Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 20)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

ہاتھ میں کچھ فائلز پکڑے وہ اپنے فلیٹ میں داخل ہوا تھا ۔۔ مگر اسے چونکنا پڑا ۔۔

’’ یہ ٹی وی کس نے چلایا ؟ ‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھا ۔۔ اور نظر صوفے پر لیٹے واجد پر پڑی تھی ۔۔

’’ تم ۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ وہ حیران ہوا تھا ۔۔ یہ اتنی جلدی یہاں کیسے پہنچ گیا ۔۔

’’ جہاں تک مجھے یاد ہے ۔۔ میں یہیں تمہارے ساتھ رہتا ہوں ‘‘ ٹی وی کا والیئم کم کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ فضول باتیں مت کرو ۔۔ تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ۔۔ ‘‘ فائلز میز پر رکھ کر وہ بھی اسکے سامنے بیٹھا تھا ۔۔

’’ تمہاری طرح مجھے ایک چھوٹا سا کام کرنے میں گھنٹے نہیں لگتے مصطفی ‘‘ وہ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔۔

’’ میرے جیسے کام تم پھر بھی نہیں کرسکتے ‘‘

’’ مگر تم سے کم بھی نہیں کرتا ‘‘ اپنی جیب سے ایک موبائل نکال کر اس نے مصطفی کے سامنے لہرایا تھا ۔۔

’’ آئی کانٹ بیلیو دِس ‘‘ مصطفی نے فوراً موبائل فرہاد کے ہاتھ سے لیا تھا ۔۔

’’ ڈونٹ ٹل می کہ تم نے یہ چوری کیا ہے ؟ ‘‘ مصطفی کو اسکی عقل پر شک تھا ۔۔

’’ تم بھول رہے ہو کہ میں نے بھی ماسٹر سے ہی ٹریننگ لی ہے ۔۔ اور ماسٹر نے ہمیں چوری نہیں سکھائی ‘‘ مصطفی کی بات تو جیسے اس کے دل پر لگی تھی ۔۔

’’ ارے ناراض کیوں ہورہے ہو ۔۔ بہت اچھا کام کیا ہے تم نے ۔۔ مجھے بس یہ فکر ہے کہ اب تم اسے اسکی اصل جگہ کیسے پہنچاؤگے ؟ ‘‘

’’ اسکی تم فکر مت کرو ۔۔ تم بس اپنے کام میں لگ جاؤ شاباش ‘‘ اسکا کاندھا تھپتھپا کر اس نے دوبارہ ٹی وی کا والیئم تیز کیا تھا۔۔

’’ وہ کہاں گیا تھا ؟ ‘‘ مصطفی نے کچھ دیر بعد پوچھا تھا ۔۔

’’ ایک ہوٹل گیا تھا وہ ۔۔ میں نے روم تک اسکا پیچھا کیا ۔۔ معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ وہ روم اسی کے نام پر بک کیا گیا ہے وہ بھی کئ مہینوں کے لئے ‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔

’’ مگر اسکے پاس تو آلریڈی ایک فلیٹ ہے ۔۔۔ پھر وہ روم کیوں بک کرنے لگا؟ ‘‘ مصطفی نے پوچھا تھا۔۔

’’ ظاہر ہے وہ روم اس نے نہیں بلکہ اسکے نام پر بک ہوا ہے ۔۔ کیوں وہ وہاں کسی سے ملنے گیا تھا اور ہم دونوں ہی جانتے ہیں کہ وہ اس طرح کس سے ملنے جاسکتا ہے ‘‘ واجد نے اسکے سوال کا جواب دیا تھا ۔۔ جس پر مصطفی نے سر ہلایا۔۔ وہ سمجھ چکا تھا ۔۔

’’ تم بتاؤ ۔۔ تمہیں کیا معلومات ملی وہاں سے ؟ ‘‘ اب واجد نے سوال کیا تھا ۔۔

’’ اپارٹمنٹ فرہاد کے نام پر ہے ۔۔ معلومات وہی ہے جو ہر جگہ سے ملتی ہے ۔۔ کوئی نئ چیز وہاں سے نہیں ملی مجھے ۔۔ مگر ۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ شاید کچھ سوچ رہا تھا ۔۔

’’ مگر ؟ ‘‘

’’ وہ لڑکا احمد جو اکثر اس کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔ اس کے علاوہ ایک لڑکی بھی ہے ۔۔ جو کل ہی شاید وہاں آئی تھی ۔۔ مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے ؟ ‘‘ مصطفی کو نئ پریشانی لگ گئ تھی ۔۔

’’ تو تم نے اسکا نام وغیرہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی ؟ ‘‘

’’ اتنی جلدی اتنا سب آسان نہیں ہوتا واجد ۔۔ بہت سیکریٹلی یہ سب کرنا ہے ۔۔ میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ مجھے اس لڑکی کا نام معلوم کرکے بتا دے ۔۔ وہ کہہ رہا تھا کہ جلد بتائے گا ‘‘ مصطفی کہہ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ہے ۔۔

’’ ان سب میں کہیں بھی شہزاد شاہ کا نام نہیں آرہا مصطفی ۔۔ ‘‘ واجد کی بات پر اسکے بڑھتے قدم رکے تھے ۔۔

’’ لیکن ان سب میں فرہاد بہت بری طرح پھنسا ہوا ہے ۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ خود کو کہاں قربان کرتا ہے ‘‘ وہ کہہ کر اندر جاچکا تھا جبکہ واجد کسی اور ہی سوچ میں گم ہوچکا تھا ۔۔



’’ کہاں گئے تھے تم دونوں ؟ ‘‘ امل اور ماسٹر کو اندر آتے دیکھ کر سادیہ بیگم نے پوچھا تھا ۔۔

’’ امل کو ہماری زمینیں دکھانے لے کر گیا تھا ۔۔ بہت ضد کر رہی تھی ‘‘ ماسٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اچھا ۔۔ مگر بتا کر تو جاتے ۔۔ میں پریشان ہوگئ تھی ۔۔ ‘‘

’’ سوری ماما ۔۔ مگر آپ تو جانتی ہیں میں ایسا ہی ہوں ‘‘ کاندھے اچکائے تھے ۔۔

’’ ہاں ۔۔ اور ہماری بہو کو بھی ایسا ہی بنا دیا ہے تم نے ‘‘

’’ میں نے نہیں ۔۔۔ یہ بھی ایسی ہی ہے اس لئے تو آپکی بہو ہے ‘‘ امل کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا جبکہ امل مسکرا دی تھی ۔۔

’’ کیسی لگیں ہماری زمینیں ؟ ‘‘ سادیہ بیگم بھی اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں ۔۔

’’ بہت خوبصورت ‘‘ اس نے دل سے تعریف کی تھی ۔۔

’’ چلو اب آرام کرلو تم دونوں ۔۔ میں چائے بھجواتی ہوں ‘‘

’’ میری چائے سٹڈی میں بھجوا دیجئے گا ۔۔ بابا سے کچھ بات کرنی ہے میں نے ‘‘ ماسٹر کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا جبکہ سادیہ بیگم سر ہلاتی ہوئی کچن کی جانب گئ تھیں ۔۔

’’ تو تم واقعی یہ کرنے جارہے ہو ‘‘ کمرے میں آتے ہی امل نے ماسٹر سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ مجھے ایک وفادار بیٹا تو بننا ہی ہوگا نہ امل ‘‘ کاندھے اچکائے تھے ۔۔

’’ اوک ماسٹر ۔۔ گڈ لک ‘‘ وہ سرہلاتا ہوا کمرے سے نکل چکا تھا جبکہ امل نے گہری سانس لی تھی ۔۔

وہ سیدھا سٹڈی کی جانب گیا مگر اسے راستے میں ہی رکنا پڑا تھا ۔۔

’’ آپکی چائے ؟ ‘‘ زویا چائے کا کپ اس کے سامنے لئے کھڑی تھی ۔۔

’’ تھینک یو ‘‘ اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر وہ دوبارہ آگے بڑھا تھا ۔۔

’’ نائل ‘‘ زویا کی آواز پر قدم رکے تھے ۔۔

’’ وہ بہت مختلف ہے ۔۔ آپ سے الگ ۔۔ آپ کے قابل نہیں ہے وہ ‘‘ اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا تھا۔۔ جبکہ ماسٹر اب ماتھے پر بل لئے اسکی جانب مڑا تھا ۔۔

’’ تو کیا تم میرے قابل ہو زویا ؟ ‘‘ ایک سوال اس پر اچھال کر وہ سٹڈی روم میں جاچکا تھا ۔۔ جبکہ زویا توہین کے احساس سے لال ہوچکی تھی ۔۔

’’ تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون تمہارے قابل ہے اور کون نہیں ‘‘ بڑبڑاتی ہوئی وہ پیر پٹختی اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی ۔۔

شہزاد شاہ جو جانے کن سوچوں میں گم تھے ۔۔ مگر نائل کو اندر آتے دیکھ کر چونکے تھے ۔۔

’’ تو بابا کی یاد آگئ تمہیں ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ آپکو کیسے بھول سکتا ہوں بابا ۔۔۔ ‘‘ سامنے رکی کرسی پر وہ انکے سامنے بیٹھا تھا ۔۔

’’ جب سے وہ لڑکی تمہاری زندگی میں آئی ہے ۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تم بھول ہی چکے ہو ‘‘ سنجیدگی سے کہا تھا۔۔

’’ وہ لڑکی میری محبت ہے بابا ۔۔ جو اسکی جگہ ہے وہ آپکی نہیں ۔۔ اور جو آپکی جگہ ہے ۔۔ وہ کوئی اور نہیں لے سکتا ‘‘

’’ وہ تمہیں کہاں ملی نائل ؟ ‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد شہزاد شاہ نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔۔

’’ کہاں ملی یہ اہمیت نہیں رکھتا ۔۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ مجھے کس حال میں ملی ‘‘ چائے کا خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کس حال میں ملی ؟ ‘‘ انہیں تجسس ہوا تھا ۔۔

’’ بہت برے حال میں ۔۔ بہت ٹوٹی ہوئی ۔۔ زندگی سے بلکل بیزار ‘‘ اس نے سچائی سے کہا تھا ۔۔

’’ ایسا کیا ہوا اسکے ساتھ ؟ اور ۔۔ میرا بھائی ؟؟ وہ کہاں ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ اب سب جان لینا چاہتے تھے ۔۔

’’ جہانگیر چچا نہیں رہے بابا ۔۔ ان دونوں کا انتقال ہوگیا ہے ‘‘ افسوس بھرے انداز میں شہزاد شاہ کی جانب غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ واٹ ۔۔۔۔ !! جہانگیر ۔۔ وہ ۔۔۔ مگر کیسے ؟ ‘‘ وہ اپنی جگہ سے فوراً کھڑے ہوئے تھے ۔۔ ایسے جیسے کوئی بہت بڑھا دھچکہ لگا ہو ۔۔

’’ انکا مرڈر ہوا ہے ‘‘ اور بس اتنی سی بات پر شہزاد شاہ کانپ گئےتھے ۔۔ کہیں وہ کچھ جانتا تو نہیں تھا ؟

’’ مرڈر ؟؟ کس نے کیا ۔۔ بتاؤ مجھے ۔۔ میرے بھائی کو کس نے قتل کیا نائل ۔۔ میں اسے برباد کردونگا ‘‘ وہ جیسے تڑپ کر کہہ رہے تھے ۔۔ چہرہ غصے اور افسوس سے لال تھا ۔۔

’’ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس نے کیا ۔۔۔ ‘‘ وہ بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ’’ مگر میں بہت جلد یہ معلوم کرلونگا ۔۔ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور شہزاد شاہ اسکے ارادوں سے ڈر گیا تھا ۔۔

’’ لیکن یہ سب ہوا کیسے ؟ ‘‘

’’ انکے گھر میں آگ لگ گئ تھی ۔۔ خوش قسمتی سے امل اس وقت گھر سے باہر تھی ۔۔۔ مگر جب وہ پہنچی ۔۔ تو وہاں کچھ نہیں بچا تھا ‘‘

’’ لیکن ۔۔ یہ ایک حادثہ بھی تو ہوسکتا ہے ۔۔ تمہیں ایسا کیوں لگا کہ یہ قتل ہے ؟ ‘‘

’’ کیونکہ اگر یہ حادثہ ہوتا ۔۔ تو اس گھر میں ہمیں ڈیڈ باڈیز مل جاتیں ۔۔ مگر وہاں کچھ نہیں تھا ۔۔ ایسا صرف قتل چھپانے کے لئے کیا جاتا ہے بابا ‘‘ اور شاید یہی وہ جگہ تھی جہاں شہزاد شاہ سے غلطی ہوئی تھی ۔۔ مگر نہیں ۔۔ غلطی تو فرہاد سے ہوئی تھی ۔۔ نہ وہ لڑکی بچتی اور نہ ہی کسی کو کچھ معلوم ہوتا ۔۔۔ انہیں اب فرہاد پر پہلے سے زیادہ غصہ آنے لگا تھا ۔۔

’’ تم فکر مت کرو ۔۔ میں اس شخص کو ڈھونڈ کر زندہ جلا ڈالونگا نائل ۔۔ جیسے اس نے میرے بھائی کو جلایا ‘‘ غصے سے اپنی مٹھیاں بند کرتے انہوں نے کہا تھا ۔۔

’’ میں بھی یہی چاہتا ہوں بابا ۔۔ وہ جو بھی ہے۔۔ اسے اس کے کیے کی سزا میں دلوا کر رہونگا ۔۔ امل سے وعدہ کیا ہے میں نے ‘‘ انکی آنکھوں میں جھانک کر اس نے کہا تھا ۔۔

’’ مجھے آپکی مدد چاہئے ۔۔ ‘‘ ماسٹر کی بات پر شہزاد شاہ نے اسے چونک کر دیکھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ بولو ؟ ‘‘

’’ امل کی زندگی کو خطرہ ہے ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اسکی حفاظت کریں ۔۔ اپنے کام کی وجہ سے میرا باہر آنا جانا لگا رہتا ہے ۔۔ اور اپنے بعد میں صرف آپ پر بھروسہ کر سکتا ہوں ‘‘

’’ تم فکر مت کرو ۔۔ وہ میری بیٹی ہے ۔۔ میرے جہانگیر کی نشانی ۔۔ اسکی حفاظت میں اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرونگا‘‘

نائل کے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ مجھے آپ پر پورا یقین ہے ۔۔ چلتا ہوں ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا ۔۔ جبکہ شہزاد شاہ کا پریشانی سے برا حال ہوچکا تھا۔۔

’’ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔ نہیں ہونا چاہئے تھا ایسا ‘‘ میز کی تمام چیزیں ایک بلد آواز سے نیچے گری تھیں۔۔

وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں امل بے چینی سے چکر لگا رہی تھی ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ اسے اندر آتے دیکھ کر فوراً پوچھا تھا ۔۔

’’ تیر کا رخ نشانے پر ہے ۔۔ اب اسے کمان سے تم نے نکالنا ہے ‘‘

’’ میں جانتی ہوں میں نے کیا کرنا ہے ؟ مگر ۔۔۔ رئیکشن کیا تھا ؟ ‘‘

’’ وہی ۔۔ جو ایک بھائی کا ہوتا ہے ۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا تھا ۔۔ اب امل کو وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا۔۔۔ وہ جتنا بھی پریٹنٹ کر لے ۔۔ اسکا درد اسے پھر بھی محسوس ہوجاتا تھا ۔۔

’’ اوک ماسٹر ۔۔ ‘‘ گہری سانس لے کر وہ باہر کی جانب بڑھی تھی ۔۔ اس نے خود کو تیار کرنا تھا ۔۔ اگلے وار کے لئے۔۔

’’ کیا بن رہا ہے ؟ ‘‘ کچن میں داخل ہوتے ہوئے اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا ۔۔

’’ بیگم صاحبہ نے کوفتے بنانے کا کہا ہے ۔۔ آپ کو کچھ چاہئے ‘‘

’’ نہیں ۔۔ مجھے میٹھے کا سامان نکال کر دے دو ۔۔ آج میٹھا میں بناؤنگی ‘‘ کچن میں آتی زویا نے اسکی بات سن لی تھی ۔۔

’’ اوہ ۔۔ تو کچھ پکانا بھی آتا ہے تمہیں ؟ ‘‘ طنزیہ لہجہ تھا ۔۔

’’ کیوں ۔۔ تمہیں کیا لگا ؟ ‘‘ سینے پر ہاتھ باندھتے امل نے کہا تھا ۔۔

’’ تم جیسی لڑکی ۔۔ ‘‘ اسے سر سے پاؤں تک تنقیدی نگاہوں سے دیکھا تھا ’’ گھر کے کام کاج جانتی ہو ۔۔ یہ کچھ نیا ہے‘‘ اور اسکی بات پر امل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ مجھ جیسی لڑکی ۔۔ گھر کے کام اور گھر والوں کے کام ۔۔ دونوں بہت اچھے سے جانتی ہے ۔۔ اس لئے ‘‘ وہ ایک قدم اس کے قریب ہوئی تھی ’’ مجھ جیسی لڑکی کو انڈرایسٹیمیٹ مت کرنا ۔۔ باقی ۔۔ نائل سے پوچھ سکتی ہو تم ‘‘ ایک مسکراہٹ اس پر اچھال کر وہ دوبارہ ملازمہ کی جانب مڑی تھی ۔۔

’’ چینی کہاں رکھی ہے ۔۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر اب اپنے کام میں مصروف ہوچکی تھی ۔۔ جبکہ زویا ۔۔ سرخ چہرہ لئے جاچکی ۔۔



’’ یہ احمد کہاں گم ہے ؟ ’‘ اپنے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے اسے اچانک احمد کا خیال آیا تھا ۔۔ شہزاد شاہ کی باتوں نے اسے مزید پریشان کر دیا تھا ۔۔ اسے ان سب کے بارے میں احمد سے بات کرنی تھی ۔۔

اپنا موبائل نکال کر وہ احمد کا نمبر ڈائل کرنا چاہتا تھا مگر ۔۔ اسے چونکنا پڑا تھا۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘ چہرے پر پریشانی اور الجھن کے تعصورات تھے ۔۔

’’ یہ میرا موبائل نہیں ہے ؟؟ ‘‘ موبائل صوفے پر پھینکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ موبائل کہاں گیا ؟؟ ‘‘ اپنے بالوں کو انگلیوں میں جکڑتے ہوئے اب وہ کمرے میں مزید تیزی سے چکرا رہا تھا ۔۔ کہ اچانک ۔۔ اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ اسکا اپنا نمبر تھا ۔۔

’’ ہیلو ؟ ‘‘

’’ ہیلو کون بات کر رہا ہے ‘‘ ایک انجان آواز کانوں سے ٹکرائی تھی ۔۔

’’ تم کون ہو ۔۔ اور میرا موبائل تمہارے پاس کیا کر رہا ہے ؟ ‘‘

’’ اوہ آئی ایم سو سوری سر ۔۔ مجھے لگتا ہے ہمارے فونز ایکسچینج ہوگئے ہیں ‘‘

’’ مجھے میرا موبائل فوراً واپس چاہئے ‘‘

’’ لیکن ابھی تو میں شہر سے دور ہوں سر ۔۔ رات بھی ہورہی ہے ۔۔ میں صبح آپکو واپس کردونگا فون ۔۔ آپ مجھے اپنا ایڈریس بھیج دیں ‘‘ وہ لڑکا واقعی بہت پریشان لگ رہا تھا ۔۔

’’ اوک ۔۔ میں بھیجتا ہوں ۔۔ مگر ۔۔۔ میرا موبائل یوز کرنے کی کوشش بھی مت کرنا ‘‘ اس نے دھمکایا تھا ۔۔ جبکہ دوسری جانب واجد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ آپ پریشان مت ہو سر ۔۔ آپکی امانت ہے یہ۔۔ میں سنبھال کر رکھونگا ‘‘ فرہاد نے بنا کچھ کہے موبائل دوبارہ صوفے پر پھینکا تھا ۔۔

’’ کیا مصیبت ہے ‘‘ بڑبڑاتا ہوا وہ اپنے کمرے کی جانب گیا تھا ۔۔

’’چلو بھئ ۔۔ صبح تک کا ٹائم ہے تمہارے پاس ‘‘ مصطفی کی جانب موبائل بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ بہت ہے ‘‘ موبائل اس کے ہاتھوں سے لے کر وہ اپنے کمرے میں جاچکا تھا اسے آج بہت سے کام کرنے تھے۔۔



’’ میں آجاؤں ؟‘‘ سٹڈی کا دروازہ تھوڑا کھولتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ آجاؤ بیٹا ‘‘ شہزاد شاہ نے اخبار بند کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ آپ کھانا کھانے نہیں آئے ۔۔ میں نے کھیر بنائی تھی ۔۔ سوچا آپ کے لیے یہی لے آؤں ‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے کھیرشہزاد شاہ کے سامنے رکھی تھی ۔۔

’’ تھینک یو ۔۔ بیٹھو ‘‘ اسے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔

’’ نہیں بس میں چلتی ہوں ۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر پلٹی تھی ۔۔

’’ سنو ‘‘ شہزاد شاہ کی آواز نے اسکے بڑھتے قدم روکے تھے ۔۔ مگر وہ پلٹی نہیں ۔۔

’’ جی ‘‘

’’جہانگیر کی موت کا بہت افسوس ہے مجھے ‘‘ انہوں نے کہا تھا ۔۔ اور امل کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے ۔۔

’’ تم پریشان مت ہونا ۔۔ یہ جس نے بھی کیا ہے ۔۔ میں اسے چھوڑونگا نہیں ‘‘ غصہ اس کے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا تھا ۔۔ مگر ۔۔ خود کو کنٹرول کرنا بھی ضروری تھا ۔۔ وہ ایک گہری سانس لےکر پلٹی تھی ۔۔

’’ مجھے یقین ہے کہ وہ جو بھی ہے ۔۔ ایک دن اپنے کیے کی سزا پائے گا ۔۔ کھیر کھا کر بتائیے گا کہ کیسی بنی ہے ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے باہر نکل چکی تھی ۔۔ جبکہ شہزاد شاہ کی نظر کھیر پر پڑی تھی ۔۔

’’ کھیر دے آئی تم ؟ ‘‘ موبائل پر ماسٹر کا مسیج آیا تھا ۔۔

’’ جی ۔۔ ‘‘

’’ گڈ ۔۔۔ میں آج رات نہیں آؤنگا ۔۔ ‘‘ جواب فوراً آیا تھا ۔۔

’’ اوک ۔۔ ‘‘ ایک اور مختصر جواب دیا تھا۔۔

’’ کچھ ہوا ہے کیا ؟ ‘‘ وہ شاید سمجھ چکا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ وہ پاپا کی موت کا افسوس کر رہے تھے ‘‘ اور امل کے جواب نے اسے ساری بات بتا دی تھی ۔۔ کاش وہ اس کے ساتھ ہوتا تو شاید اسکی اداسی ختم کر پاتا ۔۔ مگر وہ وہاں نہیں تھا ۔۔ آج رات اسے بہت کام کرنے تھے ۔۔

’’ کل ملاقات ہوتی ہے ‘‘ جواب دے کر اس نے موبائل واپس رکھا تھا ۔۔ وہاں امل اب اپنی آنکھیں صاف کرتی ہوئی بیڈ کی جانب بڑھی تھی ۔۔ اور یہاں ماسٹر دوبارہ اپنے سامنے بیٹھے شخص کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ تو پھر ۔۔ کیا معلومات ملی ہے اب تک ؟ ‘‘ سامنے بیٹھے شخص نے ایک فائل اسکی جانب بڑھائی تھی۔۔ جسے اس نے خاموشی اور سنجیدگی سے تھاما تھا ۔۔



’’ کیسی ہو مایا ؟ ‘‘ موبائل پر آنے والے مسیج نے اسے ڈرا دیا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہو ‘‘ مختصر سا جواب دے کر اس نے موبائل واپس بیڈ پر رکھا تھا ۔۔ مگر اگلے ہی لمحے دوبارہ مسیج آیا تھا ۔۔

’’ کہاں ہو ؟ ‘‘ اس لڑکی نے اپنے آس پاس نظر ڈالی ۔۔ وہ اس روم میں موجود تھی جہاں کچھ دن سے اسے رہنے کے لئے کہا گیا تھا ۔۔

’’ ہسپتال میں ہوں ۔۔ نائٹ جاب ہے ‘‘ ایک اور ریپلائی دیا تھا ۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ مسیج بھیجنے والا کون ہے ؟ کیونکہ نمبر سیو نہیں تھا ۔۔ مگر وہ بس وہی جواب دے رہی تھی ۔۔ جو اسے دینے کے لئے کہا گیا تھا ۔۔

’’ سب ٹھیک ہے نا ؟ ‘‘ کچھ دیر بعد پوچھا گیا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ میں چلتی ہوں ایک پیشینٹ کو دیکھنا ہے ‘‘ جواب دے کر اس نے موبائل واپس رکھا تھا ۔۔ یہ ڈاکٹر مایا اسے کس مصیبت میں پھنسا کر چلی گئ تھیں ؟

جبکہ دوسری جانب موجود مصطفی کچھ کنفیوز ہوگیا تھا ۔۔

’’ کچھ گڑبڑ ہے ‘‘ خود سے کہتے ہوئے اس نے موبائل واپس رکھا تھا ۔۔ لیکن وہ اس بارے میں زیادہ سوچ نہیں سکتا تھا ۔۔ کیونکہ اسے آج بہت سے اہم کام نپٹانے تھے ۔۔ مگر ایک بات تو طے تھی ۔۔ مایا کچھ چھپا رہی تھی ۔۔ مگر کیا ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *