58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

سب کو بہت بہت مبارک ہو عید کا چاند نظر آگیا ہے۔صاقب صاحب نے خوشی سے دادا جن کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
تمہیں بھی اور باقی سب بچیاں کدھر ہیں؟ نظر نہیں آرہی دادا جان نے نمرہ بیگم سے پوچھا۔
وہ ساری تو ساتھ والے گھر گئی ہیں مہندی لگوانے واپسی کا کچھ کہہ نہیں سکتے نمرہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
چلو یہ بھی اچھا ہے۔اور تمھاری نظر میں کوئی ہال ہے؟ دادا جان نے راشد کو دیکھتے پوچھا۔
ابو جان سارے ہال بند ہیں اور میں تو سوچ رہا تھا اپنی حویلی بھی تو اتنی بڑی ہے وہاں دونوں بچوں کا ولیمہ رکھ لیتے ہیں۔
راشد صاحب نے دادا جان کو دیکھتے مشورہ دیتے کہا۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے جب اپنی حویلی ہے تو ہم ہال میں اپنے بچوں کا ولیمہ کیوں کریں دادی جان نے بھی کہا۔
تو ٹھیک ہے پھر تم ایسا کرو جلدی سے حویلی کی صفائی وغیرہ کروا لو اور کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔
دادا جان نے اپنے تینوں بیٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
جی ابو جان آپ فکر ہی مت کریں سب کچھ ہم سنبھال لیں عرفان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
چلیں میں چلتی ہوں کچن میں بچوں نے بہت ساری فرمائشیں کی ہیں جن کو پورا کرنے میں صبح ہو جائے گی۔نمرہ بیگم نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
بہو ساتھ ملازمہ کو بھی لگا لینا ورنہ تھک جاؤ گی دادی جان نے نمرہ بیگم کو دیکھتے کہا۔جو مسکرا پڑی تھی۔
جی امی جان اور راحیلہ بھی میرے ساتھ ہی ہے ہم. مل کر لیں گئے نمرہ نے کہا۔
ایسا ساس بہو کا پیار مجھے لگتا ہے صرف ہمارے گھر میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے کیوں بھائی جان راشد صاحب نے صاقب کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم اللہ نظر سے بچائے صاقب صاحب نے مسکراہٹ دباتے کہا۔دادا جان ہنس پڑے تھے۔
میرے لیے میری تینوں بہویں میری بیٹیوں کی طرح ہیں اور مجھے بہت عزیز بھی ہیں خبردار اگر تم لوگوں نے نظر لگائی تو دادی جان نے اپنا چشمہ درست کرتے کہا۔
ارے امی جان ہم تو تعریف کر رہے آپ ساس بہو کی عرفان نے جلدی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں ہاں جانتی ہوں تم لوگوں کی تعریف کو بھی دادی جان نے کہا تو وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
نمرہ بیگم بھی مسکرا کر وہاں سے چلی گئی اور دادی جان کا ایک ایک لفظ درست تھا انہوں نے کبھی اپنی بہوؤں کے ساتھ ناانصافی نہیں کی۔اور یہی وجہ تھی کہ راشدہ اور نمرہ کے ساتھ صفیہ کو بھی اپنی ساس بہت عزیز تھی اور اُنکی کافی عزت بھی کرتی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
اللہ میری مہندی کا کلر کتنا گاڑھا آیا ہے یہ دیکھو نوال
عدن نے اپنے ہاتھ نوال کے سامنے کرتے خوشی سے کہا۔یہ لوگ رات کافی لیٹ گھر آئی تھیں اور آتے ہی سو گئیں تھیں۔
واؤ سچ میں اور میں نے سنا تھا کہ جس کی مہندی کا کلر ڈارک آتا ہے اُس لڑکی کی ساس اُسے بہت محبت کرتی ہے۔نوال نے چہکتے ہوئے کہا۔
لو یہ کیا بات ہوئی میں نے تو شوہر کا سنا تھا۔کہ وہ زیادہ محبت کرتا عدن نے منہ پھلائے کہا۔
نوال عدن کے چہرے کو دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
یار کیا فرق پڑتا ہے میرے خیال سے دونوں بہت محبت کرتے ہیں نوال نے بات ختم کرتے کہا۔
ہاں یہ ٹھیک ہے اور ماما نے شیر خرما بنایا؟ عدن نے جلدی سے پوچھا۔
ہاں بنایا تو ہے اور بھی ساتھ بہت کچھ بنایا ہے۔نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
گرلز ےم لوگ میری تھوڑی سی مدد کر سکتی ہو؟ ماریہ نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
جس نے ڈارک بلو کلر کا لانگ فراق پہنا تھا جس پر گولڈن کام ہوا تھا بےشک ماریہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
عدن اور نوال دونوں ماریہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئی تھیں کیونکہ ماریہ اپنے کام سے کام رکھنے والی بندی تھی۔
میں اس کے ساتھ ایئر رنگز لائی تھی لیکن مجھے اب مل نہیں رہے کیا تم لوگوں کے پاس ہیں گولڈن کلر میں؟ ماریہ نے دونوں کے چہروں کی طرف دیکھتے پوچھا۔
ہاں ہمارے پاس تو بہت سے ہوں گئے ایک منٹ میں لاتی ہوں نوال نے ہوش میں آتے کہا۔
اور ائیر رنگز لینے چلی گئی۔
میں کہی خواب تو نہیں دیکھ رہی عدن نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔لیکن ماریہ نے اس کی بات سن لی تھی اور آگے بڑھ کر زور سے عدن کو چٹکی کاٹی
آہ ظالم لڑکی وہ لا تو رہی ہیں ایئر رنگز عدن نے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
یقین آگیا کہ خواب نہیں ہے ماریہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
عدن اس بار ماریہ کی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
یار تم کبھی ہم سے بات نہیں کرتی تو اس لیے مجھے عجیب لگا کہ میں کہی خواب تو نہیں دیکھ رہی عدن نے بتیسی دکھاتے ہوئے کہا۔ جس پر ماریہ بھی ہنس پڑی تھی۔
اسے کچھ ہی وقت میں ریحان نے بہت کچھ سیکھا دیا تھا۔سب سے اہم چیز کہ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پیار کرنا جن کو آپ کی قدر ہے اور ماریہ کو دکھ بھی ہوا تھا کہ اتنے سال وہ سب سے الگ رہی نا کسی سے بات کرتی اپنی کزن ہونے کے باوجود اس نے باہر دوست بنائے تھے۔اور ان سب کی وجہ بھی صفیہ ہی تھی جو اپنی بیٹی کو ہر ایک سے دور رکھتی تھی۔
اتنے میں نوال بھی وہاں آگئی تو تینوں ایئر رنگز سیلیکٹ کرنے لگیں۔
💜 💜 💜 💜 💜
ماریہ کمرے سے باہر آئی تو اسے سامنے ہی ریحان نظر آگیا تھا۔جس نے بلیو کُرتا اور ساتھ سفید شلوار پہنی تھی۔
ماریہ ریحان کے کُرتے کا رنگ دیکھ کر حیران ہوئی تھی جو شاید اتفاق ہی تھا۔
ریحان کی نظر ماریہ پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی۔
ریحان چلتا ہوا ماریہ کے پاس آیا۔ آج لگتا ہے بندے کی جان لینے کا ارادہ ہے ریحان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے گہرا سانس لیتے کہا۔
میں کیوں تمھاری جان لینے لگی ماریہ نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
جان ہی تو لے رہی ہو اور چونکہ اب تم میری بیوی ہو تو تم اس سے پہلے مجھ سے عیدی مانگو میں خود ہی تمہیں عیدی دے دیتا ہوں ریحان نے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
اس سے پہلے ماریہ کچھ کہتی ریحان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروایا تھا۔
اس نے اپنی پاکٹ سے ایک ڈبیہ نکالی جس میں خوبصورت سے گولڈن کلر کے بینگلز تھے۔ریحان نے ماریہ کا ہاتھ پکڑا جس نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا تھا۔
بہت پیار سے ریحان نے ماریہ کو بینگلز پہنائے تھے۔ماریہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
کیسے ہیں؟ ریحان نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔
بہت پیارے ہیں اب تم یہاں سے جاؤ ماریہ نے پریشانی سے کہا۔
تمھاری موم نے دوبارہ کچھ کہا؟ ریحان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں نے اُن کو سمجھا دیا ہے۔ماریہ نے کہا۔
کیا سمجھایا؟ ریحان نے گہری نظروں سے ماریہ کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں تم بس جاؤ یہاں سے ماریہ نے غصے سے کہا اسے ایک بات کا ہی ڈر تھا اگر کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا۔
ٹھیک ہے جا رہا ہوں ویسے میرے پسندیدہ رنگ میں تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ریحان نے ماریہ کے کان کے پاس جھک کر کہا اور وہاں بوسہ دیتے ہی پیچھے ہٹا اور وہاں سے چلا گیا۔
ماریہ ابھی بھی آنکھیں پھاڑے وہی کھڑی تھی۔ہوش میں تو کچھ دیر بعد زوہا کی آواز لائی تھی۔
تم ٹھیک ہو؟زوہا نے ماریہ کو دیکھا تو پوچھا۔
جی میں ٹھیک ہوں ماریہ نے جلدی سے کہا۔
ماشاءاللہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو زوہا نے مسکراتے ہوئے کہا اور ماریہ کی گال کو تھپتھپا کر چلی گئی۔ ماریہ کے چہرے پر بھی مسکرا آگئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
تم نے وہ سوٹ کیوں نہیں پہنا جو میں نے لے کر دیا تھا؟ صنان نے نوال کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی۔لیکن جو سوٹ صنان نے اسے لے کر دیا تھا وہ سبز رنگ کا تھا۔
اُس کا گلہ بہت بڑا تھا صنان پہلے میں نے وہی پہنا تھا لیکن مجھے اچھا نہیں لگا۔اور شکر ہے دوسرا سوٹ میرے پاس موجود تھا۔نوال نے صنان کو دیکھتے کہا۔
تو میڈم آپ کو لینے سے پہلے دیکھنا چاہیے تھا۔خیر یہ سوٹ بھی تم پر بہت جچ رہا ہے۔صنان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں میں جانتی ہوں نوال نے گردن اکڑا کر اپنے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا۔
صنان نے نفی میں سر ہلایا اور مسکرا پڑا۔
تم نے مہندی اتنی کم کیوں لگائی؟ صنان نے نوال کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا۔
وہ مجھے اس طرح کی مہندی پسند ہے زیادہ بھری ہوئی مجھے اچھی نہیں لگتی نوال نے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
چلو صنان صاحب جلدی سے عیدی دو پھر مجھے باقی سب سے بھی لینی ہے اس عیدی سے میں نے بہت ساری شاپنگ کرنی ہے تو کنجوسی مت کرنا نوال نے کہا تو صنان نے اپنا کریڈٹ کارڈ نوال کے ہاتھ میں تھما دیا تھا۔
جتنی شاپنگ کرنی ہو کر لینا صنان نے مسکراتے ہوئے کہا۔اور جھک کر نوال کے مہندی لگے ہاتھوں کو باری باری چوم لیا۔نوال صنان کے لمس پر خود میں سمٹ سی گئی تھی۔
میں جا رہی ہوں نوال نے جلدی سے کہا اور سے جانے لگی لیکن پھر اسنے مڑ کر صنان کی طرف دیکھا۔
ویسے تم بھی آج اچھے لگ رہے ہو نوال نے شرارتی لہجے میں کہا اور وہاں سے بھاگ گی پیچھے صنان ہنس پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
رباب نے ایک ہاتھ پر مہندی لگوائی تھی کیونکہ اس کا دوسرا ہاتھ چلا ہوا تھا۔اس نے بہت منع کیا زوہا کو لیکن پھر بھی اُس نے ہلکا پھلکا رباب کو میک اپ کر دیا تھا۔
رباب نے پرپل کلر کا شارٹ فراک پہنا تھا ساتھ اس کے کیپری تھی۔اور یہ نوال میڈم کی پسند کا تھا۔ہلکے سے میک اپ میں رباب بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
بیٹا اب تمھارا ہاتھ کیسا ہے سکینہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا۔
پھپھو جان آئیں اور اب کافی ٹھیک ہے رباب نے سکینہ کو دیکھتے جلدی سے کہا۔
بیٹا جی اپنا خیال رکھا کرو اور ما شاء اللہ سے میری بچی تو بہت خوبصورت لگ رہی ہے اللہ نظرِ بد سے بچائے سکینہ بیگم نے پیار سے رباب کا ماتھا چومتے کہا۔جو مسکرا پڑی تھی۔
چلو باہر سب بیٹھے ہیں تم ابھی تک کمرے میں ہو۔سکینہ نے کہا اور رباب کو اپنے ساتھ لے گئی۔
موم کہاں لے کر جا رہی ہیں آپ میری خوبصورت بیوی کو؟ کیا میں اس سے بات کر سکتا ہوں ابتہاج نے رباب کو اپنی ماں کے ساتھ آتے دیکھا تو جلدی سے اپنی ماں کے پاس آتے کہا۔
بیٹا جی آپ کی خوبصورت بیوی کو میں اندر لے کر جا رہی تھی اور بلکل آپ دونوں بات کر سکتے ہو اور جلدی اندر آجانا عمیر بےچارہ کب سے بیٹھا اپنی عیدی کا انتظار کر رہا ہے سکینہ بیگم نے مسکرا کر کہا اور خود وہاں سے چلی گئی۔ان خوشی تھی کہ ان کے بیٹے نے فضول کی ضد چھوڑ دی ہے۔
یہ رنگ تو تم پر بہت جچ رہا ہے ابتہاج نے آنکھوں میں چمک لیے سر سے پاؤں تک رباب کو دیکھتے کہا۔
رباب نے سنجیدگی سے ابتہاج کو دیکھا تھا۔
آپ اس طرح مجھے مت گھورا کریں عجیب لگتا ہے رباب نے کہا تو ابتہاج ہنس پڑا۔
جس نے سفید شلوار قمیض پہنی تھی۔
صنان اور ہیزام نے بھی سیم ابتہاج جیسی شلوار قمیض پہنی تھی۔
پھر مجھے کیسے دیکھنا چاہیے مسز؟ ابتہاج نے رباب کے جلے ہوئے ہاتھ کو پکڑتے پوچھا۔
اگر مجھے تمھاری فکر نا ہوتی تو کب کا زوہیب کو سبق سکھا چکا ہوتا۔
ابتہاج نے ایک نظر رباب کے چہرے کو دیکھتے کہا اور اس کے دوسرے ہاتھ پر لگی مہندی کی خوشبو کو جھک کر سونگھنے لگا۔
ابتہاج کوئی آجائے گا رباب نے جلدی سے کہا۔
تم. ہمیشہ ایسے ہی کہتی ہو مسز لیکن آتا کوئی نہیں ہے۔
خیر عید مبارک ابتہاج نے کہتے ہی رباب کو گلے لگا لیا جس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ابتہاج رباب سے الگ ہوا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا
میں نے عید مبارک بولا ہے مسز ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
عید مبارک رباب نے آہستگی سے کہا۔
تمھارا یہ شرمانا کسی دن میری جان لے لیں گا اور چلو اندر سب انتظار کر رہے ہوں گئے اور ہاں گفٹ میں تمہیں کل ہی دوں گا ابتہاج نے رباب کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گیا۔
💜💜💜💜
اللہ کا کوئی نیک بندہ میری تصویر لے دے گا۔یہ عمیر کے بچے کو عیدی کی پڑی ہے میں نے تو سب کو منع کر دینا کہ کوئی ایسے عیدی نا دے عدن نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اس نے عمیر کو کہا تھا کہ اس کی تصویر کھینچ دے لیکن اُسے تو اندر جانے کی جلدی تھی۔
میں کھینچ دیتا ہوں ہیزام نے عدن کو غصے میں دیکھا تو کہا۔
رہنے دو تم نے تصویر بھی اپنے موبائل سے لینی اور مجھے سینڈ بھی نہیں کرنی عدن نے کھا جانے والے انداز میں کہا۔
تم تو بہت.اچھی طرح مجھے جان گئی ہو۔ ویسے تم نے عید کے لیے کوئی نیا سوٹ نہیں بنوایا؟ ہیزام نے حیرانگی سے پوچھا۔
کیا مطلب؟ عدن نے اپنے نئے سوٹ کہ طرف دیکھتے ناسمجھی سے پوچھا۔
تم نے ابتہاج کے نکاح پر بھی تو یہی سوٹ پہنا تھا۔ہیزام نے یاد کرتے کہا۔
وہ وائٹ تھا اور یہ اُوف وائیٹ ہے تمہیں تو کلرز کا بھی معلوم نہیں ہے ویسے تمھاری غلطی نہیں ہے نا تو لڑکوں کے کپڑوں کے زیادہ کلر ہوتے ہیں نا ورائٹی تو تمہیں کیسے پتہ ہو گا۔عدن نے مزے سے کندھے اچکاتے کہا۔
چلو اچھا ہے نا لڑکوں میں کم از کم عقل تو ہوتی اور وہ اس طرح کی فضول چیزوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ہیزام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اوہ ہیلو مسٹر لڑکیوں میں زیادہ عقل ہوتی ہے عدن نے گھورتے ہوئے کہا۔
بلکل ہوتی ہے لیکن بےچاری لڑکیاں بس اُس عقل کو استعمال نہیں کرتی
ہیزام نے طنزیہ لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
تمہیں تو میں بعد میں بتاؤں گی کہ کس میں زیادہ عقل ہوتی بھاڑ میں جائے تصویر سیلفی لے لی وہی کافی ہے۔عدن نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی اندر چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
حاکم کو اب احساس ہو رہا تھا کہ کیوں دعا مارکیٹ جانا چاہتی تھی۔کیونکہ اُس نے عید کی شاپنگ کرنی تھی اور اب حاکم کو اکیلے ساری شاپنگ کرنی پڑی تھی۔
دعا اب بہتر تھی بخار بھی اتر چکا تھا لیکن اپنے کمرے میں ہی بند تھی۔
حاکم دعا کے کمرے میں داخل ہوا تو دعا گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
حاکم کو دیکھتے ہی دعا کا چہرہ سیرس ہو گیا تھا۔
حاکم نے شاپنگ بیگ بیڈ پر رکھے۔
عید ہے آج اور تم دونوں تیار ہو جاؤ نانو کی طرف جانا ہے اُننکی کال آئی تھی۔حاکم نے دعا تو دیکھتے کہا۔
مجھے کہی نہیں جانا دعا نے سنجیدگی سے کہا۔
دعا فضول کی ضد مت کرو جلدی سے دونوں تیار ہو جاؤ اپنا غصہ بعد میں نکال لینا میں تمھارے پاس ہی ہوں حاکم نے کہا اور گڑیا کو اٹھائے باہر چلا گیا۔
سمجھتے کیا ہیں خود کو جب دل کیا ذلیل کر لیا جب دل کیا ہمدردی دکھا دی۔
میں کہی نہیں جا رہی دعا نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔لیکن کل تو نوال کا ولیمہ بھی ہے اللہ میں کیا کروں اب تو جانا پڑے گا۔
دعا نے اپنا سر پکڑتے کہا۔کچھ دیر سوچنے کے بعد دعا نے شاپنگ بیگ سے سوٹ نکالا جو سرخ رنگ کا تھا۔اور سیم ویسا ہی گڑیا کا بھی سرخ رنگ کا سوٹ تھا اور گڑیا کا سوٹ دیکھ کر تو ناچاہتے ہوئے بھی دعا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
حاکم اور دعا کب تک آئے گئے؟ غزالہ نے پوچھا تو نمرہ بیگم نے جواب دیا۔
حاکم کہہ رہا تھا کہ شام تک وہ لوگ آجائیں گئے۔
سب لوگ کیوں نہیں آرہے مجھے عیدی لینی ہے عمیر نے منہ پھلائے سب کے چہروں کی طرف دیکھتے کہا۔
تم ہم سے تو عیدی لو اپنے بھائیوں سے بعد میں لے لینا صاقب صاحب نے کہا۔اتنے میں نوال اور صنان بھی وہاں آگئے تھے۔صنان کو دیکھتے ہی زوہیب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
زوہیب تمہیں میں نے ایک کام دیا تھا جو تم نے کیا نہیں بس رباب کا ہاتھ جلا دیا۔ غزالہ نے جھک کر زوہیب کے کان کے پاس کہا۔
موم یار آپ ابتہاج اور رباب کو چھوڑ دیں ابتہاج بہت عقلمندی ہے وہ کبھی آپ کے جال میں نہیں پھنسے گا لیکن کل بہت بڑا دھماکا ہونے والا ہے زوہیب نے مسکراتے کہا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
غزالہ نے ناسمجھی سے زوہیب کو دیکھا تھا۔تم سے تو میں بعد میں پوچھتی ہوں۔غزالہ نے دل میں سوچا۔
بڑوں نے سب کو عیدی دے دی تھی۔سب لوگ یہی پر موجود تھے بس کمی تھی تو حاکم اور دعا کی۔
اب خوش ہو؟ ابتہاج نے عمیر کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل اللہ نے مجھے اتنے اچھے بھائی دیے ہیں مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا عمیر نے شرارتی لہجے میں کہا تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔
تو آج تمہیں معلوم ہوا کہ ہم اچھے ہیں؟ ریحان نے چہرے پر مصنوعی غصہ لاتے کہا۔
ارے بلکل عمیر نے بتیسی دکھاتے کہا۔
تو پھر ٹھیک ہے اب ہم نے عید کے عید ہی اچھے بننا ہے عمیر اگر اب جب تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو میرے پاس مت آنا صنان نے ہنستے ہوئے کہا۔
ارے بھائی میرا وہ مطلب نہیں تھا میں تو کہہ رہا تھا آپ سب سچ میں بہت اچھے ہیں عمیر نے جلدی سے کہا۔
کیوں بچے کو تنگ کر رہے ہو؟ دادا جان نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
دادا جان آپ کا یہ بچہ سب کی ناک میں دم کیے رکھتا ہے۔براق نے دادا جان کو دیکھتے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اچھی بات ہے نا گھر میں رونق لگی رہتی ہے۔راشدہ بیگم نے پیار سے کہا۔
یہ سب لوگ تو ایسے اس کی تعریف کر رہے جیسے پتہ نہیں کون سا کارنامہ سر انجام دے کر آیا ہے ماہا نے نحوست سے عمیر کو دیکھتے کہا۔اس کے پاس زوہا کھڑی تھی۔
کارنامہ تو اس نے کوئی بھی سرانجام نہیں دیا لیکن یہ سب کا عمیر کے لیے پیار ہے۔
گھر کا لاڈلہ اور چھوٹا بیٹا ہے۔اور سب کو بہت عزیز بھی ہے زوہا نے سامنے دیکھتے کہا۔
اور رباب کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔
ایسے ہی سارے ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچ رہے تھے اور بڑے بیٹھ کر اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر مطمئن تھے لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔