58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

سیکنڈ لاسٹ ایپی
نوال گھر آگئی ہے لیکن وہ یہاں نہیں آئی اپنے گھر ہے۔ہیزام نے صنان کو دیکھتے کہا۔
بہت بہت شکریہ مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا۔صنان نے گھورتے ہوئے کہا۔
ہیزام ہنس پڑا تھا۔میں نے سوچا تمھارے علم میں اضافہ کر دیتا ہوں۔ہیزام نے صنان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
زائشہ کا تم نے کیا سوچا ہے؟ ہیزام نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بس کچھ ٹائم بعد ڈی این اے کی رپورٹ آجائے گی جس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
اور عمیر بتا رہا تھا کہ زوہیب امریکہ گیا تھا جس سے میرا شک یقین میں بدل گیا ہے اب بس رپورٹ کے آنے کی دیر ہے۔صنان نے کہا۔
اگر جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا ہی ہوا تو پھر تم کیا کرو گئے؟ ہیزام نے صنان کو دیکھتے پوچھا۔
ایک سکنڈ سے پہلے میں اُسے طلاق دے دوں گا۔صنان نے غصے سے کہا۔
اُس کے بعد وہ کہاں جائے گی؟ ہیزام نے پوچھا۔
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے صنان کہتے ہی موبائل میں بزی ہو گیا۔
لگتا ہے کچھ زیادہ ہی تنگ آگئے ہو تم اپنی دوسری بیوی سے ہیزام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
ہیزام اگر تمہیں اپنی جان پیاری ہے تو میری نظروں کے سامنے سے غائب ہو جاؤ ورنہ کنوارے ہی دنیا سے کوچ کر جاؤ گئے۔
صنان نے دانت پیستے کہا۔
یار جا رہا ہوں مجھے ابھی مرنے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے۔ہیزام نے جلدی سے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
پچھے صنان نے گہرا سانس لیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
نوال گھر آگئی تھی سب لوگ اسے ملنے آئے تھے۔رباب اور عدن اس کے پاس ہی تھیں۔
کیا ہوا نوال تم اتنی خاموش کیوں ہو؟ عدن نے نوال کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے پوچھا۔
نہیں ایسا نہیں ہے عدن تم میرا ایک کام کرو گی؟ نوال نے جلدی سے کہا۔
کیا؟ عدن نے نوال کو دیکھتے پوچھا۔
صنان کو کہو میں اُس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ابھی اور اسی وقت نوال نے عدن کو کہا۔
سچ میں تم صنان بھائی سے ملنا چاہتی ہو؟
عدن نے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات لیے پوچھا۔
ہاں کیا میں اُس سے نہیں مل سکتی کیا؟
نوال نے الٹا سوال کیا۔
نہیں میرا مطلب ہے کچھ نہیں میں بلاتی ہوں صنان بھائی کو عدن نے جلدی سے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ نوال کو کہا کہے۔
صنان اپنے کمرے کے ٹیرس پر کھڑا سگریٹ نوشی کر رہا تھا جب عدن وہاں آئی۔بھائی نوال آپ سے بات کرنا چاہتی ہے عدن نے صنان کو دیکھتے کہا۔
میرے ساتھ ایسا مزاح نا کرو مجھے تو لگتا ہے کہ وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہو گی۔صنان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
لو میں کیوں جھوٹ بولوں گی مجھے نوال نے کہا کہ وہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔
اس سے پہلے اُس کا ارادہ تبدیل ہو جائے اُس کی بات سن لیں عدن نے کہا تو کچھ پل صنان عدن کو دیکھتا رہا پھر وہاں سے چلا گیا۔
پتہ نہ کب ان دونوں میں سب کچھ ٹھیک ہو گا۔عدن نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
میں اپنی ماما کے پاس جا رہی ہوں نوال بھی وہی پر ہے اور گڑیا میرے ساتھ ہی رہے گی۔
دعا نے حاکم کو دیکھتے کہا۔
تم. مجھ سے اجازت لے رہی ہو یا بتا رہی ہو؟ حاکم نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔
میں آپ سے اجازت نہیں لے رہی بلکہ آپ کو بتا رہی ہوں۔
اور جب میرا دل کرے گا میں واپس آجاؤں گی۔دعا نے کندھےاچکائے کہا اور اپنا سامان پیک کرنے لگی۔
تمہیں اب میں کچھ کہتا ہوں تو تم کچھ زیادہ ہی بدتمیز نہیں ہوتی جا رہی؟
حاکم چلتا ہوا دعا کے پاس آیا اور اس کا رخ اپنی طرف کرتے سنجیدگی سے کہا۔
میں نے آپ کو بتایا تو تھا۔دعا نے حاکم کو دیکھتے کہا۔
کیا؟ حاکم نے ناسمجھی سے دعا کو دیکھتے پوچھا۔
کہ میں بہت زیادہ بدتمیز ہوں دعا نے تھوڑا حاکم کے قریب ہوتے رازداری سے کہا۔
حاکم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اس سے پہلے دعا حاکم سے پیچھے ہوتی اس نے دعا کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔کہ وہ سمجھ نہیں پائی۔
دعا نے حیرانگی سے حاکم کو دیکھا جس کا چہرہ دعا کے چہرے کے بےحد قریب تھا۔
میں بھی تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔
حاکم نے گہرے لہجے میں دعا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
کیا؟ دعا نے اپنا حلق تر کرتے پوچھا کیونکہ حاکم کی گرفت دعا کی کمر پر مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
میں تم سے زیادہ بدتمیز ہوں مسز جب میں بدتمیز کرنے پر آیا تو تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔حاکم نے دعا کے کان کے پاس جھک کر کہا جس سے اس کے ہونٹ دعا کے کان سے ٹچ ہوئے تھے۔
حاکم تو اپنی بات کہہ کر پیچھے ہو گیا لیکن دعا ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی۔
ویسے ساتھ والا گھر تمھاری امی کا ہے تو اتنے سوٹ کیوں لے کر جا رہی ہو؟
اور مسز سارا دن بےشک تم وہاں رہو لیکن رات تم یہی آؤ گی کیونکہ میں اپنی بچی اور اُس کی اماں کے بغیر نہیں رہ سکتا اُس کی اماں نے مجھے بھی اپنی عادت ڈال دی ہے۔
حاکم نے اماں پر زور دیتے کہا تو دعا ہوش میں آئی تھی لیکن حاکم اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
عجیب انسان ہے میں تو رات بھی وہی رہو گی دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔لیکن حاکم کے قریب آنے کا سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
💜💜💜💜
صنان اس وقت نوال کے سامنے موجود تھا اس کا دل تو کر رہا تھا کہ نوال کو گلے لگا لے اس کی وجہ سے وہ آج اس حالت میں موجود تھی لیکن ابھی وہ ایسا کر کے مزید نوال کو بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مجھے طلاق چاہیے نوال نے صنان کو دیکھتے کہا۔
جس نے حیرانگی سے نوال کو دیکھا تھا۔
کیا کہا تم نے؟ صنان نے ایک دم نوال کے قریب آتے دانت پیستے کہا۔
کیا تم نے سنا نہیں؟ میں نے کہا مجھے طلاق چاہیے نوال نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ تو تمہیں میں کبھی بھی نہیں دوں گا اگر تم نے دوبارہ ایسی بات کی تو تمہیں تو کچھ نہیں کہوں گا ہاں خود کو ضرور کچھ نا کچھ کر لوں گا پھر ہی تم آذاد ہو سکتی ہو اس کے علاوہ نہیں صنان نے سرد لہجے میں نوال کو دیکھتے کہا اس کی آنکھیں ایک دم سرخ ہوئی تھیں۔
نوال خاموشی سے صنان کو دیکھ رہی تھی۔صنان نے اس کے بازو کو چھوڑا اور اپنے سر کو دبائے غصے کو کم کرنے لگا۔
نوال میں تھک گیا ہوں یار ایک ہی بات تمہیں بار بار کہہ کر تمہیں کیسے بتاؤں؟ کیسے سمجھاؤں؟ محبت کرتا ہوں تم سے نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر اور یہ سب جاننے کے بعد بھی تم طلاق کی بات کرتی ہو؟
قسم کھاتا ہوں میں آج تک نکاح سے پہلے اور نکاح کے بعد میں نے زائشہ کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ہاں جب وہ حویلی آئی تک اُس وقت میں نے اسے بازو سے پکڑا تھا۔اس کے علاوہ میں نے اُسے ہاتھ نہیں لگایا صرف تم سے محبت کرتا ہوں۔اگر میں مطلبی یا بےحس ہوتا تو اُس انسان کو سچ بتا کر مرنے دیتا لیکن دل نہیں مان رہا تھا۔
یار کیا کرتا؟ سچ بتا کر اُس بڑھے آدمی کو میں مارنا نہیں چاہتا تھا.
لیکن یہ ہمدردی میرے ہی گلے پڑ گئی۔اور وہ لڑکی میرا ہی گھر خراب کرنا چاہتی ہے مجھے اب بات کی بلکل بھی امید نہیں تھی۔
لیکن جب تک میں یہ معاملہ ختم نہیں کر دیتا تمہیں میں مزید کوئی صفائی نہیں دوں گا۔
اگر تمہیں مجھ سے چھٹکارا چاہیے تو میری موت کی دعا مانگو ایک یہی راستہ ہے جو تمہیں مجھ سے الگ کر سکتا ہے۔
صنان نے بےبسی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر لاتے کہا اور وہاں سے چلا گیا وہ نوال کی آنکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا۔اور نوال کو تکلیف میں وہ مزید دیکھنا نہیں چاہتا تھا اس لیے وہاں سے چلا گیا۔
نوال نے گہرا سانس لے کر آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا تھا لیکن آنسوؤں نے بھی باہر آکر ہی دم لیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
صنان وہاں سے نکل آیا تھا اور اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب زائشہ نے اسے دیکھا اور اس کا راستہ روکا۔
صنان پہلے ہی غصے میں بھرا نوال کے گھر سے آیا تھا تو سامنے زائشہ آگئی۔
تم کہاں ہوتے ہو؟ میں بھی تمھاری بیوی ہوں لیکن تمہیں تو ہوش ہی نہیں ہے زائشہ نے صنان کو دیکھتے شکوہ کرتے کہا۔جیسے ان میں سب کچھ ٹھیک ہو۔
تمہیں میں نے کہا تھا کہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا شکر کرو تم یہاں رہ رہی ہو ورنہ تمہیں اس گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیتا اور یقین کرو مجھے کوئی روک بھی نہیں سکتا۔
تو میری نظروں سے دور ہو جاؤ اس سے پہلے میں اپنے ہاتھوں سے تمھاری جان لے لوں۔
صنان نے خونخوار نظروں سے زائشہ کو دیکھتے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔
زائشہ ابھی بھی وہی کھڑی تھی۔غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
صنان کی نظروں میں یہ عزت ہے تمھاری بہت افسوس ہوا مجھے زوہیب جو صنان کی بات سن رہا تھا اس نے زائشہ کو دیکھتے افسوس سے کہا۔
تم اپنا افسوس اپنے پاس رکھو مجھے تمھارے افسوس کی ضرورت نہیں ہے مجھے کچھ اور سوچنا پڑے گا۔زائشہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
کتنا مزہ آرہا ہے نا مجھے یہ ڈرامہ پسند آرہا ہے زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
💜💜💜💜💜
تم نے اپنے باپ سے ریحان کے بارے میں بات کیوں کی ماریہ؟ تم سمجھ کیوں نہیں رہی وہ تمھارے قابل نہیں ہے میں تمھارے لیے کوئی اچھا لڑکا ڈھونڈ کر لاؤں گی۔صفیہ بیگم نے اپنی بیٹی کو دیکھتے کہا۔
جب سے ان کو عرفان صاحب نے بتایا تھا کہ انہوں نے ریحان اور ماریہ دونوں کے بارے میں دادا جان سے بات کی ہے اُس وقت سے صفیہ پریشانی نے آن گھیرا تھا۔پتہ نہیں صفیہ کو ریحان سے کیا مسئلہ تھا۔
موم زرا مجھے آپ بتائیں کہ کس لحاظ سے ریحان میرے قابل نہیں ہے؟ اور کیا کمی ہے اُس میں؟ ماریہ نے سنجیدگی سے اپنی ماں کو. دیکھتے پوچھا۔
صفیہ خاموش رہی تھی۔
موم آپ اپنے الفاظ کی درستگی کر لیں ریحان میرے قابل نہیں بلکہ میں اُس کے قابل نہیں ہوں۔وہ ہر لحاظ سے مجھ سے بہتر اور اچھا ہے۔ اور میں خوش قسمت ہوں کہ ریحان جیسا مجھے ہمسفر ملا ہے ۔ماریہ نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا اور کچن سے نکل کر باہر چلی گئی۔
صفیہ بیگم نے اسے کچن میں دیکھا تو وہی بات کرنے آگئی تھی۔
ریحان جو وہاں سے گزر رہا تھا اس نے صفیہ اور ماریہ کو ریکھا تو وہی آگیا تھا لیکن ماریہ کا جواب سن کر اس کا دل خوش ہو گیا تھا۔
ماریہ اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب ریحان نے پیچھے سے آکر اسے بازو سے پکڑا اور اردگرد دیکھتے اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔
اب کیا ہے؟ ماریہ نے ریحان کو دیکھتے پوچھا جو اس کا ہاتھ چھوڑے اب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
میں دیکھ رہا ہوں میری بیوی پر بھی میرے پیار کا اثر ہو گیا ہے اس لیے تو میرے خلاف کچھ سن نہیں سکتی۔
ریحان نے مسکراتی نظروں سے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
تم نے چھپ کر ہماری باتیں سنی؟ ماریہ نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
لو مسز مجھے کیا ضرورت ہے چھپ کر باتیں سننے کی ریحان نے ہنستے ہوئے کہا۔
میں سوچ رہا تھا کہی باہر چلتے ہیں آئسکریم کھانے تم چلو گی میرے ساتھ؟ ریحان نے بات تبدیل کرتے ماریہ کے قریب آتے پوچھا۔
میں نے کہا نا اس سے پہلے ماریہ اپنی بات پوری کرتی ریحان نے جھک کر اس کی بولتی بند کر دی تھی۔
ماریہ کی تو آنکھیں باہر آگئی تھیں۔تھوڑی دیر بعد ریحان پیچھے ہوا اور شوخ نظروں سے ماریہ کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی بت بنی کھڑی تھی۔
چلو گی میرے ساتھ ریحان نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو ماریہ ہوش میں آئی۔
میں تمھارے ساتھ کہی نہیں جا رہی بےشرم انسان ماریہ نے ریحان کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا اور وہاں سے بھاگ گئی۔پیچھے ریحان قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
تمھارا اب ہاتھ کیسا ہے مسز؟ ابتہاج نے کمرے میں داخل ہوتے رباب کو دیکھتے پوچھا۔ولیمہ تو ہو گیا تھا تو نوال کے گھر آنے کے بعد دادی جان نے سادگی سے رباب کو رخصت کر دیا تھا۔
اب تو کافی بہتر ہے اور یہ سوال ناجانے آپ مجھ سے کتنی بار پوچھ چکے ہیں اب تو مجھے بھول گیا ہے کہ آپ نے کتنی بار مجھ سے یہ سوال پوچھا ہے۔رباب نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
جو ہنس پڑا تھا اور رباب کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا۔
مجھے تمھاری فکر ہے مسز اس لیے بار بار تم سے پوچھتا ہوں اور جب تم کہتی ہو کہ میں ٹھیک ہوں تو مجھے اچھا لگتا ہے۔مجھے یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ میری مسز اب ٹھیک ہے۔ابتہاج نے رباب کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
ابتہاج کی بات پر رباب ہنس پڑی تھی۔
آپ کو ایک بات کہوں کیا آپ میری بات مانے گئے؟ رباب نے اجازت لیتے پوچھا۔
مسز تم بس حکم کرو ابتہاج نے پیار سے کہا۔
آپ بلیک کلر کی شلوار قمیض مت پہنا کریں اُس میں آپ بہت اچھے لگتے ہیں اگر کسی لڑکی کا آپ پر دل آگیا تو میرا کیا ہو گا؟ رباب نے منہ بسوڑتے کہا۔
ابتہاج حیرانگی سے رباب کو دیکھ رہا تھا۔
مسز یہ کیا لاجک ہوئی بھلا؟ ابتہاج نے رباب کے سامنے بیٹھتے پوچھا۔
بس آپ کالا رنگ نا پہنا کریں نا رباب نے ضدی لہجے میں کہا۔
اچھا ٹھیک ہے مسز نہیں پہنوں گا اور اب میرے دل میں صرف ایک لڑکی قبضہ جمائے بیٹھی ہوئی ہے کسی دوسری کو آنے کی اجازت میں نہیں دوں گا۔
ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔
رباب نظریں جھکائے ہنس پڑی تھی۔اس کے چہرے پر پھیلی شرمیلی سی مسکراہٹ ابتہاج کو کافی بھلی لگ رہی تھی۔
ظالم لڑکی!!! ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا اور دوبارہ رباب کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا اور دونوں باتیں کرنے لگے۔
💜 💜 💜 💜
بھائی یہ رپورٹ آچکی ہیں عمیر نے رپورٹ صنان کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
صنان نے رپورٹ پکڑ کر دیکھی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
واہ اب میں دیکھتا ہوں خالہ جان اپنے بیٹے کے بارے میں کیا خیال رکھتی ہیں آج سارا کھیل ختم ہو جائے گا۔
صنان نے مسکراتے کہا اور عمیر کی طرف دیکھا۔
جاؤ اور سب کو ہال میں بلا کر لاؤ مجھے سب سے بات کرنی ہے بلکہ یہ نیوز سب سے شئیر کرنی ہے صنان نے آنکھوں میں چمک لیے کہا تو عمیر اثبات میں سر ہلائے وہاں سے چلا گیا۔
اس نے سب لوگوں کو وہاں جمع کیا تھا کہ صنان ان سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب عدن چھت پر کھڑی تھی جب ماہا وہاں پر آئی چھت کی یہ دیوار کافی چھوٹی تھی۔عدن یہاں کھڑی ناجانے کسے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جب ماہا وہاں پر آئی۔
عدن کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اگر تمہیں میں جان سے مار دوں تو پھر ہیزام شادی کس سے کرے گا۔
ماہا نے خود سے سوچتے ہوئے کہا۔
افکورس مجھ سے کرے گا۔بےچارے کو دکھ تو بہت ہو گا لیکن کیا کر سکتے ہیں۔
پیار اور جنگ میں تو سب جائز ہوتا ہے نا ماہا کہتے ہی عدن کی جانب بڑھی جو اس کی طرف پشت کیے کھڑی تھی۔
ماہا چلتی ہوئی عدن کے پاس پاس آئی۔
عدن تھوڑا جھک کر نیچے کچھ تلاش کر رہی تھی۔جب ماہا اس کے پیچھے آکر کھڑی ہو گئی۔
💜 💜 💜 💜
کیا بات کرنی ہے تم نے صنان؟ دادا جان نے صنان کو دیکھتے پوچھا۔
دادا جان مجھے ایک نیوز آپ سب کو دینی ہے۔
صنان نے کہا سب لوگ وہاں موجود تھے اس سے پہلے صنان مزید کچھ کہتا عدن کی چیخوں نے اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا۔ اور سب لوگ باہر کی طرف بھاگے تھے۔