122.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

کیا ہوا؟ دادا جان نے سنجیدگی سے ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔ سب لوگ باہر آگئے تھے۔
دادا جان باہر عزالہ پھپھو آئی ہیں اور دروازے کے باہر بیٹھی رو رہی ہیں اندر بھی نہیں آرہی ہیزام نے پریشانی سے کہا۔
صاقب جاؤ اُسے اندر لے کر آؤ پہلے ہی اس کی وجہ سے ہمیں اپنا شہر چھوڑنا پڑا تھا اور اب بھی ہمارا تماشا بنا رہی ہے دادا جان نے سرد لہجے میں کہا۔
صاقب صاحب کے ساتھ ہیزام بھی باہر گیا تھا اور عزالہ کو اپنے ساتھ اندر لے آئے ان کے ساتھ عزالہ کی بیٹی ماہا اور حاکم سے چھوٹا بیٹا زوہیب بھی تھا۔
ابو جان عزالہ نے دادا جان کو دیکھتے ہی کہا اور ان کے قدموں میں آکر بیٹھ گئی اور رونے لگی۔
ابو جان مجھے معاف کر دیں! میں نے آپ سب کا بہت دل دکھایا ہے اب مزید میں آپ لوگوں سے دور نہیں رہ سکتی اب تو اتنے سال گزر گئے ہیں مجھے معاف کر دیں زندگی کا کیا بھروسہ ہے لیکن میں مرنے سے پہلے آپ لوگوں سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔عزالہ نے روتے ہوئے کہا دادی جان نے تو رخ موڑ لیا تھا۔
موم تو بہت اچھی ایکٹنگ کرتی ہیں مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا۔زوہیب نے ماہا کے کان میں سرگوشی کرتے کہا۔
جس نے زور سے زوہیب کو کہنی مار کر خاموش رہنے کا کہا تھا۔
امی جان آپ تو اب مجھے معاف کر دیں۔میں جانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور گزرا ہوا وقت بھی واپس نہیں آ سکتا لیکن مجھے معاف کر دیں میں شرمندہ ہوں عزالہ نے اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھتے روتے ہوئے کہا۔
آج سے کچھ سال پہلے بھی تو نے اسی طرح پورے محلے کے سامنے ہمیں رسوا کیا تھا اور آج پھر وہی کچھ کر رہی ہے۔میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی۔
دادی جان نے کہا اور نوال کو اشارہ کیا کہ وہ اسے کمرے میں چھوڑ آئے۔
نوال دادی جان کو کمرے میں لے گئی تھی۔
ہماری کزنز اتنی پیاری ہیں مجھے پتہ نہیں تھا۔زوہیب نے نوال اور عدن کے ساتھ زوہا کو کھڑے دیکھتے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ماہا کی نظریں تو ہیزام پر جمی تھی۔
صاقب اسے کہو کہ اسے جس چیز کی ضرورت ہے تمہیں بتا دے اور کوشش کرے کہ میری نظروں کے سامنے مت آئے اور جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے چلی جائے۔دادا جان نے کرخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلے گئے۔غزالہ وہی بیٹھی پھر سے رونے لگی تھی۔
صفیہ آگے بڑھی اور عزالہ کو خاموش کروانے لگی۔
عرفان صاحب نے صفیہ کو اشارہ کیا جو عزالہ کو وہاں سے لے کر چلی گئی تھی۔
آؤ بیٹا تم دونوں وہاں کیوں کھڑے ہو اپنے کزنز سے ملو راشد صاحب نے ماہا اور زوہیب کو دیکھتے کہا۔
جو آگے بڑھے تھے راشد صاحب نے وہاں کھڑے سب لوگوں سے دونوں کا تعارف کروایا تھا۔
عدن بیٹا ماہا کو اپنے کمرے میں لے جاؤ اور براق زوہیب کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے جاؤ راشد صاحب نے مسکرا کر کہا۔
چلو آپ لوگ بھی اپنے کمروں میں چلو رات ہو گئی ہیمے پھر افطاری کے لیے بھی اٹھنا ہے۔عرفان صاحب نے کہا تو سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔
دادا جان نے اپنے تینوں بیٹوں کو اپنے کمرے میں بلایا تھا۔
حاکم کہاں ہے وہ ساتھ کیوں نہیں آیا؟ دادا جان نے سنجیدگی سے پوچھا۔صاقب صاحب نے تھوڑی دیر پہلے بتایا تھا کہ غزالہ یہاں آرہی ہے ابھی صاقب صاحب بات ہی کر رہے تھے جب باہر سے رونے کی آواز پر دونوں باہر چلے گئے۔
ابو جان آپ تو حاکم کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ کبھی بھی یہاں نہیں آئے گا اور مجھے پوری امید ہے کہ حاکم نے غزالہ کو روکا بھی ضرور ہو گا ۔صاقب صاحب نے کہا۔
میرا نواسا اپنی ماں پر بلکل بھی نہیں گیا شکر ہے ان میں سے کوئی تو سمجھدار ہے۔اور میں جانتا ہوں وہ کبھی بھی یہاں نہیں آئے گا۔
دادا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن دادا جان وہ وہاں اکیلا اپنی بیٹی کو کیسے سنبھالے گا اُس نے آفس بھی جانا ہو گا۔راشد صاحب نے پریشانی سے کہا۔
کچھ سوچتے ہیں اس بارے میں بھی لیکن مجھے غزالہ پر حیرت ہو رہی ہے کیسی ماں ہے جو اپنے بچے کو صرف عش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے وہاں چھوڑ کر آگئی اور یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ کس طرح گزارا کرے گا۔دادا جان نے افسوس سے کہا۔
کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عزالہ کی عادت کیسی ہے۔
کچھ سال پہلے عزالہ کے شوہر کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا تھا پھر ان کا بزنس بھی ڈوب گیا اور اب عزالہ کو اپنا باپ یاد آیا تھا کیونکہ وہ غربت میں گزرا نہیں کر سکتی تھی اور آج بھی اپنے مطلب کی خاطر یہاں موجود تھی۔اگر اس کے پاس پیسہ ہوتا تو کبھی بھی یہاں نا آتی۔
عزالہ کی جب شادی طے ہو گئی تھی تو وہ اپنی شادی سے خوش نہیں تھی۔اور وہ اپنے کلاس فیلو کو پسند کرتی تھی تو شادی والے دن وہ اپنے کلاس فیلو کے ساتھ بھاگ گئی تھی اس نے دادا جان کے ڈر سے گھر میں بھی اپنی پسند کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا۔دادا جان کی فیملی ملتان میں رہتی تھی۔لیکن عزالہ کی اس حرکت کی وجہ سے پورے محلے کے سامنے ان کو شرمندہ ہونا پڑا تھا اور لوگوں کو تو بات کرنے کا موقع چاہیے اس لیے دادا جان نے اپنے اُس مکان کو بیچ دیا اور لاہور آکر رہنے لگے۔
اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی دادا جان نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ غزالہ پر نظر رکھے کہ وہ کسی مصیب میں نا ہو آخر باپ تھا ناراض تو ہو سکتا تھا لیکن اپنی بیٹی سے نفرت نہیں کر سکتا تھا۔
پھر وقت گزرتا رہا۔
حاکم جب بڑا ہوا تو وہ اپنے نانا اور ماموں سے ملتا تھا اور اس بات کا ان کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا۔حاکم کو سب معلوم تھا۔لیکن حاکم اپنی ماں اور بہن بھائیوں سے بہت الگ تھا۔
اور اب عزالہ بھی اپنے بچوں سمیت خاور ہاؤس آگئی تھی آگے نا جانے کیا ہونے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
کچھ سال پہلے…..
زائشہ زیادہ تر گھر سے باہر ہی رہتی تھی۔
صنان کے ساتھ اس کی ملاقات بہت کم ہوتی تھی۔
ایک دن صنان گھر آیا تو اس کے موبائل پر کال آئی کہ حمزہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے صنان ہسپتال گیا تو کافی دیر ہو چکی تھی۔
صنان کو تو یقین نہیں آرہا تھا کہ حمزہ ان سب کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔
خلیل صاحب نڈھال سے ہو گئے تھے۔اور وہ ہارٹ پیشنٹ بھی تھے۔
زائشہ کی طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں تھی۔سب کچھ صنان نے سنبھالا تھا۔اس کی پڑھائی مکمل ہو گئ تھی اور اب اس نے ایک ماہ بعد پاکستان واپس جانا تھا۔
صنان خلیل صاحب کا بہت خیال رکھ رہا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا اگر ان کو دوبارہ کوئی صدمہ پہنچا یا انہوں نے ٹینشن لی تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے۔
زائشہ اپنے کمرے میں بند رہتی تھی۔کچھ دنوں میں ہی اس کا چہرہ مر جا گیا تھا۔
صنان کو پہلے بھی زائشہ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا وہ کب گھر آتی کب باہر جاتی یہ صنان کا مسئلہ نہیں تھا۔
صنان گھر سے باہر نکلنے والا تھا جب اسے دروازے کے پاس پڑا ہوا ایک انویلب نظر آیا۔
صنان نے جھک کر انویلب کو اٹھایا اور اسے کھولنے لگا۔اس نے ارد گرد دیکھا لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔پتہ نہیں اسےطکون یہاں رکھ کت گیا تھا۔
زائشہ نے کچھ دن پہلے اپنی اپنا چیک اپ کروایا تھا اور اب اس کی رپورٹ آنی تھی۔
اندر سے ایک رپورٹ نکلی تھی لیکن جیسے جیسے صنان پڑھتا گیا اس کے چہرے پر بے یقینی کے تاثرات آتے گئے۔
صنان سیدھا زائشہ کے کمرے میں گیا۔
آر یو پریگنٹ؟ صنان نے سرد لہجے میں زائشہ کو دیکھتے پوچھا۔
جو صنان کی بات سن کر کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
آپ ٹھیک ہیں؟ صفیہ نے عزالہ کے سامنے پانی کا گلاس کرتے پوچھا۔
عزالہ نے پانی کا گلاس تھام لیا تھا۔ہاں میں ٹھیک ہوں شکریہ غزالہ نے کہا۔
غزالہ خاور صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔
بھابھی کیا میں نے یہاں آکر ٹھیک کیا ہے؟ عزالہ نے صفیہ کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل آپ نے ٹھیک کیا ہے اور یہ آپ کے باپ کا گھر ہے کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔
اور ہاں بچوں سے غلطی ہوتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ وہ ماں باپ کے لیے مر جائیں اور ہاں تھوڑا وقت لگے گا آپ اپنے ماں باپ کو منا لیں لیکن اب یہاں سے مت جائیے گا۔صفیہ نے ارد گرد دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
تم ٹھیک کہہ رہی ہو اور اب تو میں نے کہی نہیں جانا میں یہی رہوں گی۔
عزالہ نے آنسو صاف کرتے کہا جو زیادہ ہی بہا لیے تھے۔
حاکم کیوں نہیں آیا آپی؟ صفیہ نے پوچھا۔
کیا بتاؤں تمہیں اُس کی عادت تھوڑی مختلف ہے اُس نے تو صاف صاف منع کر دیا تھا کہ وہ یہاں نہیں آئے گا۔عزالہ نے کہا۔
ارے آپی کیسے نہیں آئے گا اُس کے نانا کا گھر ہے بلکہ اُس کا اپنا گھر ہے۔
صفیہ بیگم نے کہا۔
ٹھیک کہہ رہی ہو میں دوبارہ اُس سے بات کرتی ہوں۔عزالہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ کے لیے کھانا لاؤ؟ صفیہ نے وہاں سے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
ہاں مجھے بہت بھوک لگی ہے. ایسا کرنا کہ زوہیب اور ماہا سے بھی پوچھ لینا اُن کو بھی بھوک لگی ہو گی۔عزالہ نے صفیہ کو دیکھتے کہا۔
جی آپی صفیہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔صفیہ رشتے میں عزالہ سے بڑی تھی لیکن عمر میں چھوٹی تھی۔
دونوں کی ایک جیسی عادت تھی اب آگے پتہ نہیں یہ کیا کرنے والی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
آپ کا نام کیا ہے؟ ماہا نے سامنے سے آتے ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔
ہیزام نے سنجیدگی سے ماہا کو دیکھا تھا۔
ہیزام!!!!
ہیزام نے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔
ہیزام….. ماہا نے ہیزام کو. جاتے دیکھا تو جلدی سے پکارا
وہ مجھے پوچھنا تھا کہ کیا آپ کل مجھے شاپنگ پر لے کر جا سکتے ہیں۔کیونکہ میرے پاس کپڑے نہیں ہیں۔
ماہا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ہیزام کو حیرانگی ہوئی تھی جیسے وہ ہیزام سے بات کر رہی تھی۔ہیزام کو تو لگ رہا تھا ان دونوں کی پرانی دوستی ہے۔
میں ڈرائیور کو کہہ دوں گا آپ زوہیب کے ساتھ چلی جائیے گا۔ میں کل بزی ہوں ہیزام نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
جانا تو میں کے آپ کے ساتھ تھا مسٹر ہیزام ویسے پیارا نام ہے ماہا نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
موم ہم کل ہی اپنے گھر میں شفٹ ہو رہے ہیں ابتہاج نے اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
ٹھیک ہے ہم کل ہی شفٹ ہو جائیں گئے لیکن تمہیں معلوم ہے کہ تمھاری خالہ یہاں آئی ہیں سکینہ بیگم نے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
کیا خالہ آئی ہیں؟ کیا نانا جان نے اُن کو معاف کر. دیا؟ ابتہاج نے حیرانگی سے پوچھا۔
ابو جان تو غصے میں ہیں اور اُسے یہاں سے جانے کے لیے کہا ہے لیکن میں جانتی ہوں اب وہ یہاں سے نہیں جائے گی۔اُس کا ارادہ کچھ اور ہی ہے۔سکینہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
نانا جان بہت زیادہ ناراض ہیں وہ اتنی جلدی اُن کو معاف نہیں کریں گے خیر میں حاکم سے مل کر آتا ہوں ابتہاج نے کہا۔
حاکم نہیں آیا اُس نے ساتھ آنے سے منع کر دیا وہ اپنی ماں کے ارادوں سے اچھی طرح واقف ہو گا اس لیے ساتھ نہیں آیا۔شکر ہے حاکم اپنی ماں پر نہیں گیا۔سکینہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
یہ تو اچھی بات ہے اور مجھے حاکم کا فیصلہ پسند آیا۔ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ابتہاج اپنی ماں سے بات کرتے وہاں سے چلا گیا تھا۔
باہر گیا تو اس کی نظر رباب پر پڑی جس کے ہاتھ میں جگ پکڑا ہوا تھا اور شاید کچن لی طرف کا رہی تھی۔
رباب کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا۔ابتہاج کی باتوں نے ہمیشہ کی طرح اسے تکلیف دی تھی۔
وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں آنا چاہتی تھی۔لیکن پانی لینے کے لیے باہر آنا پڑا۔
رباب نظریں نیچے کیے چل رہی تھی جب سامنے سے آتے زوہیب نے رباب کو دیکھا اور جان بوجھ کر اس کے ساتھ ٹکرایا۔
رباب کے ہاتھ سے جھک چھوٹ کر نیچے زمین پر جا گرا تھا۔جگ زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گیا اور ایک کانچ کا ٹکرا رباب کے پاؤں پر آ لگا۔
ابتہاج فوراً رباب کے پاس گیا اس سے پہلے زوہیب رباب کو ہاتھ لگاتا ابتہاج نے راستے میں ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
رباب کے پاؤں سے خون نکل کر زمین کو رنگین کر رہا تھا۔
رباب نے خون کو دیکھا تو وہی بیٹھی پھر سے رونے لگی۔
چلو کمرے میں ابتہاج نے رباب کو بازو سے پکڑتے کہا۔
اگر میں ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تو آپ کیوں ان کو چھو رہے ہیں زوہیب نے غصے سے ابتہاج کو دیکھتے کہا کیونکہ ابتہاج کا اس کے ہاتھ کو رباب سے دور کرنا اسے پسند نہیں آیا تھا۔
ابتہاج نے ماتھے پر بل لیے زوہیب کی طرف دیکھا۔
جو تم نے آج حرکت کی ہے آئندہ کرنے کی کوشش بھی کی تو تمھاری جان لے لوں گا۔اور بیوی ہے میری اب جاؤ یہاں سے ابتہاج نے کرخت لہجے میں زوہیب کو کہا۔
جو بیوی کے لفظ پر ہی شوکڈ ہو گیا تھا۔
ایم سوری زوہیب نے جلدی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ابتہاج نے رباب کی طرف دیکھا جو اپنے پاؤں کو پکڑے آنسو بہا رہی تھی۔
یہاں بیٹھ کر آنسو بہانے سے خود با خود تو مرہم تمھارے پاؤں پر لگ نہیں سکتی اس کے لیے چل کر کمرے میں جانا ہو گا۔اور اگر یہاں کوئی آگیا تو فضول کا تماشہ لگ جائے گا۔ابتہاج نے رباب کو دیکھتے طنزیہ لہجے میں کہا۔
مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے میں خود مرہم لگا لوں گی رباب نے آنسو سے تر چہرہ اوپر کرتے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
جس نے گہرا سانس لیا اور جھک کر رباب کو اپنی بانہوں میں اٹھائے اسے کمرے میں لے گیا۔
رباب بے یقینی سے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو شوہر ہوں تمھارا ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جس نے اپنی نظریں جھکا لیں تھی۔
کمرے میں آتے ہی ابتہاج نے رباب کو بیڈ پر بیٹھایا اور اور فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا۔
میں خود کر لوں گی رباب نے جلدی سے کہا۔
میں نے تم سے پوچھا نہیں ہے۔ابتہاج نے گھوری سے نوازتے ہوئے کہا۔تو رباب کو خاموش ہونا پڑا۔
ابتہاج نے رباب کے پاؤں پر پٹی کر دی تھی کٹ زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن خون زیادہ نکل آیا تھا۔
فرسٹ ایڈ باکس کو واپس رکھنے کے بعد ابتہاج نے رباب کی طرف دیکھا اس کی نظر اب رباب کی آنکھوں پر پڑی تھی۔
جو سرخ ہو رہی تھیں ابتہاج کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر انگلی کی پور سے رباب کی آنکھوں کو چھوا جس نے حیرانگی سے ابتہاج کو دیکھا تھا۔
کیا تھا یہ انسان کبھی چھوڑنے کی بات کرتا تھا اور کبھی اتنا اچھا بن جاتا کہ رباب کو لگتا کہ ابتہاج سے اچھا کوئی اور ہے ہی نہیں
تھوڑی دیر بعد ہوش میں آتے ہی ابتہاج نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا۔جسے اسے کرنٹ لگا ہو۔
اپنے کمرے میں جاؤ اتنی زیادہ چوٹ نہیں لگی کہ تم چل بھی بنا سکو ابتہاج ے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
رباب کو ابتہاج کی بات پر بہت غصہ آیا تھا۔
مجھے بھی آپ کے کمرے میں آنے کا شوق نہیں تھا آپکو ہیرو بننے کا شوق تھا اس لیے مجھے اپنی بانہوں میں اٹھائے آپ یہاں لے آئے رباب کے منہ میں جو آیا اس نے بول دیا تھا۔
اسے خود سمجھ نہیں آئی کہ اس نے بولا کیا ہے ۔
رباب نے غصے سے ابتہاج کو دیکھا اور وہاں سے چلی گئی لیکن ابتہاج کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
تو مسز کیا سوچا ہے آپ نے؟ صنان نے نوال کو کمر سے پکڑ کر خود کر قریب کرتے پوچھا۔
جس نے ارد گرد دیکھ کر صنان کو گھورا تھا۔
میں نے کہا نا میرے سامنے ایسی لوفررانہ حرکتیں نا کیا کرو نوال نے اپنی کمر سے صنان کے ہاتھ کو پیچھے کرتے کہا۔
میں تو کروں گا صنان نے کندھے اچکاتے کہا۔
مجھے معلوم ہیں کہ آپ ڈھیٹوں کے سردار ہیں
نوال نے دانت پیستے کہا۔
اگر تمہیں معلوم ہے تو پھر بار بار مجھ سے پوچھتی کیوں ہو بحرحال میرے سوال کا جواب دو صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
میں اتنی آسانی سے تو تمہیں معاف بلکل بھی نہیں کروں گی تمہیں بہت سارے پاپڑ بیلنے پڑے گئے مسٹر نوال نے منہ بسوڑتے کہا۔
لڑکی تمہیں منانے کے لیے اب میں چوبیس گھنٹے کچن میں کھڑا پاپڑ بلتا رہو؟ یہ تو زیادتی ہے صنان نے گھورتے ہوئے کہا۔جس پر نوال بے ساختہ ہنستی چلی گئی تھی۔
نوال کو ہنستا دیکھ صنان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی۔
اسی طرح ہنستی مسکراتی رہا کرو مجھے اچھی لگتی ہو صنان نے جھک کر نوال کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا اور پیار سے وہاں بوسہ سے کر پیچھے ہٹ گیا بلکہ وہاں سے ہی چلا گیا۔
کیونکہ وہاں کھڑا رہ کر وہ نوال کے ہاتھوں اپنا کچومر نہیں بننا چاہتا تھا۔
ٹھیک ہی میں کہتی ہوں لوفر کہی کا نوال نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔شکریہ یہاں پر کوئی موجود نہیں تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
ابتہاج کل میں حاکم کے پاس جا رہا ہوں اگر تم فری ہو تو میرے ساتھ چلنا ہو سکتا ہے کہ وہ مان جائے اور یہاں آجائے مجھے اُس کی بہت فکر ہو رہی ہے اکیلا وہ اپنی بچی کو کیسے سنبھالے گا۔دادا جی نے ابتہاج کو اپنے کمرے میں بلاتے کہا۔
جی نانا جان میں آپ کے ساتھ چلوں گا بلکہ ایسا کرتا ہوں دعا کو بھی ساتھ چلنے کا کہہ دیتا ہوں وہ گڑیا کو سنبھال لے گی۔ابتہاج نے کہا۔
ہاں یہ تو اچھا ہے تم دعا سے پوچھ لو اگر وہ جانا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ زوہا کو ساتھ لے جاتے ہیں۔دادا جان نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
جی نانا جان ابتہاج کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
باہر آیا تو اسے سامنے دعا نظر آگئی تھی۔
دعا مجھے تم سے بات کرنی تھی۔ابتہاج نے دعا کو دیکھتے کہا۔
جی بھائی؟ دعا نے پوچھا۔
کل میں اور نانا جان حاکم کی طرف جا رہے ہیں تو اگر تم ساتھ آنا چاہتی ہو تو آجاؤ گڑیا کو سنبھال لینا کیونکہ ہم لوگوں نے باہر جانا ہے تو پیچھے گڑیا اکیلی ہو گئی۔ابتہاج نے دعا کو دیکھتے کہا۔
حاکم کا نام سنتے دعا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
کیا حاکم کے گھر جانا ہے؟ دعا نے خوشی سے پوچھا۔
بھائی بولو بڑا ہے تم سے ابتہاج نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
جی میں فری ہوں اور اُسی بہانے میں گڑیا سے بھی مل لوں گی دعا نے ابتہاج کی بھائی والی بات کو اگنور کرتے کہا۔
چلو ٹھیک ہے پھر ابتہاج نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔دعا تو کل کا سوچ کر ہی بہت خوش تھی۔
دو سال پہلے حاکم کسی کام کے سلسلے لندن آیا تھا اپنے بزنس کو لے کار کافی پریشان تھا۔
تو جہانگیر صاحب نے اسے لندن بلایا تھا تاکہ وہاں ان کے جاننے والوں سے میٹنگ کر سکے۔
جہانگیر صاحب حاکم کو کافی اچھی طرح جانتے تھے۔جب وہ لندن آیا تو جہانگیر صاحب کے اسرار پر ان کے گھر رک گیا تھا۔ وہی پر اس کی ابتہاج سے بھی دوستی ہوئی تھی پھر دونوں کزن بھی تھے دعا نے جب حاکم کو دیکھا تو اسے اپنا دل دے بیٹھی لیکن بعد میں اسے پتہ چلا کہ حاکم شادی شدہ ہے۔
تو پورے ایک دن دعا نے خود کو کمرے میں بند کرکے اپنے اس صدمے کو کم کیا تھا۔
لیکن جب اگلے دن سکینہ بیگم نے بتایا کہ حاکم کی بیوی اپنی بچی کی پیدائش کے کچھ ماہ بعد ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی تو یہ خبر سن کر دعا کو افسوس سے زیادہ خوشی ہوئی تھی۔اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ حاکم شادی شدہ ہے اور ایک بچی کا باپ بھی ہے اسے بس حاکم پسند تھا اور اس کے ساتھ جڑے لوگ بھی…
اوہ ہیلو یہی کھڑی کھڑی فوت ہو گئی ہو؟ عمیر نے دعا کو خیالوں میں غم دیکھا تو اس کے سامنے ہاتھ ہلاتے کہا۔
استغفراللہ رمضان میں اس طرح کی بات کررہے ہو اگر یہ قبولیت کی گھڑی ہوئی تو میں ابھی مرنا نہیں چاہتی دعا نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
عمیر دعا کی بات سن کر ہنس پڑا تھا۔
فکر مت کرو اچھے لوگ دنیا سے جلدی جاتے ہیں عمیر نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا۔
تم تو جلتے ہو مجھ سے دعا نے کھا جانے والی نظروں سے عمیر کو دیکھتے کہا۔
اچھا چھوڑو یہ سب کچھ ہم دوستی کر لیتے ہیں۔اور دونوں مل کر گھر والوں کی زندگیاں عزاب بنائے گئے۔ کیسا لگا میرا آئیڈیا؟ عمیر نے خوشی سے دعا کو دیکھتے پوچھا جس کے چہرے پر عمیر کی بات سن کر شیطانی مسکراہٹ آگئی تھی۔
اوکے میں تمھاری فرینڈ ریکویسٹ قبول کرتی ہوں اور گھر والوں کا جینا حرام کرتے ہیں دعا نے بتیسی دکھاتے کہا۔
چلو پھر کل سے اپنے کام شروع کرتے ہیں عمیر نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے کہا۔
اوکے بوس لیکن کل میں بزی ہوں پھر پرسوں ملتے ہیں ایک نئے میشن کے ساتھ دونوں نے ایک دوسرے کو سلیوٹ کرتے کہا۔
اوکے ٹھیک ہے عمیر نے کہا اور پھر دونوں اپنے کمروں کی طرف چلے گئے۔اب ناجانے دونوں مل کر کیا کرنے والے تھے۔لیکن ان کا پہلا شکار عزالہ پھپھو تھی۔