Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 11)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 11)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
وو تینوں ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے مووی دیکھ رہےتھے ۔۔ جب اسکے موبائل میں ایک مسیج آیا تھا ۔۔
’’ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ‘‘ نمبر تو سیو نہیں تھا ۔۔ مگر وہ جانتی تھی کہ مسیج کس کا ہے ۔۔
’’ میں تم سے ملنا نہیں چاہتی ‘‘ جواب دے کر اس نے موبائل واپس رکھا تھا ۔۔
’’ پلیز مایا ۔۔ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ‘‘ جواب فوراً آیا تھا ۔۔
’’ مگر میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی فرہاد ‘‘
’’ تم اگر ایک گھنٹے میں اسی ریسٹورانٹ مجھ سے ملنے نہیں آئی تو مجبوراً مجھے تمہارے فلیٹ آنا ہوگا ‘‘ اور یہ مسیج پڑھ کر وہ فوراً گھبرائی تھی ۔۔ اس نے سامنے بیٹھے مصطفی اور امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو مووی دیکھنے میں مگن تھے ۔۔ اگر وہ یہاں آگیا تو ؟ سب ختم ہوجائے گا ۔۔ ماسٹر کو سب معلوم ہوجائے گا اور مصطفی ؟ وہ کیسے اعتبار کرے گا اس پر ؟
’’ میں آرہی ہو ‘‘ جواب دے کر وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اب اس سے مل کر ہی وہ اسے یہاں آنے سے روک سکتی تھی۔
’’ کہی جارہی ہو ؟ ‘‘ اسے کھڑے ہوتے دیکھ کر مصطفی نے اس سے پوچھا تھا ۔
’’ ہاں ۔۔ ہسپتال سے مسیج آیا ہے ایک ایمرجنسی آگئ ہے ‘‘ کہتے ساتھ ہی وہ اپنی کمرے کی جانب گئ تھی ۔
’’ یہ اتنا ڈری ہوئی کیوں لگ رہی تھی ؟ ‘‘ امل نے مصطفی سے کہا تھا ۔۔
’’ ڈاکٹرز اپنے ہر سیریس کیس پر ایسے ہی پریشان ہوجاتے ہیں امل ‘‘ مووی کی جانب دوبارہ متوجہ ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا۔
’’ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو ‘‘ کہتے ہوئے وہ بھی اسی جانب متوجہ ہوگئ تھی ۔۔
وہ ایک گھنٹے بعد اس ریسٹورانٹ کے سامنے موجود تھی ۔۔
ریسٹورانٹ کے دوسرے فلور کے دائیں جانب ہی اسے وہ میز کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھا نظر آیا تھا ۔۔ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔
’’ مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ؟ ‘‘ اپنا بیگ میز پر رکھتے ہوئے وہ بیٹھے بناہی اس پر برسی تھی ۔۔
’’ سب دیکھ رہے ہیں مایا ۔۔ بیٹھ جاؤ ‘‘ تحمل سے اسے بیٹھنے کا کہا تھا ۔۔ وہ فوراً اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔ انداز سے ہی اسکا غصہ جھلک رہا تھا ۔
’’ کیا بات کرنی ہے تم نے مجھ سے ؟ ‘‘ دوبارہ اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔
’’ پہلے کچھ آرڈر دے دیتے ہیں ‘‘ اور اس سے پہلے کہ مایا کوئی جواب دیتی فرہاد نے ویٹر کو اشارہ کردیا تھا اور اسے خاموش رہنا پڑا تھا ۔۔
ویٹر کو آرڈر دینے کے بعد وہ دوبارہ اسکی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
’’ تمہارے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے مایا ۔۔ تم میرا واحد رشتہ ہو ‘‘ اسکی جانب جھکتے ہوئے وہ جزباتی انداز میں کہہ رہا تھا۔
’’ رشتہ تھا ۔۔۔ رشتہ تھا فرہاد ۔۔ مگر تم نے سب ختم کردیا ۔۔ تم جیسا بے حس اور ظالم انسان میرا کچھ نہیں ہوسکتا ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہہ رہی تھی ۔۔ فرہاد نے دیکھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں غصہ تھا ۔۔ کرب تھا ۔۔ اس کے لئے ناراضگی تھی ۔۔ مگر نفرت نہیں تھی ۔۔
’’ میں مجبور تھا مایا ۔۔ تم جانتی ہو اگر میں یہ کام نہ کرتا تو وہ مجھے بھی زندہ نہیں چھوڑتا ‘‘ سر جھکاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ اسکی یہ وجہ بہت کمزور ہے ۔۔
’’ تم تو بھاگ بھی سکتے تھے فرہاد ۔۔ لیکن نہیں ۔۔ پیسے سے دور کیسے ہوسکتے تھے تم ؟ اور صرف چند پیسوں کی خاطر ۔۔ صرف اپنی جان بچانے کی خاطر تم نے دو لوگوں کو زندہ جلا ڈالا ؟ اس بیچاری لڑکی کو مارنے کی آخری حد تک کوشش کی تم نے ۔۔ ان تمام مظالم کے بعد بھی تم خود کو مجبور ظاہر کر رہے ہو فرہاد ۔۔ شرم آنی چاہئے تمہیں ‘‘ دبی ہوئی آواز میں وہ اپنا غصہ اپنے الفاظ کے ذریعے اس پر اتار رہی تھی ۔۔
’’ میں جانتا ہو۔۔ جانتا ہوں میں کہ میں نے بہت ظلم کیا ہے مایا ۔۔ اور اسی کی تو سزا ملی مجھے ۔۔ جس پل وہ لڑکی اپنی جان بچانے کی خاطر دیوانہ وار بھاگ رہی تھی ۔۔ مجھ سے پوچھو مایا ۔۔ اس کا ایک ایک قدم میرے ضمیر کو جھنجوڑ رہا تھا ۔۔ سوچو ذرا ۔۔ وہ ضمیر جس کے ہونے کا بھی کبھی احساس نہ ہوا مجھے ۔۔ اس نےکیسے اچانک ہی جاگ کر میرا پورا وجود جلا ڈالا۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے مایا ؟ کیا وہ آگ صرف انکو ہی لگی تھی ؟ نہیں ۔۔ وہ آگ مجھے بھی لگی تھی مایا ۔۔ ‘‘ وہ کہہ رہا تھا ۔۔ مایا نے دیکھا اس کی آنکھوں میں کرب تھا ۔۔ بے چینی تھی ۔۔
’’ انسان کے وجود میں لگی آگ اسے خوفناک اذیت کے بعد موت دے دیتی ہے ۔۔ مگر جاگتے ہوئے ضمیر کی آگ انسان کے وجود کو خوفناک اذیت دینے کے بعد بھی اسے موت نہیں دیتی ۔۔ وہ انسان اس آگ کی اذیت میں ہر پل ہر لمحہ تڑپتا رہتا ہے ۔۔ مگر نہ اسے سکون ملتا ہے اور نہ موت ‘‘ فرہاد نے کہا تھا ۔۔ اور اسکی آنکھیں اسکی اذیت کی گواہ تھیں ۔۔ مایا کا دل نرم پڑھنے لگا تھا ۔۔
’’ اب کیا ہوسکتا ہے فرہاد ؟ اب یہی آگ اور یہی اذیت تمہارا مقدر ہے ‘‘ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی ۔۔ اور اسی دوران ویٹر نے آکر کھانا سرو کرنا شروع کیا تھا ۔۔ وہ دونوں اب خاموش ہوئے تھے ۔۔
مصطفی نے گاڑی ایک گھر کے سامنے روکی تھی ۔۔۔ اس نے دیکھا وہ ایک شاندار بنگلہ تھا ۔۔ جس کے چاروں طرف گارڈز اور کیمرے موجود تھے ۔۔
’’ یہ اسکا گھر ہے ؟ ‘‘ نظریں مصطفی کی جانب واپس لاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔لیکن وہ یہاں رہتے نہیں ہیں ‘‘ دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے کہا تھا ۔۔
‘’ تو پھر ہم یہاں کیوں آئے ہیں ؟ ‘‘ باہر آتے ہی اس نے بھی سوال کیا تھا ۔۔
’’ کیونکہ انہوں نے آج ہمیں یہی بلایا ہے ۔۔ لگتا ہے کوئی بہت ضروری کاروائی ہونے والی ہے آج ‘‘ معنی خیز انداز میں اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ دیکھتے ہیں ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے وہ آگے بڑھی تھی ۔۔ جہاں گارڈ دروازے پر کھڑا تھا ۔
’’ میں مصطفی ہوں ۔۔ ماسٹر کا اسسٹنٹ ‘‘ اسے ایک کارڈ دکھاتے ہوئے مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اور گارڈ نے سر ہلاتے ہوئے اس کے لئے دروازہ کھول دیا تھا ۔۔
’’ یہ کارڈ میں پہلے کبھی کیوں نہیں دیکھ سکی ؟ ‘‘ اندر آتے ہی اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ کیونکہ پہلے تم ماسٹر کی حقیقت نہیں جانتی تھی ‘‘ اسے جواب دیتا وہ آگے بڑھا تھا ۔۔ لان سے گزرتے ہوئے وہ دروازے سے اندر آئے تھے ۔۔ اس گھر کی جدید بناوٹ اور قیمتی چیزیں ہی یہاں رہتے ہوئے کے مالی حالات بتا رہی تھی ۔۔
’’ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے پاس اتنا پیسا ہے ‘‘ ٹی وی لاؤنچ سے گزرتے ہوئے امل نے مصطفی سے کہا تھا ۔
’’ پھر تو تمہیں بہت خوشی ہوئی ہوگی یہ جان کر کہ تم ایک لکھ پتی انسان کی بیوی ہو ‘‘ اسکے کانوں میں سرگوشی تھی۔۔ جبکہ امل نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔ ابھی وہ کوئی جواب دینے ہی والی تھی جب کچن سے نکل کر ایک ملازم انکی جانب آیا تھا۔۔
’’ ماسٹر بیسمنٹ میں آپکا انتظار کر رہے ہیں ‘‘ ملازم کی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ ڈونٹ ٹیل میں کہ وہ ہمیں قتل کرنے والا ہے ‘‘ امل نے گھبراتے ہوئےمصطفی سے کہا تھا ۔۔
’’ وہ ہمیں قتل تو نہیں کر سکتے ۔۔ مگر قید ضرور کر سکتے ہیں ‘‘ مصطفی بھی کافی حد تک ڈر چکا تھا ۔۔
’’ وہ ہمیں بیسمنٹ میں قید کرے گا ؟ ‘‘ امل نے تقریباً چیختے ہوئے کہا تھا ۔۔
‘’ ہاں تو اور کیا ہوسکتا ہے بیسمنٹ میں اس کے علاوہ ؟ ‘‘ وہ بھی اب امل کے برابر آچکا تھا ۔۔ آج پہلی بار دونوں ایک ہی جیسا محسوس کر رہے تھے ۔۔ ایک ہی بات پر گھبرا تھے ۔۔
’’ بیسمنٹ میں تو بہت اندھیرا ہوتا ہے مصطفی ۔۔ ہم دونوں وہاں کیسے رہینگے ؟ ‘‘ وہ اب جزباتی ہونے کو تھی ۔۔
’’ سب تمہاری وجہ سے ہورہا ہے ۔۔۔ منع بھی کیا تھا تمہیں میں نے ۔۔مگر نہیں ۔۔ تمہیں تو شوق تھا اس کے ساتھ کافی پینے کا ۔۔ اب تمہارے وجہ سے مجھے بھی اس اندھیری بیسمنٹ میں قید ہونا پڑے گا ‘‘ مصطفی کے تو سمجھو آنسو ہی نکلنے والے تھے ۔۔
’’ اب ہم کیا کریں گے مصطفی ؟ ‘‘ امل کو اب حقیقی معنوں میں پریشانی ہونے لگی تھی ۔۔ اندھیری بیسمنٹ میں قید ہونا یقیقناً اس کے لئے خوفناک تھا ۔۔
’’ کرنا کیا ہے ۔۔ ماسٹر سے معافی مانگ لینگے ۔۔ مجھے یقین ہے وہ ہمیں معاف کر دینگے ‘‘ اس نے جیسے ایک حل نکالا تھا۔
’’ معافی !! سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس سے معافی مانگنے کا ‘‘ فوراً انکار ہوا تھا ۔۔
’’ ہاں تو پھر اس اندھیرے میں پڑے رہنے کا سوال پیدا کر لیا تم نے ؟ ‘‘ وہ امل پر پھر سے برسنے کو تیار تھا ۔
’’ جو بھی ہوجائے ۔۔ میں اس انسان سے معافی نہیں مانگو گی ۔۔ ویسے بھی میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ‘‘ وہ اپنی بات پر قائم تھی ۔۔
’’ ٹھیک ہے ۔۔ مگر مجھے اگر انکے پاؤں بھی پکڑنے پڑے تو میں پکڑونگا ۔۔۔ پھر تم اکیلے رہنا اس اندھیری بیسمنٹ میں ‘‘ وہ اس سے کہتا آگے بڑھا تھا ۔۔
’’ خبردار جو تم نے مجھے اکیلا چھوڑ کر جانے کا سوچابھی تو ‘‘ اسے وان کرتے ہوئے وہ اسکے پیچھے آئی تھی ۔۔ جبکہ وہ خاموشی سے اب گھر کی پچھلی جانب آیا تھا ۔۔ ایک گیلری نما جگہ سے گزرتے ہوئے اس نے ایک دروازہ کھولا تھا ۔۔۔ جس سے سیڑھیاں نیچے کی جانب جاتی تھیں ۔۔ وہاں بہت اندھیرا اور خاموشی تھی ۔۔
‘‘ مصطفی ۔۔ وہ ہمیں پکا قتل تو نہیں کرے گا نہ ؟ ‘‘ اندھیرے راستے کو دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ فکر مت کرو ۔۔ اگر ایسا ہوا تو میں تمہارے ساتھ ہی قتل ہونگا ‘‘ اسے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھا تھا ۔۔
’’ اسی بات کا سہارہ ہے بس ‘‘ کہتی ہوئی وہ بھی اس کے پیچھے آئی تھی ۔۔ جبکہ مصطفی نے رک کر اسے گھورا تھا۔۔
’’ کیا بات ہے تمہاری امل !! ‘‘ اسے کچھ اور نہیں سوجا تھا تو کہہ کر آگے بڑھ گیا ۔۔
وہ دونوں دبے قدموں نیچے اتررہے تھے ۔۔ جب انہیں روشنی نظر آئی تھی ۔۔
’’ شکر ہے ‘‘ امل نے شکر ادا کیا تھا ۔۔ آخری سیڑھی سے نیچے آتے ہی وہ دونوں ایک ہال نما کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔جو مکمل خالی تھا تھا ۔۔ صرف ایک پنکھا اور سامنے ہی انہیں ایک میز جس کے گرد چار کرسیاں رکھی تھیں ۔۔ جن میں سے ایک میں ایک شخص جسے وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی بیٹھا تھا اور مکمل اپنے سامنے رکھی فائل کی جانب متوجہ تھا۔۔ جبکہ سامنے ایک شخص دیوار کی جانب رخ کئے کھڑا تھا ۔۔ امل اور مصطفی اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ دوںوں کون ہیں ۔۔
’’ اسلام و علیکم ماسٹر ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اور سامنے کھڑا شخص پلٹ کر انکی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
اور یہی وہ لمحہ تھا ۔۔ جب امل کو حیران ہونا پڑا تھا ۔۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مصطفی کو حیران ہونا پڑا تھا ۔۔
اور پھر اس نے محسوس کیا جیسے سامنے کا منظر دھندھلایا ہو ۔۔ جیسے آنکھوں میں بھرنے والے آنسوؤں نے اسکا چہرہ بھگونہ شروع کیا ہو ۔۔ اس نے اپنے آنسو صاف کئے تھے ۔۔ وہ بنا پلکے جھپکائے سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔ مگر ۔۔ اس شخص کو نہیں ۔۔ بلکہ اس دیوار کو ۔۔ جس کے سامنے وہ کھڑا تھا ۔۔۔۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ایک اسائمنٹ تیار کر رہی تھی ۔۔ جب کمرے کا دروازہ کھول کر احمد نے اندر جھانکا تھا ۔
’’ میں آسکتا ہوں ؟ ‘‘ شانزے نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ آجاؤ ۔۔ ‘‘ کتاب بند کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیا ہورہا ہے ؟ ‘‘ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
’’ اسائنمنٹ ریڈی کر رہی تھی ۔۔ تم بتاؤ آج کیسے وقت مل گیا یہاں آنے کا ؟ ‘‘ اسکی جانب مکمل متوجہ ہوتے ہوئے کہا تھا۔
’’ باس نے آج کسی ضروری کام سے جانا تھا تو مجھے جلدی آف دے دیا ۔۔ سوچا موقعے کا فائدہ اٹھا کر تم سے مل لیا جائے ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ چلو کچھ تو اچھا سوچا تم نے ‘‘ وہ بھی مسکرائی تھی ۔۔
’’ اچھا بتاؤ کونسا اسائنمنٹ ریڈی کر رہی ہو؟ میں مدد کروا دیتا ہوں ‘‘ اس کے پاس آکر ایک نوٹ بک اٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ نہیں تم رہنے دو ۔۔ میں بعد میں کر لونگی۔۔ ویسے بھی امل کا ہے ‘‘ نوٹ بک اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ امل کا اسائنمنٹ تم کیوں کر رہی ہو ؟ ‘‘
’’ وہ کچھ دنوں سے یونیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔ اسکا بہت لاس ہوا ہے ۔۔ میں نے سوچا ایک کام تو ہلکا کردوں اسکا ‘‘ سامان سمیٹتے ہوئے کہا تھا ۔
’’ بہت سنجیدہ اور مشکوک سی لڑکی لگتی ہے مجھے وہ ؟ ‘‘ احمد نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
’’ مشکوک کیوں لگی تمہیں وہ ؟ ‘‘ شانزے کو اسکی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔
’’ اچانک ہی غائب ہوجاتی ہے اور پھر دوبارہ سامنے آجاتی ہے ۔۔ تمہیں عجیب نہیں لگتا یہ سب شانزے ؟ ‘‘ احمد نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ عجیب تو مجھے تب لگتا جب میں کچھ جانتی نہ ہوں ۔۔ اسکی زندگی نے اچانک جو پلٹا کھایا ہے اس کے بعد اسکے ساتھ اس طرح ہونا تو نارمل لگتا ہے مجھے ‘‘ شانزے نے اداسی سے کہا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ایسا ؟ ‘‘ احمد نے پوچھا تھا ۔۔ اسی لئے تو آیا تھا وہ آج یہاں ۔۔ جب سے فرہاد نے امل کی انویسٹیگیشن کرنے کا کہا تھا ۔۔ تب سے اب تک اسے محسوس ہورہا تھا کہ کچھ ایسا ہے جو چھپا ہوا ہے ۔۔ فرہاد نے امل کی انویسٹیگیشن کرنے کا اسے کیوں کہا تھا؟ یہ وہ آج تک نہیں سمجھ سکا تھا ۔۔ مگر وہ دیکھ سکتا تھا کہ فرہاد اس لڑکی میں بہت دلچسپی لے رہا تھا ۔۔
’’ پیچاری کے ماں باپ کی ایک حادثے ڈیتھ ہوگئ اچانک ۔۔ اور اب وہ اکیلی رہ گئ ہے ۔۔ گھر ہونے کے باوجود اپنے کزن کے فلیٹ میں رہ رہی ہے ‘‘ اور شانزے کے جواب نے اسے حیران کر دیا تھا ۔ امل کے پیرینٹس کی ڈیتھ ؟ مگر جو معلومات اس نے نکالی تھی اس کے مطابق تو امل کے پیرینٹس ناران میں تھے ۔۔ اسکا کیا مطلب تھا ؟ وہ کچھ سمجھ نہیں پایا تھا ۔۔
’’ کب ہوئی ڈیتھ ؟ ‘‘ اس نےسوال کیا تھا ۔۔
’’ چار مہینے پہلے ‘‘ اور شانزے کے جواب پر وہ فوراً کھڑا ہوا تھا ۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا تھا ؟
’’ کیسے ۔۔۔ کیسے ہوئی تھی ڈیتھ ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا اور شانزے اسے دیکھ کر الجھ گئ تھی ۔۔
’’ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ڈیتھ کیسے ہوئی تھی شانزے ؟ ‘‘ اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔ اسکا سوال اگنور کر کے ۔۔
’’ وہ ایڈمیشن کروا کر واپس گئ تو گھر میں آگ لگی ہوئی تھی ۔۔ اور ا سکے پیرینٹس اندر ۔۔۔ ‘‘ شانزے کی بات مکمل ہونے سے پہلےوہ تیزی سے کمرے سے نکل چکا تھا ۔۔
نہیں ۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا تھا ۔۔ اس کے کانوں میں فرہاد کے الفاظ گونج رہے تھے ۔۔
’’ آگ ۔۔ آگ لگائی ہے میں نے ‘‘
’’ کہاں ؟ ‘‘
’’ انسانوں کو ۔۔ زندہ انسانوں کو ‘‘
وہ اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تھا ۔۔۔ سر کرسی کی پشت سے ٹکا کر اس نے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔
وہ بھی تو چار مہینے پہلے ہی آیا تھا واپس ۔۔ اس نے بھی آگ لگائی تھی ۔۔ کیا یہ صرف ایک اتفاق تھا ؟ اگر ہاں تو پھر فرہاد نے انویسٹیگیشن کیوں کروائی تھی ؟ کیا اسے بھی شک ہوگیا تھا ؟ اور ۔۔ امل کے پیریٹس کی ڈیتھ کی خبر کیوں نہیں ملی تھی ؟ یہ کیوں ظاہر کیا گیا کہ وہ زندہ ہیں ۔۔ تو اس کا مطلب۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔ نظر سامنے خالی سڑک پر تھی ۔۔
’’ وہ امل ہی ہے ۔۔ وہ لڑکی امل تھی ۔۔ اگر باس کو معلوم ہوگیا تو ۔۔ ؟؟ ‘‘ اور یہ سوچ کر ہی وہ گھبرا گیا تھا ۔۔ اسے کیا کرنا چاہئے ؟ کیا اسے فرہاد کو بتا دینا چاہئے ؟
’’ انہیں یہ معلوم ہونا ضروی ہے۔۔ ‘‘ اس نے سوچتے ہی موبائل نکال کر فرہاد کا نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔ مگر کال کاٹ دی گئ تھی ۔۔ ضرور وہ اس وقت مصروف تھا ۔۔
’’ صبح بتا دونگا ‘‘ اس نے خود سے کہتے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔
وہ آگے بڑھی تھی ۔۔ نظریں اب بھی اس دیوار پر ٹکی تھیں ۔۔ جہاں کچھ تصاویر لگی تھیں ۔۔
سب سے اوپر اس کے پاپا کی تصویر ۔۔ اور کچھ نیچے ۔۔اسکی ماما کی تصویر ۔۔ دونوں کے چہرے مسکرا رہے تھے۔۔ اور ان دونوں تصاویر کے درمیان ایک اور شخص کی تصویر تھی ۔۔۔ اور وہ اسے پہچانتی تھی ۔۔ شہزاد شاہ ۔۔
’’ بیٹھ جاؤ امل ‘‘ ماسٹر نے ایک کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اس نے فوراً اپنے آنسو صاف کئے اور اس کرسی پر بیٹھ گئ تھی ۔۔ اس کے ساتھ رکھی کرسی پر مصطفی ۔۔ جبکہ اسکے سامنے ماسٹر خود بھی بیٹھ چکا تھا ۔۔ ماسٹر کے ساتھ جواد بیٹھا تھا ۔۔ وہ چاروں کچھ دیر خاموش رہے تھے ۔۔ شاید ۔۔ امل کو وقت دے رہے تھے ۔۔
’’ یہ مت سمجھنا کہ مجھے تمہاری آج کی حرکت کا نہیں معلوم ‘‘ ان کے درمیان کی خاموشی کو ماسٹر کی سنجیدہ آواز نے توڑا تھا۔۔
’’ کونسی حرکت ؟ ‘‘ اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔ وہ واقعی اس وقت جیسے سب بھول گئ تھی ۔۔
’’ اپنے اس پیارے فرہاد کے ساتھ کافی پینے والی حرکت ‘‘ ماسٹر نے جس انداز سے پیارے فرہاد کہا تھا وہ ان تینوں کے ہونٹوں میں مسکراہٹ لانے کے لئے کافی تھی ۔۔
‘’ اٹس ناٹ آ بِگ ڈیل ‘‘ کاندے اچکاتے ہوئے اس نے لاپرواہی سے کہا تھا ۔
’’ اٹ اس مس امل ۔۔ آپ شاید ایگریمنٹ کے ٹرمز بھول رہی ہیں ‘‘ میز پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسکی جانب جھک کر اس نے کہا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی اور جواد نے ایک دوسرے کی جانب مسکراتی نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔
’’ مجھے تمام ٹرمز یاد ہیں مسٹر نائل شاہ ۔۔ لیکن یونیورسٹی میں اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ کافی پینا فروفیشنل کہلاتا ہے ‘‘ امل نے بھی جھکتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ فروفیشنل ہو یا پرسنل ۔۔ مجھے انفارم کئے بنا تم کچھ نہیں کرسکتی سلیپنگ بیوٹی ‘‘
’’ مجھے ضرورت ہی کیا ہے انفارم کرنے کی جب تم نے اپنے جاسوس میرے پیچھے لگائے ہوئے ہیں ‘‘ جواب حاضر تھا ۔۔
’’ ظاہر ہے تمہاری حرکتوں کو دیکھتے ہوئے جاسوسی کروانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے ‘‘ جواب اس جانب سے بھی آنا ہی تھا۔۔
’’ تو پھر اپنے جاسوسوں کی معلومات کے ساتھ ہی خوش رہو ‘‘ جواب دیتے ہوئے وہ سیدھی ہوئی تھی ۔۔۔
’’ تم ۔۔۔۔ ‘‘ اور اس سے پہلے کے ماسٹر اپنی بات مکمل کرتے ۔۔ مصطفی اور جواد نے ایک ساتھ کھانسناں شروع کردیا تھا۔۔ ماسٹر نے دونوں کی جانب سنجیدہ نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔ دونوں کی کھانسی کو ایک ساتھ ہی بریک لگی تھی ۔۔
’’ یہ فائل مکمل ہے ‘‘ جواد نے فوراً فائل ماسٹر کی جانب بڑھائی تھی جسے وہ کچھ دیر پہلے دیکھ رہا تھا ۔۔ ماسٹر فائل لے کر کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ یہ جواد ہے ۔۔ تم پہلے مل چکی ہو شاید اس سے ‘‘ ماسٹر نے امل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔جس نے سر ہلایا تھا۔
’’ اس کیس میں یہ اور مصطفی میرے پارٹنرز ہیں ۔۔ ہم چاروں کے علاوہ کوئی بھی ۔۔ کبھی بھی اس کیس میں انوالو نہیں ہوگا ‘‘ ماسٹر کہتے ساتھ ہی فائل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی اور امل نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔
شکر ہے وہ انہیں قتل نہیں کررہا تھا ۔۔ اور اسی سوچ کے ساتھ دونوں مسکرائے تھے ۔۔ اور انکی یہ مسکراہٹ ماسٹر کی نگاہوں کو چبھ رہی تھی ۔۔۔
’’ میں نے آج تم دونوں کو یہاں کچھ باتیں بتانے اور سمجھانے کے لئے بلایا ہے ۔۔ ‘‘ فائل رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ جبکہ وہ تینوں اب اسکی جانب متوجہ ہوچکے تھے ۔۔
’’ شہزاد شاہ کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہی ہیں ۔۔ کامیاب ، اصولوں کا پابند انسان ۔۔ ‘‘ انداز طنزیہ تھا ۔۔ جسے یہاں موجود ہر شخص نےمحسوس کیا تھا ۔۔
’’ خیر ۔۔ اگلے سال الیکشن ہیں ۔۔ اور اس دوران وہ اپنے اوپر کوئی بھی داغ نہیں لگنے دیگا ۔۔ بلکے ہر داغ کو دھونے کی کوشش کرے گا ۔۔ سوچا جائے تو اس طرح ہمارے پاس ایک سال ہے ۔۔ ‘‘ ماسٹر نے امل کی جانب دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی سنجیدہ نگاہوں سے ۔۔
’’ اس ایک سال کے عرصے میں ہم نے اس کے اس جرم کو سب کے سامنے لانا ہے ۔۔ جس کے لئے ہمیں ثبوت چاہئے یا پھر کنفیشن ‘‘
’’ اور کنفیس وہ کبھی نہیں کرے گا ‘‘ جواد نے کہا تھا ۔۔
’’ بلکل ۔۔ اور ثبوت وہ مٹا چکا ہوگا ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔
’’ مگر ہر ثبوت نہیں مٹایا جاتا ۔۔ کچھ ثبوت صرف چھپائے جاتے ہیں ۔۔ ہمیں انہیں ڈھونڈنا ہے بس ‘‘ ماسٹر نے فائل کھولتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اور ہمیں یہ سب بہت سیکریٹلی کرنا ہوگا ‘‘ جواد نے کہا تھا ۔۔
’’ پولیس کو شامل کئے بنا ؟ ‘‘ مصطفی کی جانب سے سوال آیا تھا ۔۔
’’ ہنڈریٹ پرسنٹ ۔۔ پولیس کی جیب بھر جائے تو وہ پولیس نہیں رہتی ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا ۔۔
’’ تو پھر ۔۔ کہاں سے شروع کریں گے ہم ؟ ‘‘ مصطفی نے پوچھا تھا ۔۔
’’ امل سے ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا اور اب سب کی نظریں امل کی جانب دیکھ رہی تھیں ۔۔
’’ مطلب یہ کہ میں زندہ ہوں ‘‘ اور امل کے جواب پر جہاں جواد حیران ہوا تھا وہی ماسٹر اور مصطفی مسکرائے تھے ۔۔
’’ کہا تھا نہ میں نے ۔۔ یہ کمال ہے ‘‘ مصطفی نے جواد کو اشارہ کیا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک سمجھی تم ۔۔ وقت آگیا ہے کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ بلا ابھی ٹلی نہیں ہے ‘‘ اور ماسٹر کے الفاظ پر جہاں امل نے اسے گھورا تھا وہیں مصطفی اور جواد بے اختیار ہنسے تھے ۔۔
’’ اور مایا ؟ ہم اسے کیوں شامل نہیں کر رہے اپنے ساتھ ؟ آخر وہ بھی تو سب جانتی ہے ‘‘ مصطفی نے بات کا رخ بدلا تھا ۔۔ اب امل کے لئے اتنا تو کر ہی سکتی تھی وہ ۔۔
’’ لڑکیاں بہت جزباتی ہوتی ہیں ۔۔ انہیں ایسے کاموں میں شامل کرنے کا مطلب اپنے لئے مشکل کھڑکی کرنا ہے ۔۔ ویسے بھی یہ اسکے بس کی بات نہیں ‘‘ ماسٹر نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جہاں مصطفی کو اسکی بات سے حیرت کا شدید جھٹکہ لگا تھا ۔۔ وہیں امل کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔
’’ تو پھر تمہیں آج کی تازہ خبر معلوم ہو ہی گئ مصطفی ‘‘ ماسٹر پر مسکراتی نظریں جماتے ہوئے امل نے مصطفی کو مخاطب کیا تھا ۔۔
’’ کیسی خبر ؟ ‘‘ ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ یہی کہ ۔۔ میں ایک مرد ہوں ‘‘ اور امل کے الفاظ پر جہاں مصطفی اور جواد کا ایک قہقہ بلند ہوا تھا وہی ماسٹر نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔ حساب برابر ۔۔
’’ آئی ایم سو۔۔۔ سوری ‘‘ مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے مصطفی نے کہا تھا ۔۔ جبکہ جواد نے بھی ماسٹر کی گھوری پر اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔
’’ تم میں اور اس میں بہت فرق ہے امل ‘‘ اور نائل شاہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا ۔۔ جبکہ امل نے مسکراتے ہوئے کاندھے اچکائے تھے ۔۔۔
’’ ہم ۔۔ ہم ثبوت کے بارے میں بات کر رہے تھے ‘‘ اس بار جواد نے بات کا رخ بدلا تھا ۔۔
’’ اور انہیں ڈھونڈنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ ہیں کیا ؟ ‘‘ مصطفی نے بات آگے بڑھائی تھی ۔۔
’’ آفکورس ہم جانتے ہیں کہ ہمیں سب سے پہلے کیا ڈھونڈنا ہے ‘‘ جواد نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیا ؟ ‘‘ مصطفی نے پوچھا تھا ۔۔
جواد نے ماسٹر کی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ یہ دیکھو ‘‘ ماسٹر نے فائل سے کچھ تصاویر نکال کر انکے آگے بکھیریں تھیں ۔۔ امل اور مصطفی نے دیکھا ۔۔
یہ اسکے گھر کی تصاویر تھیں ۔۔ جو اب جل چکا تھا ۔۔ جس کی ہر چیز راکھ ہوچکی تھی ۔۔
امل نے محسوس کیا ۔۔ یہ تو اب وہ گھر لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔جہاں اس نے اپنی ماما اور پاپا کے ساتھ آخری لمحات گزارے تھے ۔۔ یہ تو اب راکھ تھا جیسے ۔۔ امل نے اپنی آنکھوں میں نمی محسوس کی تھی ۔۔
’’ ہمیں اس گھر میں کچھ ڈھونڈنا ہے ؟ ‘‘ مصطفی نے ایک اور سوال کیا تھا ۔۔
’’ نہیں ۔۔۔۔ ہم نے وہ ڈھونڈنا ہے جو اس گھر میں نہیں ملا ‘‘ جواد نے کہا تھا ۔۔
’’ کیا نہیں ملا وہاں ؟ ‘‘ اس بار امل نے سوال کیا تھا ۔۔ نظریں نائل شاہ کی جانب تھیں ۔۔ جس نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔۔
’’ ڈیڈ باڈیز ‘‘ اور یہ سنتے ہی امل کی سانس رک گئیں ۔۔اسے لگا ۔۔ جیسے وہ سانس لینا بھول ہی گئ ہو ۔۔ اسے لگا ۔۔ جیسے سینے میں کوئی چیز تھی ۔۔ کوئی ایسی چیز جو سینے سے باہر نکلنے کو بیتاب تھی ۔۔ اس نے محسوس کیا تھا ۔۔ اپنی تیز دھڑکوں کو۔۔
