122.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

قسط 23
بغیر اجازت کے کاپی پیسٹ کرنا منع ہے
💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️
ابو جان میں آپ سے ہیزام کے لیے ماہا کی بات کرنے آئی ہوں میری بچی ہیزام کو بہت پسند کرتی ہے۔غزالہ نے دادا جا کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔
گھر میں اتنے مسئلے کھڑے ہوئے پڑے ہیں اور تم کون سی بات لے کر آگئی ہو یہ وقت ہے ان سب باتوں کا؟ دادا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
ابو جان مسئلہ کون سا ہوا ہے؟ اب وہ لڑکی صنان کی بیوی ہے اور اسی گھر میں رہے گی اور صنان کے بچے کی ماں بھی بننے والی تو میں آپ کو یہی مشورہ دوں گی صنان کو آپ کہیں کہ وہ نوال کو طلاق دے دیں اور زائشہ کے ساتھ اپنی زندگی گزارے
غزالہ نے کہا تو دادی جان نے غصے سے غزالہ کو دیکھا تھا۔
تیرے سے کسی نے مشورہ نہیں مانگا اور نوال صنان کی بیوی ہے اور آئندہ تو نے اگر کوئی بھی فضول بات منہ سے نکالی تو اچھا نہیں ہو گا۔انسان کو بولنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ وہ کیا بول رہا ہے۔دادی جان نے غزالہ کو گھورتے ہوئے کہا۔
امی آپ کو تو میری ہر ایک بات سے مسئلہ بوتا ہے اور آپ کو کون سی میری کوئی بھی بات پسند آتی ہے غزالہ نے ناراضگی سے کہا۔
کیونکہ تیری باتوں میں فساد ہوتا ہے جس کی زرد میں سارے لوگ آجاتے میں تجھے کہہ رہی ہوں غزالہ اب اگر تیری وجہ سے یہاں کوئی بھی آپس میں لڑا تو سب سے پہلے میں نے تجھے اس گھر سے باہر نکالنا ہے دادی جان نے صاف لفظوں میں کہا۔
امی آپ مجھے میرے ہی گھر سے باہر نکالنا چاہتی ہیں؟ غزالہ نے بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
شادی کے بعد بیٹیاں اپنے گھر ہی اچھی لگتی ہے دادی جان نے کہتے ہی رخ موڑ لیا۔
آپ نے بھی کہہ دیا کہ یہ میرا گھر نہیں ہے لیکن میں بھی کہی نہیں جا رہی جتنا حق باقی سب کا اس گھر پر ہے اتنا ہی حق میرا بھی اس گھر پر ہے۔غزالہ نے کہا۔
مت بھولو غزالہ کہ تم اس گھر سے اپنا حصہ لے چکی ہو اور تمھاری بات کا میں اچھے سے مطلب سمجھ رہا ہوں شکر کرو کہ تمھارے بھائی اچھے ہیں انہوں نے تمہیں یہاں رہنے کی جگہ دی لیکن اگر تمھاری حرکتیں اور زبان اسے ہی دوسروں کے خلاف چلتی رہی تو وہ لوگ تمہیں گھر سے باہر نکالنے میں دیر نہیں کریں گئے دادا جان نے سرد لہجے میں کہا۔
ابو جان میں نے تو کچھ نہیں کہا میں تو یہاں ماہا کی بات کرنے آئی تھی۔اور آپ دونوں سے معافی مانگنے آئی تھی۔
غزالہ نے جلدی سے اپنا لہجہ تبدل کرتے کہا۔
میں ماہا کی پسند کی قدر کرتا ہوں غزالہ ہیزام بہت اچھا لڑکا ہے لیکن وہ خود مجھ سے بات کر چکا ہے کہ وہ عدن سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میں اب اپنے پوتے پوتیوں کے سر پر اپنے فیصلے عائد نہیں کروں گا کیونکہ مجھے سمجھ آگئی ہے زندگی اُن دونوں نے گزارنی ہے اگر میں نے کوئی غلط فیصلہ کر لیا تو تین زندگیاں خراب ہو جائیں گی۔اور جہاں تک معافی کی بات ہے مجھے نہیں لگتا کہ تم. یہاں معافی مانگنے آئی تھی تمہیں ہماری معافی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔دادا جان نے غزالہ کو دیکھتے کہا۔
لیکن ابو جان ماہا بھی تو ہیزام کو پسند کرتی ہے اور میری ماہا عدن سے ہر لحاظ میں بہتر ہے۔میری بچی ہیزام کے ساتھ اچھی بھی لگے گی۔اور میں سچ میں آپ سے معافی مانگنے آئی تھی۔غزالہ نے جلدی سے کہا۔
تو ہم ماہا کے لیے بھی کوئی اچھا لڑکا تلاش کریں گئے جو اُس کے مطابق ہو کیونکہ ہیزام ماہا کے جوڑ کا نہیں ہے۔دادا جان نے اپنا فیصلہ سناتے کہا۔
غزالہ خاموش ہو گئی تھی اس کے پاس مزید کچھ کہنے کو نہیں تھا۔تھوڑی دیر بعد غزالہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
میں نے سوچا ہے کہ یہ صنان والا معاملہ جیسے ہی ٹھیک ہوتا ہے ہیزام اور عدن کے ساتھ ماریہ اور ریحان کا بھی نکاح کر دیتے ہیں۔
عرفان نے مجھ سے بات کی تھی وہ ریحان کو اپنا داماد بنانا چاہتا ہے دادا جان نے پاس بیٹھی دادی جان کو دیکھتے کہا۔
میاں جی ہیزام اور عدن کا تو ٹھیک ہے لیکن کیا ماریہ اور ریحان راضی ہیں؟ دادی جان نے پوچھا تو خاور صاحب مسکرا پڑے۔
مجھے معلوم ہے عرفان نے پہلے ماریہ اور ریحان دونوں سے بات کی ہو گی اُنکی رضامندی کے بعد ہی اُس نے مجھ سے بات کی ہو گی۔
دادا جان نے کہا تو دادی جان بھی مسکرا پڑی چلو یہ بھی اچھا ہے بس میرا صنان جلدی سے سب ٹھیک کر دے اور آپ نے ہسپتال جانا تھا دادی جان نے یاد آنے پر کہا۔
ہاں میں بس تھوڑی دیر تک ہیزام کے ساتھ نکل رہا ہوں دادا جان نے وہاں سے کھڑے ہوتے کہا۔
نوال کو اچھی طرح سمجھا دیجیے گا میں جانتی ہوں وہ بہت دکھی ہو گی لیکن آپ اُسے سارا سچ بتا دینا۔دادی جان نے کہا تو خاور صاحب اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلے گئے۔
💜 💜 💜 💜
تم نے چاچو جان سے ہماری شادی کی بات کی؟
ریحان نے ماریہ کے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔جس نے اسے گھوری سے نوازہ تھا۔
کسی لڑکی کے کمرے میں ناک کرکے آتے ہیں۔اتنا بھی معلوم نہیں ہے تمہیں؟ ماریہ نے بیڈ سے کھڑے ہوتے پوچھا۔
ریحان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی تھی۔اس نے ماریہ کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
غلطی ہو گئی مسز
معاف کر دو ریحان نے جھک کر ماریہ کےکان لے پاس سرگوشی نما انداز میں کہا۔ماریہ ایک دم گھبرا گئی تھی تھی۔
تم پیچھے رہ کر بھی بات کر سکتے ہو۔
ماریہ نے ریحان کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا۔
مجھے اچھا لگتا ہے تمھارے بےحد قریب آکر بات کرنا۔کیا تم بھی مجھے پسند کرنے لگی ہو؟ ریحان نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
تم نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے اس کے بعد بھی میں تمہیں پسند کروں گی۔ماریہ نے سنجیدگی سے ریحان کو دیکھتے کہا۔جو ہنس پڑا تھا۔
تمھاری زبان اور تمھاری آنکھیں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہیں اب میں کس پر یقین کروں؟ ریحان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
ماریہ نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں تھیں۔
چاچو نے مجھ سے بات کی اور پوچھا کہ کیا میں اُن کا داماد بننا پسند کروں گا میں نے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ
ضرور بننا چاہوں گا اور اُن کو تو معلوم ہی نہیں کہ میں اُن کا داماد بن چکا ہوں۔
خیر اچھا ہے ہم دونوں کا دوبارہ نکاح ہو گا دونوں کی رضا مندی سے ریحان نے گہری نظروں سے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
تمہیں پہلے مجھ سے معافی مانگنی ہو گی جو تم نے زبردستی مجھ سے نکاح کیا اُس کے بعد پھر میں تم سے دوبارہ نکاح کروں گی۔
ماریہ نے ریحان کو دیکھتے کہا۔
معافی تو سچ میں میں تم سے مانگنا چاہتا تھا مسز بس موقع نہیں مل رہا تھا۔اور مجھے حیرانگی بھی ہوئی کہ تم. نے خود چاچو جان سے ہمارے لیے بات کی۔
ریحان کہتے ہی ماریہ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ماریہ گھبرا کر جلدی سے پیچھے ہوئی تھی۔
نہیں تم کھڑے ہو جاؤں ایسے بیٹھے ہوئے بلکل بھی اچھے نہیں لگ رہے۔
ماریہ نے جلدی سے کہا۔لیکن ریحان ویسے ہی بیٹھا رہا تھا۔
نہیں مجھے ایسے ہی معافی مانگنی ہے ریحان نے کہا تو کچھ سوچ کر ماریہ بھی اس کے سامنے ایسے ہی بیٹھ گئی۔
اب ٹھیک ہے اب معافی مانگو ماریہ نے مسکراتی نظروں سے ریحان کو دیکھتے کہا۔
ریحان کو اس وقت ماریہ پر بہت پیار آیا تھا۔
میں تمھارے ساتھ زبردستی نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا بس مجھ ڈر تھا کہ کہی تم مجھ سے دور نا چلی جاؤ اس لیے میں نے تم سے زبردستی نکاح کیا پلیز ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔
جتنا بھی تم مجھ سے ناراض رہنا چاہو رہ لو بس مجھ سے دور مت جانا۔میں کبھی برداشت نہیں کر پاؤں گا۔ریحان نے ماریہ کے ہاتھوں کو اہنے ہاتھ میں لیتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
ہممم مجھے تمھارا معافی مانگنے کا انداز پسند آیا لیکن میں ایک شرط پر تمہیں معاف کروں گی۔ماریہ نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اور وہ شرط کیا ہے؟ ریحان نے حیرانگی سے پوچھا۔
شادی کے بعد تم مجھے کنسرٹ دکھانے لے کر جاؤ گئے بولو منظور ہے؟ تو میں بھی تمہیں معاف کر دوں گی۔ماریہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کہی یہ وہی بینڈ تو نہیں ہے؟ جو اس وقت پوری دنیا میں چھایا ہوا ہے؟ ریحان نے ماریہ کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
ہاں وہی ہے تم جانتے ہو نا مجھے بس ایک بار ان کے کنسرٹ میں جانا ہے پلیز مجھے لے جانا اور دیکھو میں تمھارے ساتھ جانا چاہتی ہوں ماریہ نے خوشی سے کہا۔
تمہیں اکیلے جانے کی اجازت تو میں بھی نہیں دوں گا مسز اور تمھارے لیے ایک کنسرٹ کیا ہزاروں کنسرٹ میں میں تمہیں لے کر جا سکتا ہوں لیکن جس بینڈ کی تم بات کر رہی اُن کے شو کی ٹکٹ ملنا بہت مشکل ہے تم بھی جانتی ہوں ساری ٹکٹس اُنکی اتنی جلدی سیل ہوتی ہیں جیسے فری میں مل رہی ہوں۔
لڑکیاں تو ویسے ہی اُن کے پیچھے پاگل ہیں اور اُن میں میری بیوی بھی شامل ہے۔
ریحان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ریحان تمہیں اتنا سب کیسے معلوم ہے؟ ماریہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
تمہیں جو چیز پسند ہو گی اُس کے بارے میں جاننا میرا حق ہے اور جب مجھے پتہ چلا کہ تمہیں ایک بینڈ پسند ہے تو پھر میں نے ان کے بارے میں معلوم کیا تھا۔
اور ہاں میں پوری کوشش کروں گا اگر مجھے ٹکٹس ملی تو ہم ضرور ان کے کنسرٹ میں جائیں گئے ریحان نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
واؤ ریحان تم بہت اچھے ہو ماریہ نے جذباتی پن میں کہا اور ریحان کے گلے جا لگی۔ریحان نے حیرانگی سے ماریہ کو دیکھا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ ماریہ اُس بینڈ کے پیچھے پاگل ہے اور اس کے بارے میں کچھ بھی برا نہیں سن سکتی لیکن وہ اس قدر جذباتی ہو گی یہ اسے معلوم نہیں تھا تھوڑی دیر بعد جب ماریہ کو احساس ہوا تو جلدی سے پیچھے ہوئی لیکن ریحان نے اسے پیچھے نہیں ہونے دیا۔
تھوڑی دیر رک جاؤ اچھا لگ رہا ہے ریحان نے کہا تو ماریہ نے مسکرا کر وہی اس کے سینے پر سر رکھے آنکھیں موند لیں۔
اسے نہیں لگتا تھا کہ ریحان جیسا ہمسفر اسے مل سکتا تھا جو اس کی چھوٹی سے چھوٹی پسند کے بارے میں بھی سارے معلومات رکھتا تھا۔
اور اسے پوری امید تھی کہ ریحان اسے منع کر دے گا لیکن ریحان نے اس کی سوچ کے برعکس جواب دیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
مجھے لگتا ہے تمہیں نوال سے بات کرنی چاہیے ابتہاج نے صنان کو دیکھتے کہا۔
ابھی اگر میں تمھاری بہن کے سامنے گیا نا تو وہ میری جان لینے میں بھی نہیں ہچکچائے گی۔اور ابھی میں بھری جوانی میں اپنی بیوی کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا۔صنان نے سنجیدگی دے کہا۔
نانا جان ہسپتال گئے ہیں میرے خیال سے وہ تمھارا کام آسان کر دیں گئے۔
ابتہاج نے صنان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
مجھے تو لگ رہا ہے میں پاگل ہو جاؤں گا۔
صنان نے اپنا سر پکڑتے کہا۔
ابھی پاگل مت ہونا ورنہ میری بہن کا کیا ہو گا ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
صنان نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟عمیر نے دونوں کودیکھتے پوچھا۔
تم اندر آچکے ہو ابتہاج نے سنجیدگی سے کہا۔ اوہ سوری مجھے لگا میں باہر کھڑا ہوں عمیر نے دانت نکالتے کہا۔
میں آپ کے مسئلے کا حل لے کر آیا ہوں میری دن رات کی محنت رنگ لائی اور یہ دیکھیں آپ دونوں عمیر نے اپنا موبائل ابتہاج اور صنان کے سامنے کرتے کہا۔
موبائل میں ایک ویڈیو چلی تھی جو زائشہ اور زوہیب کی تھی۔
یہ ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں؟
اور آواز تو ان کی آ نہیں رہی تم نے بس دونوں کی شکلوں کی ویڈیو بنائی؟ ابتہاج نے عمیر کو دیکھتے پوچھا۔
بھائی میں دور کھڑا تھا تو اتنی دور سے آواز تو نہیں آسکتی نا لیکن ان کے بات کرنے کے انداز سے لگ رہا جیسے یہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔عمیر نے کہا۔
صنان کیسی سوچ میں غرق تھا۔
کہی یہ بچہ زوہیب کا تو نہیں؟ صنان نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟ ابتہاج نے حیرانگی سے پوچھا۔
تم زوہیب کی حرکتوں سے ابھی واقف نہیں ہو مجھے پہلے دونوں کا ڈی این اے کروانا ہو گا اور اگر ویسا ہی ہوا جیسا میں سوچ رہا ہوں تو پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں صنان نے دانت پیستے کہا۔
عمیر معلوم کرو کہ کیا کبھی زوہیب امریکہ گیا ہے؟ صنان نے عمیر کو دیکھتے کہا۔
جی بھائی عمیر نے اپنا موبائل پکڑتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زوہیب حاکم سے کس قدر مختلف ہے ابتہاج نے گہرا سانس لیتے کہا۔
بہت زیادہ مختلف ہے ان میں سے ایک وہی تو عقلمند ہے۔صنان نے کہتے ہی پیچھے صوفے بسے ٹیک لگائے آنکھیں موند لی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
رات میں صوفے پر سوئی تھی تو میں بیڈ پر کیسے آئی؟ دعا نے کمر پر ہاتھ رکھتے حاکم کع گھورتے ہوئے پوچھا۔
میں نے تمہیں بیڈ پر لیٹایا تھا حاکم کہہ کر دوبارہ موبائل میں بزی ہو گیا۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی دعا نے سرد لہجے میں حاکم کو دیکھتے پوچھا۔
حاکم نے حیرانگی سے دعا کو دیکھا تھا۔
ویسے تو آپ کو عورتوں سے نفرت ہے تو آپ نے مجھے ہاتھ کیوں لگایا دعا نے کہا تو حاکم نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا تھا۔
” مجھے پیچھلے دنوں ایک معصوم سی لڑکی نے کہا تھا کہ اگر میری پہلی بیوی نے مجھے دھوکہ دیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے ضروری نہیں کہ ہر لڑکی میری پہلی بیوی کی طرح ہو اور اُس لڑکی کی حالت اُس وقت بہت بری تھی۔
اُس لمحے اُس معصوم لڑکی کے الفاظ نے مجھے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔اُس کی بات درست تھی پیار کرنا گناہ تو نہیں ہے اگر اُس معصوم لڑکی نے مجھ سے پیار کیا تو اس میں برائی کیا ہے۔“
میں نے ان سب باتوں کے بارے میں سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اب میں اُس لڑکی کو مزید تکلیف نہیں دوں گا جو اب میری بیوی ہے اور میرے سامنے کھڑی ہے۔حاکم نے دعا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
اوہ تو اسی لیے آپ کا موڈ کچھ دنوں سے تبدل تھا۔دعا نے سنبھلتے ہوئے یاد آنے پرکہا۔
دعا میری بات سنو میں پوری کوشش کروں گا بلکہ کر رہا ہوں کہ میں تمھارے ساتھ ٹھیک رہو لیکن مجھے اپنی پہلی بیوی کے دیے ہوئے فریب سے نکلنے میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا۔
حاکم نے دعا کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
لو جو چھوڑ کر چلی گئی ابھی بھی اُسی کے بارے میں سوچتے ہیں اور جو سامنے ہے اُس کی پرواہ ہی نہیں دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
چلو یہ بھی اچھا ہے یہ کھڑوس تھوڑا بہت ہی سہی ٹھیک تو ہوا ہے دعا مسکراتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
کہاں جانے کی تیاری ہے؟ ہیزام نے عدن کو تیار دیکھا تو پوچھا۔
تمہیں اور کوئی کام نہیں ہے جو بار بار میرے راستے میں آجاتے ہو؟ عدن نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
کام تو بہت سے ہیں لیکن تمہیں دیکھتے ہی سب کام چھوڑ دیتا ہوں ہیزام نے تھوڑا جھک کر کہا۔
تم نے بہت خراب ہو گئے ہو عدن نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
خراب کیا ہوتا ہے؟ ہیزام نے ناسمجھی سے عدن کو دیکھتے پوچھا۔
جو تم ہو وہی ہوتا ہے عدن نے کہا لیکن ابھی بھی ہیزام کو سمجھ نہیں آئی تھی۔
خیر چھوڑو میں سوچ رہا ہوں نوال اور صنان کا معاملہ ٹھیک ہو جاتا ہے تو ہم بھی نکاح کر لیتے ہیں پھر کچھ کام کے سلسلے میں میں ملک سے باہر جانا ہے کچھ ماہ کے لیے ہیزام نے عدن کو دیکھتے کہا۔
ارے نہیں بلکل بھی نہیں تم کہی نہیں جاؤ گئے اگر تم نے باہر کہی جاکر شادی کر لی تو؟ شادی کے بعد میں خود تمھارے ساتھ جاؤں گی تم مردوں کا کیا بھروسہ اگر تم بھی باہر سے صنان بھائی کی طرح نکاح کرکے آگئے تو؟ اور میں جیل جانا پسند کروں گی لیکن کسی لڑکی کو تمھارے ساتھ برداشت نہیں کروں گی عدن نے جلدی سے کہا۔
ہیزام عدن کے خیالات سن کر ہنس پڑا تھا تم اُس لڑکی کی جان لو گی؟ ہیزام نے سینے پر بازو باندھتے پوچھا۔
کس نے کہا میں اُس لڑکی کی جان لوں گی؟ مسٹر میں آپ کی جان لوں گی پھر جیل جاؤں گی۔عدن نے کھا جانے والی نظروں سے ہیزام کو دیکھا اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
ہیزام ابھی بھی وہی حیران کھڑا تھا۔میری ہونے والی بیوی کے خیالات تو بہت برے ہیں ہیزام تجھے بچ کر رہنا ہو گا۔ہیزام نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜 💜
کیسا ہے میرا بچہ؟ دادا جان نے نوال کے پاس بیٹھتے پیار سے پوچھا جو اب کافی بہتر تھی۔
میں ٹھیک ہوں نانا جان نوال نے مسکرا کر کہا۔
ہاں لیکن بہت کمزور ہو گئی ہو۔
اور بیٹا جی میں تو تمہیں بہت بہادر سمجھتا تھا۔تم میری بہادر بچی ہو لیکن تم نے اپنا کیا حال بنا لیا۔دادا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
نوال کے پاس اس بات کا جواب نہیں تھا اس لیے نظریں جھکا لیں۔
گھر کب جانا ہے؟ لگتا ہے تمہیں ہسپتال کچھ زیادہ ہء پسند آگیا ہے۔
دادا جان جے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
میں خود گھر جانا چاہتی ہوں نانا جان میں نے موم سے بھی کہا ہے۔نوال نے منہ بسوڑتے کہا۔
ہاں بس تھوڑی دیر تک نکلتے ہیں صنان باقی سارے معاملات دیکھ لے پھر نکلتے ہیں۔دادا جان نے کہا۔لیکن صنان کے نام پر نوال خاموش ہو گئی تھی۔
ہیزام سکینہ بیگم کو گھر لے گیا تھا اور صنان یہاں آگیا تھا۔وہ ایک نظر نوال کو دیکھنا چاہتا تھا۔
بیٹا جی میں آپ کو حقیقت بھی بتانا چاہتا ہوں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں صنان کی طرف داری کر کررہا ہو بلکل بھی نہیں میں بس تمھیں حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ دادا جان نے کہا اور ساری بات نوال کو بتانے لگے۔
نوال سنجیدگی سے دادا جان کی بات سن رہی تھی۔
نانا جان پھر وہ لڑکی جھوٹ کیوں بول رہی کہ وہ بچہ صنان کا ہے؟ نوال نے پوری بات سننے کے بعد دادا جان سے پوچھا۔
بیٹا یہ تو میں بھی نہیں جانتا لیکن صنان نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد سارا سچ ہمارے سامنے لے آئے گا۔
دیکھو بیٹا ہمیشہ جیسا ہم نے سوچا ہوتا ہے ویسا بلکل بھی نہیں ہوتا اب صنان نے جو دوسرا نکاح کیا اُس کی سب سے بڑی وجہ وہ انسان تھا جو بیمار تھا صنان نے اُس کی مدد کی اور مجھے لگتا ہے اُسے تمہیں بھی سارا سچ بتا دینا چاہیے تھا اور اُس نے بچے کے باپ کو تلاش کرنے کے بعد اُس لڑکی کو طلاق دے دینی تھی۔شاید اُس نے تمہیں اس لیے بھی نہیں بتایا کہ اُسے پتہ تھا کہ تم بہت حساس ہو اور برداشت نہیں کر پاؤ گئی۔اور بیٹا اگر سچ جاننے کے بعد مجھے بھی لگتا کہ صنان نے غلط کیا ہے تو میں بھی کبھی اُسے معاف نا کرتا۔دادا جان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
نوال خاموش رہی تھی۔
اتنے میں دروازہ ناک ہوا اور ڈرائیور اندر آیا دادا جان گاڑی تیار ہے۔ڈرائیور نے مودبانہ انداز میں کہا۔
صنان کہاں ہے؟ دادا جان نے پوچھا۔
دادا جان وہ تو چلے گئے ہیں ڈرائیور نے کہا۔ لیکن پتہ نہیں کیوں نوال کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
دل تو کہہ رہا تھا کہ صنان کو دیکھے لیکن وہ تو اپنی ایک جھلک دکھائے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔
ٹھیک ہے ہم آرہے ہیں دادا جان نے کہا۔
بیٹا چلیں؟ دادا جان نے پیار سے پوچھا۔
نوال نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
موم ایسے کیسے نانا جان منع کر سکتے ہیں؟ میں اُس عدن کی جان لے لوں گی۔ماہا نے غصے سے غزالہ کو دیکھتے کہا۔
جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ دادا جان نے صاف صاف لفظوں میں منع کر دیا ہے تب سے اپنی ماں کا سر کھا رہی تھی۔
تمہیں جو کرنا ہے کرو لیکن میرا سر نا کھاؤ اور جاؤ یہاں سے غزالہ نے غصے سے کہا۔
ٹھیک ہے اب آپ دیکھیں کہ میں کیا کرتی ہوں اگر ہیزام کی شادی مجھ سے نہیں ہو گی تو عدن سے بھی نہیں ہونے دوں گی۔
ماہا نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
پیچھے غزالہ نے ماہا کی بات پر غور نہیں کیا تھا۔لیکن وہ کچھ بڑا ہی کرنے والی تھی۔
💜 💜 💜 💜