No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
موم میں نے آپ کو پہلے ہی منع کیا تھا کہ میں اُس لڑکی سے نکاح نہیں کرنا چاہتا کیوں آپ لوگ ہم دونوں کی زندگیاں خراب کرنا چاہتے ہیں؟ ابتہاج نے سکینہ بیگم کو دیکھتے غصے سے کہا۔
بیٹا تمھاری منگنی ہو چکی ہے اگر منگنی نا ہوئی ہوتی تو میں منع بھی کر دیتی لیکن اب ممکن نہیں ہے۔اور تم بھی سمجھنے کی کوشش کرو سکینہ بیگم نے بے سی سے کہا۔
میں اسی لیے یہاں نہیں آنا چاہتا تھا۔آپ کی ضد کی وجہ سے مجھے یہاں آنا پڑا۔ابتہاج نے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوئے کہا۔
ابتہاج ایسا بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے تم نے تو چھوٹی سے بات کو رائی کا پہاڑ بنا لیا ہے۔مجھے تو تمھارے انکار کی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی۔پتہ نہیں پڑھی لکھی لڑکی سے تم نے کون سی نوکری کروانی ہے۔سکینہ بیگم نے بھی اس بار تھوڑا غصے میں کہا۔
موم میں جس طرح کی بیوی اپنے لیے چاہتا ہوں رباب ویسی بلکل بھی نہیں ہے۔اور اگر آپ لوگوں نے زبردستی کی تو پھر میں جو اُس کے ساتھ کروں گا اُس کے ذمہ دار بھی آپ لوگ ہی ہوں گئے۔ابتہاج نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
پتہ نہیں اس لڑکے کو عقل کب آئے گی۔
سکینہ بیگم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
💜💜💜💜
رباب اپنے کمرے میں آئی تو اس وقت وہاں پر کوئی نہیں تھا دروازے کو بند کیے وہی زمین پر بیٹھ کر رونے لگی اور اپنی کلائی کو دیکھنے لگی۔جہاں پر زخم بن گئے تھے۔
رباب نے اپنی کلائی کو دوسرے ہاتھ سے پکڑا اور اس میں سے چوڑیوں کے چھوٹے ٹکروں کو نکالنے لگی۔
اس کے بعد اُٹھ پر باتھروم چلی گی تھی۔ اچھی طرح منہ دھو کر باہر آئی رونے سے ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
اتنے میں نوال بنا دروازہ ناک کیے کمرے میں داخل ہوئی۔
آپی آپ کو….. نوال رباب کا چہرہ دیکھ کر وہی خاموش ہو گئی۔
آپی کیا ہوا آپ کو؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ نوال نے پریشانی سے رباب کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے اسے کلائیوں سے پکڑتے پوچھا۔
آہ رباب بے ساختہ کراہ پڑی تھی۔
کیا ہوا؟ اوہ سوری نوال نے رباب کی سرخ کلائی کو دیکھتے کہا۔
آپی یار کیا ہوا آپ کو؟ یہ چوٹ کیسے لگی؟ لائیں میں پٹی کر دیتی ہوں نوال نے پریشانی سے کہا اور رباب کی پٹی کرنے لگی اب رباب اسے کیا بتاتی کہ یہ کرم نوازی اس کے بھائی کی عطا کردہ ہے۔
آپی یہ کیسے ہوا؟ نوال نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ میں چھت پر گر گئی تھی تو چوڑیاں ٹوٹ کر کلائی پر لگ گئیں۔رباب نے نظریں جھکاتے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔
آپی دیکھ کر چلا کریں نا دیکھیں کتنی چوٹ لگ گئی ہے۔آپ آرام کریں ابھی کچن میں جانے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے نوال نے وہاں سے کھڑے ہوتے رباب کو تنبیہ کرتے کہا کیونکہ وہ جانتی تھی رات کا کھانا رباب ہی بناتی تھی۔
لیکن میں ٹھیک ہوں نوال رباب نے جلدی سے کہنا چاہا۔
نہیں آپ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہیں اگر ایک دن کام نہیں کریں گی تو کچھ نہیں ہو جائے گا۔آپ آرام کریں نوال کہتے ہی وہاں سے چلی گئی۔رباب نے بھی مزید ضد نہیں کی تھی کیونکہ وہ ابتہاج کے سامنے آنا بھی نہیں چاہتی تھی۔
💜 💜 💜 💜
تم مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو صنان؟ مقابل نے تھوڑے غصے سے پوچھا۔
میں بہت جلد تمہیں یہاں لے آؤں گا ابھی تمھارے ڈاکومنٹس کا مسئلہ بنا ہوا ہے
صنان نے عام سے لہجے میں کہا۔
لیکن میں اتنے دن یہاں کیسے رہو گی؟ مقابل نے حیرانگی سے پوچھا۔
تم پہلے کون سا اکیلی رہتی تھی؟ جو اب گھبرا رہی ہو؟ صنان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
پہلے کی بات اور کی اور اب میں تمھاری ذمہ داری ہوں مقابل نے دانت پیستے کہا۔
میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور سارے انتظار کرکے واپس آیا ہوں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صنان نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
کیا مصیبت ہے یار صنان نے اپنے بالوں میں ہاتھ ڈالتے گہرا سانس لیتے کہا۔
💜💜💜💜
کہاں جا رہی ہو؟ ہیزام نے عدن کو باہر جاتے دیکھا تو موبائل کان سے ہٹاتے پوچھا۔
وہ مجھے مارکیٹ جانا ہے وہی جا رہی ہوں عدن نے عام سے لہجے میں کہا اور وہاں سے جانے لگی۔
تم اس حلیے میں مارکیٹ جا رہی ہو؟ اور تمھارے ساتھ بھی کوئی نہیں ہے۔ہیزام نے عدن کے کپڑوں کو دیکھتے پوچھا۔
ان کپڑوں کو کیا ہوا ہے؟ عدن نے اپنے بلیو کلر کی شارٹ شرٹ اور کیپری کو دیکھتے پوچھا اور ڈوپٹہ نا ہونے کے برابر اس کے گلے میں تھا۔
دادا جان اور تایا جان جان کو معلوم ہے کہ اُن کی لاڈلی اس طرح کی ڈریسنگ میں باہر جاتی ہے اور اگر تمھارے دو بھائیوں نے تمہیں اس حالت میں باہر جاتے دیکھ لیا تو تمھارا تو باہر جانا بند ہو جائے گا۔ہیزام نے سنجیدگی سے عدن کو دیکھتے کہا۔
اس سارے معاملے میں دادا جان اور بھائی کہاں سے آگئے؟ عدن نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
جاؤ اور کوئی چادر لے کر آؤ میں تمہیں مارکیٹ لے جاتا ہوں اور دوبارہ اکیلی باہر مت جانا ہیزام نے کہتے ہی رخ موڑ لیا اور موبائل کان سے لگائے بات کرنے لگا۔
کھڑوس انسان پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے۔ہمیشہ حکم چلاتا رہتا ہے۔لیکن اگر اس کی بات نا مانی تو یہ دادا جان کو بتا دے گا انہوں نے تو سچ میں میرا باہر جانا بند کر دینا ہے۔
ہائے عدن تو ایسی ڈریسنگ کرتی ہی کیوں ہے؟ لیکن مجھے پسند بھی تو ہے عدن خود ہی سوال کرتی اور اُس کا جواب دیتی جا رہی تھی۔
اپنے کمرے میں جاکر اس نے رباب کی بلیک کلر کی بڑی سی چادر اوڑھی اور باہر آگئی۔
چادر کو اس نے کندھوں پر لیا تھا سر پر لینا گوارا نہیں کیا۔
💜 💜 💜 💜
رباب نے کافی کوشش کی کہ وہ دادی جان سے بات کرے لیکن اس میں ہمت نہیں تھی۔اور اس وقت دادی کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔
میری بچی آج تو اتنی اداس کیوں ہے؟ دادی جان نے پیار سے رباب کے بالوں میں ہاتھ چلاتے پوچھا۔
ارے نانی جان آج آپی چھت پر گر گئی تھیں اور ان کی بازو پر چوٹ بھی لگ گئی اس لیے خاموش سی ہیں۔
نوال نے دادی کے سامنے کرسی پر بیٹھے پکوڑے کھاتے کہا۔
چوٹ کہاں لگی؟ دادی جان نے پریشانی سے پوچھا۔اتنے میں صفیہ بیگم بھی وہاں آگئی تھیں۔
نہیں دادی مجھے زیادہ چوٹ نہیں لگی وہ میں نے چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں تو وہ لگ گئی رباب نے جلدی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
اچھا تو تم چھت پر تھی ابتہاج کو بھی میں نے اوپر جاتے دیکھا تھا ویسے دادی جان شادی سے پہلے ایسے لڑکی کا ملنا ٹھیک نہیں ہے۔اگر کسی نے دیکھ لیا تو کچھ غلط ہی سمجھے گا۔صفیہ نے دادی جان کو دیکھتے کہا۔
نوال نے رباب کی طرف دیکھا تھا۔جس کے چہرے پر پریشانی کے ساتھ ڈر بھی نمایا تھا۔
لوگوں کا کیا ہے اُن کا تو کام ہیں باتیں کرنا اور تو پریشان مت ہو دو دن بعد دونوں کا نکاح ہے اگر دونوں نے اکیلے میں بات کر لی تو قیامت نہیں آگئی۔
دادی جان نے رباب کے سر پر بم پھوڑا تھا۔
دادی جان آپ سچ کہہ رہی ہیں؟ نوال نے خوشی سے کھڑے ہوتے پوچھا۔
بلکل آج تمھارے دادا اس بارے میں بات کریں گئے بس سب گھر آجائیں میں نے راشد اور جہانگیر ( سکینہ کا شوہر) سے بات کر لی ہے وہ نکاح کی صبح ہی یہاں آجائے گا اور کسی کو مسئلہ نہیں ہے تو جتنی جلدی اس ذمہ داری کو پورا کر لیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔
دادی جان نے کہا۔
لیکن دادی اتنی بھی کیا جلدی تھی؟ صفیہ نے پریشانی سے پوچھا کیونکہ اُس نے اپنی بیٹی کے لیے ابتہاج کا سوچا تھا کہ وہ شادی کے بعد باہر چلی جائے گی۔
تجھے یہ جلدی لگ رہا ہے منگنی کو اتنے سال گزر گئے ہیں تو بچی کو ساری عمر گھر بیٹھانا چاہتی ہے؟ دادی جام نے غصے سے صفیہ کو دیکھتے کہا۔
نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا خیر آپ کی مرضی صفیہ کہتے ہی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔
رباب پریشان سی بیٹھی ہوئی تھی اس کا بس چلتا تو ابھی منع کر دیتی لیکن اس میں منع کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
صفیہ بیگم اپنی بیٹی کے کمرے میں آئی تھی جو کانوں میں ہیڈ فون لگائے بیٹھی تھی۔
صفیہ بیگم نے کھینچ کر ہیڈ-فون اتارے
کیا ہو گیا ہے ماما؟ ماریہ نے حیرانگی سے اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا۔
تم یہی بیٹھی رہو میں نے تمہیں کہا تھا کہ ابتہاج سے بات وغیرہ کرنا کہ وہ تمھاری جانب متوجہ ہو لیکن تم یہاں بیٹھی گانے سن رہی ہو ۔صفیہ نے غصے سے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
ماما ہوا کیا ہے؟ ماریہ کو ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی ماں کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔
دادی جان نے کہا ہے کہ دو دن بعد رباب اور ابتہاج کا نکاح ہے۔صفیہ بیگم نے کہا۔
کیا؟ نکاح لیکن اتنی جلدی یہ سب کیسے؟ ماریہ نے بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا۔
تم بیٹھی یہاں گانے سنتی رہو وہ تمھارے ہاتھ سے نکل گیا ہے اچھا خاصے پڑھے لکھے لڑکے کا نکاح اُس جاہل کے کر رہے ہیں۔
صفیہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور وہاں سے چلی گئی۔
نہیں اتنی آسانی سے میں اپنے خواب کو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی اس نے لندن جانے کا اور وہاں ہمیشہ کے لیے رہنے کا خواب دیکھا تھا جو ابتہاج سے شادی کے بعد ہی پورا ہو سکتا تھا لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا تھا۔ماریہ بیڈ سے اٹھی اور باہر چلی گئی۔
💜💜💜💜
ماریہ کو سامنے ہی ابتہاج نظر آگیا تھا جس نے بلیک کلر کا کُرتا ساتھ بلیک ہی پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ماریہ تو ابتہاج کو دیکھتے نظریں جھپکانا بھول گئی۔
ابتہاج اس کے قریب آیا تو ماریہ ہوش میں آئی مجھے آپ سے بات کرنی تھی ماریہ نے جلدی سے کہا۔
ابتہاج نے ایک آبرو اچکاتے ماریہ کو دیکھا تھا۔
جیسے کہہ رہا ہو کہو کیا کہنا ہے؟
وہ مجھے ماریہ کہتے ہی ایک قدم آگے بڑھی اور لڑکھڑائی کے انداز میں جلدی سے ابتہاج کا کالر پکڑ لیا کیونکہ وہ ریحان کو آتے دیکھ چکی تھی۔اور ریحان کو تنگ کرنے کا موقع وہ کیسے چھوڑ سکتی تھی۔
ابتہاج نے بھی ماریہ کو کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا۔
ایم ریلی سوری ماریہ نے چہرے پر شرمندگی لاتے کہا۔
کیا بات کرنی تھی؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔ریحان ابھی بھی وہاں کھڑا اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا۔
بہت ہو گیا ماریہ اب دیکھو میں تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں ریحان نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
آپ کو شادی کی مبارکباد دینی تھی۔ماریہ نے جلدی سے کہا۔
کس کی شادی؟ ابتہاج نے حیرانگی سے پوچھا۔
آپ کی شادی کی دادی جان نے کہا ہے دو دن بعد رباب اور آپ کا نکاح ہے۔حیرت ہے آپ کو نہیں معلوم ویسے مجھے حیرانگی ہوتی ہے آپ کی پسند پر کہاں رباب اور کہاں آپ خیر آپ کو بہت بہت مبارک ہو ماریہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی اس کا کام ہو گیا تھا کیونکہ وہ پہلے سے ہی سمجھ گئی تھی کہ ابتہاج بھی رباب سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔
ابتہاج غصے سے وہاں سے چلا گیا اس کا رخ رباب کے کمرے کی طرف تھا۔
جو اپنے کمرے میں پریشانی سے چکر لگا رہی تھی۔
دھڑام کی آواز پر رباب کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ابتہاج ماتھے پر خطر ناک تیور لیے اندر آیا تھا۔
رباب تو ابتہاج کو اپنے سامنے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
ابتہاج نے سب سے پہلے دروازہ بند کیا اور مڑ کر رباب کی طرف دیکھا۔
تمہیں میں نے کہا تھا کہ نانی جان کو منع کر دو کہ تم مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی لیکن تم نے منع نہیں کیا۔ابتہاج نے اپنے قدم رباب کی طرف بڑھاتے ماتھے پر تیوری لیے رباب کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
میں کیسے بات کرتی… میں نے کوشش کی تھی لیکن!!! رباب نے اپنا حلق تر کرتے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا۔
تمھاری خود کی نیت ٹھیک نہیں تھی تمھارے جیسی لڑکی کو پڑھا لکھا لڑکا مل رہا تھا تم کیوں انکار کرتی۔
بہت شوق ہے نا تمہیں مجھ سے نکاح کرنے کا تو ٹھیک ہے اب دیکھو کہ میں تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں ابتہاج نے رباب کو دونوں کندھوں سے پکڑتے سرد لہجے میں کہا۔
پلیز مجھے درد ہو رہا ہے۔رباب نے کپکپاتے لہجے میں ابتہاج کو دیکھتے بےبسی سے کہا۔آنسو آنکھوں سے نکل پر اس کے گال کو بھگو رہے تھے۔
یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اب دیکھنا کیسے میں تمھاری زندگی جہنم بناتا ہوں
مجھ سے نکاح کرنے کا بھوت بھی تمھارے سر سے اتر جائے گا۔
ابتہاج نے کہتے ہی رباب کو دھکا دینے والے انداز میں چھوڑا جو پیچھے دیوار کے ساتھ جا ٹکرائی تھی۔
ابتہاج نے ایک نفرت بھری نظر رباب پر ڈالی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
رباب وہی زمین پر بیٹھے اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
💜 💜 💜 💜
نوال مجھے تم سے بات کرنی ہے صنان نے نوال کو دیکھتے کہا جو کچن سے باہر آئی تھی۔
ابھی میں بہت بزی ہوں بعد میں بات کرتے ہیں۔نوال نے سنجیدگی سے کہا۔
کہاں بزی ہو تم؟ صنان نے لہجے میں اشتیاق لیے پوچھا۔
میرا پسندیدہ ڈرامہ لگنے والا ہے تو میں اُسے دیکھنے جا رہی ہوں نوال نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
صنان ابھی بھی وہی حیران کھڑا تھا۔
کیا لڑکی ہے یہ کب سنجیدہ اور غیر سنجیدہ ہوتی کسی کو پتہ نہیں چلتا۔اور شوہر کی بات سے زیادہ ضروری ان محترمہ کے لیے ڈرامہ ہے تمہیں بھی میں سیدھا کرتا ہوں۔صنان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
💜💜💜💜
تائی جان اور ماما آپ دونوں کو دادی جان بلا رہی ہیں سب لوگ ان کے کمرے میں جمع ہیں انہوں نے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔براق نے نمرہ بیگم اور اپنی ماں کو دیکھتے کہا جو وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھیں۔
تم کہاں جا رہی ہو؟ براق نے زوہا کو اٹھتے دیکھا تو پوچھا۔
میں نے کتنی بار کہا ہے تم سے بڑی ہوں آپی کہا کرو زوہا نے گھورتے ہوئے کہا۔
تمہیں کیا دورے پڑتے ہیں جو ہر دو دن بعد تمھاری سوئی یہی پر آکر اٹک جاتی ہیں کہ مجھے آپی کہا کرو اور تمھاری اور میری عمر میں زیادہ فرق نہیں ہے بس ایک سال کا فرق ہے۔براق نے سنجیدگی سے کہا۔
جتنے سال کا بھی فرق ہو میں تم سے بڑی ہی ہوں زوہا نے اپنی بات پر قائم رہتے کہا۔
خیر میرا ارادہ تمہیں بہن بنانے کا بلکل بھی نہیں ہے چڑیل براق سنجیدگی سے کہتے آخری لفظ اونچی آواز میں کہا اور وہاں سے بھاگ گیا۔
تمھاری تو آج میں جان لے لوں گی۔زوہا نے براق کے پیچھے بھاگتے ہوئے غصے سے کہا۔
