122.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️
حاکم اپنے کمرے میں بیٹھا دیوار کو تک رہا تھا۔یقیناً دعا نے کھانا نہیں کھایا ہو گا۔کیونکہ وہ کھانا کھانے کے لیے ہی باہر آئی تھی۔
کیا مصیبت ہے میں کیوں سوچ رہا ہوں اُسے خود احساس ہونا چاہیے حاکم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
لیکن اگر اُسے کچھ ہو گیا تو گھر والوں نے مجھے نہیں چھوڑنا حاکم نے کہا اور اُٹھ کر دعا کے کمرے کی طرف چلا گیا۔
دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوا تو دعا کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اور گڑیا اس کے پاس بیٹھی کھیل رہی تھی۔
دعا نے حیرانگی سے حاکم کو دیکھا تھا۔
جس نے جھک کر گڑیا کو اٹھایا۔
تم کچھ کھا پی لو کل سے تم نے کچھ نہیں کھایا حاکم نے سنجیدگی سے کہا اور گڑیا کو اٹھا کر باہر لے گیا۔
دعا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔اسے یہی سوچ کر خوشی ہو رہی تھی کہ حاکم اس سے غافل نہیں ہے۔
دعا وہاں سے اٹھی اور کچن کی طرف چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
اگر آپ برا نا منائے تو کیا میں آپ سے بات کر سکتا ہوں؟ زوہیب نے رباب کو اکیلا دیکھا تو اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے پوچھا۔
جی؟ رباب نے جواب دیا۔
کیا آپ مجھے ایک کپ چائے کا بنا دیں گئی میں نے دیکھا ہے کوئی بھی فارغ نہیں ہے تو اس لیے آپ کو کہا۔زوہیب نے مودبانہ انداز میں کہا۔
جی میں بنا دیتی ہوں رباب نے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی۔
زوہیب وہی صوفے پر بیٹھا چائے کا انتظار کرنے لگا تھا۔
کچھ دیر بعد رباب چائے بنا کر لے آئی تھی۔
رباب نے چائے کا کپ زوہیب کی طرف بڑھایا لیکن اس نے کب اس انداز سے پکڑا کہ کہ گرم چائے کا کپ رباب کے ہاتھ پر گر گیا تھا۔
رباب کے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی تھی۔
ایم سوری یہ کیسے گر گئی زوہیب نے جلدی سے کھڑے ہوتے پریشانی سے کہا اور رباب کا ہاتھ پکڑنے لگا لیکن اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔گرم چائے پوری ہاتھ پر گر گئی تھی جلن سے رباب کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
رباب بنا کوئی جواب دیے وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔اپنے کمرے میں جاتے ہی رباب واشروم میں گئی اور نل کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ دیا جو سرخ ہورہا تھا۔آنسو نا چاہتے ہوئے بھی باہر آگئے تھے۔
آپی کہاں ہیں آپ؟ باہر سے نوال کی آواز آئی جو رباب کو اپنا جوڑا دکھانے آئی تھی۔
رباب نے نل بند کیا لیکن پھر سے جلن سٹارٹ ہو.گئی تھی۔
لیکن رباب نے تکلیف کو برداشت کیا اور اپنے آنسو صاف کرتے باہر نکل آئی۔
آپی یار میں آپ کو پورے گھر میں ڈھونڈ رہی تھی چلیں میرے ساتھ میں آپ کو اپنا سوٹ دکھاتی ہوں نوال نے جلدی سے کہا اور رباب کا ہاتھ جلا ہوا ہاتھ پکڑا۔
آہ رباب تکلیف سے کراہ گئی تھی۔
کیا ہوا؟ نوال نے پریشانی سے پوچھا۔لیکن جب اس کی نظر رباب کے ہاتھ پر پڑی تو حیران ہو گئی۔
آپی یہ کیا ہوا آپ کے ہاتھ پر؟ اللہ یہ تو چھالے بن رہے میں بھائی کو کہتی ہوں وہ آپ کو ہسپتال لے جائیں گئے ورنہ جلن ہوتی رہے گی۔
نوال نے رباب کے چہرے کو دیکھتے کہا اور بنا اس کی سنے وہاں سے چلی گئی تھی۔
رباب اسے روکنا چاہتی تھی کیونکہ وہ ابتہاج کے رد عمل سے ڈر رہی تھی۔
ابتہاج اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔جب نوال دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی
نوال میرے خیال سے تم اب بڑی ہو گئی ہو تو بچوں والی حرکتیں نا کیا کرو دروازے کو ایسے کھولتے ہیں؟ ابتہاج نے رباب کو دیکھتے کہا۔
وہ بھائی آپی کا ہاتھ جل گیا تھا آپ اُن کو ہسپتال لے جائیں ورنہ مزید چھالے بن جائیں گئے۔نوال نے جلدی سے کہا۔
کون سی آپی؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔
رباب آپی نوال نے کہا تو ابتہاج جلدی سے اپنے کمرے سے باہر نکلا اور دادی جان کے گھر کی طرف گیا۔
💜💜💜💜
ریحان نے ماریہ کو بازو سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے کہا۔جو اس کی گود میں آ بیٹھی تھی۔
عین اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔
دونوں جس حالت میں تھے مقابل کی تو آنکھیں باہر آگئی تھیں۔سامنے صفیہ منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔
ماریہ جلدی سے کھڑی ہوئی لیکن ریحان کے چہرے پر ابھی بھی اطمینان تھا۔
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں پر؟ صفیہ نے غصے سے دونوں کو دیکھتے پوچھا۔
ماما جیسا آپ سجھ رہی ہیں ویسا بلکل بھی نہیں ہے ماریہ نے اپنی ماں کے سامنے آتے کہا۔
لیکن صفیہ کا ہاتھ اٹھا تھا اور ماریہ کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔پورے کمرے میں تھپڑ کی آواز گونجی تھی۔
ماریہ چہرے پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
تمہارے معاملے میں میں نے کبھی کوئی کوتاہی نہیں کی ہر چیز تمہیں لا کر دی کبھی تمھاری کوئی بات نہیں ٹالی لیکن تم بھی اپنے باپ کا ہی خون ہو جیسا وہ تھا ویسی ہی اُس کی بیٹی بھی ہے۔صفیہ نے غصے ماریہ کو دیکھتے کہا۔
بس چچی جان بہت بول لیا آپ نے اگر اس کی رگوں میں اس کے باپ کا خون دوڑ رہا ہے تو اسے جنم دینے والی بھی آپ ہی ہے اور آپ کو اپنی بیٹی پر زرا سا بھی بھروسہ نہیں ہے۔
یہ بیوی ہے میری اور میں نے زبردستی اس سے نکاح کیا اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی میں نے اسے فورس کیا اب اگر آپ نے پورے گھر والوں کو جمع کرکے کے علان کرنا ہے تو شوق سے کریں کیونکہ مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن اپنی بیوی کے خلاف میں ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کروں گا۔
ریحان نے ماریہ کو بازو سے پکڑ کر خود کے پیچھے کرتے سرد لہجے میں کہا۔
صفیہ تو نکاح کا سن کر ہی شوکڈ ہو گئی تھی۔
تم نے میری بیٹی سے زبردستی نکاح کیا؟ ابھی کے ابھی اسے طلاق دو میں اپنی بیٹی کی شادی باہر کرنا چاہتی ہوں میں نے اُس کے لیے بہت کچھ سوچا تھا تم ابھی کے ابھی اسے طلاق دو صفیہ نے چلاتے ہوئے کہا۔
ماریہ تو آج اپنی ماں کا الگ ہی روپ دیکھ رہی تھی اور اسے ریحان سے بھی اس بات کی امید نہیں تھی کہ وہ سچ بولے گا۔
میں کیا شکل سے آپ کو پاگل لگتا ہوں؟ میں نے اس لیے نکاح نہیں کیا کہ اسے طلاق دوں ریحان نے غصے سے کہا۔
کیسے نہیں دو گئے تم میری بیٹی کو طلاق ابھی میں تمھارے دادا سے بات کرتی ہوں صفیہ نے دھمکی دیتے کہا۔
ٹھیک ہے شوق سے کریں اور آج میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ وہ کرتی بھی ہیں جو کہتی ہے۔ریحان نے طنزیہ لہجے میں کہا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ صفیہ کبھی بھی اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرے گی کیونکہ سب نے ان کی تربیت پر بھی انگلی اٹھانی تھی جو صفیہ کبھی برداشت نا کرتی۔
تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گی ابھی تم میرے ساتھ چلو صفیہ نے ماریہ کو بازو سے پکڑتے کہا۔اور اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئی۔
ریحان اس سے پہلے معاملہ تیرے ہاتھ سے نکلے کچھ نا کچھ کرنا ہو گا۔ریحان نے پریشانی سے کہا خود سے زیادہ اسے ماریہ کی فکر ہو رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
حاکم مجھے شاپنگ کے لیے جانا ہے دعا نے حاکم کو دیکھتے کہا۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں تمھارے ساتھ جاؤں گا؟ مت بھولو کہ ہمارا نکاح کیسا ہوا ہے۔مجھے عورت ذات سے ویسے ہی نفرت ہے۔تمہیں اگر برداشت کر رہا ہوں تو صرف اپنی بیٹی کی وجہ سے ورنہ کبھی تمھارا چہرہ بھی مت دیکھتا۔اور میرے سامنے مت آیا کرو
کل کو کوئی اور اور پسند آگیا تو تم بھی اُس کے ساتھ بھاگ جاؤں گی تم سب عورتیں ایک جیسی ہوتی ہو حاکم نے غصے سے کہا اور وہاں سے جانے لگا جب دعا نے اس کو بازو سے پکڑ لر روکا تھا۔
دعا بے یقینی سے حاکم کو دیکھ رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ حاکم اس کے بارے میں ایسا سوچتا ہے۔
میں نے کہا نا مجھ سے دور رہا کرو کتنی بار تمہیں منع کروں کہ میرے سامنے مت آیا کرو لگتا ہے تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آرہی ۔تم جیسی لڑکیوں کو اگر تھوڑی بہت توجہ مل جائے تو سر پر چھڑ جاتی ہیں۔حاکم نے دعا کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے سرد لہجے میں کہا۔
ابھی اس نے مزید بھی کچھ کہنا تھا جب دعا نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔اور دوسرے ہاتھ سے حاکم کو پیچھے دھکا دیا۔
بس بہت ہو گیا میں خاموشی سے آپ کی باتیں سن رہی ہوں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ مجھے کچھ بھی کہہ دیں میری بھی عزت نفس ہے۔اور ہر عورت آپ کی پہلی بیوی جیسی نہیں ہوتی اور آپ نے تو سوچ لیا ہے کہ جیسی آپ کی پہلی بیوی تھی ویسی ہی میں بھی ہوں لیکن میں خود کی ذات کے لیے کوئی بھی ایسا لفظ برداشت نہیں کروں گی حاکم جس سے مجھے تکلیف پہنچے آپ کے الفاظ مجھے تکلیف دیتے ہیں آخری بات کرتے ہوئے دعا کی آواز روند سی گئی تھی۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا۔
حاکم سنجیدگی سے دعا کو دیکھ رہا تھا۔تمھارے یہ آنسو بھی میرا ارادہ تبدیل نہیں کر سکتے کچھ پل بعد حاکم نے دعا کی آنکھ سے نکلتے آنسو کو اپنی انگلی کی پور سے چنتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
تم بہت خوبصورت ہو لیکن تمہیں مجھ سے نکاح کے لیے حامی نہیں بھرنی چاہیے تھی کیونکہ میں تمہیں صرف تکلیف دے سکتا ہوں۔اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔حاکم نے جھک کر دعا کے کان کے پاس کہا۔ اور پھر پیچھے ہو گیا۔
لفظوں کا چناؤ ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے مسٹر حاکم کیونکہ یہ سیدھے دل پر تیر کی طرح لگتے ہیں۔دعا نے اپنی ہاتھ کی پشت سے آنسوؤں کو. صاف کرتے مزید کہا۔
آج آپ بہت خودغرض بن رہے ہیں لیکن بہت جلد آپ خود میرے پاس آئیں گئے پھر میرا وقت ہو گا لیکن میں آپ کو باتوں سے تکلیف نہیں دوں گی بلکہ میری خاموشی آپ کو تکلیف سے دوچار کریں گی۔ میری دعا ہے کہ وہ دن کبھی نا آئے جس میں مجھے آپ کو بے بس دیکھنا پڑے کیونکہ میں آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی لیکن ہمیشہ آپ کی نفرت نہیں جیتے گی کبھی نا کبھی آپ کو بھی محبت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گئے۔دعا نے سرخ آنکھوں سے حاکم کو دیکھتے کہا۔اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔یہ شخص کوئی بھی ایسا موقع نہیں چھوڑتا تھا جس میں اسے ذلیل نا کر کرے۔
دعا کی باتوں نے حاکم کے دل کو ایک پل کے لیے ہی سہی لیکن خوف میں مبتلا کیا تھا وہ ابھی بھی وہی کھڑا تھا ایک چھوٹی سی لڑکی اسے اتنی بڑی باتیں بول کر چلی گئی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
تمھارے ہاتھ کو کیا ہوا ہے؟ ابتہاج نے رباب کے کمرے میں داخل ہوتے بےتابی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
جو پہلے سے ہی رونے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔
ابتہاج کو دیکھتے ہی اس کے پھر سے رکے ہوئے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے تھے۔
ابتہاج جلدی سے آگے بڑھا اور رباب کے ہاتھ کو دیکھنے لگا جس پر چھالے بن رہے تھے۔
تمھارا ہاتھ اتنا کیسے جل گیا؟ دھیان کہاں ہوتا ہے تمھارا؟ ابتہاج نے غصے سے رباب کے چہرے کو دیکھتے کہا جو رو رہی تھی آنکھوں کے ساتھ اس کا ناک بھی سرخ ہو رہا تھا۔
رباب کے چہرے کو دیکھتے ابتہاج کی زبان کو بریک لگی تھی۔
چلو میرے ساتھ اب بات ابتہاج نے آرام سے کہا اور رباب کو اپنے ساتھ ہسپتال لے گیا پیچھے نوال نے پورے گھر میں گھوما دیا تھا کہ رباب کا ہاتھ جلا ہے۔
ہیزام نے ابتہاج کو فون کرکے پوچھا جس نے بتایا کہ سب ٹھیک ہے اور وہ دونوں گھر آرہے ہیں۔
واپسی پر رباب کی حالت کچھ بہتر تھی۔لیکن وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ابتہاج نے ایک نظر رباب لے چہرے پر ڈالی اور ہنس پڑا
تمھارا ہاتھ کیسے جلا؟ ابتہاج نے سوال کیا۔کیونکہ آتے وقت اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
چائے گر گئی تھی۔رباب نے جواب دیا۔
کس کے لیے چائے بنا رہی تھی؟ ابتہاج نے پوری طرح رباب کی طرف متوجہ ہوتے پوچھا۔
میں خود کے لیے چائے بنا رہی تھی پکڑتے وقت پتہ نہیں کیسے ہاتھ ہر گر گئی۔رباب نے جلدی سے کہا۔کیونکہ وہ جانتی تھی اگر اس نے زوہیب کا نام لیا تو ابتہاج غصہ کرے گا۔
مسز ابھی آپ کو جھوٹ بولنا نہیں آتا تو کوشش بھی مت کیا کرو۔ابتہاج نے رباب کی ناک کو پیار سے کھنچتے ہوئے کہا۔
رباب نے گھور کر ابتہاج کو دیکھا تھا۔
اپنا خیال رکھا کرو اپنے لیے نہیں میرے لیے اور آئندہ اگر تم نے اپنا خیال نہیں رکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ابتہاج نے سنجیدگی سے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
اب مجھے کیا پتہ آگے کیا ہونے والا ہے اس کا خیال میں کیسے رکھ سکتی ہوں؟ اور آپ سے برا کوئی اور ہے بھی نہیں رباب نے آخری بات منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہی۔
مسز میں سن چکا ہوں ابتہاج نے رباب کا چہرہ خود کی طرف کرتے کہا۔
تو میں نے کچھ غلط نہیں بولا سچ ہی بولا ہے رباب نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
تو پھر اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟ ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے پوچھا۔
نہیں تو میں نہیں گھبرا رہی رباب نے نفی میں سر ہلاتے جلدی سے کہا۔
کیوٹ ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا اور جھک کر پیار سے رباب کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پیچھے ہو گیا۔
مسز اپنا خیال رکھا کرو ابتہاج نے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا۔رباب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی جو باہر دیکھنے لگی اور ابتہاج نے بھی گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کے راستے پر ڈال دی۔اسے نہیں معلوم تھا۔ابتہاج اس کے ساتھ اتنا اچھا ہو جائے گا۔
💜 💜 💜 💜
تم مجھے یہاں اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہو؟ ایک بار بھی تم نے مڑ کر میری خیریت معلوم نہیں کی۔
میں یہاں قید رہتی ہوں تمہیں بلکل بھی میری پرواہ نہیں ہے۔زائشہ نے صنان کو دیکھتے غصے سے کہا۔
تمہیں کس نے کہا یہاں قید رہو اور میرے سامنے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے مال میں میں تمہیں دیکھ چکا تھا۔مجھے بتاؤ ایسی کون سی مصیبت آن پڑی جو تم نے مجھے یہاں بلایا؟ صنان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ لڑکی کیا تمھاری بیوی تھی؟ زائشہ نے صنان کی بات کو اگنور کرتے پوچھا۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں ہر لڑکی کے ساتھ ایسے ہی گھومتا پھیرتا ہوں؟ صنان نے کہا تو زائشہ ہنس پڑی تھی۔
مجھے اُس لڑکی کو دیکھ کر ہی پتہ چل گیا تھا کہ وہ تمھاری بیوی ہے تم تو میرے ساتھ بھی باہر کہی نہیں جاتے کسی اور لڑکی کے بارے میں تو میں سوچ بھی نہیں سکتی
ویسے تمھاری رخصتی کب ہے؟ اتنا تو میں پوچھ ہی سکتی ہوں زائشہ نے جلدی سے کہا۔
صنان کچھ پل زائشہ کو دیکھتا رہا پھر بولا عید کے دوسرے دن
تم نے کیا بس یہی پوچھنا تھا؟ صنان نے اس بار تھوڑا غصے سے پوچھا۔
ہاں تم جاؤ تمہیں بہت سے کام ہوں گئے نا زائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
صنان بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا تھا۔
پیچھے زائشہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
ہمم عید کے دوسرے دن زائشہ نے دل میں سوچا۔