No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
تم نے ریحان سے نکاح کیوں کیا؟ تمہیں میں نےکہا تھا تمھارے لیے باہر کا کوئی لڑکا لاؤں گی میں تمہیں یہاں اس چڑیا گھر میں رہنے تو ہرگز نہیں دوں گی لیکن شاید تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی اور بنا بتائے تم دونوں نے نکاح کر لیا۔
تمہیں ریحان سے طلاق لینی ہو گی سمجھی؟ صفیہ نے غصے سے ماریہ کو بازو سے پکڑتے کہا جو سنجیدگی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
نکاح ہونا تھا ہو گیا آپ نے بھی جو کرنا ہے کر لیں لیکن میں ریحان سے کبھی طلاق نہیں لوں گی اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے عید کے بعد میں خود ڈیڈ سے بات کروں گی اور میرا نہیں خیال کے اُن کو اپنے بڑے بھائی کے بیٹے سے کوئی مسئلہ ہو گا۔
بلکہ وہ تو خوش ہوں گئے۔ماریہ نے طنزیہ لہجے میں صفیہ کو دیکھتے کہا۔جو حیرانگی سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔
آج ان کو سامنے کھڑی ماریہ کچھ الگ ہی لگ رہی تھی۔
اگر میں ریحان کو بتا دوں کہ تم تو ابتہاج کے پیچھے بھی پڑی تھی تو وہ تمہیں خود طلاق دے دے گا۔صفیہ نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے کہا۔جس ہر ماریہ ہنس پڑی تھی۔
ریحان سب کچھ جانتا ہے موم یہاں تک کے میری کس کس لڑکے لے ساتھ دوستی ہے اُس کے بارے میں بھی جانتا ہے اور میرا نہیں خیال کہ ریحان سے بہتر مجھے کوئی دوسرا مرد مل سکتا ہے۔اور جہاں تک بات ہے ابتہاج کی تو آپ نے میرے دماغ میں ابتہاج کا خیال ڈالا تھا کہ آپ اُس سے میری شادی کروائیں گی اور اُسکے ساتھ مجھے لندن بھیج دیں گی۔
لیکن کچھ وقت ہی سہی لیکن ریحان نے اپنے پیار سے مجھے بہت کچھ باور کروا دیا ہے اور میں تو مر کر بھی اب اُس انسان سے الگ نہیں ہونا چاہو گی جو میری ساری خامیاں جاننے کے باوجود مجھ سے محبت کرتا ہے۔
ماریہ نے اپنا فیصلہ صفیہ کو سناتے کہا اور وہاں سے چلی گئی پیچھے صفیہ ابھی بھی حیران کھڑی تھی۔اس کی بیٹی اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھی یہ بات تو صفیہ کو اچھے سے پتہ چل گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
زائشہ آج مارکیٹ آئی تھی اس نے سوٹ لینا تھا اب اپنے سسرال پرانے کپڑے پہن کر جاتی ہوئی تو اچھی نہیں لگنی تھی نا
زائشہ اپنے لیے سوٹ دیکھ رہی تھی جب اس کی نظر زوہیب پر پڑی زائشہ کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات ابھرے تھے۔
اسے تو میں نہیں چھوڑوں گی۔زائشہ نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور زوہیب کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے۔
جو ایک لڑکی کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔
زوہیب نے زائشہ کو اپنی طرف آتے دیکھا تو پریشانی سے وہاں سے جانے لگا لیکن زائشہ نے اس کو بازو سے پکڑ کر روک لیا تھا۔
تم میرے ساتھ چلو زائشہ نے دانت پیستے کہا اور زوہیب کو اپنے ساتھ لے گئی۔
لڑکی نے حیرانگی سے زوہیب کو جاتے دیکھا اور کندھے اچکا کر خود بھی وہاں سے چلی گئی۔
زائشہ زوہیب کو ایک کیفے میں لے آئی تھی۔
دیکھو زائشہ میں تمہیں ہی تلاش کر رہا تھا لیکن تم پاکستان کب آئی؟ زوہیب نے جلدی سے کہا۔
اپنی بکواس بند کرو اور مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور اچھا ہوا تم مجھے یہاں مل گئے مجھے پیچھلی باتیں نہیں دہرانی لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ میں وہ سب کچھ بھول جاؤں جو ہم دونوں کے درمیان ہوا تو تمہیں میرا ایک کام کرنا ہو گا۔زائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کون سا کام زوہیب نے بھی گہرا سانس لیتے کہا۔
اس سے پہلے زائشہ کچھ بولتی کہ اس کی نظر کیفے میں داخل ہوتے ابتہاج اور صنان پر پڑی تھی۔
وہ سامنے بلیک شلوار قمیض میں کھڑے انسان کو دیکھ رہے ہو؟ زائشہ نے صنان کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
وہ میرا شوہر ہے۔جب تم بھاگ گئے تھے تو میں نے اس سے نکاح کیا تھا زائشہ نے کہا۔
لیکن جب زوہیب نے صنان کو دیکھا تو جلدی سے اپنا چہرہ چھپایا اور زائشہ کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔
تمہیں کیا ہوا؟زائشہ نے حیرانگی سے پوچھا۔وہ صنان میری خالہ کا بیٹا ہے اور تمھارا نکاح صنان سے ہوا ہے لیکن اُس کا نکاح تو پہلے ہی ہو چکا ہے نوال کے ساتھ اور عید کے دوسرے دن دونوں کی رخصتی بھی ہے۔زوہیب نے بے یقینی سے زائشہ کو دیکھتے پوچھا۔
ارے واہ میرا تو کام اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ اب تم میرا پلان سنو اور تمہیں میرا ساتھ دینا ہو گا ورنہ میں سب کو سچ بتا دوں گی۔زائشہ نے دھمکانے والے انداز میں کہا۔
میں نے کب منع کیا تم بس مجھے پلان بتاؤ زوہیب نے چہرے پر مکروہ سی مسکراہٹ لاتے کہا۔تو زائشہ اسے پلان بتانے لگی جو یقیناً دونوں کی زندگیاں خراب کرنے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜
حاکم نے کافی کچھ دعا کو سنا دیا تھا وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن غصے میں وہ کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اس کے الفاظ نے دعا کو تکلیف دی ہے لیکن وہ بھی کیا کرتا جس طرح اس کی پہلی بیوی نے اسے دھوکہ دیا تھا۔اس کا ہر عورت سے اعتبار اٹھ گیا تھا۔لیکن دعا کی بھی اس میں غلطی نہیں تھی۔
وہ سارا دن کمرے میں بند رہی تھی۔
گڑیا کے رونے پر دعا اپنے کمرے سے باہر آئی تھی۔
حاکم نے دعا کے چہرے کی طرف دیکھا جسے دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ سارا دن روتی رہی ہے۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔حاکم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
دعا نے جھک کر گڑیا کو اٹھایا لیکن حاکم نے اسے کے بازو کو پکڑ کر اسے روکا تھا۔لیکن دعا کے بازو کو پکڑتے ہی اسے لگا کہ اس نے کسی دہکتے کوئلے کو پکڑ لیا ہے۔
دعا نے نظریں اٹھا کر حاکم کی طرف دیکھا۔
تمہیں تو بہت تیز بخار ہے حاکم نے پریشانی سے کہا۔
میں ٹھیک ہوں میرا ہاتھ چھوڑیں دعا نے سرد لہجے میں کہا۔لیکن حاکم نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔
چلو کمرے میں جا کر آرام کرو میں ڈاکٹر کو فون کرتا ہوں حاکم نے دعا کو دیکھتے آرام سے کہا۔
آپ کیوں میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں پہلے ٹھکرا دیتے ہیں تکلیف دیتے ہیں پھر ہمدردی بھی ظاہر کرتے ہیں کیون کرتے ہیں آپ ایسا؟
آپ مجھے ایک بات بتائیں کیا میں نے آپ سے محبت کرکے اتنی بڑی غلطی کی جو آپ مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں اور اپنی باتوں سے ظاہر کرتے ہیں کہ میں نے آپ سے محبت کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے؟
میرا کیا قصور ہے دعا نے حاکم کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے بے بسی سے کہا۔
اور دیکھیے آپ نے مجھے کتنا کچھ کہا میری تذلیل بھی کی لیکن میں بےشرموں کی طرح پھر منہ اٹھائے آپ کے سامنے ذلیل ہونے آجاتی ہوں۔دعا نے کھولی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
دعا آرام کرو تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے حاکم نے اس بار پیار سے دعا کے ہاتھ کو پیچھے کرتے کہا۔
کچھ نہیں ہوا مجھے مر نہیں گئی زندہ ہوں آپ کو سمجھ میں کیوں نہیں آتا دعا نے حاکم کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکا دیتے غصے سے کہا۔
دعا ابھی تم ہوش میں نہیں ہو ہم بعد میں بات کریں گئے ابھی تم آرام کرو حاکم نے دعا کی طبیعت کے زیرِ اثر کہا۔
اس وقت اسے دعا کی حالت پر ترس آرہا تھا چاہتے ہوئے بھی اس وقت وہ سامنے کھڑی معصوم لڑکی سے سخت رویہ نہیں اپنا پا رہا تھا۔
مجھے آج بات کرنی ہے بلکہ ابھی بات کرتی ہے۔میں ابھی بات کروں گی۔آپ کو میری شکل سے میرے وجود سے نفرت ہے نا تو ابھی کہ ابھی مجھے طلاق دیں دعا نے بھاری لہجے میں حاکم کو دیکھتے کہا۔
جس نے سرخ آنکھوں سے دعا کو دیکھا تھا۔
اس نے دعا کو دونوں بازوں سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔دعا کو حاکم کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
اگر تمھاری فضولیات سن رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کچھ بھی بولتی جاؤ
سوچ سمجھ کر بولا کرو۔اور اتنی جلدی ہار مان گئی تم؟
حاکم نے دعا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
جیسے اچانک ہی اپنا دماغ ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا۔آپ بہت برے ہیں ہمیشہ مجھے تکلیف دیتے ہیں دعا نے آہستگی سے آنکھیں بند کرتے کہا اور وہی حاکم کی بانہوں میں جھول گئی۔
حاکم نے پریشانی سے دعا کی گال کو تھپتھپایا اور اسے اٹھا کر کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر لیٹایا۔
حاکم نے جلدی سے ڈاکٹر کو فون کیا اور دوبار دعا کے پاس آکر بیٹھ گیا۔گڑیا بھی پاس ہی بیٹھی کھیل رہی تھی۔
اس نے گہرا سانس لیتے دعا کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔
میں تمھارے قابل نہیں ہوں دعا تم کیوں نہیں سمجھتی تمہیں ایک ایسا ہمسفر چاہیے جو تمھاری عزت کرے تمہیں ہمیشہ خوش رکھے میں تمہیں کبھی خوش نہیں رکھ سکتا۔حاکم نے بےبسی سے دعا کے چہرے کو دیکھتے کہا۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ دعا کی خوشی تو اس میں ہے اور وہ کیسے کسی دوسرے کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے۔
💜💜💜💜
یہ کیا ہے؟ رباب نے ابتہاج کے ہاتھ میں ایک باکس دیکھا تو حیرانگی سے پوچھا۔
یہ دونوں جب گھر آئے تو سب نے رباب کو کہا تھا کہ وہ اب سے کوئی کام نہیں کرے گی کیونکہ اسکا ہاتھ کچھ زیادہ ہی جل گیا تھا۔
کھول کر دیکھو ابتہاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔
نہیں رہنے دو میں ہی کھول دیتا ہوں۔
ابتہاج نے رباب کے ہاتھ کو دیکھتے کہا۔
اور خود باکس کو کھولنے لگا۔ابتہاج نے اندر سے سکن کلر کی لانگ میکسی نکالی تھی۔جس پر گرین کلر کا کام ہوا تھا ساتھ گرین ہی ڈوپٹہ تھا۔
ابتہاج رباب کو بازو سے پکڑ کر شیشے کے سامنے لے گیا تھا۔
اور خود میکسی کو رباب کے ساتھ لگایا جو سچ میں رباب پر بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
تمہیں پسند آیا؟ ابتہاج نے جھک کر رباب کے کان کے پاس سرگوشی نما انداز میں گہرے لہجے میں پوچھا۔
رباب نے سامنے آئینے میں ابتہاج کے عکس کو دیکھا تھا۔
بہت خوبصورت ہے رباب نے سوٹ پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
بلکل تمھاری طرح ابتہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اور مسز آئندہ مجھ سے کوئی بھی بات مت چھپانا زوہیب کی وجہ سے تمھارا ہاتھ جلا تھا نا؟ ابتہاج نے رباب کا رخ اپنی طرف کرتے پوچھا۔
رباب نے نظریں جھکا لیں تھیں۔اسے حیرانگی نہیں بوئی تھی کہ کیونکہ ابتہاج کو کہی نا کہی سے پتہ چل ہی جاتا ہے۔
مجھے اُسی وقت پتہ چل گیا تھا جب تم نے مجھ سے جھوٹ بولا کیونکہ اگر تم کسی اور کے لیے چائے بنا رہی ہوتی تو مجھے بتا دیتی۔اُس وقت خالہ اور ماہا گھر پر نہیں تھیں تو زوہیب ہی ہوسکتا ہے۔مجھے اُس کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے بلکہ مجھے خالہ کے ادارے بھی ٹھیک نہیں لگ رہے تو اپنا خیال رکھنا اور اب اُن لوگوں کی وجہ سے تمہیں زرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میں بہت برا پیش آؤں گا میری بات کو اچھی طرح اپنے ننھے سے دماغ میں بیٹھا لو ابتہاج نے رباب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ میں نے آپ سے اس لیے جھوٹ بولا کیونکہ آپ زوہیب کا نام سن کر غصہ کرتے رباب نے آہستگی سے کہا۔
بلکل میں نے غصہ کرنا تھا بلکل اگر اُسی وقت مجھے پتہ چلتا تو اس کی جان لے لیتا۔کیونکہ اُس نے یقیناً جان بوجھ کر یہ سب کیا ہو گا۔
ابتہاج نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن وہ یہ سب کچھ کیوں کرے گا اُسے کیا فائدہ ہو گا؟ رباب نے ناسمجھی سے پوچھا۔
ابتہاج کچھ سیکنڈ رباب کے چہرے کو دیکھتا رہا پھر بولا۔
میں سب سنبھال لوں گا تم بس اپنا خیال رکھو اور ابھی آرام کرو ابتہاج نے رباب کو بیڈ کے پاس لاتے ہوئے کہا۔
رباب جب بیڈ پر لیٹ گئی تو ابتہاج نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے نکل گیا۔
اس کے دماغ میں ابھی بھی صنان کی کہی ہوئی باتیں چل رہی تھیں اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم سب لوگ چھت پر کیا کر رہے ہو؟ زوہا نے حیرانگی سے عمیر، براق اور عدن کو چھت پر دیکھا تو پوچھا۔
آپی جی آپ کو معلوم نہیں ہے؟ کہ آج چاند نظر آنا ہے؟ عدن نے سنجیدگی سے زوہا کو دیکھتے کہا۔
تو؟ تم لوگوں کو دیکھ کر کیا چاند جلدی نظر آجائے گا؟ زوہا نے حیرانگی سے پوچھا۔
اس سے پہلے عدن کوئی جواب دیتی نوال بھی وہاں آگئی تھی۔
چاند نظر آگیا ہے؟ نوال نے بےتابی سے پوچھا۔
جی اور آپ کا چاند نیچے کمرے میں ہے جائیں اور دیکھ لیں عمیر نے آسمان کی طرف دیکھتے کہا۔
نوال نے زور سے اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر عمیر کے کندھے پر دے مارا تھا۔
اللہ لڑکی کچھ تو خوف کرو اور تمھارے ہاتھ اچھے خاصے مردانہ ہیں تھوڑا ہاتھ ہولا رکھا کرو عمیر نے اپنے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
اگر اب تمھارا منہ بند نہیں ہوا تو اگلا مکا تمھارے دانت توڑ دے گا۔نوال نے دھمکی دیتے کہا۔
ظالم لڑکی عمیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
تم لوگ کتنی دیر ایسے ہی کھڑے رہو گئے چاند نظر آئے گا تو پتہ چل جائے گا جاؤ جاکر تیاریاں کرو زوہا نے سنجیدگی سے کہا۔
ارے ایسے کیسے مجھے چاند کی تصویر لینی ہے اور سٹیٹس لگانا ہے عدن نے جلد سے کہا۔
ویسے زوہا جی کہہ تو ٹھیک رہی ہیں اور میں کیسے ان کی بات ٹال سکتا ہوں براق نے مسکراہٹ دباتے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا زوہا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اور خود بھی وہاں سے چلی گئی۔
اوکے عدن تم مجھے بھی تصویر سینڈ کر دینا میں بھی جا رہا ہوں مجھے دادا جان نے بلایا تھا۔عمیر نے عدن کو دیکھتے کہا۔
تم سب لوگ بہت زیادہ مطلبی ہو بس نوال میری اچھی بہن ہے عدن نے نوال کو. دیکھتے کہا۔
نہیں نہیں یار میں تو ساتھ والی آنٹی کے پاس جا رہی انہوں نے ابھی تک میرا سوٹ سی کر نہیں دیا۔نوال نے کہا اور عمیر کے ساتھ ہی نیچے چلی گئی۔
میں تو چاند کی تصویر لے کر ہی نیچے جاؤں گی عدن نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب ہیزام بھی چھت پر آگیا۔
لو ان کی کمی رہتی تھی عدن نے ہیزام کو دیکھتے کہا جس نے اپنی پاکٹ سے سگریٹ نکالا تھا۔عدن حیرانگی سے ہیزام کو دیکھ رہی تھی۔جو سگریٹ کو سلگا رہا تھا۔
تم سگریٹ بھی پیتے ہیں؟ عدن نے حیرانگی سے پوچھا۔
میں اور بھی بہت کچھ کرتا ہوں میڈم ہیزام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اُف پتہ نہیں مردوں کو اس گندی سگریٹ میں ایسا کیا نظر آتا ہے جو اسے پیتے ہیں اس کی تو سمل ہی اتنی گندی ہوتی ہے۔عدن نے منہ بسوڑتے کہا۔
ہیزام نے اُسی وقت سگریٹ کو زمین پر پھینکا اور اس کو اپنے شوز کے ساتھ مسل کر عدن کے قریب آیا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
اس نے تھوڑی سے پکڑ کر عدن کا چہرہ آسان کی طرف کیا جہاں چاند نظر آگیا تھا۔
چاند نظر آگیا عدن نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔اور اپنے موبائل سے تصویر لینے لگی۔
دیکھا میں نے کہا تھا کہ چاند کی تصویر لے کر ہی میں نیچے جاؤں گی۔عدن نے خوشی سے کہا۔ ہیزام گہری نظروں سے عدن کو دیکھ رہا تھا۔
عدن کی نظر ہیزام پر پڑی تو اس کی زبان کو بریک لگی تھی۔
مجھے نا گندی نظروں سے مت گھورا کرو عدن نے گھورتے ہوئے ہیزام کو کہا اور وہاں سے بھاگ گئی پیچھے ہیزام قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
