58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

کیا کر رہی ہو ڈرامہ کوئین؟ عمیر نے ٹی-وی کا ریموٹ پکڑتے چینل کو تبدیل کرتے دعا کو دیکھتے پوچھا۔
اوہ ہیلو مسٹر ڈرامہ کوئین کیسے کہہ رہے ہو؟ اور کس سے پوچھ کر تم نے چینل تبدل کیا؟ دعا نے دوبارہ عمیر کے ہاتھ سے ریموٹ کھنچتے کہا۔
تم ہو ڈرامہ کوئین اور میں نے اپنی مرضی سے ریموٹ پکڑا ہے کسی میں اتنی ہمت ہے کہ مجھے روک سکے؟ عمیر مے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
تم ہو گئے ڈرامہ کنگ خبر دار اگر مجھے ڈرامہ کوئین کہا تو نانا جان سے تمھاری شکایت لگاؤں گی۔دعا نے گھورتے ہوئے کہا۔
اوہ بچی دادا جان کے پاس جا کر شکایت لگائے گی عمیر نے مزاح اڑانے والے انداز میں دعا کو. دیکھتے کہا۔
تم تمھاری جان لے لوں گی میں دعا نے دانت پیستے کہا۔
اتنے میں دادی جان وہاں آئی
کیا ہو رہا ہے یہاں پر؟ دادی جان نے اپنا چشمہ نیچے کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔
دادی جان یہ کہہ رہی ہے کہ باہر چل کر آئسکریم کھاتے ہیں میں اسے یہی سمجھا رہا تھا کہ اس وقت باہر جانا ٹھیک نہیں ہے۔
عمیر نے دادی جان کو دیکھتے کہا۔
دعا منہ کھولے عمیر کے جھوٹ پر حیران کھڑی تھی۔
اس وقت کوئی بھی باہر نہیں جائے گا اور تم جاؤ جا کر نماز پڑھو کل پہلا روزہ ہے۔توبہ ہے آج کے بچے بھی نا نماز کا خیال ہی نہیں ہے بس دنیا کے کاموں میں مصروف ہیں چلو جاؤ جلدی سے دادی جان نے دعا کو دیکھتے کہا۔
جو منہ بسوڑتے وہاں سے چلی گئی تھی۔
لیکن جانے سے پہلے اس نے عمیر کو گھوری سے ضرور نوازہ تھا۔
اور عمیر بیٹا تم چلو مجھے سٹور روم سے کچھ سامان نکلوانا ہے۔دادی جان کے عمیر کو دیکھتے کہا۔
دادی جام میرا نیا سوٹ خراب ہو جائے گا آپ براق کو کہہ دیں نا عمیر نے اپنے کپڑوں کو دیکھتے کہا۔
چپ کر کے میرے ساتھ چلو ورنہ پوری رات تمہیں سٹور روم میں بند کر دوں گی۔دادی جان نے گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی عمیر بھی نا چاہتے ہوئے دادی جان کے پیچھے چل پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
اس وقت سب لڑکیاں رباب کے کمرے میں موجود تھیں۔سحری میں کچھ ہی ٹائم رہ گیا تھا۔ تو سب نے سوچا سحری کرکے ہی سو جائیں گئی عدن اور نوال تو رباب کو تنگ کرنے کا سرانجام دے رہی تھی اب تو رباب ابتہاج کی طرف سے بھی مطمئن تھی۔اسے لگ رہا تھا سب ٹھیک ہو گیا ہے۔
دعا کی نظر جب زمین پر چلتے چوہے پر پڑی تو اس کی چیخ پورے کمرے میں گونجی تھی۔
اللہ اللہ کیا ہو گیا ہے؟ عدن نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ڈرامائی انداز میں کہا۔دعا بیڈ پر ہی کھڑی ہو گئی تھی باقی سب کی نظریں بھی دعا کے خوفزدہ چہرے پر جمی تھیں۔
آپی وہ دیکھیں چوہا وہ ہماری طرف آرہا ہے۔دعا نے چوہے کی طرف اشارہ کرتے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
کیا؟ چوہا نوال نے چلاتے ہوئے کہا اور رباب کے پیچھے چھپ گئی۔
عدن کی نظر چوہے پر پڑی تو اس کی آنکھیں باہر آگئی چوہا کافی موٹا سا تھا۔
لڑکیوں کیا یہاں ہی بیٹھی رہو گی بھاگو یہاں سے عدن نے کھڑے ہوتے کہا اور سب دروازے کی طرف بھاگی تھیں۔
گھر والے تو ان کی چیخیں سن کر اپنے کمروں سے باہر آگئے تھے۔
کیا ہوا تم سب کو؟ راشد صاحب نے پریشانی سے لڑکیوں کے چہرے کی طرف دیکھتے پوچھا۔
رباب جو جلدی باہر آنے کے چکر میں باہر آرہی تھی اس کا پاؤں مڑا اور گرنے لگی لیکن عین موقعے پر ریحان نے اسے بازو سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا۔
ابتہاج بھی اپنے کمرے سے باہر آگیا تھا بلکہ سب اپنے کمروں سے باہر نکل آئے تھے لڑکیوں کی چیخوں نے سارے گھر والوں کو اپنے کمروں سے باہر نکال دیا تھا۔
ابتہاج نے ریحان اور رباب کو دیکھا تو اس کے ماتھے پر غصے سے بل نمودار ہوئے تھے۔رباب وہاں سے چلی گئی ریحان کی نظر ماریہ کے چہرے پر پڑی لیکن اس نے جلدی سے اپنا چہرہ دوسری جانب موڑ لیا تھا۔لیکن ریحان اسے دیکھ چکا تھااور اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔
ماموں جان اندر ایک موٹا سا چوہا ہے نوال نے راشد صاحب کو دیکھتے کہا۔
تو اس میں اتنا شور کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ رات کا وقت ہے اور تم لوگوں کی آواز سات گھروں تک گئی ہو گی۔صنان نے سنجیدگی سے سب کے چہروں کو دیکھتے کہا۔
ہم کب شور کر رہی تھیں وہ تو چوہے کو دیکھ کر خود ہی ہماری چیخیں ہمارے حلق سے باہر آگئی تھیں۔عدن نے اپنے بھائی کو دیکھتے بےتکی سی دلیل دیتے کہا۔
ریحان اور براق جاؤں دیکھو اندر دادا جان نے کہا۔
دونوں اندر گئے لیکن چوہا تو شاید ان کی چیخے سن کر بھاگ چکا تھا۔
اندر کچھ نہیں ہے چوہے نے لگتا ہے تم لوگوں کو میک اپ کے بغیر دیکھ لیا ہو گا اس لیے بےچارہ بھاگ گیا۔
براق نے افسوس سے لڑکیوں کی شکل کی طرف دیکھتے کہا۔جنہوں نے کھا جانے والی نظروں سے براق کو دیکھا تھا۔
سحری کا وقت ہو گیا ہے اب سحری کے لیے سب آجاؤ دادی جان نے سب کو دیکھتے کہا۔
سب لوگ فریش ہونے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔ ابتہاج ابھی بھی رباب کو دیکھ رہا تھا نا جانے کیوں اسے رباب پر غصہ آرہا تھا جبکہ اس میں اس کی غلطی بھی نہیں تھی۔
رباب کچن ک8 طرف چلی گئی ۔
گھر کے کاموں کے لیے ملازمہ موجود تھی لیکن کھانا وغیرہ گھر کی خواتین خود بناتی تھیں۔
عدن تم اندر جا کر دیکھو مجھے براق کی بات پر بلکل بھی بھروسہ نہیں ہے زوہا نے عدن کو دیکھتے کہا۔
آپی ریحان بھائی کی بات پر تو بھروسہ ہے نا انہوں نے بھی چیک کیا ہے اندر کچھ بھی نہیں ہے چلیں جلدی سے سحری کے لیے آجائیں ورنہ ہماری امیاں کوئی موقع نہیں چھوڑے گی ہماری عزت افزائی کا اور ان کی بات موبائل سے شروع ہو کر موبائل پر ہی ختم ہوتی ہے فضول میں ہمارے موبائل بےچارے ذلیل ہوتے ہیں عدن نے کہا۔
دعا بھی عدن کی بات سے متفق تھی۔
باقی سب بھی اپنے کمروں میں چلی گئی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن صاقب صاحب صنان کو اپنے آفس لے گئے تھے ہیزام اور براق بھی اپنے باپ کے ساتھ آفس جاتے تھے۔
ہیزام آج جلدی گھر واپس آگیا تھا اس کا سرد درد کر رہا تھا اس لیے گھر آگیا تھا۔
کیا ہوا بیٹا؟ آج تم جلدی آفس سے آگئے ہو؟ راشد بیگم نے ہیزام کو صوفے سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹے دیکھا تو پوچھا۔
امی جان میرے سر میں درد تھا اس لیے گھر آگیا۔ہیزام نے آنکھیں کھولتے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
میں نے کتنی بار تمہیں کہا ہے رات سونے کے لیے ہوتی ہے اور تم. پوری رات کام کرتے رہتے ہو اور یقیناً کل رات بھی تم. کام کر رہے ہو گئے کیونکہ تمھاری آنکھیں بھی سرخ ہو رہی ہیں۔راشدہ بیگم نے ہیزام کی سرخ آنکھیں دیکھتے کہا۔
امی جان آج پہلا روزہ ہے تو آہستہ آہستہ روٹین بن جائے گی ہیزام نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
بیٹا جی آپ کو اپنی نیند پوری کرنی چاہیے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔راشدہ بیگم نے کہا۔اوکے امی جان آئندہ میں خیال رکھوں گا
لیکن ابھی میں تھوڑا آرام کر لوں ہیزام نے کہا۔
ہاں بلکل لیکن مجھے تم سے ایک ضروری بات بھی کرنی تھی۔
راشدہ بیگم نے جلدی سے کہا۔
جی امی کیا بات ہے؟ ہیزام نے پوچھا۔
ابو جان تمھارے اور ماریہ کے رشتے کی بات کر رہے تھے بیٹا مجھے تو سمجھ نہیں آئی لیکن ابھی صرف اُنہوں نے بات کی ہے۔
راشدہ نے ہیزام کو. دیکھتے کہا۔
کیا؟ میری شادی کی بات آپ لوگ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے خود طے کر سکتے ہو؟ ہیزام نے تھوڑا غصے سے پوچھا۔
بیٹا ابھی صرف بات ہوئی ہے۔طے کچھ بھی نہیں ہوا۔راشدہ نے جلدی سے کہا۔ماریہ جو یہاں سے گزر رہی تھی راشدہ کی بات سن کر پریشان ہو گئی ریحان نےباسے عجیب مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔
امی جان میں اس معاملے کو خود ہینڈل کر لوں گا آپ پریشان مت ہوں اور ابھی میں اپنے کمرے میں کا رہا ہوں ہیزام نے کہا۔
ہاں جاؤ تم اپنے کمرے میں آرام کرو راشدہ نے جلدی سے کہا۔
ہیزام وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے لی طرف جا رہا تھا جب راستے میں اسے عدن نظر آئی جو موبائل پر شاید اپنی کسی فرینڈ سے بات کر رہی تھی۔لیکن ہیزام کو دیکھتے ہی اس نے اپنے لہجے کو تبدیل کر لیا تھا۔
اب ایسی بھی بات نہیں ہے آپ خود اچھے ہیں اس لیے آپ کو سب اچھے لگتے ہیں عدن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہیزام کے کان کھڑے ہوئے تھے اسے اتنا تو یقین ہو گیا تھا کہ عدن کسی لڑکے سے بات کر رہی ہے۔اس کا پہلے ہی دماغ گھوما ہوا تھا اب عدن کی بات سن کر مزید گھوم گیا تھا۔
چلیں ٹھیک ہے آپ اپنا بہت خیال رکھیے گا اللہ حافظ پھر بات ہو گی۔ عدن نے کہتے ہی موبائل بند کر دیا۔
کس سے بات کر رہی تھی؟ ہیزام نے سیدھا مدعے کی بات پر آتے پوچھا۔
میں تمہیں کیوں بتاؤ؟ عدن نے ایک آبرو اچکاتے ہیزام لو. دیکھتے کہا۔
عدن میں نے پوچھا کس سے بات کر رہی تھی؟ ہیزام نے سنجیدگی سے اپنا سوال دوبارہ دہرایا۔
میں آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں عدن کہہ کر وہاں بسے جانے لگی جب ہیزام نے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑ لیا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ہیزام میرا موبائل واپس کرو۔تم میرا موبائل چیک کرو گئے شرم آنی چاہیے عدن نے غصے سے ہیزام کو دیکھتے کہا۔
جو ہنس پڑا تھا۔کس نے کہا کہ میں تمھارا موبائل چیک کرنے لگا ہوں؟ ہیزام نے عدن کو. دیکھتے پوچھا جس نے ناسمجھی سے ہیزام کو دیکھا تھا۔
لیکن ہیزام کی اگلی حرکت پر حیرانگی سے اس کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں۔
ہیزام نے پورا زور لگاتے عدن کا موبائل سامنے دیوار پر دے مارا تھا کو چکنا چور ہوتے زمین پر گر پڑا تھا۔
اب کرو بات ہیزام نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
عدن ابھی بھی وہی کھڑی اپنے موبائل کو دیکھ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ابتہاج واپس جانے کی تیاری میں لگا ہوا تھا تین دن بعد اس نے واپس لندن چلے جانا تھا لیکن ابھی اس نے رباب سے بات کرنی تھی لیکن اسے پوری امید تھی کہ وہ مان جائے گی۔
اس لیے اس رباب کو اس کے ٹیریس پر بلایا تھا۔
رباب دیکھو میں نے پہلے ہی سوچا تھا کہ میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لندن لے جاؤں گا۔اور اب صورتحال کچھ ایسی بن گئی ہے کہ میرا واپس جانا ضروری ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جاؤں ہم لوگ عید سے پہلے واپس آجائیں گئے۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں یہاں چھوڑ جاؤ کیونکہ ہمارے نکاح کو ابھی ایک دن ہوا اور اور میرے پیچھے لوگ باتیں کریں کیونکہ لوگوں کا کیا ہے اُن کو تو بس چھوٹی سی بات چاہیے ہوتی ہے اور اُسے اپنے مطابق ڈھال کر دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
تو میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ آجاؤ اگر تمہیں مناسب لگے تو لیکن اگر تم یہی رہنا چاہتی ہو تو پھر بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ابتہاج نے اپنی باتوں کے جال میں رباب کو پھنسا لیا تھا اور وہ پھنس بھی گئی تھی۔
میں آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں رباب نے ابتہاج کی پوری بات سننے کے بعد جواب دیا ابتہاج کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
شکریہ مجھ پت یقین کرنے کے لیے ابتہاج نے گہرے لہجے میں رباب کو دیکھتے کہا۔
وہ مجھے کچن میں کچھ کام ہے میں جاؤں رباب نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں موڑوتے پوچھا۔
ہاں بلکل تم جاؤ ابتہاج نے جلدی سے کہا۔رباب وہاں سے چلی گئی تھی۔
تم بہت بھولی ہو مسز ابتہاج نے باہر سڑک پر چلتی گاڑیوں کو دیکھتے مسکرا کر کہا اب وہ ہیزام کی طرف سے بھی مطمئن تھا اگر اب ہیزام رباب سے بات کرتا بھی تو رباب تو ابتہاج کے ساتھ جانے کے لیے راضی ہو گئی تھی تو اب کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
💜 💜 💜 💜
نوال مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان جو بھی غلط فہمیاں ہیں اُن کو دور کرنا چاہیے صنان نے نوال کو دیکھتے کہا۔
جو تھوڑی دیر پہلے صاقب صاحب کے ساتھ گھر واپس آگیا تھا اس نے نوال کو سامنے آتے دیکھا تو بات کرنے کا سوچا۔
کیسی غلط فہمی؟ نوال نے پوچھا۔
دیکھو نوال پہلے تم میری آرام سے بات سن لینا پھر جواب دینا۔
میرا شوق تھا باہر جا کر پڑھائی کرنا لیکن جب دادی جان نے یہ شرط رکھی کہ تم سے نکاح کیے بغیر میں باہر نہیں جا سکتا تو اُن کی اس بات نے مجھے بہت غصہ دلایا تھا۔
اگر اُن کو ایسا لگتا تھا کہ تمھارے ساتھ نکاح کے بعد میں کسی اور سے نکاح نہیں کروں گا تو یہ اُن کی غلط فہمی تھی کیونکہ اگر میں نکاح کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں مجھے کوئی روک نہیں سکتا لیکن بات یہ ہے مجھے اُس وقت غصہ تھا بلکہ سب پر تھا۔کیونکہ سب کو میرے نکاح کی پڑی تھی۔
اور میں اگر سچ کہوں تو میں نے تمہیں اپنی بیوی کے روپ میں کبھی نہیں سوچا تھا۔لیکن تم مجھے بری بھی نہیں لگتی تھی تو نکاح کے بعد لندن جانے سے پہلے میں نے تمہیں جو کچھ بھی کہا وہ غصے میں کہا تھا۔میں جانتا ہوں کہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ کہ میرے اُن الفاظ نے تمہیں بہت تکلیف دی لیکن میرا مقصد تمھاری دل آزاری بلکل بھی نہیں تھا۔
تم یقین نہیں کرو گی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جس میں مجھے اپنے کہے گئے الفاظ کا پچھتاوا نا ہوا ہو میں سچ میں بہت شرمندہ ہوں صنان سنجیدگی سے نوال کو دیکھتے کہہ رہا تھا۔
کیا تم نے دوسری شادی کی ہے صنان؟ نوال کے سوال نے کچھ پل کے لیے صنان کو خاموش کروا دیا تھا۔
تم اس طرح کا سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟ صنان نے سنبھلتے ہوئے پوچھا۔
تم نے خود ہی کہا کہ میرے ساتھ ہوا نکاح تمہیں دوسرا نکاح کرنے سے روک نہیں سکتا تو اس کا یہی مطلب ہوا۔نوال نے سنجیدگی سے کہا اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا وہ کچھ بھی ایسا صنان کی زبان سے نہیں سننا چاہتی تھی جو اس کے دماغ میں آرہا تھا۔
میں نے ایک مثال دی ہے نوال جیسی دادی جان کی سوچ تھی کہ اگر وہ میرا نکاح کر دیں گی تو میں کسی دوسری لڑکی کی طرف نہیں دیکھوں گا تو یہ سوچ اُن کی غلط تھی اگر میں نے باہر کہی منہ مارنا بھی ہو گا تو اگر میرا نکاح بھی ہوا ہو تو میں پھر بھی باز نہیں آؤں گا۔
اور نوال میں یہ بھی مانتا ہوں کہ پہلے کبھی میں نے تمھارے بارے میں بلکل بھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ تم میری بیوی بنو گی لیکن اب میں نہیں جانتا کہ کب تم میرے دل میں آ بسی شاید یہ ہمارے نکاح کی طاقت ہے مجھے نہیں معلوم لیکن میں بہت پہلے سے جب تم میرے سامنے بھی نہیں تھی تو میں تمھاری محبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔صنان نے گہرا سانس لیتے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔
مجھے تمھاری باتوں پر یقین کرنا چاہیے یا نہیں وہ میں بعد میں سوچ کر بتاؤں گی۔نوال نے سنبھلتے ہوئے صنان کو دیکھتے کہا جبکہ دل تو اس کا صنان کی بات سن کر خوش ہو گیا تھا۔
نوال کہتے ہی وہاں سے چلی گئی۔
کیا لڑکی ہے یہ صنان نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔اسے نوال سے اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی۔لیکن وہ نوال تھی وہی سب کرتے تھی جس کے بارے میں کسی نے سوچا نہیں ہوتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ماما آج افطاری میں کیا کچھ بنے گا؟ دعا نے سکینہ بیگم کو دیکھتے پوچھا۔
بیٹا جی آپ نے نماز پڑھ لی ہے؟ سکینہ بیگم نے دعا کو دیکھتے پوچھا۔
وہ ماما میں اپنے کمرے میں نماز پڑھنے جا رہی تھی راستے میں کچن آتا ہے تو میں نے سوچا آپ سے پوچھ لوں دعا نے مسکراتے پوچھا۔
پہلے نماز پڑھ کر آؤ پھر تمہیں آرام سے بتاؤ گی کہ آج کیا کچھ بنے گا۔
سکینہ نے مسکراتے کہا۔
رباب مسکرا پڑی تھی دعا نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور کچن سے نکل گئی۔
ایک مہینہ ہوتا ہے رمضان کا اُس میں بھی یہ لوگ عبادت نہیں کر سکتے سکینہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔رباب سکینہ کی بات سن کر ہنس پڑی تھی۔
پھوپھو جان میں نے سب کچھ تیار کر دیا ہے میں بھی نماز پڑھ کر آتی ہوں پھر آکر باقی کا کام کرتی ہوں رباب نے سکینہ کو دیکھتے کہا۔
ہاں بیٹا تم جاؤں آرام سے آنا میں دیکھ لوں گی سکینہ بیگم نے کہا۔تو رباب وہاں سے چلی گئی۔
💜💜💜💜
رباب عدن کے کمرے آئی تھی جو موبائل اپنے بیڈ پر سامنے رکھے آنسو بہا رہی تھی۔
عدن کیا ہوا تمہیں رو کیوں رہی ہو؟ رباب جلدی سے عدن کے پاس آئی اور پوچھا۔
عدن بس روئی جا رہی تھی اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ناک بھی رونے سے سرخ ہو رہی تھی۔
عدن یہ تمھارے موبائل کو کیا ہوا؟ رباب نے موبائل کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا اور اب اسے ساری بات سمجھ میں آئی تھی رباب اپنے موبائل کے معاملے میں بہت پوزیسو تھی۔
عدن موبائل کی وجہ سے تم نے رو کر اپنی ایسی حالت بنائی ہوئی ہے؟ تمھارا روزاہ ہے اور تم بیٹھی بس روتی جا رہی ہو
موبائل اور آجائیں گا۔رباب نے پیار سے کہا۔
اس میں میری بہت سی اہم چیزیں تھیں۔میری تصاویر سب کچھ چلی گئی اب واپس کیسے آئیں گئی۔عدن نے کہتے ہی اب اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا تھا۔
اللہ لڑکی کیا کر رہی ہو رونا تو بند کرو رباب نے پریشانی سے کہا۔
مجھے یہی موبائل چاہیے مجھے نہیں معلوم مجھے یہی موبائل اپنا واپس چاہیے عدن نے روتے ہوئے کہا۔
لیکن تمھارا موبائل ٹوٹا کیسے؟ رباب نے پوچھا۔
ہیزام نے توڑ دیا میرا موبائل عدن نے ہچکی لیتے کہا۔
لیکن کیوں؟ رباب نے حیرانگی سے پوچھا۔
مجھے نہیں معلوم عدن کہتے ہی پھر سے رونے لگی تھی۔
رباب وہاں سے اٹھی اور ہیزام کے کمرے کی طرف گئی۔دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوئی ہیزام فون پر بات کر رہا تھا۔رباب کو دیکھتے ہی اس نے موبائل بند کیا اور رباب کی طرف دیکھا۔
اچھا ہوا تم یہاں خود ہی آگئی مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔
ہیزام نے رباب کو دیکھتے پوچھا۔
بھائی عدن کا موبائل آپ نے توڑا ہے؟ رباب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ ہیزام نے پوچھا۔
بھائی آپ جانتے ہیں کہ وہ اپنے موبائل کے معاملے میں کتنی ٹچی ہے اب وہ کمرے میں بیٹھی بس روتی جا رہی ہے چپ بھی نہیں ہو رہی اُس کا روزہ بھی ہے اُس کی طبعیت خراب نا ہو جائے رباب نے پریشانی سے کہا۔
عدن کے رونے کا سن کر ہیزام بھی پریشان ہو گیا تھا۔
تم پریشان مت ہو میں اُسے دیکھتا ہوں ہیزام نے سنجیدگی سے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔