Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 18)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

وہ آئینے کے سامنے کھڑے اپنی کلائی کے بٹن بند کر رہے تھے ۔۔ ساتھ ہی نظر پیچھے اپنے الماری میں کپڑے سیٹ کرتی سادیہ بیگم پر تھیں ۔۔

’’ آج کھانے کا خاص اہتمام کرنا ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اپنی گھڑی ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھائی تھی ۔۔

’’ کوئی مہمان آرہا ہے کیا ؟ ‘‘

’’ نہیں ۔۔ مہمان نہیں ۔۔۔ گھر کے افراد آرہے ہیں ‘‘ کلائی میں گھڑی باندھ کر رخ انکی جانب موڑا تھا ۔۔

’’ مطلب ؟؟ کون افراد ؟ ‘‘ وہ سمجھی نہیں تھیں۔۔

’’ میرا بیٹا اور بہو آرہے ہیں ان کی آمد کی تیاری کرو سادیہ ‘‘ اور ان کے الفاظ پر سادیہ بیگم کا چہرہ کھل اٹھا تھا ۔۔

’’ کیا ! آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟ ‘‘

’’ کیا میں تمہیں جھوٹا لگتا ہوں ؟ ‘‘ ماتھے پر بل لئے کہا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ میں نے ایسا تو نہیں کہا ‘‘ وہ فوراً گھبرائی تھیں ۔۔

’’ تو پھر جاکر کھانے کی تیاری کرو ۔۔ وہ شام تک ہمارےساتھ ہونگے ۔۔ میں بھی کچھ کام نپٹانے جارہا ہو ‘‘ کہہ کر وہ کمرے سے باہر جاچکے تھے ۔۔

’’ شکر ہے اللہ کا ۔۔۔ سکینہ ۔۔ سکینہ ۔۔۔ ‘‘ ملازمہ کو آواز دیتیں وہ اب کچن کی جانب بڑھی تھیں ۔۔ جہاں زویا شیلف پر چائے کا کپ لئے بیٹھی تھی ۔۔ انہیں آتا دیکھ کر فوراً سیدھی کھڑی ہوئی ۔۔

’’ جی بیگم صاحبہ ۔۔۔ ‘‘ سکینہ بھی فوراً الرٹ ہوئی تھی ۔۔

’’ شاندار کھانے کی تیاری کرو ۔۔ نائل کی پسند کی ہر چیز بناؤ ۔۔ اور میٹھے کا سامان نکال کر رکھو میں خود میٹھا بناؤنگی آج ۔۔ اور ہاں ۔۔ نائل کا کمرہ کھول کر صاف کرو ۔۔ ‘‘ خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ وہ ایک ہی سانس میں سب کہہ رہیں تھیں ۔۔

’’ نائل آرہا ہے ؟ ‘‘ زویا نے ایکسائیٹمنٹ سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ میرا بیٹا اور بہو آرہے ہیں ۔۔۔ یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو سکینہ جاکر تیاری شروع کرو ‘‘ وہ اب سکینہ پر برسی تھیں جبکہ زویا کے چہرے کے تعصورات بگڑے تھے ۔۔

’’ تو یہ سب تیاریاں ؟ اس لڑکی کے لئے ہورہی ہیں ؟ ‘‘ چائے کا کپ شیلف پر پٹختے ہوئے کہا تھا ۔۔ چہرہ غصے سے لال تھا۔۔

’’ وہ لڑکی ۔۔ نائل کی بیوی اور اس گھر کی بہو ہے زویا ۔۔ اور ان سب کی حقدار بھی ‘‘ سخت انداز میں اسے جواب دے کر سادیہ بیگم آگے بڑھ گئ تھیں ۔۔ جبکہ زویا اپنے پیر پختی سیڑھیوں کی جانب جانے لگی تھی ۔۔۔

اس نے ایک کمرے کا دروازہ ناک کیا ۔۔

’’ آجاؤ ‘‘ اندر سے آتی ایک بھاری آواز پر وہ کمرے کے اندر داخل ہوئی ۔۔

’’ آپ جانتے ہیں یہاں کیا ہورہا ہے بابا ؟ ‘‘ کہتے ہوئے بیڈ پر بیٹھے جمشید شاہ کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔

’’ کیا ہورہا ہے بیٹا ؟ ‘‘

’’ تایا نے انہیں گھر میں بلا لیا ہے ۔۔ اور تائی انکی آمد کی تیاریاں کر رہی ہیں ‘‘

’’ کسے بلا لیا شہزاد نے ؟ ‘‘ وہ زویا کا اندازہ نہیں سمجھے تھے ۔۔

’’ نائل شاہ اور اسکی بیوی کو ۔۔ وہ دونوں شام کو یہاں آرہے ہیں ‘‘ اس نے جیسے دھماکہ کیا تھا اور جمشید شاہ فوراً اپنے جگہ سے اٹھے تھے ۔۔

’’ یہ کیا کہہ رہی ہو تم ؟ شہزاد ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟ ‘‘ انہیں یقین نہیں ہورہا تھا ۔۔ شہزاد شاہ اتنی آسانی سے کیسے مان گیا ؟

’’ وہ ایسا کر چکے ہیں بابا ۔۔ اور آپ یہاں بیٹھے ہیں ۔۔ میں آپکو ایک بات بتا رہی ہوں ‘‘ وہ ایک قدم آگے ہوئی تھی ۔۔

’’ نائل شاہ کے علادہ میں کسی سے شادی نہیں کرونگی ۔۔ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ میں اس حویلی کی بہو بنونگی ۔۔ اب آپکو اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا ۔۔ ورنہ ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔

’’ ورنہ ؟ ‘‘

’’ ورنہ مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا ‘‘ انہیں دھمکا کر وہ جس تیش کے ساتھ کمرے میں آئی تھی ۔۔ اس تیش کے ساتھ چلی تھی ۔۔



اپنے آفس سے باہر نکل کر وہ ایک کونے میں کھڑی نرس کے پاس گئ تھی ۔۔

’’ یہ تمہارے لئے ‘‘ ایک پیکٹ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔ جسے ہچکچاتے ہوئے نرس نے تھاما تھا ۔۔

’’ جیسے میں نے کہا ہے تم بلکل ویسا ہی کروگی ۔۔۔ اگر کوئی گڑبڑ ہو ۔۔ تو مجھے انفارم کر دینا ۔۔ میرا نیا نمبر تو ہے نہ تمہارے پاس ؟ ‘‘ نرس نے بنا کچھ کہے سر ہلایا تھا ۔۔

’’ گڈ ۔۔۔ اب میں جارہی ہوں ۔۔ باقی یہاں تم سب سنبھال لینا ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے تیزی سے نکلی تھی۔۔ جبکہ نرس وہ پیکٹ چھپاتے ہوئے دوسری جانب چل پڑی تھی ۔۔۔

اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سب سے پہلے اپنے بالوں کی پونی ٹیل بنائی ۔۔ اپنا کوٹ اور بیگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھا ۔۔ اپنے موبائل ۔۔ جو آج ہی اس نے نیا خریدا تھا سے کسی کو کال ملائی تھی ۔۔

’’ تم پہنچ گئے ہو ؟ ‘‘

’’ اوک ۔۔ میں بھی کچھ دیر میں آنے والی ہوں ‘‘ کال بند کر کے اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔

’’ چلو پھر مصطفی ۔۔ دیکھتے ہیں اور کتنے رازوں سے پردہ اٹھنا باقی ہے ‘‘ کہتے ساتھ اس نے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا دی تھی ۔۔۔



’’ تم تیار ہو ؟ ‘‘ اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ماسٹر نےپوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ چلیں ‘‘ اسکی جانب پلٹتے ہوئے کہا تھا ۔۔

اور ماسٹر نے دیکھا ۔۔ بلیک کلر کی آؤٹفٹ جو کہ فرنٹ سے گھٹنوں سے کچھ اوپر اور بیک سے تھوڑی لمبی تھی ۔۔ ساتھ بلو کلر کی جینس جس میں وائیٹ شیڈ آرہا تھا ۔۔ ڈارک براؤن بال دونوں بازؤں میں بکھرے ہوئے ۔۔ ہلکے میک اپ کے ساتھ ریڈ شیٹ کی لائیٹ لپ سٹک لگائے ہوئے وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور مختلف لگ رہی تھی ۔۔

’’ بیوٹی فل ‘‘ جانے کیسے ؟ مگر ماسٹر کے منہ سے الفاظ نکل چکےتھے ۔۔ اور سامنے کھڑی امل کے ہونٹ مسکرائے تھے ۔۔

’’ تو ایک بار پھر ۔۔ ہوش اڑا دیئے میں نے تمہارے ؟ ‘‘ اپنے مخصوص انداز میں کہتی وہ ماسٹر کا ٹرانس توڑنے میں کامیاب ہوگئ تھی ۔۔

’’ ہاں اور ہمیشہ کی طرح اپنی اس کڑوی زبان سے تم نے ہوش ڈھکانے بھی لگا دیئے ‘‘ وہ اب چڑنے لگا تھا ۔۔۔ آخر یہ لڑکی کبھی تھینک یو کیوں نہیں کہہ سکتی ؟؟ کوئی حرکت تو نارمل لڑکیوں والی کر لیا کرو امل ۔۔

’’ اسکی خوشی ہے مجھے ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے بیڈ سے اپنا پرس اٹھا تھا ۔۔ وہ جانے کے لئے ریڈی ہے ۔۔

’’ ویسے تو تم ریڈی ہو ۔۔ لیکن ‘‘ وہ ایک قدم اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔ ’’ ایک کمی ہے ‘‘

’’ کیسے کمی ؟ ‘‘ خود کو دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔ سب ٹھیک تو ہے ؟

’’ یہ ‘‘ ایک مخمل کا باکس اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔ جسے اس نے حیرانی سے دیکھا تھا ۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘

’’ دیکھو ‘‘ ماسٹر نے باکس کھولا ۔۔ وہ ایک سلور کلر کی چین تھی ۔۔ جس میں ایک آنسو شکل کا لاکٹ تھا جس کے اطراف میں سلور نگینے چمک رہے تھے اور درمیان میں بلیک پتھر ۔۔۔

’’ بیوٹیفل ‘‘ امل نے اپنی نظریں اس لاکٹ پر جماتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ وہ تو ہے ‘‘ وہ مسکرایا تھا ۔۔ شکر ہے اس لڑکی کو اسکی دی ہوئی کوئی چیز تو پسند آئی ۔۔

’’ مگر میں یہ نہیں لے سکتی ‘‘ اور یہ ہوئی ماسٹر کے مسکراہٹ غائب۔۔

’’ کیوں ؟ ‘‘

’’ یہ بہت ایکسپنسو ہے ماسٹر ۔۔۔ ‘‘

’’ یہاں موجود ہر چیز ایکپنسو ہے امل ۔۔ جو کپڑے تم نے پہنے ہیں وہ بھی ۔۔ تو اسے پہننے میں کیا حرج ہے ؟؟ ‘‘ اسے اب امل پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔ وہ بنا کوئی بحث کئے بات کیوں نہیں مانتی آخر ؟

’’ مگر یہ سب اس ایکٹ کی ضروریات ہیں ۔۔ مگر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘‘

’’ تمہیں اندازہ نہیں ہے امل کے اسکی کتنی شدید ضرورت ہے ۔۔۔ ‘‘ وہ کہتا ہوا مل کے پیچھے آیا تھا ۔۔ سامنے موجود آئینے میں امل نے دیکھا ۔۔ وہ اس کے پیچھے کھڑا ۔۔ وہ لاکٹ باکس سے نکال کر اس کے گلے میں پہنا رہا تھا ۔۔ وہ اسے روکنا چاہتی تھی ؟ وہ خود اسے پہن سکتی تھی ۔۔ مگر جانے کیوں ؟ اسکے قدم جیسے حرکت کرنا بھول گئے تھے ۔۔ وہ بس آئینے میں اپنا اور اسکا عکس دیکھ رہی تھی ۔۔ بلیک بینٹ کوٹ پہنے ۔۔ لمبے گردن تک آتے سیاہ بال ، ہلکی بئیرڈ ، کلائی میں قیمتی گھڑی ۔۔ چوڑے کاندھے ۔۔ صاف رنگت ۔۔ وہ واقعی ایک پرکشش مرد تھا ۔۔

’’ آخر یہ ہماری شادی کا پہلا تحفہ ہے ‘‘ اپنی گھمبیر آواز میں وہ اس کے کانوں میں کہتا پیچھے ہٹا تھا ۔۔ اور بس ۔۔ یہی وقت تھا ۔۔ جب وہ اس ٹرانس سے باہر آئی تھی ۔۔

’’ چلیں ؟ ‘‘ ماسٹر نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہمم ‘‘ اپنا سر ہلاتی وہ اسکے پیچھے چلنے لگی تھی ۔۔ آخر تمہیں یہ کیا ہوگیا تھا امل ؟ وہ خود پر حیران تھی ۔۔



’’ میں نے جو سنا کیا وہ ٹھیک ہے ؟ ‘‘ لاؤنچ میں بیٹھے شہزاد شاہ کے سامنے کھڑے جمشید شاہ نے تیش سے کہا تھا ۔۔

’’ کیا سنا ہے تم نے ؟ ‘‘ وہ پر سکون تھے ۔

’’ یہی کہ آپ نے اپنی بہو کو اس حویلی میں رہنے کی دعوت دی ہے ‘‘

’’’ وہ بہو نہیں بلکہ نائل کی بیوی کی حیثیت سے یہاں آرہی ہے ‘‘ انہوں نے جیسے انکی غلط فہمی دور کی تھی ۔۔

’’ آپ ایسا کیسےکر سکتے ہیں ؟ آپ بھول رہے ہیں بھائی کہ آپ نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا ‘‘

’’ میں کچھ نہیں بھولا ہوں جمشید ۔۔ اور اسی لئے میں نے انہیں یہاں بلایا ہے ۔۔ ‘‘ شہزاد شاہ اب اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ۔۔

’’ اس لڑکی کو یہاں آنا ہے ۔۔ یہاں سے جانے کے لئے ‘‘ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا اور جمشید شاہ جیسے اس ایک ایک لفظ کے معنی سمجھ گئے تھے ۔۔

’’ مجھے امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا ‘‘ دھیمی آواز میں کہتے وہ وہاں سے جاچکے تھے ۔۔ جبکہ شہزاد شاہ نے اب موبائل پر کسی کو کال کی تھی ۔۔

’’ وہ تھوڑی دیر میں آنے والے ہیں ۔۔ اور تم ۔۔ کل سے اپنے کام پر واپس آرہے ہو ‘‘ کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔

دوسری جانب فرہاد نے موبائل سامنے رکھی میز پر پھینکا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ احمد کی جانب سے سوال ہوا تھا ۔۔

’’ آج شام وہ دونوں حویلی آرہے ہیں ۔۔ اور کل سے ۔۔ مجھے ایک نیا کام شروع کرنا ہے ۔۔ ‘‘

’’ کیسا کام ؟ ‘‘

’’ اس لڑکی کو ۔۔ برباد کرنے کا کام ‘‘ فرہاد کے الفاظ نے احمد کو چونکا دیا تھا ۔۔



گاڑی حویلی کے داخلی دروازے کے سامنے رکی تھی ۔۔

’’ تو اب ہم یہاں رہینگے ؟ ‘‘ ایک گہری سانس لیتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان سب چیزوں پر عمل کیا جائے جو ہم نے پلین کی تھیں ‘‘ سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔ جبکہ امل نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔۔۔

حویلی کے اندر داخل ہوتے ہی انہیں سامنے سادیہ بیگم ، شہزاد شاہ اور زویا کھڑے نظر آئے تھے ۔۔ شاید انکے انتظار میں ہی۔۔

’’ کیسی ہیں آپ ؟ ‘‘ سادیہ بیگم کے گلے لگتے ہوئے نائل نے پوچھا تھا ۔۔

’’ تمہیں دیکھ کر اچھی ہوگئ ہوں ‘‘ وہ باری باری اب سب سے ملے تھے ۔۔

’’ ہیلو انکل ‘‘ اپنا ہاتھ شہزاد شاہ کی جانب بڑھاتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔ اور اسکا یہ انداز ۔۔ وہاں موجود ہر انسان کی نظر میں چبھا تھا ۔ سوائے ۔۔ نائل شاہ کے۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا دیا تھا ۔۔

’’ کھانا تیار ہے ۔۔ چلتے ہیں ‘‘ اسے ناپسندیدہ نگاہوں سے گھورتے ہوئے وہ کہہ کر پلٹے تھے ۔۔

’’ اوک ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے وہ نائل کا بازو تھامے آگے بڑھی تھی ۔۔ جہاں راستے میں ہی اسے زویا کی شعلہ برساتی نظروں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔

’’ ویسے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہاں میری ایک رائیول بھی ہوگی ‘‘ اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی ۔۔

’’ پھر مجھے یقین ہے کہ تم اسے بھی اینجوائے کرنے والی ہو ‘‘ جواب اسی انداز میں آیا تھا ۔۔

’’ تم مجھے جاننے لگے ہو ماسٹر ۔۔ ‘‘ ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے وہ ڈائیننگ ٹیبل کے قریب آئے تھے ۔۔

’’ پلیز ؟ ‘‘ امل کے لئے کرسی آگے کرتے ہوئے نائل نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔ واٹ آ جنٹل مین !

’’ سو سویٹ ‘‘ مسکرا کر کہتے وہ بیٹھی تھی ۔۔ جبکہ شہزاد شاہ دونوں کو گھورتے رہ گئے تھے ۔۔

زویا امل کے سامنے جبکہ نائل امل کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔

’’ تو تم کیا کرتی ہو ؟ ‘‘ کھانے کے دوران موجود اس خاموشی کو شہزاد شاہ نے توڑا تھا ۔۔

’’ میں ؟ ‘‘ امل نے خود کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔

’’ کیا یہاں کوئی اور ہے جس کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں ؟ ‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔

’’ جی ۔۔ نائل ہیں نا ‘‘ اور امل کے جواب پر جہاں شہزاد شاہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے وہیں نائل نے حیران ہوکر اسے دیکھا تھا ۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہے ؟

’’ کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی باروب آواز پر جہاں سادیہ بیگم گھبرائیں تھیں ۔۔ وہی زویا کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ جو امل کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہی تھی ۔۔

’’ مطلب یہ کہ یہاں میرے علاوہ نائل ہیں ۔۔ جنہیں آپ نہیں جانتے ‘‘ اپنے مخصوص انداز میں کہتے بالوں کو کانوں کے پیچھے پھنسایا تھا ۔۔

’’ اپنی حد میں رہو لڑکی ۔۔۔ میں اپنے بیٹے کو تم سے زیادہ جانتا ہو ‘‘ انہیں امل کی بات شدید ناگوار گزری تھی ۔۔

’’ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی انکل ۔۔ آپ اتنا غصہ کیوں ہورہے ہیں ؟ ‘‘ اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے انہیں کے انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ تمیز سے بات کرو لڑکی ۔۔ یہ کونسا طریقہ بات کرنے کا ‘‘ وہ اب تیش میں آنے لگے تھے ۔۔

’’ میں نے کوئی بد تمیزی تو نہیں کی ۔۔ ایک نارمل سی بات کی ہے۔۔ کیوں نائل ؟ آپ ہی بتائیں میں نے کوئی بدتمیزی کی ہے کیا ؟ ‘‘ نائل کا ہاتھ تھامتے ہوئے دنیا بھر کی معصومیت چہرے پر سجائے اس نے پوچھا تھا ۔۔ واہ امل واہ ۔۔ کتنی بڑی ڈرامے باز ہوتم ۔۔

’’ نہیں ڈئیر ۔۔ تم کیسے کچھ غلط کہہ سکتی ہو ‘‘ اسکے گال تھپتھپائے تھے ۔۔ اور اس کے اس عمل پر جہاں زویا اور سادیہ بیگم حیران ہوئی تھیں وہیں شہزاد شاہ پر تو سمجھو بجلیاں گری تھیں ۔۔

’’ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟ ‘‘

’’ ٹھیک کہہ رہا ہو بابا ۔۔ امل کی ایک عام سی بات کو آپ غلط رنگ دے رہے ہیں ‘‘ اور یہ ماسٹر کے الفاظ ہی تو تھے ۔۔ جن پر شہزاد شاہ کی آنکھیں کھل گئ تھیں ۔۔

’’ میں نے کہا تھا نا انکل ۔۔ آپ نائل کو نہیں جانتے ۔۔۔ کیونکہ ‘‘ وہ نائل کے قریب ہوئی تھی ۔۔ ’’ اگر آپ جانتے ہوتے تو آپکو معلوم ہوتا کہ ۔۔۔۔ ‘‘ اس کے بازو میں اپنا بازو لپیٹ کر چمکی نگاہوں کے ساتھ نائل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اپنے قریب ۔۔ مسکراتے ہوئے ۔۔

’’ کوئی مجھ سے اس انداز میں بات کرے تو نائل کو بلکل بھی اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ ٹھیک کہا نا میں نے ؟ ‘‘ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے امل نے پوچھا تھا ۔۔

’’ بلکل ٹھیک ۔۔ ‘‘ مسکراتے ہوئے اسے جواب دے کر وہ دوبارہ شہزاد شاہ کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ امل میری بیوی ہے ۔۔ اور میں بلکل بھی برداشت نہیں کرونگا کہ کوئی بھی ۔۔۔ کوئی بھی امل سے روڈلی پیش آئے یا اس سے سوال جواب کرے ۔۔ اور اگر کسی نے ایسا کیا ‘‘ باری باری سب پر نظر ڈالتے ہوئے اس نے شہزاد شاہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جن کے چہرے پر حیرانی اور غصے کے ملے جلے تعصورات تھے ۔۔۔

’’ تو میں اسے لے کر ہمیشہ کے لئے اس حویلی سے چلا جاؤنگا ‘‘ کہتے ساتھ وہ بنا کسی کی جانب دیکھے ۔۔ امل کا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔۔ جبکہ امل نے جاتے ہوئے ایک فاتحانہ مسکراہٹ زویا کی جانب اچھالی تھی جس کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔۔



کھڑکی کا پردہ ٹھیک کر کے وہ صوفے پر آکر بیٹھا تھا ۔۔ جہاں مصطفی لیپ ٹاپ میں مصروف نظر آرہا تھا ۔۔

’’ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر یہ تم ہر وقت لیپ ٹاپ میں کرتے کیا رہتے ہو ؟ ‘‘ اتکا کر کہا تھا ۔۔

’’ ایک دن جان جاؤگے تم سب ‘‘ اسکی جانب دیکھے بنا کہا تھا ۔۔

’’ اوہ کم آن مصطفی ۔۔۔ پورا دن ہم لوگوں نے اس لیپ ٹاپ اور اس سٹوپٹ سے انسان کو دیکھنے میں گزار دیا ۔۔ مجھے بھوک لگی ہے اب ‘‘

’’ تو کچھ آرڈر کر لو ‘‘ وہ اب بھی مصروف تھا ۔

’’ نہیں ۔۔ ہم باہر جارہے ہیں ۔۔اٹھو اب ‘‘ اسکا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے واجد کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ کیا ہے یار ۔۔ ماسٹر نے کام دیا ہے۔۔ مجھے مکمل کرنا ہے وہ ‘‘

’’ پوری رات تم جاگ کر یہی کرنے والی ہو مصطفی ۔۔ اب اٹھو فوراً ‘‘ اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا تھا ۔۔

’’ اچھا بھئ ‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی اسے اٹھنا ہی پڑا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک ریسٹورانٹ میں بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔۔

‘‘ ویسے ایک بات سمجھ نہیں آئی مجھے ‘‘ کچھ دیر بعد واجد نے کہا تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘

’’ ان تین راتوں میں جو تیر تم نےچلانے ہیں۔۔ وہ نشانے پر کیسے لگینگے ؟ جب کہ ہمارا شکار بہت دور ہے ہم سے ‘‘ اسکی بات پر مصطفی کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ تمہیں کیا لگتا ہے واجد ؟ ‘‘ وہ تھوڑا آگے جھکا تھا ۔۔ ’’ میں تمہیں اپنے ساتھ یہاں کیوں لایا ہو ؟ ‘‘

’’ کیوں لائے ہو ؟ ‘‘ واجد نے پوچھا تھا ۔۔ واقعی یہ تو اسے بھی نہیں معلوم تھا کہ ا س نے یہاں کرنا کیا ہے ؟

’’ آفکورس شکار کو قریب لانے کے لئے ‘‘ اور ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ واجد دوبارہ کھانے کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *