122.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

صنان بیٹا تم امریکہ میں کہا ٹھہرے تھے؟ صاقب صاحب نے پوچھا کیونکہ صنان نے ان کو یہی بتایا تھا کہ وہ اپنے فرینڈ کے گھر میں ٹھہرا ہوا ہے اُس نے کافی اسرار کیا تو صنان اُسے منع نہیں کر پایا۔
ڈیڈ آپ کو بتایا تو تھا کہ اپنے فرینڈ کے گھر رکا تھا۔صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
اچھا لیکن تم نے کبھی اپنے اُس فرینڈ کا ذکر نہیں کیا۔صاقب صاحب نے پوچھا۔
ڈیڈ فیس بک فرینڈ تھا جب اُسے میرے امریکہ آنے کا پتہ چلا تو اُس نے کہا کہ باہر کہی رہنے کی ضرورت نہیں ہے اور اُس کے ڈیڈ نے میرا بہت خیال رکھا تھا۔اور باہر کہی مجھے ایسی کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی جہاں میں رہ سکوں۔صنان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے ورنہ آجکل کے زمانے میں کہا ایسے لوگ ملتے ہیں وہ جب بھی پاکستان آئے تو اُسے اپنے گھر ضرور لے کر آنا صاقب صاحب نے پیار سے کہا۔
ڈیڈ کچھ ماہ پہلے ہی اُس کی کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہو گئی تھی۔صنان نے افسردگی سے کہا۔
اوہ معاف کرنا بیٹا مجھے معلوم نہیں تھا اللہ اُس کی مغفرت فرمائے اچھے لوگ جلدی دنیا سے چلے جاتے ہیں۔صاقب صاحب نے دکھی لہجے میں کہا۔اتنے میں ملازمہ نے آکر ان کو اطلاع کہ دادا جان ان کو اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں۔
بیٹا جی بزنس کا پھر میں تمہیں بعد میں بتاتا ہوں اور کل میرے ساتھ آفس بھی چلنا۔صاقب صاحب نے اٹھنے سے پہلے کہا اور صنان کا کندھا تھپتھپا کر وہاں سے چلے گئے۔
کاش ڈیڈ میں آپ کو حقیقت بھی بتا سکتا۔کہ اُس کے بعد کیا ہوا اب تو مجھے پچھتاوا ہوتا ہے کیوں میں اُن کے گھر گیا۔صنان نے صوفے سے ٹیک لگاتے خود سے کہا۔
💜💜💜💜
کچھ سال پہلے!!!
صنان کا ایک دوست تھا۔جو فیس بک پر پر بنا تھا دونوں کی دوستی بہت اچھی ہو گئی تھی جس کا نام حمزہ تھا۔
جب صنان نے امریکہ پڑھائی کے لیے جانا تھا تو حمزہ نے اسے کہا کہ وہ اس کے گھر میں رک سکتا ہے۔
صنان نے بہت منع کیا لیکن حمزہ کے اسرار پر اسے بات ماننی پڑی۔
حمزہ صنان کو اپنے گھر میں دیکھ کر بہت خوش تھا اس کی والدہ کی ڈیتھ ہو گئی تھی باپ نے حمزہ اور اس کی بہن کو پالا تھا۔
خلیل صاحب کو بھی صنان بہت اچھا لگا تھا یہ لوگ پہلے پاکستان ہی رہتے تھے پھر امریکہ شفٹ ہو گئے تھے۔
صنان کچھ سال تک تو ٹھیک سے وہاں رہا تھا۔لیکن جب حمزہ کی بہن واپس اپنے گھر آئی جو اپنی خالہ کے گھر رہ رہی تھی۔ تو صنان کے لیے اس نے مشکلات بڑھا دی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
ابو جان خیریت ہے؟ آپ نے ہم سب کو بلایا ہے؟ صاقب صاحب نے پوچھا۔
ہاں بیٹا سب خیریت ہے بلکہ خوشی کی خبر ہے۔تمھاری ماں چاہتی ہیں دو دن بعد رباب اور ابتہاج کا نکاح کر دیا جائے اب تو وہ پاکستان آگیا ہے دوبارہ پتہ نہیں کب آئے گا۔جہانگیر سے بھی بات کر لی ہے وہ بھی پرسوں یہاں آجائے گا اور اُسے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔تم میں سے اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو ابھی بتا دو ورنہ نکاح کی تیاری شروع کرو۔
دادا جان نے سنجیدگی سے سب کے چہروں کی طرف دیکھتے کہا۔
تو پھر ابو جان نکاح کی تیاری کرتے ہیں نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے راشد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دادا جان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی مجھے معلوم تھا کہ تم لوگوں کا یہی جواب ہو گا۔عرفان بیٹا تم مہمانوں کی لسٹ بنا لو ابھی نکاح ہے تو ہم اپنے قریبی لوگوں کو ہی بلائیں گئے زیادہ لوگوں کا آنا ابھی ٹھیک نہیں ہے ولیمے پر سب آجائیں گئے۔دادا جان نے اپنے چھوٹے بیٹے کو دیکھتے کہا۔
جی ابو جان اور کسی ہال کو بک کروانا ہے کیا؟ عرفان نے پوچھا۔
ابو جان مجھے لگتا ہے اپنا گارڈن ٹھیک رہے گا ماشاءاللہ سے اچھا خاصا بڑا ہے آپ کیا کہتے ہیں؟ صاقب صاحب نے پوچھا۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو وہی سارا انتظام کر لو تم تینوں دادا جان نے کہا۔خواتین ساری خاموش بیٹھی مردوں کی باتیں سن رہی تھیں۔
میں کچھ کہنا چاہتی ہوں صفیہ نے دادا جان کو دیکھتے کہا۔
ہاں بہو کہو کیا کہنا چاہتی ہو؟ دادا جان نے کہا۔
میں کہہ رہی تھی کہ ہم سب نے خود ہی سارے معاملات طے کر لیے ہیں لیکن جن کا نکاح ہو رہا ہے اُن کی رضامندی لینی بھی تو ضروری ہے۔ایک بار اُن سے بھی پوچھ لینا چاہیے۔صفیہ بیگم نے تھوڑے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
بہو ہمارے بچے کبھی بھی اپنے بڑوں کے فیصلے کے خلاف نہیں جائیں گئے اور مجھے پوری امید ہے کہ اُن کو ہمارے اس فیصلے سے اعتراض بلکل بھی نہیں ہو گا۔
دادا جان نے سرد لہجے میں کہا۔
سکینہ نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تھا اسی بات سے تو وہ ڈرتی تھی۔اگر وہ اپنے باپ سے بات کر بھی لیتی کہ ابتہاج رباب کے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہتا تو خاور صاحب کبھی بھی منگنی توڑنے پر راضی نا ہوتے کیونکہ ان کے خاندان میں منگنی کو توڑنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
جی دادا جان صفیہ نے کہا اور خاموش ہو گئی۔
بہو بچیوں کو شاپنگ کے لیے لے جاؤ اور جو کچھ وہ مانگے لے اُن کو لے دینا کنجوسی نہیں کرنی خاور کی پوتی اور نواسے کا نکاح ہے کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ دادا جان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
جی دادا جان نمرہ اور راحیلہ بیگم نے کہا اور دونوں وہاں سے چلی گئی۔باقی سب بھی اپنے کاموں میں لگ گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
یہ کیا بدتمیزی ہے صنان؟نوال نے صنان کو دیکھتے غصے سے پوچھا۔
جس نے ریموٹ پکڑ کر ٹی-وی بند کر دیا تھا جہاں نوال کا پسندیدہ ڈرامہ چل رہا تھا۔
بدتمیزی تو اب میں کروں گا۔
صنان نے نوال کو بازو سے پکڑ کر سامنے کھڑا کرتے کہا۔جس نے حیرانگی سے صنان کو دیکھا تھا۔
توبہ توبہ صنان کیا کچھ باہر سے سیکھ کر آگئے ہو تم ممانی جان نے تو باہر اپنے شریف بیٹے کو بھجیا تھا لیکن اب دیکھو تم کیا کچھ باہر سے سیکھ کر آگئے ہو توبہ توبہ نوال نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ڈرامائی انداز میں کہا۔
صنان نے حیرانگی سے نوال کو دیکھا۔
تم اتنی ڈرامے بازیاں کر کیسے لیتی ہو۔
صنان کو جب بات سمجھ میں آئی تو طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
بس یہ میرا ٹیلنٹ ہے اور اب تم یہاں سے جاؤ مجھے ڈرامہ دیکھنا ہے نوال نے دوبارہ ریموٹ پکڑتے کہا جسے صنان نے چھین لیا تھا۔
نوال میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
کہو میں سن رہی ہوں نوال نے احسان کرنے والے انداز میں اجازت دیتے کہا۔
تم کیا چاہتی ہو؟ صنان نے پوچھا۔
مطلب؟ نوال نے ناسمجھی سے صنان کو دیکھتے پوچھا۔
تم نے یہ کیوں کہا کہ تم میری مسز نہیں ہو؟ صنان نے صاف لفظوں میں پوچھا جس پر نوال ہنس پڑی تھی۔
” تم نے لندن جانے سے پہلے کہا تھا صنان
کہ میں کسی خوش فہمی میں نہ رہوں کیونکہ یہ نکاح دادی جان کی زبردستی کی وجہ سے ہوا ہے ورنہ میرا ایسا کوئی اردہ نہیں تھا“۔
سو مسٹر صنان خاور آج تک میں خود کو کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہونے بھی نہیں دیا۔نوال نے صنان کو دیکھتے عام سے لہجے میں کہا اس کے لہجے میں طنز بلکل بھی نہیں تھا۔اس نے صنان کی کہی ہوئی بات کو واپس لوٹایا تھا۔
تم اپنی کہی ہوئی بات کیسے بھول سکتے ہو صنان؟ نوال نے حیرانگی سے پوچھا۔
نوال یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ایک چھوٹی سی بات…..
چھوٹی سی بات نہیں ہے صنان
نوال نے درمیان میں اس کی بات کاٹتے کہا۔
نکاح کے بعد اگر کوئی لڑکا اپنی دس منٹ پہلے بنی بیوی کو آکر کہتا ہے کہ اُس نے گھر والوں کے کہنے پر نکاح کیا ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے لڑکی اپنی عزت نفس کو روند کر بیٹھ کر اپنے شوہر کا انتظار کرے گی؟ معاف کرنا باقی لڑکیاں ہو سکتی ہیں جو اپنے شوہر کے منہ سے اپنے رشتے کے لیے ناپسندیدگی کا سن کر بھی اُس کا انتظار کریں لیکن میں اُن جیسی نہیں ہوں نوال نے سنجیدگی سے کہا اور پھر وہاں سے چلی گئی۔
یار میری بات تو سن لو وہ سب میں نے بس غصے میں کہہ دیا تھا۔صنان نے پیچھے سے نوال کو آواز دیتے کہا لیکن وہ جا چکی تھی۔
اس کا مطلب میری بیوی مجھ سے سخت ناراض ہے تو منانا پڑے گا۔صنان نے گہرا سانس لیتے خود سے کہا۔
💜 💜 💜 💜
ماما میں اپنی فرینڈ کی طرف جا رہی ہوں اُس نے اپنی منگنی کی خوشی میں ہم سب کو ٹریٹ دی ہے۔ماریہ نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
تم اکیلی جاؤ گی؟ عمیر کہاں ہے؟ اُسے کہو تمہیں چھوڑ آئے بلکہ میں اُسے کہہ دیتی ہوں صفیہ نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ماریہ نے کچھ نہیں کہا تھا۔وہ جانتی تھی کہ اکیلی تو اس کی ماں بھی اسے باہر جانے نہیں دے گی۔
عمیر شاید گھر پر نہیں تھا لیکن صفیہ کو سامنے ہی صنان اور ریحان نظر آگیا۔جو شاید ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔
ریحان بیٹا تم فری ہو؟ صفیہ نے ریحان کو دیکھتے پوچھا۔
جی چچی جان کوئی کام تھا؟ ریحان نے پوچھا۔بیٹا عمیر گھر پر نہیں ہے تو تم ماریہ کو اُس کی فرینڈ کی طرف چھوڑ دو گئے؟
صفیہ نے پوچھا۔
ریحان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔
جی بلکل ریحان نے سنجیدگی سے کہا۔وہ ایسا ہی تو کوئی موقع ڈھونڈ رہا تھا۔صنان تو بس ریحان کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
ٹھیک ہے میں اُسے بھیجتی ہوں صفیہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
ریحان کیا کرنے والے ہو؟ مجھے تمھارے ادارے ٹھیک نہیں لگ رہے۔صنان نے ریحان کو. دیکھتے پوچھا۔
بھائی بس وقت آنے پر آپ میرا ساتھ دیں گئے بس یہی ایک وعدہ چاہیے آپ سے اور میں کچھ غلط نہیں کروں گا آپ بھی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ریحان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
ٹھیک ہے اور تمھارا بھائی ہمیشہ کی تمھارے ساتھ کھڑا رہے گا مجھے یقین ہے اپنے بھائی پر صنان نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
شکریہ بھائی ریحان نے صنان کے گلے لگتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔صنان بھی اپنے کمرے کی جانب چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ماریہ باہر آئی تو ریحان گاڑی میں بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
صفیہ نے ریحان کے بارے میں اسے نہیں بتایا تھا۔ماریہ گاڑی میں آکر بیٹھی تو ریحان کو دیکھ کر حیران ہوئی۔
تم؟ میں تمھارے ساتھ تو بلکل بھی نہیں جاؤں گی۔ماریہ نے غصے سے کہتے دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن دروازہ نہیں کھلا ۔
آرام سے بیٹھی رہو ریحان نے گلاسز لگاتے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا۔
آخر تم چاہتے کیا ہو؟ ماریہ نے دبے غصے میں ریحان کو دیکھتے پوچھا۔
وہ تمہیں تھوڑی دیر بعد پتہ چل جائے گا۔ریحان نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا مطلب؟ ماریہ نے ناسمجھی سے ریحان کو دیکھتے پوچھا۔جو خاموش رہا تھا۔
ماریہ کو خود کا اگنور کیے جانا برا تو بہت لگا لیکن خاموش رہی۔
کچھ ٹائم بعد پھر ماریہ بولی۔یہ کون سا راستہ ہے؟ یہ میری فرینڈ کے گھر کی طرف نہیں جاتا ماریہ نے سڑک کو دیکھتے پوچھا۔
تمہیں کس نے کہا کہ تم اپنی فرینڈ کی طرف جا رہی ہو؟ ریحان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
کیا مطلب؟ ماریہ نے پوچھا اب تو اسے ریحان سے خوف آرہا تھا۔
کہا نا میں نے بہت جلد تمہیں پتہ جائے گا۔ریحان نے ایک نظر ماریہ کو دیکھتے کہا۔
ریحان گاڑی روکو میں نے تمھارے ساتھ کہی نہیں جانا ماریہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
کیوں ڈر لگ رہا ہے؟ ریحان نے گاڑی روکتے اپنی گلاسز اتارتے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
ماریہ سہمی ہوئی نظروں سے ریحان کو دیکھ رہی تھی ریحان گاڑی سے باہر نکلا اور دوسری جانب ماریہ کی سائیڈ کا دروازہ کھولتے اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا
چھوڑو میرا ہاتھ ورنہ میں چلاؤ گی۔ماریہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
آئیڈیا اچھا ہے ویسے بھی یہاں پر کوئی بھی نہیں ہے جو تمھاری مدد کر سکے۔اور تمھاری سریلی آواز میں تو سن ہی لوں گا۔
ریحان نے کہا تو ماریہ نے بھی ارد گرد دیکھا تھا اسے آس پاس کوئی گھر بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
ریحان ماریہ کو بازو سے پکڑ کر کھینچ کر اسے گھر کے اندر لے گیا جو اس کے دوست کا چھوٹا سا گھر تھا۔
تم ایک گھٹیا انسان ہو چھوڑو میرا ہاتھ
ماریہ نے چیختے ہوئے کہا۔
ریحان نے رک کر ماریہ کو دیکھا۔
کیا کہا تم نے میں گھٹیا انسان ہوں؟ ریحان نے ماریہ کے قریب آتے پوچھا۔
تم سے محبت کرتا ہوں اور یہی کام مجھے لگتا ہے بہت گھٹیا تھا تم جیسی لڑکی سے محبت کرنا آسان کام نہیں ہے تمھاری وجہ سے میں خود کو بھول گیا ہوں چوبیس گھنٹے میرے حواسوں پر تم سوار رہتی ہو میں خود نہیں جانتا کب تم سے اتنی شدید محبت کر بیٹھا اور تمہیں میری محبت مزاح لگتی ہے تمہیں بہت شوق ہے نا کہ غیر مرد تمہیں چھوئیں؟ تمھارا یہ شوق بھی آج میں پورا کر دوں گا۔ریحان نے صبح والی ماریہ کی حرکت کا حوالہ دیتے کہا۔
اور اسے بازو سے پکڑ کر کمرے میں لے آیا اور آتے ہی اسے پیچھے دھکا دیا جو پیچھے بیڈ پر جا گری تھی۔
تم ایسا نہیں کر سکتے ماریہ نے حلق تر کرتے کہا۔
میں بہت کچھ کر سکتا ہوں ریحان نے اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھاتے کہا۔
💜 💜 💜 💜
عمیر پیزا کھانے چلیں؟ دعا نے عمیر کو دیکھتے پوچھا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر واپس آیا تھا۔
عمیر نے دعا کو دیکھا جو سامنے کھڑی عمیر کے جواب کی منتظر تھی۔
مجھے نہیں لگتا کہ ہم دونوں آپس میں اتنے فرینک ہیں کہ تم میرے ساتھ باہر جاکر پیزا کھانا چاہتی ہو۔عمیر نے سنجیدگی سے کہا۔
تم میرے کزن ہو اور اگر فرینک نہیں بھی ہیں تو کیا ہو گا پیزا کھانے کا ہی تو کہا میں نے کون سا تمہیں شادی کے لیے پروپوز کر دیا جو تم اتنا حیران ہو رہے ہو؟ دعا نے منہ بسوڑتے کہا۔
تمہیں دیکھ کر تو مجھے یہی لگتا ہے کہ کسی دن پروپوز بھی کر دو گی۔عمیر نے دلچسپی سے دعا کو دیکھتے کہا۔
اوہ ہیلو میرا ٹیسٹ اتنا بھی برا نہیں ہے جو میں تمہیں پروپوز کروں دعا نے سنجیدگی سے کہا۔
اور میں بھی اتنا فری نہیں ہوں جو تم جیسی چڑیل کے ساتھ باہر جاؤں عمیر نے بھی حساب برابر کرتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ہووو اس نے مجھے چڑیل کہا؟ دعا نے بے یقینی سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔مجھے آئینہ دیکھنا چاہیے ہو سکتا ہے میرا میک خراب ہو گیا ہو دعا نے خود سے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی