Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 02)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 02)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
حویلی میں اب بھی خاموشی کا راج تھا ۔۔ یہ صبح کے دس بجے کا وقت تھا ۔۔۔ ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی تیزی سے باہر آئی تھی ۔۔ وہ اب سیڑھیاں اتر رہی تھی ۔۔ اس کا رخ دائیں جانب کچن کی طرف تھا ۔۔ کچن میں آؤ تو تین ملازمہ ناشتے اور دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں ۔۔ جبکہ ان کے ساتھ کوئی درمیانی عمر کی خاتون کھڑی انہیں کچھ سمجھا رہی تھیں ۔۔۔
’’ شہزاد شاہ کا ناشتہ جلدی سے لگاؤ ۔۔ ذرا بھی دیر ہوگئ تو ناراض ہونگے وہ ‘‘ ان کے کہنے پر ایک ملازمہ اب جلدی سے اس کام میں لگ گئ تھی ۔۔
’’ تائی ۔۔ ‘‘ وہ لڑکی اب کچن کے دروازے پر کھڑی انہیں پکار رہی تھی ۔۔ تائی نے پلٹ کر اسے دیکھا اور ایک مسکراہٹ انکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔
’’ ارے تم آج جاگ گئ ۔۔ ‘‘ اسے کہہ کر وہ دوبارہ ملازمہ کی جانب متوجہ ہوئی تھیں ۔۔ ’’ اسکا ناشتہ بھی تیار کرو جلدی سے ‘‘
’’ وہ کہاں ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ جس پر تائی کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئ تھی ۔۔
’’ وہ ہمارے جاگنے سے پہلے ہی چلا گیا تھا ۔۔ ایک خط چھوڑ گیا بس ‘‘ اس کے قریب آکر کہا تھا ۔۔
’’ کیسا خط ؟ ‘‘ اس نے بےچینی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ یہی کہ وہ واپس جارہا ہے اور کچھ عرصے تک نہیں آئے گا ‘‘ تائی کہہ کر کچن سے باہر نکلی تھیں ۔۔ اور وہ انکے پیچھے آئی تھی ۔۔
’’ کیا مطلب واپس چلا گیا ؟ ایسے کیسے جاسکتا ہے وہ ؟ کسی کو بھی بتائے بنا ؟ ‘‘ اس کے تیور بدلے تھے ۔۔
’’ زویا ۔۔۔ ‘‘ سخت لہجے میں اس کا نام لیا تھا۔۔
’’ تم بھول رہی ہو کہ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔۔ اسے کوئی بھی یہاں آنے اور یہاں سے جانے سے روک نہیں سکتا ‘‘ وہ کہہ کر پلٹ چکی تھیں جبکہ زویا وہی کھڑی انہیں جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔
کچھ دیر بعد وہ ناشتہ کرنے کے لئے ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔ درمیان میں شہزاد شاہ ۔۔ انکے دائیں جانب سادیہ شاہ اور بائیں جانب زویا ۔۔۔
’’ وہ چلا گیا ؟ ‘‘ شہزاد شاہ نے سادیہ بیگم کی جانب دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ جی ۔۔ صبح سویرے ہی نکل گیا تھا ۔۔ لکھ کر گیا ہے کہ کچھ عرصے کے لئے جارہا ہوں ‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔
’’ یہ ہمیشہ ایسے ہی جاتا ہے ‘‘ نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔
’’ مگر اسےبتا کر جانا چاہئے نہ تایا ابو ‘‘ زویا کہ بات پر انکے چلتے ہاتھ رکے تھے ۔۔
’’ وہ کسی کو بتا کر جانے کا پابند نہیں ہے ‘‘ انہوں نے اسے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔ جس پر زویا خاموش ہوگئ تھی۔۔ اسے اسکا اس طرح جانا اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
’’ جمشید کہاں ہے ؟ ‘‘ شہزاد صاحب نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ وہ بھی صبح چلے گئے تھے ‘‘ سادیہ بیگم نے جواب دیا تھا ۔۔ اور اس کے بعد مکمل خاموشی ہوگئ تھی۔۔۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ۔۔ نظریں سامنے تھیں ۔۔ مگر پھر بھی سامنے نہیں تھیں ۔۔ اس کی سوچیں اسے وقت سے پیچھے لے گئ تھیں ۔۔ وہ آج بھی اس رات کے اندھیروں میں گم تھی ۔۔
’’ تم جاگ گئ ۔۔ بتایا بھی نہیں ‘‘ مایا نے اس کے پاس آکر کہا تھا ۔۔
’’ میں سوتی ہی کب ہوں ؟؟ ‘‘ ایک اداس مسکراہٹ تھی ۔۔ اس کی نظریں اب بھی باہر کے منظر کی جانب تھیں ۔۔
’’ تمہیں سونا چاہئے ۔۔۔ سوؤگی نہیں تو دماغ اور دل ۔۔ دونوں ٹھیک طرح کام نہیں کریں گے ‘‘ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مایا نے کہا تھا ۔
’’ دل تو مر چکا ہے ۔۔ اس نے اب کہاں کام کرنا ہے؟ اور دماغ ۔۔ ‘‘ وہ اب اسکی جانب مکمل متوجہ ہوئی تھی ۔
’’ وہ اب بہت خطرناک کام کرنا چاہتا ہے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور مایا اس کی بات پر الجھ گئ تھی ۔۔
’’ کیا مطلب؟؟ کیسے خطرناک کام ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ کچھ نہیں ۔۔ ‘‘ وہ شاید آگے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
’’ اچھا چلو ۔۔ مصطفی ناشتے کے لئے انتظار کر رہا ہے ‘‘
’’ میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا ‘‘ اس نے انکار کیا تھا ۔۔
’’ لیکن خطرناک کاموں کے لئے ۔۔ تمہیں دل کی چاہت کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ‘‘ مایا نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ چلو ‘‘ وہ اب اس کے ساتھ آرہی تھی ۔۔۔
ڈائیننگ ٹیبل پر مصطفی پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔ اسے آتا دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔
’’ گڈ مارننگ سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ آئیے ‘‘ اس کے لئے دائیں جانب رکھی کرسی آگے کی تھی ۔۔ وہ خاموشی سے اس پر بیٹھ گئ تھی۔۔ پھر وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ۔۔ جبکہ مایا ۔۔ ان کے سامنے بائیں جانب کی کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔
’’ سکینہ ۔۔ ناشتہ لے آؤ ‘‘ مایا نے آواز دی تھی ۔۔ اور اب ۔۔ اس کی نظر مصطفی کی جانب تھی ۔۔
’’ اب کیسا محسوس کر رہی ہو تم ؟ ‘‘ مصطفی نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ مجھے اب کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا ‘‘ نظریں سامنے رکھی پلیٹ پر تھیں۔۔۔ سکینہ اب کھانا لگا رہی تھی اور اس وقت تک وہ تینوں خاموش تھے ۔۔
’’ تمہیں اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا ہے ‘‘ مایا نے اس سے کہا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی نے جوس کا گلاس اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔
’’ مجھے گھر جانا ہے ‘‘ اس نے مایا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کون سا گھر ؟ ‘‘ مایا کے جواب پر وہ رک گئ تھی ۔۔ واقعی ۔۔۔ کون سا گھر ؟
وہ گھر تو جل چکا ہے ۔۔ اور اب تو وہاں کچھ نہیں بچا تھا ۔۔ نہ کوئی چیز ۔۔ نہ اس کے ماما ۔۔ پاپا ۔۔۔
اسے ایک بار پھر وہ رات یاد آئی تھی ۔۔ اسے ایک بار پھر وہ آگ یاد آئی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو بھرنا شروع ہوئے تھے ۔۔ مصطفی نے مایا کو گھورا تھا ۔۔ جبکہ مایا نے گردن جھکا لی تھی۔۔ اسے اب احساس ہوا تھا کہ اسے یہ نہیں کہنا چاہئے تھا ۔۔
’’ دیکھو رؤں مت ۔۔ ہم جانتے ہیں کہ تم اپنے گھر جانا چاہتی ہو اور ہم تمہیں وہاں لے کر جائینگے ‘‘ مصطفی کی بات پر مایا نے فوراً اسے حیران نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔
’’ سچ میں ؟؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا۔۔ْ بے یقین انداز میں ۔۔
’’ بلکل سچ ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ ماسٹر ہمیں اس کی اجازت نہیں دیں گے ‘‘ مایا نے احتجاج کیا تھا ۔۔
’’ میں جانتا ہوں ۔۔ ‘‘ وہ اب دوبارہ اس لڑکی کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
’’ دیکھو سلیپنگ بیوٹی ۔۔ ماسٹر ہی تمہیں یہاں لائے ہیں اور یہ گھر بھی ان کا ہی ہے ۔۔ ہم صرف ان کے لئے کام کرتے ہیں ۔۔ اور ہم انکی اجازت کے بغیر تمہیں کہیں نہیں لے جاسکتے ۔۔ مگر ‘‘ اس نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔
’’ ماسٹر تمہیں وہاں لے جاسکتے ہیں ۔۔۔ اور اس کے لئے تمہیں انتظار کرنا ہوگا ۔۔ ‘‘
’’ کتنا انتظار ؟ ‘‘ ایک اور سوال کیا تھا ۔۔
’’ یہ میں نہیں جانتا ۔۔ ماسٹر جب ٹھیک سمجھے گیں ۔۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے ۔۔ یقین مانو وہ یہ سب صرف تمہاری حفاظت کے لئے کر رہے ہیں ‘‘ وہ اسے یقین دلانا چاہتا تھا ۔۔
’’ آخر ہیں کون یہ ماسٹر ؟ کہاں ہے ؟ کیا نام ہے اسکا ؟ ‘‘ وہ اب سب جان لینا چاہتی تھی ۔۔ اس کے سوال پر مایا اور مصطفی نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ یہ ہم تمہیں نہیں بتا سکتے ۔۔ جیسا کہ مصطفی نے بتایا کے ہم ان کے لئے کام کرتے ہیں ۔۔ انکی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے ‘‘ مایا نے کاندھے اچکا کر کہا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی نے گہری سانس لی تھی ۔۔
’’ مجھے بات کرنی ہے اس سے ‘‘ اس نے ایک اور ڈیمانڈ کی تھی ۔۔
’’ یہ ناممکن ہے ‘‘ جواب مایا کی جانب سے آیا تھا ۔۔
’’ کیوں نا ممکن ہے ؟؟ ‘‘ اسے اب غصہ آنے لگا تھا ۔۔
’’ کیونکہ جب تک وہ نہیں چاہینگے ۔۔ تم ان سے بات بھی نہیں کرسکتی ‘‘ مایا کے جواب پر وہ فوراً تیش میں اٹھی تھی۔۔ اس کے ساتھ ہی مصفطی اور مایا بھی کھڑے ہوئے تھے ۔۔
’’ کیا بات ہے ۔۔۔ میں یہاں اپنے شہر سے دور اس سنسان وادی میں ۔۔ ایک انجان گھر میں دو اجنبیوں کے ساتھ ہوں ۔۔ مجھے یہاں لانے والا ایک اجنبی ہے ۔۔ جسکا نام تک میں نہیں جانتی ۔۔ جسے میں دیکھ نہیں سکتی ۔۔ جو یہاں موجود نہیں ہے ۔۔ اور میں اس سے بات بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔ میں بس اس گھر میں اس کی قیدی بن کر رہ سکتی ہوں ۔۔ اور تم دونوں اس کے لئے میرے جاسوس بن کر ۔۔۔ کیا بات ہے تم دونوں کی ؟؟ ‘‘ وہ اونچی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔
’’ ایسی بات نہیں ہے ۔۔ ہم تمہارے دوست ہیں ‘‘ مصطفی نے اس کے پاس آکر کہاتھا۔۔
’’ دوست ؟؟؟ مزاق کر رہے ہو میرے ساتھ ۔۔ میری بے بسی دیکھو ذرا ۔۔ ایک رات ۔۔ ایک نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ۔۔ میرا گھر ۔۔ میرے ماں باپ ‘‘ اس کی آواز اب بھاری ہورہی تھی ۔۔ اسکی آنکھیں لال ہورہی تھی ۔۔
’’ ایک رات نے سب جلا کر راکھ کر دیا ۔۔ اور جب وہ رات گزری ۔۔ تو میں یہاں ہوں ۔۔ اس قید خانے میں ۔۔ تمہارے ماسٹر کے آرڈر کے رحم و کرم پر ۔۔ مجھ سے میرے آزادی بھی چھین لی اب اس شخص نے۔۔ بچا کیا ہے میرے پاس اب ؟ ‘‘ وہ مسلسل چیخ رہی تھی۔۔ جبکہ مصطفی نے اسے بازو سے پکڑ کر کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔
’’ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ قید نہیں ہو تم ۔۔۔ یہ سب تمہاری حفاظت کے لئے ہیں سمجھ کیوں نہیں رہی تم ؟؟ ‘‘ اسے اپنی طرف مکمل متوجہ کیا تھا۔۔ ’’ تمہارے لئے باہر بہت خطرہ ہے سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ وہ لوگ اب بھی تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔ تمہاری تلاش ہر جگہ ہورہی ہے ۔۔ ایسے میں تمہیں باہر لے جانا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے ۔۔ سمجھو بات کو ‘‘ اس نے اسکے بازوں پر اپنی پکڑ تھوڑی ڈھیلی کی تھی ۔۔ وہ اب خاموشی سے اسے سن رہی تھی ۔۔
’’ ماسٹر بھی انتظار کر رہے ہیں ۔۔ وقت بہتر ہونے کا ۔۔ پھر تم جہاں کہونگی ہم تمہیں لے جائینگے ۔۔ مگر ابھی نہیں ۔۔ باہر جانے کے لئے تم ابھی تیار نہیں ہو ۔۔ خود بتاؤ ۔۔ کیا تم ان کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو ؟ ‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔ اور اسے محسوس ہوا ۔۔ اسکی بات ٹھیک ہی تو تھی۔۔۔ وہ انکا سامنا کرنے کے لئے بلکل تیار نہیں تھی۔۔ ابھی تو بلکل بھی نہیں ۔۔ وہ اس کے دشمن تھے ۔۔ اسےمار دینا چاہتے تھے ۔۔ اور وہ ایسا نہیں چاہتی تھی ۔۔ اسے مرنا نہیں تھا ۔۔ اسے ان کا سامنا کرنا تھا ۔۔۔اسی لئے تو بھاگی تھی وہ ۔۔
’’ کیا ہم ناشتہ کریں ؟ ‘‘ مصطفی نے اب اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔ اس نے کہا کچھ بھی نہیں ۔۔ ایک نظر مایا کی جانب دیکھا ۔۔ جو مسکرائی تھی ۔۔
’’ اوک ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور مایا نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔
یہ ناران کی ہی ایک سڑک تھی ۔۔ سردیوں کے دن ہونے کی وجہ سے یہاں اب پبلک زیادہ نہیں تھی ۔۔ایک کالے رنگ کی گاڑی تیزی سے اس سڑک پر رواں تھی ۔۔ اونچے راستوں سے گزر کر اب وہ ایک ہوٹل کے سامنے رکی تھی ۔۔ یہاں آس پاس کچھ دکانیں اور لوگوں کی چہل پہل بھی تھی ۔۔ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر وہ باہر نکلا تھا ۔۔ بلو پینٹ کوٹ ، گردن تک آتے لمبے بال جنہیں بیچ کی مانگ بنا کر دونوں طرف بکھیر دیا تھا ، الٹے ہاتھ میں قیمتی کھڑی ، سیدھے ہاتھ میں ایک کی چین جس میں تین چابیاں تھیں ، چوڑے کاندھے ، سفید رنگت ، گہری کالی آنکھیں ، ہلکی سی داڑھی ، اونچی مغرور ناک ، گلے میں ٹائی اور پاؤں میں برانڈٹ کٹ شوز پہنے وہ اب ہوٹل کے اندر آیا تھا ۔۔ سامنے ریسیپشن پر دو آدمیوں نے اسے آتا دیکھ کر سر پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا تھا ۔۔ جس کا جواب اس نے سر ہلا کر دیا ۔۔ وہ تیزی سے اب لفٹ کی جانب آیا تھا ۔۔ ۴ فلور کا بٹن پش کیا تھا ۔۔ کچھ لمحوں میں ہی لفٹ کا دروازہ کھلا اور وہ اب سیدھا ایک کمرے کے جانب آیا تھا ۔۔ اس نے کمرے میں آتے ہی دروازہ لاک کیا تھا ۔۔ پھر وہ بیڈ کے ساتھ رکھی میز کی جانب بڑھا تھا ۔۔ پہلا دراز کھول کر اس میں سے ایک دوربین نکالی تھی ۔۔ اور اب کمرے کے ساتھ موجود بالکنی کی جانب آیا تھا ۔۔ وہاں کھڑے ہوکر اس نے سامنے دیکھا تھا ۔۔ ناران کا خوبصورت منظر تھا ۔۔ مگر وہ یہ منظر دیکھنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔ اس نے دوربین اپنی آنکھوں پر لگائی تھی ۔۔ سامنے ہی اسے درختوں کے بیچ ایک گھر نظر آیا تھا ۔۔ اس نے دوربین گمائی تھی ۔۔ اب وہ اس گھر کے سامنے کے حصے کو آرام سے دیکھ سکتا تھا ۔۔ وہاں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔ مگر کھڑکیوں کے ہٹے ہوئے پردے بتا رہے تھے کہ وہاں رہنے والے لوگ جاگ چکے تھے ۔۔
کچھ دیر بعد اس نے دوربین ہٹائی تھی ۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر اس نے اپنے شوز اتارے تھے ۔۔ اور اب وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں موجود ایک اور دروازے کی جانب بڑھا تھا ۔۔ دروازے سے اندر آؤ تو وہ ایک چھوٹا کمرہ تھا ۔۔ جسے سٹڈی روم کہا جاسکتا تھا ۔۔ کیوں کہ یہاں ایک میز جس پر ایل۔ای۔ڈی اور اس کے ساتھ ایک لیپ ٹاپ ، موبائل اور کچھ پیپرز رکھے تھے ۔۔ کمرے کی ایک دیوار پر بنے کیبلٹس پر کچھ کتابیں رکھی تھیں ۔۔ اور دائیں جانب ایک صوفہ تھا ۔۔ وہ اب اس میز کے پاس آیا تھا ۔۔ میز کے پاس رکھی ریلوالونگ چیئر پر بیٹھ کر اس کی پشت پر سر ٹکایا تھا ۔۔ پھر اگلے ہی لمحے وہ آگے جھکا اور کی بورڈ کا ایک بٹن پریس کیا ۔۔ جس کے بعد ایل۔ای۔ڈی کی سکرین روشن ہوئی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔۔ ایک منظر تھا ۔۔۔ جو اس سکرین پر نظر آرہا تھا ۔۔۔
ایک ڈائیننگ روم کا منظر ۔۔۔ جہاں موجود ڈائیننگ ٹیبل پر ۔۔ تین لوگ موجود تھے ۔۔ دو لڑکیاں ۔۔ اور ایک لڑکا ۔۔ جو خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے ۔۔
اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔
اورپھر اس نے دیکھا ۔۔ وہ تینوں کھڑے ہوئے تھے ۔۔ ان میں سے ایک لڑکی ملازمہ کو ہدایت دے رہی تھی ۔۔ جبکہ دوسری لڑکی پلٹ کر سیڑھیوں کی جانب جارہی تھی۔۔ اور وہ لڑکا اس کے پیچھے آیا تھا ۔۔ اسے روک کر اس سے کچھ کہا تھا ۔۔
اس نے فوراً سے ایک اور بٹن پش کیا تھا ۔۔۔ اب اس منظر کے ساتھ ساتھ ۔۔ آواز بھی آرہی تھی ۔۔۔
’’ تم پھر سے اپنے کمرے میں جارہی ہو بیوٹیفل گرل ‘‘ اسے روک کر مصطفی نے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔۔ ‘‘ اس نے مختصر جواب دیا تھا ۔۔
’’ ابھی تو نکلی ہو اس کمرے سے ۔۔ تمہیں تازی ہوا کی ضرورت ہے ۔۔ چلو پیچھے گارڈن میں چلتے ہیں ‘‘ وہ کہہ کر پلٹا تھا ۔۔ مگر وہ اپنی جگہ رکی تھی ۔۔
’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ اسے اپنی جگہ سے ہلتے نہ دیکھ کر اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ تم یہ سب کیوں کر رہے ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ جس پر مصطفی مسکرایا تھا ۔۔
’’ کیونکہ میں تمہارا دوست ہوں ‘‘ اس کے جواب پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔۔
’’ اب چلیں ؟ ‘‘ اس نے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔ اور اس نے سر ہلایا تھا ۔۔
وہ اسے لے کر گھر کی پچھلی جانب گارڈن میں آیا تھا ۔۔ یہاں درمیاں میں ایک جھولا لگا تھا ۔۔ چاروں اطراف درخت اور پھولوں کے پودےموجود تھے ۔۔ تازہ ہوا اور پھولوں کی خوشبوں نے اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔وہ گہری سانس لے رہی تھی ۔۔ جیسے یہ سب اس کے دماغ کو پر سکون کرنے میں مدد دے رہے تھے ۔۔ وہ اسے دیکھنے میں ہی بزی تھا ۔۔ جب اس کے موبائل پر مسیج ٹیون بجی تھی ۔۔ اور اسی آواز نے اس لڑکی کے سکتے کو توڑا تھا ۔۔ اس نے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔ آنکھوں میں نمی تھی ۔۔
مصطفی نے موبائل نکال کر دیکھا ۔۔ ماسٹر کا مسیج تھا ۔۔
’’ تم بیٹھو ‘‘ اس نے سامنے رکھے جھولے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ اور وہ خاموشی سے اس جانب چلی گئ تھی ۔۔
مصطفی نے اب مسیج کھولا تھا ۔۔
’’ مجھے کل گارڈن بھی نظر آنا چاہئے ‘‘
ایک آرڈر دیا گیا تھا۔۔ مصطفی نے گہری سانس لی تھی ۔۔
’’ ایک تو اس بندے کا کام ختم نہیں ہوتا ‘‘ بڑبڑا کر وہ جھولے کی جانب جانے ہی لگا تھا جب اس کا موبائل دوبارہ بجا تھا۔ اس نے اکتا کر موبائل دیکھا ۔۔
’’ اور ہاں ۔۔۔ اسکا نام امل ہے ۔۔۔ بیوٹیفل گرل نہیں ‘‘
مسیج پڑھ کر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
’’ امل ‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔ اور سامنے بیٹھی اس لڑکی کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو خیال کے کسی اور جہاں میں تھی ۔۔
وہ اسلام آباد ائیر پورٹ سے باہر نکلا تھا ۔۔ سامنے ہی اسکا ڈرائیور اس کے انتظار میں نظر آیا تھا ۔۔
’’ کیسے ہو احمد ؟ ‘‘ ڈرائیور کو اپنا بیگ دیتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک ہوں باس ۔۔ آپ بتائیں ؟ ‘‘ ڈگی میں بیگ رکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ اب یہ باس واس بند کردو احمد ۔۔ ہم اس وقت اپنے شہر میں ہیں ۔۔ ایک عام انسان کی طرح ۔۔ تم میرا نام لے سکتے ہو ‘‘ احمد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ شہزاد صاحب کو خبر ہوگئ ہو وہ ہمیں چھوڑیں گے نہیں ‘‘اس کے لئے بیک ڈور کھولتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ان کی فکر مت کرو ۔۔ وہ ہم پر نظر رکھ سکتے ہیں ۔۔ ہمیں سن نہیں سکتے ‘‘ وہ بیٹھ چکا تھا ۔۔ اور احمد بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا ۔۔
’’ تین مہینے لگا دیئے اس بار آپ نے ۔۔ سب ٹھیک تھا ؟ ‘‘ اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ٹھیک تو کچھ بھی نہیں احمد ۔۔ اس بار جو کام کرنا تھا ۔۔ وہ بہت مشکل تھا ‘‘ اس کے لہجے میں ایک افسوس تھا ۔۔ احمد نے محسوس کیا تھا ۔۔
’’ کیا کام ہوگیا ؟ ‘‘
’’ ہاں ۔۔ ہوگیا ۔۔۔ بس اس کی کچھ نشانیاں رہ گئ ہم سے ‘‘ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ تم کبھی نشانیاں نہیں چھوڑتے فرہاد ۔۔ جب تک کہ تم خود نہ چاہو ‘‘ احمد کی بات پر اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔۔
’’ زندگی بہت الجھی ہوئی ہے احمد ۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اپنے گناہوں کی نشانیاں ۔۔ اپنوں کے ہاتھوں ہی چھوڑ دیتے ہیں ‘‘ اس نے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔ اور پھر۔۔ کچھ منظر اسکی نگاہوں کے سامنے آئے تھے ۔۔
آگ میں لپٹا گھر ۔۔ ایک بھاگتی ہوئے لڑکی ۔۔ اور کھائی ۔۔۔
اس نے فوراً آنکھیں کھولی تھیں ۔۔ احمد نے دیکھا ۔۔ وہ کچھ گھبرایا ہوا لگ رہا تھا ۔
’’ تم ٹھیک ہو ؟ ‘’ اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ بس کچھ یاد آگیا تھا ‘‘ اپنے ماتھے کو دباتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ اپنوں کے ہاتھوں نشانیاں چھوڑ آئے ہو فرہاد ۔۔۔ کیا یہ خطرناک نہیں ؟ ‘‘ وہ اس کے لئے پریشان ہورہا تھا ۔۔
’’ میں تو ہمیشہ سے ہی خطروں سے کھیلتا رہا ہوں احمد ۔۔ مگر ۔۔ اپنوں کے ہاتھ اپنے گناہوں کی نشانی چھوڑ دینے کے بعد آپ ان نشانیوں کو مٹا نہیں سکتے ۔۔ کیونکہ اگر آپ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے ۔۔ تو آپکے اپنے بھی آپکی زندگی سے مٹ جائینگے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور جانے اس کے لہجے میں کیا تھا ۔۔ کہ احمد نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔ اور وہ حیران رہ گیا تھا ۔۔ یہ وہ فرہاد تو نہیں تھا ۔۔ جسے آخری بار اس نے دیکھا تھا ۔۔ یہ تو کوئی اور تھا ۔۔
’’ آپکو آرام کی بہت سخت ضرور ہے باس ‘‘ گاڑی روک کر اس نے کہا تھا ۔۔ اور فرہاد نے دیکھا ۔۔ سامنے ایک گھر تھا۔۔
’’ تم سے کل ملاقات ہوگی احمد ۔۔ میں کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہوں ‘‘ گاڑی سے نکلتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ اوک باس ‘‘ اسکا بیگ ملازم کے حوالے کر کے وہ وہاں سے جاچکا تھا ۔۔
انہیں مری آئے ہوئے ابھی صرف پانچ دن ہی ہوئے تھے ۔۔ وہ اسلام آباد سے یہاں شفٹ ہوئے تھے ۔۔ وجہ پاپا کا ٹرانسفر تھا ۔۔ اس کے پاپا ایک ہوٹل کے منیجر تھے ۔۔ یہاں بھی ان کی ایک برانچ تھی ۔۔ جو کہ کچھ عرصے سے نقصان دے رہی تھی اس لئے کمپنی نےپاپا کو یہاں ٹرانسفر کر دیا تھا ۔۔ اور پاپا نے یہاں ایک گھر بھی لے لیا تھا ۔۔ وہ یہاں آکر بہت خوش تھی ۔۔ اسے مری کا موسم ہمیشہ سے ہی بہت پسند تھا اور پھر یہاں کی خوبصورتی ۔۔ قدرتی مناظر بچپن سے ہی اسے بہت ایٹریکٹ کرتے تھے ۔۔ وہ اس وقت واک کر کے گھر آئی تھی ۔۔ کچن سے ایک گلاس جوس لینے کے بعد وہ ان کے کمرے کی جانب گئ تھی ۔۔ مگر دروازے پر ہی وہ رک گئ تھی ۔۔ اندر سے ماما اور پاپا کی باتوں کی آواز نے اسے روک دیا تھا۔۔
’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟ وہ یہاں کیسے آگئے ؟ ‘‘ ماما بہت پریشان لگ رہی تھیں ۔۔
’’ مجھے خود بھی سمجھ نہیں آرہا ۔۔ انہوں نے مجھے دیکھ لیا ہے ۔۔ اب ہم کیا کریں گے ؟ ‘‘ پاپا کی آواز میں بھی بے حد پریشانی تھی ۔۔
’’ ہمیں کچھ کرنا ہوگا جہانگیر ۔۔ وہ ہمیں مار دینگے ۔۔ اور ہماری بیٹی ؟؟ اسے چھپا دو جہانگیر ۔۔۔ پلیز ‘‘ وہ اب باقاعدہ رونے لگی تھیں ۔۔
’’ ہماری بیٹی کو کچھ نہیں ہوگا سیرت ۔۔۔ میں شہزاد کو اس تک کبھی نہیں پہنچنے دونگا ‘‘ اور بس ۔۔۔ پاپا کے اس ایک نام نے اسے ساری کہانی سمجھا دی تھی ۔۔ وہ اب پلٹ کر اپنے کمرے کی جانب آئی تھی ۔۔۔ اس نے کمرے میں آکر اپنا لیپ ٹاپ آن کیا تھا ۔۔
گوگل پر ’’ شہزاد شاہ ‘‘ کا نام لکھا تھا ۔۔ اور اسے انکی ڈیٹیل مل گئ تھی ۔۔ وہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر تھے ۔۔ انکا تعلق راولپنڈی سے تھا ۔۔ان کے ایک بھائی جمشید بھی ہیں جوکہ گاؤں کی زمینوں اور وہاں کی فصل وغیرہ کی دیکھ بھال کرتے تھے ۔۔ سیاست میں جمشید کا کوئی خاص انٹرسٹ نہیں تھا ۔۔ بلکہ ان کے علاوہ گھر کے کسی بھی فرد کا سیاست میں کوئی عمل نہیں تھا ۔۔ ان کا ایک بیٹا بھی ہے ۔۔ جو کہ بہت کم ہی نظر آتا رہا ہے ۔ اس کے علادہ سننے میں آیا ہے کہ انکا ایک اور بھائی بھی تھا ۔۔مگر وہ انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔ کیوں گیا ؟ کون تھا ؟ کہاں گیا ؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔
مگر وہ جانتی تھی ۔۔ وہ سب جانتی تھی ۔۔ ماما نے اسے سب بتایا تھا ۔۔۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ’’ شہزاد شاہ ‘‘ اسکے تایا ہیں ۔۔ اور ان کی جان کے سب سے بڑے دشمن بھی ۔۔ اس نے شہزادشاہ کی تصوید پر کلک کیا تھا ۔۔ وہ اب اسکی سکرین پر موجود تھی ۔۔ کتنا روب ، کتنی سختی تھی اس چہرے میں ۔۔
وہ شاہ گھرانے کے سربراہ تھے ۔۔ ان کے گھرانے کی خاص بات یہی تھی کہ وہ اپنے خون میں ملاوٹ برداشت نہیں کرتے تھے ۔۔ خاندان سے باہر شادی کرنا انکے ہاں گناہ سمجھا جاتا تھا ۔۔ پسند کی شادی کا تو یہاں کوئی نام بھی نہیں لے سکتا تھا ۔۔ پڑھائی میں انکے ہاں کوئی روک ٹوک نہیں تھی ۔۔ مگر وہ اپنے اصولوں کے بہت پکے تھے۔۔ جو الفاظ انکی زبان سے نکلتے ۔۔ وہ پتھر پر لکیر سمجھے جاتے تھے ۔۔ اور سیاست میں آنے کے بعد تو اس میں اضافہ ہوگیا تھا ۔۔ لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ بھی اب وہ خود کرتے تھے ۔۔ بس کوئی ان کے اصولوں کے خلاف جانے کی کوشش تو کرے ۔۔ ایک کامیاب سیاستدان ہونے کی وجہ سے اپنے کئ گناہوں پر بہت آسانی سے پردہ ڈال چکے تھے وہ ۔۔ اور اب ۔۔ وہ ایک نیا گناہ کرنا چاہتے تھے ۔۔
ماما اور پاپا ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے ۔۔ پہلے دوستی اور پھر محبت کا سفر دونوں نے ساتھ طے کیا تھا ۔۔ مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ ماما کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک الگ ذات سے بھی تھا ۔۔ تو پھر شہزاد شاہ کا اس رشتے کے لئے ماننا ناممکن تھا ۔۔ اس لئے ماما اور پاپا نے کورٹ میریج کر لی تھی ۔۔ اور جب وہ شادی کر کے حویلی آئے ۔۔ تو شہزاد شاہ کا درعمل توقع سے زیادہ خطرناک تھا ۔۔ وہ ماما کو گولی مار دینا چاہتے تھے ۔۔ بہت مشکل سے وہ دونوں اپنی جان بچا کر بھاگے تھے ۔۔ مگر شہزاد شاہ نے اپنے بندے ان کے پیچھے لگا رکھے تھے ۔۔ اور پھر کتنے ہی سال ۔۔۔ پاپا شہر بدل بدل کر رہا کرتے تھے ۔۔ اسے یاد تھا ۔۔ پچپن میں وہ چھ مہینے سے زیادہ ایک جگہ نہیں رہتے تھے ۔۔ اور اسکی وجہ شہزاد شاہ تھا ۔۔ اور پھر وقت گزرتا گیا ۔۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد پاپا ریلیکس ہوگئے تھے ۔۔ انہیں لگا کہ اب شہزاد نامی آسیب انکی زندگی سے جاچکا ہے ۔۔ اور شاید ایسا ہوبھی گیا تھا ۔۔ مگر آج ۔۔۔ اتنے سالوں بعد ۔۔ وہ آسیب دوبارہ انکے سامنے آگیا تھا ۔۔
وہ اس تصویر کو غور سے دیکھ رہی تھی۔۔
’’ کیا کوئی اتنا پتھر دل ہوسکتا ہے ؟ ‘‘ اس نے خود سے پوچھا تھا ۔۔
’’ اصولوں کے لئے کسی کی جان لے لینا ۔۔۔ وہ بھی اپنے سگے بھائی کی ۔۔؟ ‘‘ وہ حیران بھی تھی ۔۔ مگر یہ حقیقت تھی ۔۔
جانے اور کتنی دیر بیٹھی وہ یہی سب سوچ رہی تھی ۔۔۔ جب کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا ۔۔
’’ آجائیں ‘‘ اس نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔ دروازہ کھول کو ماما اندر آئیں تھیں ۔۔
’’ کیا ہو رہا ہے ؟ ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے انہوں نے پوچھا تھا ۔۔
’’ کچھ نہیں ۔۔ آپ بتائیں ‘‘ وہ ان پر کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
’’ تم سے ایک بات کرنی ہے ‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔
’’ تمہارا گریجویشن تو کمپلیٹ ہوگیا ہے ۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم آگے پڑھائی کنٹینیو کرو ‘‘ ماما اس سے کہہ رہی تھیں ۔۔ اور وہ جانتی تھی کہ وہ ایسا کیوں چاہتی تھیں ؟ یقیناً وہ اسے یہان سے دور بھیجنا چاہتی تھیں ۔۔
’’ ٹھیک ہے ۔۔ میں یہی کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لونگی ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔
’’ نہیں ۔۔۔ تم اپنی پرانی یونیورسٹی میں ہی آگے پڑھوگی ۔۔ پاپا نے بات کرلی ہے ۔۔ کل جاکر تم فارم جمع کروا دینا ‘‘
’’ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔ میں اکیلی نہیں رہ سکتی وہاں ۔۔ اور آپ لوگوں کے بغیر تو بلکل بھی نہیں ‘‘ اسے اب ایک خوف تھا ۔۔ وہ ماما کے سامنے ظاہر تو نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ مگر وہ حقیقت تو جانتی تھی نا ۔۔۔ ان حالات میں وہ اسے یہاں سے دور بھیجنا چاہتے تھے ۔۔ مگر وہ کیسے انہیں چھوڑ کر جاسکتی تھی۔۔
’’ میں نے کب کہا کہ تم اکیلی رہو گی ؟ ہم سب ساتھ جائیگے ۔۔ تمہارے پاپا کو اپنا ٹرانسفر دوبارہ وہاں کروانا ہوگا ۔۔ اور اس کے لئے کچھ دن لگ جائینگے ۔۔ پھر ہم بھی وہاں آجائینگے ۔۔ ابھی تو بس تمہیں وہاں جاکر فارم جمع کروانا ہے ۔۔ پھر وہ واپس آجانا ‘‘ ماما نے اسے نرمی سے سمجھایا تھا ۔۔
’’ مگر میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔ ہم بعد میں ساتھ جاکر ایڈمیشن کروا لینگے ؟ ‘‘ جانے کیوں ۔۔ ؟ مگر وہ ایک دن کے لئےبھی یہاں سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔
’’ پرسوں آخری ڈیٹ ہے ایڈمیشن کی ۔۔ اس لئے تمہارا جانا ضروری ہے ۔۔ اب مزید کوئی بات نہیں ہوگی ۔۔ اپنی پیکنگ کرو ۔۔ایک گھنٹے میں تمہاری فلائیٹ ہے ‘‘ وہ اسے حیران کر کے کھڑی ہوئی تھیں ۔۔
’’ اتنی جلدی ؟؟ ‘‘
’’ ہاں ۔۔ کیونکہ وہاں جاکر تم ریسٹ کروگی ۔۔ پھر صبح یونیورسٹی جانا ہوگا ۔۔ دو تین دن اپنی دوستوں کے ساتھ گزار لینا ‘‘ وہ پرسکون تھیں ۔۔
’’ اتنی جلدی کس بات کی ہے ماما ؟ ‘‘ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
’’ تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی امل ۔۔۔ اپنا سامان پیک کرو ۔۔ ایک گھنٹے بعد پاپا تمہیں ائیرپورٹ لے کر جارہے ہیں ‘‘ وہ اب اسے سختی سے کہہ کر چلی گئ تھیں ۔۔ اور اس کے پاس اب کوئی اور آپشن نہیں تھا ۔۔۔سوائے پیکنگ کرنے کے ۔۔۔
اسے اپنے بازؤں میں درد محسوس ہوا تھا ۔۔ اور یہی درد اسے حال میں واپس لے کر آیا تھا ۔۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے بازو میں رکھ کر دبایا تھا ۔۔
’’ اوہ شکر ہے ‘‘ مصطفی نے جیسے سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔
’’ یہ کیا کیا ہے تم نے ؟ ‘‘ اپنا بازو مسلتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔
’’ کب سے تمہیں پکار رہا ہوں ۔۔ مگر تم تو کسی اور ہی جہاں میں گم تھی ۔۔ اس لئے سوچا تمہیں چٹکی کاٹ کر اس جہاں میں واپس لے آؤں ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ حد ہوگئ ‘‘ غصے سے کہہ کر سامنے دیکھا تھا ۔۔ وہ اب بھی گارڈن میں موجود تھی ۔۔
’’ تمہیں نہیں لگتا سلیپنگ بیوٹی کہ تمہیں ماضی میں رہنے کے بجائے حال پر توجہ دینی چاہئے ؟ ‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مصطفی نے کہا تھا ۔۔
’’ اچھا ۔۔ تو بتائیں ذرا مجھے ۔۔۔ حال پر کیا توجہ دوں میں ؟ یہ کہ میں ایک انجان علاقے کے انجان گھر میں دو انجان لوگوں کے ساتھ ایک انجان انسان کی قید میں بند ہوں اور اس قید سے میں انجانے میں بھی آزاد نہیں ہوسکتی ‘‘ وہ جو جیسے اپنے فوراً ہی تیش میں آئی تھی ۔۔
’’ اچھا اچھا ۔۔کاٹ کیوں رہی ہو ‘‘ مصطفی اس کے اس روپ سے پر چونکا تھا ’’ تم فیوچر کے بارے میں بھی سوچ سکتی ہو نا ؟ ‘‘ اس نے اب ایک اور مشورے سے نوازا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ فیوچر ۔۔ ‘‘ امل نے گہری سانس لی تھی ’‘ میرا حسین فیوچر ۔۔ اس حسین وادی کی حسین صبح میں اس حسین کمرے میں جاگنا ۔۔ اور ایک حسین دن کا آغاز ناشتے سے کرنے کے بعد ایک حسین شام کا انتظار کرتے کرتے سوجانا ہے۔۔ واہ ! کیا فیوچر ہے میرا ؟ ‘‘ دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ لگتا ہے تم نے آملیٹ میں کالی مرچیں زیادہ ڈال دی تھیں ‘‘ اسے دیکھتے ہوئے مصطفی نے کہا تھا ۔۔
’’ کیا ؟ کالی مرچیں ؟؟ ‘‘ وہ فوراً ہی کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اور مصطفی لکو لگا جیسےا ب وہ اسکا آملیٹ بنانے والی تھی۔۔
’’ کالی مرچیں نہیں ۔۔ انگارے کھائے ہیں میں نے ۔۔ اور اگر تم نے اب مزید مجھ سے کوئی بھی بات کرنے کی کوشش کی ‘‘ ایک انگلی اسکی جانب اٹھائی تھی ’’ تو میں تمہیں ان انگاروں میں جلا بھی سکتی ہوں ‘‘ اس وارننگ دی تھی ۔۔
’’ میں نے کیا کیا ہے ؟؟ ‘‘ وہ فوراً ہی کھڑا ہوکر اس سے دور ہوا تھا ۔۔
’’ تم نے جلانا ہے تو جاکر ماسٹر کو جلاؤ ۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے انگاروں میں جلنے کا ‘‘ وہ بھی اب اس کے مقابلے میں کھڑا تھا ۔۔
’’ اوہ تمہارے وہ ماسٹر ۔۔ ‘‘ وہ ایک قدم آگے ہوئی تھی ۔۔ اور مصطفی ایک قدم پیچھے ۔۔
’’ جس دن تمہارا وہ تھرڈ کلاس ڈانسر میرے سامنے آیا ۔۔ میں اسے بھی جلا ڈالونگی ‘‘ اسے خطرناک انداز میں دھمکی دیتے ہوئے وہ پلٹی تھی ۔۔۔ اور مصطفی کو اب ہوش آیا تھا ۔۔
’’ ایک منٹ ۔۔ کیا کہا تم نے ؟ ‘‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے آیا تھا ۔۔ جبکہ وہ رکی نہیں تھی ۔۔ اب وہ تیزی سے گھر کے اندر آکر لاؤنچ سے گزری تھی۔۔
’’ تم نے ماسٹر کو تھرڈ کلاس ڈانسر کہا ؟؟؟ پاگل تو نہیں ہو تم ؟ ‘‘ وہ اس کے پیچھے آتا کہہ رہا تھا جبکہ وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ۔۔
’’ انہیں معلوم ہوگیا تو قیامت آجائے گی ۔۔ ‘‘ اس نے اپنے کمرے میں جاکر دروازہ اس کے منہ پر بند کردیا تھا جبکہ وہ اب تڑپ رہا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ مایا نے کچن سے نکل کر آواز دی تھی ۔۔ وہ فوراً پلٹا تھا ۔۔
’’ اس نے ابھی ابھی ماسٹر کو تھرڈ کلاس ڈانسر کہا ہے مایا ۔۔ اف یہ لڑکی اپنے ساتھ کچھ کروا لے گی ۔۔۔ اگر ماسٹر کو پتہ لگ گیا تو وہ اسے چھوڑینگے نہیں ‘‘ وہ پریشانی کے عالم میں کہتا ہوا سیڑھیوں سے اتر رہا تھا ۔۔
’’ لیکن ۔۔۔ انہیں تو پتہ لگ چکا اب ‘‘ مایا کے جواب پر اس کے قدم رکے تھے ۔۔ اور پھر اچانک ہی ۔۔ اسے کچھ یاد آیا تھا ۔۔۔
’’ شٹ ‘‘ اس نے اپنے بال پکڑے ہوئے کہا تھا ۔۔
وہ یہاں سےکچھ ہی دور ۔۔ اس ہوٹل کے کمرے میں موجود ۔۔ چھوٹے سے سٹڈی روم میں ۔۔ کرسی پر بیٹھے شخص نے یہ الفاظ سن لئے تھے ۔۔ اس نے کافی کا کپ میز پر رکھا تھا ۔۔۔ اس کے تعصورات بدلے تھے ۔۔
’’ تھرڈ کلاس ۔۔۔ ڈانسر ‘‘ وہ بڑبڑایا تھا ۔۔ چہرے پر انتہا کی سنجیدگی تھی ۔۔ لیپ ٹاپ بند کر کے اس نے کرسی کی پشت کر سر ٹکایا تھا ۔۔ آنکھیں بند کر کے اس نے دو تین گہری سانسیں لی تھیں ۔۔ شاید وہ اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ کچھ لمحوں بعد اس کے آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔
ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا ۔۔۔ وہ فوراً سیدھا ہوا تھا ۔۔ سامنے رکھا موبائل اٹھایا تھا ۔۔
اس نے ایک مسیج ٹائپ کر کے کسی کو سینڈ کیا تھا ۔۔
اب وہ کھڑا ہوکر اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔ دوربین اٹھا کر ٹیرس کی جانب آکر اس نے دوربین اپنی آنکھوں پر لگائی تھی۔
وہ اب اس گھر کو دوبارہ دیکھ رہا تھا ۔۔ اس نے تھوڑا قریب سے دیکھا ۔۔ ایک کمرے کی کھڑکی پر ایک لڑکی کھڑی ہوئی تھی۔۔ وہ شاید کچھ سوچ رہی تھی ۔۔ کھویا ہوا انداز تھا ۔۔
اور پھر ایک گہری سانس لے کر وہ پلٹی تھی ۔۔ اس نے کھڑکی کے پردے برابر کئے تھے ۔۔
اب اسے وہاں کوئی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔ اس نے دوربین آنکھوں سے ہٹائی تھی ۔۔
’’ تو پھر ۔۔ اس ’’ تھرڈ کلاس ڈانسر ‘‘ کے ساتھ ڈانس کرنے کے لئے ریڈی ہوجاؤ ۔۔۔ مائی ہارٹ ‘‘
معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا تھا ۔۔
