Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 06)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 06)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
وہ اس وقت سٹڈی میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا ۔۔ جب اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ ماسٹر کا مسیج تھا ۔۔
’’ اپنی ای۔میلز چیک کرو ‘‘
مختصر سے اس مسیج پر اس نے گہری سانس لی تھی۔
’’ ضرور میرے لئے ایک نیا کام نکالا ہوگا ‘‘ اسی سوچ کے ساتھ وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
اس نے اپنی ای۔میلز چیک کی تو ٹاپ پر ہی اسے ماسٹر کی ای۔میل ملی تھی ۔۔۔ اس نے ای۔میل کھولی ۔۔ اور وہ حیران رہ گیا تھا ۔۔۔
’’ اسے کہو ۔۔۔ فرہاد سے دور رہے ۔۔ ورنہ ۔۔۔۔ ‘‘‘
اس نے دیکھا ساتھ ہی امل اور فرہاد کی یونیورسٹی کی ایک تصویر اٹیچ تھی ۔۔ وہ دونوں کیفے ٹیریا میں بیٹھے ۔۔
’’ یہ اچھا نہیں ہوا ۔۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ۔۔ ‘‘ خود سے کہتے اس نے اپنا سر تھام لیا تھا ۔۔۔
ایک اور ای۔میل آئی تھی ۔۔۔ اس نے دیکھا ۔۔
’’ اور ہاں ۔۔ تم اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہے مصطفی ۔۔ لگتا ہے تمہیں اپنی جاب پیاری نہیں ہے ‘‘
اور مصطفی جانتا تھا ۔۔ یہ ایک دھمکی تھی ۔۔
اس نے کچھ سوچ کر ریپلائی دیا تھا ۔۔
’’ سوری ماسٹر ۔۔۔ آئیندہ ایسا نہیں ہوگا ‘‘ وہ اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتا تھا ۔۔؟ مگر وہ کچھ کر ضرور سکتا تھا ۔۔
لیپ ٹاپ بند کر کے وہ فوراً کھڑا ہوا تھا ۔۔ میز پر سے گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ فلیٹ سے باہر آیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھ گیا ۔۔
کچھ دیر بعد وہ امل کی یونیورسٹی کے باہر کھڑا تھا ۔۔
وہ شانزے کے ساتھ باہر آئی تھی ۔۔ اسے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ شانزے کو بائے کہتی اسکی جانب آئی ۔۔
’’ تم یہاں کیا کر رہے ہو مصطفی ؟ ‘‘ گاڑے میں بیٹھتے ساتھ اس نے کہا تھا ۔۔
’’ مسئلہ ہوگیا ہے امل ۔۔ ‘‘ وہ بے حد سنجیدہ تھا ۔۔
’’ کیسا مسئلہ ؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ‘‘ وہ اب پریشان ہوئی تھی ۔۔
’’ کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔ تم سے کہا تھا میں نے یہ سب مت کرو ۔۔ ماسٹر کو پتہ لگا تو وہ قیامت لے آئینگے ۔۔ مگر تم نے میری ایک نہیں سنی ‘‘ مصطفی اب اس پر برس پڑا تھا ۔۔ جبکہ وہ بلکل خاموش ہوگئ تھی ۔۔۔
’’ اب چپ کیوں ہوگئ ہو تم ؟ ‘‘ اسکی خاموشی نے اسے مزید چڑایا تھا ۔۔
’’ کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ ہمارا ایکسیڈنٹ ہوجائے ۔۔ اس لئے چپ کر کے چلو ۔۔ گھر جاکر جواب دے دونگی میں تمہیں‘‘
کہتے ساتھ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی ۔۔ اور اب دونوں خاموش تھے ۔۔۔
فلیٹ میں آتے ہی اس نے اپنا بیگ لاؤنچ میں رکھے صوفے پر رکھا اور دونوں ہاتھ اپنی کمر پر ٹکا کر وہ مصطفی کے سامنے کھڑی تھی ۔۔ مانو جیسے لڑائی کے لئے فوراً تیار ۔۔
’’ اب بولو ؟ کیا کہہ رہے ت
ھے تم ؟؟ تمہارا وہ تھرڈ کلاس ڈانسر قیامت لے آئے گا ؟ ‘‘ مصطفی نے اسکی جانب حیرانگی سے دیکھا تھا ۔۔ اس وقت وہ ایک لڑاکا عورت لگ رہی تھی ۔۔
’’ تمہیں میں نے پہلے بھی منع کیا تھا کہ یہ سب مت کرو ۔۔۔ مگر تم نے میری ایک نہیں سنی ۔۔۔ اب دیکھو ۔۔ پتا لگ گیا انہیں سب ‘‘ اپنا موبائل اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔ امل نے موبائل لے کر ای۔میل پڑھی تھی ۔۔
اور پھر ۔۔ ایک مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا ۔۔
’’ تم مسکرا رہی ہو ؟ ‘‘ مصطفی نے اسے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیا ہوگیا مصطفی ۔۔ اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ ‘‘ موبائل میز پر رکھتے ہوئے وہ صوفے پر آرام سے بیٹھی تھی ۔۔
’’ پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ تمہیں نظر نہیں آرہا ۔۔ انہوں نے دھمکی دی ہے امل ‘‘ وہ اسے سمجھانا چاہ رہا تھا مگر امل تو جیسے کچھ سمجھنے کے موڈ میں ہی نہیں تھی۔۔
’’ اسکی دھمکی سے تم ڈر سکتے ہو مصطفی مگر میں نہیں ۔۔۔ اور یہی تو چاہتی تھی میں ۔۔ دیکھ لینا ۔۔ آج ای۔میل آئی ہے ۔۔ ایک دن وہ خود یہاں ہوگا ‘‘ فاتحانہ انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ تم پاگل تو نہیں ہوگئ ؟ تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ وہ کوئی عام انسان نہیں ہے ۔۔ وہ بھی اس شہزاد شاہ کی طرح خطرناک ہے امل ۔۔ ماسٹر سے جنگ کر کے تم صرف اپنا نقصان کروگی ‘‘ اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ میرے پاس اب ایسا کچھ نہیں ہے کہ مجھے کسی نقصان کی فکر ہو ۔۔۔ اور تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ وہ تمہیں بھی جاب سے نہیں نکالے گا ۔۔ کیونکہ اسے تمہاری ضرورت ہے ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔ اور اس سے پہلے کہ مصطفی کوئی جواب دیتا ۔۔ ڈوور بیل نے دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔
’’ کون آگیا اب ؟ ‘‘ مصطفی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ڈرو مت ۔۔ تمہارا ماسٹر نہیں ہوگا ‘‘ مزاق اڑانے والا انداز تھا ۔۔ اور مصطفی اسے گھورتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا تھا ۔۔
امل نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کی تھیں ۔۔
’’ یہ تمہارے لئے آیا تھا ‘‘ مصطفی کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولی ۔۔ اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا ۔۔
’’ یہ کس نے بھیجا ہے ؟ ‘‘ پیکٹ لیتے ہوئے اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ ماسٹر نے ‘‘ مصطفی نے جواب دیا اور امل چونک گئ تھی ۔۔
’’ کھولو اب اسے ۔۔۔ تمہارے کارناموں کا پہلا نتیجہ ہے یہ ‘‘ طنزیہ انداز تھا ۔۔
اسکا طنز اگنور کر کے اس نے پیکٹ کھولا تھا ۔۔۔ اور اندر موجود چیز نے اسے چونکا دیا تھا ۔۔
’’ موبائل ۔۔۔ ‘‘ اس نے موبائل باہر نکالتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ وہ بھی ایپل ۔۔۔ تمہاری تو لاٹری نکل گئ ‘‘ اس کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے مصطفی نے کہا تھا ۔۔
’’ ایک پیپر بھی ہے ساتھ ۔۔۔ ‘‘ امل نے ایک پیپر نکالا تھا جس میں کچھ لگا تھا ۔۔
’’ ہم تینوں کے علاوہ ۔۔۔ کسی اور سے اس موبائل سے رابطہ کرنے کا سوچنا بھی مت ‘‘
ایک اور دھمکی تھی ۔۔جس نے امل پر کوئی اثر نہیں کیا تھا ۔۔ اس نے پیپر میز پر پھینکا اور موبائل کی جانب متوجہ ہوگئ ۔
’’ اب یہ دینے کا کیا مطلب ہے ؟ ‘‘ موبائل کھولتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔ جس میں ایک نمبر ماسٹر کے نام سے سیو تھا ۔۔
’’ یہی کہ تمہیں اب انہیں ریپورٹ کرنی ہوگی ‘‘ مصطفی نے کاندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔
’’ کیسی رپورٹ ؟ ‘‘ وہ سمجھی نہیں تھی۔۔
’’ یہی کہ میں یہاں جارہی ہوں ۔۔ میں وہاں جارہی ہوں ۔۔ میں یہ کر رہی ہوں ۔۔ میں وہ کر رہی ہوں ‘‘ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے وہ زنانہ انداز میں کہہ رہا تھا ۔
’’ سوچ ہے ۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی ۔۔ اور میں اس دھمکی سے ڈرنے بھی نہیں والی ۔۔ ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ تمہیں ڈرنا چاہئے امل ۔۔ یہ صرف دھمکی نہیں ہے ‘‘ وہ سنجیدہ تھا ۔۔
’’ میرے لئے یہ صرف دھمکی ہی ہے۔۔ اور اب ۔۔ ‘‘ اس نے موبائل مصطفی کے سامنے لہرایا تھا ۔۔
’’ میں اس موبائل سے سب سے پہلی کال فرہاد کو کرنے والی ہوں ۔۔ ‘‘ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی جانب گئ تھی ۔۔
’’ یہ دونوں واقعی ایک جیسے ہی ہیں ‘‘ وہ سوچ کر رہ گیا تھا۔۔
وہ اس وقت ایک ریسٹورانٹ میں بیٹھی تھی ۔۔ نظر بار بار موبائل پر جارہی تھی ۔۔ شاید کسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ اور پھر کچھ لمحوں بعد اس نے ایک شخص کو ریسٹورانٹ میں آتے دیکھا تھا ۔۔ وہ فورآ سیدھی ہوئی تھی ۔۔ وہ اس اسکی جانب آرہا تھا۔۔
’’ اسلام و علیکم ڈئیر ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔
’’ وعلیکم اسلام ‘‘ وہ مسکرائی نہیں تھی ۔۔
’’ کیسی ہو تم ؟ ‘‘ اسکا سنجیدہ انداز دیکھ کر اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔۔
’’ کیوں بلایا ہے تم نے مجھے ؟ ‘‘ اسکی جانب جھکتے ہوئے اس نے دھیمے انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ تمہیں برا لگا ؟ ‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔ آواز میں افسوس تھا ۔۔
’’ تم جانتے ہو کہ ہمارا ملنا خطرناک ہے ۔۔ اگر کسی نے ہمیں ساتھ دیکھ لیا تو سب ختم ہوجائے گا ‘‘ وہ دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔ مگر اس آواز میں غصہ جھلک رہا تھا ۔۔
’’ یہاں ہمیں کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔۔ تم پریشان مت ہو ۔۔ ‘‘ تسلی دینے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔
’’ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔۔۔ جلدی بولو کیا کہنا ہے ؟ ‘‘ موبائل پر وقت دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ تم نے مجھے اپنے یہاں آنے کا کیوں نہیں بتایا ؟ ‘‘ وہ اس سے شکایت کر رہا تھا ۔۔
’’ میرے بتانے نہ بتانے سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ تمہیں معلوم تو ہو ہی گیا تھا ‘‘ وہ اب بھی غصہ تھی ۔۔
’’ مجھے کبھی معلوم نہ ہوتا اگر میں تمہیں ہسپتال میں نہ دیکھتا ۔۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا مایا ۔۔ ‘‘ وہ اسے یقین دلانا چاہتا تھا۔۔
’’ ہاں ۔۔ سارے اتفاق ہمارے ساتھ ہی تو ہوتے ہیں ۔۔ میں نے جب جب تم سے چھپ کر کچھ بھی کیا ہے ۔۔ تم ہمیشہ اتفاق سے سب جان کر میرے سامنے آجاتے ہو ۔۔ یہی بات ہے نہ ‘‘ طنزیہ انداز تھا ۔۔
’’ میں نے اگر تم پر نظر رکھی ہوتی تو تم جانتئ ہو کہ آج تم یہاں نہ بیٹھی ہوتی ۔۔ اور آج میں ہر وہ کام کرچکا ہوتا جو میں کرنا نہیں چاہتا ۔۔۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا ۔۔ تم پر نظر نہیں رکھ رہا میں ۔۔ نہ ہی تمہارا پیچھا کر رہا ہوں ۔۔ یہ صرف ایک اتفاق ہے کہ تم مجھ سے چھپ نہیں پاتی ۔۔۔ کیونکہ قدرت ایسا چاہتی ہی نہیں ہے ۔۔ آخر وہ ہمارے رشتے سے واقف جو ہے ‘‘ آخری الفاظ اس نے معنی خیز انداز سے کہے تھے ۔۔
’’ ہمارا رشتہ ؟؟ ‘‘ وہ کہہ کر کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اپنا بیگ اٹھایا تھا ۔۔ وہ شخص بھی کھڑا ہوچکا تھا ۔۔
’’ ہمارے بیچ اب کوئی رشتہ نہیں ہے فرہاد ۔۔۔ وہ رشتہ ۔۔ اسی رات ختم ہو گیا تھا ۔۔۔ اس رات تم نے دو نہیں ۔۔۔ چار انسانوں کو جلا دیا تھا ۔۔ اور میں بھی ۔۔۔ میں بھی ان میں شامل تھی ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے جاچکی تھی ۔۔ جبکہ فرہاد اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اسکی آنکھیں لال تھیں ۔۔
’’ نہیں مایا ۔۔۔۔ اس رات ۔۔۔ میں نے چار نہیں ۔۔۔ پانچ انسانوں کو جلایا تھا ۔۔ ‘‘ وہ کہہ رہا تھا ۔۔ مگر اسے سننے کے لئے مایا وہاں موجود نہیں تھی ۔۔۔
وہ یونیورسٹی آئی تو سامنے ہی اسے فرہاد کھڑا نظر آیا تھا ۔۔ وہ اسکی جانب آئی تھی ۔۔
’’ یہاں کیوں کھڑے ہیں ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ تمہارا انتظار کررہا تھا ‘‘ امل کچھ حیران ہوئی تھی ۔۔
’’ یہ آپ سے تم پر کافی جلدی نہیں آگیا ؟ ‘‘ وہ سوچ کررہ گئ تھی ۔۔
’’ کیوں ؟ ‘‘ امل نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہم نے پریسوئس اسائنمنٹز کمپلیٹ کرنے ہیں امل ۔۔ میں نے سوچا آج کا دن ہم اسی پر لگا دیں ‘‘ وہ کہہ رہا تھا ۔۔ مگر امل اسکی بات نہیں سمجھی تھی ۔۔
’’ لیکن آج تو ہماری بہت امپارٹنٹ کلاسس ہیں ۔۔ اسائنمنٹس کا تو ٹائم نہیں مل سکے گا ‘‘
’’ میں جانتا ہوں ۔۔ اسی لئے تمہارا ویٹ کررہا تھا کہ اگر تم چاہو تو ہم یونیورسٹی آف ہونے کے بعد یہ کام کر سکتے ہیں ‘‘ فرہاد کی بات پر وہ تھوڑی اور کنفیوز ہوئی تھی ۔۔
’’ مگر یہ گھنٹوں کا کام ہے ۔۔ ہم یونیورسٹی کے بعد کیسے کرینگے ؟ میرا مطلب ہے کہ کہاں ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا اور فرہاد نے گہری سانس لی تھی ۔۔
’’ میرے گھر ۔۔ ‘‘ اس کے جواب پر امل کی آنکھیں حیرت سے کھل گئ تھی ۔۔ اور فرہاد فوراً گڑبڑایا تھا ۔۔
’’ میرا مطلب ہے میں ، تم ، شانزے اور احمد ۔۔ ہم چاروں وہاں ہونگے ۔۔ ساتھ کام کرینگے ۔۔ اور پھر ڈنر تک فری ‘‘ اس نے ڈیٹیل بتائی تھی ۔۔ اور امل نے سمجھ کر سر ہلایا تھا ۔۔
’’ تو پھر ۔۔۔ ؟ ‘‘ اسے خاموشی دیکھ کر فرہاد نے دوبارہ پوچھا تھا ۔۔
’’ میں بتادونگی آپ کو ۔۔ ابھی کلاس میں چلیں ۔۔ ‘‘ اس نے فلحال ٹالنا ہی مناسب سمجھا تھا ۔۔ وہ مصطفی سے مشورہ لینا چاہتی تھی ۔۔
’’ اوک چلو ‘‘ کہہ کر وہ دونوں کلاس کی جانب بڑھے تھے ۔۔
وہ آج ہاسپٹل نہیں گئ تھی ۔۔ وجہ کل ہونے والی ملاقات تھی ۔۔ وہ اب بھی پریشان تھی ۔۔
اس وقت بھی وہ سوچوں میں گم بیٹھی تھی ۔۔ جب سٹڈی سے نکل کر مصطفی اسکی جانب آیا تھا ۔۔
’’ لنچ ریڈی ہوگیا ؟ ‘‘ کچن میں جاتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔ مگر مایا کی جانب سے کوئی جواب نہ آنے پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔ وہ کہیں اور ہی گم تھی ۔۔
’’ مایا ۔۔۔۔ ‘‘ اس نے پکاراتھا ۔۔ اور وہ چونکی تھی ۔۔
’’ ہاں ۔۔۔ ؟؟ ‘‘
’’ کہاں گم ہو تم ؟ ‘‘
’’ کہیں نہیں ۔۔۔ لنچ ریڈی ہے ۔۔ تم بیٹھو میں لگاتی ہوں ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ نہیں ۔۔۔ پہلے بتاؤ مجھے ۔۔ کیا سوچ رہی تھی تم ؟ ‘‘ اس کے سامنے آکر اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ کچھ نہیں مصطفی ۔۔ بس سر میں تھوڑا درد ہے اس لئے ‘‘ نظریں چراتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور مصطفی نے بہت غور سے اسے دیکھا تھا ۔۔
’’ مایا ۔۔۔ مجھے سچ سچ بتاؤ ۔۔ کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ وہ اب سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
’’ مصطفی وہ ۔۔۔ ‘‘ وہ ہچکچائی تھی ۔۔
’’وہ ۔۔۔ ؟؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ میں اس سے ملی تھی ‘‘ دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔
’’ کس سے ؟ ‘‘ مصطفی سمجھ نہیں سکا تھا ۔۔
’’ میں کل ۔۔۔۔۔ ‘‘ اور مصطفی کے موبائل کی آواز نے اسکی بات کاٹ دی تھی ۔
’’ ایک منٹ ۔۔ ‘‘ وہ اب اپنےموبائل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔ امل کی کال تھی ۔۔
’’ ہاں امل کہو ‘‘ کال ریسیو کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ واٹ ۔۔۔ !! وہ تقریباً چیخا تھا ۔۔ جبکہ مایا بھی اب اسکی جانب متوجہ ہوچکی تھی ۔۔
’’ چیخ کیوں رہے ہو ۔۔۔ ‘‘ شانزے سے کچھ دور کھڑی وہ اسے کہہ رہی تھی ۔۔
’’ سوچنا بھی مت ۔۔ میں کہہ رہا ہوں امل سوچنا بھی مت ۔۔۔ ماسٹر کی بات بھول گئ تم ‘‘ مصطفی دائیں بائیں جانب چکر لگاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر امل کے پاس پہنچ جائے اور اسے روک لے ۔۔
’’ سوچنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے مصطفی ۔۔۔ اور یہ اپنے ماسٹر کا ذکر مت کیا کرو میرے سامنے ‘‘ اس نے جیسے مصطفی کو وارننگ دی تھی ۔۔
’’ ٹھیک ہے نہیں کرتا میں انکا ذکر ۔۔ مگر تم نہیں جاؤگی ۔۔۔ سمجھ گئ ؟ ‘‘ وہ اسے صاف منع کرچکا تھا ۔۔ اور امل نے مزید کوئی بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔
’’ سوچونگی ‘‘ کہہ کر اس کی کال کٹ کردی تھی ۔۔ اور دوسری جانب مصطفی تو جیسے تڑپ گیا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ مایا نے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ کچھ نہیں ‘‘ اسے کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔۔ وہ مایا کو اس بارے میں نہیں بتا سکتا تھا ۔۔ مگر امل نے اسے واقعی پریشان کر دیا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ وہ مصطفی سے بات کر کے پلٹی تھی کہ شانزے نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ انہوں نے منع کردیا ‘‘ اس نے کاندھے اچکا کر کہا تھا ۔۔
’’ مگر کیوں ؟ ‘‘
’’ ظاہر ہے شانزے ۔۔ فرہاد کے گھر اس طرح جانا کچھ عجیب ہی لگے گا نہ ۔۔ اسے جانتے ہوئے ابھی اتنا عرصہ ہی کہا ہوا ہے ہمیں ؟ ‘‘ بات تو امل کی بھی ٹھیک تھی ۔۔
’’ تو پھر ایک کام کرتے ہیں ‘‘ کچھ سوچتے ہوئے شانزے نے کہا تھا ۔۔
’’ کیا ؟ ‘‘
’’ فرہاد کے گھر جانے میں پروبلم ہے نا ۔۔۔ میرے تو نہیں ۔۔ ہم میرے گھر چلتے ہیں ‘‘ اور مسئلہ چٹکیوں میں حل ہوگیا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ یہ ہوسکتا ہے ‘‘ امل اب سوچ میں پڑ چکی تھی ۔۔
’’ بس پھر ڈن ہے یہ ۔۔ تم یہاں رکو میں احمد اور فرہاد کو لے کر آتی ہوں ‘‘ وہ کہہ کر پلٹ چکی تھی ۔۔ جبکہ امل اب مصطفی کو دوبارہ کال ملا رہی تھی ۔۔
’’ اب کیا ہوا ۔۔۔ مت کہنا کہ تم جارہی ہو ‘‘ مصطفی کی تیز آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔
’’ افو مصطفی آرام سے بات کیا کرو ۔۔ کانوں میں درد ہوجاتا ہے تمہاری آواز سے ‘‘ اپنے کان پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جیسے واقعی درد ہورہا ہو ۔۔
’’ مجھے بتاؤ کہ تم کیا کرنے والی ہو ‘‘ مصطفی پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔۔
’’ ہم شانزے کے گھر جارہے ہیں ۔۔ ‘‘ امل نے پرسکون انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ امل ۔۔ امل ۔۔۔ امل ۔۔ سمجھ کیوں نہیں آتی تمہیں ۔۔۔ تم نہیں جاسکتی ‘‘ وہ اب اپنے بال نوچنے لگا تھا ۔۔
’’ بس کردو مصطفی ۔۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔۔ اور فرہاد اتنا بھی خطرناک نہیں ہے جتنا تم نے بنا دیا ۔۔ میں جارہی ہوں اور رات ڈنر کے بعد آؤنگی ۔۔ بائے ‘‘ اور مصطفی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی امل نے کال کٹ کر دی تھی ۔۔
’’ ڈرپوک ‘‘ دل میں مصطفی کو نوازا گیا تھا ۔۔
اسے شانزے اب فرہاد اور احمد کے ساتھ اسکی جانب آتی نظر آئی تھی۔۔ وہ مسکرائی تھی ۔۔
موبائل وائیبریٹ ہوا تھا ۔۔اور اس نے موبائل کی جانب دیکھا ۔۔ کسی کا مسیج تھا ۔۔۔ یقیقناً مصطفی ہی ہوگا ۔۔
سوچتے ہوئے اس نے مسیج آن کیا ۔۔۔
’’ تم اس فرہاد سے کے ساتھ کہیں نہیں جاؤگی ۔۔ ‘‘ اور وہ رک گئ تھی ۔۔ یہ ماسٹر کا مسیج تھا ۔۔ اور اگلے ہی لمحے ایک اور مسیج آیا تھا ۔۔
’’ مجھے انڈرایسٹیمیٹ مت کرو امل ۔۔۔ ایک گھنٹے میں تم واپس اپنے فلیٹ نہیں پہنچی ۔۔ تو آگے جو ہوگا اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی ‘‘
یہ ایک کھلی دھمکی تھی ۔۔ کچھ پل کے لئے ۔۔۔ بس کچھ پل کے لئے ۔۔ وہ ڈر گئ تھی ۔۔
’’ چلیں ۔۔ ‘‘ فرہاد کی آواز اسے ٹرانس سے باہر لے کر آئی تھی ۔۔ اس نے خالی نظروں سے فرہاد کی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ چلیں امل ۔۔ ‘‘ اسے خاموش دیکھ کر فرہاد نے دوبارہ کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ چلو ‘‘ اور وہ انکے ساتھ چل پڑی تھی ۔۔
’’ تم مجھ سےچھپ کر مجھ پر آرڈر نہیں چلا سکتے ماسٹر ۔۔۔ میں تمہیں سامنے آنے پر مجبور کر دونگی ‘‘ وہ اپنے خیال میں ماسٹر سے مخاطب تھی ۔۔ اس نے موبائل میں موجود اسکا مسیج بنا جواب دیئے ڈیلیٹ کر دیا تھا ۔۔ اور اب وہ مسکراتی ہوئی ۔۔ ان کے ساتھ جارہی تھی ۔۔
مصطفی پورا وقت پریشان رہا تھا ۔۔ مایا اس کی پریشانی دیکھ رہی تھی مگر وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں رہی تھی ۔۔ مصطفی نے کہا کہ امل اپنی دوست کے گھر اسائنمنٹ ریڈی کرنے گئ ہے ۔۔ اور اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات تھی ۔۔۔؟؟
یہ رات کے نو بجے کا وقت تھا ۔۔ اور مصطفی ٹیرس پر کھڑا باہر دیکھ رہا تھا۔۔ امل اب تک واپس نہیں آئی تھی ۔۔۔
’’ تمہیں نہیں لگ رہا کہ تم اس کے لئے ضرورت سے زیادہ پریشان ہورہے ہو ۔۔ وہ کوئی بچی نہیں ہے مصطفی ‘‘ مایا اب چڑنے لگی تھی ۔۔۔
’’ پریشان میں اسکے نہیں ماسٹر کی وجہ سے ہوں مایا ۔۔۔ تم جانتی ہو کہ جو حرکت اس نے آج کی ہے ۔۔ ماسٹر اسے معاف نہیں کریں گے ‘‘
’’ وہ اپنی فرینڈ کے ساتھ کام کرنے گئ ہے ۔۔ اس میں ایسا کچھ غلط نہیں ہے کہ تم اور ماسٹر اسے روکو ‘‘ مایا کو اب بھی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔
’’ تم نہیں سمجھ سکتی مایا ۔۔۔ جاکر ریسٹ کرو تم ‘‘ وہ مایا کو فرہاد کے بارے میں نہیں بتا سکتا تھا ۔۔ اس نے امل سے وعدہ کیا تھا ۔۔
’’ جیسا تمہیں ٹھیک لگے ۔۔ کھڑے رہو یہیں ۔۔ اسکے انتظار میں ‘‘ وہ کہہ کر اپنے کمرے میں آچکی تھی ۔۔ صبح سے اسکا موڈ خراب تھا ۔۔
کچھ دیر اسی طرح گزری تھی ۔۔ مگر پھر اچانک مصطفی کو ایک گاڑی فلیٹ کے سامنے رکتی ہوئی نظر آئی تھی ۔۔ وہ فوراً اسکی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
ڈرائیونگ سیٹ سے احمد باہر نکلا تھا ۔۔ جبکہ پچھلی سیٹ سے امل اور فرہاد باہر نکلے تھے ۔۔
’’ تھینک یو ‘‘ اپنا بیگ کاندھے سے لگاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کوئی بات نہیں ۔۔ تھینکس ٹو یو ۔۔ تم نے بہت مدد کی آج ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ یور ویلکم ۔۔ بائے ۔۔ ‘‘ دونوں کو ایک ساتھ کہا تھا ۔۔
’’ بائے ‘‘ اب وہ اپنے فلیٹ کی جانب آئی تھی ۔۔ اور مصطفی فوراً ٹیرس سے نکل کر دروازے کی جانب آیا تھا ۔۔
بیل بجنے سے پہلے ہی اس نے دروازہ کھول دیا تھا ۔۔
’’ کیا بات ہے ۔۔ بہت بے چینی سے انتظار ہورہا تھا میرا ‘‘ مسکرا کر کہتی ہوئی وہ اندر آئی تھی۔۔ مگر مصطفی نہیں مسکرایا تھا ۔۔
’’ یہ کیا کرتی پھر رہی ہو تم ؟ ‘‘ اسکا بازو پکڑتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
’’ کیا کیا ہے میں نے ؟ ‘‘ وہ انجان بنی تھی ۔۔
’’ انجان مت بنو امل ۔۔ تم نے کہا تھا کہ تم شانزے کے گھر جارہی ہو ۔۔ مگر اتنی رات کو تم اسکے ساتھ یہاں آئی ہو ۔۔ وہ بھی اکیلی ۔۔۔ دماغ خراب ہے تمہارا ‘‘ وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہہ رہا تھا ۔۔ جیسے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔
’’ میں شانزے کے گھر ہی گئ تھی ۔۔ وہ مجھے اکیلے نہیں آنے دے رہے تھے ۔۔ فرہاد تو بس مجھے ڈراپ کرنے آیا تھا ‘‘
’’ تم مجھے کال کرسکتی تھی ۔۔ میں آجاتا تمہیں لینے ۔۔ ‘‘ وہ اب بھی غصے میں تھا ۔۔
’’ تم آخر اتنا غصہ کیوں ہورہے ہو مصطفی ۔۔؟؟ فرہاد مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔۔ تم جانتے ہو وہ مجھے نہیں پہچانتا ‘‘ امل نے کہا تھا ۔۔ اور اس سے پہلے کہ مصطفی جواب دیتا ۔۔ اس کے موبائل کی مسیج ٹیون نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔
’’ اسے آج کی حرکت کی سزا ضرور ملے گی ۔۔۔ جسٹ ویٹ ایڈ واچ ‘‘
اس نے مسییج پڑھ کر امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ اب وہ پہلے سے زیادہ پریشان لگ رہا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ امل نے پوچھا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی نے اپنا موبائل اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔ امل نے مسیج پڑھا تھا ۔۔
’’ میری پریشانی کی وجہ فرہاد نہیں ۔۔ ماسٹر تھے امل ۔۔۔ تمہیں فرہاد نہیں ۔۔ ماسٹر نقصان پہنچانے والے ہیں ‘‘
اور مصطفی کے الفاظ نے اس بار امل کو بھی ڈرا دیا تھا ۔۔۔ جانے کیوں ۔۔۔ مگر پہلی بار۔۔۔۔ پہلی بار اسے لگا کہ اس نے کچھ غلط کردیا ہے ۔۔ اور اب کچھ غلط ہونے والا ہے ۔۔
پوری رات ان دونوں میں سے کوئی بھی سکون سے نہیں سوسکا تھا ۔۔ مصطفی کی پریشانی امل تھی ۔۔ اور امل کی پریشانی وہ خود تھی ۔۔۔ وہ یونیورسٹی جانے کے لئے تیار ہوکر اپنے کمرے سے باہر نکلی تو مصطفی بھی اسے آج تیار نظر آیا تھا۔۔ شاید وہ بھی کہیں جارہا تھا ۔۔
’’ تم کہیں جارہے ہوکیا ؟ ‘‘ اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ ‘‘ مختصر جواب تھا۔۔ وہ اس سے ناراض تھا ۔۔
’’ کہاں ؟؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ تمہیں یونیورسٹی چھوڑنے ‘‘ اسکی جانب دیکھے بنا کہا تھا ۔۔
’’ مگر مصطفی اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں چلی جاؤ۔۔۔۔ ‘‘ اور مصطفی کی سنجیدہ نگاہوں نے اسکی بات مکمل نہیں ہونے دی تھی ۔۔۔
’’ چلو ‘‘ چائے ختم ہوتے ہی وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر کی جانب بڑھا تھا ۔۔ اور امل گہری سانس لے کر اسکے پیچھے ۔۔
پورے راستے وہ دونوں خاموش رہے تھے ۔۔ نا ہی مصطفی نے کوئی بات کی اور نا ہی اسے کچھ سمجھ آیا ۔۔ مگر وہ اتنا سوچ چکی تھی کہ وہ مصطفی کو مناکر رہے گی۔۔۔
’’ کیا بات ہے۔۔ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو آج ‘‘ فرہاد کی آواز اسے سوچوں سے باہر لے کر آئی تھی ۔۔
’’ نہیں ۔۔ ٹھیک ہوں میں ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ آر یو شیور ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے فرہاد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ یس ۔۔۔ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور اس سے پہلے کہ فرہاد کوئی جواب دینا ایک آواز نے اسے روک لیا تھا ۔۔
‘’ آر یو مس امل ؟ ‘‘ ایک شخص انکے پاس کھڑا کہہ رہا تھا ۔۔
’’ یس ‘‘ امل نے جواب دیا تھا ۔۔
’’ میڈم باہر آپکے کزن آپ سے ملنے آئے ہیں ‘‘ اس شخص نے کہا تھا ۔۔
’’ میرا کزن ؟ ‘‘ پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیاتھا ۔۔ مگر پھر مصطفی کا خیال آتے ہی وہ اٹھی تھی ۔۔
’’ مجھے چلنا ہوگا فرہاد ۔۔ پھر ملاقات ہوتی ہے ‘‘ فرہاد سے کہہ کر وہ باہر آئی تھی ۔۔
اسے خوشی تھی کہ مصطفی اسے لینے آیا ہے ۔۔ مگر اسے پریشانی بھی تھی۔۔ وہ ناراض ہے اس سے ۔۔ اور اس نے سوچ لیا تھا ۔۔ وہ آج اس کے لئے سپیشل ڈنر بنا کر اسے منالیگی ،۔
وہ یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس آکر آس پاس دیکھ رہی تھی مگر مصطفی اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا ۔۔
’’ کہاں کھڑا ہے یہ ؟ ‘‘ موبائل نکالتے ہوئے اس نے کہاتھا ۔۔ وہ مصطفی کو کال ہی کرنے لگی تھی کہ اچانک ۔۔۔
کسی نے اسکے ناک پر رومال رکھا تھا ۔۔۔ اس کے ہاتھ سے موبائل گر گیا تھا ۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ مگر اس شخص کی گرفت مضبوط تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ کچھ دیر بعد ۔۔ اس نے اپنے جسم کو کمزور ہوتا محسوس کیا تھا ۔۔۔ اس کے ہاتھ پہلو میں گرے تھے ۔۔ اور اس کی آ نکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا ۔۔۔
بلکل ویسا ہی اندھیرا ۔۔۔ جیسا اس رات بھی تھا ۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ جانے کیا ہوا تھا ۔۔ ؟؟؟
