122.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ریحان تم غلط کر رہے ہو ۔ماریہ نے خوفزدہ لہجے میں ریحان کو دیکھتے کہا۔جو قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
ریحان چلتا ہوا ماریہ کے قریب آیا۔اور اس کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھ کر ہاتھ کا گھیرا بنایا۔
اتنا بھی گرا ہوا انسان نہیں ہوں ماریہ جتنا تم مجھے سمجھتی ہو۔ریحان نے ماریہ کے چہرے پر جھولتی لٹ اپنی انگلی سے پیچھے کرتے مزید کہا۔
تمہیں یہاں میں اس لیے لایا تاکہ تم سے نکاح کر سکوں ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ماریہ آنکھیں پھاڑے ریحان کو دیکھ رہی تھی تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے میں کیوں تم سے نکاح کیوں کروں گی؟ اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا تو ویسے ہی مجھے جان سے مار دیں گئے۔ماریہ نے ریحان کو پیچھے دھکا دیتے کہا۔
تمھاری بات کے دو مطلب نکلتے ہیں ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ایک یہ تم مجھ سے نکاح کے لیے تیار ہو بس تمہیں گھر والوں کا ڈر ہے۔
دوسری بات یہ کہ تم مجھ سے اس لیے نکاح کرو گی کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میں یہ قدم ہرگز نا اٹھاتا اگر تم صبح ابتہاج کی باہوں میں جھول نا رہی ہوتی تم جان بوجھ کر میرے غصے کو ہوا دیتی ہو ماریہ اور جو میں آج اس نکاح کے لیے زور دے رہا ہوں تو صرف تمھاری فضول قسم کی حرکتوں کی وجہ سے ریحان نے سنجیدگی سے کہا۔
تمھارا تو دماغ خراب ہو گیا ہے میں تم سے نکاح بلکل بھی نہیں کروں گی۔ماریہ نے ریحان کو پیچھے دھکا دیتے کہا اور وہاں سے جانے لگی جب ریحان نے اسے بازو سے پکڑ دیور کے ساتھ لگایا۔
پیار کی زبان لگتا ہے تمہیں سمجھ نہیں آتی جب تک تم نکاح کے لیے ہاں نہیں کرو گی یہاں سے میری اجازت کے بغیر ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکتی تو رہو یہاں پر پھر جواب دیتی رہنا گھر والوں کو کہ تم کہاں تھی میں نے تو صاف مکر جانا ہے ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تم!!! ماریہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن ریحان نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا دیا تھا۔
زیادہ باتیں نہیں اور یہاں بیٹھ کر آرام سے سوچو تمھارے پاس پندرہ منٹ ہیں اس سے زیادہ وقت میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ریحان کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے ماریہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی چھوٹی سی غلطی اسے یہاں تک پہنچا دے گی کیا ضرورت تھی اسے ریحان کے سامنے گرنے والا ڈرامہ کرنے کی۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج سگریٹ پر سگریٹ پیے جا رہا تھا کسی طرح سے بھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔
اسے خبر مل چکی تھی کہ پرسوں اس کا رباب کے ساتھ نکاح ہے۔
نوال دروازہ ناک کرکے کمرے میں داخل ہوئی
بھائی کیسے ہیں آپ؟
نوال نے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا لیکن کمرے میں سگریٹ کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔
بھائی اتنی سموکنگ آپ کیسے کر لیتے ہیں؟ یہ صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی نوال نے کھانستے ہوئے کہا۔
ابتہاج نے اٹھ کر اپنے کمرے کی کھڑکیاں کھول دی تھیں۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے نوال کو دیکھتے پوچھا۔
جس سے سانس نہیں لیا جا رہا تھا۔تم. ٹھیک ہو چلو باہر ابتہاج نے نوال کی حالت کو دیکھتے کہا اور اسے ٹیریس پر لے گیا۔
تم ٹھیک ہو؟ابتہاج نے نوال کا سرخ چہرہ دیکھتے پوچھا۔
ہاں میں ٹھیک ہوں بس یہ سگریٹ کی سمیل سے مجھے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوتا۔نوال نے گہرا سانس لیتے کہا۔
سوری میں بھول گیا تھا۔ابتہاج نے شرمندگی سے کہا۔
کوئی بات نہیں بھائی اب میں ٹھیک ہوں میں آپ کو بلانے آئی تھی آپ بھی ہمارے ساتھ شاپنگ کرنے چلیں آپی بھی جا رہی ہیں۔
نوال نے خوشی سے کہا۔
تم لوگ جاؤ میرا موڈ نہیں ہے۔ابتہاج نے سنجیدگی سے کہا۔
بھائی پلیز نوال نے ابتہاج کا بازو پکڑتے کہا۔
نوال ضد مت کرو اور جاؤ یہاں سے ابتہاج نے تھوڑا سرد لہجے میں کہا۔
نوال نے ابتہاج کو دیکھا اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی۔
نوال میری بات سنو ابتہاج کو جب اپنے رویے کا احساس ہوا تو جلدی سے نوال کو آواز دیتے کہا۔لیکن وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔
کیا ضرورت تھی اُس سے اس لہجے میں بات کرنے کی ابتہاج نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔اپنی بہن کو منانا بھی تو تھا۔
💜 💜 💜 💜
تو کیا سوچا تم نے؟ ریحان نے ماریہ کو دیکھتے پوچھا۔دیکھو ریحان میں تم سے نکاح نہیں کر سکتی پلیز تم سمجھنے کی کوشش کرو۔ماریہ نے بےبسی سے کہا۔
تم بھی سمجھنے کی کوشش کرو میں مزید تمھاری فضول حرکات کو برداشت نہیں کر سکتا۔ریحان نے ماریہ کے قریب آتے کہا۔
دیکھو جتناتم وقت برباد کرو گی تمھارے لیے ہی مسئلہ ہو گا ابھی تھوڑی دیر بعد چچی جان کی تمہیں کالز آنے لگ جائیں گی۔
ریحان نے ماریہ ست کچھ فاصلے پر بیٹھتے کہا۔جسے سچ میں ٹیشن ہونے لگی تھی۔
میں تیار ہوں نکاح کے لیے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد ماریہ نے سنجیدگی سے کہا۔
یہ ہوئی نا اچھے بچوں والی بات تھوڑی دیر تک مولوی صاحب آتے ہوں گئے۔اور ریحان نے وہاں موجود الماری میں سے ایک بڑی سی پنک کلر کی شال نکال کر ماریہ کی طرف پھینکتے کہا اسے اچھی طرح اوڑھ لو۔
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ریحان ماریہ نے چیختے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے مت کرنا بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ۔ریحان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ماریہ کو گھر والوں کی فکر کھائی جا رہی تھی گھر والوں نے بچوں کو ہر قسم کی آذادی دی ہوئی تھی لیکن ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ کوئی ایسا کام ہرگز مت کرنا جس کی وجہ سے لوگوں لے سامنے ہمیں شرمندہ ہونا پڑے لیکن اب جو ریحان کرنے جا رہا تھا اُس کا پتہ نہیں کیا نتیجہ نکلنا تھا۔
💜 💜 💜 💜
کیا ہوا تمھارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟ عدن نے نوال کو دیکھتے پوچھا وہ شاپنگ پر ان کے ساتھ نہیں جا رہی تھی کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ شاپنگ سے واپس آئی تھی اور آتے ہی اسے خبر ملی دو دن بعد رباب کا نکاح ہے۔
کچھ نہیں بھائی ہمارے ساتھ نہیں آئے گئے نوال نے کہا اور رباب نے نوال کی بات سن کر شکر ادا کیا تھا۔وہ پہلے سے ہی دعا کر رہی تھی کہ ابتہاج ان کے ساتھ نا آئے۔
راحیلہ اور سکینہ بیگم کے ساتھ زوہا اور براق بھی جا رہے تھے۔
چلیں؟ سکینہ بیگم نے آتے ہی پوچھا راحیلہ بیگم بھی آگئی تھیں۔
جی ہم تیار ہیں براق نے جلدی سے کہا۔
ابتہاج ہمارے ساتھ نہیں جا رہا؟ راحیلہ بیگم نے پوچھا۔
ممانی جان انہوں نے منع کر دیا ہے نوال نے منہ لٹکائے کہا۔
چلو کوئی بات نہیں ہم لوگ خود ہی چلے جاتے ہیں۔راحیلہ بیگم نے جلدی سے کہا۔سکینہ تو خاموش ہی رہی تھی۔
کس نے کہا کہ میں نہیں جا رہا؟ ابتہاج کی آواز پر سب نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا لیکن رباب ابھی بھی ویسی ہی کھڑی تھی۔
ابتہاج کی آواز سن کر اس کا دل ڈر کے مارے ایک سو چالیس کی سپیڈ سے دھڑکنے لگا تھا۔
تھوڑی دیر پہلے آپ نے ہی منع کیا تھا نوال نے دانت پیستے کہا۔جس پر ابتہاج ہنس پڑا ۔اور اب میں ہی کہہ رہا ہوں کہ میں تم لوگوں کے ساتھ جا رہا ہوں ابتہاج نے گلاسز لگاتے کہا۔
حیران تو سکینہ بیگم بھی اپنے بیٹے کو دیکھ کر ہوئی تھیں۔ان کو امید نہیں تھی کہ ابتہاج ان کے ساتھ جائے گا۔
تو بھائی جان اب آپ ہمارے ساتھ آ ہی رہے ہیں تو آپی آپ کے ساتھ جائے گی کیونکہ ایک گاڑی میں اتنے سارے لوگ نہیں جا سکتے نوال نے سنجیدگی سے کہا۔
ابتہاج نے ایک نظر رباب پر ڈالی جو اس سے رخ موڑ کھڑی تھی۔
ٹھیک ہے ابتہاج کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
باقی سب بھی باہر چلے گئے لیکن رباب نے نوال کا ہاتھ پکڑ لیا تھا تم بھی ہمارے ساتھ آجاؤ رباب نے بےبسی سے کہا۔اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔
آپی یار میں کباب میں ہڈی نہیں بننا چاہتی نوال نے مسکراہٹ دباتے کہا عدن بھی نوال کی بات پر ہنس پڑی تھی۔
بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے نوال آپ ٹینشن نا لے وہ آپ کو کھا نہیں جائیں گئے عدن نے بھی ہنستے ہوئے کہا۔
نوال رباب کا ہاتھ پکڑے اسے باہر لے گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج رباب کا ہی انتظار کر رہا تھا نوال نے اسے گاڑی میں بیٹھا دیا تھا رباب دروازے کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہوئی تھی۔
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔کس مال میں جانا ہے؟ تھوڑی دیر بعد ابتہاج کی سنجیدہ سی آواز گاڑی میں گونجی
مجھے نہیں معلوم رباب نے کہا۔
تمہیں یہی معلوم نہیں کہ تم لوگ جا کہاں رہے تھے؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ میں نے پھپھو جان سے پوچھا ہی نہیں تھا۔رباب نے جواب دیا۔
ابتہاج نے سائیڈ پر گاڑی روکی اور اپنا فون نکال کر نوال کو کال کرنے لگا۔جس سے اس نے مال کا نام پوچھا اور فون بند کر دیا۔
مال زیادہ دور نہیں تھا اس لیے ابتہاج اور رباب جلدی پہنچ گئے تھے۔لیکن نوال لوگ ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔
تھوڑی دیر بعد نوال نے کال کرکے بتایا کہ گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا ہے تو ان کو آنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔
ابتہاج نے غصے سے موبائل بند کیا تھا۔عجیب مصیبت ہے یار ابتہاج نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔دونوں مال کے اندر آگئے تھے۔
جب تک باقی کے لوگ نہیں آجاتی تم نے جہاں بھی جانا ہے جاؤ لیکن اندر ہی رہنا ابتہاج نے سرد لہجے میں کہا۔
لیکن میں کہاں جاؤں؟ رباب نے پریشانی سے پوچھا کیونکہ وہ بہت کم باہر آتی تھی اور اگر آ بھی جاتی تو کوئی نا کوئی اس کے ساتھ ضرور ہوتا تھا۔
کہی بھی جاؤ لیکن میری نظروں سے دور رہو ابتہاج نے کرخت لہجے میں کہتے ہی رخ موڑ لیا۔اور اپنے موبائل پر لگ گیا۔
رباب کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔اسے کہہ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اس مال میں پہلی بار آئی ہے۔اگر کہہ گم گئی تو اس ظالم نے تو اسے تلاش بھی نہیں کرنا۔
رباب نے ارد گرد دیکھا لوگ اپنے دھیان چل پھیر رہے تھے۔
رباب نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے تھے اس نے سوچا کہ گاڑی میں جا کر بیٹھ جائیں گی لیکن گاڑی تو لاک تھی اور یہ بات رباب نے سوچی نہیں
جب وہ باہر آئی تو گاڑی کو لاک دیکھ کر اسے اپنی عقل پر ماتم کرنے کا دل کیا۔
اب اسے رونا آرہا تھا کہ کیا کرے اندر اُس کھڑوس نے کہا تھا کہ اس کے سامنے مت آنا اور اسے کیسی چیز کا علم بھی نہیں تھا۔جاتی بھی تو کہاں
رباب گاڑی کے پاس کھڑی یہی سوچ رہی تھی جب دو بائیک والے اس کے پاس آکر رکے
رباب ڈر کر پیچھے ہٹ گئی تھی۔
میڈم کوئی ہیلپ چاہیے آپ کو؟ ان میں سے ایک لڑکے نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
رباب بنا کوئی جواب دیے وہاں سے جانے لگی جب دوسرے لڑکے نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
چھوڑو میرا ہاتھ رباب نے اپنا ہاتھ چھڑواتے کہا۔
لیکن اُس لڑکے نے رباب کے ہاتھ کو نہیں چھوڑا
ابتہاج جس نے رباب کو باہر جاتے دیکھ لیا تھا اور اس کے پیچھے آیا تھا اور کھڑا آرام سے رباب کی حرکات نوٹ کر رہا تھا جب دو بائیک والے اس کے پاس آکر رکے ابتہاج دیکھنا چاہتا تھا کہ رباب کیا کرتی ہیں۔ لیکن جب اس نے رباب کا گھبرایا ہوا چہرا دیکھا تو فوراً اس کے پاس آیا اور جس لڑکے نے رباب کا ہاتھ پکڑا تھا اس کے جبڑے پر کھینچ کر مکا مارا وہ لڑکا بائیک سے نیچے زمین ہر جا گرا تھا۔
تم لوگوں کے باپ کا مال ہے جو منہ اٹھا کر چلے آتے ہو؟ہاتھ لگانے؟ ابتہاج نے دوسرا مکا اس کی ناک پر مارتے کہا۔
لوگ ایک دم وہاں جمع ہو گئے تھے اور ابتہاج کو اُس لڑکے سے پیچھے کیا جو موقع ملتے ہی وہاں سے بھاگ گیا تھا۔
رباب آنکھیں پھاڑے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔ابتہاج نے ایک نظر لوگوں کو دیکھا اور رباب کا ہاتھ پکڑ کر اسے قدر سنسان جگہ پر لے گیا۔
کیا بکواس کی تھی میں نے کہ اندر رہنا تم باہر کیوں آئی؟ ابتہاج نے غصے سے رباب کو دیکھتے پوچھا۔اُس لڑکے کا رباب کو چھونا اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔اس لیے اسے لڑکے پر زیادہ غصہ آرہا تھا۔
جواب دو ابتہاج نے رباب کو بازو سے پکڑتے سرد لہجے میں پوچھا۔
میں وہ رباب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جواب دے آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کی چادر کو بھگو رہے تھے۔
کیا میں وہ؟ لگا رکھی ہے تم نے؟ ابتہاج نے پوچھا۔
سوری رباب نے نظریں جھکا کر کہا۔ابتہاج نے حیرانگی سے رباب کو دیکھا تھا۔
ابتہاج نے رباب کو چھوڑا اور گہرا سانس لے کر اپنے غصے کو کم کرنے لگا۔
اس نے رباب کے سامنے ٹشو کیا۔جس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا۔
چہرا صاف کرو باقی سب لوگ آتے ہی ہوں گئے اُن لوگوں کو تو یہی لگے گا کہ میں نے ہی تم پر کوئی نا کوئی ظلم کیا ہو گا عجیب مصیبت میرے سر ڈال دی ہے۔ابتہاج نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اس کی بڑبڑاہٹ اتنی صاف ضرور تھی کہ رباب نے آسانی سے سن لی تھی۔ پہلے بھی وہ ابتہاج کی بات سن چکی تھی۔
رباب نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیا اور خود میں ہمت پیدا کی جو وہ کہنے جا رہی تھی اس کے لیے ہمت کا ہونا بہت ضروری تھا۔
اگر میں مصیبت ہوں تو آپ خود کیوں نہیں گھر والوں سے بات کرتے اور اس رشتے کے لیے منع کیوں نہیں کر دیتے؟ رباب کی بات پر ابتہاج نے اس کی طرف ایسے دیکھا تھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو جو ابھی اس نے سنا کیا ہو رباب نے ہی کہا ہے۔
کیا کہا تم نے؟ ابتہاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں نے کہا کہ آپ خود اس رشتے کے لیے منع کیوں نہیں کر دیتے عورت کے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلا رہے ہیں آپ؟ جب سے آپ آئے ہیں میری تذلیل کیے جا رہے ہیں ٹھیک ہے میں جاہل ہوں جیسی بھی ہوں لیکن شکر ادا کرتی ہوں آپ کے جیسی پڑھی لکھی جاہل تو بلکل بھی نہیں ہوں۔جس طرح آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کے معیار کے مطابق نہیں ہوں اُسی طرح مجھے بھی لگتا ہے کہ آپ جیسا انسان بھی میرے معیار کے مطابق بلکل بھی نہیں ہے۔
آئندہ مجھے جاہل یا مصیبت کہنے سے پہلے آپ خود پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے گا کہ آپ خود کس طرح کی ذہنیت کے مالک ہے۔اگر میرے بس میں ہوتا تو میں آپ جیسے انسان کو دیکھنا بھی گوارا نا کرتی رباب نے اپنے آنسو صاف کرتے کہا اور وہاں سے چلی گئی کیونکہ وہ نوال کو آتے دیکھ چکی تھی۔رباب نہیں جانتی تھی کہ اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی یا مزید اپنی بےعزتی اسے برداشت نہیں ہوئی تھی۔
اور ابتہاج تو ہکا بکا وہی کھڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
مولوی صاحب آگئے تھے ماریہ کا نکاح ریحان سے ہو گیا تھا اور وہ بہت خوش بھی تھا لیکن ماریہ خاموش تھی۔
نکاح کے بعد اس کے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔ریحان نے بھی ماریہ کو بلانے کی کوشش نہیں کی تھی ریحان محبت میں اس قدر اندھا ہو چکا تھا کہ اسے گھر والوں کی بھی پرواہ نہیں تھی وہ ماریہ کو دیوانوں کی طرح چاہتا تھا۔اور بس اسے کسی طرف حاصل کرنا چاہتا تھا اور آج ماریہ اس کی ہو گئی تھی دونوں اپنی سوچوں میں گھیرے بیٹھے تھے۔
وہ ماریہ کو گھر لے کر جا رہا تھا۔اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اسے لگا تھا کہ اب ماریہ اس دور نہیں جائے گی اور نا ہی کوئی اسے اس سے دور کر سکتا ہے۔
لیکن یہ صرف اس کی سوچ ہی تھی آگے کیا ہونے والا تھا دونوں نہیں جانتے تھے۔
💜 💜 💜 💜
صنان تم اسے پاکستان لے کر آؤ گئے؟ ہیزام نے حیرانگی سے پوچھا۔
اُسے وہاں اکیلا نہیں چھوڑا سکتا صنان نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن صنان اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی تم اسے یہاں لانا چاہتے ہو؟ ہیزام کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیوں صنان ایسا کر رہا ہے۔
اُس کا میرے سوا کوئی نہیں ہے ہیزام
تو پھر نوال اُس کا کیا ہو گا؟ ہیزام نے پوچھا۔
میں نے سوچ لیا ہے کہ میں ساری سچائی گھر والوں لو بتا دوں گا۔
صنان نے کہتے ہی ہیزام کی طرف دیکھا۔
اور تمہیں لگتا ہے کہ نوال تمہیں معاف کر دے گی؟ ہیزام نے الٹا سوال کیا۔
ہیزام جب میں نے کچھ غلط ہی نہیں کیا تو کیوں گھبراؤ؟ اور تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ میں غلط نہیں ہوں تم تو ہر چیز سے واقف ہو صنان نے ہیزام کو دیکھتے کہا۔
جس نے گہرا سانس لیا تھا۔
جناتا ہوں صنان لیکن میں نے اس بارے میں کچھ سوچا ہے ہیزام نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا؟ صنان نے پوچھا تو ہیزام اسے ساری بات بتانے لگا جسے سن کر اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو رہے تھے