Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 21)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 21)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
یہ جانے رات کو کونسا پہر تھا ۔۔ حویلی اندھیرے میں گپ اور تمام افراد اپنے اپنے کمروں میں سو رہے تھے ۔۔ رات کی ڈیوٹی پر معمور حویلی کے مین گیٹ اور ارد گرد اطراف میں موجود گارڈز اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کر رہے تھے ۔۔ ویسے ایمانداری کے بجائے اب ڈر کا لفظ استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ شہزاد شاہ کے ہوتے کوئی نیند کیسے لے سکتا تھا ؟ خیر ۔ اگر اس تاریک رات میں حویلی کی پچھلی جانب آئیں تو یہاں صرف ایک گارڈ ڈیوٹی پر موجود تھا ۔۔ کیونکہ زیادہ خطرہ تو سامنے ہوتا ہے نا ؟؟ ایسا شہزاد شاہ کو لگتا ہے ۔۔
گارڈر جو دائیں بائیں جانب چکر لگا رہا تھا ۔۔ اچانک ہی اسے محسوس ہوا کہ جیسے اسکی گردن میں کوئی سوئی آکر چبھی ہو ۔۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے محسوس کرنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی نیند اس پر غالب آگئ اور وہ وہیں گر کر سو پڑا تھا۔۔
گارڈ کے گرتے ہی ایک پانچ فٹ آٹھ انچ کے قد کا آدمی جس نے کاندھے پر ایک بیگ لٹکایا ہوا تھا ، سر پر ٹوپی اور چہرہ کالے کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا ۔۔ بلو پینٹ اور بلیک ٹی شرٹ ، ہاتھوں میں گلوز پہنے تیزی سے دیوار پر چھڑا اور پھلانگ کر اندر داخل ہوا ۔۔ خود کو گارڈز کی نظروں سے بچاتے ہوئے وہ حویلی کے پچھلے دروازے کی جانب بڑھا جو کہ بند تھا ۔۔ اسے کچھ مایوسی ہوئی ۔۔ کچھ دیر وہاں سوچنے کے بعد جیسے اسے ایک خیال آیا اور وہ تیزی سے دائیں جانب جھکتے ہوئے بڑھا تھا ۔۔ خوش قسمتی سے یہاں کوئی گارڈ موجود نہیں تھا ۔۔ وہ آہستہ سے چلتے ہوئے ایک کھڑکی کی جانب آیا تھا ۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر محسوس کیا ۔۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔۔ شکر ہے ۔۔ اس نے سکون کا سانس لیا ۔۔ اور اپنے کاندھے پر لٹکا بیگ اتار کر آہستہ سے کھڑکی کے پاس رکھا اور خود اب کھڑکی مکمل کھول کر اندر آیا مگر اسے چونکنا پڑا ۔۔۔ یہ ایک سٹڈی روم تھا جس کے درمیان میں ایک میز اور کرسیاں رکھی تھیں جن میں سے ایک کرسی میں شہزاد شاہ آنکھیں ماندیں بیٹھا تھا ۔۔
’’ اوہ نو ‘‘ خود سے کہتا ہوا وہ آہستہ قدموں سے اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ یا اللہ ۔۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتا پلیز ‘‘ اللہ سے دعا کرتے ہوئے وہ کرسی کے قریب آیا اور شہزاد شاہ کے چہرے کے سامنے اپنا ہاتھ لہرایا ۔۔۔ مگر کوئی حرکت نہ ہوئی ۔۔
ایک گہری سانس اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر انکا بازو پکڑا ۔۔ جسم میں فوراً حرکت ہوئی وہ بے اختیار پیچھے ہٹا مگر ۔۔ یہ کیا ۔۔۔ شہزاد شاہ کا سر بائیں جانب لٹک چکا تھا ۔۔
’ امل ۔۔ دی گریٹ ‘‘ کہتے ہوئے وہ مسکرایا تھا ۔۔
’’ چلو مصطفی ۔۔ کام میں لگ جاؤ ‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ کھڑکی کے باہر رکھے اپنے بیگ کی جانب بڑھا تھا ۔۔
وہ اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر لگا رہی تھی ۔۔ آدھی رات ہوچکی تھی مگر اسے اب تک نیند نہیں آئی ۔۔
جانے کتنی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک اسے بالکینی کے دروازے پر دستک کی آواز آئی تھی ۔۔
’’ شکر ہے ‘‘ جلدی سے آکر اس نے دروازہ کھولا اور مصطفی تیزی سے اندر داخل ہوا ۔۔
’’ تم ٹھیک ہونا ‘‘ اسے فکرمندی سے دیکھتے ہوئے امل نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ کام ہوگیا ۔۔ مجھے اب نکلنا ہوگا اس سے پہلے گارڈ کی آنکھ کھل جائے ‘‘ بیگ کاندھے سے لٹکاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ٹھیک ہے ۔۔ ہماری سٹڈی کی کھڑکی سے تم آرام سے جاسکتے ہو وہاں کوئی گارڈ بھی نہیں ہے ‘‘ڈریسنگ روم کے ساتھ موجود اس چھوٹے سے سٹڈی روم میں داخل ہوتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔
’’ تم ٹھیک ہونا ؟ ‘‘ مصطفی نے غور سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہوں ۔۔ تم میرے لئے پریشان مت ہونا ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے امل نے اس کے لئے کھڑکی کھولی تھی ۔۔
’’ تمہارے لئے پریشان ہونے کی عادت ہوگئ ہے سلیپنگ بیوٹی ‘‘ مسکرا کہ کہتے ہوئے وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا چکا تھا ۔۔ جب کہ امل وہی کھڑی اسے تب تک دیکھتی رہی تھی جب تک کہ وہ حویلی سے باحفاظت نکل نہیں گیا تھا ۔۔
’’ شکر ہے اللہ کا ‘‘ اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی وہ کھڑکی بند کر کے بیڈ کے قریب آئی تھی ۔۔ اب وہ آرام سےسوسکتی تھی ۔۔
موبائل پر بجنے والی مسلسل بیل اسے نیند کی وادی سے باہر لائی تھی ۔۔
’’ ہیلو ‘‘ آنکھیں کھولنے کی کوشش بھی نہیں کی گئ ۔۔
’’ آدھے گھنٹے میں میرا موبائل لے کر اس ایڈریس پر آجاؤ ‘‘ اور کال کٹ گئ تھی ،۔۔
’’ واٹ ! ‘‘ اب آنکھیں فوراً کھلیں تھیں ۔۔
’’ کیا مصیبت ہے یار ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے وہ فوراً اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھا تھا اسے تیار ہوکر جلد ہی فرہاد کا موبائل لوٹانا تھا ۔۔
’’ مصطفی ۔۔۔ مصطفی ۔۔۔۔ !! ‘‘ کچھ دیر بعد وہ لاؤنچ کے صوفے پر سوئے مصطفی کے سر پر کھڑا اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
’’ کیا ہے ‘‘ وہ نیند میں بڑبڑایا تھا ۔۔
’’ تم یہاں کیوں سورہے ہو ۔۔ اپنے کمرے میں جاؤ ‘‘
’’ چپ کر کے مجھے سونے دو واجد ‘‘ کروٹ بدلی تھی ۔۔
’’ اچھا مجھے موبائل تو دے دو ۔۔ دس منٹ رہ گئے ہیں بس میرے پاس ‘‘ ہاتھ میں پہنی گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا ۔۔
’’ میرے کمرے میں ہے جاکر لے لو ‘‘ نیند میں سرگوشی کی تھی ۔۔
’’ مرے رہو تم ‘‘ واجد اب مصطفی کے کمرے کی جانب گیا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی نیند کی آغوش میں گم ہوچکا تھا ۔۔
وہ ایک ریسٹورانٹ میں داخل ہوا اور نظر ایک کونے میں بیٹھے فرہاد پر پڑی ۔۔۔۔ اس نے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے ۔
’’ اسلام و علیکم سر ‘‘ اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ میرا موبائل کہاں ہے ؟ ‘‘ سنجیدگی سے جواب آیا تھا ۔۔
’’ جی جی ۔۔۔ یہ رہا آپکا موبائل ۔۔ آئی ایم سوری سر ۔۔ آپکو میری وجہ سے پریشانی ہوئی ‘‘ موبائل اسکی جانب بڑھایا تھا۔
’’ اب تو ہوگئ پریشانی ‘‘ اس کے ہاتھ سے موبائل لےکر اس نے اپنے پاس موجود موبائل اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔
’’ تھینک یو ‘‘ واجد نے کہا تھا اور اسی کے ساتھ فرہاد اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ ارے آپ کہاں جارہے ہیں ۔۔ بریک فاسٹ تو کرلیں ‘‘
’’ میں یہاں تمہارے ساتھ ناشتہ کرنے نہیں آیا ‘‘ اسے سخت لہجے میں کہہ کر وہ وہاں سے جاچکا تھا ۔۔
’’ اوک باس ۔۔ مگر میں تو ناشتے کے بغیر نہیں جانے والا ۔۔۔ ویٹر ‘‘ تو اب واجد نے ایک بھرپور ناشتہ کرنا تھا ۔۔
’’ ابھی تک اندر سے کوئی خبر نہیں آئی ہے ۔۔۔ تم خاموشی رہنا ۔۔ کسی سے کچھ مت کہنا ‘‘ مین گیٹ کے پاس موجود ایک گارڈ نے دوسرے سے کہا تھا ۔۔
’’ ایسی بے وقوفی میں نہیں کرونگا ۔۔ شہزاد شاہ کو اگر معلوم ہوا تو گولی مار دینگے مجھے ‘‘ وہ واقعی بہت ڈرا ہوا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہے تم جاکر آرام کرو ‘‘ دوسرے گارڈ کے کہنے پر وہ سر ہلا کر وہاں سے جاچکاتھا ۔۔
اب اگر اندر آؤں تو کھانے کی میز میں ماسٹر کے علاوہ سب موجود تھے ۔۔
’’ آپ رات سٹڈی میں ہی سوگئے تھے ‘‘ شہزاد شاہ کے سامنے چائے رکھتے ہوئے سادیہ بیگم سے کہا تھا۔۔
’’ ہاں ۔۔ معلوم ہی نہیں ہوا کب آنکھ لگ گئ میری ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ ناشتے کی جانب متوجہ ہوئے تھے جبکہ امل کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
’’ نائل کب تک آئے گا ؟ ‘‘ اب کے سوال امل سے ہوا تھا ۔۔
’’ آج شام شاید آجائیں وہ ‘‘ چائے کا سپ لیتے ہوئے امل نے جواب دیا ۔۔
‘’ اچھا ہے وہ آجائے تو ۔۔ مجھے تم دونوں کو کسی سے ملوانا ہے ‘‘
’’ سب ٹھیک ہے نا ؟ ‘‘ امل نے پوچھا تھا ۔۔ اب کیا کرنے والا ہے یہ شخص ؟
’’ ہاں سب ٹھیک ہے ۔۔ تمہارے لئے میں نے ایک باڈی گارڈ کا انتخاب کیا ہے ۔۔ آج شام میں چاہتا ہوں کہ نائل اس سے ملاقات کر لے ‘‘
’’ مگر ۔۔ باڈی گارڈ کی کیا ضرورت ہے ؟ ‘‘ سوال زویا کی جانب سے ہوا تھا جس پر شہزاد شاہ نے اسے سخت نظروں سے دیکھا تھا ۔۔ وہ سر جھکا گئ ۔۔
’’ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے کسی باڈی گارڈ کی ضرورت ہے ۔۔ ‘‘ امل نے صاف انکار کیا تھا ۔۔
’’ اسکا فیصلہ نائل کرے گا ‘‘ وہ کہہ کر سنجیدگی سے دوبارہ اپنے ناشتے کی جانب متوجہ ہوگئے تھے جبکہ امل ایک بار پھر مسکرائی تھی ۔۔ آخر یہی تو چاہتے تھے وہ بھی ۔۔
’’ مصطفی ۔۔۔ اٹھ جاؤ یار ‘‘ وہ پچھلے دس منٹ سے کچن میں کھڑا اسے آوازیں دے رہا تھا مگر مصطفی کی تو نیند ہی ختم نہیں ہورہی تھی ۔۔
’’ حد ہوگئ یار ۔۔ چار بج رہے ہیں ۔۔ اٹھو بھئ ‘‘ اسکا بازو پکڑ کر واجد نے اسے اٹھایا تھا ۔۔
’’ کیا ہے یار ۔۔ پوری رات کا جاگا ہوا ہوں میں ‘‘ چڑ کر کہا تھا ۔۔
’’ ایک نارمل انسان کے لئے آٹھ گھنٹے کی نیند ضروری ہوتی ہے ۔۔ اور وہ تم لے چکے ہو ۔۔ اٹھو کھانا ناشتہ لایا ہوں تمہارے لئے ‘‘ میز پر ٹرے رکھے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ یہ تم آج اتنے نیک کیسے بن گئے ؟ ‘‘ اسے حیرانی ہوئی تھی ۔۔
’’ کیونکہ میں پیدائشی نیک ہوں ‘‘ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اچھا مزاق کر لیتے ہو تم ‘‘ چائے کا کپ اٹھا کر ایک سپ لیا تھا ۔۔
’’ موبائل مالک کے پاس پہنچ چکا ہے ‘‘ مصطفی نے اب اپنا لیپ ٹاپ کھولا تھا ۔۔
’’ یہ بہت اچھا ہوا ۔۔ ‘‘ ای۔میل باکس اوپن کیا تھا ۔۔
’’ تم لیپ ٹاپ کھانے کے بعد بھی استعمال کر سکتے ہو مصطفی ‘‘ اسے مصطفی کا ہر وقت لیپ ٹاپ میں سر دیئے بیٹھا رہنا اب چڑانے لگا تھا ۔۔۔
’’ یا پھر کھانے کے ساتھ ‘‘ مسکرا کر کہتے اس نے برگر کا بائٹ لیا اور ساتھ ہی اپنی ای۔میلز چیک کرتا رہا ۔۔۔ پھر اچانک ۔۔ ایک میل پر اسکی نظر رکی تھی ۔۔
’’ اس لڑکے کی ای۔میل آئی ہے ۔۔ جو لڑکی فرہاد کے ساتھ رہ رہی ہے کچھ دنوں سے ۔۔ وہ اب تک باہر نہیں نکلی ۔۔ مگر ۔۔ اسکا نام معلوم ہوگیا ہے ‘‘ مصطفی کی بات سنتے ساتھ واجد فوراً اسکے پاس آکر بیٹھا تھا ۔۔ دونوں کی نظریں اب ای۔میل پر تھیں ۔۔
’’ رمشائ ۔۔۔ اسکا نام رمشائ ہے ‘‘ مصطفی نے کہاتھا ۔۔
’’ اب یہ رمشائ کون ہوسکتی ہے ؟ ‘‘ وہ اب الجھ گیا تھا ۔۔ یہ ایک بلکل نیا نام تھا ا سکے لئے ۔۔
’’ مجھے نہیں یاد کے میں نے کبھی بھی ماسٹر ، امل یا فرہاد کے آس پاس کسی بھی رمشائ کا نام سنا ہو ‘‘ مصطفی کو ایک نئ پریشانی لگ گئ تھی ۔۔
’’ ویسے یہ نام ۔۔۔ ‘‘ واجد کسی گہری سوچ میں پڑ چکا تھا ۔۔
’’ یہ نام کیا ؟ ‘‘ کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد مصطفی نے پوچھا تھا ۔۔
’’ یہ نام تو ۔۔ تمہاری بہن کا ہے نا مصطفی ۔۔۔ رمشائ ۔۔۔ جو نرس ہےشاید ‘‘ اور واجد کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح مصطفی کے دل و دماغ پر لگےتھے ۔۔
’’ نہیں ۔۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ لڑکی وہ ہے ۔۔ مجھے تو بس اس نام سے وہ یاد آگئ ۔۔ کیسی ہے وہ ویسے ؟ ‘‘
’’ مصطفی ؟ ‘‘ اسکی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔۔ پھر جانے ۔۔ اسکے دماغ میں ایسا کیا آیا کہ وہ فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ مایا ۔۔۔۔۔ مایا ۔۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتی مایا ۔۔ ‘‘ اپنے بال جکڑتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ آنکھیں غصے سے لال ہورئی تھی ۔۔ اور واجد ۔۔ اسے دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا مصطفی ۔۔۔ کیا کیا ہے مایا نے ؟ ‘‘ مگر اسکے سوالات اگنور کر تے ہوئے مصطفی اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔ میز پر رکھا اپنا موبائل اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا ۔۔ وہ بے چینی سے کمرے میں چکر لگا رہا تھا ۔ جبکہ واجد خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ ہیلو بھائی ۔۔ آگئ آپکو اپنی بہن کی یاد ؟ ‘‘ رمشائ کی ناراض آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔
’’ کہا ہو تم ؟ ‘‘ اپنا غصہ دباتے ہوئے کہا تھا۔۔مگر دوسری جانب موجود رمشائ اسکی سنجیدگی کا اندازہ لگا چکی تھی ۔۔
’’ میں ہسپتال میں ہو بھائی ۔۔ کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ‘‘
’’ مایا کہاں ہے ؟؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا مگر رمشائ اس سوال پر گھبرا گئ تھی۔۔۔
’’ وہ ۔۔۔ وہ بھائی ۔۔۔ وہ ‘‘
’’ میں نے پوچھا ہے مایا کہاں ہے رمشائ ؟ ‘‘ اس بار وہ باقاعدہ چیخا تھا ۔۔
’’ وہ بھائی ۔۔ وہ کئ دنوں سے غائب ہیں ۔۔ ‘‘ اور اتنی سی بات نے مصطفی کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔
’’ اس نے تم سے کیا کروایا ہے ؟؟ مجھے سب سچ سچ بتاؤ رمشائ ۔۔ کیا کہا ہے اس نے تم سے ؟ ‘‘
’’ وہ ۔۔۔ انہوں نے میرے نام پر ایک لیٹر منگوایا تھا ۔۔ لیکن وہ میرا نہیں انکا تھا ۔۔ تو میں نے وہ انہیں دے دیا ۔۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے اپنا موبائل ، سم اور گھر کی چابیاں دیں ۔۔۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ واپس نہیں آتیں ۔۔ میں یہ سب چیزیں انکی جگہ استعال کرونگی ۔۔ اور ۔۔ اگر کوئی بھی مجھ سے پوچھے گا ۔۔ تو میں مایا بن کر بات کرونگی ۔۔ اور انکے غائب ہونے کا کسی کو معلوم نہیں ہونے دونگی ‘‘ واجد نے دیکھا ۔۔ مصطفی کا غصہ مزید بڑھ رہا تھا ۔۔
’’ وہ سارا سامان جو وہ تمہیں دے کر گئ ہے ۔۔ مجھے فوراً بھجواؤ ۔۔ تم سے کوئی رابطہ کیا اس نے ؟ ‘‘
’’ جی ۔۔ ایک بار پوچھنے کے لئے کیا تھا ‘‘
’’ نمبر بھیجو مجھے ۔۔ اور اب ۔۔ اس سے کوئی بات کرنے کی بھول بھی مت کرنا تم ‘‘ اسے دھمکا کر اس نے فوراً موبائل بیڈ پر پھینکا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ؟؟؟ ‘‘ واجد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ میں جارہا ہوں ۔۔ْ تم سب دیکھ لینا میرے آنے تک ۔۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر تیزی سے باہر نکل گیا تھا جبکہ واجد اسے آوازیں دیتا رہ گیا ۔۔۔
’’ شہزاد شاہ کچھ دیر میں ہمیں میرے نئے باڈی گارڈ سے ملوانے والے ہیں ‘‘ سامنے بیٹھتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔
’’ اور ہم دونوں جانتے ہیں کہ وہ کون ہے ‘‘ وہ مطمئن تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ لیکن ۔۔۔ ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔
’’ لیکن کیا ؟ ‘‘
’’ پتہ نہیں وہ اتنا خطرناک ہے بھی یا نہیں ‘‘ امل کنفیوز تھی ۔۔
’’ جو کچھ اس نے کیا ۔۔ اس کے بعد بھی تم سمجھتی ہو کہ وہ اتنا خطرناک نہیں ہے ؟ ‘‘ ماسٹر کو اسکی سوچ پر حیرانی تھی۔
’’ میں سب جانتی ہوں ۔۔ْ مگر جو وقت میں نے اسکے ساتھ گزارا ۔۔ وہ بہت الگ تھا ‘‘ اور امل کے الفاظ ہی کافی تھے ماسٹر کو غصہ دلانے کےلئے ۔۔
’’ ایسا کونسا وقت گزارا ہے تم نے اسکے ساتھ ۔۔ ذرا مجھے بھی بتانا ‘‘ اسے گھورتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جبکہ امل مسکرائی تھی۔ گیم ٹائم۔۔
’’ اب تمہیں ہر بات بتانا بھی ضروری نہیں ماسٹر ۔۔۔ بس یہ سمجھو کہ جو بھی وقت گزارا ۔۔ ‘‘ وہ تھوڑا جھکی تھی ۔۔ ’‘ بہت خوبصورت تھا ‘‘ ایک شرارتی مسکراہٹ اس پر اچھال کر امل اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ۔۔
’’ تم شاید بھول رہی ہو کہ ایگریمنٹ کے مطابق تم کسی کے ساتھ کوئی بھی خوبصورت وقت نہیں گزار سکتی ‘‘ اس نے یاد دلانا ضروری سمجھا ۔
’’ ہاں لیکن یہ کہیں نہیں لکھا تھا کہ میں کسی کے ساتھ گزارا ہوا خوبصورت وقت یاد نہیں کرسکتی ‘‘ واہ کیا بات ہے امل؟
اور اس سے پہلے کے ماسٹر اس سے مزید کوئی بات کہتا کمرے کے دروازے پر ہونے والی دستک نے دونوں کی توجہ حاصل کرلی تھی ۔۔
’’ وہ جی بڑے صاحب بلا رہے ہیں ‘‘ ملازمہ نے کہا تھا ۔۔ جبکہ امل اور ماسٹر نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔
اس نے گاڑی فرہاد کے فلیٹ سے کچھ دور موجود ریسٹورانٹ کے پاس روکی تھی۔۔۔
اب وہ اپنے موبائل سے کسی کو کال ملا رہا تھا ۔۔
’’ میں تمہارے فرہاد کے فلیٹ کے سامنے ہوں ۔۔۔ فوراً آؤ ۔۔ ورنہ میں خود آجاؤنگا ‘‘ کہہ کر کال کٹ کر دی تھی ۔۔جبکہ دوسری جانب موجود مایا اب پریشان نظر آرہی تھی۔۔
’’ تو اسے سب معلوم ہوگیا ؟ ‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ دروازے کی جانب بڑھی تھی ۔۔ آخر اسی وقت کا تو انتظار تھا اسے ۔۔
مصطفی نے دیکھا ۔۔ مایا اسکی گاڑی کی جانب آرہی تھی ۔۔۔ اسے آتا دیکھ کر وہ اپنی گاڑی سے باہر نکلا ۔۔۔
وہ اسکی جانب بڑھ رہی تھی ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے ۔۔۔ اور مصطفی اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ماتھے میں بل اور آنکھوں میں غصہ لئے ۔۔
’’ کیسے ہوں مصطفی ؟ ‘‘ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے وہ اسکے سامنے کھڑی کہہ رہی تھی ۔۔
’’ اچھا ہوں۔۔۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا تھا ۔۔۔
’’ تم کیسی ہو رمشائ ؟ ‘‘ اور مصطفی کے الفاظ پر مایا کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا ۔۔۔
’’ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم میری بہن کو استعال کرونگی مایا ‘‘ اس کے لہجے میں افسوس تھا ۔۔
’’ اور میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم ۔۔۔ مجھ سے چھپ کر ۔۔ میرے ہی بھائی کے خلاف جال بچھاؤگے ‘‘ اور مایا کے جواب نے جیسے سب واضح کر دیا تھا ۔۔۔ وہ بس ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ۔۔ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔
دونوں کی نظروں میں افسوس تھا ۔۔ ایک دوسرے کے لئے ۔۔
لاؤنچ کے صوفے پر وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے ۔۔
’’ تم جانتے ہو تم نے کیا کرنا ہے فرہاد ‘‘ شہزاد شاہ نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔
’’ جی ۔۔ آپ فکر نہ کریں ۔۔ میں جانتا ہوں میں نے کیا کرنا ہے ‘‘ اس نے جیسے انہیں تسلی دی تھی ۔۔
’’ وہ لڑکی اتنا آسان نوالہ نہیں ہے فرہاد ۔۔ بہت سنبھل کر رہنا ہوگا تمہیں ۔۔ اس کے پیچھے میرا بیٹا ہے ۔۔ اور تم جانتے ہو کہ وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے ‘‘
’’ اس بار میں کوئی غلطی نہیں کرونگا باس ۔۔ بے فکر رہیں ‘‘ اسے خود پر یقین تھا ۔۔ اس بار وہ اس لڑکی سے اپنی جان ہمیشہ کے لئے چھڑوانے والا تھا ۔۔
’’ آگئے وہ دونوں ‘‘ اور شہزاد شاہ کے کہنے پر فرہاد نے پلٹ کر دیکھا ۔۔ مگر پھر ۔۔ وہ پلٹنا بھول ہی گیا تھا جیسے ۔۔
جانے سامنے کے منظر میں ایسا کیا تھا کہ فرہاد بے اختیار کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
وہ نائل شاہ کے ساتھ سیڑھیوں سے اتر رہی تھی ۔۔ پنک ٹاپ اور وائیٹ ڈراؤزر پہنے ۔۔ کھلے بال بازوؤں میں بکھرے ہوئے۔ ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بے حد پر کشش لگ رہی تھی ۔۔۔ مگر ۔۔۔ وہ نائل شاہ کے ساتھ تھی ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ۔۔ وہ اس کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی ۔۔
’’ یہ امل ہے ۔۔ میری بہو ‘‘ اور شہزاد شاہ کے الفاظ جیسے بجلی بن کر اس پر گرے تھے ۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔
ایک کی نظریں مسکرا رہی تھیں اور دوسرے کی نظروں دکھ ، افسوس، صدمہ ، حیرت ، اور جانے کیا کچھ تھا ۔۔
