No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
💜💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️☠️
نوال نے کان سے موبائل لگایا تو فوراً کسی نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا تھا۔
صنان نوال کو اس کا موبائل پکڑتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔
صنان نے موبائل پکڑتے ہی کال کٹ کر دی تھی۔
نوال نے صنان کی طرف دیکھا۔
یہ کون تھی؟ نوال نے سنجیدگی سے پوچھا۔
فرینڈ ہے صنان نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
نوال صنان کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔
تم جانتے ہو میرے سامنے تم جھوٹ نہیں بول سکتے میری ایک بات کان کھول کر سن لو صنان خاور اگر تم نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو اُسی دن میں اپنا نام تمھارے نام سے الگ کر لوں گی۔
مجھے ایسے مرد بلکل بھی پسند نہیں ہیں جو اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہیں۔اگر بیوی اپنے شوہر کے ساتھ مخلص اور ایمان دار ہوتی ہے تو شوہر کو بھی ہونا چاہیے مجھے تم سے کسی بھی قسم کی جگوٹی دلیل نہیں چاہیے لیکن جو بھی آگے قدم اٹھاؤ سوچ سمجھ کر اٹھانا اور جب تک تم مجھے سچ سچ نہیں بتا دیتے کہ یہ لڑکی کون ہے مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرنا نوال نے انگلی اٹھاتے صنان کو تنبیہ کرتے کہا۔
اور وہاں سے جانے لگی لیکن صنان نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا تھا۔
میں تمھارا شوہر ہوں لیکن تمھاری بات کرنے کے انداز سے مجھے کبھی نہیں لگا کہ میں تمھارا شوہر ہوں۔اور تم بنا کچھ جانے مجھ پر الزام کیسے لگا سکتی ہو؟
صنان نے غصے سے نوال کو دیکھتے کہا۔ناجانے کیوں آج اسے نوال کی بات بہت چبھی تھی۔
تو ٹھیک ہے سچ سچ بتاؤ کہ یہ لڑکی کون ہے؟
نوال نے صنان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
میں تمہیں بتانا مناسب نہیں سمجھتا اور اب تو بلکل بھی نہیں بتاؤں گا صنان نے بھی ضدی لہجے میں کہا۔
تو ٹھیک ہے پھر میں بھی اپنی مرضی کروں گی اور آج ہی دادا جان سے بات کروں گی کہ میرا نام تمھارے نام سے الگ کر دیں۔
نوال نے غصے سے کہا۔
تم. چھوٹی سی بات پر علیحدگی چاہتی ہو؟ اور کیا جواب دو گی دادا جان کو کیوں تم علیحدگی چاہتی ہو؟ صرف اس لیے کہ تم نے میرے موبائل پر ایک لڑکی کی کال کو آتے دیکھا؟ صنان نے سرد لہجے میں نوال کو دیکھتے پوچھا۔
مجھے لڑکی کے کال آنے پر مسئلہ نہیں ہے بلکہ تمھارے جھوٹ بولنے پر مسئلہ ہے کون ہے یہ لڑکی جس کی وجہ سے تمہیں مجھ سے جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے؟ نوال نے تھوڑا اونچی آواز میں صنان کو دیکھتے پوچھا۔
آواز نیچی رکھو جتنا میں تم سے آرام سے بات کر رہا ہوں اتنا ہی تم سر پر چڑھ رہی ہو۔
میں بھی دیکھتا ہوں کس طرح تم مجھ سے الگ ہوتی ہو اور آج ہی میں دادا جان سے رخصتی کی بات کروں گا اگر تم مجھے روک سکتی ہو تو روک لو کیونکہ تمھارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے جس سے تم دادا جان کے سامنے مجھے غلط ثابت کر سکو۔
صنان نے نوال کے دونوں بازوں کو چھوڑتے کرخت لہجے میں کہا۔
نوال بے یقینی سے صنان کو دیکھ رہی تھی یہ وہی صنان ہے اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
صنان نے نوال کو وہی چھوڑا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
نوال وہی صوفے پر ڈھے سی گئی تھی۔یہ کون تھی لڑکی جس کی وجہ سے صنان اس قدر غصہ ہو گیا۔
نوال نے اپنے سر کو پکڑتے منہ میں بڑبڑاتے کہا۔لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ صنان اپنی ضد میں کچھ ایسا کرنے والا ہے جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہو گا۔
💜 💜 💜 💜
کچھ سال پہلے
آر یو پریگنٹ؟ صنان نے سرد لہجے میں زائشہ کو دیکھتے پوچھا۔
یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟ زائشہ نے اپنے تاثرات پر قابو پاتے غصے سے پوچھا۔
محترمہ یہ آپ کی رپورٹ آئی ہیں۔
جس میں صاف صاف لکھا ہوا ہے اگر یقین نہیں آرہا تو خود پڑھ لو۔
صنان نے پیپرز کو زائشہ کی طرف پھینکتے ہوئے کہا۔
رپورٹ کو دیکھ کر زائشہ کے چہرے کا رنگ پیلا ہو گیا تھا۔
تم میرے پرسنل معاملات میں دخل اندازی نا ہی کرو تو بہتر ہے زائشہ نے صنان کو دیکھتے کہا۔
مجھے تم جیسی لڑکی سے بات کرنے کا بھی شوق نہیں ہے۔مجھے انکل کی فکر ہے اس لیے یہاں تمھارے سامنے موجود ہو۔
اپنے معاملات کو جلدی حل کر لو تمھارا باپ پہلے ہی بیمار ہے اب اگر اُن کو اسی ویسی کوئی خبر ملی تو اُن کی جان بھی جا سکتی ہے صنان نے سرد لہجے میں کہا اور بنا زائشہ کی بات سنے وہاں سے چلا گیا۔اسے کچھ دنوں بعد پاکستان واپس جانا تھا۔
پیچھے زائشہ کو سچ میں پریشانی نے ان گھیرا تھا۔
💜💜💜💜💜
ماریہ تمھارے دادا ہیزام اور تمھاری شادی کا سوچ رہے ہیں میں تو یہی کہتی ہوں کچھ ہی روزے رہ گئے ہیں تو ابتہاج کے ولیمے پر تمھارا بھی نکاح پڑھوا دیتے ہیں اب ابتہاج نا سہی تو ہیزام سہی وہ بھی اچھا خاصا ہے اپنا بزنس ہے۔صفیہ بیگم نے خوشی سے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
موم آپ عورتوں کو شادی کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا بس شادی شادی زندگی میں شادی کرنا ضروری نہیں ہے شادی کے بغیر بھی رہ سکتے ہیں اور اب تو مجھے اس شادی کے لفظ سے ہی چڑھ سی ہو گئی ہے اور پلیز دوبارہ میرے سامنے شادی کا نام مت لیجیے گا نا مجھے ہیزام سے شادی کرنی نا کسی اور سے ماریہ نے زور سے کتاب کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتے کہا۔اور اُٹھ کر وہاں سے جانے لگی۔
میں تمھاری اس بات کا کیا مطلب سمجھو؟ کہی تم ابھی بھی ابتہاج کو تو نہیں چاہتی؟صفیہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
موم بس کر دیں مجھے ابتہاج کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنی دماغ خراب کر دیا ہے۔ماریہ نے غصے سے کہا اور وہاں سے باہر چلی گئی۔
اسے کیا ہو گیا ہے؟ صفیہ نے حیرانگی سے خود سے کہا۔
ماریہ باہر تو آگئی تھی اب اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جائے۔اسے سامنے ماہا نظر آئی جس نے ہاتھ میں چپس کا پیکٹ پکڑا ہوا تھا۔یقیناً اُس نے روزہ نہیں رکھا تھا۔عزالہ نے کبھی زوہیب اور ماہا کو روزہ رکھنے کا کہا ہی نہیں اور نا ہی وہ رکھتے تھے۔
ہاں جب حاکم ان کو کہتا تو اُس کے خوف سے رکھ لیتے تھے۔
ویسے تمہیں شرم آنی چاہیے پورے گھر میں تم یہ چپس کا پیکٹ لے کر چل پھر رہی ہو۔تمھارا اپنا روزہ نہیں لیکن باقی سب کا تو ہے کم از کم روزے کا احترام ہی کر لو
ماریہ نے سینے پر بازو باندھتے ماہا کو دیکھتے کہا۔جس نے سر سے لے کر پاؤں تک ماریہ کو دیکھا تھا۔
اس میں شرم کس بات کی اپنی مرضی ہے روزہ رکھو یا نا رکھو اور مجھ سے بھوک پیاس برداشت نہیں ہوتی ماہا نے کندھے اچکاتے کہا۔
اس میں اپنی مرضی نہیں ہے رمضان کے روزے فرض ہیں۔اور افسوس تو مجھے پھپھو پر بھی ہو رہا ہے جس نے تم لوگوں کو اپنے دین کے بارے میں بھی نہیں بتایا کہ کون سی چیز ہم پر فرض ہے اور کون سی فرض نہیں ہے۔ماریہ نے طنزیہ لہجے میں کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
تمھاری اتنی ہمت ابھی موم سے تمھارے بارے میں بات کرتی ہوں۔ماہا نے پیر پٹختے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
ماریہ باہر گارڈن کی طرف جا رہی تھی جب اسے راستے میں ریحان نظر آیا جس نے سفید شلوار قمیض پہنی تھی۔
ماریہ ایک پل کے لیے وہی جم گئی تھی بے شک سامنے سے آتا شخص بہت خوبصورت تھا اور اُس پر اس کا اپنا حق بھی تھا۔
مسز کیا ہوا؟ نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟ ریحان نے ماریہ کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے پوچھا۔جو ہوش میں آتے ہی شرمندہ سی ریحان کو دیکھنے لگی تھی۔
ارے شرمندہ کیوں ہو رہی ہو سارے کا سارا تمھارا ہوں دیکھ کیا تم تو مجھے اپنی ان خوبصورت آنکھوں سے گھور بھی سکتی ہو ریحان نے تھوڑا جھک کر ماریہ کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا۔
زوہیب جو وہاں آیا تھا دونوں کو دیکھتے ہی اس چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔اس نے دونوں کی تصاویر کھینچ لی۔ان دونوں کا تو نکاح نہیں ہوا نا زوہیب نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے ماریہ کچھ کہتی اس کی نظر زوہیب پر پڑی اور پریشانی سے اس کی طرف دیکھا۔
ماریہ کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تو ریحان نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں زوہیب کھڑا تھا جو خود پریشان ہو گیا تھا۔
اپنے کمرے میں جاؤ ریحان نے سنجیدگی سے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
لیکن وہ اگر…. ریحان نے اسے مزید کچھ بولنے نہیں تھا اور ایک گھوری سے نوازہ ماریہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
ریحان چلتا ہوا زوہیب کے پاس آیا۔
موبائل دو اپنا ریحان نے سرد لہجے میں کہا۔
زوہیب میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ریحان کو منع کر سکے اس لیے آرام سے موبائل ریحان کے حوالے کر دیا۔
ریحان نے ساری تصاویر ڈیلیٹ کر کے موبائل زوہیب کے حوالے کیا۔
آج تمھاری پہلی آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں آئندہ تم نے کسی کے پرسنل میٹر میں گھسنے کی کوشش کی تو اپنے قدموں میں چلنے کے قابل نہیں رہو گے۔ریحان نے زوہیب کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
یہ سب میرے کزن اتنی خوفناک کیوں لگتے ہیں جب بات کرتے ہیں زوہیب نے گہرا سانس لیتے کہا۔
میں تو باز نہیں آؤں گا گھر میں تھوڑا بہت ڈرامہ بھی تو ہونا چاہیے زوہیب نے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ لیے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
💜💜💜💜
میرا موبائل کہاں ہے؟ عدن نے ہیزام کے سامنے آتے سیرس انداز میں پوچھا۔
کون سا موبائل؟ ہیزام نے انجان بنتے چہرے پر مسکراہٹ لاتے پوچھا۔
وہی موبائل جو کچھ دن پہلے آپ کے ہاتھوں سے شہید ہوا ہے۔
اور شرافت کے ساتھ مجھے موبائل لا دو ہیزام ورنہ میں دادا جان سے شکایت لگاؤں گی۔عدن نے دھمکی دیتے کہا۔
دادا جان تو گھر پر نہیں ہیں۔ہیزام نے عام سے لہجے میں کہا۔
وہ آج واپس آجائیں گئے اور زیادہ اوور سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔
میرا موبائل مجھے لا کر دو عدن نے گھورتے ہوئے کہا۔
ابھی تک وہ ٹھیک نہیں ہوا کچھ وقت لگے گا۔ہیزام نے عدن کو دیکھتے کہا۔
یہ کیا بات ہوئی مجھے اپنا موبائل آج اور ابھی چاہیے ورنہ میں نے بھی احتجاج کرکے لگ جانا ہے۔عدن نے منہ بسوڑتے کیا۔
ہیزام عدن کی بات پر ہنس پڑا تھا۔
مجھے منظور ہے ہیزام نے وہاں سے کھڑے ہوتے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے کہا۔
کیا؟ عدن نے حیرانگی سے پوچھا۔
تمھارا احتجاج کرنا ہیزام نے مسکراہٹ دباتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
کوئی بہت ہی ڈھیٹ قسم کا انسان ہے یہ عدن نے دروازے کو گھورتے ہوئے کہا۔جیسے وہاں ہی ہیزام کھڑا ہو۔
💜 💜 💜 💜
حاکم گھر آگیا تھا۔دادی جان تو اس کے صدقے واری جا رہی تھی۔نوال اپنے کمرے میں تھی۔اس کے سر میں درد تھا۔صنان کا بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔
عدن گڑیا کو اپنے ساتھ لے گئی تھی۔
حاکم اپنی ماں سے ناراض تھا اس لیے سلام کر کے اندر چلا گیا۔
عمیر دعا کو ہی دیکھ رہا تھا جو عمیر کو دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔لیکن یہ منظر حاکم سے چھپا نہیں تھا۔
اندر بیٹھے سب لوگ گپے لگا رہے تھے۔
دادی جان عزالہ سے بات نہیں ک رہی تھیں۔جتنا وہ دادی جان سے بات کرنے کی کوشش کرتے اتنا ہی وہ عزالہ سے بے رخی اپنا رہی تھیں۔
حاکم کو دادا جان نے بلایا تھا اس لیے وہاں سے چلا گیا پیچھے دادی جان نے سب سے حاکم کے رشتے کی بات کی تھی۔کہ وہ حاکم کے لیے لڑکی دیکھنا چاہتی ہیں۔کیونکہ دادا جان دادی کو بتا چکے تھے کہ وہ چاہتے ہیں حاکم کی شادی کر دی جائے۔عزالہ تو یہ سن کر بہت خوش ہوئی تھی۔
کوئی بھی رشتہ آئے لیکن لڑکی امیر ہونی چاہیے عزالہ نے خوشی سے کہا۔
پہلے امیر گھرانے میں شادی کرکے دیکھ لیا نا کیا ہوا اب بھی تجھے امیر گھرانے کی لڑکی چاہیے۔دادی جان نے سنجیدگی سے سامنے دیکھتے کہا۔عزالہ خاموش ہو گئی تھی۔لیکن دعا وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔
عمیر بھی ساری باتیں سن چکا تھا۔
دعا اوپر چھت پر آگئی تھی عمیر بھی اس کے پیچھے ہی آگیا تھا۔
ویسے گھر میں لڑکی موجود ہے لیکن پھر بھی گھر والے باہر لڑکی کو تلاش کر رہے ہیں۔عمیر نے دعا سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے مسکرا کر کہا۔
دعا نے حیرانگی سے عمیر کی طرف دیکھا تھا۔
کیا مطلب؟ دعا نے انجان بنتے پوچھا۔جس پر عمیر ہنس پڑا۔
میری نا آنکھیں اور دماغ بہت تیز ہے جس طرح تم حاکم بھائی کو دیکھ رہی تھی اور جب اُن کی شادی کی بات ہوئی تو تمھارا چہرا مرجھا گیا تھا تو ان سب کا کیا مطلب ہوا؟ عمیر نے سامنے دیکھتے پوچھا۔دعا خاموش رہی تھی۔
اتنا پسند کرتے ہو؟ تھوڑی دیر بعد عمیر نے دوبارہ سوال کیا۔
میں نہیں جانتی لیکن اپنی کیفیت کا مجھے خود بھی اندازہ نہیں ہے۔دعا نے بےبسی سے کہا۔
تو ٹھیک ہے پارٹنر ہم لگ جاتے ہیں میشن میں اور ہمارا پہلا میشن ہے گھر والوں کے دماغ میں یہ بات ڈالنا کے دعا اور حاکم کی شادی بھی ہو سکتی ہے باہر سے لڑکی لانے کی کیا ضرورت ہے عمیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟ دعا نے خوشی سے پوچھا۔
بلکل میں ایسا کر سکتا ہوں ابھی تم دا گریٹ عمیر کو جانتی نہیں ہو عمیر نے فرضی کالر اٹھاتے ہوئے کہا۔جس پر دعا ہنس پڑی تھی۔
چلو اب مسئلہ حل ہو گیا ہے نیچے چلو تمہیں میں آج کا کارنامہ بتاتا ہوں عمیر نے مسکراتے ہوئے کہا تو دعا اس کے ساتھ چل پڑی عمیر اسے ٹینڈے والی بات بتا رہا تھا جس پر دعا کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔لیکن سامنے سے کمرے میں جاتے حاکم نے دعا کو ہنستے اور دونوں کو چھت سے نیچے آتے دیکھ لیا تھا۔
حاکم کمرے میں چلا گیا اور یہ دونوں ہال کی طرف چلے گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
ماہا کچن میں داخل ہوئی رباب کو. دیکھ کر نحوست سے کہا۔
تم کیا آنٹیوں کی طرح ڈریسنگ کرتی ہو مجھے پتہ ہے کہ اتنی پڑھی لکھی نہیں ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمھیں پہنے کا بھی پتہ ما ہو ماہا نے رباب کے کپڑوں پر چوٹ کرتے کہا۔جو کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی۔
میری بیوی جیسے بھی کپڑے پہنے تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے؟ ابتہاج جو وہاں سے گزر رہا تھا ماہا کی بات سن کر کچن میں چلا آیا اس کے پیچھے عزالہ بھی آگئی تھی۔کیونکہ اُن کو چیک کرنا تھا کہ کھانے میں کیا بنا ہے۔
ارے بیٹا ایسا بھی کچھ غلط نہیں بول دیا میری بیٹی نے تم تو غصہ ہی کر گئے ہو ابھی صرف نکاح ہوا ہے اور تم نے بیوی کی باتیں بھی ماننی شروع کر دی۔عزالہ نے ابتہاج لو دیکھتے کہا۔
خالہ جان میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنی بیٹی تو اچھے سے سمجھا لیں کہ آئندہ میری بیوی کے بارے میں کچھ بھی الٹا سیدھا بولا تو میں برداشت نہیں کروں گا اور دوسری بات شادی کے بعد بیوی کی ہی تو سنی جاتی ہے جیسے خالو جان آپ کی سنتے تھے۔آپ سے پوچھے بغیر تو وہ کھانا کو ہاتھ تک نہیں لگاتے تھے۔آخری بات ابتہاج نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاتے کہی۔
غزالہ سے مزید کوئی جواب نا بنا تو ماہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے یہاں سے لے گئی۔
کیا ضرورت تھی آپ کو پھپھو کے سامنے بولنے کی؟ اب وہ ایک کی چار بنا کر سب کو بتائیں گئ رباب نے سنجیدگی سے ابتہاج کو دیکھتے کہا۔
وہ تمہیں کیا کہہ رہی تھی معلوم بھی ہے؟ ابتہاج نے رباب کے قریب آتے کہا۔
آپ بھی تو مجھے ان پڑھ جاہل کہتے ہیں اگر اُس نے بھی کہہ دیا تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ رباب نے تیکھے لہجے میں کہا۔
میں تمہیں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں لیکن کوئی دوسرا تمہیں کچھ غلط کہے گا میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا مسز ابتہاج
ابتہاج نے رباب کے مزید قریب ہوتے کہا۔
مجھے آپ کی سمجھ نہیں آتی اور دور رہ کر بات کیا کریں۔رباب نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
میرا تمھارے قریب آنا اور تمھارا اس طرح نظریں جھکانا ناجانے کیوں مجھے بہت پسند ہے مسز ابتہاج نے جھک کر رباب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
آہم آہم براق جو کچن میں پانی لینے آیا تھا دونوں کو دیکھتے ہی اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
میں نے کچھ نہیں دیکھا سچ میں میں بعد میں آتا ہوں براق نے جلدی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
براق کی آواز پر رباب جلدی سے پیچھے ہوئی تھی لیکن ابتہاج اپنی جگہ پر کھڑا رہا تھا۔براق کی بات پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔
میرے لیے اچھی سی کافی بنا کر لاؤ میں کمرے میں تمھارا انتظار لر رہا ہوں اور کسی اور کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔تم خود آؤ گی ابتہاج نے حکمیہ لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ابتہاج کے جاتے ہی رباب نے گہرا سانس لیا تھا۔میں نہیں جا رہی کمرے میں رباب نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور کافی بنانے لگی۔
