58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️
مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر خود وہ اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ کر رہا ہے وہ لڑکی اس کی بیوی ہی ہو سکتی ہے۔
ایک بار بھی مڑ کر اس نے میری خیریت معلوم نہیں کی ۔
زائشہ جب سے گھر آئی تھی بس ایک بات ہی سوچتی جا رہی ہے تھی اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ صنان کسی اور لڑکی کے ساتھ بات بھی کر رہا تھا لیکن وہ کوئی اور لڑکی نہیں بلکہ اس کی بیوی تھی۔
مجھے صنان کے گھر کا معلوم کرنا ہو گا۔بس ایک ہی طریقہ ہے جس سے میں صنان کو حاصل کر سکتی ہوں۔چاہے مجھے کسی بھی حد تک جانا پڑے میں چلی جاؤں گی۔
بس ایک بار مجھے پتہ چل جائے زائشہ نے سامنے دیوار کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔
ناجانے یہ کیا سوچ رہی تھی اور کیا کرنے والی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ماما آپ کو کیا لگتا ہے کل چاند نظر آجائے گا؟ نوال نے سکینہ بیگم کو دیکھتے پوچھا۔
یہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر واپس آئی تھی۔اس نے اپنے ولیمے کے لیے بلیک کلر کی ساڑھی پسند کی تھی جو صنان کو بھی کافی پسند آئی تھی۔
بیٹا جی میں اس بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں نظر آ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی تم مجھے یہ بتاؤ تمھارا بھائی کہاں ہے؟ سکینہ بیگم نے سنجیدگی سے نوال کو دیکھتے پوچھا۔
وہ رہے دیکھیں آپ نے نام لیا اور وہ آگئے۔نوال نے ابتہاج کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
ابتہاج امی کی طرف کیا تماشا ہوا ہے مجھے تم تفصیل بتانا پسند کرو گئے؟ سکینہ نے ابتہاج کو دیکھتے پوچھا۔
موم آپ اس طرح کیوں بات ک رہی ہیں؟ کچھ ہوا ہے کیا یا کسی نے کچھ کہا؟ ابتہاج نے ناسمجھی سے اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا۔
تمھاری خالہ یہاں آئی تھی اور مجھے لیکچر دے کر گئی کہ میں نے اپنے بچوں کو تمیز نہیں سکھائی کہ بڑوں سے بات کیسے کرتے ہیں۔
سکینہ نے تھوڑا غصے سے کہا۔
اور آپ نے نظریں جھکا کر آرام سے اپنی چھوٹی بہن کی باتیں سن لیں؟ معاف کیجیے گا موم لیکن میں آپ کی طرح اچھا بلکل بھی نہیں ہوں کوئی مجھے کچھ بھی بولتا رہے یا غلط الزام لگاتا رہے اور میں خاموشی سے سنتا رہوں میں نے آپ کی بہن کو کچھ نہیں کہا۔میں اُن کی بہت عزت کرتا ہیں لیکن ایک بات آپ ان کو بھی کہہ دیجئے گا اگر اُن کی وجہ سے آپ نے زرا سی بھی ٹیشن لی یا آپ کا بی پی ہائی ہوا تو پھر میں سچ میں اُن سے بدتمیزی کروں گا۔ابھی تو میں نے نہیں کی اور اُنہوں نے تماشا لگایا ہے جب میں کروں گا پھر پتہ چلے گا کہ اصل میں بدتمیزی ہوتی کیا ہے۔ابتہاج نے سرد لہجے میں کہااور وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
نوال خاموشی سے دونوں کو کی باتیں سن رہی رہی تھی۔
ابتہاج کے جاتے ہی سکینہ نے اپنا سر پکڑ لیا تھا۔
موم آپ کو پتہ تو ہے کہ خالہ کی عادت کیسی ہے پھر بھی آپ بھائی کو ڈانٹ رہی تھیں۔نوال نے کہا۔
بیٹا میں جانتی ہوں کہ غزالہ کی عادت کیسی ہے۔لیکن جو بھی ہے وہ بڑی ہیں اور ابتہاج کو اس کی بات کو برداشت کرنا چاہیے۔سکینہ نے پریشانی سے کہا۔
موم بھائی جانتے ہیں اور وہ خود سمجھدار بھی ہیں اور میں پوری امید سے کہہ سکتی ہوں کہ بھائی نے خالہ کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی ہو گی۔اب بھائی غصے میں باہر گئے جو ان کے سامنے آیا اُس کی ہی شامت آئے گی نوال نے ڈائجسٹ کو پکڑتے کہا۔
دعا کرو اُس کے سامنے کوئی نا آئے اور تمھاری دعا سے بات ہوئی؟ غزالہ نے یاد آنے پر پوچھا۔تو نوال دعا کے بارے میں سکینہ کو بتانے لگی۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج کا ارادہ باہر جانے کا تھا لیکن جب اس کی نظر ٹائر پر پڑی تو اس نے زور سے گاڑی کو پاؤں مارا۔جس کا ٹائر پنکچر تھا۔صنان گھر ہو گا اُس سے چابی لیتا ہوں۔ابتہاج نے دل میں سوچا اور دادی جان کے گھر کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے۔
دور سے اسے کسی کا عکس نظر آیا۔جو زمین پر کچھ تلاش کر رہا تھا۔ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
ابتہاج قریب گیا اور اس نے اپنے موبائل کی ٹارچ مقابل پر ڈالی
کون ہے وہاں ابتہاج نے بھاری لہجے میں پوچھا۔
رباب جو اپنا موبائل ڈھونڈ رہی تھی ڈر کر ایک دم اچھل پڑی اور پیچھے کھڑے ابتہاج کے سینے کے ساتھ جا ٹکرائی
تم رات کو اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟ ابتہاج نے رباب کو سامنے دیکھا تو پوچھا۔
وہ میں لیموں لینے آئی تھی۔گھر میں ختم ہو گئے ہیں نا تو میں نے سوچا یہاں سے لے لو رباب نے لیموں کے پودے کی طرف اشارہ کرتے کہا لیکن پتہ میں کسی پتھر کے ساتھ ٹکرائی اور میرا موبائل یہی کہی گر گیا۔
رباب نے زمین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ابتہاج نے ارد گرد دیکھا تو کچھ فاصلے پر ہی اسے موبائل نظر آگیا تھا۔ابتہاج نے جھک کر موبائل اٹھایا اور رباب کے پاس آیا۔
تمہیں معلوم ہے رات کے وقت ان پودوں اور درخت کے پاس نہیں جاتے ان پر چڑیلیں اور جن بیٹھے ہوتے ہیں جو صرف خوبصورت لڑکیوں کا شکار کرتے ہیں ابتہاج نے جھک کر رباب کے کان کے پاس سر گوشی کرتے کہا جس نے ڈر کے مارے ابتہاج کے قریب ہوتے دونوں ہاتھوں سے اس کی شرٹ کو زور سے پکڑ لیا تھا۔
اگر اس وقت اسے بھوت کا ڈر نا ہوتا تو اپنی پوزیشن کو دیکھ کر ضرور شرم سے پانی پانی ہوتی
ابتہاج نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی۔رباب کو دیکھتے ہی اس کا غصہ کہی اڑ گیا تھا۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ میں نے بھی پڑھا تھا کہ جن وغیرہ درختوں پر ہوتے ہیں۔رباب نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔
بلکل ٹھیک سنا ہے تم نے مسز ابتہاج نے کہتے ہی جھک کر رباب کی گردن پر بوسہ دیا۔
ابتہاج کا لمس محسوس کرتے ہی رباب کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی تھی۔
لیکن ابتہاج نے اسے دور نہیں ہونے دیا۔
ابتہاج رباب نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
تھوڑا سا اندھیرے کا فائدہ اٹھا لینا چاہیے مسز تم کیا کہتی ہو؟ ابتہاج نے گہرے لہجے میں رباب کے کان کے پاس کہا اور وہاں بھی بوسہ دیا۔
ابتہاج جن میرا مطلب ہے کوئی آجائے گا۔رباب نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
اس وقت کوئی نہیں آئے گا فکر مت کرو ابتہاج نے شرارتی لہجے میں کہا۔
رباب نے اندھیرے میں ابتہاج کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی جو نا ہونے کے برابر نظر آرہا تھا۔
اگر میرا چہرہ دیکھنا چاہتی ہو تو اندر چلیں؟ ابتہاج نے مسکراتے دباتے پوچھا۔
نہ نہیں آپ پلیز مجھے چھوڑ دیں مجھے دادا جان کے لیے چائے بھی بنانی ہے رباب نے کہا۔
ہمم دادا جان کا نام لے کر تم فرار ہونا چاہتی ہو ٹھیک ہے جاؤ کچھ دن کی بات ہے پھر میرے پاس ہی تو آنا ہے ابتہاج نے ذومعنی الفاظ میں کہا اور رباب کو چھوڑ دیا۔
رباب ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے غائب ہوئی تھی۔ابتہاج اس کی جلدی پر ہنس پڑا تھا اب اس کا موڈ بہتر تھا اس لیے باہر جانے کا ارادہ ترک کرتے اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔
💜💜💜💜
یہ کیا کر رہی ہو تم؟ ہیزام نے عدن کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔جو سر پر ڈوپٹہ لیے ناجانے کس بات پر شرمانے کی کوشش کر رہی تھی۔
تمہیں نظر نہیں آرہا میرا مطلب ہے آپ کو دکھائی نہیں دے رہا میں اچھی لڑکی کی طرح چلنے پھیرنے اور بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں عدن نے ڈوپٹے کا کونا دانتوں میں دباتے نظریں جھکا کر کہا۔
اچھی لڑکی سے کیا مراد ہے آپ کی محترمہ؟ ہیزام نے دلچسپی سے عدن کو دیکھتے پوچھا۔
اچھی لڑکی وہ جو تو کرکے بات نہیں کرتی بےشک اگلے انسان کی شکل اس قابل نا ہو کہ اُسے عزت دی جائے لیکن پھر بھی اچھی لڑکی اُس سے عزت سے بات کرتی ۔
جھگڑا نہیں کرتی چاہے اگلا انسان اُس کا سر ہی کیوں نا پھاڑ دے اچھی لڑکی اُف تک نہیں کرتی
اچھی لڑکی نظریں نیچے کیے چلتی ہے اور نظریں جھکا کر ہی بات کرتی ہے ایسے میں اگر وہ گر بھی سکتی لیکن وہ گرنا نظریں اٹھانے سے زیادہ بہتر سمجھتی اور عدن مزید اچھی لڑکی کے بارے میں بتاتی کہ ہیزام نے اسے راستے میں ہی روک دیا تھا۔
تم جیسی ہو ویسی ہی رہو تمھارا اچھا بننا میں افورڈ نہیں کر سکتا۔
ہیزام نے دانت پیستے کہا مجال ہے کبھی اس لڑکی نے کوئی سیدھا کام کیا ہو ہیزام گھوری سے نواز کر منہ میں بڑبڑاتے وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے عدن کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی وہ ہیزام کو تنگ کر رہی تھی اور وہ ہو بھی گیا تھا۔
۔مائی کیوٹ فیوچر شوہر عدن نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی
💜 💜 💜 💜
ریحان تم….. ماریہ نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے کہا لیکن ریحان کو دیکھتے ہی اس کی زبان کو بریک لگی تھی۔
جو اپنے کندھے پر لگے کٹ کو صاف کر رہا تھا۔
تمہیں کیا ہوا اور یہ کٹ؟ ماریہ نے حیرانگی سے دروازہ بند کرتے ریحان نے قریب آتے پوچھا۔
کچھ نہیں بس چھوٹا سا جھگڑا ہو گا تھا تو سامنے والے نے غصے میں شیشے کی بوتل ہی دے ماری نشے میں تھا کمینہ انسان ایک لڑکی کو چھیڑ رہا تھا۔
ریحان نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
تم سے نہیں ہو رہا میں کر دیتی ہوں ماریہ نے ریحان کو دیکھتے کہا جس نے بے یقینی سے ماریہ کو دیکھا تھا۔
کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا خوشی سے میں کہی مر ہی نا جاؤں ریحان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
فضول بکواس مت کیا کرو ماریہ نے زور سے ریحان کے ہاتھ سے روئی لیتے کہا۔
کیوں تمہیں تکلیف ہوتی ہے یا پھر مجھ سے پیار ہو رہا ہے۔ریحان نے شرارتی لہجے میں پوچھا۔
اپنا منہ بند رکھو ورنہ تمھارے منہ پر ٹیپ لگا دوں ماریہ نے گھورتے ہوئے کہا۔
اور ریحان کے زخم کو.صاف کرنے لگی ریحان بہت قریب سے ماریہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
آہ ریحان تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
سوری سوری ماریہ نے جلدی سے پھوک مارتے کہا۔
کاش اسی طرح تم میرا ہمیشہ خیال رکھو اور اسی طرح ہم خوش رہیں لیکن تم ہمیشہ چڑیل بنی پھرتی رہتی ہوریحان نے منہ بسوڑتے کہا۔
ماریہ نے ایک نظر ریحان کو دیکھا۔اسے غصہ کرنا چاہیے تھا لیکن وہ ریحان کا چہرہ دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔
ماریہ نے پٹی کی اور وہاں سے کھڑی ہو گئی میں تمھارے لیے ملازمہ کے ہاتھ ہلدی والا دودھ بھیجتی ہوں۔
ماریہ نے سنجیدگی سے کہا۔
تم خود لے آنا ریحان نے جلدی سے کہا۔
اب تم زیادہ فری مت ہو ماریہ نے گھورتے ہوئے کہا۔
تم فری ہونے کا موقع ہی کب دیتی ہو۔ریحان نے ماریہ کو بازو سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے کہا۔جو اس کی گود میں آ بیٹھی تھی۔
عین اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔
دونوں جس حالت میں تھے مقابل کی تو آنکھیں باہر آگئی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
بہت آگے پیچھے پھیرتا ہے نا اپنی بیوی کے اب دیکھنا کہ میں کیا کرتی ہوں اگر اس نے رباب کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر نا نکالا تو میرا نام بھی غزالہ نہیں
غزالہ نے غصے سے کہا۔
موم آپ ایسا کیا کرنے والی ہیں؟ زوہیب نے دلچسپی سے پوچھا۔
کوئی بھی مرد کتنا ہی اچھا کیوں نا ہو اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا اور یہ کام تم کرو گئے۔غزالہ نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لاتے کہا۔
موم میں تیار ہوں لیکن مجھے کرنا کیا ہے؟ زوہیب نے جلدی سے پوچھا وہ پہلے سے ہی اسے موقعے ڈھونڈ رہا تھا۔
ابھی صبر کرو آہستہ آہستہ تمہیں بتا دوں گی بس رباب کے قریب رہنا جب ابتہاج آس پاس ہو۔ہمارا کام آسان ہو جائے گا اور رباب کے سامنے اچھا بننے کی کوشش کرنا کہ وہ تم پر یقین کرنے لگے سمجھ رہے ہو نا کہ کیا کہہ رہی ہوں؟ عزالہ نے زوہیب کو دیکھتے پوچھا۔
موم آپ فکر ہی مت کریں اور اب میرا کمال دیکھیں بس آپ زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا ۔
غزالہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی تھی۔
اب اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
مجھے لگتا ہے پھپھو اتنی آسانی سے چپ نہیں ہوں گی پورے گھر کے سامنے بات ہوئی اور وہ خود کو ہی مظلوم سمجھ رہی ہوں گی۔رباب آپی کی تو خیر نہیں عمیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب؟ براق نے نا سمجھی سے پوچھا۔زوہا بھی دونوں کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
دیکھو بھائی ہم سب پھپھو کی عادت سے اچھی طرح واقف ہیں بقول اُن کے جو اُن کی بےعزتی ہوئی ہے اُس کا بدلہ وہ ضرور لیں گئی کیونکہ وہ اس گھر میں آئی ہی اس لیے ہیں تاکہ ہمارے ہنستے مسکراتے گھر کو تباہ کر سکے عمیر نے براق کو دیکھتے کہا۔
تمیز سے بات کرو عمیر وہ بڑی ہیں ہماری زوہا نے گھورتے ہوئے کہا۔
لو میں نے کب بدتمیزی کی میں تو حقیقت بتا رہا ہوں اور تم دونوں آج کی تاریخ لکھ کر رکھ لو دیکھ لینا آگے وہ کیا کرتی ہیں کیونکہ میرے اندازے کبھی غلط نہیں ہوتے عمیر نے کھڑے ہوتے دونوں کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ویسے عمیر کی ایک ایک بات سچ ہے۔میں بھی اس کی بات سے متفق ہوں پتہ نہیں پھپھو آگے کیا کریں گی براق نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
زوہا خاموش رہی تھی کیونکہ دونوں کی بات ٹھیک تھی اسے بس اسی بات کا ڈر تھا کہ کوئی ایسی بات ناہو جائے جو سب کے لیے نقصان کا باعث بنے دل میں تو اس نے یہی دعا کی تھی کہ اللہ سب ٹھیک کرے۔
💜 💜 💜 💜
مس ڈرامہ کوئین میری بات سنو صنان نے نوال کو بازو بسے پکڑتے روکتے ہوئے کہا۔
ہاں؟ نوال نے پوچھا۔
دو یا تین دن بعد عید ہے۔اور عید کے دوسرے دن ہمارا ولیمہ ہے۔
تو…. صنان نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے کہا
تو؟ نوال نے پوچھا۔
تو یہ کہ تھوڑا میک بھی کر لینا یہ نا ہو کہ سب مہمان تمہیں دیکھ کر بھاگ جائیں
صنان نے اس قدر سنجیدگی سے کہا کہ کچھ پل تو نوال بھی سوچ میں پڑ گی تھی۔
مجھے لگتا ہے کہ تم روزے کی حالت میں میرے ہاتھوں شہید ہونا چاہتے ہو؟ نوال نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لاتے کہا۔
قاتل حسینہ ابھی مجھے مرنے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے۔
میں نے تم سے پوچھا تھا کچھ صنان نے سنجیدہ ہوتے کہا۔
کیا؟ نوال بھی صنان کا سیرس چہرہ دیکھ کر سیرس ہوئی تھی۔
آگے جیسے بھی حالات آتے ہیں کیا تم میرا ساتھ دو گی؟ ہمیشہ مجھ پر یقین کرو گی؟ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑی رہو گی؟ صنان نے نوال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جس نے مسکرا کر صنان کو دیکھا تھا۔
ہاں تمھارے سارے سوالوں کا جواب ہاں ہیں نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
صنان نے خوشی سے نوال کو گلے لگایا تھا۔
ارے کیا کر رہے ہو کوئی آجائے گا۔
نوال نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
شکریہ نوال صنان نے مسکرا کر کہا اس کے چہرے پر اب اطمینان سا تھا۔
بس یہی پوچھنا تھا؟ نوال نے پوچھا تو صنان نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔جس پر نوال ہنس پڑی تھی۔
میں نانو کے کمرے میں جا رہی ہوں نوال نے کہا اور وہاں سے چلی گی جو غلطی اس نے پہلے کی تھی جو بنا کسی وجہ کے صنان سے ناراض رہی اور ان دونوں میں جھگڑا بھی ہوا نوال دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرنا چاہتی تھی۔
صنان نے جیسا سوچا تھا سب کچھ ویسا ہی ہو رہا تھا لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ ویسا ہی ہو جیسا ہم سوچتے ہیں۔