Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 15)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

اسے یہاں بیٹھے تقریباً دو گھنٹے ہوچکے تھے ۔۔ اور امل اب تک واپس نہیں آئی تھی ۔۔ جانے وہ کیا بن کر باہر آنے والی تھی؟ اس نے پرسنلی بیوٹیشن اور ڈیزائینرز کو کہا تھا کہ وہ اسے بلکل بدل دیں ۔۔ مگر اب وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بدلاؤ کیسا ہوگا ؟ امل کو دیکھنے کی بے چینی بڑھ رہی تھی ۔۔ اور اب تو دو گھنٹے بھی گزرنے والے ہیں ۔۔

’’ بس ۔۔ اب اور نہیں ‘‘ کہتے ہوئے وہ گاڑی باہر نکلا تھا ۔۔ ابھی اس نے تین قدم ہی اٹھائے تھے کہ اسے رکنا پڑا تھا ۔۔ اور صرف وہ خود ہی نہیں ۔۔ اسے لگا ۔۔ جیسے اسکی سانسیں بھی سامنے کا منظر دیکھ کر رک گئ ہوں ۔۔ اسے لگا کہ جیسے آس پاس سب کچھ غائب ہوگیا ہوں ۔۔ اور بس ۔۔ اس جگہ ۔۔ ایک وہ تھا ۔۔ بت سا بنا ۔۔ اور ایک ۔۔ وہ لڑکی ۔۔ جو اس گلاس وال سے باہر آئی تھی ۔۔اور اب وہ اسکی جانب آرہی تھی ۔۔ اس نے اپنی رکی ہوئی سانسوں کے ساتھ ۔۔ اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا ۔۔

بلو کلر کی جینس ، وائیٹ ٹی شرٹ اس کے اوپر بے بی پنک کلر کا کوٹ جس کی لمبائی گھٹنوں سے تھوڑا اوپر اور فرنٹ سے کھلا ہوا ، سٹریٹ کئے ہوئے ڈارک براؤن بال جو دونوں بازؤں پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔ بے بی پنک کلر کا لپ گلوز اور اپنے نیچرل میک اپ پر آنکھوں میں بلیک گلاسس لگائے ، کانوں میں چمکتے ہوئے نگینے ، گلے میں ایک نازک سا لاکٹ جس میں اسی سٹائیل کا نگینہ لٹک رہا تھا ، بائے ہاتھ میں نازک سا بریسلٹ پہنے ، وہ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لئے اسکی جانب آرہی تھی ۔۔ اور اف ۔۔۔۔ اسے لگا جیسے زندگی اسکی جانب آرئی ہو ۔۔ آہستہ آہستہ مسکراتی ہوئی ۔۔ اس کی زندگی ۔۔

وہ ٹھیک اس کے سامنے آکر رکی تھی ۔۔ ماسٹر کی نظریں اس کے چہرے پر ٹکی تھیں ۔۔ وہ پلکیں تک جھپکانا بھول چکا تھا۔۔ جبکہ امل ۔۔ بلیک گلاسس کے پیچھے چھپی اپنی ان آنکھوں سے اس کے ساکت چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ امل کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔

اس نے ہاتھ اٹھا کر اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی تھی ۔۔ اور ماسٹر جیسے کسی نیند سے جاگا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ماسٹر ۔۔ کبھی کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی کیا ؟ ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔

’’ تمہاری زبان چلنے سے پہلے میں بھی یہی سمھجتا تھا ۔۔ ‘‘ کہتے ہوئے اس نے گاڑی کا دروازہ اس کے لئے کھولا تھا ۔۔

’’ اوہ تو ا س لئے تم اپنے ہوش ہی کھو بیٹھے تھے ‘‘ امل نے بھی کہاں موقع اپنے ہاتھ سے جانے دینا تھا ۔۔

’’ غلط فہمی ہے تمہاری ‘‘ کہتے ہوئے وہ اب ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا تھا ۔۔ اسے خود کی حالت پر یقین نہیں آرہا تھا ۔۔ کیسے وہ اسے دیکھ کر رک سا گیا تھا ۔۔ کیسے اس کا دل ایک پل کے لئے تھم سا گیا تھا ۔۔ مگر ہائے امل کی زبان ۔۔ کاش وہ گونگی ہوتی تو شاید وہ اب تک اسے ایسے ہی دیکھتا رہتا ۔۔۔ کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر ۔۔۔

اس نے خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔ وہ کن انکھیوں امل کے مسکراتے ہونٹوں کو دیکھ سکتا تھا ۔۔ یقیناً وہ اسکی حالت انجوائے کر رہی تھی ۔۔ اور ماسٹر اسے مزید کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا اس لئے وہ خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا رہا تھا ۔۔ وہ اب حویلی کے بہت قریب تھے ۔۔۔



وہ اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کو غصے سے گھور رہی تھی ۔۔ اسے مصطفی نے جو کچھ بتایا تھا ۔۔ اس کے بعد تو اسے اس شخص کی شکل بھی نہیں دیکھنی چاہئے تھی مگر وہ اب یہاں اس ریسٹورانٹ میں اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔ جانے کیوں؟

’’ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اس حد تک جاسکتے ہو ۔۔ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ڈیم اٹ ‘‘ میز پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے اس نے کہاتھا۔۔

’’ میں مجبور تھا ‘‘ جھکے ہوئے سر کے ساتھ فرہاد نے کہا تھا ۔۔

’’ مجبور تھے ؟؟ بلکل ویسی ہی مجبوری فرہاد جس میں تم نے اس لوگوں کو زندہ جلا ڈالا تھا ۔۔ وہی مجبوری ۔۔ جس میں تم نےمجھے چھوڑ دیا ۔۔ وہی مجبوری ۔۔ جس کا نام شہزاد شاہ ہے ؟ ‘‘ اس کی جانب جھکتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اگر وہ لڑکی زندہ رہی تو شہزاد شاہ مجھے مار دیگا مایا ۔۔ کیا تم مجھے مرتا دیکھنا چاہتی ہو ؟ ‘‘ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئےفرہاد نے پوچھا تھا ۔۔ جس پر مایا کچھ پل کے لئے رک گئ تھی ۔۔

’’ کیا وہ اسے مرتا دیکھ سکتی تھی ؟ ‘‘ اس نے خود سے پوچھا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ مگر میں تمہیں کسی کو مارتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔ میں اس لڑکی کو بھی مرنے نہیں دے سکتی فرہاد ۔۔۔ ماضی کا کیا گیا گناہ دوبارہ مت دہراؤ ۔۔‘‘ وہ اب اسے نرمی سے سمجھارہی تھی ۔۔

’’ کیا میں اسے مارنا چاہتا تھا ؟؟ وہ کتنے عرصے سے تمہارے پاس تھی مایا ۔۔ میں جانتا تھا مگر پھر بھی میں نے کبھی اسے مارنے کی کوشش نہیں کی ۔۔ مگر یہ سب کرنے پر بھی اس نے ۔۔ اور تم نے مجھے مجبور کیا مایا ۔۔۔ ‘‘ اب غصہ کرنے کی باری اسکی تھی ۔۔ جبکہ مایا چونکی تھی ۔۔

’’ میں نے ؟؟ کیا مطلب ہے تماری اس بات کا ؟ ‘‘

’’ وہ لڑکی نائل شاہ سے ملی ہوئی ہے ۔۔ تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات کیسے چھپائی مایا ؟ اگر تم مجھے پہلے یہ بتا دیتی ۔۔ جو شاید میں کچھ کرسکتا تھا ۔۔ مگر اب میں کیا کروں ۔۔ شہزاد شاہ اب پہلے سےزیادہ خطرناک ہوچکا ہے ‘‘

اور اسکا ایک ایک لفظ مایا کو حیرت کی انتہاؤں پر لے گیا تھا ۔۔۔

’’ تم۔۔۔ تمہیں کیسے بتا چلا ؟ ‘‘

’’ شہزاد شاہ نے بلا کر بتایا مجھے ۔۔ اب سمجھ آرہی ہے تمہیں کہ میں اتنا مجبور کیوں ہوں ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ مگر ۔۔ اسے یہ سب کیسے معلوم ہوا ؟ یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ‘‘ مایا کو اب بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔

’’ اوہ ۔۔ ‘‘ ایک مسکراہٹ فرہاد کے ہونٹوں پربکھری تھی ۔۔

’’ تو اسکا مطلب تم جس لڑکی کو بچانے کے لئے میرے خلاف چلی گئ ۔۔ وہ تم سے سب چھپا کر رکھتی ہے ۔۔ تم سے چھپ کر وہ اتنے بڑے بڑے کام کررہی ہے ۔۔ اور تم ہو اتنی انجان ۔۔ تمہیں تو تمہارے اس دوست نے بھی کچھ نہیں بتایا ہوگا نہ ‘‘ وہ اب اسے چوٹ دے رہا تھا ۔۔ اور مایا کو چوٹ لگ بھی رہی تھی ۔

’’ مجھے صاف صاف بتاؤ ۔۔ شہزاد شاہ کو کیسے معلوم ہوا یہ سب ؟ ‘‘ وہ اب جلدازجلد سب جاننا چاہتی تھی ۔۔

’’ نائل شاہ نے اسے سب بتادیا ۔۔ اس نے بتایا کہ وہ لڑکی اسے مل چکی ہے ۔۔ اور وہ جلد اسے وہاں لے جانے والا بھی ہے ۔۔ کیا تمہیں اس بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم مایا ؟ اتنی انجان کیسے ہو تم ؟ ‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔ اور مایا کو لگا ۔ جیسے کسی نے اسے نیند سے جگا دیا ہو ۔۔

یہ سب کیسے ہوسکتا تھا ؟ مصطفی کیسے اس سے اتنا کچھ چھپا سکتا تھا ؟ اور ایسی کون سی باتیں تھیں جو اب تک اس سے چھپی ہوئی ہیں ؟ تو کیا اسی لئے انہوں نے اسے الگ کیا ؟ کیا اسی لئے امل اور مصطفی کو الگ جگہ شفٹ کردیا گیا ؟ تو اب ان لوگوں کو اسکی ضرورت نہیں رہی تھی ۔۔ اس لئے وہ اسے الگ کر رہے تھے ۔۔ یا شاید وہ الگ کر چکے ہیں ۔۔

غصے کی ایک لہر اس کے جسم پر دوڑی تھی ۔۔ وہ فوراً سے اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے باہر نکلی تھی ۔۔

اسے سب معلوم کرنا تھا ۔۔ اسے اپنے ہر سوال کا جواب چاہئے تھا ۔۔



اس نے گاڑی حویلی کے سامنے روکی تھی ۔۔ امل نے دیکھا ۔۔ وہ ایک شاندار حویلی تھی جس کے چاروں اطراف میں کیمرے اور گارڈز موجود تھے ۔۔۔ سیکیورٹی سسٹم بہت اچھا تھا ۔۔

’’ کیا تم تیار ہو ؟‘‘ ماسٹر نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہمم ۔۔ چلو ‘‘ گہری سانس لی تھی ۔۔ ماسٹر نے گاڑی آگے بڑھائی تھی ۔۔ گیٹ پر موجود گارڈز نے اسکی گاڑی آتی دیکھ کر فوراً مین گیٹ کھولا تھا ۔۔۔ گاڑی اندر لاکر اس نے حویلی کے داخلی دروازے کے سامنے روکی تھی ۔۔

’’ چلو ‘‘ کہہ کر وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا اور دوسری جانب امل ۔۔۔

اس نے دیکھا دائیں جانب ایک خوبصورت لان تھا ۔۔ جس کے اطراف میں مختلف قسم کے پودے اور درخت تھے ۔۔

’’ لان خوبصورت ہے ‘‘ اس نے تعریف کی تھی جس پر ماسٹر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ ماما کو پھول اور پودے بہت پسند ہیں ۔۔ وہی انکا خیال رکھتی ہیں ‘‘ امل نے دیکھا اس کے چہرے اور آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی ۔۔ ماں کی محبت کی چمک ۔۔ ایسی چمک کبھی اپنے بابا کے ذکر پر نہیں دیکھی تھی اس نے ۔۔

’’ چلو ‘‘ وہ دونوں ساتھ ہی دروازے کی جانب بڑھے تھے ۔۔ انہیں آتا دیکھ کر ایک گارڈ نے فوراً دروازہ کھول تھا ۔۔ جبکہ دوسرا گارڈ امل کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔ ماسٹر کو اس کا امل کو اس طرح دیکھنا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔۔ فوراً امل کا ہاتھ تھام کر وہ اندر آیا تھا ۔۔ جبکہ امل اسکے ہاتھ تھامنے پر حیران رہ گئ تھی ۔۔

’’ ہاتھ چھوڑو میرا ‘‘ اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا ۔۔

اس سے پہلے کے ماسٹر اسے کوئی جواب دیتا ٹی وی لاؤنچ میں اسے سادیہ بیگم نظر آئیں تھیں ۔۔

’’ ماما ‘‘ اس نے انہیں آواز دے کر اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔ وہ اسے اچانک دیکھ کر حیران ہوئی تھیں ۔۔

’’ نائل ۔۔۔ تم ؟ ‘‘ خوشی سے اسکا نام لیتی ہوئی انہوں نے اسے گلے لگایا تھا ۔۔

’’ کیسی ہیں آپ ؟ ‘‘

’’ تمہیں دیکھ کر بہت اچھی ہوگئ ہوں ‘‘ اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا تھا ۔۔

نائل سے الگ ہوتے ہی انکی نظر پیچھے کھڑی اس لڑکی پر پڑی تھی ۔۔ جو دونوں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ یہ لڑکی کون ہے ؟ ‘‘ سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ اس سے ملیں ۔۔ یہ امل ہے ۔۔ امل ۔۔ یہ میری ماما ‘‘ اس نے دونوں کا تعارف کروایا تھا ۔۔

’’ اسلام و علیکم آنٹی ‘‘

’’ وعلیکم اسلام ‘‘ مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔

’’ باقی سب کہاں ہیں ؟ ‘‘ نائل نے پوچھا تھا ۔۔

’’ اپنے کمروں میں ہیں ۔۔ جاکر اپنے باباسے بھی ملاقات کرلو ‘‘

’’ میں اپنے کمرے میں آرام کرونگا ۔۔ باقی سب سے ڈنر پر ملاقات ہوگی ۔۔ میری آپ سے ایک ریکیوسٹ ہے ماما ‘‘ انکا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کہو ‘‘

’’ ڈنر سے پہلے میں نہیں چاہتا کہ کسی کو بھی ہمارے یہاں آنے کا معلوم ہو ۔۔ خاص طور پر امل کا ‘‘

’’ ٹھیک ہے ۔۔ تم فکر مت کرو ۔۔ جاؤ ۔۔ جاکر آرام کرو ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔ ماسٹر نے ایک نظر امل کی جانب دیکھا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا تھا ۔۔

’’ چلو آؤ ۔۔ تمہیں گیسٹ روم دکھاتی ہوں ۔۔ تم بھی آرام کر لو ‘‘ وہ اب امل کر گیسٹ روم کی جانب لے کر گئ تھیں ۔۔ اور امل نے شکر کیا تھا کہ انہوں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا ۔۔



مسلسل بجنے والی ڈور بیل پر اس نے غصے سے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا تھا ۔۔

’’ کیا مصیبت ہے یار ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا ۔۔ سامنے ہی مایا غصے سے تپتپاتا چہرہ لئے کھڑی ہوئی تھی۔۔

’’ حد ہوگئ مایا ۔۔ بندہ تھوڑا انتظار ہی کرلیتا ہے ‘‘ کہتے ہوئے وہ لاؤنچ کے صوفے پر آکر بیٹھا تھا ۔۔

’’ امل کہاں ہے ؟ ‘‘ مایا نے پہلا سوال کیا تھا ۔۔

’’ ماسٹر کے ساتھ ہے وہ ۔۔ اور یہ تم اتنے غصے میں کیوں ہو ؟ ‘‘ مصطفی کو اسکا انداز سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔

’’ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرہاد میرے گھر امل کو مارنے آنے والا ہے ؟ ‘‘ دوسرا سوال ہوا تھا ۔۔

’’ تم میرے ٹیلینٹ سے ناواقف تو نہیں ہو مایا ؟ ‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔

’’ مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا ۔۔ لیکن یہ سب میری غلط فہمی نکلی ‘‘

’’ کیا کہنا چاہتی ہو تم ۔۔ صاف صاف کہو ‘‘ وہ اب اسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔

’’ تم نے مجھ سے یہ سب کیوں چھپایا مصطفی ؟ ‘‘ سوال ہوا تھا ۔۔

’’ کیا چھپایا ہے میں نے تم سے ؟ ‘‘

’’ یہ تو تم مجھے بتاؤگے ۔۔ کہ کیا کیا چھپایا ہے تم نے مجھ سے ‘‘ وہ ایک قدم آگے بڑھی تھی ۔۔

’’ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ تم کیا بات کر رہی ہو ‘‘ وہ اب بھی انجان بنا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ میں سمجھا دیتی ہو تمہیں ۔۔ ماسٹر نے شہزاد شاہ کو امل کے بارے میں سب بتا دیا ۔۔ پھر انہوں نے ہمارے اپارٹمنٹس الگ کئے ۔۔ اور پھر فرہاد کو اس دن پکڑنے کے بجائے چھوڑ دیا گیا ۔۔ یہ سب کیا ہورہا ہے مصطفی ؟ آخر مجھے یہ سب کیوں نہیں معلوم ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے وہ سوال کر رہی تھی ۔ مگر مصطفی کے تعصورات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ۔۔ شاید وہ ان سب کے لئے پہلے سے ہی تیار تھا ۔۔

’’ تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا مایا ؟ ‘‘ اور مصطفی کے سوال پر مایا کے چہرے کا رنگ بدلا تھا ۔۔

’’ چپ کیوں ہوگئ ؟ بتاؤ مجھے ۔۔ جب میں نے تمہیں کچھ نہیں بتایا ۔ تو تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا ؟ ‘’ مصطفی نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔ جبکہ مایا اب اسکا جواب دینے کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی ۔۔

’’ تم بھول رہے ہو کہ میں تم لوگوں جیسی ہی ہوں مصطفی ۔۔ میرے اندر بھی کچھ خصوصیات ہیں جن سے تم ناواقف ہو۔۔ اور اب ‘‘ وہ ایک قدم اور آگے بڑھی تھی ۔۔۔ ’’ میری بات کو گمانے کے بجائے ۔۔ مجھے سچ بتاؤ ‘‘

’’ سچ تم جانتی ہو ۔۔ ہم ماسٹر کے لئے کام کرتے ہیں ۔۔ اور وہ کچھ بھی ہمیں بتا کر نہیں کرتے ۔۔ اور اگر بتا بھی دیں ۔۔ تو انکی اجازت کے بغیر ایک لفظ بھی ہم اپنے منہ سے نہیں نکال سکتے ۔۔ اور تم یہ بہت اچھی طرح جانتی ہو مایا ‘‘ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا ۔۔ اور مایا اس کے ایک ایک لفظ کا مطلب سمجھ رہی تھی ۔۔

’’ کاش کہ اب میں تمہاری کسی بات پر یقین کرسکتی مصطفی ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے جاچکی تھی ۔۔ جبکہ مصطفی نے ایک گہری سانس لے کر اپنا موبائل اٹھایا ۔۔ اور ایک مسیج ٹائپ کر کے کسی کو سینڈ کیا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ ایک مسکراہٹ اسے ہونٹوں پر بکھری تھی ۔۔



وہ سب ڈائیننگ ٹیبل کر خاموشی سے بیٹھے تھے ۔۔ ملازمہ کھانا لگانے میں مصروف تھیں جبکہ سادیہ بیگم انہیں ہدایات دے رہی تھیں ۔۔

’’ خیریت ہے تائی ۔۔ آج کھانے میں اتنا سب بنایا ہے ‘‘ زویا نے میز پر نظر گماتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اور سب ہے بھی نائل کی پسند کا ‘‘ جمشید صاحب نے کہا تھا۔۔

’’ کیا نائل آیا ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ نے سوال کیا تھا ۔۔ جس پر وہ مسکرائی تھیں ۔۔

’’ جی ۔۔ بس آنے ہی والا ہوگا ۔۔ لو آگیا ‘‘ سامنے آتے نائل شاہ کی جانب اشارہ کیاتھا ۔۔ میز پر موجود تمام لوگ اسے آتا دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے ۔۔

’’ آگیا میرا شیر ‘‘ شہزاد شاہ نے پر جوش انداز میں نائل کو گلے لگایا تھا ۔۔

’’ مجھے آنا ہی تھا بابا‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے وہ ان سے الگ ہوا تھا ۔۔

’’ کیسے ہیں چچا آپ ؟ ‘‘ اب وہ جمشید شاہ کی جانب بڑھا تھا ۔۔

’‘ بلکل ٹھیک میرے بیٹے ۔۔ تم کیسے ہو ؟ ‘‘ اس کا کاندھا تھپتھپایا تھا ۔۔

’’ اچھا ہوں چچا ‘‘ ان سے الگ ہوتے ہی اسکی نظر پیچھے کھڑی زویا پر پڑی تھی ۔۔ جو اسے دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔

’’ ہیلو ایوری ون‘‘ ایک آواز نے ان سب کو چونکایا تھا ۔۔ سب نے ایک ساتھ ہی اس نائل کے پیچھے دیکھا تھا ۔۔ جہاں سے ایک نسوانی اور بے باک آواز آئی تھی ۔۔ اور ان سب کو چونکنا پڑا تھا ۔۔ یہ لڑکی کون ہے ؟

’’ سوری ۔۔ میں لیٹ ہوگئ ۔۔ ہاؤ آر یو آل بڈی ؟ ‘‘ نزاکت سے اپنے کاندھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

’’ یہ لڑکی کون ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی سنجیدہ آواز آئی تھی ۔ یقیناً انہیں یہ بے باک لڑکی پہلی ہی نظر میں بری لگی تھی ۔۔

’’ اوہ نائل ۔۔ تم نے میرا انٹروڈکشن نہیں کروانا کیا ؟ ‘‘ چمکتی آنکھوں اور گہری مسکراہٹ اسکی جانب پھینکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ واہ امل واہ ۔۔ مان گئے تمہیں ‘‘ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نائل نے اسکی تعریف کی تھی ۔۔ جسے وہ سمجھ چکی تھی ۔۔ مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔

’’ سوری ۔۔ یہ میری پارٹنر ہیں امل ۔۔ اور امل ۔۔ یہ میرے بابا ہیں ۔۔ میرے چچا ، میری کزن زویا اور میری ماما ‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کا تعارف کروایا تھا ۔۔ اور امل کی نظر اپنے سامنے کھڑے اس باروب انسان پر پڑی تھی ۔۔ وائیٹ شلورا قمیض کے اوپر بلیک واسکٹ پہنے ، بائیں ہاتھ میں قیمتی کھڑی ، کھنی مونچھیں ، آنکھوں میں غصے کی جھلک اور ماتھے پر بل لئے وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔ ناپسندیدگی سے ۔۔ اور امل ۔۔ وہ کیا دیکھ رہی تھی ۔۔

ایک بار پھر اس رات کی جھلک اسکے دماغ میں روشن ہوئی تھی ۔۔ وہ گھر ۔۔ وہ آگ ۔۔ اور آگ میں جلتے ۔۔ اس نے ماں باپ ۔۔۔

’’ ہیلو ‘‘ اس نے مسکرا کر سب سے کہا تھا ۔۔ کیا کمال اداکار تھی وہ ۔۔ اب نظر سب پر گماتے ہوئے زویا کے چہرے پر رکی تھی جو اسے تقریباً کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ امل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔ تو یہاں ایک رائیول بھی ہے ۔۔ واؤ

’’ آؤ بیٹا بیٹھو یہاں ۔۔ ‘‘ سادیہ بیگم نے ایک کرسی کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ اور اب وہ سب اپنی اپنی جگہوں پر واپس بیٹھے تھے ۔۔ سب سے پہلے شہزاد شاہ اپنے مکمل سنجیدہ انداز میں ، ان کے دائیں جانب سادیہ بیگم اور انکے ساتھ زویا ۔۔ جبکہ بائیں جانب آؤ نائل شاہ بیٹھا تھا اور اس ساتھ امل جبکہ جمشید صاحب اب زویا کے ساتھ جاکر بیٹھے تھے ۔۔

امل نے نائل کی پلیٹ میں بریانی ڈالنا شروع کی تھی ۔۔ اور میز پر بیٹھے ہر شخص نے حیرانگی سے اسکی اس حرکت کو دیکھا تھا ۔۔ یہاں تک کہ نائل شاہ خود بھی کچھ دیر کے لئے حیران ہوا تھا ۔ مگر امل کے ہونٹوں کی مسکراہٹ نے اسے سب سمجھا بھی دیا تھا ۔۔ اب امل نے اسکی پلیٹ میں دو کباب رکھے تھے ۔۔

’’ بیٹا ۔۔ تم بھی کچھ لو نا ؟ ‘‘ سادیہ بیگم نے اس خاموشی کو توڑا تھا ۔ شہزاد شاہ کے غصے سے تپتے ہوئے چہرے کو وہ دیکھ چکی تھیں ۔۔

’’ ضرور آنٹی ۔۔ ایکچولی جب تک نائل کچھ نہ کھا لیں ۔۔ مجھ سے بھی کچھ کھایا نہیں جاتا ۔۔ عادت ہوگئ ہے نہ ‘‘ ہلکا سا ہنستے ہوئے اس نے اک ادا سے کہتے ہوئے نائل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جسے آج وہ حیرانگی کی انتہاہ پر لے گئ تھی ۔۔

’’ یہ لڑکی ۔۔۔ ‘‘ شہزاد شاہ کی سنجیدہ آواز نے دونوں کو انکی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔

’’ کب سے ہے تمہارے ساتھ ؟ ‘‘

’’ کچھ مہینوں سے ‘‘ مختصر جواب دے کر نائل اپنی پلیٹ کی جانب متوجہ ہوچکا تھا جبکہ امل اب اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگی تھی ۔۔

’’ ویسے سب ٹھیک تو ہے بیٹا ؟ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تم کسی کو اپنے ساتھ گھر لائے ہو ۔۔ ‘‘سوال جمشید صاحب کی جانب سے ہوا تھا ۔

’’ کیونکہ اس سے پہلے ضرورت ہی نہیں پڑی ‘‘ ایک اور مختصر جواب دیا تھا۔۔

’’ اور اب ایسی کیا ضرورت پڑ گئ ہے ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا ۔۔

’’ جلد معلوم ہوجائے گا آپکو یہ ۔۔۔ پہلے کھانا کھا لیں ؟ ‘‘ سنجیدگی سے دیئے گئے نائل کے اس جواب نے شہزاد شاہ کو حیران کیا تھا ۔۔ یہ انداز ۔۔ یہ کچھ نیا تھا ۔۔

’’ ضرور ‘‘ کہتے ہوئے شہزاد شاہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔ انہیں اب کھانا ختم ہونے کا انتظار تھا۔۔

کھانے کے بعد چائے کا دور چلا تھا ۔۔ وہ سب اس وقت لاؤنچ میں بیٹھے تھے ۔۔ اب بھی امل نائل کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔۔ جوکہ زویا کو بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔

’’ تو پھر بتاؤ ۔۔ آج اچانک کیسے آگئے تم ؟ ‘‘ جمشید صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا تھا ۔۔

’’ کیا مجھے اپنے گھر آنے سے پہلے اطلاع دینی ہوگی ؟ ‘‘ نائل کےجواب پر جہاں جمشید صاحب کو غصہ آیا تھا وہی زویا اور شہزاد شاہ کو بھی اسکا یہ انداز اچھا نہیں لگا تھا ۔۔

’’ نہیں ایسا تو نہیں کہا میں نے ۔۔ مگر اس طرح کسی لڑکی کے ساتھ آنا کچھ نیا نہیں ہے نائل ‘‘ انداز طنزیہ تھا ۔۔

’’ لگتا ہے میرا یہاں آنا کسی کو اچھا نہیں لگا نائل‘‘ اک ادا سے امل نے کہا تھا ۔۔

’’ کیونکہ ابھی یہ تمہیں جانتے نہیں ہیں سلیپنگ بیوٹی ‘‘ اور نائل کے ان الفاظ اور انداز نے وہاں بیٹھے ہر انسان کے سر پر دھماکہ کیا تھا ۔۔

’’ یہ کیا کہہ رہے ہو نائل ؟ ‘‘ شہزاد شاہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور ان کے ساتھ ہر شخص کھڑا ہوچکا تھا ۔۔ سوائے ۔۔ نائل اور امل کے ۔۔

’’ ابھی تو میں نے کچھ کہا ہی نہیں ہے بابا ۔۔ آپ پلیز بیٹھ کر میری بات سن لیں ‘‘ وہ فوراً ہی ایک فرمانبردار بیٹا بنا تھا۔۔

’’ واہ ۔۔ کیا یو ٹرن لیا ہے ‘‘ اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسکے کانوں میں سرگوشی کی تھی ۔۔جبکہ نائل نے بس اسے ایک گھوری سے نوازا تھا ۔۔

’’ ہمیں صاف صاف بتاؤ نائل ۔۔ کون ہے یہ لڑکی اور یہاں کیوں ہے ؟ ‘‘ اب سوال شہزاد شاہ کی جانب سے ہوا تھا۔۔

’’ میں نے آپکی بات کے بارے میں بہت سوچا ۔۔ ‘‘ نائل نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔ امل نے ساتھ ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔

’’ کونسی بات ؟ ‘‘

’’ شادی ‘‘ اور نائل کے اس جواب پر زویا کے چہرے پر آئی رونق امل کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی ۔۔

’’ بیچاری ‘‘ اس نے دل نے زویا سے ہمدردی کی تھی۔۔

’’ تو یعنی تم شادی کرنے کے لئے راضی ہو ‘‘ شہزاد شاہ کی آواز میں ایک امید تھی ۔۔

’’ شادی پر تو مجھے کبھی بھی اعتراض نہیں تھا بابا ۔۔ اسی لئے تو میں امل کو لے کر آیا ہوں ‘‘ ایک بار پھر سب کے چہروں پر کنفیوزن آئی تھی ۔

’’ کیا مطلب ہے تمہارا ؟ ‘‘

’’ مطلب یہ کہ ‘‘ اس نے امل کا ہاتھ تھاما ۔۔ جسے وہاں کھڑے ہر شخص نے حیرانگی سےدیکھا تھا ۔۔

’’ میٹ مائی وائف ۔۔۔ امل نائل شاہ ‘‘ اور بس یہ چند الفاظ ہی تھے ۔۔ جنہون نے وہاں کھڑے ہر شخص کےسر دھماکہ کیا تھا ۔۔۔

امل نے دیکھا ۔۔۔ بس کے چہروں کے بدلتے رنگ ۔۔

شہزاد شاہ کی شعلہ برساتی آنکھیں ۔۔۔ سادیہ بیگم کی حیرانگی ۔۔۔ جمشید شاہ کا غصہ ۔۔ اور زویا ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں جلن ۔۔

’’ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ؟؟؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی ایک اور گرجتی آواز آئی تھی ۔۔

’’ میں صرف حقیقت بتا رہا ہوں ۔۔ کیا کسی کو اعتراض ہے ؟ ‘‘ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ اس جیسی لڑکی کو ہمارے سامنے کھڑا کر کے تم کہتے ہو کہ کیا کسی کو اعتراض ہے ؟ ‘‘ جمشید شاہ کی جانب سے جواب آیا تھا ۔۔

’’ یہ لڑکی ہماری بہو نہیں بن سکتی ۔۔ ہم اسے کبھی بھی قبول نہیں کریں گے ‘‘ شہزاد شاہ نے کہا تھا ۔۔

’’ تو مت کریں ۔۔ یہ میری بیوی ہے ۔۔ اور میرے ساتھ ہی رہے گی ۔۔ ‘‘ اٹل لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔

’’ یہ تمہاری بیوی بن کر نہیں رہ سکتی ۔۔ تمہیں اسے طلاق دینی ہوگی ۔۔ا بھی اور اسی وقت ‘‘

’’ اور میں ایسا کیوں کرونگا ؟ ‘‘

’’ کیونکہ ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے ۔۔ اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اس خاندان اور جائیداد دونوں میں ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ‘‘ جمشید شاہ دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا ۔۔ جس پر نائل شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ اس نے اپنے ساتھ کھڑی امل کی جانب دیکھا ۔۔ وہ بھی مسکرا رہی تھی ۔۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ چلو امل ‘‘ اسکا ہاتھ تھامنا وہ باہر کی جانب بڑھا تھا جبکہ سب اسے حیرانگی سے جاتا دیکھ رہے تھے ۔۔

’’ اگر تم یہاں سے گئے ۔۔ تو واپسی کا ہر راستہ بند ہوگا ‘‘ شہزاد شاہ کی گرجتی آواز پر اس کے قدم رکے تھے ۔۔ اس نے امل کے ہاتھوں میں اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی ۔۔

’’ وقت آگیا ‘‘ اسی سوچ کے ساتھ امل نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ میرے لئے کوئی بھی راستہ کبھی بھی بند نہیں ہوگا بابا ۔۔اور نہ ہی کوئی مجھے اس خاندان اور جائیداد سے نکال سکتا ہے ۔۔ کیونکہ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ اور سب اس کے بولنے کے منتظر تھے ۔۔

’’ کیونکہ شادی میں نے خاندان ہی کی ہے۔۔ اپنے چچا کی بیٹی ۔۔۔ امل جہانگیر شاہ سے ‘‘ اور اپنے پیچھے کھڑے لوگوں ہر بجلیاں گرا کر وہ امل کا ہاتھ تھامے وہاں سے جاچکا تھا ۔۔۔

’’ تو انٹرول شروع ہوا ‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ اس شخص کے ہمراہ جو اس کا کانٹکریکٹڈ ہسبنڈ تھا کا ہاتھ تھامے وہ اس حویلی سے باہر نکلی تھی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *