Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 19)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 19)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
’’ واؤ ۔۔۔ کتنا خوبصورت کمرہ ہے ‘‘ ارد گرد اس کمرے کو دیکھتے ہوئے امل نے کہا تھا۔۔ براؤن اینڈ وائیٹ انٹیرئیر ڈیزائن ، درمیان میں ماسٹر بیڈ ، دائیں جانب ایک بڑی سی ونڈو جس پر بلیک گلاس لگا تھا جس سے باہر کا منظر تو صاف نظر آتا ہے مگر اندر کا نہیں ۔۔بائیں جانب ڈریسنگ روم اور اسی کے ساتھ اٹیچ واش روم ۔۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا سٹڈی روم جس کا رووازہ ڈریسنگ روم کے ساتھ ہی بنا تھا ۔۔ بیڈ کے بلکل سامنے براؤن اینڈ گولڈن کلر کا صوفہ سیٹ اور درمیان میں میز اور اسکے اوپر ایک گلدان رکھا تھا ۔۔
’’ یہ اس حویلی کا سب سے بڑا اور خوبصورت کمرہ ہے ۔۔ جسے میں نے اپنی مرضی سے ڈیزائن کروایا ہے ۔۔ ‘‘ فخریہ انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ تمہاری چوائس اچھی ہے ماسٹر ‘‘ اس نے دل سے کہا تھا ۔۔ یہ کمرہ واقعی بہت خوبصورت تھا ۔۔
’’ جانتا ہوں ۔۔ میری چوائس واقعی بہت یونیک ہے ‘‘ معنی خیز انداز میں جواب دیا تھا ۔۔ جسے امل سمجھ چکی تھی ۔۔
’’ میرا روم کونسا ہے ؟ ‘‘
’’ کیا مطلب تمہارا روم ؟ ‘‘ وہ حیران ہوا تھا ۔۔
’’ مطلب یہ کہ میرا روم کونسا ہے ؟ میں کہاں رہونگی ؟ ‘‘ اسے ماسٹر کی حیرانی سمجھ نہیں آرہی تھی آخر ایسی کیا انوکھی بات کردی تھی اس نے ؟
’’ تم یہاں رہوگی امل ۔۔ یہ اب صرف میرا نہیں بلکہ ہمارا روم ہے ‘‘ اس نے لفظ ’ ہمارا ‘ پر زور دیا تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ہے اس بات کا ؟ میں تمہارے ساتھ ۔۔ اس کمرے میں رہونگی ؟ ‘‘ اب حیران ہونے کی باری امل کی تھی ۔۔
’’ تو اور کہاں رہونگی تم ؟ ‘‘ سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ اتنی بڑی حویلی ہے ۔۔ اتنے سارے رومز ہیں جہاں میں کہیں بھی رہ سکتی ہوں ماسٹر ‘‘
’’ ہاں ۔۔ اتنی بڑی حویلی میں ہم دونوں ۔۔ جو کہ اس حویلی کے ہر فرد کی نظر میں بہت لونگ ہسبنڈ ایڈ وائف ہیں ۔۔ الگ الگ کمروں میں رہینگے ؟ آر یو سیرئس امل ؟ ‘‘ بات تو یہ بھی ٹھیک تھی ۔۔ مگر امل صاحبہ نے تو یہ سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔ اف ۔۔۔ اتنا اہم پوائٹ تم کیسے بھول گئ امل ۔۔ اب کیا کروگی تم ؟؟
’’ اب یہاں کھڑی سوچتی ہی رہوگی یا جاکر فریش بھی ہونا ہے ؟ ‘‘ اسے سوچوں میں گم پاکر ماسٹر نے کہا تھا۔۔
اور وہ خاموشی سے پیر پٹختی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔
’’ کیا کمال کی لڑکی پسند کی ہے تمہارے صاحبزادے نے ۔۔۔ نا بات کرنے کی تمیز ہے نا پہننے اوڑھنے کا ڈھنگ ‘‘ اپنے کمرے میں آتے ہی وہ سادیہ بیگم پر برسے تھے ۔۔
’’ آج ہی تو وہ یہاں آئی ہے ۔۔ آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی یہاں کے طور طریقے ‘‘ دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔
’’ اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ سیکھ لے ورنہ مجھے دوسرے طریقے بھی آتے ہیں ‘‘ وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکلے تھے ۔۔ انکا رخ اب سٹڈی روم کی جانب تھا ۔۔
اندر آتے ہی وہ میز کے پاس رکھی کرسی کرسی پر بیٹھے اور اپنا موبائل اٹھا کر ایک کال ملائی تھی۔۔
’’ یہ لڑکی میری برداشت سے باہر ہے فرہاد ۔۔۔ تمہارے پاس صرف ایک مہینہ ہے ۔۔ اگر تم سےکچھ نہ ہوسکا تو میں تمہیں اور اس لڑکی کو اپنے ہاتھوں سے گولی مار دونگا ۔۔ ‘‘ اس پر اپنا غصہ کر نکال کر انہوں نے موبائل صوفے پر پھینکا تھا ۔۔
جبکہ دوسری جانب فرہاد نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔۔
’’ وہ جو بھی ہے ۔۔ بہت کمال ہے شہزاد شاہ ۔۔ جس نے تمہارا اتنا خون جلا دیا ہے ‘‘ مسکرا کر کافی کا کپ کچن شیلف سے اٹھاتے وہ ڈرائینگ روم کی جانب آیا تھا جہاں کوئی اس کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔۔
’’ کافی ‘‘ کپ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔
’’تھینک یو ‘‘
’’ اب بتاؤ مایا ۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟ ‘‘ اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔ جبکہ کافی کا سپ لیتی مایا ۔۔ ایک پل کے لئے رک گئ تھی ۔۔ وہ یہاں کیا کر رہی تھی ؟
وہ ڈریسنگ روم سے چینچ کر کے باہر آیا ۔۔ اور نظر بیڈ پر بیٹھی سوچوں میں گم امل پر پڑی تھی ۔۔
’’ کیا سوچ رہی ہو ؟ ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
’’ یہ سب بہت مشکل ہے ماسٹر ۔۔۔ اس انسان کے سامنے مسکرانا ۔۔ خوش رہنا ۔۔ یہ بہت مشکل ہے میرے لئے ۔۔ اسے دیکھتے ہی مجھےوہ رات یاد آجاتی ہے ۔۔ دل چاہتا ہے کہ اس نے پوچھوں ۔۔ کیا بگاڑا تھا میرے ماں باپ نے اسکا ۔۔ کیوں کیا اس نے ان کے ساتھ ایسا ۔۔۔ مگر مجھے دیکھو ۔۔۔ میں اسی کے گھر میں کتنے آرام سے بیٹھی ہوں۔۔ ‘‘ آنسو صاف کرتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی ۔۔ اور ماسٹر کو اس کے آنسو پریشان کرنے لگے تھے ۔۔
’’ دیکھو امل ‘‘ اسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔
’’ میں جانتا ہوں یہ آسان نہیں ہے ۔۔ لیکن ہمیں یہ کرنا ہوگا ۔۔ انہیں سزا دلوانے کے لئے ۔۔ انصاف کے لئے ہمیں یہ سب کرنا ہوگا امل ۔۔ اور اس کے لئے تمہیں حوصلے سے کام لینا ہوگا ۔۔ اور تم اکیلی تو نہیں ہو ۔۔ مصطفی ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔ میں ہوں تمہارے ساتھ ‘‘ آخری الفاظ اس نے دھیمی آواز میں کہے تھے ۔۔ مگر امل انہیں سن چکی تھی ۔۔ اور جانے کیوں ۔۔ مگر دل کو سکون بھی ملا تھا ۔۔ بے اختیار ہی ۔۔ وہ مسکرا دی تھی ۔۔
’’ وہ تمہارے بابا ہے ماسٹر ۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔ تم انکے بجائے میرا ساتھ دے رہے ہو ؟ ‘‘
’’ میں صرف انصاف کے ساتھ ہوں امل ۔۔ جب میں نے یہ فیلڈ جوائن کی تھی ۔۔ تو میرا مقصد صرف اور صرف سچائی کا ساتھ دینا تھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ جب میں نے اس رات وہ گھر دیکھا ۔۔ میں نے اپنوں کو اپنے ہی بابا کے ہاتھوں زندگی ہارتے دیکھا ۔۔ اس وقت بھی ایک ہی قسم کھائی تھی میں نے ۔۔ کچھ بھی ہوجائے ۔۔ میں صرف اپنے بابا کو بچانے کے لئے اپنی ایمانداری ، سچائی اور انصاف کو نہیں کھو سکتا ۔۔ میں اپنوں کا خون قربان نہیں کرسکتا ۔۔ وہ میرے چچا تھے امل ۔۔ اور مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔ بچپن میں ۔۔ میں سب سے زیادہ انہیں کے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔۔ ان کے ساتھ کھیلتا تھا ۔۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ۔۔ پھر ایک دن ۔۔ وہ یہاں سے چلے گئے ۔۔ میں نے ماما اور بابا کو بات کرتے سنا ۔۔ وہ اپنی اور اپنی بیوی کی جانب بچانے کے لئے بھاگ گئے تھے ۔۔ کیونکہ بابا انکی بیوی کو مارنا چاہتے تھے ۔۔ مجھے اس وقت بابا پر بہت غصہ آیا ۔۔ وہ کیوں چچی کو مارنا چاہتے تھے ۔۔ چچی تو اتنی اچھی تھیں ۔۔ اور پھر کچھ سال بعد مجھے سمجھ آگیا کہ وہ ایسا صرف اپنے ان اصولوں کی وجہ سے کرنا چاہتے تھے جو داد اکے بنائے ہوئے تھے ۔۔ وہ اپنے اصولوں کے بہت پکے ہیں ۔۔ پھر جب میں نے اپنی یونیورسٹی لائف میں کرائمولوجی کا سبجیکٹ سیلیکٹ کیا ۔۔ تو بابا کو اس پر اعتراض تھا ۔۔ وہ چاہتے تھے کہ میں انکی طرح سیاست پڑھوں ۔۔ مگر میں سیاست جیسے جھوٹ کے دندل میں نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔ میں اس ملک میں انصاف چاہتا تھا ۔۔ میں سچائی چاہتا تھا ۔۔ اس لئے میں جرمیات میں ڈگری لینے باہر چلا گیا ۔۔ اور پھر ۔۔ جب میں یہاں واپس آیا ۔۔ تو ’’ کرائم انویسٹیگیٹر آفیسر ‘‘ بن چکا تھا ۔۔۔ ‘‘ وہ سانس لینے کے لئے رکا تھا ۔۔ اور امل۔۔ سب ساکت بنی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس نے دیکھا ۔۔وہ ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔ ایک اداس مسکراہٹ ۔۔
’’ ہر کیس سالو کرنے کے بعد بھی ۔۔ مجھے کبھی سکون نہیں ملا امل ۔۔ مجھے ایسا لگتا تھا ۔۔ کہ جیسے کچھ ہے ۔۔ کوئی ایسی چیز ۔۔ جو میں مس کر رہا ہوں ۔۔ جیسے مجھے کہیں اور ہونا چاہئے ۔۔ سچائی کہیں اور ہے ۔۔ اور میں خود کہیں اور ۔۔ اور پھر ۔۔ مجھے اس رات معلوم ہوگیا ۔۔ کہ یہی وہ جگہ تھی ۔۔ جہاں مجھے ہونا چاہئےتھا ۔۔ مگر میں نہیں تھا ۔۔ سچائی تو میری اپنی حویلی میں چھپی تھی ۔۔ مگر میں یہاں نہیں تھا ۔۔ میں یہاں ہوتا ہی نہیں تھا ۔۔ اگر میں یہاں ہوتا ۔۔ تو شاید وہ سب نہ ہوتا ۔۔ شاید میں چچا کووقت پر بچا لیتا ۔۔ لیکن میں بہت دیر سے پہنچا امل ۔۔ مجھے دیر ہوگئ ۔۔اتنی کے کہ جب وہاں پہنچا تو سب جل چکا تھا ۔۔ میں رک گیا تھا ۔۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے اتنے سال جس مقام کو حاصل کرنے کے لئے میں نے اتنی محنت کی تھی ۔۔ میں تو اسکے لائق ہی نہیں تھا ۔۔ امید ہار گیا تھا میں ۔۔ مگر پھر ۔۔۔ میں نےتمہیں دیکھا ۔۔ ‘‘ اس نے اب امل کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔ جن میں اب نمی تھی ۔۔ وہ اسے ہی تک رہی تھی ۔۔
’’ تم زخمی تھی ۔۔ دو گولیاں لگی تھیں تمہیں ۔۔ مگر ۔۔ پھر بھی تم رکی نہیں تھی ۔۔ اتنی زخمی ہوکر بھی ۔۔ تم نے ہار نہیں مانی تھی ۔۔ امل ۔۔ مجھے اس وقت تم ۔۔ مجھ سے کہیں زیادہ باہمت لگی تھی ۔۔ لیکن پھر میں نے تمہیں اس کھائی میں گرتے دیکھا تھا ۔۔ اور میرے قدم رک گئے ۔۔ مجھے لگا ۔۔ کہ زندگی نے جو ایک امید دی تھی مجھے ۔۔ وہ بھی بجھ گئ ۔۔ جانے کتنی دیر بعد ۔۔ مجھے واجد کی آواز سنائی دی ۔۔ ماسٹر ۔۔ یہ زندہ ہے ‘‘ ماسٹر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔ امل نے دیکھا ۔۔ اس بار اداسی نہیں تھی ۔۔ یہ حقیقی مسکراہٹ تھی ۔۔
’’ میں تمہاری طرف دوڑ کر آیا ۔۔ تمہاری نبض چل رہی تھی ۔۔ اور مجھےلگا ۔۔ جیسے مجھے زندگی مل گئ ہو ۔۔ تم میرے لئے امید ہو۔۔ اس مقام کے قابل بننے کی امید ۔۔ اپنے اندر سے وہ خلش دور کرنے کی امید جو بچپن سے ساتھ رہی ہے ۔۔ اس لئے امل ۔۔ میں یہ سب تمہارے لئے نہیں ۔۔ بلکہ اپنے لئے کر رہا ہوں ‘‘ اس نے اپنی بات ختم کی تھی ۔۔ امل اب بھی خاموشی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ اور وہ منتظر تھا ۔۔ امل کے الفاظ کا ۔۔
’’ ماسٹر ‘‘ امل نے اسے پکارا تھا ۔۔ اور اسکا پورا وجود جیسے کان بن چکا تھا ۔۔ صرف اسے سننے کے لئے ۔۔
’’ مجھے نیند آرہی ہے ‘‘ اور یہ آئی امل کی زبان ۔۔۔
’’ واٹ ‘‘ وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ سیریسلی ؟ یہ اسکا جواب ہے ؟
’’ ہاں ۔۔ نیند آرہی ہے مجھے ۔۔ اب جاؤ ‘‘ بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ اور ماسٹر کا دل چاہا کہ اسے اٹھا کر پٹخ دے ۔۔
’’ ٹھیک ہے سو جاؤ ‘‘ اسے کہہ کر وہ واش روم کی جانب بڑھا تھا ۔۔ جبکہ امل کروٹ لیتی ہوئی مسکرا دی تھی۔۔
’’ تمہیں تنگ کرنے میں بہت مزا آتا ہے ماسٹر ‘‘ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔ کچھ دیر بعد واش روم کا دروازہ کھلا اور امل نے فوراً اپنی آنکھیں بند کی ۔۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے ۔۔ بیڈ کی دوسری جانب کوئی آکر بیٹھا تھا ۔۔ اور بس ۔۔ اسکی آنکھیں فوراً کھلی تھیں ۔۔ وہ دائیں جانب مڑی اور دیکھا ۔۔ماسٹر بیڈ پر لیٹ رہا تھا ۔۔ وہ فوراً اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔ جیسے کوئی کرنٹ لگا ہو ۔۔
’’ یہ تم کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا ۔۔ اور کمبل اوڑھتے ماسٹر کے ہاتھ رکے تھے ۔۔
’’ سورہا ہوں ‘‘ اسے امل کا رئیکشن سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔
’’ تم یہاں نہیں سو سکتے ماسٹر ‘‘ امل کی بات پر وہ اب سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔۔
’’ تو میں کہاں سوؤنگا ؟ ‘‘
’’ کہیں بھی ۔۔ مگر یہاں نہیں ‘‘ وہ انکاری تھی ۔۔
’’ بچو جیسی باتیں مت کرو امل ۔۔ سوجاؤ نیند آرہی ہے مجھے ‘‘ وہ اب دوبارہ کمبل اوڑھ کر لیٹنے ہی والا تھا مگر امل نے فوراً کمبل اسکے ہاتھوں سے کھینچا ۔۔
’’ تم یہاں میرے ساتھ نہیں سوسکتے ماسٹر ‘‘
’’ اچھا تو بتاؤ مجھے ۔۔ میں یہاں نہیں تو کہاں سو سکتا ہوں ؟ ‘‘ اسے اب امل پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔
’’ صوفے پر ۔۔ تم صوفے پر سوؤگے ‘‘ اس نے سامنے رکھے صوفے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔
’’ اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ اپنے ہی گھر میں ، اپنے ہی کمرے میں ، اپنے ہی بیڈ کو چھوڑ کر اپنی ہی بیوی کی وجہ سے اس صوفے پر سوؤنگا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے ۔۔ ‘‘ اس نے امل کے ہاتھوں سے کمبل کھینچا تھا جو منہ کھولے اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔۔ ’’ اور اگر تمہیں اتنا ہی مسئلہ ہے میرے ساتھ سونے میں تو جاؤ ۔۔ جاکر خود اس صوفے پر سوجاؤ ۔۔ کیونکہ میں اس بیڈ کو نہیں چھوڑنے والا ‘‘ کہہ کر وہ کمبل اوڑھے دوبارہ لیٹ چکا تھا ۔۔ جبکہ امل ۔۔ تلملا کر رہ گئ تھی۔۔
اسے گھورتے ہوئے اس نے اپنا تکیہ اٹھایا اور سامنے صوفے پر جاکر لیٹ گئ ۔۔ جبکہ اس بار مسکرانے کی باری ماسٹر کی تھی ۔۔
’’ تم سے بدلہ لینے میں مجھے بہت مزا آتا ہے امل ‘‘ خود سے کہتے ہوئے اس نے اپنی آنکھیں بند کی تھیں ۔۔
یہ صبح کے دس بجے کا وقت تھا جب اسکی آنکھ کھلی تھی ۔۔ نظر سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی اپنے گیلی بالوں پر گنگی پھیرتی امل پر پڑی تھی ۔۔ آج اس نے وائیٹ ٹاپ اور بلیک جینس پہنی تھی ۔۔ ڈرائیر سے اپنے بال ڈرائے کرنے کے بعد آنکھوں میں کاجل ، ہونٹوں پر لائٹ لپ گلو ، ہاتھ میں ایک نازک سا بریسلٹ پہنا۔۔ جب اس کی نظر آئینے میں اپنے پیچھے لیٹے ماسٹر پر پڑی ۔۔ جو بس اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ میرے خیال سے تمہیں اب اٹھ جانا چاہئے ماسٹر ‘‘ امل کی آواز اسے جیسے ہوش میں لائی تھی ۔۔ وہ جانے کتنی دیر سے بس اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ وہ لاکٹ بھی پہنو ‘‘ بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ فکر مت کرو ۔۔ ہماری شادی کا پہلا تحفہ پہننا کیسے بھول سکتی ہوں میں ‘‘ امل اس کی جانب پلٹی تھی ۔۔ اور ماسٹر کی نظر اسکے گلے میں پہنے لاکٹ پر گئ تھی ۔۔
’’ اور تمہیں نہیں لگتا ہے تممہیں شادی کے بعد کی بھی ۔۔ کچھ خاص رسموں پر غور کرنا چاہئے ‘‘ پرشوق نگاہوں پر معنی خیز مسکراہٹ لئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ کک ۔۔ کیا مطلب ؟ ‘‘ یہ پہلی بار تھا کہ امل اسکی نگاہوں سے گھبرا رہی تھی ۔۔
’’ مطلب یہ سلیپنگ بیوٹی ۔۔ ‘‘ ایک قدم اس کی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ کہ شادی کو کافی دن گزر چکے ہیں ۔۔ اب تو کھیر پکائی کی رسم ہوجانی چاہئے نا ‘‘ بالوں کی لٹ اسکے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ آفکورس ماسٹر ۔۔ شہزاد شاہ کے لئے ایک سپیشل کھیر بنانا میرے لئے سعادت ہے ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔
’’ تو پھر یہ سعادت مبارک ہو تمہیں ‘‘ اسے مبارک دے کر وہ واش روم جاچکا تھا ۔۔ جبکہ امل کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی ۔۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے ۔۔
وہ اپنے کمرے سے تیار ہوکر باہر نکلا نظر سامنے کچن میں کافی بناتی مایا پر پڑی تھی ۔۔
’’ اتنے عرصے بعد ہم دونوں ساتھ ہیں ۔۔ مجھے لگا کہ ایسا پھر کبھی نہیں ہوگا ‘‘ اسکے ہاتھ سے کافی لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ میں اسے چھوڑ کر تمہارے پاس آؤنگی ‘‘ اس کے لہجے میں اداسی واضح تھی۔۔
’’ اگر تم چاہو تو واپس جاسکتی ہو مایا ۔۔ میرے راستے بہت الگ ہیں ۔۔ میں اپنے ساتھ ساتھ تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔۔ ‘‘
’’ میرے راستے بھی اب کچھ الگ نہیں ہیں فرہاد ۔۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔۔ اب میں مزید تمہیں اکیلا نہیں چھوڑونگی ۔ مگر ۔۔ ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔
’’ مگر ؟ ‘‘
’’ مگر میں تمہیں کوئی انفارمیشن نہیں دونگی فرہاد ۔۔ اور نا ہی میں تمہارے راستے میں رکاوٹ بنونگی ‘‘
’’ تم میرے لئے بہت خاص ہو مایا ۔۔ یاد رکھنا ۔۔ میں کبھی تمہیں ان راستوں میں نہیں آنے دونگا جہاں میں خود چل پڑا ہوں ۔۔ اور نہ ہی میں تمہیں استعمال کرونگا ‘‘ مسکرا کر کہتے اس نے کافی کا کپ شیلف پر رکھا تھا ۔۔
’’ کہیں جارہے ہو ؟ ‘‘
’’ ہاں ۔۔شہزاد شاہ سے ملنے ‘‘ وہ کہہ کر دروازے کی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ حویلی ؟ ‘‘ وہ اچانک گھبرائی تھی ۔۔
’’ نہیں ۔۔۔ حویلی جانے کا ابھی وقت نہیں آیا ‘‘ وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا جبکہ مایا نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔وہ ماسٹر اور فرہاد کے سامنے سے ڈر رہی تھی ۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی ۔۔ کہ اسے امل اور فرہاد کے سامنے سے بھی ڈرنا چاہئے ۔۔
’’ آگیا وہ ‘‘ واجد کی آواز نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے مصطفی کو نیند سے جگایا تھا ۔۔
فرہاد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر آگےبڑھا تھا ۔۔۔
’’ چلو اترو جلدی ۔۔ ‘‘ مصطفی کے کاندھے پر مکا مارتے ہوئے واجد نے کہا تھا ۔۔
’’ جارہا ہوں بھئ ‘‘ وہ جلدی سے گاڑی سے اترا اور واجد فوراً ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے گاڑی آگے بڑھا گیا تھا ۔۔
’’ کتنا جلد باز انسان ہے یہ ‘‘ گاڑی کو دور جاتے دیکھ کر اس نے کہا تھا ۔۔
’’ چلو مصطفی ۔۔ تم بھی کام پر لگ جاؤ ‘‘ خود سے کہہ کر وہ بلڈنگ کے اندر آکر سامنے ریسیپشن کی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ ایکسکیوزمی ‘‘
’’ یس ‘‘ کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ہاتھ چلاتے ریسیپشنسٹ نے مصطفی کی جانب سرسری نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’ یہاں مسٹر فرہاد نامی شخص رہتے ہیں ۔۔ مجھے انکی ڈیڈیلز چاہئے ۔۔ کونسا اپارٹمنٹ ہے اور اسکے پیپرز میں موجود ساری انفارمیشن ‘‘
’’ سوری سر ۔۔ بٹ ہم کسی کی بھی پرسنل ڈیٹیلز نہیں دیتے ‘‘ اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔
’’ اوک ۔۔۔ تو ‘‘ مصطفی اسکی جانب جھکا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ ایک کارڈ چپکے سے جیب سے نکال کر اس شخص کو دکھایا تھا۔۔
’’ اب بھی نہیں دو گے ؟ ‘‘ کارڈ پر نظر پڑھتے ہی وہ شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ ارے سر ۔۔ ضرور ۔۔ آپ بتائیں کیا جاننا چاہتے ہیں آپ ‘‘ اور مصطفی کے ہونٹوں پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
واہ مصطفی ۔۔۔ کیا بات ہے تمہاری ۔۔ خود کو داد دیتا وہ اب اس شخص سے کچھ کہہ رہا تھا ۔۔
اس نے گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے روکی تھی ۔۔
’’ پتہ نہیں اچانک کیوں بلوایا ہے مجھے ‘‘ موبائل پر ایک نمبر ڈائل کرتے ہوئے وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔
’’ روم نمبر کونسا ہے ؟ ‘‘ کان سے موبائل لگائے ہوئے پوچھا تھا ۔
’’ اوک ۔۔ میں آرہا ہوں ‘‘ کہہ کر کال کٹ کرتے ہوئے وہ ہوٹل کی جانب بڑھا تھا کہ اچانک ۔۔ ایک بھاگتا ہوا لڑکا اس سے آکر ٹکرایا تھا ۔۔
’’ اندھے ہو کیا ؟ ‘‘ اسکا موبائل نیچے گر چکا تھا ۔۔
’’ اوہ ۔۔ آئی ایم رئیلی سوری ۔۔ سوری ‘‘ گھبراتے ہوئے اس لڑکے نے موبائل اٹھا کر فرہاد کو دیا تھا ۔۔
’’ آنکھیں کھول کر چلا کرو ‘‘ غصے سے اسے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔۔
’’ انکھیں تو اب تمہاری کھلیں گی ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ لئے وہ لڑکا بھی آگے بڑھ چکا تھا ۔۔
اس نے دروازہ ناک کیا ۔۔ جوکہ فوراً ہی ایک شخص نے کھولا ۔۔ وہ اندر آیا تو نظر بیڈ پر بیٹھے شہزاد شاہ پر پڑی تھی ۔۔
’’ تم باہر جاؤ ‘‘ شہزاد شاہ کے کہنے پر دروازہ کھولنے والا شخص کمرے سے باہر جاچکا تھا جبکہ فرہاد صوفے پر آکر بیٹھا ۔۔
’’ اس طرح اچانک بلایا آپ نے۔۔ سب ٹھیک ہے ؟ ‘‘
’’ جب تک وہ بے باک لڑکی میرے گھر میں ہے فرہاد ۔۔ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا ‘‘
’’ آپ فکر مت کریں ۔۔ ہم نے جیسا سوچا تھا بلکل ویسا ہی ہوگا ‘‘
’’ نہیں ۔۔۔ ہم نے جیسا سوچا تھا ۔۔ اب اس کا الٹ ہوگا ‘‘
’’ کیا مطلب ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی بات پر وہ کچھ کنفیوز ہوا تھا ۔۔
’’ مطلب یہ کہ ۔۔ میں سمجھتا تھا کہ میرا بیٹا ایک سیدھی سادھی لڑکی کو ہمارے بہو بنا کر لایا ہوگا ۔۔ اس لئے ہمارے لئے اس سے جان چھڑوانا آسان ہوگا ۔۔ مگر ۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ وہ لڑکی بہت بے باک ۔۔اور بد تمیز ہے ۔۔ اسے قابو کرنا اتنا آسان نہیں ہے فرہاد ‘‘
’’ تو پھر ؟ ‘‘
’’ اس لڑکی کے ساتھ میرا اپنا بیٹا ہے ۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دو ٹکے کی لڑکی کے لئے وہ میرےسامنے کھڑا ہوجائے گا ۔۔ ناجانے اس لڑکی نے ایسا کیا کردیا ہے ۔۔ کہ نائل جیسا شخص اسکی ڈھال بن چکا ہے ‘‘ شہزاد شاہ کی پریشانی انکے چہرے پر واضح تھی ۔۔
’’ تو اب ۔۔ ہمیں کیا کرنا ہے ؟ ‘‘
’’ ہمیں اس ڈھال کو توڑنا ہے فرہاد ۔۔ نائل شاہ کے بغیر وہ کچھ نہیں رہے گی ۔۔ ‘‘
’’ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ اس سے شادی کر چکے ہیں اور محبت کرتے ہیں اس سے ‘‘ فرہاد آج سمجھ نہیں پارہا تھا کہ سامنے بیٹھے اس شخص کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔۔
’’ تو ختم کردیتے ہیں اس محبت کو ۔۔ نہ محبت رہے گی ۔۔ نہ ڈھال ۔۔ ‘‘
’’ محبت کیسے ختم ہوسکتی ہے باس ؟ ‘‘ فرہاد حیران ہوا تھا ۔۔
’’ شک کا دیمک ۔۔ محبت کو کھا جاتا ہے ۔۔ جن محبتوں سے اعتبار اٹھ جائے ۔۔ وہ فنا ہوجاتے ہیں ‘‘ شہزاد شاہ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اور یہ ہم کیسے کریں گے ؟ ‘‘ سوال ہوا تھا ۔۔
’’ ہم نہیں ۔۔ تم ۔۔ یہ تم کروگے ۔۔ ‘‘ جواب حیران کن تھا ۔۔
’’ میں ؟؟ ‘‘
’’ ہاں تم ۔۔ تم اس محبت کے دیمک بنوگے ‘‘ اور شہزاد شاہ کے ان الفاظ نے اسے سب سمجھا دیا تھا ۔۔۔
