Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Last Episode)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

صبح کا سویرا آہستہ آہستہ چار سو پھیل چکا تھا ۔۔ جہہاں کئ لوگ اپنے دفاتر ، بچےاپنے سکول ، اور خواتین کچن کے کاموں میں مصروف ہوچکی تھیں ۔۔ وہیں اپنی پوری شان و شوکت سے کھڑی اس حویلی کے باہر پریس کا ایک مجمہ لگا تھا ۔۔ تقریباً ہر چینل کے رپورٹر اپنے کیمرہ مینز اور مائکز کے ساتھ اپنے چینلز پر لایو ریپورٹنگ دینے میں مصروف تھے ۔۔ ہر ایک کی زبان پر ایک جیسے ہی الفاظ تھے ۔ جو کہ کچھ ایسے تھے ۔۔

’’ ناظرین جیسے کے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم یہاں شہزادشاہ کی رہائش گاہ کےسامنے کھڑے ہیں ۔۔ کل رات اس گھر کے لان سے ملنے والی ڈیڈ باڈیز کی نشاندہی کر دی گئ ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ وہ باڈیز شہزادشاہ کے بھائی جہانگیر شاہ اور اپنی بیوی کی ہیں ۔۔ جی ناظرین یہ جان کر آپ سب کو حیرت ہوگی کہ وہ گھر اور باڈیز شہزاد شاہ کے بھائی جو کہ کچھ سال پہلے لاپتہ ہوگئےتھے انکی اور انکی اہلیہ کی ہیں ۔۔ پولیس سے ملنے والی اطلاح کے مطابق اس گھر میں آگ لگانے کے لئے ایک فرہاد نامی شخص کو ہائر کیا گیا تھا جس نے خود کو کل رات سیلینڈر کیا اور اسی نے ان باڈیز کی شناخت بتانے کے ساتھ ساتھ ایک حیران کن انکشاف کیا ۔۔ جی ناظرین یہ حیران کن انکشاف یہ تھا کہ اسے جہانگیر شاہ اور انکی فیملی کو قتل کرنے کا آرڈر دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ انکے سگے بھائی اور ایک کامیاب سیاستدان شہزاد شاہ ہیں ۔۔۔ جی ناظرین آپ نے بلکل صحیح سنا ایک سال پہلے جہانگیر شاہ کے گھر میں لگنے والی آگ کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ نامور سیاستدان اور انکے بھائی شہزاد شاہ ہیں ۔۔۔ ملزم فرہاد نے پولیس کے حوالے وہ تمام ثبوت کر دیئے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس قتل کے پیچھے شہزاد شاہ ہیں اور انہیں ثبوتوں کی بنیاد پر شہزاد شاہ کا اریسٹ وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔۔ جی ناظرین پولیس حویلی کے اندر جاچکی ہے اور کچھ ہی دیر میں شہزاد شاہ کو اریسٹ کر دیا جائے گا ۔۔۔۔ ‘‘

اب اگر اس حویلی کے اندر آؤں تو زویا اور سادیہ بیگم لاؤنچ میں کھڑی پولیس کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھیں ۔۔

’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟ آپ ایسے کیسے انہیں گرفتار کر سکتے ہیں ؟ ‘‘ سادیہ بیگم نے احتجاج کیاتھا ۔

’’ ہمارے پاس تمام ثبوت اور ارسٹ وارنٹ موجود ہے ۔۔۔ انہیں باہر بلائیں ورنہ ہمیں اندر جاکر انہیں لانا ہوگا ‘‘ سخت لہجے میں جواب آیا تھا ۔۔

’’ ایسے کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔۔ اپنے ہی بھائی کو کیوں ماریں گے وہ ؟ ‘‘ سادیہ بیگم کچھ بھی ماننے سے انکاری تھیں ۔۔

’’ یہ تو وہ خود بتائینگے کہ انہوں سے ایسا کیوں کیا ‘‘ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتیں نائل شاہ کی آواز نے سب کو ہلا دیا تھا۔۔

’’ شہزاد شاہ ۔۔۔ شہزاد شاہ ۔۔۔ باہر نکلو ۔۔ باہر آؤں شہزاد شاہ ‘‘ سادیہ بیگم نے پلٹ کر دیکھا نائل امل کو اپنے بازؤں میں اٹھائے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا ۔۔ لال سرخ آنکھوں میں غصے کے شعلے لئے ۔۔ تیزی سے ہر قدم اٹھاتے ہوئے وہ چیخ رہا تھا ۔۔ اور شاید یہ اسکی آواز میں موجود طوفان ہی تھا جس نے شہزاد شاہ کو اپنے سٹڈی روم سے باہر آنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔

’’ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو شہزاد شاہ ؟ اپنے بھائی اور بھابھی کو مار کر تمہیں سکون نہیں ملا کہ اب تم میری بیوی کو بھی مارنا چاہتے ہو ‘‘ انکے سامنے کھڑا وہ وہاں موجود سب لوگوں کے سروں پر بجلیاں گرا رہا تھا ۔۔

’’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو نائل ؟ ‘‘ سادیہ بیگم کی جانب سے سوال کیا گیا تھا ۔

’’ یہ آپ اپنے شوہر سے پوچھیں ۔۔ امل کو زہر دیا ہے انہوں نے ۔۔۔ میری بات کان کھول کر سن لو شہزاد شاہ۔۔۔ اگر میری بیوی کو کچھ بھی ہوا تو میں تم پر یہ دنیا تنگ کر دونگا ‘‘ شہزاد شاہ دھمکاتے ہوئے وہ تیزی سے حویلی کی پچھلی جانب بڑھا تھا ۔۔ امل کو فوراً ٹریٹمنٹ دینا ضروری تھی ۔۔ اور سامنے میڈیا کے ہوتے ہوئے وہ یہ سب نہیں کرسکتا ۔۔

’’ میں نے اسے زہر نہیں دیا نائل ۔۔ میں نے امل کو نہیں مارا ‘‘ شہزاد کی آواز پر اسکے بڑھتے قدم رکے تھے ۔۔

’’ جو شخص اپنے سگے بھائی اور بھابھی کو زندہ جلا سکتا ہے ۔۔ جو انکی بیٹی کو بار بار مارنے کی کوشش کرسکتا ہے ۔۔ وہ اسے زہر نہیں دے سکتا شہزاد شاہ ۔۔ گرفتار کرلیں انہیں انسپکٹر ۔۔ میری بیوی کو اس حال تک پہچانے والا یہ شخص مجھے جیل کے اندر چاہئے ‘‘

’’ گرفتار کر لو انہیں ‘‘ پولیس کے آدمی اب شہزاد شاہ کی جانب بڑھے تھے جبکہ ماسٹر امل کو لے کر حویلی کی پچھلی جانب سے نکل چکا تھا جہاں واجد گاڑی لئے اسکا انتظار کررہا تھا ۔۔

’’ جلدی چلو واجد ۔۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ‘‘ امل کو پچھلی سیٹ پر لٹاتے ہوئے ، اسکا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے ماسٹر نے کہا تھا ۔ جبکہ واجد گاڑی تیزی سے آگے بڑھا گیا تھا ۔۔

اور اب اگر حویلی کے مین گیٹ پر آؤں ۔۔ تو شہزاد شاہ کے ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑے تھے ۔۔ دونوں جانب سے پولیس نے اسکے بازو تھام رکھے تھے ۔۔ وہ شہزاد شاہ کو تیزی سے گاڑی تک لے جانا چاہتے تھے مگر انکے سامنے آتے نیوز اینکرز ، انکے کیمرے اور انکے مائکز انکی رفتار کو دھیما کر رہے تھے ۔۔ سوالات کی برسات تھی جو شہزاد شاہ پر کی جارہی تھی ۔۔

’’ کیا یہ سچ ہے کہ آپنے فرہاد کو قتل کرنے کا کہا تھا ؟ ‘‘

’’ آپنے یہ سب کیوں کیا شہزاد شاہ ؟ ‘‘

’’ ایسی کیا بات ہوگئ کے آپ نے اپنے ہی بھائی کو مار ڈالا ‘‘

’’ کیا یہ سچ ہے کہ آپنے اپنی ہی بہو کو زہر دیا ہے ؟ ‘‘

’’ کیا آپکو ذرا بھی خوف نہیں آیا یہ سب کرتے ہوئے ؟ ‘‘

’’ کیا آپ ان سب پر شرمندہ نہیں ہے ؟ ‘‘

’’ سنا ہے آپنے اپنے سیاسی معاملات میں کامیابی کے لئے بھی ایسی ہی سازشی کیں ہیں ۔۔ کیا یہ سچ ہے ؟ ‘‘

سوالات کی اس برسات کو اگنور کرتے ہوئے وہ پولیس کی گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہوچکے تھے ۔۔

کچھ دیر بعد ۔۔ وہ گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں تھی جبکہ اس کے پیچھے ہی میڈیا کے لوگ بھی اب چل پڑے تھے ۔۔



ایک ہفتے بعد:

یہ ایک خالی کمرہ تھا ۔۔ جس کے درمیان میں ایک میز اور اس کے گرد تین کرسیاں رکھی تھیں ۔۔ کمرے کی تینوں دیواریں خالی تھیں ۔۔ لیکن چوتھی دیوار کے درمیان ایک بڑا شیشہ لگا تھا جس کا رنگ کالا تھا ۔۔ یقیناً باہر کا کوئی منظر اس سے نظر نہیں آسکتا تھا مگر باہر کھڑے لوگ ۔۔ اندر کے منظر کو دیکھ سکتے تھے ۔۔ اب اگر اس کمرے کی کرسیوں پر نظر ڈالو تو ایک کرسی پر شہزاد شاہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھائے میز پر جھکا بیٹھا تھا ۔۔ نظریں اپنے ہاتھوں پر ٹکائے وہ اپنے سامنے بیٹھے بلیک سوٹ پہنے بیٹھے شخص کی باتیں سن رہا تھا ۔۔

’’ مجھے یقین نہیں آتا ۔۔ آپ اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتے ہیں ؟ اس شخص کو آپکے کئے گئے ہر کام کا معلوم ہے ۔۔ اور صرف اتنا ہی نہیں اس کے پاس تمام ثبوت ہیں ۔۔ وہ سب کچھ پولیس کے حوالے کر چکا ہے ۔۔ اب تو بات میڈیا میں بھی پھیل چکی ہے ‘‘ وہ شخص جو شاید انکا وکیل تھا کہہ رہا تھا ۔۔

’’ تو پولیس سے بدلوا دو ثبوت ۔۔ اس فرہاد کا منہ بند کروا دو ۔۔ یہ کام ہمارے لئے اتنا مشکل نہیں ہے ۔۔ پیسہ استعمال کرو ۔۔ طاقت استعمال کرو ‘‘ شہزاد شاہ نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ ایک ہفتہ ہوگیا تھا اسے اس جیل میں ۔۔ اور یہ بس وہ ہی جانتا تھا کہ اس نے یہ کیسے گزارا تھا ۔۔

’’ آپکو کیا لگتا ہے ؟ کیا میں نے یہ سب نہیں کیا ؟ ‘‘ وکیل کی بات پر وہ حیران ہوئے تھے ۔۔

’’ تو اب تک میں اندر کیوں ہو ؟ ‘‘ میز پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے انہوں نے غصے سے کہا تھا ۔۔

’’ کیونکہ آپکے سامنے آپکا اپنا بیٹا ہے شہزاد شاہ ۔۔ وہ بہت پہلے سے یہ سب کر رہا تھا ۔۔ پوری انویسٹیگیٹشن ٹیم اس کے ساتھ مل کر کئ مہینوں سے آپکو انویسٹیگیٹ کر رہی تھی ۔۔ آپکی ہر سانس پر انکی نظر تھی ۔۔ وہ بھی لیگلی کورٹ کی اجازت کے ساتھ ۔۔ اس کے علاوہ انکے ہیڈ نے اس کیس کو سیکریٹلی ہینڈل کیا ۔۔ اتنا سیکریٹلی کے کسی کو بھی اسکی ہوا نہ لگی ۔۔ وہ سارے ایسےلوگ ہیں جو طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ ایماندار بھی ہیں ۔۔ اور اب انکے ہاتھ اتنے ثبوت ہیں کہ وہ پوری عمر آپکو اس جیل میں رکھ سکتے ہیں ۔۔ اور جانتے ہیں اس کیس کا ہیڈ کون ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ کرائم انوسٹیگیٹر آفیسر نائل شاہ ۔۔ وہ شروع سے سب جانتا تھا ۔۔ سب کچھ ‘‘ اور شہزاد شاہ پر یہ آخری بجلی تھی جو اس وکیل نے گرائی تھی ۔۔ تو وہ سب جانتا تھا ؟ تو انکا اپنا بیٹا ہی انکے خلاف تھا ۔۔ تو وہ یہاں اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں پہنچا تھا ۔۔ انہیں یاد آیا ۔۔ آخری بار نائل شاہ کے کہے گئے الفاظ۔۔ لیکن ۔۔ الفاظ سے زیادہ اسکی آنکھیں ۔۔ کیسی نفرت تھی اسکی آنکھوں میں ۔۔ کیسا افسوس تھا اسکی آنکھوں میں ۔۔۔ کیسی شرمندگی تھی اسکی آنکھوں ۔۔

اور یہ پہلی بار تھا ۔۔ ہاں ۔۔ یہ اب تک کی زندگی میں پہلی بار تھا کہ شہزاد شاہ کے دل میں ٹیس اٹھی تھی۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ دل ٹوٹا تھا ۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ دل درد محسوس کر رہا تھا ۔۔ وہی درد جو وہ آج تک دوسروں کو دیتے آئے تھے ۔۔ وہی درد جو اپنوں کے دور ہوجانے پر ہوتا ہے ۔۔ وہی درد جو دھوکے پر ہوتا ہے ۔۔ وہی درد جو اپنوں کی آنکھوں میں نفرت دیکھنے میں ہوتا ہے ۔۔ وہی درد ۔۔ جو اچانک آئینہ نظر آجانے پر ہوتا ہے ۔۔ آج شہزاد شاہ محسوس کر رہا تھا ۔۔ وہ ہر درد ۔۔ وہ ہر تکلیف۔۔ مگر ۔۔ اب دیر ہو چکی تھی ۔۔ بہت دیر ۔۔

’’ ہمارے پاس بس ایک ہی راستہ ہے ‘‘ وکیل کی آواز انہیں سوچوں سے باہر لائی تھی ۔۔ راستہ ؟ کیا اب بھی کوئی راستہ ہے کیا ؟

’’ کیسا راستہ ؟ ‘‘

’’ آپ سب قبول کرلیں ۔۔ بہتر یہی ہے کہ آپ کنفیشن کرلیں ۔۔ انکے پاس اتنے ثبوت ہیں کہ وہ آپکی پھانسی کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں ۔۔ اس صورتحال میں اگر آپ سب قبول کر لیتے ہیں تو ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ آپکی سزا میں رعایت کی جائے ۔۔پھانسی سے بہتر تو جیل ہے شہزاد شاہ ۔۔ کم از کم آپ زندہ تو رہینگے ۔۔ اور ہمیں جب بھی موقع ملے گا ۔۔ کچھ سالوں بعد ۔۔ جب لوگ یہ سب بھول جائینگے تو ہم آپکو یہاں سے غائب کروا دیں گے۔۔ بس ایک یہی طریقہ ہے جس سے آپکی جان بچ سکتی ہے ‘‘ وہ خاموش ہوا تھا ۔۔ اور شہزاد شاہ کی سوچ کو ایک نیا رخ ملا تھا ۔۔

کچھ سالوں کی قربانی کے بعد اگر آزادی مل سکتی ہے ۔۔ تو یہ کوئی گھاٹے کا سودا تو نہیں تھا ۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ میں کنفیشن کے لئے تیار ہوں ۔۔ مگر ۔۔میں زیادہ انتظار نہیں کرونگا ‘‘ انہوں اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

’’ آپ اسکی فکر نہ کریں ۔۔ لوگ سب بھول کر اپنی زندگی میں مگن ہوجائیں ۔۔ تو ایک دن اس جیل سے کئ ملزم بھاگ جائیگے ۔۔ ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ وکیل نے کہا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ ‘‘ اور شہزاد شاہ کے دل کو کم از کم اتنا اطمینان تو ہو ہی چکا تھا کہ اب ۔۔ آزادی کا ایک راستہ کھلا تھا ۔۔ بس تھوڑا سا صبر ۔۔

کچھ دیر بعد وکیل تھانے سے باہر نکلا اور دائیں جانب کھڑی اپنی گاڑی کے اندر آکر اس نے گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھائی ۔۔ تھانے سے کچھ دور جاکر اس نے ایک سائیڈ پر اپنی گاڑی روکی اور بیک سیٹ پر بیٹھے اس شخص کی جانب دیکھا ۔۔ وائیٹ شرٹ ، بلو جینس پہنے ۔۔ آنکھوں پر گلاسس لگائے ۔۔ وہ سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

’’ کام ہوگیا ہے ۔۔ وہ ہر چیز کا اعتراف کرنے والے ہیں ‘‘ بیک مرر سے اس شخص کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جس کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ گڈ ورک ۔۔۔ ‘‘ وہ اب اسکی جانب جھکا تھا ۔۔ اسکے کان کے بلکل قریب ۔۔

’’ آج رات تم مجھے اس ملک کا چپاچپا چھان لینے کے بعد بھی نہ ملو ‘‘ دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا ۔۔ جس پر اس نے گھبرا کر سر ہلایا تھا ۔۔

’’ ٹیک کئیر ‘‘

اور اسی کے ساتھ ۔۔ اپنے آنکھوں پر لگے گلاسس کو ٹھیک کرتے ہوئے ۔۔ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ ۔۔ مصطفی ۔۔ اس گاڑی سے باہر نکل کر روڈ کے دوسرے جانب کھڑے واجد کی جانب بڑھا تھا ۔۔ اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ۔۔ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے ۔۔



کچھ دنوں بعد :

’’ شہزاد شاہ کیس میں عدالت نے تمام ثبوتوں ، ملزم فرہاد کے بیان اور خود شہزاد شاہ کے اقبالِ جرم کے بعد شہزاد شاہ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔۔ اور آپ اپنے ٹی۔وی سکرین میں یہ منظر دیکھ رہے اب پولیس شہزاد شاہ سینٹریل جیل منتقل کر رہی ہے ۔۔ جیسا کے ہم سب جانتے ہیں کہ شہزاد شاہ جو ایک سیاستدان بھی تھے ۔۔ مگر نامعلوم ذرائع سے ملنے والے کچھ ثبوتوں نے انکی اس سیاست کے پیچھے چھپے تمام جرائم کا پردہ فاش کردیا ہے ۔۔ اس کے علاوہ ایک سال پہلے جہانگیر شاہ جوکہ انکے بھائی تھے کہ گھر میں ملزم فرہاد کے ذریعے آگ لگوا کر انہیں اور نکی اہلیہ کو قتل کرنے میں کامیاب رہے اس کے علاوہ جہانگیر شاہ کی اکلوتی بیٹی جو کسی طرح اس دن بچ نکلی تھیں انہیں بھی زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئ تھی ۔۔ اور آج عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے بہت جلد انہیں سینٹرل جیل بھیج دیا جائے گا ۔۔ ناظرین جیسے کے آپ دیکھ سکتے ہیں اس وقت۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور ٹی۔وی کی سکرین کے ساتھ ہی آواز بھی بند ہوگئ تھی ۔۔

’’ فائینلی ۔۔ سب ختم ہوا ‘‘ مصطفی نے صوفے پر ٹیک لگائے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ فائینلی ہماری ایک سال کی محنت رنگ لے ہی آئی ‘‘ واجد نے میز سے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ہماری ؟ ‘‘ اسے حیرت ہوئی تھی ۔

’’ صرف میری محنت ۔۔ تم نے کیا کیا ؟ ‘‘ مصطفی کو تو واجد کا ذرا سا بھی کریٹڈ لینا اچھا نہیں لگا تھا ۔۔

’’ اس پورے قصے میں سب سے زیادہ اہم کام میں نے ہی کئے ہیں ۔۔ ‘‘ واجد بھی میدان میں آچکا تھا ۔۔

’’ اچھا ۔۔۔ اور وہ اہم کام کیا ہے ؟ سوائے ڈرائیونگ کرنے اور لوگوں سے ٹکرا کر انکے موبائل چرانے کے ‘‘ ویسے بات تو مصطفی کی بھی ٹھیک ہے ۔۔

’’ ایک کھائی میں گرتی ہوئی لڑکی کو شطر مرغ کی سپیٹ سے جاکر بچانا اور ایک ناکارہ انسان کو شہزاد شاہ کے ایک عام سے بندے کی گن کی گولی کھانے سے بچانا ۔۔ تو بولو ذرا کسی کی زندگی بچانے سے زیادہ اہم کام کیا ہوسکتا ہے ؟ ‘‘ اور واجد کے جواب پر جہاں مصطفی کا منہ کھلا تھا ۔۔ وہی ساتھ بیٹھی امل بھی مسکرائی تھی ۔۔

’’ ویسے بات تو ٹھیک کی ہے واجد نے ۔۔ اگر یہ نا ہوتا تو شاید تم اس وقت ہسپتال میں ہوتے مصطفی ‘‘ اب امل نے بھی تو اپنا حصہ ڈالنا ہی تھا نا ۔۔

’’ تو کیا میں نے کچھ نہیں کیا ؟ ‘‘ مصطفی کو تو جیسے اب صدمہ لگا تھا ۔۔

’’ کیا ہے نا ۔۔ جی بھر کر لیپ ٹاپ استعمال ‘‘ اور واجد کی بات پر وہاں بیٹھا ہر شخص ہنس پڑا تھا ۔۔

’’ اگر میں جی بھر کر لیپ ٹاپ استعمال نہ کرتا تو آج ہمارے پاس یہ سارے ثبوت نہ ہوتے اور نہ ہی ہم یہ نیوز دیکھ رہے ہوتے ۔۔ مت بھولوں کو اپنی جان پر کھیل کر میں نے شہزاد شاہ کی جیب سے ثبوت نکالے تھے ‘‘ مصطفی تو جزباتی ہی ہوگیا تھا ۔۔ بیچارہ مصطفی ۔۔۔

’’ ٹھیک کہہ رہا ہے مصطفی ۔۔ وہ کام واقعی بہت خطرناک تھا ‘‘ امل نے ایک بار پھر اپنا حصہ ڈالا تھا ۔۔

’’ کوئی خطرناک نہیں تھا ۔۔ تم نے اس کھیر میں نیند کی دوائی ملائی تھی ۔۔ اگر تم ایسا نہ کرتی تو یہ کبھی حویلی جانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا ‘‘ مصطفی نے ایک بار بھی واجد کو گھورا تھا جسے وہ بہت آرام سے اگنور کر رہا تھا ۔۔

’’ مگر اگر شہزاد شاہ وہ کھیر نہ کھاتا ۔۔ اور مصطفی وہاں چلا جاتا ۔۔ تو حالات بدل بھی سکتے تھے ۔۔ اس لئے مصطفی کی بہادری یہاں قابلِ تعریف ہے ‘‘ واہ امل ۔۔ آج تم نے اپنی دوستی کا حق ادا کردیا ۔۔ مصطفی نے مشکور نظروں سے امل کو دیکھا تھا ۔۔

’’ لیکن سب سے اہم شہزاد شاہ کے لیپ ٹاپ میں موجود انکے تمام اللیگل کاموں کی میلز اور فائلز جو اس رات مصطفی نے کامیابی سے حاصل کی تھیں ۔۔اس پر مصطفی تعریف کا حقدار ہے ‘‘ اس بار ماسٹر کی آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔ جو امل کے بلکل سامنے ہی بیٹھا تھا ۔۔

’’ اور فرہاد کے موبائل میں آنے والی شہزاد شاہ کی تمام کالز کی ریکارڈنگ اور مسیجز ہیک کرنے والا ۔۔اور فرہاد کے موبائل پر ٹریکر لگانے والا بھی میں ہی تھا ‘‘ اپنا کالر اونچا کرتے ہوئے مصطفی نے فخریہ انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ اس موبائل پر جو میں نے لاکر دیا تھا ‘‘ اور یہ آیا واجد کا احسان ۔۔

’’ صرف ایک ٹکر مار کر ‘‘ مصطفی نے جل کر کہا تھا ۔۔

’’ اور یہ لاکٹ ۔۔ ‘‘ امل نے میز پر رکھے لاکٹ کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔

’’ اس لاکٹ پر لگی چِپ ۔۔ جس کے ذریعے شہزاد شاہ کی مجھے دی ہوئی دھمکی ریکارڈ کی گئ ۔۔ یہ بھی تو مصطفی کا ہی کمال ہے نا ‘‘ امل نے ایک بار بھی دوستی کا حق ادا کیا تھا ۔۔ واہ امل تمہاری دوستی !

’’ جسے میں نے خریدا تھا ‘‘ اور ماسٹر کی جانب سے آئے اس جواب نے جہاں انہیں حیران کیا تھا ۔۔ وہیں سب کے ہونٹوں پر ہنسی بکھیر دی تھی ۔۔ آج کتنے پرسکون لگ رہے تھے سب ۔۔

’’ لیکن ان سب میں ایک اور شخصیت بھی ہے جس نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ۔۔ اور اگر وہ نہ ہوتی تو شاید ہم یہ دن نہ دیکھ رہے ہوتے ۔۔ ‘‘ ماسٹر کے کہنے پر جہاں امل مسکرائی تھی ۔۔ وہیں مصطفی اور واجد نے حیرانگی سے انہیں دیکھاتھا ۔۔

’’ کون ؟ ‘‘ سوال مصطفی کی جانب سے ہوا تھا ۔۔

’’ یہ ‘‘ اور ماسٹرنے کسی ایک جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ سب کی نظریں اک ساتھ دروازے کے پاس کھڑی مایا پر پڑی تھیں ۔۔

’’ تم ۔۔۔ ‘‘ مصطفی غصے سے فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ بیٹھ جاؤ مصطفی ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا ۔۔

’’ مگر ماسٹر اس نے ہمیں چیٹ کیا ہے ‘‘ مایا کو گھورتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ اس نے ہمیں چیٹ نہیں کیا مصطفی ۔۔ یہ سب ایک پلیننگ تھی ‘‘ اور ماسٹر کے الفاظ پر مصطفی اور واجد چونک گئے تھے ۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟

’’ ہاں ۔۔ آؤ مایا ۔۔ اب تمہاری باری ہے خود پر فخر کرنے کی ‘‘ ماسٹر نے مسکراتے ہوئے مایا سے کہا تھا ۔۔ جو اب مصطفی کے بلکل سامنے رکھے صوفے پر امل کے ساتھ آکر بیٹھی تھی ۔۔

’’ میں اپنے انڈر کام کرنے والے ہر شخص پر نظر رکھتا ہو ۔۔ سب کے اٹھائے ایک ایک قدم پر میری نظر ہوتی ہے ۔۔ اور ایسی ہی نظر میری مایا پر بھی تھی ۔۔ اور مجھےمعلوم ہوا کہ وہ فرہاد سے ملی ہے ۔۔ وہ بھی دو بار ۔۔ ‘‘ ماسٹر نے کہتے ساتھ مایا کی جانب دیکھا تھا۔۔ جو دھیما سا مسکرائی تھی ۔۔

’’ اور پھر ایک رات ماسٹر نے مجھے اپنے گھر کی اسی بیسمنٹ میں بلایا جہاں تم سب کبھی گئے تھے ‘‘ اس نے مصطفی کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جس کے چہرے پر حیرانگی تھی ۔۔

’’ مایا نے مجھے بتایا کے فرہاد بار بار اسے کال کر کے اس سے اپنی شرمندگی کا اظہار کرتا ہے ۔۔ اور وہ چاہتا ہے کہ مایا اسے معاف کردے ۔۔ آخر وہ اسکی بہن ہے ۔۔ ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا ۔۔

’’ پھر ماسٹر نے مجھ سے کہا کہ میں اسے معاف کردوں ۔۔ میں بہت حیران ہوئیں تھی ۔۔ مگر پھر مجھے سمجھ آئی کہ فرہاد کو معاف کر کے اس سے کانٹیکٹ میں رہنے سے ہمیں بہت سی اہم معلومات مل سکتی تھیں ۔۔ اس لئے میں نے چھپ کر فرہاد سے ملنا اور اس سے بات کرنا شروع کیا ۔۔ ‘‘

’’ اور اس طرح مایا کے ذریعے ہمیں فرہاد کو دیئے جانے والے شہزاد شاہ کے ہر آرڈر کا پتہ لگ جاتا تھا ۔۔ کیونکہ فرہاد ہر بات مایا سے کرنے لگا تھا کبھی اپنا غصہ نکالنے کے لئے تو کبھی اسے اس بات کا حساس دلانے کے لئے کہ ہم سب مایا کو استعمال کر رہے ہیں ۔۔ اور مایا ہی تھی ۔۔ جس کے بتانے پر میں نے وقت پر امل اور مایا کو الگ کیا ۔۔ اور اس رات امل کی جگہ تکیے رکھ دیئے گئے ‘‘ ماسٹر کی بات پر مصطفی نے امل کی جانب دیکھا ۔۔ جو اسے دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔

’’ تم سب جانتی تھی ؟ ‘‘ مصطفی نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ میرا سب جاننا تو سب سے زیادہ ضروری تھا مصطفی ۔۔ اگر میں سب جانتی نا ؟ تو زویا کا دیا ہوا زہر کیوں پیتی ؟ ‘‘ یہ ایک اور انکشاف تھا جو امل نے کیا تھا ۔۔

’’ وہ زہر ۔۔۔۔ ‘‘

’’ زہر نہیں تھا ۔۔ ایک خاص کیمیکل تھا ۔۔ جسم کو کچھ دیر کے لئے بلکل بے جان کر دینے والا ۔۔ ہوش سے بے گانا کردینے والا اور دیکھنے والا سمھجتا ہے کہ جیسے ۔۔ خدا نا کرے وہ مردہ ہو ‘‘

’’ مگر اسکی کیا ضرورت تھی ماسٹر ؟ ‘‘ مصطفی نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ اسکی ضرورت امل کو خیریت سے اس حویلی سے نکالنے کے لئے تھی اس کے علاوہ شہزاد شاہ کو میری جانب سے ناامید کرنے کے لئے بھی یہ ضروری تھا ۔۔ اور ہمارے کیس کے ایک حقیقی لائیو ثبوت کے لئے بھی یہ بہت اہم تھا ‘‘ ماسٹر کی جانب سے آنے والے جواب نے مصطفی کو سب سمجھا دیا تھا ۔۔

’’ مگر ۔۔ یہ زہر میرا مطلب ہے کیمیکل حویلی تک پہنچا کیسے ؟ ‘‘ یہ ایک آخری الجھن تھی جو مصطفی سلجھانا چاہتا تھا ۔۔

’’ ظاہر ہےمصطفی ۔۔مجھے زہر دینے کے لئے سب سے زیادہ بے تاب نائل شاہ کی پیاری کزن ہی ہے ۔۔ اور کون دے سکتا ہے ،مجھے زہر ۔۔انہیں حاصل کرنے کے لئے ‘‘ طنزیہ لہجے میں دیئے جانے والے امل کے جواب نے سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔۔۔ آفکورس سوائے ماسٹر ہے ۔۔

’’ مجھے ماسٹر نے رمشائ کے نام پر ایک خط بھیجا تھا ۔۔ جس میں انہوں نے مجھے دو کام دیئے تھے ۔۔ ایک تو یہ کہ میں فوراً فرہاد کے پاس جاکر وہاں کے حالات جان سکوں اور کوشش کروں کے فرہاد کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ ہمارا ساتھ دینے پر راضی ہوجائے ۔۔ اور جب ایسا ہوجائے ۔۔۔ جو کہ میری کوشش کے بنا ہوگیا ۔‘‘ مایا نے امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جس نے نظروں کا رخ پھیر لیا تھا ۔۔ ’’ تو دوسرا کام ۔۔ زویا سے رابطہ کر کے اس سے مل کر امل کو راستے سے ہٹانے کی پلیننگ کرنا تھا ۔۔ میں نے اسے وہ شیشی دی ۔۔ اور اس نے بہت صحیح موقع پر اسے استعمال کیا ‘‘

’’ مگر رمشائ ہی کیوں ؟ ‘‘ مصطفی کو اب رمشائ والی بات یاد آئی تھی ۔۔

’’ کیونکہ فرہاد کو یہ یقین بھی تو دلانا تھا نہ کہ میں اب صرف اسکے ساتھ ہوں ‘‘ اور مایا کے اس آخری جواب نے تمام الجھنیں کھول دیں تھیں ۔۔۔ سب صاف آئینے کی طرح بلکل واضح ہوچکا تھا ۔۔

’’ تم نے ان سب میں سب سے زیادہ ہمت دکھائی ہے مایا ۔۔ ہمارا ساتھ دینے کے لئے تم نے اپنے بھائی کے خلاف کام کیا ہے ‘‘ پہلی بار واجد نے ان سب میں کچھ کہا تھا ۔۔

’’ نہیں واجد ۔۔ میں نے سب سے پہلے اپنے بھائی کا ہی ساتھ دیا ہے ۔۔ اور اپنوں کا ساتھ انکے غلط کاموں پر انہیں احساس دلانا ہوتا ہے ۔۔ ناکہ انکی زیادتیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ۔۔ اس لئے میں نے یہ فرہاد کے لئے کیا ۔۔ تاکہ اسے سکون مل جائے ۔۔ اس کے ضمیر کے کو سکون مل جائے ۔۔ تاکہ وہ شہزاد شاہ کی قید سے رہا ہوجائے ۔۔ اور وہ ہوگیا ۔۔ اس چار دیواری میں بھی وہ آزاد ہے آج ‘‘ مایا نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اور ویسے بھی ۔۔ امل نے یہاں ہم سب سے زیادہ ہمت دکھائی ہے ۔۔ شہزاد شاہ کا جس بہادری سے امل نے سامنا کیا ۔۔ اور جس بہادری سے اس نے سب جانتے ہوئے بھی وہ کافی پی ۔۔ اپنی جان خطرے میں ڈال دی ۔۔ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ امل جیسی بہادری کسی اور لڑکی میں نہیں ہوسکتی ‘‘ مایا نے امل کے ہاتھ ہر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جبکہ امل نے ماسٹر کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ بہت غور سے ۔۔

’’ اور ماسٹر جیسی عقل مندی بھی کسی اور کے پاس نہیں ہوسکتی ۔۔ کیا کمال کی پلیننگ تھی ماسٹر کی۔۔ مان گئے باس ‘‘ مصطفی نے ماسٹر کو سلیوٹ پیش کیا تھا ۔۔ جبکہ ایک بار پھر ۔۔ وہاں موجود ہر انسان ہنس پڑا تھا ۔۔ اور جانے کتنے ہی عرصے بعد ۔۔ وہ اتنا کھل کر ہنسے تھے ۔۔ بنا کسی پریشانی کے ۔۔ بنا کسی ٹینشن کے ۔۔

کچھ دیر بعد ۔۔وہاں ایک بار پھر خاموشی چھا گئ تھی ۔۔۔ سب کی نظریں ماسٹر سے امل ۔۔ اور امل سے ماسٹر کی جانب اٹھ رہی تھیں ۔۔ دونوں ہی بلکل چپ ہوگئے تھے ۔۔ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں کے جہاں میں گم ہوگئے تھے ۔۔

مصطفی نے واجد کو جانے کا اشارہ کیا تھا ۔۔

’’ میں ذرا ابھی آیا ‘‘ وہ کہہ کر فوراً باہر جاچکا تھا ۔۔

’’ مجھے ایک کام یاد آگیا ۔۔ چلتا ہوں ماسٹر ‘‘ مصطفی بھی کہہ کر پتلی گلی سے نکل چکا تھا ۔۔ اب بچی مایا ۔۔

’’ میں ذرا کچن کے حالات دیکھ لوں ‘‘ اور ایک فضول سا بہانہ کر کے مایا بھی وہاں سے جاچکی تھی۔۔ اب یہاں امل اور ماسٹر اکیلے رہ گئے تھے ۔۔ اپنی خاموشی کے ساتھ ۔۔

’’ وہ ۔۔ ‘‘ دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا ۔۔

’’ میں ۔۔۔ ‘‘ ایک بار پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا ۔۔ جانے دونوں اتنا گھبرا کیوں رہے تھے ؟

’’ تم کہو ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا ۔۔ اور یہ بس وہ ہی جانتا تھا کہ اس وقت اسکا دل کتنی ہی دعائیں مانگ رہا تھا ۔۔

’’ لان میں جاکر بات کریں ؟ ‘‘ امل نے کہا اور ماسٹر فوراً کھڑا ہوا تھا ۔۔ جیسے اسکے حکم کا غلام ہو ؟ کم از کم لگ تو ایسا ہی رہا تھا اب ۔۔

’’ چلو ‘‘ وہ دونوں اب خاموشی سے لان میں آئے تھے ۔۔ اندھیرا کافی حد تک پھیل چکا تھا ۔۔ مگر آج موسم بہت خوشگوار تھا ہلکی بارش کے ساتھ ۔۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔۔

’’ تم ۔۔ کچھ کہہ رہی تھی ‘‘ کچھ دیر تک اسکے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد ماسٹر نے پوچھا تھا ۔۔

’’ آج ہمارا کانٹریکٹ ایکسپائر ہوگیا ہے ماسٹر ‘‘ اور امل کے الفاظ نے ماسٹر کے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی ۔۔ دل ایک دم رک گیا تھا ۔۔ سانس لینا ایک دم ہی مشکل ہوگیا تھا ۔۔ یہ وہ کیا کہہ رہی تھی ۔۔ سب جانتے ہوئے بھی ؟ اسکے اظہار کے بعد بھی ؟ وہ اس سے الگ ہونے کی بات کر رہی تھی ۔۔ ایسا کیسے کرسکتی ہے وہ ؟

’’ کک ۔۔ کیا مطلب ؟ ‘‘ اور یہ وہی جانتا تھا کہ کس دل سے اس نے یہ سوال کئے تھے ۔

’’ آج ہمارا کانٹریکٹ ایکسپائر ہوگیا ہے ۔۔اور اسی کے ساتھ اس کے رولز بھی ‘‘ اور امل کے الفاظ اس پر بجلی بن کر گر رہے تھے ۔۔

’’ لیکن ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔

’’ لیکن ؟ ‘‘ بے چینی سے پوچھا گیا تھا ۔۔

’’ میں چاہتی ہوں کہ کانٹریکٹ سے سارے رولز ہٹا کر اسکی ایکسپائیری ڈیٹ ’ فار ایور ‘ کر دی جائے ‘‘ اور ماسٹر جیسے سن ہوگیا تھا ۔۔ کچھ پل تک وہ بس اسے تکتا رہا تھا ۔۔ جیسے اسکے الفاظ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ اور جب سمجھ آنے لگے ۔۔ تو کانوں پر یقین نہیں آیا ۔۔

’’ مطلب ۔۔۔ فار ایور ؟ ہمیشہ! ‘‘ اسے کاندھوں سے تھامتے ہوئے اس نے بے یقینی سے پوچھا تھا ۔ جبکہ امل اسکی حالت پر مسکرائی تھی ۔۔

’’ فار ایور ۔۔ مجھے یہ درخت ۔۔ اس درخت پر ہونے والی یہ بارش ۔۔ یہ بہار ۔۔ اور تمہارا ساتھ ۔۔ سب فارایور چاہئے ۔۔ کیا ملے گا ؟ ‘‘ شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ امل نے پوچھا تھا ۔۔

اور ماسٹر نے اسے تھام کر زمین سے اوپر اٹھا کر گمانا شروع کیا تھا ۔۔

’’ یس ۔۔ یس ۔۔ یس مائی سلیپنگ بیوٹی ۔۔ یہ درخت ۔۔ یہ بارش ۔۔۔ یہ بہار ۔۔ اور یہ ماسٹر ۔۔ سب تمہارا ہے ۔۔ فار ایور ۔۔ فار ۔۔ ایور ‘‘ وہ چیخ کر اسے گماتا ہوا کہہ رہا تھا ۔۔

’’ نائل ۔۔ کیا کر رہے ہیں ۔۔ اتاریں مجھے۔۔ سب دیکھ لینگے ‘‘ وہ اب گھبراتے کہہ رہی تھی ۔۔ جبکہ ماسٹر رکنے کو تیار نہیں تھا ۔۔

’’ سننے دو ۔۔ سب کو سن لینے دو کہ اب ہم ساتھ ہیں ۔۔ فارایور ‘‘ وہ ایک بار بھی چلایا تھا ۔۔

’’ اور ہم سب سے سن لیا ۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ ایک پوری فوج ان کی طرف دوڑتی آئی تھی ۔۔ جبکہ ماسٹر نے امل کو فوراً نیچے اتارا تھا ۔۔۔



دو مہینے بعد :

یہ ایک خالی کمرہ تھا جس کے درمیان ایک میز جس کے ارد گرد دو کرسیاں رکھی تھیں ۔۔ جس کے ایک طرف فرہاد جبکہ سامنے ہی مایا بیٹھی تھی ۔۔ دونوں کے چہروں پر سنجیدگی واضح تھی ۔۔

’’ پورے دو مہینے نو دن بعد تمہیں دیکھ رہی ہوں ۔۔ سوچا تھا تم اس جگہ بہت بے چین ہوگے ۔۔ مگر ۔۔ یہ اطمینان کیسا ہے تمہارے چہرے پر فرہاد ؟ ‘‘ کافی دیر سے موجود اس خاموشی کو مایا کے سوال نے توڑا تھا ۔۔

’’ ضمیر کا اطمینان ہے مایا ۔۔ جب ضمیر پرسکون ہوتا ہے تو انسان کسی بھی قید میں اطمینان حاصل کرہی لیتا ہے ‘‘ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا تھا ۔۔ مایا نے دیکھا ۔۔ اسکی مسکراہٹ میں کچھ بھی بناوٹی نہیں تھا ۔۔

’’ میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں فرہاد ۔۔ تم سے ملنے کا دل چاہتا ہے میرا ۔۔ مگر تم ایسا نہیں چاہتے ‘‘ آنکھوں میں نمی صاف کرتے ہوئے مایا نے کہا تھا ۔۔

’’ میں ایسا کیوں نہیں چاہونگا مایا ۔۔ بہن ہو تم میری ‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے فرہاد نے کہا تھا ۔۔

’’ تو پھر احمد سے کیوں کہا تم نے کہ مجھے یہاں نہ آنے دے ‘‘

’’ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم آگے بڑھو مایا ۔۔ تم ہر روز یہاں نہیں آسکتی ۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔ یہ قید عمر بھر کی ہے ۔۔ تمہیں آنے سے منع نہیں کر رہا ۔۔ مگر ۔۔ جلدی مت آؤں پلیز ‘‘ فرہاد نے اس سے ریکوسٹ کی تھی ۔۔ جبکہ مایا نے سمجھ کر سر ہلایا تھا ۔۔

’’ تم فکر مت کرو ۔۔ میں واپس اسلام آباد جارہی ہوں ۔۔ اب ایک لمبے عرصے بعد آؤنگی ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے اسے انفارم کیا تھا ۔۔

’’ ہمیشہ خوش رہو میری بہن ‘‘ فرہاد نے دل سے دعا دی تھی ۔۔

کچھ دیر بعد وہ مصطفی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی اپنی منزل کی جانب جارہی تھی ۔۔

’’ تو پھر ۔۔ تم نے کیا سوچا ؟ ‘‘ کافی دیر کی خاموشی کو مصطفی نے توڑا تھا ۔۔

’’ کس بارے میں ؟ ‘‘ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے مایا نے پوچھا ۔۔۔

’’ تاریخ کے بارے میں ‘‘ مایا نے الجھ کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ آخر یہ کہہ کیا رہا ہے ؟

’’ کیسی تاریخ مصطفی ؟ ‘‘

’’ ہماری شادی کی تاریخ ۔۔ میں نے سوچا ہے کہ نیکسٹ ویک کا جمعہ ٹھیک ہے ۔۔ تم کیا کہتی ہو ؟ ‘‘ اور مصطفی کے معصومیت سے کئے گئے سوال نے مایا کو حیران کر دیا تھا ۔۔

’’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ‘‘ اور اب کانوں پر یقین نہ کرنے کی باری مایا کی تھی ۔۔

’’ مطلب یہ ڈئیر مایا ۔۔ کہ شادی نیکسٹ فرائی ڈے ٹھیک ہے یا پھر تم کہوں تو ہم کل ہی شادی کر سکتے ہیں ؟‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے اس نے بے فکری سے کہا تھا ۔۔ جیسے کوئی عام بات سی ہو ۔۔ جبکہ مایا بس یک ٹک اسے دیکھے گئ تھی ۔۔

’’ ٹھیک ہے پھر ہم کل کر لیتے ہیں ‘‘ اسے خاموش پاکر مصطفی نے کہاتھا ۔۔ نظریں مکمل طور پر راستے پر تھیں ۔۔

’’ نیکسٹ فرائی ڈے ٹھیک ہے ‘‘ دھیمی آواز میں کہتے ہوئے مایا نے کھڑکی کی جانب منہ پھیر لیا تھا ۔۔

’’ سوری ۔۔ کیا کہا آپنے ؟ ‘‘ اب کان خراب ہونے کی باری مصطفی کی تھی ۔۔ جانے آج کل سب کے کان کیوں خراب ہورہے تھے ؟

’’ نیکسٹ فرائی ڈے ٹھیک ہے مصطفی ‘‘ اس بار مایا نے تھوڑی اونچی آواز میں کہا تھا ۔۔

’’ آئی لائیک اٹ ‘‘ یعنی فائینلی کان ٹھیک ہوگئے تھے ۔۔ جبکہ امل کھڑکی سے باہر دیکھتی مسکرائی تھی ۔۔ ایک حقیقی مسکراہٹ ۔۔

جبکہ یہاں سے کچھ دور ۔۔ امل کی آنکھوں میں بندھی پٹی ماسٹر نے کھولی تھی ۔۔

آہستہ سے آنکھیں کھولتے ہوئے امل نے سامنے موجود اپنے اس گھر کو دیکھا ۔۔ جو اب ۔۔ بلکل نیا لگ رہا تھا ۔۔ پرانے واقعے کا کوئی نشان تک اس میں نہ تھا ۔۔ امل نے حیران ہوکر ساتھ کھڑے ماسٹر کی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ کیسا لگا ہمارا نیا گھر ؟ ‘‘ اسے کاندھے سےتھامتے ہوئے ماسٹر نے پوچھا تھا ۔۔

’’ بہت خوبصورت ۔۔ بلکل پہلے جیسا ۔۔ ‘‘ امل نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اور اب ہم دونوں اسے مزید خوبصورت بنا دینگے ۔۔ بہت کڑوی یادیں اس گھر سے جڑی ہیں امل ۔۔ کیا میرے ساتھ مل کر اسی جگہ نئ خوبصورت یادیں بناؤگی تم ؟ ‘‘ وہ سوال کر رہا تھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔

’’ انسان کا ماضی کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو ۔۔ اسکا حال کتنا ہی برا کیوں نہ ہو ۔۔ چیزوں سے جڑی اسکی یادیں کتنی کی کڑوی کیوں نہ ہو ۔۔ وہ ہر حال میں اسے گزار لیتا ہے ۔۔ سب سہہ لیتا ہے ۔۔۔ ہر مشکل حل کر لیتا ہے ۔۔ ہر کڑوی یاد کو مٹا دیتا ہے ۔۔ اگر ۔۔ کوئی ساتھ ہو ۔۔۔ ‘‘ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔۔

’’ تو جب تم میرے ساتھ ہو ماسٹر ۔۔ تو میں ہر جگہ ہر حالات میں نئ خوبصورت یادیں بنا سکتی ہوں ۔۔ بس ۔۔تم ساتھ ہو‘‘ اور اسی کے ساتھ ۔۔ وہ دونوں آگے بڑھے تھے ۔۔ اسی گھر کی جانب۔۔ جہاں سے سب شروع ہوا تھا ۔۔ اور جہاں سب جاری رہے گا ۔۔ ہمیشہ ۔۔ ایک دوسرے کے لئے ۔۔ ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *