58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

صنان جلدی سے نوال کو اپنی بانہوں میں اٹھائے اسے ہسپتال لے گیا تھا۔
اور اس وقت تابی سے آپریشن تھیٹر کے باہر چکر لگا رہا تھا۔ابتہاج اس کے ساتھ ہی تھا۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا۔
صنان نے بےتابی سے نوال کا پوچھا۔
شکر ہے کہ آپ انہیں وقت پر یہاں لے آئے ورنہ انکی جان بھی جا سکتی تھی۔
انکا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا اور ابھی وہ بے ہوش ہے لیکن آپ دعا کریں کہ انہیں جلدی ہوش آجائے اور اُن کو ٹینشن والی باتوں سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔وہ کافی حساس ہیں ڈاکٹر ایک دو اور ہدایت دینے کے بعد وہاں سے چلا گیا اور وہاں سے چلا گیا۔
ابتہاج نے سنجیدگی سے صنان کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر بارہ بجے ہوئے تھے۔
تم جانتے ہو نا تمھاری وجہ سے میری بہن کی جان بھی جا سکتی تھی۔ابتہاج نے تھوڑا سرد لہجے میں کہا۔اسے بھی لگا تھا کہ صنان سب سنبھال لے گا۔
تمھاری بہن میری بیوی بھی ہے اور یہ مت بھولو کہ تم میرے دوست بھی ہو اور تم بھی مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور میں بہت جلدی سب ٹھیک کرو دوں گا۔صنان نے سنجیدگی سے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
اتنے میں صاقب صاحب اور جہانگیر صاحب بھی وہاں آگئے تھے۔ان دونوں کو دیکھتے ہی صنان وہاں سے نکل گیا۔
نوال اب خطرے سے باہر تھی اس کے لیے یہی کافی تھا۔
لیکن سب سے پہلے اسے زائشہ کا دماغ درست کرنا تھا۔
ابتہاج صنان کو دیکھ رہا تھا۔جو مدد کرکے مصیبت میں پڑ گیا تھا۔
بیٹا نوال کیسی ہے؟ صاقب صاحب نے جلدی سے پوچھا تو ابتہاج نوال کی حالت کے بارے میں دونوں کو بتانے لگا۔
💜 💜 💜 💜
صنان سیدھا حویلی آیا تھا۔
زائشہ دادی جان اور نمرہ بیگم کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اور غزالہ کو تو موقع مل گیا تھا۔
کتنا شریف سمجھتے تھے ہم صنان کو اور کیسا نکلا اس نے اپنے نکاح کا کسی کو بتایا بھی نہیں اور پتہ نہیں کتنی کے ساتھ اس کا تعلق ہو گا ابھی تو ایک سامنے آئی ہے غزالہ نان سٹاپ بولتی جا رہی تھی جب حاکم نے اپنی ماں کو دیکھا اور وہاں آیا۔
موم آپ سے کسی نے مشورہ نہیں مانگا پہلے ہی سب پریشان ہیں تو آپ سب کو مزید پریشان نا کریں حاکم نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
صنان پیچھے ہی کھڑا تھا اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر آنسو بہاتی زائشہ گھبرا سی گئی تھی۔اس وقت اسے صنان سے ڈر محسوس ہو رہا تھا۔
ارے تم مجھے کیوں چپ کر وا رہے ہو میں تو سچ ہی بول رہی ہو اور سچی بات تو سب کو کڑوی لگتی ہے غزالہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
پھپھو جان فکر مت کریں جن لڑکیوں کے ساتھ میرے تعلق تھے اُن سب کے بارے میں آپ کو بتا دوں گا لیکن پہلے آپ اپنے بیٹے پر نظر رکھے کہی اُس نے میرے سے زیادہ باہر کہی لڑکیوں کے ساتھ تعلق نا بنائے ہوں صنان نے سرد لہجے میں کہا۔ایک پل کے لیے وہاں خاموشی چھا گئی تھی۔
صنان مجھے تم سے بات کرنی ہے دادا جان نے صنان کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
دادا جان جب تک سچ سب کے سامنے نہیں آ جاتا آپ میں سے کیسی نے میری بات کا یقین نہیں کرنا اور میں ہر ایک کو صفائی بلکل بھی نہیں دوں گا میں آپ کے سامنے اب ثبوت کے ساتھ آؤں گا لیکن ابھی مجھے ان میڈم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے صنان نے سرد لہجے میں کہا اور آگے بڑھ کر زائشہ کو بازو سے پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے کی طرف لے جانے لگا۔
سب لوگ وہاں کھڑے صنان کو دیکھ رہے تھے۔
دادا جان اپنا سر پکڑے وہی بیٹھ گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
صنان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی زور سے دروازہ بند کیا جس سے زائشہ ڈر گئی تھی۔
یہاں کیا کر رہی ہو؟ اور تمہیں یہاں کا ایڈریس کس نے دیا؟
صنان نے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔زائشہ خاموش رہی تھی۔
تم سے بات کر رہا ہوں۔صنان نے اپنے قدم زائشہ کی طرف بڑھاتے کرخت لہجے میں کہا۔
” تمہیں کیا لگتا ہے؟ میں تمھاری محبت میں پاگل تھا اس لیے تم سے نکاح کیا؟
تمھارے ساتھ نکاح میں نے صرف تمھارے باپ کی وجہ سے کیا تھا ورنہ میں جس لڑکی کو پسند کرتا ہوں بہت سال پہلے میرا نکاح اُس سے ہو چکا ہے۔
اور یہ بچہ؟ یہ بچہ کس کا ہے؟ اج تک میں نے نہیں پوچھا لیکن اب تمہیں جواب دینا ہو گا۔صنان نے سختی سے زائشہ کو کندھوں سے پکڑتے غرا کر پوچھا۔“
یہ آپ کا بچہ ہے زائشہ نے آنکھیں بند کیے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
جھوٹ!!! جھوٹ بول رہی ہو تم اور کیا بکواس کی تم نے میری فیملی کے سامنے کہ یہ میرا بچہ ہے جبکہ تم بھی اچھی طرح جانتی ہو نکاح سے پہلے تو کیا نکاح کے بعد بھی میں نے تمہیں ہاتھ تک نہیں لگایا تو یہ بچہ میرا کیسے ہو سکتا ہے؟تم میرے سامنے جھوٹ کیسے بول سکتی ہو تم بھی جانتی ہو اس بچے کی وجہ سے میں نے تم سے نکاح کیا اور تم مجھ پر ہی الزام لگا رہی کہ یہ میرا بچہ ہے؟
جواب دو؟ آج تمھارے جھوٹ کی وجہ سے میری بیوی کی آنکھوں میں میں نے اپنے لیے بے اعتباری دیکھی تمھاری وجہ سے پورے خاندان کے سامنے مجھے جھوٹا بننا پڑا۔تمھاری وجہ سے میری بیوی موت کے منہ سے واپس آئی ہے۔
کیوں کیا تم نے ایسا جواب دو؟ صنان نے زائشہ کو مزید اپنے قریب کرتے کہا۔
زائشہ کو لگ رہا تھا صنان کے ہاتھ کی انگلیاں اس کے بازو میں دھنستی جارہی ہیں۔
میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں صنان میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں میں طلاق نہیں لینا چاہتی !!! زائشہ نے آنکھیں بند کیے بےبسی سے کہا جبکہ آنسو نا چاہتے ہوئے بھی اس کے گال بھگو گئے تھے۔
کیا؟؟ محبت صنان نے منہ میں بڑبڑایا
تھوڑی دیر تک زائشہ صنان کے ردعمل کا انتظار کرتی رہی پھر آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی جو بے یقینی سے سنایہ کو دیکھ رہا تھا۔
میں جانتی ہو صنان مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں معافی مانگتی ہوں آپ سے میں خود نہیں جانتی میں کیسے آپ کی محبت میں گرفتار ہو گئی پلیز مجھے معاف کر دیں۔پلیز مجھے اپنا لیں ذائشہ نے گڑگڑاتے ہوئے صنان کو دیکھتے کہا۔
غلطی؟ غلطی نہیں زائشہ تم نے گناہ کیا ہے۔
اور آج جو تم نے کیا اُس کے لیے میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔میں اب خود تمھارے اس بچے کے باپ کو تلاش کروں گا۔تم نے مجھ سے جھوٹ بولا کہ تم یہاں آکر اس بچے کے باپ کو ڈھونڈنا چاہتی ہو تم تو میرے گھر کو خراب کرنے یہاں آئی تھی۔
صنان نے زائشہ کے بازوں سے ہاتھ پیچھے کرتے سر نفی میں ہلاتے کہا۔
آنکھیں اس کی سرخ ہو رہی تھیں۔آج اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا دل دکھا تھا۔
کوشش کرنا کہ میری نظروں کے سامنے مت آؤ ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلہ دبا دوں گا۔
صنان نے زائشہ کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا اور پھر ایک سیکنڈ بھی وہاں نہیں رکا تھا۔
پیچھے زائشہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔پورا چہرا آنسو سے تر ہو چکا تھا۔
” میں آپ سے محبت کرتی ہوں صنان میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی زائشہ نے بےبسی سے اپنے بالوں کو دبوچتے کہا۔
صنان کا اس سے دور جانے کا سوچ کر ہی اسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
یہ سب کچھ اس نے صنان کی محبت اور اس کے ساتھ رہنے کے لیے ہی تو کیا تھا لیکن کچھ الٹا ہو گیا تھا۔
💜💜💜💜💜
ریحان زوہیب کو تصویر لیتے دیکھ چکا تھا۔
زوہیب اپنے کمرے میں گیا اور اس نے زائشہ کو آنے کا کہا اور کہہ کر جیسے ہی پیچھے مڑا
تو ایک دم سامنے کھڑے ریحان کو دیکھ کر ڈر گیا تھا جو ماتھے پر سخت تیور لیے کھڑا تھا۔
ریحان نے اپنے قدم زوہیب کی طرف بڑھائے زوہیب ڈر کے مارے اپنے قدم پیچھے کو لینے لگا تھا۔
آپ یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں کوئی کام تھا؟ زوہیب نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے پوچھا۔
ریحان نے کوئی جواب نہیں دیا اور ایک زور دار تھپڑ زوہیب کے چہرے پر دے مارا۔
جو لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے کھڑا ہوا تھا۔
ریحان نے اس پر بس نہیں کیا آگے بڑھا اور دوسرا تھپڑ بھی اسے دے مارا اور زمین پر گرے اس کے موبائل کو پکڑا۔
اگر آئندہ تم نے ایسی واہیات حرکت کی تو آج تو صرف تھپڑ ماریں ہیں نا اگلی بار تمہیں مار کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا کوئی بھی تمہیں ڈھونڈ نہیں پائے گا۔ریحان نے کرخت لہجے میں کہا۔
میں تم. دونوں کا نانا جان کو بتاؤں گا زوہیب نے بے شرمی سے ہنستے ہوئے کہا۔
شوق سے بتانا اور کل جس لڑکی کے ساتھ تم ہوٹل میں تھے وہ میرے دوست کا ہوٹل ہے اور میرے پاس تمھارے کمرے کی ساری فوٹج موجود ہے میں بھی دکھا دوں گا۔میں پکے کام کرتا ہوں مجھے مزید غصہ مت دلانا ورنہ تمھارے لیے بہت برا ہو گا۔
ریحان نے جبڑے تانے زوہیب کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زوہیب کو تو سانپ سونگ گیا تھا۔
شٹ بنا بنایا کھیل خراب کر دیا لیکن کوئی بات نہیں زائشہ والا ڈرامہ تو ہو چکا ہے نا اُسی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
زوہیب نے ڈھٹائی سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا اسے ریحان کے تھپڑ سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
موم نوال کیسی ہے؟ دعا نے سکینہ بیگم کو دیکھتے پوچھا۔
ابھی تک تو بےہوش ہے تم دعا کروں جلدی ہوش میں آجائے پتہ نہیں ہمارے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے سکینہ نے دکھی لہجے میں کہا۔
موم آپ پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔دعا نے کہا۔
پھپھو جان دعا ٹھیک کہہ رہی ہے آپ پریشان مت ہوں ورنہ آپ کی طبعیت خراب ہو جائے گی۔
ماریہ جو پاس بیٹھی تھی اس نے سکینہ بیگم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا۔عدن اور رباب تو ضد کرکے ہسپتال گئی تھیں۔
ان شاء اللہ بیٹا سکینہ بیگم نے کہا۔
پھپھو جان ابتہاج بھائی کی کال آئی تھی نوال کو ہوش آگیا ہے اب تو ٹھیک ہے براق نے وہاں آتے جلدی سے کہا۔
یہ تو بہت اچھی خبر ہے براق تم مجھے ہسپتال لے جاؤ سکینہ نے جلدی سے اٹھتے ہوئے کہا۔خالہ جان میں وہی جا رہا ہوں آپ میرے ساتھ آجائیں حاکم نے کہا تو سکینہ نے اثبات میں سر ہلایا اور حاکم کے ساتھ چلی گئی۔
یہ سب اچانک کیا ہو گیا۔سب لوگ کتنا خوش تھے کوئی تو ہے جس سے ہماری خوشیاں برداشت نہیں ہو رہی تھی۔براق نے سنجیدگی سے کہا۔
ماہا جو خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی ہنس پڑی تھی۔
جو چھپ کر تمھارے بھائی نے کارنامہ سر انجام دیا ہے وہی سب کے سامنے آیا ہے اتنا ہی وہ سچا تھا تو سب کو بتا دیتا اور اب سب کی ہمدردی لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ماہا نے اپنے ناخنوں کو دیکھتے کہا وہاں موجود کسی بھی انسان کو ماہا کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
ویسے تو میں جاہلوں کے منہ نہیں لگتا لیکن تم جیسی سر پھیری لڑکی کو جواب دینا بھی ضروری ہے۔
ہمیں اپنے بھائی پر پورا یقین ہے نکاح بھی کیسی وجہ سے کیا ہو گا اور آئندہ صنان بھائی کے بارے میں سوچ سمجھ کر بات کرنا میں تو بلکل بھی برداشت نہیں کروں گا براق نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
یہاں تو کیسی کو بھی تمیز نہیں ہے بات کرنے کی ماہا نے پیر پٹخ کر کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج گھر آگیا تھا۔اور اس وقت صنان کے کمرے میں موجود تھا۔ہیزام اور ریحان بھی وہی آگئے تھے۔
صنان سگریٹ پر سگریٹ پیے جا رہا تھا۔
یعنی کہ تم دونوں کو اس کے نکاح کا معلوم تھا ؟ ریحان نے ابتہاج اور ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔
تمھارے ڈیڈ کو بھی معلوم ہے ہیزام نے سنجیدگی سے کہا۔
واہ سب ک پتہ تھا بس مجھے نہیں معلوم تھا۔ریحان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
تم نے کون سا سب ٹھیک کت دینا تھا اگر تمہیں معلوم ہوتا؟ ابتہاج نے کہا تو صنان نے ابتہاج کی طرف دیکھا اور نوال کا پوچھا کہ وہ کیسی ہے۔
وہ ٹھیک ہے لیکن فلحال تمھاری ابھی شکل نہیں دیکھنا چاہتی ابتہاج نے کہا تو صنان چہرے پر تکلیف دہ مسکراہٹ لیے ہنس پڑا۔
صنان تمھاری دوسری بیوی کو کیسے پتہ چلا کہ کہ تمھارا اور نوال کا ولیمہ کس جگہ ہو رہا ہے؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میری بیوی تو اُسے ہرگز مت کہو زائشہ نام ہے اُس کا تو اُس کا نام ہی لو تو زیادہ بہتر ہے۔صنان نے سرد لہجے میں کہا۔
سچ کو تم بدل نہیں سکتے صنان جو بھی ہے وہ تمھاری بیوی ہے۔ابتہاج نے صنان کو دیکھتے کہا۔ریحان اور ہیزام بھی اسے سنجیدگی سے دیکھ رہے تھے۔
جو بھی ہے میں اُسے آج ہی طلاق دے رہا ہوں وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ اُس کی مدد کی جائے میں نے اس کے باپ کی خاطر اس سے نکاح کیا باپ بیٹے کا احسان اتارنا چاہتا تھا لیکن وہ لڑکی میرا ہی گھر خراب کرنا چاہتی ہے اس کی وجہ سے میرے گھر والے مجھ سے ناراض ہیں اور نوال وہ ہسپتال میں پڑی ہے۔
صنان نے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوئے کہا۔جس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
کیا میں آپ لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں؟ عمیر جو چھپ کر ان کی باتیں سن رہا تھا اس نے سامنے آتے کہا۔
تم چھپ کر ہماری باتیں سن رہے تھے؟ ریحان نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
نہیں تو میں تو یہاں سے گزر رہا تھا تو میرے کان میں آپ لوگوں کی آوازیں پڑی تو یہاں آگیا۔میں تو بس آپ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں عمیر نے آہستگی سے کہا۔
کیسے مدد کرو گئے؟ ہیزام نے پوچھا۔
دیکھیے اگر کسی نے بھابھی کو جگہ کا اس سے پہلے عمیر اپنی بات مکمل کرتا صنان نے اسے ٹوک دیا تھا۔
زائشہ کہو تمھاری بھابھی نوال ہے صنان نے دانت پیستے کہا۔
اوکے اوکے زائشہ ان سب معاملے میں اکیلی شامل نہیں ہے۔اگر اُسے حویلی کا پتہ کسی نے بتایا تو وہ اپنے گھر کا ہی انسان ہے یا کوئی ایسا ہے جو ہمارے بہت قریب ہے اُس نے زائشہ کی مدد کی ہے۔
اور اگر پتہ چل جائے کہ وہ بچہ کس کا ہے اور زائشہ کی مدد کون کر رہا تو صنان بھائی کے لیے آسانی ہو سکتی ہے۔عمیر نے سنجیدگی سے کہا۔
سب لوگ اس کی بات سن رہے تھے۔بات میں دم تو ہے ہیزام نے کہا تو ریحان چلتا ہوا صنان کے پاس آیا۔
صنان سچ میں زائشہ تمھارے بچے کی ماں نہیں بننے والی نا بھائی بعد میں ہمیں شرمندہ نا کر دینا اگر وہ تمھارا بچہ ہی نکلا تو ریحان نے اس سنجیدگی سے صنان کو دیکھتے پوچھا۔
آج میرے ہاتھوں تمھارا قتل پکا ہے ریحان
صنان نے کھا جانے والی نظروں سے ریحان کو دیکھتے کہا۔
تو اس کا مطلب میرا بھائی سو فیصد سچ بول رہا ہے وہ بچہ اس کا نہیں ہے ۔ریحان نے باقی سب کے چہروں کی طرف دیکھتے کہا۔
ہمیں تو یقین تھا بس تمہیں نہیں تھا ہیزام نے کہا تو ریحان نے اسے گھور کر دیکھا۔
💜 💜 💜 💜