Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 09)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 09)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
گاڑی مایا کے گھر کے آگے روکی گئ تھی ۔۔ ماسٹر اسے اپنے بازؤں میں اٹھائے دروازے کی جانب بڑھا تھا ۔۔ واجد نے آگے بڑھ کر بیل کی تھی ۔۔ اور اگلے ہی پل مایا نے دروازہ کھولا تھا۔۔ وہ فوراً اسے لے کر اندر آیا تھا۔
’’ ماسٹر ۔۔ آپ ؟ اتنی رات کو یہاں ؟ ‘‘ وہ گھبرائی ہوئی کہہ رہی تھی ۔۔
’’ یہ لڑکی کون ہے ؟ کیا ہوا ہے اسے ؟ ‘‘
’’ تم نے مصطفی کو کال کی ؟ ‘‘ اس کے سوالات اگنور کرتے ہوئے ماسٹر نے واجد سے پوچھا تھا ۔۔
’’ جی وہ بس پہنچنے والا ہوگا ‘‘ ہاتھ میں پہنی گھڑی کو دیکھتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا ۔۔
’’ اسے کہو جلدی آئے ۔۔۔ مایا ۔۔ اسے دیکھو ۔۔ اسے فوراً ٹریٹمنٹ چاہئے ‘‘ صوفے پر سے دور ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ وہ زخمی حالت میں صوفے پر لیٹی تھی ۔۔ ا سکے جسم سے اب بھی خون بہہ رہا تھا ۔۔ مایا نے اسکی نبض چیک کی تھی۔۔
’’ اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے ماسٹر ۔۔ ہمیں اسے فوراً ہسپتال لے کر جانا ہوگا ‘‘ مایا نے فوراً کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ میں کال کرتی ہوں ایمبولینس کو ‘‘ اپنا موبائل اٹھایا تھا ۔۔
’’ یہ کہیں نہیں جائے گی ۔۔ اسے یہی ٹریٹمنٹ دینی ہے تم نے ‘‘ ماسٹر کی آواز نے اسکی موبائل پر چلتی انگلی روکی تھی۔
’’ مگر ماسٹر ۔۔ ہم اسے ایسے نہیں بچا سکیں گے ۔۔ اسکی حالت بہت سیریس ہے ‘‘
’’ تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی مایا ؟ ‘‘ سنجیدہ آواز میں کہا تھا ۔۔ اور شاید آگے بھی کچھ کہنے لگے تھے جب کچھ آوازوں نے اسے روکا تھا ۔۔
’’ میں سب سامان لے آیا ہوں ۔۔ ‘‘ مصطفی نے آتے ساتھ کہا تھا ۔۔ جب نظر سامنے صوفے پر لیٹی زخمی لڑکی پر پڑی تھی ۔۔
’’ اوہ مائی گاڈ ۔۔ چلو جلدی کرو ۔۔ اسے اندر لے کر چلو ۔۔ مایا جلدی سے اسکا ٹریمنٹ شروع کرو ‘‘ مصطفی نے اپنے پیچھے آنے والے میڈیکل سٹاف کے تین لوگوں سے کہاتھا ۔۔ جو اب فوراً کچھ سامان لے کر اندر کی جانب گئے تھے جبکہ ماسٹر اب امل کو اٹھا کر سامنے والے روم کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔
’’ یہ کون ہے واجد ؟ ‘‘ مصطفی نے واجد سے پوچھا تھا ۔۔
’’ بس یہ سمجھو کہ ماسٹر کے لئے بہت بڑا امتحان ہے ‘‘ واجد کے جواب پر وہ خاموش ہوگیا تھا ۔۔۔ اب بس اسے اس لڑکی کی فکر تھی ۔۔
تقریباً ایک گھنٹہ گزر کیا تھا مایا کو اندر امل کے ساتھ ۔۔ وہ سب باہر ہی بیٹھے تھے ۔۔
’’ اسکا کافی زیادہ خون بہہ چکا ہے ۔۔ ہمیں بلڈ کی نیڈ ہے ‘‘ مایا نے باہر آتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ بلڈ گروپ کیا ہے ؟ ‘‘ واجد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ بی پوزیٹو ‘‘ مایا نے جواب دیا تھا ۔۔
’’ میں دونگا بلڈ ۔۔ چلو ‘‘ مصطفی نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ مجھے یہ سامان چاہئے ‘‘ مایا نے جواد کی جانب ایک پیپر بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اوک میں ابھی لاتا ہوں ‘‘ وہ کہہ کر جاچکا تھا ۔۔
’’وہ ٹھیک ہوجائیگی ؟ ‘‘ ماسٹر کے سوال نے مایا کے بڑھتے قدم روکے تھے ۔۔
’’ میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتی ماسٹر ۔۔ اسکی حالت بہت سیریس ہے ۔۔ آپریشن کرنا ہوگا ۔۔ آپ دعا کریں ‘‘ وہ کہہ کر اندر کی جانب چلی گئ تھی ۔۔ جبکہ وہ وہی بیٹھارہ گیا تھا ۔۔
پوری رات اسکے ٹریٹمنٹ میں گزر گئ تھی ۔۔ یہ صبح کے گیارہ بجے کا وقت تھا جب مصطفی سب کے لئے چائے لے کر آیا تھا ۔۔
’’ مایا کہا ہے ؟ ‘‘ اس نے جواد سے پوچھا تھا ۔۔
’’ اندر ہے ابھی تک ‘‘ جواد نے چائے کا کپ اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اچھا ‘‘ کہتے ہوئے وہ اپنا کپ لے کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا ۔۔ نظر سامنے ماسٹر کی جانب تھی ۔۔ جوکہ رات سے اسی پوزیشن پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔
’’ ماسٹر ۔۔۔ ماسٹر ۔۔ ‘‘ اس کے پکارنے پر وہ جیسے کسی گہری سوچ سے باہر نکلا تھا ۔
’’ ہاں ۔۔ کیا ہوا ؟ ‘‘
’’ آپ کچھ دیر اندر جاکر آرام کر لیں ۔ رات سے یہی بیٹھے ہیں ‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا تھا ۔۔
’’ میں کہیں نہیں جارہا ۔۔۔ مایا نے کچھ بتایا ؟ کیسی ہے اب وہ ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ چہرے پر واضح پریشانی تھی۔۔
’’ آپریشن چل رہا ہے ابھی تک ۔۔ چائے ؟ ‘‘ چائے کا کپ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا جسے انہوں نے خاموشی سے تھام لیا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد مایا باہر آئی تھی ۔۔ اور اسے دیکھتے ہی مصطفی کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ؟؟ وہ ٹھیک ہے ؟ ‘‘ اس نے فوراً پوچھا تھا جبکہ مایا ماسٹر کی جانب دیکھ رہی تھی تو اسے سوالیاں نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔
’’ گولیاں اور شیشے کے ٹکڑے نکال دیئے ہیں ۔۔ بہت گہرے زخم ہیں ، خون بھی بہت بہا ہے اور اس کے علاوہ کھائی میں گرتے وقت اسکے سر پر چھوٹ لگی ہے ۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوئی تھی ۔۔
’’ چپ کیوں ہوگئی ہو ؟ آگے کہو ؟ ‘‘ ماسٹر کی آواز میں بے چینی تھی ۔۔ جسے سب نے محسوس کیا تھا ۔۔
’’ اسے شام تک ہوش آگیا تو معجزہ ہوگا ورنہ ۔۔ ‘‘ وہ پھر رکی تھی ۔۔
’’ ورنہ کیا مایا ؟ ‘‘ اس بار مصطفی نے پوچھا تھا ۔۔
’’ وہ کومامیں چلی گئ ہے ۔۔۔ کچھ پتہ نہیں کہ اسے کب ہوش آئے ‘‘ مایا نےکہا تھا اور وہاں موجود وہ تینوں لوگ بس اسے دیکھتے ہی رہ گئے تھے ۔۔۔
موجودہ وقت :
وہ اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کو دیکھ رہی تھی ۔۔ جو اسی پر نظر جمائے ہوئے تھا ۔۔ یہ وہی شخص تھا جس کے سامنے آنے کا وہ اتنے دن سے انتظار کر رہی تھی ۔۔ مگر آج ؟ آج جب وہ اسکے سامنے بیٹھا تھا تو کہانی کیسے پلٹ گئ تھی ۔۔
اس نے سب سوچا تھا ۔۔ مگر کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جس شخص سے ملنے کے لئے وہ اتنے جتن کررہی تھی ۔ وہ شہزاد شاہ کا بیٹا ہوگا ۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا ؟
’’ تم ۔۔۔ ‘‘ وہ ایک قدم پیچھے ہوئی تھی ۔۔ زبان جیسے الفاظ ادا کرنا بھول گئ تھی ۔۔۔ وہ ڈر نہیں رہی تھی ۔۔ وہ بس اس وقت شاکڈ تھی ۔۔
’’ تم شہزاد شاہ کے بیٹے ہو ؟ میری ماں باپ کے قاتل کے بیٹے ہو تم ؟ ‘‘ اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ پوچھ رہی تھی یا بتا رہی تھی ۔۔ اسے تو یہ احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ جانے کب ؟ اسکی آنکھیں بھیگی اور پھر آنسو بہنے لگے تھے ۔۔ وہ جو بس اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کو دیکھ رہی تھی ۔۔ جس نے اسکی جان بچائی تھی ۔۔ جس کے اپنوں نے اسکی جان لے لی تھی ۔۔۔
’’ میں نائل ہوں ۔۔۔ تمہارے لئے میں صرف نائل شاہ ہوں ۔۔ شہزاد شاہ سے خون کا تعلق ہے میرا ۔۔ اس خون کو اپنے جسم سے نہیں نکال سکتا ہوں میں ۔۔ مگر انہیں نکال سکتا ہوں ۔۔ ‘‘ اس کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے کہا تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ہے ان سب کا ؟ کیا چاہتے ہو تم ؟ ‘‘ وہ تقریباً چیخی تھی ۔۔ یہ شخص اسے پاگل کر رہا تھا ۔۔
’’ انصاف ۔۔۔ تمہیں انصاف دلانا چاہتا ہوں میں ۔۔ تمہارے انتقام میں تمہارا ساتھ دینا چاہتا ہوں ۔۔ شہزاد شاہ کو اسکے انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں ۔۔ صرف ایک ایگریمنٹ ۔۔ اور پھر سب بدل جائے گا امل ۔۔ ‘‘ وہ اس کی جانب بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
’’ وہی رک جاؤ ‘‘ انگلی اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے اسکے بڑھتے قدم روکے تھے ۔۔
’’ تم میرے ماں باپ کے قاتل کے بیٹے ہو نائل شاہ ۔۔۔ تمہارا اعتبار کیسے کرسکتی ہوں میں ؟؟ ہوسکتا ہے یہ بھی کوئی نئ چال ہو تمہاری ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔اور سامنے کھڑے شخص کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ شاید وہ اس سے اسی کی امید کر رہا تھا ۔۔۔
’’ جانتا ہوں تم مجھ پر اعتبار نہیں کروگی ۔۔ اس لئے میں تم سے ایگریمنٹ کرنا چاہتا ہوں ۔۔ تم اپنی سیکیورٹی کے لئے جو بھی رولز چاہو اس میں ایڈ کروا سکتی ہو ۔۔ تھوڑی دیر میں وکیل آئے گا ۔۔ تم اچھی طرح سوچ لو امل ۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں شہزاد شاہ کو اسکے انجام تک پہچانے میں تمہارا ساتھ دونگا میں ۔۔ بدلے صرف ایک نکاح ہی تو کرنا ہوگا تمہیں مجھ سے۔۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے یہ ‘‘ وہ ایک ایک لفظ ٹھہر کر کہہ رہا تھا ۔۔ جیسے اسے سمجھانا چاہتا ہو ۔۔
’’ نکاح تمہیں ’ صرف ‘ لگتا ہے ؟؟ اگر مدد ہی کرنا چاہتے ہو تو نکاح کی کیا ضرورت ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ جس پر وہ ایک بار پھر مسکراہا تھا ۔۔ ڈمپل ظاہر ہوا تھا ۔۔ مگر اس بار امل نے اس پر غور نہیں کیا تھا ۔۔ وہ کر بھی کیسے سکتی تھی ؟
’’ یہ تمہاری سیکیورٹی ہے امل ۔۔ نکاح کے بعد تم بنا کسی خوف کے اس کے سامنے جاکر کھڑی ہوسکتی ہو ۔۔ اس سے ایک ایک چیز کا جواب لے سکتی ہو ۔۔ اور وہ ۔۔ چاہ کر بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔۔ کیونکہ تمہارے اور اسکے درمیان میں کھڑا ہونگا ۔۔ تمہارے سامنے ہوکر بھی وہ تم تک نہیں پہنچ پائے گا ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل اس بات کو سمجھ چکی تھی۔۔
’’ تم بیٹے ہو اس کے ماسٹر ۔۔۔ کیوں کروگے تم میری مدد ؟ ‘‘ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔انداز چیلینجنگ تھا۔
’’ کیونکہ میں صرف انکا بیٹا نہیں ہوں ۔۔ میں نائل ہوں ۔۔ کرمنل اسوسٹیگیٹر آفیسر نائل شاہ ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے وہ اسے حیران کرگیا تھا ۔۔۔
وہ گاڑی پارک کر کے باہر نکلا تھا ۔۔ اور دوسری طرف کا دروازہ کھول کر ایک اور شخص باہر نکلا تھا ۔۔ جس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی ۔۔
’’ وہ یہاں ہیں ؟ ‘‘ اس شخص نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ چلیں ‘‘ وہ دونوں اب گھر کے اندر آئے تھے ۔۔ جہاں سامنے ہی ٹی لاؤنچ کے ایک صوفے پر انہیں وہ نظر آگیا تھا ۔۔ دونوں اسکی جانب بڑھے تھے ۔۔
’’ کیسے ہیں ماسٹر ؟ ‘‘ مصطفی نے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ایگریمنٹ لائے وہ تم ؟ ‘‘ اسے اگنور کرتے ہوئے اس نے وکیل سے پوچھا تھا ۔۔
’’ جی ۔۔۔ سب ریڈی ہے ۔۔ آپ دیکھ لیں ‘‘ فائل اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔ جسے اس نے خاموشی سے تھاما تھا اور اب وہ اس کی جانب متوجہ ہوگیا تھا ۔۔ جبکہ وہ دونوں خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
’’ گڈ ۔۔ اور دوسرے کام کا کیا ہوا ؟ ‘‘ ماسٹر نے پوچھا تھا ۔۔
’’ وہ لوگ بھی دو گھنٹے میں یہاں پہنچ جائینگے ‘‘ وکیل نے جواب دیا تھا جبکہ مصطفی دونوں کو ناسمجھی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ اوک ۔۔ مصطفی ۔۔ اسے لے آؤ ‘‘ ماسٹر نے مصطفی سے کہا تھا ۔۔ اور وہ تو جیسے اسی انتظار میں بیٹھا تھا ۔۔ فوراً امل کے کمرے کی جانب گیا تھا ۔۔
اس نے دروازہ ناک کیا تھا ۔۔ مگر اندر سے کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔۔۔ اب وہ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا ۔۔ اس نے دیکھا وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی ۔۔ اتنی ۔۔ کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا تھا ۔۔
’’ امل ۔۔ ‘‘ اس نے اسے پکارا تھا اور وہ جیسے اچانک ہوش میں آئی تھی ۔۔
’’ مصطفی ۔۔ تم ؟؟ یہاں کیسے ؟ ‘‘ وہ اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔۔
’’ ماسٹر نے بلایا ہے ۔۔ تم ٹھیک ہو نا ؟ ‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔ اور اسکی آنکھوں میں صاف دیکھ سکتی تھی وہ ۔۔ اپنے کے لئے فکر ۔۔
’’ میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم کیسے ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ انداز سنجیدہ تھا ۔
’’ تمہارے لئے پریشان ہوں امل ۔۔ کیا ہورہا ہے یہاں ؟ ‘‘
’’ تمہارے ماسٹر نے نہیں بتایا تمہیں ‘‘ طنزیہ انداز تھا ۔۔
’’ نہیں ۔۔ نیچے وہ اور وکیل تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔۔ تم دونوں کے بیچ کیسا ایگریمنٹ ہونے والا ہے امل ؟ ‘‘ اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔
’’ معلوم ہوجائے گا تمہیں ۔۔ چلو ‘‘ وہ کھڑی ہوکر دروازے کی جانب بڑھی تھی ۔۔
’’ تمہیں کیا ہوا ہے امل ؟ ‘‘ وہ اس کے اس بدلے انداز پر مزید الجھ گیا تھا ۔۔ امل کو تو اسے سامنے دیکھ کر خوش ہونا چاہئے تھا ۔۔ مگر اس کے چہرے پر تو مسکراہٹ تک نہیں آئی تھی ۔۔ وہ اتنی بدلی بدلی کیوں لگ رہی تھی ؟
’’ نائل شاہ کی شناخت جاننے کے بعد مجھے کیسا ہونا چاہئے مصطفی ؟ ‘‘ وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئ تھی ۔۔ جبکہ وہ وہی کھڑا رہ گیا تھا ۔۔ حیران ۔۔ پریشان ۔۔۔ تو اسے سب معلوم ہوگیا تھا ۔۔۔
وہ دونوں اس کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔۔ جب اسے سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی تھی ۔۔ اس نے اس جانب دیکھا ۔۔ وہ نیچے آرہی تھی ۔۔ اسی پر نظر جماتے ہوئے ۔۔ وہ بہت کانفیڈنٹ تھی ۔۔ اور اس کا انداز بتا رہا تھا کہ جیسے وہ فیصلہ کر چکی تھی ۔۔ اس کے پیچھے اب مصطفی بھی نیچے آیا تھا ۔۔ وہ وکیل کے ساتھ جاکر بیٹھا تھا جبکہ امل اس کے بلکل سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی۔۔ وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
’’ یہ لیں میڈم ‘‘ وکیل نے اسکی جانب وہی فائل بڑھائی تھی ۔۔ امل نے اس سے نظر ہٹا کر اس فائل کو دیکھا ۔۔ پھر دوبارہ اسے دیکھا ۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ ایگریمنٹ ہے ۔۔ اسے اچھی طرح پڑھ لو تم ۔۔ اگر کوئی اعتراض ہے تو بتاؤ ۔۔ اور اگر کچھ ایڈ کرنا ہے تو وہ بھی کروا لو ‘‘ ماسٹر نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور امل نے وہ فائل وکیل کے ہاتھ سے لی تھی ۔۔ اب وہ مکمل اسکی جانب متوجہ ہوچکی تھی ۔۔
وہاں موجود تینوں لوگوں کی نظریں اسی پر اٹکی تھی ۔۔جوکہ فائل کے صفحےہر کچھ دیر بعد پلٹ رہی تھی۔۔
تقریباً پانچ منٹ بعد اس نے فائل پر سے نگاہیں ہٹا کر سامنے موجود اس شخص کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ ٹٹولتی نگاہوں سے۔۔ جیسے اسکا دماغ پڑھنا چاہتا ہو ۔۔ مگر ایسا کر نہیں سکا تھا ۔ ۔۔ اس نے مصطفی کی جانب دیکھا تھا ۔۔جس کی آنکھوں میں سوال تھے ۔۔ وہ اب بھی انجان تھا ۔۔ ہر بات سے ۔۔
’’ مجھے اس میں کچھ ایڈ بھی کروانا ہے ۔۔۔ اور کچھ چینجنگز بھی ‘‘ اس نے ماسٹر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
جس نے وکیل کی جانب دیکھا ۔۔ وہ شاید اشارہ سمجھ چکا تھا ۔۔ اس نے امل کے ہاتھوں سے فائل لی تھی ۔۔ ایک پین جیب سے نکال کر وہ امل کے بولنے کا انتظار کرنے لگاتھا ۔۔
’’ اس میں لکھا ہے کہ میں کسی کو بھی اپنی زندگی میں شامل کرنے کی کوشش نہیں کرونگی ۔۔ کسی اور کے قریب نہیں ہونگی ۔۔۔ تمہیں انفارم کئے بنا کسی اور سے بات تک نہیں کرونگی ۔۔۔ مگر ۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کرونگی ۔۔ اس پوانٹ کو کٹ کریں ‘‘ وہ نائل شاہ کی آ نکھوں میں دیکھ کر کہہ رہی تھی ۔۔ اور مصطفی کو یہ پہلا حیرانگی کا جھٹکہ لگا تھا ۔۔
’’ یہ نہیں ہوگا ۔۔ تم جب جب جس جس کے ساتھ ہوگی ۔۔ مجھے تم خود انفارم کروگی ۔۔ اور ہمارے نکاح کے بعد میں تمہیں اجازت نہیں دونگا کہ تم کسی سے افئیرز چلاؤ ‘‘ سخت انداز میں کہا تھا ۔۔ اور مصطفی کے سر پر جیسے آسمان آگرا تھا ۔۔
’’ نکاح ؟؟ ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ مگر کوئی اس کی جانب متوجہ نہیں ہوا تھا۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔۔
’’ میں رشتوں کا احترام کرنا جانتی ہوں نائل شاہ ۔۔ کانٹریکٹڈ ہی صحیح مگر نکاح تو کہلائے گا وہ ۔۔ اور میں اسکا احترام کرنا بھی جانتی ہوں ۔۔ ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں میں جو کسی اور کے نام کا ٹیگ لگا کر کسی اور سے دل لگاتی ہیں ۔۔ اس لئے ۔۔ میری ریسپیکٹ کی خاطر ۔۔ تمہیں یہ پواینٹ کٹ کرنا ہوگا ۔۔ ‘‘ اسی کے انداز میں جواب دیا تھا ۔۔ اور مصطفی بس حیرانگی سے سن رہا تھا ۔۔ اسے اب سمجھ آنے لگا تھا سب ۔۔
’’ میں جانتا ہوں تم ایسی نہیں ہو ۔۔ مگر یہ پوائنٹ سیکیورٹی کے لئے ضروری ہے ‘‘ وہ کسی بھی صورت میں یہ پواینٹ کٹ نہیں کرسکتا تھا ۔۔ اسے ڈر تھا ۔۔ امل کے بدل جانے کا ڈر ۔۔ یا شاید ؟ کسی اور کے قریب ہوجانے کا ڈر ؟
’’ ٹھیک ہے ۔۔ پھر میری جانب سے یہی پوائنٹ انکے لئے بھی ایڈ کریں آپ ۔۔ جب تک یہ کانٹریکٹ ہم دونوں کے درمیان موجود ہے ۔ کسی بھی لڑکی سے بات یا ملنے ، دوستی یا محبت کرنے کے لئے میری اجازت لینی ہوگی‘‘ اس کی بات ہر وہ مسکرایا تھا ۔۔ ڈمپل ظاہر ہوا تھا ۔۔ آخر وہ امل شاہ تھی ۔۔۔ اس کے جیسی ۔۔ اس کے مقابل ۔۔
’’ منظور ہے ‘‘ اس نے وکیل کو اشارہ کیا تھا اور وہ فوراً فائل میں اب کچھ لکھنے لگا تھا ۔۔
’’ کچھ اور ؟ ‘‘ اب اس نے امل سے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ ‘‘ فوراً جواب آیا تھا ۔۔ مصطفی اب حیرانگی سے نکل چکا تھا ۔۔ بس خاموشی سے اس کولڈ وار کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جو اس دونوں کے درمیان چل رہی تھی ۔۔
’’ بولو ۔۔ جو کچھ ایڈ کروانا ہے سب بتاؤ ‘‘ ماسٹر نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیونکہ یہ نکاح صرف ایک کانٹریکٹ ہے۔۔ اس لئے ہمارے ایک دوسرے پر کوئی حقوق اور فرائض نہیں ہونگے ۔۔ تم مجھ پر کوئی حق نہیں جتاؤگے اور نہ ہی میں ایسا کچھ کرونگی ۔۔ ہم دونوں جس مقصد کے لئے ایک ساتھ ہیں۔۔ صرف اس کے لئے ہی ساتھ ہونگے ۔۔ اس کے علادہ ایک دوسرے کی پرسنل سپیس میں آنے کی کوشش نہیں کرینگے ہم ۔۔۔ تم مجھے کبھی کچھ ایسا کرنے کا نہیں کہوگے جو میں کرنا نہیں چاہتی ۔۔ مجھ پر کسی کام کی کوئی زبردستی نہیں ہوگی ۔ ‘‘ وہ رکی تھی۔۔ سامنے بیٹھے شخص کے تعصورات دیکھنے کے لئے۔۔ جو سنجیدہ تھا ۔۔
’’ اوک ۔۔۔ اور ؟ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ شکر ہے وہ مان تو رہا تھا ۔۔
’’ جس دن ہم اپنے مقصد کو حاصل کرلینگے ۔۔ اسی دن یہ کانٹریکٹ ایکسپائر ہوجائے گا ۔۔ ‘‘ وہ آگے جھکی تھی ۔۔ نگاہیں ماسٹر کی نگاہوں پر جمی تھی ۔۔ ’’ اسی دن ۔۔ ہم دونوں اس کانٹریکٹ سے آزاد ہوجائنگے ۔۔ہم دونوں کے راستے الگ ہونگے‘‘ اور یہی وہ ڈیمانڈ تھی ۔۔ جس پر ماسٹر کے تعصورات بدلے تھے ۔۔ وہ دیکھ سکتی تھی ۔۔ اسکی آنکھوں میں غصہ ۔۔ جسے وہ ضبط کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔
مصطفی نے دیکھا ۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔۔ ماسٹر کی آنکھیں ضبط سے لال ہورہی تھیں ۔۔ جبکہ امل کی نگاہوں میں کچھ نہیں تھا ۔۔ صرف سنجیدگی تھی ۔۔ واقعی ۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ٹکر کے تھے ۔۔
’’ اوک ‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ماسٹر کی آواز آئی تھی ۔۔جس پر امل کچھ حیران ہوئی اور پھر اس نے ایک اور گہری سانس لی تھی۔۔ ایک اور مشکل مرحلہ بھی گزر گیا تھا ۔۔
’’ بس اب ایک آخری پوانٹ رہ گیا ہے ‘‘ امل نے کہا تھا ۔۔ اور مصطفی نے اسے گھورا تھا ۔۔ آخر اب اور کس چیز کی کثر رہ گئ تھی ؟
’’ کہو ؟ ‘‘ ماسٹر نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
’’ تم مجھ سے کم از کم چار فٹ دور رہ کر بات کروگے ‘‘ اور بس ۔۔ یہی ہو بات تھی ۔۔ جس نے مصطفی کا منہ حیرانگی سے کھول دیا تھا ۔۔ جس نے وکیل کو اپنی ہنسی کنٹرول کر نے پر مجبور کیا تھا ۔۔ اور جس نے ماسٹر کے ڈمپل کو پھر سے ظاہر ہونے پر مجبور کیا تھا ۔۔
’’ کیوں ؟ تمہیں ڈر ہے کہ میری قربت سے تم بہک جاؤگی ؟ ‘‘ گہری مسکراہٹ اور چمکتی نگاہوں کے ساتھ اس نے کہا تھا۔۔ اور اب ۔۔ امل بھی مسکرائی تھی ۔۔
’’ نہیں ۔۔ مجھے ڈر ہے کہ تم قربت کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوگے ‘‘ اور اس کے جواب پر مصطفی مسکرایا تھا ۔۔ واہ امل واہ ! کمال ہو تم ۔۔۔ اس نے اسے داد دی تھی ۔۔
’’ لکھو ۔۔ ‘‘ امل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ وکیل سے کہہ رہا تھا جو فوراً فائل پر متوجہ ہوا تھا ۔۔
’’ میں امل سے چار فٹ دور رہ کر بات کرونگا ۔۔ جب تک ۔۔ وہ خود مجھے قریب ہونے پر مجبور نہ کریں ‘‘ مسکراہٹ مزید گہری ہوی تھی ۔۔ آنکھوں میں چمک بڑھی تھی ۔۔ اور امل کچھ دیر کے لئے۔۔ صرف کچھ دیر کے لئے اس چمک میں کھوسی گئ تھی۔۔۔
’’ فکر مت کرو ۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا ‘‘ اس نے نظریں پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔۔ وہ اب مزید اسکی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔
’’ جسٹ ویٹ اینڈ واچ سلیپنگ بیوٹی ‘‘ اس پر نظر جماتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اب آپ دونوں سائن کر سکتے ہیں ‘‘ وکیل نے فائل ماسٹر کی جانب بڑھائی تھی ۔۔ جس نے اس پر فوراً سائن کئے تھے ۔۔ اور اب اس نے فائل امل کی جانب بڑھائی تھی ۔۔ جس نے فائل لے کر اس پر ایک آخری نظر ڈال کر سائن کئے تھے ۔۔ اس نے آج بہت بڑا فیصلہ کیا تھا ۔۔ صرف اپنے ماں باپ کی خاطر ۔۔۔ وہ جانتی تھی آنے والے دن مشکل ہوسکتے ہیں ۔۔ مگر وہ پھر بھی مطمئن تھی ۔۔ اسے خود پر بھروسہ تھا ۔۔
’’ اب آپ بھی گواہ کی حیثیت سے سائن کرلیں ‘‘ وکیل صاحب سے مصطفی کی جانب فائل بڑھائی تھی ۔۔ جس نے فائل لیتے ہوئے امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اب اسی کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔
وہ مسکرایا تھا ۔۔ اسے حوصلہ دینے کے لئے ۔۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب اس کے لئے کتنا مشکل تھا ۔۔
وہ بھی مسکرائی تھی ۔۔ اسے بتانے کے لئے کہ اس وقت اسے اسکی کتنی ضرورت تھی ۔۔
مصطفی نے سائن کر دیئے تھے ۔۔ اور ایگریمنٹ ہوچکا تھا ۔۔۔
’’ ایک گھنٹے میں قاضی اور گواہ آنے والے ہیں ‘‘ وکیل نے کہا تھا ۔۔ اور امل ایک گہری سانس لے کر کھڑی ہوئی تھی ۔۔
’’ میں تب تک مصطفی کے ساتھ اکیلی رہنا چاہتی ہوں ‘‘ وہ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی ۔۔ اور مصطفی ماسٹر کو اگنور کرتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا ۔۔۔۔
’’ آپ نے صحیح کہا تھا ماسٹر ۔۔ یہ لڑکی کمال ہے ‘‘ وکیل نے کہا تھا ۔۔ اور ماسٹر مسکرایا تھا ۔۔۔
’’ چائے ؟ ‘‘ چائے کا کپ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ تمہیں ویسے چائے والا ہونا چاہئے تھا ‘‘ کپ لیتے ہوئے امل نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ میں اگر چائے والا ہوتا تو آج تمہارے ساتھ کیسے ہوتا ؟ ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتا تھا۔۔
’’ ہاں یہ بھی ہے ۔۔ تمہارا ساتھ بہت اہم ہے میرے لئے ‘‘ چائے کا گھونٹ بھرا تھا ۔۔
’’ تم پریشان مت ہو امل ۔۔ سب اچھا ہی ہوگا ‘‘
’’ تمہیں کیا لگتا ہے مصطفی ؟ کیا میں نے اسکی بات مان کر ٹھیک کیا ہے ؟ ‘‘ وہ پوچھ رہی تھی ۔۔
’’ تم نے ٹھیک کیا ہے ۔۔ میں انہیں بہت لمبے عرصے سے جانتا ہوں ۔۔ اپنے وعدے سے پھرنے والوں میں سے نہیں ہیں وہ ‘‘ اس سے اسے تسلی دی تھی ۔۔
’’ اللہ کرے ایسا ہی ہو ‘‘
’’ ایسا ہی ہوگا ۔۔ ‘‘ وہ پریقین تھا ۔۔
’’ مایا کیسی ہے ؟ ‘‘ اسے مایا کا خیال آیا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہے وہ ۔۔ تمہارے لئے پریشان تھی ۔۔ ‘‘
’’ وہ بہت اچھی ہیں ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ اور میں ؟ ‘‘
’’ تم تو بہت خاص ہو ۔۔۔ ایک بہترین دوست ‘‘ اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اور تم کمال ہو امل ۔۔ بہت یونیک ‘‘ اور اس کی بات پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔ وہ بس مسکرائی تھی ۔۔ جیسے اسے اس بات پر یقین نہ ہو ۔۔
باقی کا تمام وقت ان دونوں نے خاموشی سے ہی گزارا تھا ۔۔ ایک گھنٹے کا وقت گزرا تھا جب دروازے پر کسی نے دستک دی تھی ۔۔
’’ آجائیں ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اور دروازہ کھول کر ایک شخص اندر آیا تھا ۔۔
’’ ارے جواد ۔۔۔ تم ؟ کہیسے ہو ؟ ‘‘ مصطفی اس شخص کو دیکھ کر خوشی سے اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک ۔۔ تم کیسے ہو ؟ ‘‘ وہ بھی اتنا ہی خوش تھا ۔۔
’’ میں بھی ٹھیک ۔۔ یہاں کیسے ؟ ‘‘
’’ ماسٹر نے بلایا ہے ۔۔ گواہی کے لئے ‘‘ جواد کے جواب پر مصطفی نے امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو مسکرائی تھی ۔۔ ایک اداس مسکراہٹ ۔۔۔
’’ کیسی ہیں میڈم آپ ؟ ‘‘ جواد اب امل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہوں ۔۔ آپ ؟ ‘‘
’’ میں بھی ٹھیک ۔۔ اچھا لگا آپکو صحت مند دیکھ کر ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور جواب میں امل نے مصطفی کی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ یہ اس رات ماسٹر کے ساتھ تھا ۔۔ یہ دونوں تمہیں ہمارے پاس لائے تھے ‘‘ مصطفی نے اسے جواب دیا تھا ۔۔
’’ تھینک یو جواد ۔۔ ‘‘ امل نے شکریہ ادا کرنا مناسب سمجھا تھا ۔۔ حالانکہ ایسا اس نے ماسٹر سے تو نہیں کہا تھا ۔۔
’’ اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا ‘‘ جواد کے جواب پر وہ صرف مسکرائی تھی ۔۔
’’ اگر آپ تیار ہیں تو میں قاضی کو لے آؤں ؟ ‘‘ جواد نے کہا تھا ۔۔ اور کچھ پل کے لئے ۔۔ صرف کچھ پل ہی کے لئے امل کا دل زور سےدھڑکہ تھا ۔۔۔
’’ لے آؤ انہیں ‘‘ جواب مصطفی کی جانب سے آیا تھا ۔۔۔ اور جواد سر ہلا کر باہر چلا گیا تھا ۔۔
’’ جانتا ہوں کہ مشکل ہے امل ۔۔ مگر تم تو ہر مشکل سے گزرنے کا حوصلہ رکھتی ہو ۔۔ اور اب تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔ پریشان مت ہو ۔۔‘‘ مصطفی نے کہا تھا اور اس نے سر ہلایا تھا ۔۔
ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ ۔۔ وہ ہر مشکل سے گزرنے کا حوصلہ رکھتی ہے ۔۔ اور مصطفی جیسے دوست کے ہوتے ہوئے تو اسے ہر مشکل آسان ہی لگتی ہے ۔۔۔ ویسے بھی یہ راستہ اس نے اپنے ماں باپ کے لئے چنا تھا ۔۔ اور اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچانے کے لئے ۔۔ وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار تھی ۔۔
دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔۔اور امل اپنی سوچوں سے باہر آئی تھی ۔۔ اس نے فوراً اپنے سر پر دوپٹہ لیا تھا ۔۔ اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔
قاضی نے اس سے کچھ پوچھا تھا ۔۔ اور اچانک ہی کچھ منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آئے تھے ۔۔
گھر ۔۔ ماما ۔۔ پاپا ۔۔ خوشیاں ۔۔۔ پھر گھر ۔۔ آگ ۔۔ اندھیری سڑک پر بھاگنا ، فائر کی آوازیں ۔۔۔ کھائی ۔۔ اور پھر اندھیرا ۔۔
اس کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے ۔۔ اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے مصطفی کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔ وہ اس کا حوصلہ باندھ رہا تھا ۔۔ وہ اپنے ساتھ کا یقین دلا رہا تھا ۔۔
اور پھر ۔۔ اس نے خود کو کہتے سنا تھا ۔۔
’’ قبول ہے ‘‘ بھیگی آواز تھی ۔۔
قاضی نے پھر کچھ پوچھا تھا ۔۔ اس نے پھر خود کو کہتے سنا تھا ۔۔
’’ قبول ہے ۔۔۔ قبول ہے ‘‘‘
بس ۔۔۔ اتنی سے بات تھی ۔۔۔ اور آغاز ہوچکا تھا ۔۔
ایک نئے رشتے کا ۔۔ ایک نئ کہانی کا ۔۔ ایک نئے سفر کا ۔۔ ایک نئ منزل ۔۔ اور ایک نئے انجام کا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
