No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
ابتہاج گھر آتے ہی بس ایک سوچ میں غم بیٹھا تھا اب تو اس کا سر درد کرنے لگا تھا۔رباب اسے جواب دے گی اسے امید نہیں تھی۔
لڑکی میں ہمت تو ہے ابتہاج نے چہرے پر مسکراہٹ لیے کچھ سوچتے کہا۔اب تو میں بھی تیار ہوں نکاح کے لیے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کب تک تم مجھے برداشت کرو گی۔اور اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں ابتہاج نے خود سے کہا۔اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا رباب کو بلکل بھی معلوم نہیں تھا وہ تو یہ سوچ کر خوفزدہ ہو رہی تھی کہ اب ابتہاج کیا کرے گا۔
غصے میں اس نے بول تو دیا تھا لیکن اب اس کی حالت خراب ہو رہی تھی۔اور ابتہاج نے بھی اس کے بعد اسے ایسا ویسا کچھ نہیں کہا تھا۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ ابتہاج نے کیا سوچا ہوا ہے۔
💜💜💜💜
گھر میں تیاریاں چل رہی تھی گارڈن کو سفید اور سرخ گلاب سے سجایا گیا تھا۔دو دن تک سب تیاریوں میں مصروف رہے تھے۔
آج دوپہر میں رباب اور ابتہاج کا نکاح تھا۔ابتہاج خود رباب کے سامنے نہیں آیا تھا۔
اور ماریہ وہ تو خاموش ہو گئی تھی اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔اب تو اسے ابتہاج میں بھی دلچسپی نہیں تھی۔کیونکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا تو اس کا دماغ ان سب چیزوں سے باہر ہی نہیں نکل رہا تھا۔
کوئی ہے اللہ کا نیک بندہ جو میری ان خوبصورت پھولوں کے ساتھ تصویر کھینچ دے؟ عدن نے ہیزام کو آتے دیکھا تو عمیر کو جلدی سے کہا۔جس نے حیرانگی سے عدن لو. دیکھا تھا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے عدن اپنی سیلفیز لینے میں مصروف تھی۔
ہیزام نے ایک نظر عدن کو دیکھا جس نے سفید کلر کا فراک پہنا ہوا تھا اور فل میک اپ نے اسے بلکل ہی تبدل کر دیا تھا لیکن ہیزام کے سیدھے دل میں اتر رہی تھی۔
عمیر تمہیں چاچو جان بلا رہے ہیں ہیزام نے عمیر کو دیکھتے کہا۔
جی بھائی عمیر کہتے اندر چلا گیا۔
سنیں کیا آپ میری ایک تصویر کھینچ دے گئے؟ عدن نے ہیزام کے پاس آتے آنکھیں مٹکاتے پوچھا۔
کسی دن یہ لڑکی اپنی انہی اداؤں کی وجہ سے میری جان لے لیں گی۔جتنا ہیزام عدن کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا اتنا ہی وہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے اس کے دل میں مزید اپنی جگہ بناتی جا رہی تھی ہیزام اچھی طرح جانتا تھا کہ عدن اسے پسند کرتی ہیں لیکن کبھی اس نے زبان سے اظہار نہیں کیا۔
ہیزام نے اپنا موبائل نکالا اور عدن کی تصاویر لینے لگا۔
عدن کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی لیکن اس کے ظاہر نہیں کیا۔
چلو اب مجھے سینڈ کر دو عدن نے ہیزام کو دیکھتے کہا۔ابھی اندر جاؤ میں بعد میں تمہیں سینڈ کرتا ہوں.
ہیزام نے سنجیدگی سے کہا اتنے میں راحیلہ بیگم بھی وہاں آگئی تھی۔دونوں کو ساتھ کھڑے دیکھ ان کے دل میں ایک خیال آیا تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنے بیٹے سے کیا بھی تھا۔راحیلہ بیگم کو دیکھ کر عدن خود ہی اندر چلی گئی تھی۔
بیٹا عدن تمہیں کیسی لگتی ہے؟ راحیلہ بیگم نے پوچھا۔اپنا نام سن کر عدن کے کان کھڑے ہوئے تھے اور اندر جانے کی بجائے وہی ہیزام کا جواب سننے کے لیے وہاں کھڑی ہو گئی۔
ہیزام عدن کو دیکھ چکا ہے۔امی جان جو آپ کے دماغ میں چل رہا ویسا کچھ بھی نہیں ہے اور ہاں میں اپنے لیے لڑکی پسند کر چکا ہوں ہیزام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ راحیلہ بیگم نے خوشی سے پوچھا۔
جی بلکل بس وقت آنے پر آپ سے ملوا دوں گا۔ہیزام نے کہا۔عدن نے غصے سے پیر پٹخا اُس چڑیل کو تو میں دیکھ لوں گی اور تمہیں بھی مسٹر ہیزام عدن نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
لیکن ہیزام بیٹا میں نے تمھارے لیے عدن کا سوچا ہوا تھا اگر تمہیں کوئی اور لڑکی پسند ہے تو کوئی بات نہیں تمھاری خوشی مجھے زیادہ عزیز ہے۔راحیلہ بیگم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
امی جان میں نے یہ نہیں کہا کہ جس لڑکی کو میں پسند کرتا ہوں وہ عدن نہیں ہے۔ہیزام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب؟ راحیلہ بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا۔
میں جس لڑکی کو پسند کرتا ہوں وہ عدن ہی ہے لیکن ابھی آپ اس بارے میں کسی سے بات نہیں کریں گی عید کے بعد میں خود ابو جان سے بات کروں گا۔ہیزام نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔جو ہیزام کی بات سن کر خوش ہو گئی تھیں۔اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے راحیلہ بیگم نے ہیزام کا ماتھا چومتے کہا۔اور وہاں سے چلی گئی۔
ہیزام نے عدن کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے لاتے نفی میں سر ہلایا اور خود بھی اندر چلا گیا۔
بقول عدن کے ہیزام کھڑوس انسان تھا کیونکہ اسے لگتا تھا کہ ہیزام ہر کام میں روک ٹوک کرتا ہے۔لیکن دل بھی اسے دیکھ کر دھڑکنے لگتا تھا تو عدن بھی اہنے دل. کے ہاتھوں مجبور تھی لیکن اس نے کبھی ہیزام کو محسوس ہونے نہیں دیا تھا کہ اس کے دل میں ہیزام کے لیے کیا ہے۔
💜💜💜💜
کچھ سال پہلے
ڈیڈ یہ لڑکا کون ہے؟ زائشہ نے اپنے باپ کو دیکھتے پوچھا۔
بیٹا حمزہ کا دوست ہے پڑھائی کے لیے یہاں آیا ہے اور حمزہ نے کہا کہ کہی باہر رہنے سے بہتر ہے کہ ہمارے گھر میں رک جائے بہت اچھا لڑکا ہے۔
خلیل صاحب نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
چلیں ڈیڈ یہ تو اچھی بات ہے اور میں آپ کو بتانے آئی تھی میں اپنی فرینڈز کے ساتھ باہر جا رہی ہوں مجھے رات دیر ہو جائے گی۔
زائشہ نے کہا۔
بیٹا جلدی آنے کی کوشش کرنا خلیل صاحب نے کہا وہ جانتے تھے کہ ان کی بیٹی ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اب اگر وہ اسے کسی چیز سے روکتے بھی تھے تو زائشہ ضد میں آکر وہ کام کرتی تھی۔
بنا ماں کے بچوں کا پالنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اس بات کا احساس خلیل صاحب کو بہت پہلے ہو چکا تھا۔
ٹھیک ہے ڈیڈ میں کوشش کروں گی زائشہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
💜💜💜💜
رباب اور ابتہاج کا نکاح ہو گیا تھا۔ابتہاج خوش تھا سکینہ کو تو ایسا ہی لگ رہا تھا لیکن رباب کے منہ پر بارہ بجے ہوئے تھے۔جو کچھ اس نے ابتہاج کو کہا تھا رباب کو تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ نکاح سے منع کر دے گا یا کچھ نا کچھ تو ایسا ضرور کرے گا جس سے نکاح رک جائے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور اب رباب کو ابتہاج سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
نکاح کے بعد ابتہاج نے کہا تھا کہ وہ سب سے بات کرنا چاہتا ہے جہانگیر صاحب بھی پاکستان آگئے تھے اور کافی خوش بھی تھے۔
ہاں بولو بیٹا کیا بات کرنی تھی؟
دادا جان نے ابتہاج کی طرف دیکھتے پوچھا۔رباب کمرے میں تھی۔
نانا جان آپ بڑوں نے جیسا چاہا ویسا ہی ہوا ہے میں آپ کے فیصلے کی عزت کرتا ہوں لیکن میں واپس جانا چاہتا ہوں اپنی بیوی کے ساتھ اور مجھے نہیں لگتا کہ آپ لوگوں کو کوئی مسئلہ ہو گا۔کیونکہ ڈیڈ بھی یہی پر ہیں اور بزنس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے ڈیڈ نے یہاں پر بزنس سیٹ کرنے کا سوچا ہے لیکن اُس میں تھوڑا وقت لگے گا اور اس کے لیے کسی ایک کا لندن ہونا ضروری ہے تو میں چاہتا ہوں رباب کو اپنے ساتھ لے جاؤں اور عید سے پہلے ہم واپس آجائیں گئے۔
ابتہاج نے دادا جان کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا۔
یہ تو اچھی بات ہے کہ جہانگیر پاکستان میں اپنا بزنس سیٹ کرنا چاہتا ہے اور مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں لگ رہا تم رباب کو لے کر جا سکتے ہو۔راشد تم کیا کہتے ہو اور ہیزام بیٹا تمھارا کیا خیال ہے؟ دادا جان نے دونوں کی طرف دیکھتے پوچھا۔
ابو جان مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے رباب اب ابتہاج کی بیوی ہے اگر وہ اُسے اپنے ساتھ لندن لے کر جانا چاہتا ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے راشد صاحب نے کہا۔
دادا جان آپ دونوں کی بات ٹھیک ہے اور ہیزام کا جانا بھی ضروری ہے اور مجھے بھی اس کی یہ بات اچھی لگی کہ وہ رباب کو بھی اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے لیکن میں ایک بار رباب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا چاہتی ہے وہ باہر جانا چاہتی بھی ہے یا نہیں ہیزام نے سنجیدگی سے کہا۔
ابتہاج نے ہیزام کی طرف دیکھا تھا۔
بلکل تم ٹھیک کہہ رہے ہو اور میں چاہتا ہوں میں خود رباب سے اس بارے میں بات کروں تاکہ اُسے اچھے سے اپنی مجبوری کے بارے میں سمجھا دوں ابتہاج نے جلدی سے کہا۔
ہاں بیٹا تم اُس سے بات کر لو اور دو دن تو یہی رک جانا پھر چاہے چلے جانا دادا جان نے ابتہاج کو دیکھتے کہا اور باقی سب کو بہت بہت مبارک ہو۔
رمضان کا چاند نظر آگیا ہے کل پہلا روزہ ہو گا بہو اور بچیوں تیاری میں لگ جاؤ ہماری بیٹی بھی آئی ہوئی ہے جب سب لوگ مل جائیں تو ہر ایک چیز دلچسپ ہو جاتی ہے اور ما شا اللہ سے ہمارے گھر میں تو چوبیس گھنٹے بچوں کی وجہ سے رونق لگی رہتی ہے اب تو دعا بھی آگئی ہے۔دادا جان نے پیار سے دعا کو دیکھتے کہا۔جو بتسی دکھا کر ہنس پڑی تھی۔
ابتہاج یہی سوچ رہا تھا کہ ایسا کیا کرے کہ رباب اس کے ساتھ جانے کے لیے مان جائے۔
اور سکینہ بیگم کو اپنے بیٹے کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ صفیہ بیگم تو بس غصے میں بیٹھی تھی انہوں نے اپنے بیٹے کے بارے میں سوچا تھا کہ وہ باہر لندن جائیں گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
ہیزام نے سوچ لیا تھا کہ وہ خود بھی رباب سے اس بارے میں بات کرے گا۔
💜 💜 💜 💜
میری بات سنو ماریہ
ریحان نے ماریہ کو بازو سے پکڑتے روکا۔
جس نے زور سے ریحان کے بازو کو جھٹ دیا تھا۔
تم نے اگر مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو تمھارے ہاتھ توڑ دوں گی۔ماریہ نے غصے سے ریحان کے سامنے انگلی اٹھاتے اسے تنبیہ کرتے کہا۔
جس نے ڈھٹائی سے مسکرا کر ماریہ کی انگلی کو پکڑ کر اسے ہلکا س اپنے لبوں سے چھوا۔ماریہ کو ریحان کی اس حرکت سے کرنٹ سا لگا تھا۔
اب تو تم میری بیوی ہو اب تو تمہیں چھو سکتا ہوں ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں نے کہا نا تمھارا ہاتھ توڑ دوں گی اگر مجھے چھونے کی کوشش کی تو ماریہ نے ریحان سے کچھ فاصلے پر ہوتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
ریحان نے مسکرا کر اپنا ہاتھ ماریہ کے سامنے کر دیا تھا۔یہ لو توڑ دو تمہیں اجازت ہے۔ریحان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
ماریہ نے ایسے ریحان کو دیکھا تھا جیسے سامنے کھڑا انسان پاگل ہو۔
تم سچ میں ہاگل ہع گئے ہو اپنا علاج کرواؤ ماریہ نے ریحان کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
آہ مجھے بھی لگتا ہے تمھارے پیار میں پاگل یو گیا ہوں ریحان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے میٹھے لہجے میں کہا پھر خود ہی اپنی بات پر مسکرا پاڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ظالم لڑکی ایک نظر مجھ غریب پر بھی ڈال لو صنان نے نوال کے سامنے آتے کہا۔
کیوں تمہیں کیا مسئلہ پیش آگیا ہے؟ نوال نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
صنان اچانک نوال کے کان کے پاس جھکا اور سرگوشی نما انداز میں کہا۔
میرے مسئلے تو بہت ہیں لیکن کیا تمھارے پاس اتنا وقت ہے کہ میرے مسائل سن سکو؟ اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی مجھ سے ناراض ہے۔اور آج تو وہ کالے رنگ کے شلوار سوٹ میں قیامت ڈھا رہی ہے۔میں اُس کی تعریف کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ تو مجھے لفٹ ہی نہیں کروا رہی صنان کہتے ہی پیچھے ہٹ گیا۔
نوال دم سادھے کھڑی تھی صنان کے پیچھے ہٹتے ہی اس نے اپنے خشک لبوں کو تر کیا تھا۔
صنان نے خود بھی بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنی تھی۔
تمہیں نا باہر کی ہوا لگ گئی ہے اچھا خاصا شریف لڑکا باہر گیا تھا اور جب واپس آیا تو پورا لوفر بن کر آیا ہے۔
نوال نے اپنی ٹون میں آتے صنان کو دیکھتے کہا بلکہ گھورتے کہا۔
صنان نے اپنی دو انگلی کی پور سے نوال کے چہرے پر جھولتی لٹ کو پیچھے کیا۔
جیسا بھی ہوں تمھارا ہوں صنان نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
نوال نے ایک نظر صنان کو دیکھا اور اس کے قریب آئی صنان کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
تمھارا یہ فلرٹ مجھے ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا نوال نے کہتے ہی اپنی بلیک ہیل زور سے صنان کے پاؤں پر دے ماری۔
اُف لڑکی کیا کر رہی ہو؟ صنان نے اپنے پاؤں کو دیکھتے کراہ کر کہا کیونکہ اس سے زیادہ وہ کچھ بھی نہیں سکتا تھا۔
بائے بائے مسٹر فلرٹی نوال نے مسکراتے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
پیچھے صنان کرسی پر بیٹھ کر اپنے پاؤں کا معائنہ کرنے لگا جو سرخ ہو رہا تھا ظالم لڑکی صنان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜
رباب اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے نظریں اوپر کر کے دیکھا سامنے ابتہاج کھڑا تھا۔
رباب ابتہاج کو سامنے دیکھ کر ایک دم ڈر گئی تھی۔
آپ؟ رباب نے کھڑے ہوتے کہا۔
ابتہاج چلتا ہوا رباب کے پاس آیا اور اسے بازوں سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کیا۔
رباب حیرانگی سے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی اس نے اپنی جیب سے ایک سرخ رنگ کی ڈبیہ نکالی جس میں ایک خوبصورت رنگ تھی اور اُس پر دو چھوٹے سرخ رنگ کے موتی لگے ہوئے تھے۔
ابتہاج نے رباب کا ہاتھ پکڑا اور اس میں رنگ پہنانے لگا۔رباب تو ابھی بھی شوکڈ کھڑی تھی۔
رنگ پہنانے کے بعد ابتہاج نے رباب کی رنگ پر جھک کر بوسہ دیا۔
رباب آنکھیں پھاڑے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔
میں جانتا ہوں میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے کیا تم مجھے معاف کر سکتی ہو؟ ابتہاج نے نظریں جھکائے چہرے پر شرمندگی لیے کہا۔
رباب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح کا تاثر دے اسے ابتہاج سے اس طرح کے ردعمل کی امید نہیں تھی۔
تم نے مال میں جو کچھ بھی کہا اُس بارے میں میں نے بہت سوچا اور کافی سوچنے کے بعد مجھے اپنی ہی غلطی نظر آئی تو پلیز مجھے معاف کر دو۔
ابتہاج نے رباب کے چہرے کی طرف دیکھتے کہا جس نے سفید کلر کا لانگ فراک پہنا ہوا تھا اور کندھے پر ابھی بھی سرخ ڈوپٹہ لٹک رہا تھا۔اس نے سرخ رنگ کی لپ سٹ لگائی ہوئی تھی جب ابتہاج کمرے میں داخل ہوا تو رباب کو دیکھ کر کچھ پل تو وہی تھم سا گیا تھا پھر اس نے خود پر قابو پایا اور رباب کے پاس آیا تھا۔
رباب بہت معصوم تھی وہ اسی میں خوش ہو گئی تھی کہ ابتہاج نے اس سے معافی مانگ لی ہے۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ ابتہاج کیا کرنے والا ہے۔
تم مجھے معاف نہیں کروں گی؟ ابتہاج نے کچھ پل رباب کے جواب کا انتظار کیا لیکن جب جواب نا آیا تو پوچھا۔
چلو تم کچھ ٹائم لے لو اور سوچ لو پھر جواب دینا کہ تم نے مجھے معاف کیا یا نہیں میں نے بھی تو تمہیں اتنی تکلیف دی ہے تو تھوڑا بہت مجھے بھی تکلیف کو محسوس کرنا چاہیے۔ابتہاج نے رباب کی کلائی کو دیکھتے کہا جہاں پر ابھی بھی چوڑیوں کے لگنے کے زخم موجود تھے۔
نکاح مبارک ہو مسز ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا اور جھک کر رباب کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر وہاں نہیں رکا تھا اور کمرے سے باہر نکل. گیا۔
رباب نے حیرانگی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت چہرے پر لیے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا پڑی تھی۔
ابتہاج باہر آیا اور اس نے گہرا سانس لیا تھا یہ کیا کرکے آگیا ہوں میں کہی یہ لڑکی جادو گرنی تو نہیں ابتہاج نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا وہ ایسا بلکل بھی نہیں کرنا چاہتا تھا یا شاید یہ نکاح کا اثر تھا۔وہ نہیں جانتا تھا لیکن ابھی بھی وہ اپنے دماغ کی سن رہا تھا جو اس سے بہت کچھ غلط کروانے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜
