58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

مجھے سمجھ نہیں آرہی رات کو کون لوگ رشتہ دیکھنے آتے ہیں؟ دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا کیونکہ لڑکی والوں نے روزے کے بعد آنا تھا۔
تمہیں اتنا غصہ کیوں آرہا ہے؟ عمیر نے مزے سے پوچھا۔
تو کیا مجھے خوش ہونا چاہیے پہلے کہہ رہے تھے کہ روزے سے پہلے آئیں گئے اور اب روزے کے بعد انسان کی ایک زبان ہونی چاہیے آگر جلدی سے واپس جائیں دعا نے غصے سے کہا۔
اچھا سنو کیا حاکم بھائی بھی لڑکی سے پرسنلی بات کریں گئے؟ عمیر نے رازداری سے پوچھا۔
جس پر دعا نے خونخوار نظروں سے عمیر کو دیکھا تھا۔اُس لڑکی کے ساتھ میں تمھاری بھی جان لے لوں گی اگر مزید کچھ الٹا سیدھا بولا تو دعا نے عمیر کو تنبیہ کرتے کہا۔
ارے یار میں تو اس لیے پوچھ رہا اُس حساب سے اپنے پلان کو ترتیب دوں گا عمیر نے جلدی سے کہا۔
ویسے تمہیں ایک مشورہ دوں عمیر نے ایک دم سنجیدہ ہوتے کہا۔
ہاں؟ دعا نے جواب دیا۔
لو میرج بہت کم کامیاب ہوتی ہیں اور جو ایک طرفہ محبت ہوتی ہے نا وہ بہت تکلیف دیتی ہے تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا کیونکہ تمھاری پوری زندگی کا معاملہ ہے۔عمیر نے دعا کو دیکھتے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔دعا حیرانگی سے عمیر کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی اسے امید نہیں تھی کہ عمیر اتنی گہری بات اسے کہہ سکتا ہے۔
💜💜💜💜
تھوڑی دیر بعد لڑکی والے آگئے تھے۔لڑکی بھی ساتھ ہی تھی۔غزالہ کو لڑکی بہت پسند آئی تھی کیونکہ وہ بہت امیر بھی تھی۔نمرہ بیگم اور دادی جان کو لڑکی سلجھی ہوئی لگی تھی۔
کیا میری بیٹی آپ کا گھر دیکھ سکتی ہے؟ لڑکی کی ماں نے دادی جان کو دیکھتے پوچھا جو حیران ضرور ہوئی تھیں۔
ہاں ہاں کیوں نہیں جاؤ عدن بیٹا ان کے ساتھ جاؤ دادی جان نے عدن کو دیکھتے کہا۔
آئیں عدن نے کھڑے ہوتے کہا۔لڑکی عدن کے ساتھ باہر چلی گئی۔
دعا نے عدن کے ساتھ چلتی لڑکی کو دیکھا تو ناچاہتے ہوئے بھی اس کا موازنہ خود سے کرنے لگی جس نے لمبا بلیو کلر کا فراق پہنا ہوا تھا۔
لڑکی خوبصورت بھی تھی۔
اگر گھر والوں کو یہ لڑکی پسند آگئی تو میرا کیا ہو گا اس عمیر کا تو میں سر پھاڑ دوں گی۔
دعا نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
کیا میں حاکم سے مل سکتی ہوں؟ لڑکی نے عدن کو دیکھتے پوچھا کیونکہ اس کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لڑکا خود ملنا نہیں چاہتا اُس نے کہا ہے کہ جو گھر والے اس کے لیے کریں گئے وہی بہتر ہو گا۔
لیکن لڑکی کی بات پر عدن نے حیرانگی سے لڑکی کی طرف دیکھا۔
جی؟ آپ کو اُن کا نام بھی معلوم ہے؟ عدن نے بے یقینی سے لڑکی کو دیکھتے پوچھا۔
جی بلکل میں حاکم کی یونی فیلو بھی ہوں میں نے جب اس کی تصویر دیکھی تو کافی حیرانگی کے ساتھ مجھے خوشی بھی ہوئی تھی۔ تو کیا آپ ایک بار اُن سے مجھے ملوا سکتی ہے آئی نو انہوں نے ملنے سے منع کیا ہے لیکن مجھے دیکھ کر وہ پہچان جائیں گئے۔
لڑکی نے عدن کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے آپ یہاں بیٹھیں میں کوشش کرتی ہوں ہو سکتا ہے وہ آجائیں عدن نے کہا اور خود اندر آگئی۔
اب عدن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح حاکم سے بات کرے کیونکہ حاکم کے غصے سے سب واقف تھے۔
دعا پلیز میرا ایک کام کرو گی؟ عدن نے دعا کو اپنے سامنے آتے دیکھا تو جلدی سے کہا۔
کیا؟ دعا نے پوچھا۔
وہ جو لڑکی ہے نا باہر گارڈن میں ہے تو وہ حاکم بھائی سے ملنا چاہتی ہے وہ کہہ رہی ہے کہ اُن کو جانتی بھی ہے اُ کی یونی فیلو تھی تو پلیز تم حاکم بھائی سے کہو کہ اُس سے بات کر لیں عدن نے مسکین سی شکل بنا کر کہا۔پہلے تو دعا غصے سے منع کرنے والی تھی پھر اس نے کہا۔
ٹھیک ہے میں کہتی ہوں دعا نے کہا اور حاکم کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
دعا دروازہ ناک کرکے کمرے میں داخل ہوئی اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔حاکم کا کیا بھروسہ کچھ بھی بول سکتا تھا۔
حاکم نے موبائل فون کان سے لگایا ہوا تھا جب اس نے دعا کو دیکھا تو موبائل بند کرکے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ جو لڑکی آئی ہے وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے وہ کہہ رہی ہے کہ آپ کی یونی فیلو بھی ہے اور باہر گارڈن میں آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
دعا نے ایک سانس میں حاکم کو دیکھتے کہا۔
جس نے آرام سے دعا کی بات سنی اور جو چلتا ہوا دعا کے پاس آیا۔
میں نے نانی جان کو منع کر دیا تھا کہ اس طرح کی فضول قسم کی حرکتیں میں نہیں کروں گا۔اور میں کسی سے نہیں ملنا چاہتا جاؤ اُسے کہہ دو حاکم نے سرد لہجے میں کہا۔
اندر سے دعا کا دل خوش ہو گیا تھا۔
شادی بھی تو آپ نے کرنی ہے تو اگر آپ ایک بار لڑکی سے مل لیں گئے کوئی طوفان نہیں آجائے گا۔دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا لیکن اس کی بڑبڑاہٹ اتنی اونچی ضرور تھی کہ حاکم نے بآسانی سن لی تھی۔
کیا کہا تم نے؟ حاکم نے دعا کو گھورتے ہوئے پوچھا۔جو ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
کچھ بھی تو نہیں دعا نے جلدی سے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی لیکن اپنے ہی زمین پر صفائی کرتے ڈوپٹے میں اس کا پاؤں الجھا اور گرنے لگی۔
حاکم اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے دعا کو گرتے ہوئے دیکھا تو اسے کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا اور اس کا رخ اپنی طرف کرتے اسے سیدھا کھڑا کیا یہ سب کچھ ایک سیکنڈ میں ہوا تھا۔
اتنے میں وہی لڑکی دروازہ کھولتے کمرے میں داخل ہوئی اور دونوں کو ایک دوسرے کے قریب کھڑا دیکھا کر حیران ہوئی تھی۔
یہ باہر گارڈن میں کھڑی تھی جب عمیر باہر آیا اس نے دعا کو کمرے میں جاتے ہوئے دیکھا لیا تھا۔
لڑکی نے ساری بات عمیر کو بتائی تو اس نے کہا وہ حاکم بھائی کا کمرہ ہے خود چلی جاؤ اس نے لڑکی کے لیے کچھ اور سوچا تھا لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ دروازہ کھلتے ہی اسے کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملے گا۔اور اس کا کام خود ہی ہو جائے گا۔
ایم سوری مجھے لگتا ہے میں غلط وقت پر آگئی ہوں۔لڑکی نے جلدی سے کہا۔
حاکم نے سنجیدگی سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا ابھی بھی اس کا ہاتھ دعا کی کمر پر تھا دعا نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن حاکم کی گرفت مظبوط تھی۔اور اس نے دعا کو. مزید خود کے قریب کیا۔
ٹھیک کہہ رہی ہو غلط وقت پر آئی ہو تم حاکم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
دعا نے حیرانگی سے حاکم کو دیکھا تھا۔حاکم کے ہاتھ پر دعا کا ہاتھ تھا جو پیچھے کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
وہ لڑکی غصے سے وہاں سے چلی گئی تھی۔
یہ یونی میں بھی حاکم کو پسند کرتی تھی۔لیکن جب حاکم نے اسے سامنے دیکھا تو اسے یقین آگیا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو یونی میں بھی اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی اور اب تو اُسی کا رشتہ اس کے لیے آیا تھا اور حاکم سامنے کھڑی لڑکی سے نکاح تو بلکل بھی نہیں کرنا چاہتا تھا جسے اپنے فیشن سے فرصت نہیں ملتی تھی اس نے اس کی بیٹی کا خاک دھیان رکھنا تھا۔اب تو اُس لڑکی نے خود ہی اس رشتے سے انکار کر دینا تھا کیونکہ جس طرح وہ حاکم اور دعا دونوں کو قریب کھڑے دیکھ چکی تھی اس کے بعد کوئی بھی لڑکی رشتے کے لیے ہاں نا کرتی۔
لڑکی کے جاتے ہی حاکم نے دعا کو چھوڑا اور کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔
یہ کیا تھا؟ دعا نے حیرانگی سے پوچھا۔
زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں بس اُس لڑکی سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا اُسے دکھانے کے لیے یہ سب کیا۔اگر وہ ہاں کر دیتی تو گھر والوں نے تو میری بھی نہیں سننی تھی۔
حاکم نے رخ موڑے کہا۔
مجھے کسی قسم کی خوش فہمی بلکل بھی نہیں ہے۔اور انکار آپ ویسے بھی کر سکتے تھے۔اُس کے سامنے میرا کردار مشکوک بنانے کی کیا ضرورت تھی وہ کیا سوچ رہی ہو گئی میرے بارے میں کہ میں کس طرح کی لڑکی ہوں دعا نے حاکم کو دیکھتے کہا۔
جاؤ یہاں سے حاکم نے سنجیدگی سے کہا۔
دعا نے اس کی پشت کو گھور کر دیکھا اور وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
لڑکی نے باہر آتے ہی اپنے ماں باپ کو وہاں سے چلنے کا کہا سب لوگ حیران ہوئے تھے۔لیکن وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔
دادی جان نے عدن سے پوچھا۔جس نے کہا کہ وہ حاکم بھائی سے ملنا چاہتی تھی لیکن شاید انہوں نے انکار فکر دیا اس وجہ سے غصہ ہو گئی ہو گی۔عدن نے اپنے اندازے کے مطابق کہا۔
ارے یہ کیا بات ہوئی اور یہ کوئی وجہ ہے مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی لڑکی تھی جو مجھے سلجھی ہوئی لگی تھی کیسے اپنے ماں باپ سے واپس جانے کا کہہ رہی تھی خیر مجھے بھی اپنے حاکم کے لیے ایسی لڑکی بلکل بھی نہیں چاہیے دادی جان نے صاف انکار کرتے کہا۔
لو عمیر تیرا کام تو خودبخود ہو گیا تجھے کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی عمیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
لیکن امی جان وہ لڑکی میرے خیال سے حاکم کے لیے ٹھیک رہے گی غزالہ نے جلدی سے کہا۔تو خاموش ہی رہ تجھے اُس کے پیسے نظر آرہے ہیں لیکن میں اپنے حاکم کے لیے ایسی بدتمیز لڑکی بلکل بھی لے کر نہیں آؤں گی جسے اپنے ماں باپ سے بھی بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔دادی جان نے عزالہ کو دیکھتے غصے سے کہا۔
چلو جاؤ اپنے اپنے کمروں میں دادی جان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا سب لوگ وہاں سے چلے گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
تم نے کیا خاک ہینڈل کیا؟ دعا اس وقت عمیر کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی۔
یار سب کچھ خود ہی ہو گیا میں نے تو اُس لڑکی کے لیے کچھ اور ہی سوچا تھا لیکن اُس نے پتہ نہیں کیا کمرے میں دیکھ لیا کہ غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
لیکن اچھا ہے نا سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔عمیر نے مزے سے کہا۔
ہاں بات تو تمھاری ٹھیک ہے مجھے تو وہ لڑکی بلکل بھی پسند نہیں آئی۔
دعا نے عمیر کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
ویسے تمہیں حاکم بھائی میں نظر کیا آیا جو تم اس قدر اُن کو چاہتی ہو اتنے کھڑوس ہیں وہ عمیر نے منہ بگاڑتے کہا۔جس پر دعا ہنس پڑی تھی۔
یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے بس مجھے اچھے لگتے ہیں۔اگر میں اُن کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھو تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔دعا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
حاکم جو وہاں سے گزر رہا تھا۔دعا کی بات سن کر وہی رک گیا وہ جانتا تھا کہ دعا کے دل میں اس کے لیے کچھ نا کچھ ضرور ہے لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ اسے اس قدر اسے چاہتی ہے۔
حاکم کو دعا کی بات سن کر غصہ تو بہت آیا تھا لیکن پھر ضبط کیے وہاں سے گزر گیا۔
دعا بھی تھوڑی دیر بعد وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن ہیزام آفس جانے کے لیے نکل رہا تھا جب ماہا اس کے راستے میں حائل ہوئی آپ کو اور کوئی کام نہیں ہے جو بار بار میرے سامنے آجاتی ہو؟ ہیزام نے تھوڑا غصے سے پوچھا۔کیونکہ ماہا کا بار بار ہیزام کے راستے میں آنا اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں ماہا نے ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
جی فرمائیں؟ ہیزام نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں آج میں ماما سے بھی بات کر لوں گی وہ نانا جان سے ہمارے بارے میں بات کر لیں گئے ماہا نے ہیزام کو دیکھتے کہا جو ماہا کی بات سن کر حیران ہوا تھا۔
کیا کہا تم نے؟ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو؟ اور تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں بھی آرام سے مان جاؤں گا؟ محترمہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں اور شادی کرنے کا ارادہ بھی اُسی سے ہے اپنے دماغ سے یہ خیال نکال دوں کہ تمھاری شادی مجھ سے ہو گی۔
ہیزام نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
تم بےشک جسے بھی پسند کرتے ہو ہیزام لیکن تمھاری شادی مجھ سے ہی ہو گی اب دیکھنا میں کیسی چال چلتی ہوں تم بھی مجھ سے شادی کرنے کے لیے مجبور ہو جاؤ گے۔ماہا نے باہر دروازے کی طرف دیکھتے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
نوال اپنے کمرے میں ہی بند تھی۔صنان پوری رات نہیں سویا تھا اسے اپنے رویے پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔بہت بڑی بات وہ غصے میں کہہ چکا تھا۔
لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔نوال بھی اپنے کمرے سے باہر نہیں آئی تھی۔صنان اپنے کمرے سے باہر نکلا اور اپنے قدم نوال کے کمرے کی طرف بڑھا دیے۔
دروازہ کھلا ہوا تھا۔نوال شاید واشروم میں تھی جہاں سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد نوال باہر آئی تو سامنے صنان کو دیکھ کر ایک پل کے لیے حیران ہوئی تھی۔
تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟ اب بھی کچھ رہتا ہے کہنے کو؟ نوال نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں اپنے رویے کی تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں میں جانتا ہوں کہ میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے پلیز مجھے معاف کر دو صنان نے شرمندگی سے کہا۔
نوال کچھ پل صنان کو دیکھتے رہی پھر بولی
صنان اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اسی طرح کرتے رہو گئے اور میں تمہیں معاف کرتی رہو گئی تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے۔
اس بار میں تمہیں ہرگز معاف نہیں کروں گی نوال نے سنجیدگی سے کہا۔
میں مانتا ہوں کہ میں نے جو بھی بولا اُس نے تمہیں بہت تکلیف دی ہے لیکن تم نے بھی کچھ کم نہیں کیا۔
صنان نے آگے بڑھتے نوال کے بالوں سے ٹاول کو الگ کرتے کہا جس کے بال سارے بکھر گئے تھے۔
نوال نے گھور کر صنان کو دیکھا تھا۔صنان نے کمر سے پکڑ کر نوال کو خود کے قریب کیا۔
نوال نے حیرانگی سے صنان کی طرف دیکھا۔
میں تمہیں کبھی بھی تکلیف نہیں دینا چاہتا لیکن تمھاری حرکتیں مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں صنان نے نوال کے ہاتھ کو پکڑتے کہا جہاں پر کانچ لگا تھا۔
صنان نے ہلکا سا اپنی اگلی سے نوال کے زخم کو چھوا جو تکلیف سے سسکی پڑی تھی۔
اس نے جھک کر نوال کے زخم پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔نوال نے بے یقینی سے صنان کو دیکھا تھا۔
تم میرے لیے بہت اہم ہو نوال بس اپنی زبان کو قابو میں رکھا کرو صنان نے نوال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور اس کے چہرے پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے کیا۔
اور جو تم کرتے ہو وہ؟ نوال نے سنجیدگی سے پوچھا۔
جب تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو گی تو مجھے بھی غصہ نہیں آئے گا۔صنان نے عام سے لہجے میں کہا۔
نوال نے صنان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے پیچھے کیا لیکن صنان اپنی جگہ سے زرا سا بھی نہیں ہلا تھا۔
تمہیں ابھی بھی لگ رہا ہے کہ میں اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتی اس لیے تمھارے منہ میں بھی جو کچھ آتا تم بول دیتے ہو؟
اگر تم آرام سے اُس لڑکی کے بارے میں مجھے بتا دیتے تو اتنا تماشہ نا ہوتا لیکن شاید وہ لڑکی تمھارے لیے زیادہ ضروری ہے۔اس لیے تمہیں میری پرواہ بھی نہیں ہے۔نوال نے سرد لہجے میں کہا اور اس بار زور سے صنان کو پیچھے دھکا دیا تھا۔
لیکن صنان نے اس کے وہی ہاتھ کو پکڑ لیا جس پر کانچ لگا تھا۔
تکلیف سے نوال کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا۔کیونکہ صنان کی گرفت مظبوط تھی۔
انسان کی پرائیویسی بھی ہوتی ہے ضروری نہیں کہ ہر بات شوہر کی اُس کی بیوی کو معلوم ہو۔صنان نے نوال کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے سرد لہجے میں کہا۔
تو پھر ٹھیک ہے میں بھی موبائل پر لڑکوں سے باتیں کرتی ہوں اُن سے ملتی ہوں پھر تمہیں بھی میری پرائیویسی میں دخل انداز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
نوال نے صنان کی آنکھوں میں دیکھتے کہا لیکن وہ پھر سے صنان کو غصہ دلا گئی تھی۔
تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی ایسی بے ہودہ بات کرنے کی آئندہ اگر تم نے ایسی کوئی بات کی تو تمھاری جان لے لوں گا صنان نے کرخت لہجے میں نوال کو دونوں بازوں سے پکڑے غصے سے کہا۔
نوال کو صنان کے ہاتھ کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔
اس نے نوال کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اپنی گرفت ہلکی کی بلکہ اسے وہی چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
میں نے سوچا تھا کہ میری زندگی صنان کے ساتھ بہت حسین ہو گی لیکن وہ تو ابھی سے مجھ سے جھوٹ بول رہا ہے۔ایسے انسان کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں نوال نے اپنے ہاتھ سے نکلتے خون کو دیکھتے بےبسی سے کہا جو صنان کے ہاتھ پکڑنے کی وجہ سے نکل آیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
صفیہ تم نے زوہا کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ میرا مطلب ہے کہ شادی وغیرہ کا عزالہ نے صفیہ کو. دیکھتے پوچھا۔
آپی میں نے لیا سوچنا ہے اُس کا باپ اور گھر والے ہیں نا اُس کے بارے میں سوچنے کے لیے صفیہ نے عام سے لہجے میں کہا۔
ارے تم اُس کی ماں ہو اُس پر پورا حق رکھتی ہو۔ اور میں سوچ رہی تھی کیوں نا زوہیب اور زوہا کی بات پکی کر دی جائے اس بارے میں کیا کہتی ہو؟ عزالہ نے پوچھا۔
بات تو آپ کی ٹھیک ہے آپی زوہیب میں بھلا کیا کمی ہے ہاں کوئی جاب نہیں کرتا لیکن اُسے جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے عرفان کا اچھا خاصا بزنس ہے اُسے سنبھالے گا۔
غزالہ نے بھی خوشی سے کہا۔
ہاں میں بھی سوچ رہی ہوں کہ بھائی سے اس بارے میں بات کروں صفیہ نے ہلکا سا مسکرا کر کہا وہ یہی تو چاہتی تھی۔اور اگر زوہیب کی زوہا سے شادی ہو جاتی تو زوہا کے حصے کے سارے پیسے زوہیب کے ہو جانے تھے۔
جی آپی آپ بات کر لیجیے گا اور میرا نہیں خیال کسی کو اس رشتے سے مسئلہ ہو گا غزالہ نے کہا اور پھر ارد گرد کی باتیں کرنے لگی۔
💜 💜 💜 💜
کیا کر رہے ہو؟ میرا ہاتھ چھوڑو اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا ریحان پلیز
ماریہ نے اس بار بےبسی سے کہا۔
اسے اب ریحان سے ڈر لگنے لگا تھا وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر دے کسی تو پتہ نہیں چلتا تھا۔
ریحان اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے گیا اور گاڑی کا دروازہ کھولتے اسے اندر بیٹھایا۔
تم اتنا ڈرتی کیوں ہو ڈارلنگ؟ ریحان نے گاڑی سٹارٹ کرتے پوچھا۔
تمہیں ڈر نہیں لگتا اگر گھر والوں کو ہمارے نکاح کیا پتہ چل گیا تو وہ کیا سوچیں گئے؟ کیا کریں گئے؟ ماریہ نے ریحان کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل بھی نہیں میں نے اُس لڑکی سے نکاح کیا ہے جسے میں پسند کرتا ہوں۔ہاں میرا طریقہ تھوڑا غلط تھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ کہی میری محبت کو کوئی مجھ سے چھین نا لے اس لیے میں نے اُس کے جملہ حقوق اپنے نام کر لیے ریحان نے ماریہ کی طرف دیکھتے ایک آنکھ دباتے کہا۔
ماریہ ریحان کی دیوانگی دیکھ کر حیران ہوئی تھی کوئی اسے اتنا بھی چاہ سکتا ہے اسے امید نہیں تھی۔
سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ میں ابھی بلکل بھی مرنا نہیں چاہتی ماریہ نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔کیونکہ ریحان کی گہری نظروں نے ماریہ کو بوکھلائے پر مجبور کر دیا تھا۔
ریحان ماریہ کی بات پر ہنس پڑا اور اپنی گلاسز لگا کر دوبارہ سڑک پر اپنی نظریں مرکوز کر لیں۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تھوڑی دیر ماریہ نے پوچھا۔
تمھارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ریحان نے کہا اور خاموش ہو گیا اس کے بعد ماریہ نے بھی مزید کچھ نہیں کہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ریحان نے گاڑی روکی اور باہر نکل کر ماریہ کی سائیڈ کا دروازہ کھولا
ماریہ نے باہر نکل کر دیکھا تو سامنے گھر کو دیکھ کر حیران ہو گئی۔کیونکہ یہ گھر ویسا ہی تھا جیسا اس نے سوچا تھا کہ شادی کے بعد الگ سے اپنا بنائے گی۔
چلو اندر ریحان نے ماریہ کے ہاتھ کو پنڑتے ہوئے کہا اور اسے اندر لے گیا۔
تین سال پہلے سب کزن بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب ماریہ نے بتایا کہ وہ شادی کے بعد اپنا ایک گھر بنائے گی اور گھر کس طرح کا ہو گا وہ بھی بتایا تھا۔ریحان نے اس کی بات سن لی اور کچھ دنوں بعد ہی اس نے ایک اچھے سے علاقے میں زمین لی اور وہاں مکان بنوانے لگا۔
اس نے صاقب صاحب کو کہا تھا کہ وہ اپنا ایک گھر بنانا چاہتا ہے کیونکہ اسے شوق ہے اگر شادی کے بعد اس کی بیوی باہر بھی رہنا چاہے تو وہاں پر رہ سکتی ہے۔صاقب صاحب کو بھی ریحان کی بات پسند آئی تھی اس لیے انہوں نے اجازت دے دی اور دادا جان سے بھی بات کر لی اُن کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
اور اب کچھ دن پہلے ہی یہ گھر مکمل ہوا تھا۔
ماریہ جیسے جیسے گھر کو دیکھتی جا رہی تھی اس کی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔
یہ گھر تو ویسا ہی ہے جیسا…..
جیسا تم نے سوچا تھا ریحان نے ماریہ کی باقی کی بات کو مکمل کرتے کہا۔
ماریہ نے رک کر ریحان کو دیکھا تھا۔
یہ گھر بہت خوبصورت ہے ریحان اور کس کا ہے یہ؟ ماریہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
میری بیوی کا ریحان نے تھوڑا جھک کر رازداری سے کہا۔
ماریہ نے بے یقینی سے ریحان کو دیکھا تھا۔
ریحان تم ایک اور نکاح کر چکے ہو؟ ماریہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
ریحان نے ناسمجھی سے ماریہ کو دیکھا لیکن جب اسے بات سمجھ میں آئی تو ایک گھوری سے نوازہ میری ایک ہی بیوی ہے اور وہ تم ہو اور یہ گھر بھی تمھارا ہے۔
ریحان نے گھورتے ہوئے کہا۔
ماریہ منہ کھولے ریحان کو دیکھ رہی تھی۔
منہ بند کرو مکھی چلی جائے گی ریحان نے ماریہ کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا۔
تمہیں مجھ پر اتنا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے ریحان میں بہت خودغرض ہوں تمہیں دھوکہ بھی دے سکتی ہوں ماریہ نے سنجیدہ ہوتے کہا۔
مجھے فرق نہیں پڑتا ماریہ بس مجھے کبھی کسی اور کی خاطر مت چھوڑنا میں جتنا بھی بہادر کیوں نا ہوں لیکن ایک بار ٹوٹ گیا تو دوبارہ ویسا ریحان تمہیں کبھی نظر نہیں آئے گا جیسا اب تمھارے سامنے موجود ہے۔
اچھی طرح گھر دیکھ لو پھر نکلتے ہیں ریحان نے اپنے گلاسز لگاتے کہا اور جھک کر ماریہ کے گال پر بوسہ دیا اور وہاں سے چلا گیا۔
ماریہ اپنی گال پر ہاتھ رکھے حیران کھڑی تھی اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر یہ انسان ہے کیا۔
💜 💜 💜 💜
پھپھو جان مجھے آپ سے بات کرنی ہے رباب نے سکینہ بیگم کو دیکھتے کہا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ان کے گھر آئی تھی اس نے سوچ لیا تھا کہ پھپھو سے بات کرے گی کہ ابتہاج سے بات کریں کہ وہ چاہتا کیا ہے۔
ہاں بیٹا بیٹھو کیا بات کرنی ہے؟ سکینہ نے پیار سے رباب کو دیکھتے کہا۔
وہ مجھے آپ سے…. اس سے پہلے رباب ابتہاج کا نام لیتی سکینہ بیگم کے پیچھے کھڑے ابتہاج کو دیکھ کر اس کی زبان کو بریک لگی تھی ابتہاج سنجیدگی سے سینے ہر ہاتھ باندھے رباب کو دیکھ رہا تھا۔
ہاں کہو بیٹا سکینہ نے کہا۔
موم نانی جان آپ کو بلا رہی ہیں انہوں نے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔دعا کی کال آئی ہے مجھے ابتہاج نے سکینہ بیگم کو کہا۔
امی بلا رہی ہیں ٹھیک ہے رباب بچے میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں اگر ضروری بات ہے تو ابھی تم کر لو سکینہ نے رباب کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں پھپھو جان اتنی کوئی خاص بات نہیں تھی۔میں بعد میں کر لوں گی۔رباب نے جلدی سے کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا سکینہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
ابتہاج چلتا ہوا رباب کے سامنے آیا اور اسے کھڑے ہونے کا اشارہ کیا۔
رباب نظریں جھکائے کھڑی ہو گئی تھی۔
کیا بات کرنی تھی تم نے موم سے یقیناً میری ہی کوئی بات تھی اس لیے مجھے دیکھ کر تمھارے منہ پر بارہ بج گئے ابتہاج نے پہلے اپنی دو انگلیوں سے رباب کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا اور اس کے قریب ہوتے انگلی کی پور سے رباب کی ناک میں پہنی بالی کو چھوتے ہوئے گہرے لہجے میں پوچھا۔
💜 💜 💜 💜