Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 01)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

وہ ایک کمرہ تھا ۔۔ جس کا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں۔۔۔ کمرے کے اندر دیکھوں تو منظر بھیانک تھا ۔۔ چاروں طرف آگ پھیل رہی تھی ۔۔ کمرے کے درمیان رکھے بیڈ کو بھی آگ نے اپنے قابوں میں لے لیا تھا ۔۔۔ ایسے میں دو لوگ کمرے کے بیچ کھڑے تھے ۔۔ آگ اب آہستہ آہستہ ان دونوں کے وجود تک پہنچ رہی تھی ۔۔ ایسے میں کمرے کی ایک کھڑکی کے شیشے پر دیکھو تو ایک لڑکی مسلسل کمرے کی کھڑکی زور زور سے بجارہی تھی۔۔

’’ ماما ۔۔۔۔ پاپا ‘‘ وہ اپنی پوری قوت سے کمرے کی کھڑکی پر ہاتھ مار رہی تھی ۔۔ آنسو تیزی سے اسکی آنکھوں کے راستے گالوں میں بہہ کر اسکی گردن تک جارہے تھے ۔۔ آگ کی تپش سے کھڑکی کا شیشہ بھی گرم ہونا شروع ہوگیا تھا ۔۔ شاید کچھ ہی دیر میں وہ ٹوٹنے والا تھا ۔۔ اور آگ باہر آنے والی تھی ۔۔۔ مگر وہ کسی بھی چیز سے لا پراہ کمرے کے اندر کھڑے ان دو لوگوں کو آگ میں لپٹتا دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ بھاگ جاؤ ۔۔ ‘‘ اندر موجود اسکی ماما نے چیخ کر کہا تھا۔۔۔ مگر وہ اس وقت کچھ سن نہیں رہی تھی ۔۔

’’ ماما ۔۔۔ پاپا ‘‘ ہاتھ کے مکے وہ اس کھڑکی پر مار رہی تھی ۔۔ آنکھیں لال۔۔ اور آنسوؤں سے بھیگا چہرہ ۔۔

’’ یا اللہ ۔۔ ‘‘ اپنا ماتھا کھڑکی کے شیشے سے ٹکایا تھا ۔۔۔ شیشے کی گرمائش سے اسکا ماتھا جل رہا تھا مگر اسے اس وقت کوئی تکلیف محسوس نہیں ہورہی تھی ۔۔

’’ بھاگ جاؤ بیٹا ۔۔۔ بھاگو ۔۔۔ بھاگو ۔۔۔ بھاگو ‘‘ اس کے پاپا اور ماما مسلسل چیخ رہے تھے ۔۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا ۔۔ آگ اب انکے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی ۔۔۔ وہ فوراً سے پیچھے ہوئی تھی۔۔ اسے محسوس ہوا ۔۔ اسکا وجود کانپ رہا تھا ۔۔ وہ ایک ایک قدم پیچھے ہورہی تھی ۔۔ اسے ایک آواز آئی تھی ۔۔۔ ایسے جیسے شیشہ کریک ہورہا ہو ۔۔۔

وہ ایک ایک قدم پیچھے ہوئی تھی ۔۔ اور پھر ایک دھماکے سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔ کانچ کے ٹکڑے اڑ کر اسکے وجود کی جانب آئے تھے ۔۔ اس نے اپنے چہرے کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلایا تھا ۔۔۔ وہ زمین پر ایک جھٹکے سے گری تھی ۔۔ کانچ کے ٹکڑے اسکے ہاتھوں اور جسم کے کئ حصوں میں چبھ چکے تھے ۔۔۔

اس نے سیدھا ہونا چاہا تھا ۔۔ جب کوئی روشنی اسکے وجود پر پڑی تھی ۔۔

’’ یہاں آؤ ۔۔ وہاں کوئی ہے ‘‘ اس نے آواز سنی تھی ۔۔ اور پھر اسے کچھ قدموں کی آواز آئی تھی ۔۔ اچانک کی اسکے جسم نے حرکت کی تھی ۔۔۔

’’ بھاگ جاؤ ‘‘ ماما ، پاپا کی آواز اسکے کان میں گونجی تھی ۔۔ وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ اسے محسوس ہوا ۔۔ جسم کے کئ حصوں سے خون بہہ رہا تھا ۔۔ درد کی ٹیسیں اسے محسوس ہوئی تھیں ۔۔۔ مگر وہ رک نہیں سکتی تھی ۔۔ قدموں کی آواز اسے اپنی جانب آتی محسوس ہورہی تھی ۔۔

اس نے بھاگنا شروع کیا تھا ۔۔۔

وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ تیزی سے ۔۔ ہر درد کی پرواہ کئے بغیر ۔۔۔ آنسوؤں کو بہاتے ہوئے ۔۔

قدموں کی آوازیں اسے اپنی پشت سے محسوس ہورہی تھیں ۔۔

’’ پکڑوں اسے ۔۔ جلدی ‘‘ کسی آواز اسکے کانوں یک پہنچی تھی ۔۔ اس نے اب اپنی رفتار تیز کی تھی ۔۔

اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جارہی ہے ۔۔؟ وہ خالی سڑک تھی ۔۔ جس کے دونوں اطراف میں درخت تھے ۔۔

قدموں کی آواز اب بھی تیز ہورہی تھی۔۔۔ اور پھر ۔۔ اچانک ۔۔ فضا میں ایک آواز گونجی تھی ۔۔

اسے محسوس ہوا ۔۔ کوئی چیز بہت تیزی سے اسکے بازوں میں آکر دھنسی تھی ۔۔

اسے محسوس ہوا ۔۔ تیزی سے خون اسکے بازوں سے بہنا شروع ہوا تھا ۔۔ اپنے دوسرے ہاتھ سے اس نے اپنے بازوں کو پکڑ کر دبایا تھا ۔۔ درد کی لہر اس کے پورے وجود میں دوڑ رہی تھی ۔۔۔ مگر وہ رک نہیں سکتی تھی ۔۔ اسے بھاگنا تھا ۔۔۔ اور وہ اب بھی بھاگ رہی تھی ۔۔۔ اسکی نظروں کے سامنے اندھیرا تھا۔۔ اور وہ ان اندھیروں میں گم ہوجانا چاہتی تھی ۔۔۔

اچانک ہی ایک اور آواز گونجی تھی ۔۔۔ اور اس بار ۔ گولی اس کے ٹانگ میں آکر لگی تھی ۔۔ وہ فوراً لڑکھڑائی تھی ۔۔۔ اس کے لئے خود کو سنبھالنا ناممکن ہوگیا تھا ۔۔

اور پھر اس نے محسوس کیا ۔۔

وہ دائیں جانب گری تھی ۔۔ مگر وہ گری نہیں تھی۔۔

وہ ایک کھائی تھی ۔۔۔

اور اس نے خود کو اس کھائی میں گرتے محسوس کیا تھا ۔ْ۔۔

جانے اس کے بعد کیا ہوا تھا ؟؟؟



ایک جھٹکے سے اسکی آنکھ کھلی تھی ۔۔

اس نے محسوس کیا ۔۔ اسکا وجود پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔۔

وہ چھت کو گھور رہی تھی ۔۔ جہاں ایک فانوس لگا تھا ۔۔ مگر وہ اس فانوس کو نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔

اس کی نگاہوں کے سامنے اب بھی وہی منظر گھوم رہا تھا ۔۔۔ وہ کمرہ ۔۔ آگ ۔۔۔ دو گولیاں۔۔۔ کھائی ۔۔۔ اور ماما پاپا ۔۔

اس کے ہونٹوں نے حرکت کی تھی ۔۔

’’ ماما ۔۔۔ پاپا ‘‘ کہتے ہوئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی ۔۔ مگر پھر اسے محسوس ہوا ۔۔ اس کے ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی ۔۔ اس نے اپنا دایاں بازو دیکھا تھا ۔۔۔ جہاں پٹی لگی تھی ۔۔ مگر اسے وہاں کوئی درد محسوس نہیں ہورہا تھا ۔۔

وہ سیدھی ہوئی تھی ۔۔ نظر اپنی ٹانگ پر گئ تھی ۔۔ وہاں بھی پٹی باندھی گئ تھی ۔۔ ایسا لگا جیسے کافی وقت گزر گیا تھا اس زخم کو ۔۔ کیونکہ اسے جہاں جہاں کانچ کے ٹکڑے چبھے تھے ۔۔ وہاں اب صرف نشانات تھے ۔۔۔ اسے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔ یہ سب کب ہوا ؟؟ کل رات ہی تو ہوا تھا وہ ستم ۔۔ اور آج وہ اس حال میں کیسے ہے ؟ اسے تو ہسپتال میں ہونا چاہئے تھا ۔۔ مگر وہ تو ۔۔۔۔ اچانک ہی وہ چونکی تھی ۔۔۔ اس نے اپنے اطراف میں دیکھا ۔۔۔

وہ بیڈ پر تھی ۔۔ اور اس کے اطراف میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔ دائیں جانب ڈریسنگ ٹیبل ۔۔۔ سامنے دیوار پر ایل،ای،ڈی اسکے ساتھ چینجنگ روم اور اس کے برابر ہی واش روم ۔۔ ایک صوفہ سیٹ اور درمیان میں میز رکھی تھی ۔۔ بائیں جانب آؤ تو ۔۔ ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔۔ جس کے سامنے پردہ ہوا کی وجہ سے مسلسل ہل رہا تھا ۔۔ اس کمرے کی کلر تھیم براؤن اور گولڈن تھی ۔۔ فرنیچر سے لے کر پردے ۔۔ ہر چیز براؤن اور گولڈن کے کنٹراس کی تھی ۔۔ اور ہر چیز قیمتی اور شاندار تھی ۔۔ اس نے محسوس کیا ۔۔ سامنے وال پر اے۔سی لگا تھا ۔۔ مگر اس کے باوجود وہ پسینے میں بھیگی ہوئی تھی ۔۔۔ اس کے لئے یہ سب عجیب تھا ۔۔ وہ اس جگہ کو پہلی بار دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اسے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ یہاں کیسے پہنچی ؟ کون لایا اسے یہاں ؟ کہیں ان لوگوں کے ہاتھ تو نہیں لگ گئ وہ ؟

اس سوچ کے ساتھ ہی اسکے وجود میں خوف کی لہر دوڑی تھی ۔۔

’’ کک۔۔۔ کوئی ہے ؟؟ ‘‘ گھبرائی ہوئی آواز میں کہا تھا ۔۔۔ مگر ہر طرف صرف اور صرف خاموشی تھی ۔۔۔

وہ دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ جس کی دوسری جانب کیا تھا ؟ کوئی تھا بھی یا نہیں ؟ اسے اس کا بلکل اندازہ نہیں تھا ۔۔

’’ کوئی ہے ۔۔۔۔ ؟؟ ‘‘ اس نے دوبارہ پکارا تھا۔۔ اس مرتبہ آواز تھوڑی بلند تھی ۔۔

اچانک ہی اس کی نظر کھڑکی کے اوپر لگی وال کلاک پر پڑی تھی ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ اس وقت پانچ بج رہے تھے ۔۔۔

’’ کوئی ہے یہاں ؟ ‘‘ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اس نے ایک اور بار پکارا تھا ۔۔ اس بار اسکی آواز پہلے سے زیادہ تیز تھی ۔۔ ا اسے کمرے کے باہر تیز قدموں کی آواز سنائی دی تھی۔۔ وہ اب سہم گئ تھی ۔۔ جانے کون ہوگا یہاں ؟؟

دروازہ کھلا تھا ۔۔ اور اس نے دیکھا۔۔ ایک درمیانی عمر کی لیڈی اندر آئی تھیں ۔۔

’’ آپ جاگ گئیں ۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں نہ ؟؟ ‘‘ اس کے پاس پہنچ کر وہ پریشان کن انداز میں اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔

’’ کون ہیں آپ ؟؟ اور میں یہاں کیسے آئی ؟ ‘‘ اس نے سوال کیا تھا ۔۔

’’ شکر ہے آپ کو ہوش آگیا ۔۔ میں ابھی ماسٹر کو بتاتی ہوں ؟؟ ‘‘ اس نے کہہ کر فوراً اپنا موبائل نکالا تھا ۔۔

’’ ماسٹر ؟؟ کون ماسٹر ؟ کس کو کال کر رہی ہیں آپ ۔۔ بتائیں مجھے ‘‘ وہ ڈر گئ تھی ۔۔ یہ لیڈی اپنے ماسٹر کو کال کر رہی تھی ۔۔ اسکا مطلب وہ انہیں لوگوں کے ہاتھ لگ چکی تھی ۔۔ وہ اسے مار سکتے تھے ۔۔ خوف سے اسکا وجود کانپنے لگا تھا ۔۔

’’ ڈرے مت آپ ۔۔۔ ماسٹر ہی آپکو یہاں لائے ہیں ۔۔ انہوں نے آپکی جان بچائی ہے ‘‘ وہ اسے تسلی دے رہی تھی ۔۔ اس کے الفاظ سن کر وہ تھوڑی ریلیکس ہوئی تھی ۔۔

’’ اس کا مطلب کہ وہ ان کے ہاتھ نہیں لگی تھی ۔۔ شکر اللہ کا ‘‘ ایک اطمینان ہوا تھا ۔۔ مگر اس کے ساتھ ہی پریشانی بھی تھی ۔۔ آخر وہ ایک انجان جگہ پر تھی ۔۔



وہ اس کے روم سے نکل کر باہر کوریڈار کی جانب آئی تھی ۔۔ اس نے ایک نمبر ڈائل کیا تھا۔۔ کچھ دیر بیل جانے کے بعد کال ریسیو کرلی گئ تھی ۔۔

’’ انہیں ہوش آگیا ہے ماسٹر ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ وہ بہت گبھرائی ہوئی ہیں ۔۔ ڈر رہی ہیں اس جگہ سے ‘‘ تھوڑی دیر رکی تھی ۔۔

’’ جی ۔۔ جیسا آپ کہیں ‘‘ اس نے کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔ اب وہ کچن کی جانب بڑھی تھی ۔۔

’’ سکینہ ۔۔ جلدی سے چائے اور ساتھ کچھ سینڈوچز ریڈی کر کے اوپر لاؤ ۔۔ انہیں ہوش آگیا ہے ‘‘ ملازمہ سے کہہ کر وہ دوبارہ اوپر آئی تھیں ۔۔ مگر اب وہ سٹڈی روم میں گئ تھیں ۔۔ سٹڈی کا دروازہ کھول کر وہ اندر آئی تھیں ۔۔

سامنے ہی ایک لڑکا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا ۔۔ بلیک ٹی شرٹ اور جینز ، کانوں میں ہیڈ فون لگائے ، آنکھوں میں گلاسس پہنے۔۔ اسکے ہاتھ تیزی سے لیپ ٹاپ پر چل رہے تھے ۔۔ شاید وہ کسی اہم کام بھی مصروف تھا ۔۔ دروازے کی آواز پر اس نے ایک نظر آنے والے کو دیکھا ۔۔ اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا ۔۔

’’ انہیں ہوش آگیا ہے ‘‘ یہ سنتے ہی اسکے ہاتھ رکے تھے ۔۔ چہرے پر ایک خوشگوار حیرت آئی تھی ۔۔

’’ سچ کہہ رہی ہو ؟ ‘‘ اس نے بے یقینی سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ میں نے اسکی ڈرپ اتار دی ہے اور اسے کچھ دیر آرام کرنے کا کہاہے ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ شکر ہے اللہ کا ۔۔۔ اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا تھا ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔۔ ’’ ماسٹر کو بتا دیا ؟ ‘‘

’’ ہاں۔۔ ابھی انہیں کال کر کے انفارم کیا ہے ۔۔ تمہارے لئے پیغام دیا ہے انہوں نے ‘‘ اس کی بات پر وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ اور ہاتھ بڑھا کر اسے بند کیا تھا ۔۔

’’ میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے ۔۔ رات کو کام شروع کرونگا اور صبح تک سب ہوجائیگا ‘‘ اس نے اپنا موبائل اٹھاتےہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اچھی بات ہے۔۔ میں نے اسکے لئے چائے اور سینڈوچز بنوائے ہیں ۔۔ جاکر دیکھتی ہوں ‘‘ وہ کہہ کر پلٹی تھی ۔۔

’’ مایا ‘‘ اسکی آواز پر اسکے بڑھتے قدم رکے تھے ۔۔ وہ پلٹی تھی ۔۔

’’ کیا میں اسکے ساتھ چائے پی سکتا ہوں ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اور مایا کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ ماسٹر نے کہا ہے کہ اسکا ڈر ختم کرنا ہے ۔۔ اور تم تو اس کام میں ماہر ہو ۔۔ وہ تم پر بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ وہ کہہ کر پلٹی تھی ۔۔ جبکہ پیچھے موجود لڑکا مسکرایا تھا ۔۔

اسے یہاں بیٹھے کافی دیر ہوگئ تھی ۔۔ وہ انجان نگاہوں سے اس کمرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جانے وہ اسے آرام کرنے کا کہہ کر کہاں چلی گئ تھی ؟

کمبل ایک جانب پلٹ کر اور بیڈ سے اتری تھی ۔۔ اسے محسوس ہوا کہ اسکے جسم میں اب بھی درد تھا ۔۔ شاید مسلسل لیٹے رہنے کی وجہ سے ۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑکی کی جانب بڑھی تھی ۔۔ ہاتھ بڑھا کر پردے سائیڈ پر کئے تھے ۔۔ اور سامنے کے منظر نے اسے حیران کر دیا تھا ۔۔ ؟

ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ کوئی ویران وادی ہو ۔۔۔ پودوں سے بھرے پہاڑ ۔۔ اونچے درخت ۔۔ دھند ۔۔ صاف سڑک دور تک جاتی ہوئی ۔۔ انسان کا کوئی وجود یہاں نظر نہیں آرہا تھا ۔۔ پرندوں کی آوازیں ہی تھیں جو سنائی دے رہی تھیں ۔۔ ہوا میں نمی بتا رہی تھی کہ آس پاس کہیں کوئی دریا یا پانی کا چشمہ ضرور تھا ۔۔ کتنا حسین منظر تھا یہ ۔۔مگر اسے یہ حسین نہیں لگ رہا تھا ۔۔ اسکے ڈر میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔ وہ کہاں تھی ؟ یہ جگہ تو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ یہاں کیسے پہنچ گئ؟ کل رات تک تو وہ ۔۔۔ اچانک ہی رات کا واقع اسکے دماغ پر روشن ہوا تھا ۔۔ اور آنکھوں میں پھر سے نمی اور ایک ایک کرکے آنسو گرنا شروع ہوئے تھے ۔۔

’’ ماما ۔۔۔ ‘‘ آنکھیں بند کر کے اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔ ’’ پاپا ‘‘ آنسو اب اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے ۔۔

اسے محسوس ہوا کہ کسی نے کمرے کے دروازے کا لاک گمایا تھا ۔۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولی تھیں ۔۔

کوئی اندر آیا تھا ۔۔ وہ پلٹی نہیں تھی ۔۔ اس نے اپنے آنسو صاف کرنے تھے ۔۔

’’ ارے ۔۔ تم بیڈ سے کیوں اتری ؟ ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے تمہاری باڈی ویک ہے ابھی ‘‘ یہ اسی لیڈی کی آواز تھی ۔۔ اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔ وہ ایک ٹرے میز پر رکھ رہی تھی۔۔

’’ یہ کونسی جگہ ہے ؟ میں یہاں کیسے آئی ؟ ‘‘ اس نے اپنے دماغ میں چلنے والا سوال دہرایا تھا ۔۔

’’ تمہیں میڈیسن لینی ہیں اور اس کے لئے تمہیں کچھ کھانا ہوگا ۔۔ آجاؤ تمہارے لئے میں نے سینڈوچز بنوائے ہیں ‘‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے میز کی جانب لے جاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہی ہیں آپ ؟ ‘‘ اس نے دوبارہ کوشش کی تھی ۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی دروازہ ایک بار پھر کھلا تھا ۔۔ اور ایک لڑکا اندر آیا تھا ۔۔

’’ ان سے ملو ۔۔ یہ مصطفی ہیں ۔۔ ہمارے ساتھی ‘‘ اس نے اس لڑکی ہی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔

’’ اسلام و علیکم مِس سلیپنگ بیوٹی ۔۔ شکر ہے آپ کو جاگنے کا خیال تو آیا ‘‘ اس نے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔ جسے وہ عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ اوہ سوری ۔۔۔ میں تو بھول گیا کہ خوبصورت لڑکیاں پہلی ملاقات میں کسی کو فِری نہیں کرتی ہیں ‘‘ اس نے کہہ کر ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔۔۔

’’ چلو آؤ ۔۔ چائے پیتے ہیں ‘‘ وہ دونوں اب آرام سے بیٹھ چکے تھے ۔۔ جبکہ وہ اپنی ہی جگہ کھڑی ان دونوں اجنبیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ جن سے اب اسے ڈر لگنے لگا تھا ۔۔

’’ آخر مجھے بتایا کیوں نہیں جارہا کہ میں یہاں کیا کر رہی ہوں ؟ ‘‘ اسے اب غصہ آیا تھا ۔۔

’’ لو جی ۔۔ اس میں بتاتنے والی کیا بات ہے ۔۔؟ آپ یہاں اتنے عرصے سے سورہی ہیں اور ہم آپکی خدمت کر رہے ہیں ۔۔۔ اور اب جب آپ جاگ گئ ہیں ۔۔ تو آپ چائے پی رہی ہیں اور ہم پلا رہے ہیں ‘‘ مصطفی نے ایک بار پھر چہک کر کہا تھا۔۔

’’ عرصے ؟؟ کیا مطلب ؟ میں کب سے یہاں ہوں ؟ ‘‘ ایسے حیرت ہوئی تھی ۔۔یہ تو وہ اپنے زخم دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ وہ یہاں کچھ دن سے ہے مگر کتنے ؟ اسکا اندازہ اسے خود بھی نہیں تھا ۔۔

’’ دیکھو ۔۔ ‘‘ مایا نے گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ تم پہلے چائے پی کر میڈیسن لے لو ۔۔ اس کے بعد ہم تمہیں ہر سوال کا جواب دینگے ۔۔۔ پلیز ‘‘ اس نے ریکوسٹ کی تھی ۔۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ۔۔ وہ بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔



یہ ایک بلند حویلی نما عمارت تھی ۔۔۔ جس کے چاروں اطراف گارڈ بلیک سوٹ میں کھڑے تھے ۔۔۔ ہر گارڈ کے پاس اپنی ریوالور تھی ۔۔ جسے کچھ نے چھپا رکھا تھا ۔۔ اور کچھ ہاتھ میں لے کر چکر لگا رہے تھے ۔۔ حویلی کے داخلی دروازے حویلی سے مین گیٹ تک ایک لمبی سڑک تھی ۔۔ جس کے دائیں جانب لان تھا ۔۔ اس وقت حویلی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔ پرندوں کی آوازوں کے سوا یہاں اور کچھ نہیں تھا ۔۔

اور پھر اس ماحول کے سکون میں کسی چیز نے خلل پیدا کیا تھا ۔۔۔ حویلی کا مین گیٹ تین گارڈز نے مل کر کھولا تھا ۔۔ اور ایک گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔ سڑک سے گزر کر وہ حویلی کے سامنے آکر رکی تھی ۔۔ حویلی کے ایک گارڈ نے آگے بڑھ کر فوراً فرنٹ ڈور کھولا تھا ۔۔ اور ایک شخص باہر نکلا تھا ۔۔

چھ فٹ کے قریب قد ، چوڑے کاندھے ، بلیک پینٹ سوٹ میں ملبوس ، کلین شیو ، نفاست سے بنے ہوئے ہال ، رنگ سانولا مگر پرکشش نقوش ، آنکھوں میں بلیک گلاسس لگائے وہ آگے بڑھا تھا ۔۔

’’ شہزاد صاحب اندر ہیں ؟ ‘‘ حویلی کے داخلی دروازے کے باہر کھڑے گارڈ کے پاس پہنچ کر اس نےپوچھا تھا ۔۔

’’ جی ۔۔ وہ آپکا ہی انتظار کر رہے ہیں ‘‘ گارڈ کا جواب سن کر وہ سر ہلا کر اندر داخل ہوا تھا۔۔

یہ ایک بہت بڑا لان تھا ۔۔ جس کے درمیان میں صوفے ، میز ، ڈیکوریشن کا مختلف سامان رکھا تھا ۔۔ اس کے علاوہ دیواروں پر کچھ تصاویر جو شاید یہی رہنے والوں میں سے کسی کی تھیں ۔۔ لگی تھی ۔۔۔

وہ کسی بھی چیز کی جانب نظر ڈالے بنا ۔۔ دائیں جانب آیا تھا۔۔۔ جہاں سیڑھیاں موجود تھیں جو کہ اوپر والی منزل کی جانب جاتی تھیں ۔۔ مگر وہ سیڑھیوں کی جانب جانے کے بجائے دائیں جانب ایک دروازے کے سامنے رکا تھا ۔۔ دروازے پر دستک دی تھی ۔۔

’’ آجاؤ ‘‘ اندر سے کسی کی بھاری آواز آئی تھی۔۔

وہ دروازہ کھول کر اندر گیا تھا ۔۔۔ یہ شاید گیسٹ روم تھا ۔۔ جہاں میز ، کرسیاں ، صوفے رکھے ہوئے تھے ۔۔ جن میں ایک صوفے پر ایک پکی عمر کا آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔۔ گرے پینٹ کوٹ پہنے ۔۔ ہلکی مگر سفید اور کالی داڑھی ، ہاتھوں میں سگار پکڑے ۔۔

وہ انکے سامنے جاکر کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ کیا رپورٹ ہے ‘‘ اس کی جانب دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا تھا ۔۔

’’ تمام چیزیں مکمل ہوگئ ہیں ۔۔ آپ نے جیسا کہا تھا ۔۔ ہم نے کوئی نشانی نہیں چھوڑی ۔۔ یہ صرف ایک حادثہ تھا ۔۔ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ انداز میکانکی تھا ۔۔

’’ گڈ ۔۔ اور وہ لڑکی ۔۔ اسکا کیا ہوا ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا ۔۔

’’ ہمارے بندوں نے اس پوری کھائی کو کھوج لیا ہے ۔۔ وہ کہیں نہیں ملی ۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی اسے وہاں سے لے گیا ہے ۔۔ خون کے دھبے بھی کسی نے مٹا دیئے ہیں ۔۔ ہمیں کوئی نشانی بھی نہیں مل پارہی ‘‘

’’ یہ برا ہوا ۔۔ اگر وہ زندہ بچ گئ تو ہمارے لئے مشکل ہوسکتی ہے ‘‘ سگار کو سامنے رکھی سٹرے میں دبا کر رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔

’’ وہ زندہ نہیں پچ سکتی ۔۔۔ اسے دو گولیاں ماری گئ تھیں ۔۔ پورا جسم زخمی تھا اور جتنی گہری وہ کھائی تھی ۔۔ اسکا بچنا نا ممکن ہے ۔۔ کیونکہ جب تک اسے کسی نے دیکھا ہوگا۔۔ اسکی سانسیں نکل چکی ہونگی ‘‘ وہ مطمئن تھا ۔۔ اسکی بات پر شہزاد صاحب نے سر ہلایا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ تم کہہ رہے ہو تو ایسا ہی ہوگا ۔۔ مگر تمہیں اسکی تلاش چھوڑنی نہیں ہے ۔۔ اپنی آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھنی ہیں ‘‘ انگلی اسکی جانب اٹھاتے ہوئے انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ آپ فکر مت کرے ۔۔ میں اسے کبھی نہیں بھولونگا ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ گڈ ۔۔۔ اب تم جاسکتے ہو ‘‘ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ شہر ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ ہاں ۔۔ تمہیں اب اپنا مزید حرج نہیں کرنا چاہئے ۔۔ جاؤ ‘‘ حتمی انداز تھا ۔۔ اس کے بعد بات کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔۔ وہ سر ہلا کر باہر نکلا تھا ۔۔۔



وہ دونوں کمرے سے باہر نکلے تھے ۔۔ قدموں کی رفتار تیز تھی ۔۔ مایا آگے جبکہ مصطفی اس کے پیچھے پیچھے آرہا تھا ۔۔

سٹڈی کا دروازہ کھول کر مایا اندر داخل ہوئی تھی ۔۔ اور اب مصطفی مزید خاموش نہیں رہ پارہا تھا ۔۔

’’ مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ‘‘ وہ احتجاج کر رہا تھا ۔۔

’’ کیا کرنے کی ؟ ‘‘ مایا کا رخ ٹیبل کی جانب تھا ۔۔

’’ اسے سلیپنگ پلز دینے کی ۔۔۔ ابھی تو ہوش آیا تھا اسے ‘‘ وہ اسکے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔۔

’’ ماسٹر کا آرڈر ہے ۔۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے ‘‘ ٹیبل کی جانب جھک کر ایک دراز کھولا تھا ۔۔ اب وہ اس میں سے کچھ نکال رہی تھی ۔۔

’’ یہی تو مجھے سمجھ نہیں آرہا ۔۔ پہلے اسکے ہوش میں نہ آنے کی پریشانی تھی۔۔ اور اب اسکے ہوش میں آنے پر بھی انہیں سکون نہیں ہے ‘‘ ہاتھ پھیلاتے ہوئے اس نے ناسمجھی والے انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ ہوش میں نہ آنا اسکے لئے خطرناک تھا ۔۔ اور اب اسکا ہوش میں آجانا اسکے لئے زیادہ خطرناک ہے ‘‘ اس کے ایک باکس نکال کر میز پر رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کیا بات ہے یار ۔۔ تو اب کیا ہم اسے اسی طرح سلاتے رہینگے ؟ ‘‘ اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔

’’ بلکل بھی نہیں ۔۔ ماسٹر نے کہا ہے کہ صرف آج اسے سلانا ضروری ہے ‘‘ اب وہ مکمل مصطفی کی جانب متوجہ تھی۔۔

’’ کیوں ؟ کیا کل وہ خطرے سے نکل جائے گی ؟ ‘‘ ایک بے وقوفانہ سوال ہوا تھا ۔۔

’’ نہیں ‘‘ مایا مسکرائی تھی ۔۔ ’’ کل تک ہم اسکی سکیورٹی کا انتظام کر چکے ہونگے ‘‘ اس نے میز پر رکھے باکس پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘ اس نے سوالیاں نگاہوں سے باکس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ تمہارا دھیان صرف اس لڑکی کی طرف ہے مصطفی ۔۔۔ اتنا کے تمہیں یہ بھی نہیں یاد کہ آج کی رات تم نے بہت کام کرنا ہے ‘‘ مایا نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اوہ ‘‘ مصطفی نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔ جیسے اچانک کچھ یاد آیا تھا ۔۔

’’ میں واقعی بھول ہی گیا ‘‘ باکس کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ اسے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا جب مایا نے اپنا ہاتھ زور سے اس باکس پر رکھا تھا ۔۔

’’ تمہیں یاد رکھنا ہے سب کچھ ۔۔ اس لڑکی کے لئے اپنے کام بھول جانا ۔۔ تمہارے لئے بلکل بھی اچھا نہیں ہے ۔۔ تم جانتے ہو یہ ‘‘ اسےوارننگ دینے والے انداز میں مایا نے کہا تھا ۔۔

’’ جانتا ہوں ۔۔۔ میں بس اسکے لئے پریشان ہوگیا تھا ‘‘ باکس کو اٹھاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ مت ہو ۔۔ ماسٹر کے ہوتے ہوئے ۔۔ اس لڑکی کو کچھ نہیں ہوسکتا ‘‘ مایا کی بات پر مصطفی کےہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ موسم کافی بدلا بدلا لگ رہا ہے ‘‘ دائیں آنکھ دباتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ دعا کرو یہ بدلا موسم سب پر راس آجائے ‘‘ دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ آمین ۔۔ پلیز مجھے ایک گھنٹے بعد چائے دے دینا ‘‘ باکس کھول کر اس میں موجود سامان دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ ضرور ۔۔ میں ہر دو گھنٹے بعد تمہیں چائے دونگی ۔۔ جانتی ہوں پوری رات تم نے بہت کچھ کرنا ہے ‘‘ دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ تھینکس ‘‘ وہ اب مکمل اس باکس کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔

مایا مسکرا کر باہر نکلی تھی۔۔۔ سیڑھیوں سے نیچے اتر کر اس نے اپنے موبائل سے ایک نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔

’’ مصطفی نے کام شروع کردیا ہے ماسٹر ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ پھر شاید دوسری جانب کی بات سننے کے لئے رکی تھی ۔۔

’’ جی ۔۔ ہم نے اسے سلیپنگ پلز دے دی ہیں ۔۔ وہ صبح سے پہلے نہیں اٹھے گی ‘‘ اس نے رک کر دوبارہ بات سنی تھی۔

’’ وہ مسلسل ہم سے اس جگہ اور یہاں آنے کا پوچھ رہی تھی ۔۔ کیا ہم انہیں بتا دیں ؟ ‘‘ اس نے اجازت مانگی تھی ۔۔

’’ اوک ‘‘ اس نے کہہ کر کال کٹ کر دی تھی ۔۔ اور اب وہ کچن کی جانب بڑھی تھی ۔۔ اسے مصطفی کے لئے چائے بنانی تھی ۔۔۔



اس کی آنکھ صبح کھلی تھی ۔۔۔ کچھ دیر سن دماغ سے وہ چھت کو گھورتی رہی تھی ۔۔ اور پھر اسے کچھ یاد آیا تھا ۔۔ اس نے چائے پینے کے بعد میڈیسنز لی تھیں ۔۔ اور پھر ۔۔؟؟؟

وہ اچانک سے اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔ اسے نیند آگئ تھی اس کے بعد ۔۔۔ اور یقیناً یہ ان میڈیسنز کی وجہ سے ہوا تھا ۔۔ اپنا سر تھام کر اس نے بیڈ سے ٹیک لگایا تھا ۔۔

جانے وہ کہاں آگئ تھی ۔۔ یہ جگہ ؟ یہاں کے لوگ ؟ سب اس کے لئے بہت عجیب تھے ۔۔ اسے بس ایک ہی ڈر تھا ۔۔ کہ کہیں یہ وہی لوگ تو نہیں تھے ۔۔۔ بس اسی ڈر نےاسکا سکون برباد کیا ہوا تھا ۔۔ وہ اب اٹھی تھی ۔۔۔ آج اس نے کسی کو آواز نہیں دی تھی ۔۔ اسے بس یہاں سے باہر نکلنا تھا ۔۔ اسے اپنے گھر جانا تھا ۔۔۔ اس سوچ کے ساتھ اسکے قدم رکے تھے ۔۔

’’ اپنا گھر ؟ ‘‘ کچھ مناظر اسکی نظروں کے سامنے آئے تھے ۔۔ اسے لگا اسکی آنکھیں جل رہی ہوں ۔۔

’’ ماما ۔۔۔ پاپا ‘‘ اچانک ہی اسے خیال آیا تھا ۔۔ وہ فوراً دوڑی تھی ۔۔ روم کا دروازہ کھول کر وہ باہر نگلی تھی ۔۔ بھاگتے ہوئے کوریڈار سےگزر کر وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی ۔۔ اسی وقت مصطفی سٹڈی سے باہر آیا تھا ۔۔ وہ اب بھی رات والے حلیے میں تھا ۔۔ جسکا مطلب تھا کہ وہ واقعی پوری رات جاگتا رہا ہے ۔۔۔

’’ کہاں جارہی ہیں آپ ؟ ‘‘ اسکی جانب تیزی سے آکر اسکا راستہ روکا تھا ۔۔

’’ مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔ ہٹو آگے سے ‘‘ اسے ایک جانب دھکیل کر وہ باہر کی جانب بھاگی تھی ۔۔

’’ رک جائیں ۔۔۔‘‘ مصطفی بھی اسکے پیچھے بھاگا تھا ۔۔

’’ آپ کہیں نہیں جاسکیں ‘‘ اسے بازوں سے پکڑ کر روکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کیوں نہیں جاسکتی ؟؟ آخر چاہتے کیا ہو تم لوگ ؟ مارنا چاہتے ہو مجھے ؟ ‘‘ وہ چیخ رہی تھی اور اس کی تیز آواز سن کر مایا بھی باہر آئی تھی ۔۔

’’ مارنے کے لئے آپکے ہوش میں آنے کا اتنا انتظار نہ کرتے ہم ۔۔ پہلے دن ہی مار دیتے ‘‘ وہ سنجیدہ تھا اور اسکی سنجیدگی نے اسے تھوڑا ریلیکس کیا تھا ۔۔

’’ آپ اندر چلیں پلیز ۔۔ ماسٹر کو معلوم ہوا تو ناراض ہونگے ہم پر ‘‘ مایا نے پاس آکر کہا تھا ۔۔ وہ واقعی پریشان ہوگئ تھی ۔۔

’’ مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔۔ ‘‘

’’ آپ جہاں کہینگی آپکو لے جایا جائے گا ۔۔ مگر آپ کے مکمل ٹھیک ہوجانے کے بعد ‘‘ مایا نے اسے نرمی سے سمجھایا تھا ۔۔

’’ میں ٹھیک ہوں بلکل ۔۔ دیکھ نہیں رہی آپ ‘‘

’’ تم ٹھیک نہیں ہو سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ اتنے عرصے بعد نیند سے جاگی ہو ۔۔ کمزوری ہے بہت ۔۔ ‘‘ مصطفی نے اسکا بازو اب بھی پکڑا ہوا تھا ۔۔۔

’’ اندر چلو پلیز ۔۔۔ تمہارا باہر جانا خطرناک ہے ‘‘ مایا نے ایک بار پھر اس سے ریکوسٹ کی تھی ۔۔

’’ میں کتنے عرصے سے یہاں ہوں ؟ ‘‘ وہ مصطفی سے پوچھ رہی تھی ۔۔ مایا کی آواز تو جیسے اس نے سنی ہی نہیں تھی ۔۔

’’ اندر چلو سلیپنگ بیوٹی ۔۔ میں تمہارے ہر سوال کا جواب دونگا ۔۔ مگر تم باہر نہیں جاسکتی ۔۔ تم جانتی ہو کہ باہر تمہارے لئے بہت خطرہ ہے ۔۔ پلیز ‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا تھا ۔۔ اور شاید اس پر اثر بھی ہوگیا تھا ۔۔

’’ تم مجھے سب بتاؤگے ۔۔ سچ سچ ‘‘ اسے وعدہ چاہئے تھا ۔۔

’’ وعدہ ۔۔ اب چلیں ‘‘ وہ اسے لے کر اندر آیا تھا ۔۔ مایا بھی ان کے پیچھے تھی ۔۔ لاؤنچ کے ایک صوفے پر اسے بٹھا کر وہ خود بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا ۔۔

’’ ہمارے لئے کچھ کھانے کو لے آؤ مایا ۔۔ بہت بھوک لگی ہے ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ اور مایا سر ہلاتی ہوئی کچن کی جانب گئ تھی ۔۔۔

’’ اب مجھے بتاؤ سب ؟ میں کب سے یہاں ہوں ؟ کون لایا ہے مجھے یہاں ؟ ‘‘ اس نے دوبارہ اپنے سوال دہرائے تھے ۔۔

’’ پہلے کھانا ۔۔ اسکے بعد میں تمہارے ہر سوال کا جواب دونگا ‘‘ مصطفی نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ مجھے کچھ نہیں کھانا ۔۔ بھوک نہیں ہے مجھے ‘‘ اس نے انکار کیا تھا ۔۔

’’ اگر تم کچھ کھاؤگی نہیں ۔۔ تو میں تمہیں کچھ بتاؤنگا نہیں ‘‘ اس کی بات پر وہ خاموش رہی تھی ۔۔ اب اسکے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا ۔۔ اس کے لئے سب جاننا بے حد ضروری تھا ۔۔

مایا کھانے کی ٹرے لے کر آئی تھی۔۔ اور اسے میز پر رکھ کر پلیٹ میں اس کے لئے کھانا نکالا تھا ۔۔

’’ تھینک یو ‘‘ اس نے پلیٹ لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔ مایا مسکرائی تھی۔۔ اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے دوسری پلیٹ مصطفی کی جانب بڑھائی تھی ۔۔

’‘ تھینک یو ‘‘ اس نے بھی مسکرا کر کہا تھا ۔۔

بریانی کے دو تین چمچ لینے کے بعد اس نے پلیٹ واپس رکھ دی تھی ۔۔ جس پر مصطفی فوراً کھڑا ہوا تھا ۔۔

‘’ ارے نہیں نہیں ۔۔۔ تمہیں ہی پلیٹ پوری ختم کرنی ہوگی ‘‘ اس نے پلیٹ اٹھا کر اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔

’’ مجھے بھوک نہیں ہے ‘‘ اٹل لہجے میں صاف انکار ہوا تھا ۔۔

‘’ لیکن تم سب جاننا بھی تو چاہتی ہو نہ ؟ اگر پوری حقیقت جاننی ہے تو پلیٹ بھی پوری ختم کرنی ہوگی ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ جبکہ اس نے خاموشی سے پلیٹ لے لی تھی ۔۔

’’ یہ ہوئی نہ بات ‘‘ وہ کہہ کر اپنی جگہ واپس بیٹھا تھا ۔۔

خاموشی سے کھانا کھا لینے کے بعد مایا اسکی میڈیسن لے کر آئی تھی ۔۔

’’ میں یہ میڈیسن نہیں کھاؤنگی ‘‘ اس نے انکار کیا تھا ۔۔

’’ کیوں ؟ ‘‘ مایا نے پوچھا تھا ۔۔

’‘ کیونکہ میں بہت عرصے سے سوتی رہی ہوں اور دوبارہ سونا میری صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوگا ۔۔ ٹھیک کہا نہ میں نے ؟ ‘‘ اس نے مصطفی کی جانب معنی خیز انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ ویری کلیور ‘‘ مصطفی نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔ جبکہ مایا نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں ۔۔ جس پر اس نے فوراً اپنی مسکراہٹ روکی تھی ۔۔

’’ میرا مطلب ہے تم پریشان مت ہو ۔۔ آج ان میں نیند کی کوئی گولی نہیں ہے ۔۔ یہ ڈاکٹر نے تمہارے لئے سجسٹ کی ہیں ‘‘

’’ ٹھیک ہے ۔۔ پھر میں یہ میڈیسز تب کھاؤنگی جب تم مجھے سب بتا دوگے ‘‘ اس نے حتمی انداز میں کہا تھا ۔۔

مصطفی نے ایک نظر مایا کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جس نے کاندھے اچکا دیئے تھے ۔۔

’’ اوک ‘‘ وہ سیدھا ہوا تھا ۔۔ ’’ پوچھو ۔۔ کیا پوچھنا ہے ‘‘

’’ یہ کونسی جگہ ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔۔ جبکہ مایا ایک جانب کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ ناران ۔۔ یہ ناران ہے ‘‘ مصطفی کے جواب پر جیسے اسے جھٹکا لگا تھا ۔۔ وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔

’’ کیا ؟؟ ناران ؟؟؟ مگر۔۔۔ مگر میں تو مری میں تھی ‘‘ وہ جیسے یقین نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔

’’ تم ریلیکس ہوجاؤ بیوٹیفل گرل ۔۔ میں تمہیں سب بتاتا ہوں ‘‘ مصطفی نے پرسکون انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ ریلیکس ہوجاؤں ؟؟؟ ایسے کیسے ریلیکس ہوجاؤں میں ؟ ایک رات ۔۔۔ ایک رات نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور تم کہہ رہے ہو کہ میں ریلیکس ہوجاؤں ؟ ‘‘ وہ اب جزباتی ہورہی تھی ۔۔ اسکی آنکھیں لال اور آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے تھے ۔۔

’’ ایک منٹ سلیپنگ بیوٹی ‘‘ وہ فوراً کھڑا ہوکر اسکے پاس آیا تھا ۔۔ ’’ میری بات سنو ‘‘ اسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔

’’ میں جانتا ہوں یہ سب تمہارے لئے بہت سرپرائزنگ ہے ۔۔ مگر دیکھو تمہیں اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا ۔۔ جو کچھ تم نے فیس کیا ہے ۔۔ اور جو کچھ تم نے آگے فیس کرنا ہے ۔۔ اس کے لئے تمہیں ریلیکس ہونا ہوگا ڈئیر ‘‘ وہ اسے نرمی سے سمجھا رہا تھا ۔۔

’’ بیٹھو یہاں ‘‘ اس نے دوبارہ اسے اسکی جگہ پر بٹھایا تھا ۔۔ اپنی انگلی سے اسکے آنسو صاف کرکے وہ دوبارہ اپنی جگہ جاکر بیٹھا تھا ۔۔

’’ اب پوچھو ‘‘ اس نے دوبارہ کہا تھا ۔۔

’’ یہاں کیسے آئی میں ؟ ‘‘ بھیگی آواز تھی ۔۔

’’ تمہیں یہاں اس رات ماسٹر لےکر آئے تھے ‘‘ اس نے مختصر جواب دے کر مایا کی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ تم انہیں آدھی رات کو زخمی حالت میں ملی تھی ۔۔ تمہیں گولیاں لگی تھیں ۔۔ اس کے علاوہ تمہارے جسم پر کئ جگہ شیشے کے ٹکڑے لگے تھے ۔۔ جس کی وجہ سے بہت خون بہا تھا ۔۔ تم شاید اس کھائی میں گری تھی ۔۔ وہ وہاں سے سلپ ہوتی ہوئی نیچے گری تھی ۔۔ اسی دوران تہیں بہت سی چوٹیں بھی آئی تھیں ۔۔ اور ایک چوٹ سر کے پچھلے حصے میں بھی لگی تھی ۔۔ شکر ہے زیادہ گہری نہیں تھی ‘‘ مایا نے شکر ادا کرنے کے بعد ایک گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ وہ جان چکے تھے کہ تم پر حملہ ہوا ہے اسلئے تمہیں لے کر ہسپتال جانے کے بجائے وہ تمہیں میرے گھر لے آئے تھے ۔۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں ۔۔ تمہاری کنڈیشن بہت خراب تھی۔۔ تمہیں ہسپتال لے جانا ضروری تھا۔۔ مگر ماسٹر نے اجازت نہیں دی تھی ۔۔ اس لئے تمہیں مجھے اپنے گھر میں ہی ٹریٹمنٹ دینا پڑا ۔۔ اور اس کے بعد تم کوما میں چلی گئ ‘‘ مایا کی آخری بات پر اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ کوما ؟؟ ‘‘

’’ جی سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ آپ پچھلے تین مہینے سے کوما میں تھیں ‘‘ مصطفی نے جیسے ایک دھماکہ کیا تھا ۔۔ اور وہ سناٹے میں آگئ تھی ۔۔۔ اور پھر ۔۔ کافی دیر خاموشی رہی تھی ۔۔ شاید سارے سوال ختم ہوگئے تھے ۔۔ شاید وہ کسی گہری سوچ میں تھی ۔۔ مصطفی نے مایا کو اشارہ کیا تھا ۔۔ وہ جانتے تھے ۔۔ اس وقت اسے تنہائی کی ضرورت تھی ۔۔

’’ ہم پھر بعدکرینگے ‘‘ اسکا کاندھا دباتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ وہ اپنی جگہ ایسے ہی بیٹھی تھی ۔۔ شاید اسے کچھ سنائی بھی نہیں دیا تھا ۔۔ مصطفی سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔ کہ موبائل کی بیپ نے اسکی توجہ اپنی جانب ملبوس کی تھی۔

اس نے موبائل نکال کر دیکھا ۔۔۔ ایک مسیج تھا ۔۔ اس نے مسیج اوپن کیا تھا ۔۔

’’ اپنے ہاتھ۔۔ اس سے دور رکھو ! ‘‘

اس نے پلٹ کر صوفے پر بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ وہ حیرانگی کی انتہا پر تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *