Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 22)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

’’ یہ میرا بہت پرانا اور اعتبار کا بندہ ہے ۔۔ اس کے بابا بھی میرے خاص آدمی تھے ۔۔ اس کے ہوتے ہوئے تمہیں امل کے لئے پریشان ہونے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے نائل ۔۔ تمہاری غیر موجودگی میں یہ سائے کی طرح امل کے ساتھ رہیگا اور اس کی حفاظت کرے گا ۔۔ اس لئے فکر کی کوئی بات نہیں ‘‘

شہزاد شاہ ۔۔ پچھلے پندرہ منٹ سے ماسٹر کو فرہاد کی خوبیاں گنوا رہے تھے ۔۔۔ جبکہ وہ سامنے بیٹھے اس شخص کو وقفے وقفے سے دیکھ رہا تھا جو سر جھکائے کوئی بت بنا ان کے سامنے بیٹھاتھا ۔۔ وہ کتنی ہی دیر سے یہاں بیٹھے تھے ۔۔، مگر فرہاد نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا اور یہ بات شہزاد شاہ کو بہت ناگوار گزر رہی تھی ۔۔ ناجانے اچانک اسے کیا ہوگیا تھا ۔۔۔ سر اٹھانا تو جیسے وہ بھول ہی چکا تھا ۔۔

’’ فرہاد ۔۔ ‘‘ شہزاد شاہ کی آواز پر وہ چونکا تھا ۔۔

’’ جی ۔۔ جی ‘‘

’’ نائل کچھ پوچھ رہا ہے تم سے ۔۔ جواب دو ‘‘ اسے گھورتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ سب ٹھیک ہے فرہاد ؟ تم بہت پریشان لگ رہے ہو ‘‘ سوال نائل کی جانب سے ہوا تھا ۔۔

’’ جی ۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے جانا ہوگا ۔۔ آئی ایم سوری ‘‘ وہ کہہ کر فوراً وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔

’’ اسے کیا ہوا ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کے سوال کا جواب ان دونوں کے پاس تھا مگر دونوں نے ہی خاموش رہنا ضروری سمجھا تھا ۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔

’’ تمہارا بھائی ؟؟ ‘‘ مصطفی ایک قدم آگے بڑھا تھا ۔۔

’’ وہ ایک قاتل ہے مایا ۔۔ اور میں نے اسکے خلاف نہیں بلکہ اس شخص کے خلاف جال بچھایا ہے جو اس قتل کی وجہ ہے‘‘

’’ تم نے مجھ سے جھوٹ کہا ۔۔ تم نے مجھ سے سب چھپایا ۔۔ مجھے اندھیرے میں رکھ کر تم یہ سب کرتے رہے مصطفی‘‘ وہ شکوہ کر رہی تھی ۔۔

’’ ہمیں یہ سب کرنے پر بھی تم نے خود مجبور کیا مایا ۔۔ تمہیں کیا لگا ؟ تم چھپ کر اس سے ملتئ رہوگی اور ماسٹر کو کچھ معلوم نہیں ہوگا ؟؟ تم نے تو مجھے بھی کچھ نہیں بتایا ‘‘ اور اس کے الفاظ نے اسے خاموش کر دیا تھا ۔۔

’’ تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ان سب کے بعد ماسٹر تم پر اعتبار کریں گے ‘‘

’’ ٹھیک ہے نہیں بتایا میں نے ۔۔ کیوں بتاتی میں ؟ وہ میرا بھائی ہے مصطفی ۔۔ اور اپنے بھائی کو موت کے منہ میں خود اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دونگی میں ۔۔ میں تمہیں سب بتا دیتی اور پھر ؟؟ کیا ہوتا پھر ؟ تم لوگ امل کوانصاف دلانے کے لئے مجھے ۔۔ میرے ہی بھائی کے خلاف جانے کا کہتے ۔۔۔ میں یہ نہیں کرسکتی ۔۔۔ وہ جیسا بھی ہے ۔۔ میرا بھائی ہے ۔۔ محبت کرتی ہو میں اس سے ‘‘ کہتے ساتھ ہی آنسو کا ایک قطرہ اسکی آنکھوں سے گرا تھا ۔۔

’’ تو اس محبت کے لئے ۔۔ تم نے باقی تمام محبتوں کو چھوڑ دیا مایا ۔۔۔ میری محبت کا کیا ؟ ‘‘ اور مصطفی کے الفاظ ایک بار پھر اسے خاموش کروا گئے تھے ۔۔

’’ اپنے بھائی کی خاطر ۔۔ تم نے مجھ سے منہ موڑ لیا ۔۔ اپنا وعدہ تک بھول گئ تم ۔۔ بھول گئ کہ ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دینا تھا ۔۔ ‘‘ اس نے مزید کہا تھا ۔۔ مگر اس بار مایا کے پاس جواب تھا ۔۔

’’ شروعات تم نے کی ہے مصطفی ۔۔ جب سے وہ لڑکی ہماری زندگی میں آئی ہے ۔۔ اس کے علاوہ تمہیں کچھ نظر ہی کب آیا ہے ؟ اور اسی لڑکی کی خاطر تم نے مجھ سے جھوٹ کہے ۔۔ اور جہاں تک بات وعدے کی ہے ۔۔ ‘‘ وہ ایک قدم آگے ہوئی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے ۔۔

’’ اس رات ۔۔ ایک وعدہ تم نے بھی تو کیا تھا مصطفی ۔۔ اسے کب نبھاؤگے تم ؟ ‘‘ اور مایا کے الفاظ مصطفی کو چونکا گئے تھے ۔۔۔ وقت کچھ دیر کے لئے ٹھہر گیا تھا۔۔ اور پھر ۔ وہ آہستہ آہستہ پیچھے گیا ۔۔ اسی رات میں ۔۔ اس رات کی ۔۔۔ اک خاص بات میں ۔۔۔

اسے یاد تھا جب وہ اپنے گھر میں لیٹا نیند کے مزے لے رہا تھا ۔۔ مگر اچانک ہی بجنے والی موبائل کی رنگ ٹیون ۔۔ اسے اس نیند کی وادی سے باہر لائی تھی ۔۔

’’ ہیلو ۔۔۔‘‘ آنکھیں کھولے بغیر کان موبائل سے لگا کر کہا تھا ۔۔

’’ فوراً ہسپتال جاؤ اور مسیج میں بھیجی گئ ساری چیزیں اور کچھ ہلپرز لے کر مایا کے گھر آؤ ۔۔ جلدی ’’

’’ کیا ہوا ۔۔ سب ٹھیک ہے نا ؟ ‘‘ واجد کی آواز صاف بتا رہی تھی کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں تھا ۔۔

’’ کچھ ٹھیک نہیں ہے مصطفی ۔۔ وہ لڑکی موت کے منہ میں ہے جلدی آؤ ‘‘ اس نے کہہ کر کال کٹ کر دی تھی ۔۔ جبکہ مصطفی اب باہر کی جانب بھاگا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد تمام سامان اور ہسپتال سے مایا کے بتائے ہوئے کچھ لوگ لے کر وہ مایا کے گھر پہنچا جہاں اس نے ایک جانب ماسٹر کو انتہائی پریشان کن حالت میں دیکھا جبکہ واجد بھی پریشانی میں چکرا رہا تھا ۔۔

’’ کہاں ہے وہ ؟ ‘‘

’’ اندر ہے ۔۔ جلدی جاؤ ‘‘ واجد کے بتانے پر وہ فوراً اندر بڑھا جہاں مایا اس لڑکی کا بہتا ہوا خون روکنے کی کوشش میں مصروف تھی ۔۔

’’ کیا کنڈیشن ہے ؟؟ ‘‘

’’ بہت سیریس ہے ۔۔ میں حیران ہوں کہ اس نے اتنا سروایو کیسے کیا ۔۔ مصطفی ۔۔ جلدی سے مجھے یہ چیزیں لادو ۔۔ اس کےجسم میں کانچ کے ٹکڑے دھنسے ہیں ۔۔ مجھے وہ نکالنے ہونگے پر پہلے یہ خون روکنا ہے ‘‘ ہاتھ سے پیپر لیتے ہوئے مصطفی نے ایک نظر اس لڑکی کی جانب دیکھا ۔۔ اور اسکی بند آنکھوں میں وہ دیکھ سکتا تھا ۔۔ اسکا کرب ۔۔۔

’’ اوک ‘‘ وہ کہہ کر فوراً باہر گیا تھا ۔۔ مطلوبہ چیزیں لانے میں اسے ایک گھنٹہ لگا تھا ۔۔ اور جب وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا ۔۔ اس لڑکی کا خون رک چکا تھا ۔۔ شاید گولیاں بھی جسم سے نکالی جاچکی تھیں ۔۔ مگر اس کے علاوہ کانچ کے ٹکڑے اور سر پر لگنے والی چوٹ ۔۔ بہت کچھ تھا جو باقی تھا ۔۔۔ مگر یہ ۔۔ مایا کہا ہے ؟؟

اس نے اس کمرے کے چاروں اطراف میں نظر دوڑائی مگر مایا کے علاوہ وہاں سب موجود تھے ۔۔

’’ ڈاکٹر مایا کہاں ہیں ؟؟ ‘‘ ایک نرس سے پوچھا تھا ۔۔

’’ وہ اپنے روم میں گئیں ہیں ‘‘ اور مصطفی کو حیرانی ہوئی تھی ۔۔ اس لڑکی کو اس حال میں چھوڑ کر وہ کیسے کہیں جاسکتی ہے ۔۔ اب وہ اس کے روم کی جانب آیا تھا ۔۔ مگر ۔۔۔ دروازے پر ہی اس کے قدم رک گئے ۔۔ اندر سے کچھ آوازیں آرہی تھیں ۔۔ اس نے جھانک کر دیکھا ۔۔ وہاں ایک لڑکا مایا کے سامنے کھڑا تھا ۔۔ گھبرایا ہوا ۔۔ پریشان سا ۔۔ ڈرا ہوا ۔۔ الجھا ہوا ۔۔ اور بے حد خراب حلیے میں ۔۔ ایسے جیسے ۔۔ کسی محاض سے آیا ہو ۔۔

’’ یہ یہاں کیسے پہنچ گئ ‘‘ وہ مایا سے کہہ رہا تھا ۔۔

’’ دنیا میں اب بھی کچھ نیک لوگ باقی ہیں فرہاد ۔۔۔ ہر کوئی تمہاری طرح ظالم نہیں ہے ‘‘‘ وہ بے حد غصے میں تھی ۔۔اور شاید تکلیف میں بھی ۔۔

’’ وہ بچنی نہیں چاہئے مایا ۔۔ پلیز ۔۔ اسے مت بچاؤ ‘‘ اور اس کے منہ سے نکلے الفاظ مصطفی کو غصہ دلانے کے لئے کافی تھے ۔۔

’’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو فرہاد ۔۔۔ اب تم اپنی طرح مجھے بھی ایک قاتل بنانا چاہتے ہو ۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اس حد تک گر سکتے ہو ‘‘ اسے واقعی افسوس ہورہا تھا ۔۔

’’ میں مجبور ہوں مایا ۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ وہ بچ گئ تو شہزاد شاہ مجھے مار دیگا ‘‘ اور کتنا لاچار لگ رہا تھا اس وقت وہ ۔۔

’’ میں بھی مجبور ہوں فرہاد ۔۔ انسانیت سے نہیں گرسکتی میں ۔۔ اب جاؤ یہاں سے ۔۔ کسی نے تمہیں دیکھ لیا تو سب بگڑ جائے گا ‘‘ مایا نے اب اسے کھڑکی کی جانب دھکیلا تھا ۔۔

’’ تمہیں اسےمارنا ہوگا مایا ۔۔ اپنے بھائی کی خاطر تمہیں اسے مارنا ہوگا ‘‘ وہ یہ آخری جملہ کہہ کر کھڑکی سے پھلانگ گیا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی اب مایا کے سامنے کھڑا تھا ۔۔

’’ مجھ سے دعدہ کرو مایا ۔۔ تم اسے ہر حال میں بچاؤ گی ‘‘ بے حد سنجیدگی سے وہ اسے کہہ رہا تھا ۔۔

’’ میں اسے بچاؤنگی مصطفی ۔۔ مگر مجھ سے دعدہ کرو ۔۔ تم فرہاد کو بچاؤگے ۔۔۔ تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤگے ۔۔ کبھی نہیں بتاؤگے ‘‘

’’ ڈن ۔۔ چلو اب ۔۔ہمارے پاسس وقت نہیں ہے ‘‘ وہ کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا مگر اس وقت اسے صرف اس لڑکی کی پریشانی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ باقی کے پورے وقت میں اس نے مایا سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔ وہ بس ایک بات جانتا تھا۔۔ اس لڑکی کی زندگی بہت اہم تھی ۔۔ اور فرہاد کی زندگی لینا ۔۔ یہ بھی بہت اہم تھا ۔۔۔

اور اسی کے ساتھ ۔۔ وہ حال میں واپس آچکا تھا ۔۔

’’ تم سے دعدہ نہیں کیا تھا مایا ۔۔۔ میں نے ڈن کہا تھا ۔۔۔ ریممبر ۔۔ !! ‘‘ اور مصطفی کے الفاظ پر مایا نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ تم کیا کہنا چاہتے ہو مصطفی ؟ ‘‘

’’ میں نے کہا ۔۔ ڈئیر مایا ۔۔۔ میں نے صرف ’ ڈن ‘ کہا تھا ۔۔۔ دعدہ نہیں کیا تھا ‘‘ اور ایک مسکراہٹ اس پر اچھال کر وہ پلٹ چکا تھا ۔۔ جبکہ مایا ۔۔ اسے دیکھتی رہ گئ ۔۔۔

‘’ محبت اپنی جگہ ڈئیر ۔۔۔ مگر ہوں تو میں ایک ہیکر ہی ‘‘ اور ایک گہری مسکراہٹ لئے وہ اپنی گاڑی مایا کے سامنے سے گزار گیا تھا ۔۔



’’ مجھے فرہاد کا رئیکشن کچھ سمجھ نہیں آیا ‘‘ امل نے کمرے میں آتے ساتھ کہا تھا ۔۔۔ یہ سب واقعی بہت عجیب لگا تھا اسے ۔۔۔

’’ تم کیا ایکسپیکٹ کر رہی تھی‘‘ ماسٹر نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔ فرہاد کا انداز ماسٹر کے لئے بھی حیران کن تھا ۔۔ مگر ۔۔۔ یہی حیرانی اس کے لئے ایک پریشانی بھی تھی۔۔

’’ ڈر ۔۔ مجھے لگا اسکی آنکھوں میں ڈر ہوگا ۔۔۔ مجھے سب معلوم ہوجانے کا ۔۔ مگر ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔ جیسے اسکی آنکھیں یاد آگئیں ہوں ۔۔

’’ مگر ماسٹر ۔۔ اس کی آنکھوں میں درد تھا ۔۔ ایک ایسا درد ۔۔ جسے میں کوئی نام نہیں دے سکی ۔۔۔ مجھے وہاں کوئی ڈر ۔۔ کوئی گلٹ نظر نہیں آیا ۔۔ وہ دو پل ۔۔ صرف دو پل کے لئے اس کی آنکھیں اٹھی تھیں ۔۔ اور ان دو پلوں میں۔۔ میں نے ایک کرب دیکھا ۔۔ مگر یہ کیسے ہوسکتاہے ؟ ‘‘ اس نے سوالیاں نظروں سے ماسٹر کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ مگر شاید کہنے کے لئے اس کے پاس بھی کچھ نہیں تھا ۔۔۔

’’ یہ کیسے ہوسکتا ہے ماسٹر ۔۔ اس جیسا انسان ۔۔ مجھے اس جیسے انسان کی آنکھوں میں درد کیوں نظر آیا ۔۔ اور ۔۔ مجھے اس پر رحم کیوں آیا ۔۔۔ کیوں ؟ ‘‘ اس بار جیسے وہ یہ سوال خود سے کر رہی تھی ۔۔ لیکن ۔۔ اسے خود سے بھی اسکا جواب نہیں ملا تھا ۔۔ ہر جانب خاموشی تھی ۔۔بس خاموشی ۔۔

’’ وہ تم سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ ‘‘ اور اس خاموشی کو ۔۔ ماسٹر کے الفاظ نے توڑاتھا ۔۔ جبکہ امل نے حیران نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔

’’ کیا کہا تم نے ؟ ‘‘ شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی ہو ۔۔۔

ماسٹر نے اسکی جانب چند قدم اٹھائے تھے ۔۔ اب وہ بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتا ہوا ۔۔

’’ تمہارے ماں باپ کے قاتل کو ۔۔ تم سے محبت ہوگئ ہے امل نائل شاہ ‘‘ اس نے امل کے نام کے ساتھ خود کا نام اس انداز میں لیا تھا ۔۔ کہ جیسے وہ اسے یاد دلانا چاہتا ہو ۔۔ کہ وہ کون ہے ؟ اسے یاد رکھنا بھی چاہئے ۔۔

’’ وہ جو اس کی آنکھوں میں تم نے دیکھا ہے نا ۔۔ وہ ٹوٹ جانے کا کرب تھا ۔۔ روح پر وار ہونے کا درد تھا ۔۔ اور جانتی ہوں ۔۔ روح پر وار کرنے کا حوصلہ صرف اور صرف محبت میں ہوتا ہے ۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ نظریں امل کے حیران چہرے پر تھیں۔۔۔

’’ مضبوط سے مضبوط ترین چاہے انسان ہو یا شیطان ۔۔ اسے اگر کوئی چیز کمزور بناتی ہے ۔۔ تو وہ محبت ہے ۔۔ اگر کوئی چیز ۔۔ اسے توڑ سکتی ہے ۔۔ تو وہ محبت کا کیا گیا وار ہے۔۔ اور اگر کوئی چیز اسے مزید مضبوط بنا سکتی ہے ۔۔ تو وہ محبت کا حصول ہے ۔۔ کسی بھی رخ سے دیکھ لو امل ‘‘ وہ ایک قدم اور آگے بڑھا تھا ۔۔۔ اس کے بے حد قریب ۔۔ جبکہ امل ۔۔ اپنی جگہ پتھر سی بنی کھڑی تھی ۔۔

’’ انسان کی ہر تباہی محبت سے ہے ۔۔ ہر فتح محبت سے ہے ‘‘ وہ خاموش ہوا تھا ۔۔ مگر امل کے کان اس خاموشی کو محسوس نہیں کر پارہے تھے ۔۔ ماسٹر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے ۔۔ وہ ماسٹر کی آنکھوں میں آج دیکھ رہی تھی ۔۔ کچھ نیا ۔۔ جانے یہ تباہی تھی یا فتح ۔۔ لیکن ۔۔ یہ جو بھی ہے ۔۔ محبت سے ہے ۔۔۔



’’ امل ۔۔۔ امل۔۔۔۔ امل ۔۔۔ ‘‘ وہ مسلسل اسکا نام لے رہا تھا ۔۔ وہ مسلسل تڑپ رہا تھا ۔۔ وہ مسلسل درد میں تھا ۔۔ اسکی آنکھیں لال تھیں ۔ ایسے جیسے انگاروں سے جل رہی ہوں ۔۔

’’ یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ کیسے ‘‘ اپنے بالوں کو ہاتھوں جکڑے ہوئے وہ بڑبڑایا تھا ۔۔

’’ نو ۔۔ نو ۔۔ نووو ‘‘ اور اسی کے ساتھ اس نے میز پر رکھا گلدان پوری طاقت سے شیشے پر مارا تھا ۔۔ کانچ کے ٹکڑے اب کمرے میں بکھر گئے تھے ۔۔ اسے اب ان بکھرے ٹکڑوں میں اپنا عکس نظر آیا ۔۔ مگر پھر۔۔ اچانک ہی ۔۔ منظر بدلا تھا ۔۔

وہ کھڑکی آگ کی تپش سے ایک دھماکے کی صورت ٹوٹی تھی ۔۔ کانچ کے ٹکڑے ۔۔ ایک نازک وجود میں آکر دھنس گئے تھے ۔۔

’’ نو ۔۔۔۔ نوووووو ‘‘ اسے محسوس ہوا جیسے ۔۔ وہ ٹکڑے اب اس کے اپنے جسم میں دھنسے ہوں۔۔ اسے اب یہ درد محسوس ہورہا تھا ۔۔ یہ درد ۔۔ جو وہ سہہ چکی تھی ۔۔۔

وہ نیچی بیٹھا ۔۔ ایک کانچ کا ٹکڑہ اٹھاکر اپنی مٹھی میں دبایا ۔۔۔ خون اب تیز قطروں کی صورت اس کی بند مٹھی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔ اور وہ ۔۔ اپنی لال آنکھوں میں آنسو لئے ۔۔۔ اپنی مٹھی سے نکلتے اس خون کو دیکھ رہا تھا ۔۔ یہ خون ۔۔۔ جو اس رات اس نے اس بھاگتی ہوئی لڑکی کے زخموں سے نکلتے دیکھا تھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ ایک اور آواز بھی تو آئی تھی ۔۔۔

وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔۔ ڈریسنگ کے دراز سے ایک گن نکالی ۔۔ اب وہ بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ ہر درد کی پرواہ کئے بغیر ۔۔ ہر تکلیف کو سہتے ہوئے ۔۔ وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ پھر اچانک ۔۔ ایک آواز آئی تھی۔۔۔

اسے محسوس ہوا ۔۔ اس کے بازوں پر کوئی چیز تیزی سے آکر چبھی ہو ۔۔ درد کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑی تھی ۔۔

اور اس کمرے میں بھی ۔۔ اچانک ۔۔۔ ایک پرزور آواز آئی تھی ۔۔۔ اور فرہاد نے دیکھا ۔۔۔ گولی اس کے بائیں بازو میں لگی تھی ۔۔ درد کی شدت اس کے پورے جسم میں پھیل رہی تھی ۔۔ تکلیف بڑھ رہی تھی ۔۔ خون اس کے بازو سے بہہ رہا تھا ۔۔ مگر وہ پھر بھی کھڑا تھا ۔۔ آنسوؤں سے بھیگا چہرہ لئے ۔۔ وہ اپنی جگہ کھڑا تھا ۔۔

’’ کیسے ۔۔ کیسے سہہ لیا تم نے ۔۔ ؟؟ کیسے ؟؟؟ ‘‘ اسے یاد آیا ۔۔ اس پہلی گولی کے بعد بھی ۔۔ وہ رکی نہیں تھی ۔۔ وہ بھاگتی رہی تھی ۔۔ اپنا بازو دباتے ہوئے ۔۔ درد کی اس لہر کو برداشت کرتے ہوئے ۔۔ صرف اپنی جان بچانے کی خاطر وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ اور تیزی سے ۔۔ اور پھر ۔۔۔ اسے روکنے کے لئے ۔۔۔ ایک اور گولی چلائی گئ تھی ۔۔۔ اور اس بار ۔۔۔

اس بار گولی ۔۔ اس کی ٹانگ میں لگی تھی ۔۔ اس بار وہ برداشت نہیں کر پائی ۔۔ وہ لڑکھڑائی ۔۔ اور گر گئ ۔۔ اس گہری کھائی میں ۔۔۔ اس اندھیرے میں ۔۔

گولی ایک بار اور چلی تھی ۔۔ اور اس بار ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ گولی اسکی ٹانگ میں لگی تھی ۔۔ درد کی ایک لہر جسم میں دوڑی تھی ۔۔ اور اس بار وہ کھڑا نہیں رہ سکا تھا ۔۔ وہ لڑکھڑایا تھا ۔۔ اور گر گیا تھا ۔۔ بیڈ کا کونا اس کے سر پر لگا تھا ۔۔ خون اب اس کے سر ۔۔ ہاتھ ۔۔ بازو اور ٹانگ سے بہہ رہا تھا ۔۔۔

’’ فرہاد ۔۔۔ فرہاد ۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے ؟؟؟ فرہاد کیا ہوا ہے ۔۔۔ ‘‘ مایا کی تڑپتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی ۔۔

’’ میں گر گیا ۔۔۔ میں بھی اس اندھیری کھائی میں گر گیا مایا ۔۔۔ ‘‘ آنسو تیزی سے اسکی آنکھوں نے نکل رہے تھے ۔۔ نظیں چھت پر لگی تھیں ۔۔ مگر نظروں کے سامنے وہی لڑکی تھی ۔۔ وہی کھائی تھی ۔۔ وہی اندھیرا تھا ۔۔

’’ دیکھو ۔۔ دیکھو امل ۔۔۔۔ ‘‘ اور فرہاد کے ہونٹوں سے نکلے یہ الفاظ مایا کو ایک بت بنا گئے تھے ۔۔ وہ رک گئ تھی۔۔

’’ میں بھی گر گیا ۔۔ تمہارے ساتھ ۔۔ اسی اندھیری کھائی میں امل ۔۔۔ کیسے برداشت کیا تم نے میرا ظلم ۔۔ کیسے سہہ لیا تم نے یہ سب ۔۔۔ امل ۔۔۔ دیکھو میں گر گیا امل ۔۔۔ میں گر گیا ۔۔ میں گر گیا۔۔۔۔ امل ۔۔۔ امل۔۔۔۔۔۔ !! ‘‘ ایک دلخراش چیخ اس کے نام کی اسکے ہونٹوں سے نکلی اور پھر ۔۔۔ چاروں طرف اندھیرا چھا گیا ۔۔۔ اب کچھ بھی سامنے نہیں تھا ۔۔ اب بولنے کی سکت نہیں رہی تھی ۔۔ اب آنکھیں بھاری ہوچکی تھیں ۔۔ وہ بند ہوچکی تھیں ۔۔۔ اور اب ۔۔ بس اندھیرا تھا ۔۔ اس کھائی کا ۔۔ اندھیرا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *