زخم ہرے ہوتے ہیں لڑکی رباب ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا۔
وہی آپی عدن نے منہ پھولائے کہا۔
اچھا چلو چھوڑو ویسے بھی دادا جان ٹھیک کہہ رہے ہیں اتنے لوگوں کا ائرپورٹ جانا ٹھیک بھی نہیں ہے ۔زوہا نے الماری کھولتے کہا۔
ہائے میرے کتنے ارمان تھے کہ میں اپنے بھائی کو ائرپورٹ لینے جاؤں گی لیکن یہ ظالم سماج
اُف!!! ڈرامہ کوئین بس کر جا زیادہ ہو رہا ہے نوال نے گھورتے ہوئے کہا۔
بھاڑ میں جاؤ تم میں تو دادی کے پاس جا رہی ہوں عدن نے منہ بسوڑتے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
ہاہاہا نانی جان تو پہلے سے ہی اس حق میں نہیں تھیں کہ تم سب ائرپورٹ جاؤ نوال نے مزے سے کہا۔
رباب اور زوہا دونوں نے نوال کو گھوری سے نوازہ تھا لیکن یہاں فکر کسے تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
خاور ہاؤس میں آج ہر کوئی کسی نا کسی کام میں مصروف تھا ارے کیسے نا مصروف ہوتے آج پورے سات سال بعد اس گھر کا لاڈلہ واپس آرہا تھا۔
خاور ہاؤس میں تین بھائی رہتے تھے بھائیوں میں پیار بھی بہت تھا۔خاور صاحب کے تین بیٹے تھے۔
سب سے بڑے بیٹے کا نام صاقب خاور تھا ان کی زوجہ جو تھوڑی سخت مزاج کی خاتون تھیں لیکن دل کی بہت اچھی تھیں۔ ان کا نام نمرہ بیگم تھا۔ان کے تین بچے تھے۔ بڑے کا نام صنان اُس سے چھوٹے بیٹے کا نام ریحان اور بیٹی کا نام عدن تھا۔
ان کے بعد آتے ہیں راشد خاور جن کی زوجہ کا نام راحیلہ تھا اور راشد کی کزن بھی تھیں ان کے تین بچے تھے بڑا بیٹا ہیزام اس سے چھوٹی بیٹی رباب جو تھوڑی سنجیدہ مزاج تھی اور پھر ان کا ایک بیٹا براق تھا۔
تیسرے نمبر پر خاور صاحب کی ایک بیٹی تھی جس کا نام سکینہ تھا اور وہ شادی کے کچھ سال بعد اپنے میاں کے ساتھ لندن چلی گئی تھی۔
چوتھے نمبر پر خاور صاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا عرفان خاور تھا جس کے دو بچے تھے بڑی بیٹی زوہا اور چھوٹا بیٹا عمیر اور ان کی بیوی کی ڈیتھ ہوچکی تھی۔عرفان نے گھر والوں کے اسرار پر دوسری شادی کر لی تھی جس کا نام صفیہ تھا۔صفیہ کی بھی پہلے شادی ہو چکی تھی اس کے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا تھا۔اس کی ایک بیٹی زوہا کی عمر کی تھی جس کا نام ماریہ تھا۔
تینوں بھائی پوری کوشش کرتے کہ خاور ہاؤس میں سب مل جل کر رہیں۔
💜💜💜💜💜
بیٹا جی اور کتنی دیر لگے گی؟ آپ نے تو تیار ہونے میں لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔دادا جان نے گھڑی کی طرف دیکھتے صاقب صاحب کو سے پوچھا۔
اس سے پہلے صاقب صاحب کچھ بولتے دادی جان بول پڑی تھیں۔
کتنی لڑکیوں کو آپ جانتے ہیں میاں جی؟
دادی جان نے اپنا چشمہ تھوڑا ترچھا کرتے دادا کو خمشگین نظروں سے دیکھتے پوچھا۔
دادی جان خاور صاحب کو میاں جی کہتی تھیں۔
لو اس نے تو ہر بات میں الٹا مطلب ہی نکالنا ہوتا ہے دادا جان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
میرے کان ابھی ٹھیک ہیں اور صاف سنائی دیتا ہے دادی جان نے اپنی چھڑی کو تھوڑا زور سے زمین پر مارتے کہا۔
میاں جی سدھر جائیں ورنہ مجھے اچھے سے سدھارنا آتا ہے دادی جی کہتے ہی تختے پر جا کر بیٹھ گئی تھیں کیونکہ دادا جان سے تو کوئی جواب ہی نہیں بن رہا تھا۔
صاقب صاحب اپنے ماں باپ کی نوک جوک پر ہنس رہا تھا۔
بس ابو جان خواتین آجائیں تو نکلتے ہیں صاقب نے کہا اتنے میں عمیر نے کمرے میں جھانکا۔
دادا جان دادی جان جلدی سے باہر آئیں دیکھیں کون آیا ہے عمیر کہتے ہی وہاں سے بھاگ گیا۔
آئے ہائے اسے کیا ہو گیا؟ ایسا کون آگیا ہے باہر دادی جان نے تختے سے اٹھتے ہوئے کہا۔
سب لوگ باہر آئے تو سامنے ہیزام کھڑا تھا۔کیا ہوا بیٹا سب خیریت؟ راشد صاحب نے ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔
جو مسکرا کر پیچھے ہٹا تو دروازے سے صنان داخل ہوا جس نے بلیو جینز اور ساتھ وائیٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی چہرے پر تھکن عیاں تھی لیکن پھر بھی مسکرا رہا تھا۔ہلکی سی بڑھی ڈاڑھی میں خوبصورت لگ رہا تھا۔
دادی جان!!! صنان کہتے ہی دادی جان کے گلے جا لگا باقی سب ہونقوں کی طرح منہ کھولے صنان کو دیکھ رہے تھے۔
بیٹا ہم سب تمہیں لینے جا رہے تھے اور تم خود ہی گھر آگئے۔چچی جان نے آگے بڑھتے صنان کے سر پر پیار دیتے کہا۔
میں آپ سب کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔اور میری فلائٹ تو صبح کی تھی۔
صنان نے دادا جان کے گلے لگتے مسکرا کر کہا۔
لو بیٹا جی یہاں سب تیار کھڑے تھے اور تم نے خود گھر آکر ان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔
دادی جان نے باقی سب کے لٹکے ہوئے چہروں کو دیکھتے کہا۔
چلیں کوئی بات نہیں اللہ کا شکر ہے ہمارا بچہ گھر آگیا ہے۔راشد صاحب نے مسکراتے کہا اور صنان کو لے کر اندر چلے گئے۔باقی سب بھی باری باری اندر چلے گئے تھے۔
💜💜💜💜
تم لوگوں کو پتہ ہے صنان بھائی آگئے ہیں زوہا نے کمرے میں بیٹھی لڑکیوں کو آکر موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
کیا وہ کب آئے؟ ابھی تو گھر والوں کی تیاریاں ختم نہیں ہو رہی اور اتنی جلدی وہ بھائی کو لے کر بھی آگئے؟
عدن نے حیرانگی سے زوہا کو دیکھتے پوچھا۔
وہ خود آگئے ہیں انہوں نے ہمیں سرپرائز دینا تھا ۔
چلو یہ تو اچھا ہوا اور ویسے بھی ہمیں ساتھ لے کر نہیں جا رہے تھے اب خود بھی نہیں جائیں گئے۔ عدن نے مزے سے کہا اتنے میں نوال اندر آئے جس نے سر پر ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور اس کا ایک کونا دانتوں میں دبایا تھا۔
تمہیں کیا ہوا؟رباب نے نوال کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
وہ نا میرے وہ آئے ہیں نا تو میں شرمانے کی کوشش کر رہی ہوں نوال نے آنکھیں مٹکاتے کہا۔
اُف اللہ جی سارے ڈرامے باز اسی گھر میں موجود ہیں۔رباب نے اپنا سر پیٹا اور وہاں سے چلی گئی زوہا اور عدن بھی اس کے پیچھے باہر چلی گئی تھیں۔
آہ میرا ابھی موڈ نہیں کھڑوس سے ملنے کا نوال نے بیڈ پر بیٹھتے روموٹ پکڑتے کہا اور ٹی-وی چلا کر بیٹھ گئی۔
💜💜💜💜💜
ماما میرا موڈ پاکستان جانے کا بلکل بھی نہیں ہے۔ابتہاج نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
کیا مطلب ابتہاج؟ صنان اتنے سالوں بعد گھر واپس آیا ہے امی نے بہت پیار سے ہمیں بلایا ہے تو کیا اب بھی میں اپنےمیکے نا جاؤں؟
تم لوگ تو چاہتے ہی یہی ہو میں ہمیشہ اپنے ماں باپ اور بھائیوں سے دور رہوں
سکینہ بیگم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور ابتہاج سے رخ موڑ لیا۔
موم یار آپ ہمیشہ بات کا الٹا مطلب کیوں نکال لیتی ہیں میں خود دادا جان اور دادی جان سے ملنا چاہتا ہوں اور صنان تو میرا کزن ہونے کے ساتھ میرا دوست بھی ہے لیکن آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میرے انکار کی وجہ کیا ہے۔ابتہاج نے اپنی ماں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے پیار سے کہا۔
اخر مسئلہ کیا ہے رباب میں اچھی بھلی سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔اور تمھاری منگنی بھی ہو چکی ہے اور ہمارے ہاں منگنی کو توڑنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔سکینہ بیگم نے ابتہاج کو سمجھانے والے انداز میں کہا۔
موم آپ سمجھ کیوں نہیں رہی وہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے۔اور ابتہاج مزید کچھ کہنے سے پہلے خاموش ہو گیا۔
اور وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے؟ سکینہ بیگم نے ابتہاج کا باقی کا جملہ مکمل کرتے کہا۔
موم جب آپ کو سب پتہ ہے تو بار بار مجھے فورس کیوں کرتی ہیں؟ ابتہاج نے وہاں سے اٹھتے کہا۔
ہم لوگ رات کی فلائٹ سے پاکستان جا رہے ہیں ابتہاج اگر تم ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہو تو آؤ ورنہ تمھاری مرضی!! اور میں مزید اپنی بیٹی سے دور نہیں رہ سکتی!!. امی نے بہت ضد کی تھی کہ میں اپنی بیٹی کو وہاں چھوڑ دوں لیکن اب میں اُسے واپس اپنے پاس لے آؤں گی۔سکینہ بیگم نے ابتہاج کی بات کو اگنور کرتے کہا اور پھر بنا اس کا جواب سنے وہاں سے چلی گئی۔
پیچھے ابتہاج اپنا ماتھا مسلنے لگا تھا۔لندن آنے سے پہلے ابتہاج اور رباب کی منگنی کر دی گئی تھی اُس وقت ابتہاج چھوٹا تھا لیکن جیسے ہی تھوڑا بڑا ہوا اسے رباب میں مسئلے نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜 💜
صنان اس وقت سب لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا لیکن اس نے زبان سے اظہار نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اتنے سالوں بعد وہ گھر واپس آیا ہے اور سب لوگ اس سے باتیں کرنا چاہتے ہیں۔
نمرہ بیگم تو اپنے بیٹے کے صدقے واری جا رہی تھیں۔دادی جان صدقے کے بکرے بھی دے چکی تھیں۔
سب لوگ گپوں میں مصروف تھے۔صنان کی بےتاب نظریں اُس دشمنِ جان کو تلاش کر رہی تھی جو ناجانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی تھی۔
بھائی جان وہ ابھی یہاں نہیں آئے گی۔عدن نے اپنے بھائی کو دیکھتے مسکراہٹ دباتے کہا۔
کون؟ صنان نے انجان بنتے پوچھا۔
وہی جس کا آپ کو انتظار ہے۔عدن نے بتیسی دکھاتے کہا۔
ہیزام عدن کی بات پر ہنس پڑا تھا۔
ویسے وہ کہاں پر ہے؟ صنان نے بھی ڈھیٹ ہن کا مظاہرہ کرتے پوچھا۔
وہ شرمانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ایمان نے کہا۔
جس پر زوہا کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔دادی جان نے زوہا کی طرف دیکھا۔جس کی ہنسی کو بریک لگی تھی۔
صنان نے ہیزام کی طرف دیکھا جس نے کندھے اچکا دیے تھے۔چلو اب صنان کو تھوڑا آرام کرنے دو تھک گیا ہو گا ہیزام نے زمین پر بیٹھے ٹولے کی طرف دیکھتے کہا۔
ارے نہیں پہلے ہمارے گفٹ تو ہمیں دے دیں پھر بے شک آپ آرام کر لیں۔زوہا نے جلدی سے کہا۔
مطلبی لڑکی براق نے زوہا کو دیکھتے کہا۔
مطلبی کسے بولا؟ ابھی چچی جان کو بتاتی ہوں تمھاری گرل فرینڈ کا زوہا نے براق کے کان کے پاس سرگوشی کرتے اسے دھمکاتے کہا۔
وہ میری گرل فرینڈ نہیں بس فرینڈ ہے۔براق نے دانت پیستے کہا۔
یہ تو تمہیں یا مجھے معلوم ہے نا چچی جان کو تھوڑی معلوم ہے۔زوہا نے مزے سے کہا۔
کسی دن تم میرے ہاتھوں ضائع ہو جاؤں گی زوہا!!! براق کا کہی بس نہیں چلا تو یہی کہہ کر اپنی بھڑاس نکالی۔
دیکھ لیں گئے زوہا نے کندھے اچکاتے کہا۔
براق نے زوہا کو گھوری سے نوازہ تھا۔کیونکہ اس سے زیادہ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔
صنان زوہا کی بات پر ہنس پڑا تھا اور سب کے لائے ہوئے گفٹس اُن کو دینے لگا۔
💜 💜 💜 💜 💜
صنان اپنے کمرے میں آگیا تھا نوال سے ابھی تک نہیں ملا تھا۔کمرے میں آتے ہی اس نے سگریٹ سلگائی تھی۔سر تو درد کی وجہ سے پھٹ رہا تھا لیکن وجہ سفر نہیں بلکہ کچھ اور ہی تھا۔
کیا میں نوال کو دھوکا دے رہا ہوں؟ لیکن میں نے کچھ غلط نہیں کیا مجھے پوری امید ہے جب میں اُسے بتاؤں گا تو وہ بھی سمجھ جائے گی۔صنان دل میں سوچ رہا تھا اتنے میں دروازہ ناک ہوا اور ہیزام اندر آیا۔
تمہیں آرام کرنا چاہیے۔ہیزام نے صنان کو کھڑکی کے پاس کھڑے دیکھتے کہا۔
میری تو راتوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔
سو کیسے جاؤں؟ صنان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
صنان تمہیں جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا ہو گا کیونکہ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے اگر ابتہاج کو پتہ چل گیا تو وہ دوستی کا بھی لحاظ نہیں رکھے گا تم بھی اُسکے غصے سے اچھی طرف واقف ہو۔وہ اپنی بہن کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔
مجھے خود سمجھ نہیں آرہی ہیزام کس مصیبت میں میں پھنس گیا ہوں۔کاش میں اُن کے گھر رہنے کے لیے نا جاتا۔
گھر والوں کے چہروں کی طرف دیکھتا ہوں تو سچ کہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے پتہ نہیں وہ میری بات کو سمجھے گئے یا نہیں مجھے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔
صنان نے بیڈ پر بیٹھتے کہا۔
گھر والے تمھارے ولیمے کا سوچ رہے ہیں اور جہاں تک مجھے لگتا ہے عید کے دوسرے دن ہی گھر والوں نے تمھارا ولیمہ رکھ دینا ہے نکاح کو بھی تو اتنے سال ہو گئے ہیں۔تو تمھارے پاس یہ رمضان کا ایک مہینہ ہی ہے جلدی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرو۔ہیزام نے سنجیدگی سے کہا۔
میں کوشش کروں گا صنان نے پیچھے ٹیک لگاتے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہے تم آرام کروں میں چلتا ہوں ہیزام کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
صنان وہی آنکھیں موندے لیٹ گیا تھا۔
صنان جب پڑھائی کے لیے امریکہ جا رہا تھا تو گھر کے بڑوں نے نوال اور صنان کا نکاح کر دیا تھا صنان نے کافی بار منع کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی کسی نے نہیں سنی۔اس نے کبھی نوال سے شادی کا نہیں سوچا تھا کیونکہ جیسے لڑکی وہ چاہتا تھا ویسی نوال بلکل بھی نہیں تھی۔
نوال صنان کی پھپھو کی بیٹی تھی۔چونکہ سکینہ بیگم کا گھر خاور ہاؤس کے پاس ہی تھا تو ان کے بچے بھی سارا دن یہی رہتے تھے۔پھر سکینہ بیگم کے شوہر جب کاروبار کے سلسلے میں لندن شفٹ ہونے لگے تو دادی جان نے نوال کو پاکستان میں ہی روک لیا تھا وہ نوال کے ساتھ بہت اٹیچ ہو گئی تھی۔نوال نے بھی اپنی نانی کو چھوڑ کر لندن جانے سے منع کر دیا تھا۔سکینہ بیگم نے اپنی بیٹی کی خوشی دیکھی اور اسے پاکستان میں ہی چھوڑ دیا اور وہ خود دیکھ چکی تھی کہ ان کی بھابھی اپنے بچوں کی طرح نوال کا خیال رکھتی ہیں۔
صنان کو باہر جاکر سٹڈی کرنی تھی گھر والے تو راضی نہیں تھے کہ صنان کو باہر بھیجا جائے پھر گھر والے ایک شرط پر مانے کے جانے سے پہلے صنان کا نوال کے ساتھ نکاح کر دیا جائے ایسے وہ وہاں کسی گوری کے چکر میں بھی نہیں پڑے گا دادی جان کی یہی سوچ تھی۔تو دادی جان نے اسی شرط پر صنان کو باہر جانے کی اجازت دی تھی۔
اور آج جب صنان پڑھائی مکمل کرکے واپس آیا تو پیچھے کچھ ایسا کر آیا تھا جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔اور اب اس کے نوال کے بارے میں خیالات بھی تبدیل ہو گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
رات صنان کو کسی نے ڈسٹرب نہیں کیا تھا صبح چھ بجے وہ اپنی روٹین کے مطابق جوگنگ کے لیے نکل پڑا تھا۔
جب واپس آیا تو سامنے ہی دشمنِ جان ہلکے بلیو کلر کی شلوار قمیض میں ملبوس کھڑی عدن سے باتیں کر رہی تھی۔
صنان تو نوال کو دیکھ کر وہی جم گیا تھا۔اسے نوال کے لمبے بال بہت پسند تھے اس لیے نوال نے بھی ان کو کٹوانے کی کبھی کوشش نہیں کی تھی۔
ہلکی براؤن آنکھیں اور گندمی رنگ میں سامنے کھڑی لڑکی ہمیشہ کی طرح صنان کو آج بھی بہت پر کشش لگ رہی تھی۔
عدن کی نظر اپنے بھائی پر پڑی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
اس وقت اس کا بھائی بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا گوری رنگت، سیاہ آنکھیں، ماتھے پر بکھرے بال اور بلیک کلر کے جوگنگ سوٹ میں وجہہ لگ رہا تھا۔
آہم آہم مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے چلنا چاہیے۔عدن نے مسکراہٹ دباتے کہا۔اور وہاں سے چلی گئی۔
ارے کیا ہوا تمہیں؟ نوال نے حیرانگی سے جاتی ہوئی عدن کو دیکھتے پوچھا۔لیکن وہ وہاں سے جا چکی تھی۔
اتنے میں صنان چلتا ہوا نوال کے پیچھے اکھڑا ہوا تھا۔
اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کر کے نوال جیسے ہی پیچھے مڑنے لگی لیکن صنان نے اسے بازوں سے پکڑ کر وہی روک دیا تھا۔
صنان کے پرفیوم کی خوشبو نے نوال کو بتا دیا تھا کہ پیچھے کھڑا انسان کون ہے۔
کل کہاں تھی تم؟ صنان نے تھوڑا جھک کر نوال کے کان کے پاس سرگوشی نما انداز میں پوچھا۔نوال کا چہرا آگے کی طرف تھا اس لیے وہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے سے قاصر تھا۔
اپنے کمرے میں اور کہاں ہونا میں نے؟ نوال نے الٹا سوال کیا۔جس پر صنان کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
اس نے ایک نظر ارد گرد دیکھا اور جھک کر نوال کے بالوں پر اپنے لب رکھ دیے۔
صنان کو لگا کہ جتنے آرام سے اس نے نوال کے بالوں کو چھوا اُسے بھی محسوس نہیں ہوا ہو گا۔لیکن ایسا نہیں تھا۔نوال نے محسوس کیا تھا لیکن خاموش رہی تھی۔
صنان نوال کے بازوں کو چھوڑے اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا تھا۔
نوال نے مڑ کر حیرانگی سے صنان کو دیکھا اور اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا
کیا ہوا؟ صنان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
مجھے ایسا لگا کہ کوئی چیز میرے بالوں پر گری ہے جیسے کوئی مکھی یا مچھر بھی ہو سکتا ہے۔نوال نے دوبارہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا۔اور ایسے ظاہر کیا جیسے اسے پتہ نہیں چلا۔
مچھر تھا اب چلا گیا۔صنان نے نوال کو گھورتے ہوئے کہا۔
چلو یہ تو اچھا ہو گیا۔اور صنان میاں آپ تو کافی بدل گئے ہیں نوال نے سر سے لے کر پاؤں تک صنان کا معائنہ کرتے کہا۔
بدل تو تم بھی بہت گئی ہو بلکہ خوبصورت ہو گئی ہو۔صنان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ارے خبردار اگر میرے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش کی تو … نوال نے کمر پر ہاتھ رکھتے صنان کو دیکھتے اپنی آنکھیں چھوٹی کرتے کہا۔
پہلے تو وہ نوال کی بات سن کر حیران ہوا پھر ہنس پڑا۔
میں تو کروں گا ورنہ تم کیا کر لو گی مسز؟ صنان نے سینے پر ہاتھ باندھتے دلچسپی سے پوچھا۔
پھر میں جو کروں گی اُسے تمھارے جیسا ٹیڈی بیر برداشت نہیں کر پائے گا۔
نوال نے صنان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
تم نے اگر دوبارہ مجھے ٹیڈی بیر کہا تو بہت برا پیش آؤں گا صنان نے دانت پیستے کہا۔اچانک اس کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے۔اسے خود کے لیے ٹیڈی بیر کہا جانا بلکل بھی پسند نہیں تھا۔لیکن پھر بھی نوال اسے ہمیشہ اسی نام سے چڑھاتی تھی۔
لو دیکھو تمہیں تو ابھی سے غصہ آگیا ہے۔اور نوال نے ایک دم سنجیدہ ہوتے کہا۔میں تمھاری مسز نہیں ہوں یہ نکاح بڑوں کی مرضی سے ہوا تھا جس میں ہم. دونوں کی رضامندی نہیں تھی تو بہتر ہے تم بھی میرے ساتھ ویسے ہی رہو جیسے میرے باقی کزنز رہتے ہیں۔میں سب کے ساتھ ہنسی مذاق کرتی ہوں لیکن مجھ پر اپنا شوہر ہونے کا روب ہرگز مت ڈالنا۔
نوال کہہ کر وہاں سے جانے لگی جب صنان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔
میں تمھارے باقی کزنز کی طرح ہرگز نہیں ہوں نوال میں صنان خاور ہوں تمھارا شوہر اور کیا ہم اس بارے میں بات کر سکتے ہیں؟ صنان نے نوال کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا۔
ہرگز نہیں نوال نے اپنا ہاتھ صنان کے ہاتھ سے چھڑواتے صاف لفظوں میں منع کرتے کہا۔
تم ایک نمبر کی ضدی لڑکی ہو….. صنان نے سرد لہجے میں کہا اس سے پہلے نوال کچھ کہتی سکینہ بیگم کی آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
ماما… نوال نے خوشی سے سکینہ بیگم کو دیکھتے کہا اور ان کے گلے جا لگی۔
کیسی ہے میری بیٹی؟ سکینہ نے نوال کا ماتھا چومتے پوچھا۔
میں بلکل ٹھیک ہوں ماما اور آپ کیسی ہیں بھائی، پاپا اور چھوٹی وہ سب کہاں ہیں؟ نوال نے بے تابی سے پوچھا۔
تمھارے پاپا کو کچھ ضروری کام تھا اس لیے وہ کچھ دنوں بعد آئیں گئے۔اور وہ رہے دونوں سکینہ نے پیچھے چلے آتے ابتہاج اور دعا کو دیکھتے کہا۔
اتنے میں صنان بھی آگے بڑا اور سکینہ بیگم سے پیار لیا۔
سکینہ بیگم کے تین بچے تھے بڑے بیٹے کا نام ابتہاج دوسرے نمبر پر نوال اور تیسرے نمبر پر دعا تھی۔
ابتہاج نے بلیک شرٹ ساتھ بلیک ہی جیکٹ پہنی تھی۔بلیو جینز اور آنکھوں پر گلاسز لگائے سوبر لگ رہا تھا۔
اس نے بہت سوچا اور آخر کار اپنی ماں کی بات ماننی پڑی۔اپنی ماں اور بہن کو اکیلا آنے بھی نہیں دے سکتا تھا۔
پیچھے دعا اپنے بڑے سے ڈوپٹے کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جو پوری زمین کی صفائی کرتا آرہا تھا۔
ابتہاج آکر صنان اور پھر نوال سے ملا۔
ماما وہ مجھے…. پھوپھو جان آپ اندر آئیں ورنہ ان محترمہ کی باتیں تو رات تک ختم نہیں ہوں گی۔
صنان نے نوال کی باتوں کی عادت پر چوٹ کرتے کہا۔جس پر سکینہ بیگم کے ساتھ ابتہاج بھی ہلکا سا مسکرا پڑا تھا۔نوال نے صنان کو گھوری سے نوازہ اور پھر سب لوگ اندر چلے گئے۔
💜💜💜💜
ابتہاج کے آنے کا سنتے ہی رباب کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا ناجانے کیوں وہ ابتہاج سے اتنا ڈرتی تھی اس نے کبھی رباب کو ڈانٹا تک نہیں تھا لیکن اس کی ایک گھوری ہی رباب کو خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہوتی تھی۔
سکینہ میری بچی اب تو آہی گئی ہے تو کیوں نا رباب اور ابتہاج کا نکاح کر دیا جائے ابھی رمضان آنے میں کچھ دن پڑے ہیں اور عید کے دوسرے دن ہی صنان اور ابتہاج کا اکٹھا ولیمہ کر دیا جائے گا۔دادی جان نے اپنی بیٹی کو دیکھتے کہا۔جس نے ابتہاج کی طرف دیکھا تھا۔
جس کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا۔ماریہ کی نظریں تو ابتہاج پر ٹکی ہوئی تھیں۔اور اگر کسی کو ماریہ کا ابتہاج کو گھورنا برا لگ رہا تھا تو وہ ریحان تھا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جا کر ماریہ کا رخ اپنی طرف کر لے۔
ابتہاج وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
ماریہ بھی اس کے پیچھے باہر چلی گئی۔ریحان کی ہمت اب جواب دے گئی تھی تھوڑی دیر وہ وہاں بیٹھا رہا پھر باہر چلا گیا۔
امی جان اتنی بھی کیا جلدی ہے میرا مطلب ہے کہ عید کے بعد آرام سے اس بارے میں بات کر لیں گئے۔کیوں بھابھی سکینہ نے نمرہ اور راحیلہ بیگم کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل میں بھی امی کو یہی کہہ رہی تھی لیکن انہوں نے تو ضد پکڑی ہوئی ہے۔نمرہ بیگم نے دادی جان کو دیکھتے کہا۔
ارے تو تو چپ ہی کر میری بچی کی شادی کی عمر ہو گئی ہے اور اور تجھے یاد نہیں وہ شکیلہ اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آگئی تھی۔اور وہ شبانہ اپنے بھائی کا رشتہ لے کر آئی تھی ارے اتنی بار کہاں ہے کہ میری بچی کی منگنی ہو گئی ہے لیکن لوگ سنتے ہی نہیں میں نے کہہ دیا تو بس کہہ دیا نکاح کل بھی کرنا ہے اور آج بھی اس میں مسئلہ کیا ہے۔دادی جان نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے کہا۔
دادی جان اُن کا بھائی گنجا بھی تو تھا عدن نے دادی کو یاد کرواتے کہا۔باقی سب کے چہروں پر دبی سی مسکراہٹ آگئی تھی۔
ہاں وہی پتہ نہیں آجکل کے لوگوں کو کیا ہو گا ہے۔بیوی ان کو خوبصورت چاہیے اور خود کا ہوش نہیں دادی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
سکینہ بیگم سوچ میں پڑ گئی تھی ان کو بس ابتہاج کی فکر تھی۔وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت نا کر دے۔
💜 💜 💜 💜 💜
ابتہاج کو سگریٹ کی طلب ہو رہی تھی اور اس کا ارادہ چھت پر جا کر سگریٹ پینے کا تھا۔چھت کافی بڑی اور کشادہ تھی۔
ابتہاج چھت پر آیا آج موسم کافی اچھا تھا۔
اسے سامنے ایک لڑکی کھڑی ہوئی نظر آئی جو آسمان کو تک رہی تھی۔
ابتہاج چلتا ہوا رباب سے کچھ فاصلے پر جا کھڑا ہوا تھا۔
رباب نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو ایک دم ابتہاج کو وہاں کھڑا دیکھ ڈر گئی تھی۔
ابتہاج سکون سے کھڑا رباب کو دیکھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر چھائے ڈر کو ابتہاج نے بھی محسوس کیا تھا۔
آج کافی سالوں بعد اس نے رباب کو دیکھا تھا۔بے شک سامنے کھڑی لڑکی خوبصورت تھی لیکن ابتہاج کو لگتا تھا کہ وہ اس کے ٹائپ کی نہیں ہے۔رباب کو پڑھنے کا شوق نہیں تھا اس لیے اس نے میٹرک کیا اور ساتھ اس نے گھر کے کام سیکھے تھے۔جن میں کڑھائی وغیرہ شامل تھی۔
رباب کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہاں سے جانے کے لیے مڑنے لگی۔لیکن ابتہاج نے اس کی کلائی کو پکڑ لیا تھا۔
رباب نے چہرے پر گھبراہٹ لیے ابتہاج کو دیکھا۔
تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو؟ ابتہاج نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں پوچھا۔
میں وہ… رباب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جواب دے۔
کیا تمہیں اردو بھی نہیں آتی؟ جو میری بات تمھارے دماغ میں نہیں پڑ رہی؟ ابتہاج نے رباب کی کلائی پر اپنی پکڑ سخت کرتے سنجیدگی سے کہا۔
رباب نے جو کانچ کی چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں وہ ٹوٹ کر زمین پر بکھیر گئی تھیں اور کچھ اس کی کلائی پر لگ گئی تھی۔
اس کے منہ سے بےساختہ سسکی نکلی تھی۔
آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئی تھیں۔
اس نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے ظالم انسان کو دیکھا۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو جاہل لڑکی میں تو تم سے شادی ہرگز نہیں کروں گا اور اپنے اس چھوٹے سے دماغ سے میرے ساتھ شادی کرنے کے خواب کو نکال دو اور تم خود بات کرو گی نانی جان سے کہ تم میرے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہاں پر تو میری اپنی ماں بھی میری بات نہیں سنے گی ۔ابتہاج نے غصے سے کہا۔
کروں گی نا بات؟ ابتہاج نے سرد لہجے میں دوبارہ پوچھا۔
ابتہاج کے قریب آنے پر رباب ایک دم ڈر گئی تھی اس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
گڈ گرل اور جاؤ یہاں سے ابتہاج نے رباب کی کلائی کو چھوڑتے ہوئے کہا جو اجازت ملنے پر وہاں سے بھاگ گئی تھی۔
زمین پر اس کی چوڑیاں گری ہوئی تھیں۔
ابتہاج سگریٹ سلگانے لگا تو اسے اپنی ہتھیلی پر خون نظر آیا۔
اس کی نظر زمین پر گری چوڑیوں پر پڑی تو اس نے اپنے ہاتھ پر لگے خون کو دیکھ کر گہرا سانس لیا۔
💜💜💜💜💜
ماریہ ابتہاج کے پیچھے آئی تھی لیکن اسے وہ کہی نظر نہیں آیا وہ ابتہاج کے کمرے کی طرف جانے لگی تھی جب کسی نے اس کو بازو سے پکڑ کر کمرے کے اندر کھنچا۔
ماریہ کی خوف کے مارے چیخ نکل گئی تھی۔
لیکن جب سامنے اس نے ریحان کو کھڑے دیکھا تو ماتھے پر تیوری لیے اسے گھورا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے؟ ماریہ نے سرد لہجے میں ریحان کو دیکھتے پوچھا۔
میں بدتمیز ہرگز نہیں تھا تمھاری حرکتوں کی وجہ سے بن گیا ہوں ایسا کیا ہے ابتہاج میں جو تمہیں اُس کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا اور تم بھی اچھی طرح جانتی ہو اُس کی منگنی رباب سے ہو چکی ہے اور کچھ دن بعد اُس دونوں کا نکاح بھی ہونے والا ہے۔
ریحان نے ماریہ کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا۔جو اس کی بات پر ہنس پڑی تھی۔
تمہیں لگتا ہے کہ ابتہاج جیسا پڑا لکھا انسان تمھاری اُس جاہل گوار کزن سے شادی کرے گا؟ ماریہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
زبان سنبھال کر بات کیا کرو ماریہ جس دن میرا صبر جواب دے گیا تمھارے لیے بہت بڑا ہو گا اور خبردار اگر دوبارہ تم نے رباب کے بارے میں کچھ بھی فضول بولا
ریحان نے ماریہ کو بازو سے دبوچتے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
ایک پل کے لیے تو ماریہ بھی ریحان کے غصے سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔
تم!!! ماریہ نے کچھ کہنے کے لیے بونٹ وا کیے ہی تھے کہ ریحان بول پڑا۔
جاؤں یہاں سے ریحان نے کہتے ہی رخ موڑ لیا۔
سائیکو انسان ماریہ نے منہ میں بڑبڑایا اور پیر پٹخ کر وہاں سے چلی گئی۔
دل آیا بھی تو کس پر ریحان نے خود کو کوستے کہا اور بیٹھ کر پانی پینے لگا۔