Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 17)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 17)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
وہ آج واقعی بہت تھک گئ تھی ۔۔ پہلے ماسٹر کے ساتھ وہ فضول سی شاپنگ ۔۔۔ جہاں اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔۔ اسکے بعد لنچ ۔۔ پھر جانے ماسٹر کو ایسی کونسی میٹنگ کرنی تھی کہ وہ اسے ایک گھنٹہ ریسٹورانٹ میں بٹھا کر خود غائب رہا ۔۔ اور اب ۔۔ شکر ہے کہ وہ ہوٹل واپس آئے تھے ۔۔ ان دونوں کے درمیان کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی ۔۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے اور ماسٹر اپنے کمرے میں جاچکا تھا ۔
کمرے میں آتے ہی اس نے لائٹس آن کی تو نظر سیدھا بیڈ پر گئ تھی ۔۔
’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘ اس نے آگے قدم بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔ بیڈ پر تقریباً دس شاپنگ بیگز رکھے تھے ۔۔
اس نے ایک ایک کر کے اندر دیکنا شروع کیا اور اسکے آنکھیں حیرانگی سے کھل گئ تھیں ۔۔ یہ سب تو وہی ڈریسز تھے جو ماسٹر نے ریجیکٹ کئے تھے ۔۔۔ تو اسکا مطلب ؟؟
’’ تمہیں تو میں چھوڑونگی نہیں ماسٹر ‘‘ بڑبڑاتی ہوئی وہ اپنے روم سے نکلنے لگی تھی کہ پھر۔۔ کچھ سوچ کر وہ رکی تھی ۔۔
اور پھر ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا ۔۔
’’ چلو پھر ۔۔ گیم ہے تو گیم ہی سہی ‘‘ وہ اب یہ بیگز بیڈ سے اٹھا کر الماری میں رکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ حویلی سے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تھا جہاں احمد اسکا انتظار کر رہا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ اسکے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ کر احمد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ چلو جلدی ‘‘ سیٹ پر سر ٹکائے اس نے آنکھیں موندی تھیں ۔۔
احمد نے خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں ہوٹل کے اس کمرے میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے ۔۔
’’ کیا بات ہے باس ۔۔ بتائیں مجھے ‘‘ احمد سے اب مزید انتظار نہیں ہورہا تھا ۔۔
’’ وہ لڑکی ۔۔۔ وہ انتقام چاہتی ہے ‘‘
’’ انتقام ؟ ‘‘ احمد حیران ہوا تھا۔۔
’’ ہاں ۔۔ انتقام ۔۔۔ وہ پاگل لڑکی ۔۔ شہزاد شاہ سے ٹکر لے رہی ہے ۔۔ وہ بھی برابری پر ‘‘ کمرے میں چکر لگاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ برابری پر کیسے ؟ ‘‘ احمد اب بھی کنفوز تھا ۔۔ امل شہزاد شاہ کے برابر کیسے جان سکتی تھی ؟
’’ تم جانتے ہو اس نے کیا کیا ہے ؟ وہ کل حویلی گئ تھی ۔۔ شہزاد شاہ کے بیٹے نائل شاہ کے ساتھ ‘‘
’’ کیوں ؟ ‘‘
’’ شہزاد شاہ کو یہ بتانے کے وہ انکے برابر آچکی ہے کیونکہ وہ اب صرف انکی بھتیجی نہیں ۔۔ بلکہ انکی بہو بھی بن چکی ہے‘‘
’’ واٹ !! ‘‘ احمد اپنی جگہ سے کھڑا ہواتھا ۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ امل نے شادی کرلی ؟ لیکن شانزے نے تو اسے ایسا کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔۔
’’ یس ۔۔ نائل شاہ سے نکاح کر لیا ہے اس نے ۔۔ جانتے ہو کیوں ؟ ‘‘ اسکے سامنے کھڑا وہ کہہ رہا تھا ۔۔
’’ کیوں ؟ ‘‘
’’ کیونکہ وہ بے وقوف لڑکی انتقام لینا چاہتی ہے ۔۔ اسے لگتا ہے کہ کوئی اسے سمجھ نہیں سکتا ۔۔ لیکن مجھے سب سمجھ آگیا ہے ۔۔ ‘‘ بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔۔
’’ لیکن وہ یہ کیسے جانتی ہے کہ شہزاد شاہ نے سب کیا ہے ؟ ‘‘ احمد کے سوال پر وہ رکا تھا ۔۔
’’ یہ تو کوئی بھی نہیں جان سکتا ‘‘
’’ ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔۔۔‘‘ فرہاد صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔ ’’ مگر پھر اس نے ایسا کیوں کیا ؟ ‘‘
’’ ہوسکتا ہے یہ اتفاق ہو ۔۔ خود سوچیں باس ۔۔ اگر اسے معلوم ہوتا سب تو وہ نائل شاہ سے کبھی شادی نہ کرتی ۔۔ اور اگر نائل شاہ کو کچھ معلوم ہوتا تو وہ کبھی اسے شہزاد شاہ کے سامنے نہیں لاتا ۔۔ یہ ضرور ایک اتفاق ہے ‘‘ احمد کی بات اسے ٹھیک لگ رہی تھی ۔۔ اگر نائل شاہ کو کچھ بھی معلوم ہوتا تو کبھی اسے حویلی میں لانے کا خطرہ نہیں مول لیتا ۔۔
’’ تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔ اب اس معاملے کو ہمیں کسی اور انداز میں حل کرنا ہوگا ۔۔ ‘‘
’’ کس انداز سے ؟ ‘‘ احمد نے پوچھا تھا ۔
’’ سکون سے ۔۔ سیاست سے ‘‘
’’ میں چلتا ہوں باس ۔۔ ‘‘ احمد وہاں سے جاچکا تھا ۔۔ جبکہ وہ اپنی سوچوں میں واپس گم ہوچکا تھا ۔۔
جانے امل کیسی ہوگی ؟ کتنے دن ہوگئے اس سے بات کئے ہوئے ۔۔ اب اس سے بات بھی کیا کرونگا میں ؟ یہ کہانی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی امل کہ میں کوئی نئ کہانی شروع کروں ۔۔
موبائل کی بجنے والی ٹیون اسے امل کی سوچوں سے باہر لائی تھی ۔۔
’’ ہیلو ‘‘ بنا دیکھے کال ریسیو کی تھی ۔۔
’’ کیسے ہو ؟ ‘‘ مایا کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی ۔
’’ ٹھیک نہیں ہوں ۔۔ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوں مایا ۔۔ سب خراب ہوگیا ہے ۔۔ سب بگڑ گیا ہے ‘‘
’’ کیا ہوا ہے فرہاد ؟ ‘‘ وہ پریشان ہوئی تھی ۔
’’ کیا وہ سب جانتئ ہے ؟ ‘‘ سوال ہوا تھا ۔۔
’’ مجھے ایسا نہیں لگتا ‘‘ جھوٹ کہنا ہی ٹھیک تھا ۔۔
’’ تو پھر کیا یہ سب اتفاق ہے مایا ۔۔ نائل شاہ کے ساتھ ہونا ۔۔ اور ۔۔ اس سے شادی کرنا ‘‘
’’ واٹ !! شادی ؟ ‘‘ اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ماسٹر امل سے شادی کیسے کر سکتے ہیں ؟
’’ تو تم بھی نہیں جانتی ۔۔ مجھے تمہارے اتنے بے خبر رہنے کی امید نہیں تھی مایا ۔۔ اگر تم اپنے کان کھلے رکھتی تو شاید آج یہ سب نہ ہوتا ‘‘ اسے مایا پر اب غصہ آنے لگا تھا ۔۔
’’ مجھے ان سب کی امید نہیں تھی ۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ مجھ سے اتنا سب چھپائے گا ‘‘ اسے واقعی افسوس ہوا تھا ۔۔ مصطفی نے اس سے کتنے جھوٹ کہے تھے ۔۔ اس نے بنا کچھ کہے کال کٹ کردی تھی ۔۔
’’ مجھے تم سے ملنا ہے ‘‘ ایک مسیج مصطفی کو سینڈ کیا تھا ۔
’’ سوری مایا۔۔ مگر میں ایک مشن میں بزی ہوں ‘‘ دس منٹ بعد آنے والے اس جواب پر مایا نے اپنا موبائل سامنے رکھی میز پر پٹخا تھا ۔۔
’’ دیکھتے ہیں تمہارا مشن بھی اب ‘‘ خود سے کہتے ہوئے اس نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا تھا ۔۔ شاید اب اسے ایک اہم کام کرنا تھا ۔۔
دروازے پر ہونے والی مسلسل دستک اسے نیند کی وادی سے باہر لائی تھی ۔۔
آرہا ہوں ‘‘ کہتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا اور پھر ۔۔ سامنے کے منظر پر نیند آنکھوں سے فوراً ہی بھاگی تھی ۔۔
یلو شرٹ کے ساتھ بلیک ٹاؤزر پہنے ، بالوں کی پونی ٹیل بنائے ، ہائی ہیلز اور ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ حسین لگ رہی تھی ۔۔ اور الگ بھی ۔۔
’’ یہ تمہیں گھورنے کی عادت کب سے لگ گئ ماسٹر ‘‘ اور ایک بار پھر امل کی زبان اسے ہوش میں لے آئی تھی ۔۔
’’ جب سے تم نے اتنا تیار ہونا شروع کیا ہے ‘‘
’’ اوہ ۔۔ تو اسکا مطلب ہے کہ میری تیاری تمہارے ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔
’’ ہاں ۔۔ ظاہر ہے ۔۔ آخر کو تم چڑیل جو ہو ۔۔ مجھ جیسے نازک دل انسان کے ہوش تو اڑیں گے نا ‘‘
’’ کچھ بھی کہہ دوں ۔۔ برا نہیں لگے گا مجھے ۔۔ ‘‘
’’ کیوں ؟ ‘‘ وہ حیران ہوا تھا ۔۔ امل اور جواب نہ دے ؟؟ ایسا کیسے ہوسکتا تھا ؟
’’ کیونکہ میں یہاں تم سے بحث کرنے نہیں بلکہ تمہیں کچھ دینے آئی ہوں ‘‘ ایک بیگ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔
’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘ بیگ اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
’’ میں نے دیکھا ۔۔ تم نے اتنے سارے ڈریسز لئے میرے لئے ۔۔ تو میرا بھی فرض بنتا ہے نہ تمہارے لئے کچھ لینا ۔۔ اس لئے میں یہ شرٹ لائی ہوں تمہارے لئے ۔۔ تیار ہوجاؤ ڈنر پر جانا ہے ۔۔ میں نیچے تمہارا انتظار کررہی ہوں ۔۔‘‘
اور ماسٹر کو حیران چھوڑ کر وہ وہاں سے جاچکی تھی ۔۔ اس نے دیکھا وہ ایک وائیڈ شرٹ تھی ۔۔
’’ اسے کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ وہ اس بدلے انداز کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے ریسٹورانٹ کی جانب جارہے تھے ۔۔ دونوں کی نظریں سامنے تھی مگر امل ۔۔ کن انکھیوں سے ماسٹر کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
’’ اچھے لگ رہے ہو ‘‘ اور امل کی بات نے ماسٹر کو اس کی جانب دیکھنے پر مجبور کیا تھا ۔۔
’’ کیا کہا تم نے ؟؟ ‘‘ اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ا س نے پوچھا تھا ۔۔
’’ میں نے کہا ۔۔ اچھے لگ رہے ہو تم ماسٹر ‘‘ اس کی جانب غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کچھ تو گڑبڑ ہے امل ۔۔ کچھ تو ہے ‘‘ اپنی گردن کو مسلسل ملتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا ۔۔ جانے کیوں ؟ جبکہ امل مسکرا دی تھی ۔۔ گڑبڑ بھی معلوم ہوجائے گی ماسٹر ۔۔ جسٹ ویٹ ۔۔
اس نے گاڑی ایک ریسٹورانٹ کے سامنے روکی تھی ۔۔۔ امل فوراً باہر نکلی تھی ۔۔
’’ کیا ہورہا ہے ؟ ‘‘ اپنی گردن ملتے ہوئے وہ باہر نکلا تھا ۔۔ جانے اسکی گردن میں اتنی جلن کیوں ہورہی تھی ۔۔
امل تیزی سے ریسٹورانٹ کے اندر آئی تھی جبکہ ماسٹر اس کے پیچھے پیچھے ۔۔
اس نے محسوس کیا ۔۔ اسکی گردن کے ساتھ ساتھ اب اسکی کمر میں بھی ایسی ہی جلن شروع ہوئی تھی۔۔
’’ کیا ہوا ماسٹر ۔۔بیٹھو نا ‘‘ اسے مسلسل کھڑا پاکر امل نے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ‘‘ وہ اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔ کرسی کی پشت پر کمر ٹکاتے ہوئے ۔۔
’’ کچھ ہوا ہے کیا ۔۔ تمہارے چہرے کا رنگ کیوں اڑ رہا ہے ؟ ‘‘ معصومیت سے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ تم نے کیا کیا ہے امل ؟ ‘‘ اپنی گردن ، پیٹ ، کمر اور بازؤں میں اسے اب کچھ عجیب محسوس ہونے لگا تھا ۔۔
’’ میں نے کیا کرنا ۔۔۔۔۔ ‘‘ ابھی امل کی بات مکمل ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ اٹھ کر اندر کی جانب تقریباً بھاگا تھا ۔۔
’’ اب آئے گا مزہ ۔۔۔ ویٹر ‘‘ اور اب امل میڈم نے اپنا آرڈر دینا تھا ۔۔
اس نے اپنی شرٹ اتار کر واش روم کے مرر میں خود کو دیکھا تھا ۔۔ گردن ، بازو ، پیٹ ، کمر ہر جگہ اسے ہلکے ہلکے لال نشان نظر آرہے تھے ۔۔
’’ اف امل ۔۔ میں تمہیں میں چھوڑونگا نہیں ‘‘ اسے اب ہر جگہ خارش محسوس ہورہی تھی ۔۔جو بڑھتی ہی جارہی تھی ۔۔
اف ۔۔۔ اپنی شرٹ فوراً سے پہن کر وہ باہر نکلا تھا ۔۔ اس نے دیکھا امل اسکی جانب ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔۔ وہ فوراً اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ میں تمہیں ۔۔۔۔‘‘ اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔
’’ دیکھ لونگا تمہیں امل ‘‘ اپنی پیٹ پر ہاتھ ملتے ہوئے وہ باہر کی جانب بھاگا تھا ۔۔ اور اتنی دیر سے روکی ہوئی امل کی ہنسی اب آزاد ہوئی تھی۔۔۔ واہ کیا بات ہے تمہاری امل !
وہ تقریباً پوری رات ہی شاور لیتا رہا تب جاکر اسے کچھ سکون ملا تھا ۔۔۔ امل نے تو حد ہی کردی تھی۔۔ لیکن اسکے علاوہ امل سے کس چیز کی توقع ہی کیا کی جاسکتی تھی ؟ آخر بدلہ لینا تو اسکا اول فریضہ تھا ۔۔
اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے ۔۔ اور وہ اپنے روم میں موجود لیپ ٹاپ پر کسی ضروری کام میں بزی تھا ۔۔ جب دروازے پر ناک ہوا ۔۔
’’ کم ان ‘‘ لیپ ٹاپ میں نظریں جماتے ہوئے کہا تھا ۔۔
امل دروازہ کھول کر اندر آئی اور اس کے پیچھے کوئی اور بھی تھا جس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی ۔۔۔
’’ اسے یہاں رکھ دیں ۔ ‘‘ میز پر ٹرے رکھ کر وہ شخص وہاں سے جاچکا تھا جبکہ ماسٹر امل کو کھا جانے ولای نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ ایسے مت دیکھو مجھے ۔۔ تمہارے لئے ناشتہ لائی ہوں ‘‘ معصومیت سے کہتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔
’’ اور اب اس میں کیا ملایا ہے تم نے ؟ ‘‘ لیپ ٹاپ بند کیا تھا ۔۔
’’ کچھ بھی نہیں ۔۔ چلو ۔۔ ناشتہ کرتے ہیں ‘‘ چائے کا کپ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔ جسے خاموشی سے تھاما گیا تھا ۔۔
’’ اور اب اس ناشتے کی مہربانی کی وجہ ؟ یقیناً تم شرمندہ ہوکر تو کچھ نہیں کرسکتی ‘‘
’’ شرمندہ ہونے والی کوئی حرکت کی بھی نہیں ہے میں نے ۔۔ لیکن ۔۔۔ ہاں۔۔ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں ‘‘
‘’ کہو ‘‘ چائے کا سپ لیا تھا ۔۔
’’ میں واپس ۔۔ ‘‘ ماسٹر کےموبائل پر آنے والی کال نے اسے آگے کہنے سے روکا تھا ۔ماسٹر نے موبائل اٹھا کر نام پڑھا اور اس کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔
’’ کس کی کال ہے ؟ ‘‘ اسکا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔
’’ ہیلو ‘‘ کال ریسیو کی تھی ۔
’’ ٹھیک ہوں بابا ۔۔ آپ کیسے ہیں ؟ ‘‘ اور اس ’ بابا ‘ لفظ پر امل چونکی تھی ۔۔
’’ جی ۔۔۔ کیا ؟ ‘‘ اس نے ماسٹر کے چہرے پر حیرانی دیکھی تھی ۔۔
’’ اوک ۔۔ ‘‘ کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔
’’ شہزاد شاہ کی کال تھی ؟ ‘‘ امل کے سوال پر اس نے سر ہلایا تھا ۔
’’ کیا کہہ رہا تھا ؟ ‘‘
’’ وہ چاہتے ہیں کہ ہم انکے ساتھ آکر رہیں ‘‘ پرسوچ انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ واٹ !! ‘‘ وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔
’’ اس کا کیا مطلب ہے ؟ ‘‘
’’ اسکا مطلب یہ ہے ڈئیر وائف کہ انہوں اس نکاح کو قبول کر لیا ہے ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ وہ اتنی آسانی سے کیسے مان سکتا ہے ماسٹر ؟ ‘‘ وہ اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھی ۔۔
’’ لیکن وہ مان چکے ہیں ۔۔ اور اسکے علاوہ انکے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا ۔۔ الیکشن نزدیک ہیں۔۔ وہ اپنے بیٹے سے مخالفت کرنے کی غلطی نہیں کرینگے ‘‘ وہ اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔
’’ تو تم کہنا چاہتے ہو کہ انہوں نے سب قبول کرلیا ؟ ہار مان لی انہوں نے ؟ ‘‘
’’ نہیں ۔۔ شہزاد شاہ کبھی ہار نہیں مانتا ۔۔ وہ اب لاٹھی توڑے بغیر سانپ کو مارے گا ‘‘ ماسٹر کے اس جوب پر امل کو اب کچھ سمجھ آنے لگا تھا ۔
’’ تو ہم کیا کرینگے ؟ ‘‘ اس نےپوچھاتھا ۔۔
’’ وہی جو وہ چاہتے ہیں ۔۔ ہم وہاں جائینگے ۔۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا ‘‘ وہ اسکے قریب آیا تھا ۔۔ اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے ۔۔
’’ تمہیں وہاں بہت مضبوط بن کر رہنا ہوگا ۔۔ ایک بولڈ لڑکی ۔۔ ایک بہادر لڑکی ۔۔ اور ایک چالاک لڑکی ۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ امل اسی کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ غور سے ۔۔ اور پھر ۔۔ وہ مسکرایا تھا ۔۔
’’ تمہاری معصومیت ، دوستی اور محبت ۔۔ صرف میرے لئے ہوگی ۔۔ اس کے علاوہ ۔۔ وہاں موجود کسی بھی شخص کے لئے تم ایک بلا ہوگی ۔۔ سمجھ گئ ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اور جانے اسکے الفاظوں میں ایسا کیا تھا کہ امل کچھ دیر کے لئے ٹھہر گئ تھی ۔۔
’’ سمجھ گئ امل ؟ ‘‘ ماسٹر نے اپنا سوال دہرایا تھا اور امل نےبس اپنا سر ہی ہلایا تھا ۔۔ جانے اس وقت اسکی زبان حرکت کیوں نہیں کررہی ؟؟
’’ گڈ ۔۔ چلو اب ۔۔ ہمیں کچھ تیاریاں کرنی ہیں وہاں جانے سے پہلے ‘‘ وہ کہہ کر روم سے باہر نکلا تھا اور امل اس کے پیچھے ۔۔
اس نے گاڑی ایک جیولری سٹور کے سامنے روکی تھی ۔۔
’’ ہم اتنی صبح صبح یہاں کیا کرنے آئیں ہیں ؟ ‘‘ واجد نے اتکا کر پوچھا تھا ۔۔ اسے اب بھی نیند آرہی تھی ۔۔
’’ آفکورس کام واجد ۔۔ اور آج سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ صرف مجھے ہی زیادہ نیند آتی ہے ‘‘ کہہ کر وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔
’’ صرف تین گھنٹے کی نیند لینے کے بعد تم مجھے اتنی صبح اٹھا کر یہاں لے آئے ہو ۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مجھے نیند نہ آئے ؟ ‘‘ اس کے پیچھے آتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا ۔۔
’’ جیسے میرے ساتھ ہورہا ہے ‘‘ جیولری سٹور کے اندر آتے ہی وہ سامنے کھڑے شخص کے پاس گیا ۔۔
’’ سب تیار ہے ؟ ‘‘
’’ جی سر ۔۔ میں ابھی لاتا ہوں ‘‘ وہ شخص اب سٹور میں موجود ایک دروازے کے اندر گیا اور کچھ دیر بعد ہاتھ میں ایک مخمل کا باکس لے کر باہر آیا تھا ۔۔
’’ یہ لیں سر ۔۔ جیسا آپنے کہاں تھا میں نے بلکل ویسے ہی کیا ہے ۔۔ آپ چیک کرلیں ‘‘ باکس مصطفی کی جانب بڑھایا تھا ۔
’’ اوک ۔۔ میں چیک کر کے آیا ‘‘ وہ کہہ کر دوبارہ سٹور سے باہر آیا اور اپنی گاڑی کی جانب تیزی سے بڑھنے لگا ۔۔
’’ یہ کیا ہے مصطفی ؟ ‘‘ واجد کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
’’ ابھی معلوم ہوجائے گا ۔۔ صبر تو کرو ‘‘ گاڑی کی بیک سیٹ پر آکر وہ دونوں بیٹھے تھے ۔۔ مصطفی نے باکس کھولا ۔۔
اندر ایک سلور کلر کی چین جس میں ایک آنسو شکل کا لاکٹ لکٹ رہا تھا ۔۔ جس کے چاروں اطراف میں سلور نگینے لگے ہوئے تھے ۔ اور درمیان میں ایک کالے رنگ کا پتھر ۔۔۔
’’ یہ اتنا خوبصورت لاکٹ تم نے کس کے لئے لیا ہے مصطفی ؟ ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ واجد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ یہ میں نے نہیں لیا ۔۔ بلکہ کوئی اور لے گا اسے ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے مصطفی نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا تھا ۔۔
’’ کون لے گا ؟ ‘‘
’’ یہ تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا ۔۔ فلحال ۔۔ یہ دیکھو ‘‘ کچھ بٹن پریس کرنے کے بعد مصطفی نے کہا تھا اور واجد نے نظریں جیسے ہی لیپ ٹاپ کی سکرین پر پڑی ۔۔۔ جانے ایسا کیا تھا وہاں ۔۔ کہ اسکا منہ ۔۔ اور آنکھیں ۔۔ کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں ۔۔
’’ آئی کانٹ بیلیو دس ‘‘ واجد کی حیران آواز پر مصطفی کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
وہ اپنے آفس میں بیٹھی تھی ۔۔ جب دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔۔
’’ کم ان ‘‘ اس نے ایک فائل کھولتے ہوئے کہاتھا ۔۔
’’ میم ۔۔ یہ لیٹر سر نے آپکے لئے بھیجا ہے ‘‘ نرس نے لفافہ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔
’’ تھینک یو ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے لفافہ کھولا ۔۔۔ اور اس کے اندر موجود لیٹر پڑھنے لگی ۔۔
جانے ایسا کیا تھا اس میں ۔۔ کہ جیسے جیسے وہ پڑھ رہی تھی ۔۔ ویسے ہی اسکی آنکھوں کی چمک بڑھ رہی تھی ۔۔
اور پھر ۔۔ گہری مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا ۔۔ اس نے لیٹر دوبارہ اس لفافے میں ڈال کر میز پر رکھا اور اپنا موبائل اٹھا کر کسی کو مسیج بھیجا تھا ۔۔
موبائل رکھنے کے دو منٹ بعد ہی مسیج ٹیون بجی تھی ۔۔ شاید جواب آگیا تھا ۔۔
اور جانے ایسا کیا تھا ۔۔ کہ اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔
ایک گہری سانس لے کر اس نے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا تھا ۔۔
’’ تمہاری مایا ۔۔ تمہیں اس مشن میں اکیلا نہیں چھوڑے گی مصطفی ۔۔۔ انتظار کرنا میرا ‘‘
اور جانے اب یہ انتظار کہاں ختم ہونا تھا ؟
