58.2K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

مجبوراً دعا کو تیار ہونا پڑا تھا کیونکہ اس کی بہن کا ولیمہ تھا تو اپنی ضد میں اپنی بہن کے ولیمے کو اگنور نہیں کر سکتی تھی۔
دعا نے گڑیا کو بھی تیار کر دیا تھا جو سرخ رنگ کے فراق میں بہت پیاری لگ رہی ہے تھی۔
حاکم نے بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنی تھی۔
دعا گڑیا کو اٹھائے باہر آئی تو حاکم جو دونوں کا انتظار کر رہا تھا دعا کو دیکھتے ہی پلکیں جھپکانا بھول گیا۔دعا نے فل میک اپ کیا تھا پتہ نہیں کیوں شاید وہ حاکم کو اپنی خوبصورتی سے متاثر کرنا چاہتی تھی یا اُسے تنگ کرنا چاہتی تھی۔
بعد میں مجھے گھور لیجیے گا ابھی گڑیا کو پکڑ لیں ناجانے کب آپ پر جن آجائے اور پھر سے مجھے ڈانٹنے لگ جائیں دعا نے منہ میں بڑبڑاتے کہا تو حاکم نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
کیا کہا تم نے؟ حاکم نے گڑیا کو پکڑتے سنجیدگی سے پوچھا۔
سن تو آپ نے لیا ہے پھر دوبارہ کیوں پوچھ رہیں ہیں؟ اب جلدی چلیں اب دیر نہیں ہو رہی؟ دعا نے کہا اور اپنا بیگ اٹھائے باہر چلی گئی۔
حاکم کو تو آج دعا کے تیور ہی سمجھ ہی نہیں آ رہے تھے۔
میری بیوی تو بھیگی بلی سے شیرنی بن گئی ہے۔حاکم نے دل میں سوچا اور خود بھی باہر چلا گیا۔
💜💜💜💜
تم کیا بول رہے تھے؟ کیا کرنے والے ہو تم؟ غزالہ نے زوہیب کو دیکھتے پوچھا۔
موم کل دھماکا ہونے والا ہے۔زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا۔
کیا مطلب صاف صاف لفظوں میں بتاؤ غزالہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
موم یار سرپرائز ہے آپ کل کے ڈرامے کے لیے بس تیار رہنا۔
کسی اور کو مزہ آئے یا نا آئے ہمیں ضرور آئے گا۔زوہیب نے غزالہ کو دیکھتے کہا۔
چلو کل بھی دیکھ لیتے ہیں۔کیا کرنے والے ہو تم غزالہ نے کہا تو اتنے میں ماہا وہاں آئی۔
موم میں نے نانا جان سے بات بھی کی تھی کہ میں ہیزام کو پسند کرتی ہوں اور اُس سے شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن وہ پھر ہنس ہنس کر اُس عدن کی بچی سے بات کر رہا ہوتا ہے اور جب میں بات کرتی ہوں تو ایسے سیریس ہو جاتا جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔
مجھے ہیزام سے ہی شادی کرنی ہے میں اُسے پسند کرتی ہوں اگر اُس نے عدن کے ساتھ شادی کی تو اُس چڑیل کی میں جان لے لوں گی۔ماہا نے غصے سے اپنی ماں کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔
ارے ایسے کیسے ہیزام کی شادی اُس عدن سے ہو گی؟ میں بھی دیکھتی ہوں کیسے وہ اُس سے شادی کرتا۔بس مجھے ابو جان کے فیصلے کا انتظار ہے اگر انہوں نے منع کر دیا تو دیکھنا کیسا تماشا لگاتی ہوں میں غزالہ نے غصے سے کہا تو ماہا کو تھوڑا حوصلہ ہوا تھا۔
آپ نانا جان سے بات کریں گی نا؟ ماہا نے جلدی سے پوچھا۔
بلکل کروں گی بلکہ ہاں کروا کر ہی دم لوں گی تم بس دیکھتی جاؤ اور تیار ہو جاؤ حاکم کے آتے ہی حویلی کے لیے نکلنا ہے غزالہ نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
ماہا اور زوہیب بھی اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
چل عمیر لگ جا کام پر پتہ نہیں اب یہ پھپھو اور ان کے دونوں بچے کیا کرنے والے ہیں ہائے ہیزام بھائی چڑیل آپ کے پلے پڑنے والی ہے۔عمیر جو غزالہ اور ماہا کی باتیں سن چکا تھا اس نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
چلو یہ سیڈ خوشخبری میں بھائی کو بھی دے دیتا ہوں ویسے غزالہ پھپھو سہی پھپھو ہونے کا کام سر انجام دے رہی ہیں۔عمیر نے خود سے کہا اور ہیزام کے کمرے کی طرف چلا گیا۔
عمیر نے ابھی دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ کھل گیا اور عمیر سیدھا ہیزام کے سینے سے جا ٹکریا۔
عمیر نے پہلے حیرانگی سے پھر شرما کر ہیزام کی طرف دیکھا جو حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
تمھارا دماغ ٹھیک ہے؟ یا تمھاری دلچسپی لڑکوں میں ہونے لگی ہے؟ ہیزام نے گھورتے ہوئے کہا۔
استغفراللہ کیسی باتیں کررہے ہیں بھائی آپ میں تو سوچ رہا تھا اگر یہ فلم کا سین ہوتا سامنے کوئی حسین لڑکی ہوتی اور سیدھی آپ سے ٹکراتی واہ کیا سین ہوتا۔عمیر نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
شٹ اپ عمیر اور فلمیں کم دیکھا کرو ہیزام نے سنجیدگی سے کہا۔
اوکے سوری بھائی مجھے نا آپ کو سیڈ خوشخبری دینی تھی۔عمیر نے جلدی سے دروازہ بند کرتے ہیزام کو دیکھتے کہا۔
یہ سیڈ خوشخبری میں نے پہلی بار سنا ہے یہ کیا ہوتا ہے؟ ہیزام نے حیرانگی سے پوچھا۔
بھائی آپ کے لیے سیڈ اور باقی سب کے لیے خوشخبری تو ہوئی نا سیڈ خوشخبری عمیر نے بتیسی دکھاتے کہا۔
عمیر تم اتنا فضول کیسے بول لیتے ہو یار اگر کوئی کام کی بات ہے تو کرو ورنہ مجھے بہت کام ہیں۔
ہیزام نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے کہا۔
جی بھائی ایک چڑیل آپ کے پلے پڑنے والی ہے میرا مطلب کے اُس سے آپ کی شادی ہونے والی ہے عمیر نے رازداری سے کہا۔
ہیزام کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔تم عدن کو چڑیل کہہ رہے ہو؟ ہیزام نے غصے سے پوچھا۔
ہیں؟ عدن کہاں سے آگئی؟
ایک منٹ آپ سچ میں عدن سے شادی کرنے والے ہو مجھے لگا ماہا کو غلط فہمی ہوئی ہے عمیر نے جلدی سے کہا۔
کیا مطلب؟ تم عدن کی بات نہیں کر رہے؟ ہیزام نے ناسمجھی سے عمیر کو دیکھتے پوچھا ارے بھائی آپ کے خلاف سازش ہو رہی ہے جیسے ہمارے پرائم منسٹر کے خلاف ہوئی بےچارہ عمیر نے افسوس سے کہا۔
عمیر اب میرا صبر جواب دے رہا ہے۔ہیزام نے عمیر کو گھورتے ہوئے کہا۔
اچھا اچھا بھائی بتا رہا ہوں وہ نا ماہا کہہ رہی تھی کہ وہ صرف آپ سے شادی کرے گی۔اور اُس نے دادا جان سے بھی بات کی ہے اگر اُس کی شادی آپ سے نا ہوئی تو وہ عدن کو جان سے مار دے گی کیونکہ اُسے لگتا ہے آپ عدن کو پسند کرتے ہو ویسے یہ سچ بھی ہے آگے آپ خود دیکھ لینا مجھے اور بھی بہت کچھ معلوم کروانا ہے میں چلتا ہوں عمیر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے ہیزام کو وہ پریشانی میں ڈال گیا تھا۔
تمھارا کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا۔ہیزام نے کہا۔
💜 💜 💜 💜
کیسا ہے میرا بچہ؟ دادی جان نے پیار سے حاکم کا ماتھا چومتے ہوئے پوچھا۔
یہ لوگ ابھی تھوڑی دیر پہلے پہنچے تھے۔
میں ٹھیک ہوں نانو آپ کیسی ہیں؟ حاکم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
میں بھی ٹھیک ہوں اور تو لگتا ہے روزے رکھ کر کچھ زیادہ ہی کمزور ہو گئی ہے اب یہاں آگئی نا تو میں تجھے دیسی گھی کھلاؤ گی اور تجھے موٹا کر دوں گی۔ دادی جان نے پیار سے دعا کے سر پر بوسہ دیتے کہا۔
نہیں نانو آپکو پتہ ہے نا مجھے موٹا ہونا اچھا نہیں لگتا اور دیسی گھی تو مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا دعا نے منہ بسوڑتے کہا۔
یہاں آتے ہی اس کی ٹون تبدیل ہو گئی تھی کیونکہ وہ اپنی وجہ سے اپنے گھر والوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
دعا کی بات ہر جہانگیر اور سکینہ بیگم ہنس پڑے تھے باقی سب بھی یہی موجود تھے اور دونوں سے مل چکے تھے۔
ارے واہ گڑیا نے تو سیم ماما جیسا سوٹ پہنا ہے سکینہ بیگم نے پیار سے گڑیا کے دونوں پھولے ہوئے گال کو چومتے کہا۔
جی موم حاکم ہم دونوں کے لیے بہت پیار سے لائے تھے میں نے تو ان کو کہا کہ ہم. دونوں کے لیے سیم سوٹ لانا بےچارہ پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈ کر لائے تھے۔ دعا نے اپنی ماں دیکھتے مسکرا کر کہا۔
حاکم تو دعا کو دیکھ کر جتنا حیران ہوتا اتنا ہی کم تھا۔
اپنی ماں سے بھی مل لو سگی ماں ہوں تمھاری غزالہ نے حاکم کے پاس آتے کہا۔
اسے دعا کی بات بلکل بھی پسند نہیں آئی تھی کہ ان کا بیٹا دعا کا اتنا خیال رکھ رہا ہے لیکن وہ سچائی سے ابھی ناواقف تھیں۔
حاکم نے کچھ نہیں کہا اور اپنی ماں سے ملا اب تم لوگوں کو میں جلدی واپس جانے نہیں دوں گی سمجھے دادی جان نے اپنے تختے پر بیٹھتے کہا۔
جس پر حاکم مسکرا پڑا جیسی آپ کی مرضی حاکم نے کہا اور ایک نظر دعا کی طرف دیکھا جو اسے فل اگنور کر رہی تھی۔
چلو سب لوگ تیار ہو جاؤں پھر حویلی کے لیے نکلنا ہے سب تم لوگوں کا ہی انتظار کر رہے تھے راحیلہ بیگم نے کہا تو سب لوگ اپنے کمروں میں چلے گئے دعا بھی باقی سب ملنے چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
واہ یار کتنی بڑی حویلی ہے جب میں چھوٹا تھا تو یہاں آیا تھا۔عمیر نے حویلی کو دیکھتے کہا۔براق بھی اس کے پاس ہی کھڑا تھا۔
حویلی تو سچ میں بہت بڑی اور خوبصورت بھی ہے اور میں تو یہاں کا سب سے اچھا کمرہ لوں گا براق نے جلدی سے کہا۔اور سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا گیا۔
یہاں کے سارے کمرے ہی خوبصورت ہیں میرے بھائی عمیر نے پیچھے ہانگتے ہوئے کہا۔
اتنے میں دعا اور حاکم بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔عمیر دعا سے پہلے نہیں ملا تھا۔
واہ بڑے بڑے لوگ آئے ہیں عمیر نے دونوں کو دیکھتے کہا۔
اور حاکم سے ملا بھائی بس آپ رہ گئے ہیں عمیر نے حاکم کو دیکھتے کہا۔
حاکم نے ناسمجھی سے عمیر کو دیکھا۔
بھائی یار عیدی دے دو عمیر نے مسکراتے کہا۔
حاکم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اس نے عمیر کو عیدی دی۔
تھیک یو سو مچ بھائی عمیر نے خوشی سے کہا۔حاکم عمیر کے بال بکھیرتے وہاں سے چلا گیا تھا۔
کیسی ہو؟ عمیر نے اپنی جیب میں پیسے رکھتے پوچھا۔
کیسی لگ رہی ہوں؟ دعا نے الٹا سوال کیا۔
مجھے کیا سچ بولنا ہے؟ عمیر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
دعا نے نظریں چرائی تھیں۔
تو مجھے جھوٹ بولنا ہے سو مس دعا مجھے تو آپ اچھی بھلی لگ رہی ہو اور لگتا ہے حاکم بھائی نے کچھ زیادہ ہی اچھے سے تمہیں رکھا ہوا ہے عمیر نے کہا تو دعا نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
تم سے تو بات کرنا ہی بیکار ہے دعا نے کہا اور وہاں سے جانے لگی۔
ہاں کیونکہ سچ تم سن نہیں سکتی عمیر کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
عجیب انسان ہے پتہ نہیں اس نے جن چھوڑے ہوتے ہیں جو اسے ساری خبریں دیتے ہیں۔دعا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
سب لوگ باری باری یہاں آرہے تھے۔
بڑوں نے تو صاف منع کر دیا تھا کہ ولیمے سے پہلے ابتہاج اور صنان اپنی بیویوں سے نہیں ملیں گئے بلکہ اب ولیمے پر ہی ان دونوں کو دیکھیں گئے۔دونوں اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے اس لیے بڑوں کی بات ماننی پڑی۔
پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا خاور صاحب کے پوتے اور نواسے کی شادی تھی تو کیسے نا حویلی کو سجاتے۔
💜 💜 💜 💜
رات تک سب لوگ حویلی آگئے تھے۔رات کا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔اور اب سب اپنے کمروں میں تھکے ہارے لیٹے تھے۔
دعا اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو حاکم بیڈ پر بیٹا کسی سوچ میں غرق تھا۔گڑیا سو چکی تھی۔
تم نے گھر والوں سے جھوٹ کیوں بولا حاکم نے سنجیدگی سے دعا کو دیکھتے پوچھا۔
کون سا جھوٹ؟ دعا نے ناسمجھی سے حاکم کو دیکھتے پوچھا۔
یہی جھوٹ کہ ہم دونوں اس نکاح سے بہت خوش ہیں؟ حاکم نے کہا تو دعا اس کی بات پر ہنس پڑی تھی۔
بہرحال ایسا میں نے کچھ نہیں کہا اور دوسری بات میری زبان میری مرضی میں جو کچھ مرضی بولوں دعا نے کندھے اچکاتے کہا۔
تم کچھ زیادہ ہی بدتمیز نہیں ہو گئی؟ حاکم نے دعا کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
واہ شکر ہے آپ کو پتہ چل گیا مسٹر حاکم شاید آپ کو اب پتہ چلا ہے لیکن میں بہت بدتمیز ہوں آپ کو اب اندازہ ہوا ہے دعا نے کہا اور الماری سے نائٹ سوٹ نکال کر چینج کرنے چلی گئی۔
کچھ ہی دن میں میری بیوی تو بہت زیادہ ہی بدل گئی ہے۔حاکم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور کتاب کھول کر پڑھنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن سب لوگ تیاریوں میں مصروف تھے۔پارلر والیوں نے حویلی آنا تھا اور وہ نوال اور رباب کو تیار کر رہی تھیں۔ابتہاج تو بہت بےچین تھا اور رباب کو دیکھنا چاہتا تھا جو اسے کل سے نظر نہیں آئی تھی۔
کسے تلاش کر رہے ہیں آپ؟ ماہا نے ہیزام کے سامنے آتے مسکرا کر پوچھا۔
جس نے سرخ رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا لیکن اس کی شرٹ گھٹنوں تک تھی گہرے گلے اور فل میک اپ میں اس وقت وہ ہیزام کے سامنے کھڑی تھی۔
تمہیں اس سے مطلب؟ ہیزام نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
مطلب تو بہت سارے ہیں لیکن تم پورے نہیں کرتے ماہا نے سرد آہ بڑھتے ہوئے کہا۔
ہیزام نے شلوار سوٹ کے ساتھ واسکٹ پہنی تھی۔
وہ کیا کہہ رہی تھی تمہیں؟ عدن نے ہیزام کے سامنے آتے گھورتے ہوئے پوچھا۔
ما شاء اللہ عدن کو.دیکھتے ہی ہیزام کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔جس نے پنک کلر کی لانگ میکسی پہنی ہوئی تھی۔
عدن نے حیرانگی سے ہیزام کو دیکھا۔
اپنی نظر اتار لینا ہیزام نے گہرے لہجے میں عدن کو دیکھتے کہا۔
بات کو تبدل کرنے کی کوشش مت کرو۔کیا کہہ رہی تھی وہ چڑیل؟ عدن نے غصے سے ہیزام کو دیکھتے پوچھا۔
وہ کہہ رہی تھی کہ مجھ سے شادی کر لو ہیزام نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اس کمینی کی تو میں جان لے لوں گی عدن نے کہا اور غصے سے ماہا کی طرف جانے لگی۔
اُف جذباتی لڑکی مزاح کر رہا ہوں ہیزام نے عدن کو بازو سے پکڑ کر روکتے ہوئے کہا۔
اس طرح کا مزاح دوبارہ میرے ساتھ مت کرنا اور شکریہ میری تعریف کرنے کا آخری بات عدن نے مسکرا کر کہی اور وہاں سے بھاگ گئی۔ہیزام کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔صنان نے بلیک تھری پیس سوٹ پہنا تھا لیکن اس نے کوٹ کی جگہ واسکٹ پہنی تھی سیم اسی طرح کی ڈریسنگ ابتہاج نے کی تھی لیکن اُس کی واسکٹ کا کلر ڈارک گرین تھا کیونکہ رباب کا سوٹ بھی سکن اور گرین کلر کا تھا۔
دونوں بہت خوبصورت لگ رہے تھے اور مہمانوں سے مل رہے تھے دادا جان بہت خوش تھے۔
تم نے تو کہا تھا تماشہ ہو گا ابھی تک تو ایسا کچھ نہیں ہوا غزالہ نے زوہیب کو دیکھتے پوچھا۔
موم یار تھوڑا تو صبر کریں ابھی نوال نہیں آئی زوہیب نے ہنستے ہوئے کہا۔غزالہ خاموش ہو. گئی تھی۔
زوہا بیٹا جاؤ دیکھو رباب تیار ہو گئی ہے؟ اور ماریہ بیٹا تم نوال کو دیکھنا نمرہ بیگم نے پیار سے دونوں کو. دیکھتے کہا۔جو کھڑی باتیں کر رہی تھی۔
جی ہم دیکھتے ہیں زوہا نے کہا اور دونوں وہاں سے چلی گئی۔
زوہا رباب کے کمرے میں چلی گئی اور ماریہ نوال کے کمرے کی طرف جا ہی رہی تھی جب کسی نے اس کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھنچا۔
اس کی چوڑیوں کی آواز وہاں گونجی تھی۔
تمہیں سکون نہیں ہے ہمیشہ مجھے ڈرا دیتے ہو ماریہ نے سامنے ریحان کو دیکھا تو دانت پیستے پوچھا۔
سکون ہی تو نہیں ہے مسز ویسے تم نے قسم کھائی ہے مجھے تڑپانے کی ریحان نے گہرے لہجے میں ماریہ کے ہونٹوں کو.دیکھتے کہا۔
کیا مطلب؟ ماریہ نے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات لاتے پوچھا۔
ریحان ہلکا سا مسکرایا اور بنا ماریہ کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر جھک کر ماریہ کے ہونٹوں کو ہلکا سا چھوا۔
ماریہ کی آنکھیں باہر آگئی تھیں۔ریحان نے ماریہ کا چہرہ دیکھا تو ہنس پڑا۔
اس نے جھک کر باری باری ماریہ کی دونوں گال ہر بوسہ دیا تھا۔بہت پیاری لگ رہی ہو مسز ریحان نے مسکراہٹ دباتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زوہیب جو وہاں سے گزر رہا تھا اس نے دونوں کی تصویر لی اور چپ کر کے وہاں سے نکل گیا۔
واہ اب تو اور زیادہ مزہ آئے گا زوہیب نے دل میں سوچا تھا۔
ماریہ تھوڑی دیر بعد ہوش میں آئی اور اس نے ارد گرد دیکھا۔پھر گہرا سانس لیتے نوال کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
دو سٹیج بنوائے گئے تھے۔پہلے رباب وہاں آئی تھی۔ابتہاج تو رباب کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا۔جس کے چہرے پر گھبراہٹ بھی تھی اس کے دائیں جانب زوہا اور بائیں جانب عدن چلتی آرہی تھیں۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ سوٹ اس پر اس قدر جچے گا ابتہاج نے رباب کو دیکھتے دل میں سوچا تھا۔
اتنے میں رباب سٹیج کے پاس پہنچ گئی تھی۔ابتہاج نے رباب کے آگے ہاتھ بڑھایا جس نے تھوڑا جھجکتے ہوئے تھام لیا تھا۔
دادی جان تو اپنے نواسے کے صدقے واری جا رہی تھیں۔
تھوڑی دیر بعد نوال تو صنان کی بانہوں میں بانہیں ڈالے وہاں آئی تھی اُن دونوں کو دیکھتے ہی عمیر اور براق نے ہوٹنگ کی تھی۔
وہاں پر موجود مہمان دونوں جوڑیوں پر ناز کر رہے تھے جو ایک دوسرے کے لیے بلکل پرفیکٹ تھے۔
💜 💜 💜 💜
تم نے بہت تنگ کیا ہے مجھے مسز ابتہاج نے جھک کر رباب کے کان کے پاس کہا۔
میں نے کیا کیا؟ رباب نے حیرانگی سے پوچھا۔
وہ تمہیں میں روم میں جا کر بتاؤں گا۔ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔تو رباب نے اپنا حلق تر کیا تھا۔
ابتہاج رباب کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرا پڑا تھا۔
دوسری جانب سٹیج پر بیٹھی بلیک کلر کی ساڑھی میں نوال ہر ایک کی آنکھ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔صنان کی نظریں اپنی خوبصورت بیوی سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔
سب لوگ خوش تھے جب وہاں بپت زائشہ کی آواز گونجی۔
صنان!!!! زائشہ کی آواز نے وہاں بیٹھے ہر انسان کو اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔
نوال کے ساتھ صنان نے بھی سامنے کھڑی زائشہ کو ماتھے پر تیور لیے دیکھا تھا۔
یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟ صنان نے پاس کھڑے ہیزام سے پوچھا جو خود زائشہ کو اس وقت یہاں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔
باقی سب کے چہروں پر الجھن نمایا تھی۔لیکن باتطکو سمجھ گیا تھا۔لیکن ایک بات کی حیرت تھی کہ اس وقت یہاں پر زوہیب موجود نہیں تھا نا جانے طعہ کہاں پر چلا گیا تھا۔
صنان خاور تم میرے ساتھ نا انصافی کیسے کر سکتے ہو؟ بڑے حقوق کی بات کرتے تھے اور آج اپنے ولیمے پر اپنی دوسری بیوی کو انوائیٹ بھی نہیں کیا؟ بلکہ بتانا گوارا نہیں سمجھا اور مجھے اس حالت میں چھوڑ کر تم کیسے جا سکتے ہو جبکہ تم بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہو کہ میں تمھارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔
زائشہ کی بات پر نوال نے بے یقینی سے صنان کی طرف دیکھا تھا۔بچے کی بات پر تو صنان کے چہرے پر بھی ایک سایہ سا آکر گزرا تھا۔اسے امید نہیں تھی کہ زائشہ اس حد تک گر جائے گی۔
برخوردار یہ لڑکی کیا بول رہی ہے؟ دادا جان کی سرد آواز نے صنان کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
دادا جان میں آپ کو سب سچ بتاتا ہوں صنان نے سٹیج سے نیچے اتر کر دادا جان کے پاس آتے کہا۔
صنان خاور کیا یہ لڑکی تمھاری بیوی ہے؟ ہاں یا نا میں جواب دو دادا جان نے ہاتھ کے اشارے سے صنان کو کچھ بھی بولنے سے منع کرتے کرخت لہجے میں پوچھا۔
نوال کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا اس کے دل سے دعا نکلی تھی کہ صنان انکار کر دے لیکن ہر دعا قبول نہیں ہوتی۔
وہاں کھڑے باقی کے لوگ بھی صنان کے جواب کا انتظار کر رہے تھے۔
دادا جان!!!
صنان خاور!!! دادا جان کی بلند آواز نے صنان کو بھی بےبس کر دیا تھا۔
جی دادا جان یہ لڑکی میری بیوی ہے۔
صنان نے نظریں جھکائے کہا۔جیسے اپنے جرم کا اعتراف کر رہا ہو۔
دادا جان کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا تھا اور صنان کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔آج ان کے لاڈلے پوتے نے سب کے سامنے ان کو ذلیل و رسوا کر دیا تھا۔
نوال نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور وہی صوفے پر ڈھ گئی۔
نوال!!! عدن نے نوال کو گرتے ہوئے دیکھا تو بھاگتی ہوئی نوال کے پاس آئی تھی۔نوال کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس نے جس کے چہرے کو دیکھا تھا وہ صنان کا تھا۔
پل بھر کا کھیل تھا۔اور پل بھر میں ہی سب ختم ہو گیا۔