Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 04)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

’’ کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں ؟ ‘‘ اس نے خود کو کہتے سنا تھا ۔۔ سامنے بیٹھے شخص نے آنکھ کھول کر اسے دیکھا تھا ۔۔

گرے ٹی شرٹ اور جینز پہنے ، کلین شیو ، سانولی رنگت مگر پر کشش نقوش ، آنکھیں لال ۔۔ جیسے کئ راتوں سے سویا نہ ہو ۔۔ شانزے نے ٹھیک کہا تھا ۔۔ وہ بہت ہینڈسم تھا ۔۔ مگر وہ کچھ پریشان تھا ، اس کی آنکھیں اسے سب بتا رہی تھیں۔۔

وہ ہولے سے سر ہلا کر سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔۔ اور امل اس کے ساتھ بیٹھ گئ تھی ۔۔

’’ بیسٹ آف لک ‘‘ جھک کر اس کے کانوں میں سرگوشی کر کے شانزے ان کے پیچھے بیٹھ چکی تھی ۔۔ وہ بس مسکرا دی تھی ۔۔

کلاس کا پورا وقت خاموشی سے ہی گزرا تھا ۔۔ دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔ دونوں ہی اپنی اپنی کسی سوچ میں گم تھے ۔۔

’’ چلیں ؟ ‘‘ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر شانزے نے کہا تھا ۔۔

’’ کہاں ؟ ‘‘ وہ سمجھی نہیں تھی ۔۔

’’ میڈم کلاسس اوور ہوچکی ہے ۔۔ کہاں گم ہو تم ؟ ‘‘

’’ یہیں ہوں ۔۔ چلو چلتے ہیں ؟ ‘‘ اس نے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ایکسکیوزمی ؟ ‘‘ وہ دونوں کلاس سے باہر آچکی تھیں ۔۔ جب کسی کی آواز نے انہیں روکا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہی شخص انکی طرف آرہا تھا ۔۔

’’ جی کہیں ‘‘ جواب شانزے کی جانب سے آیا تھا ۔۔

’’ آپکی نوٹ بک رہ گئ تھی ۔۔ ‘‘ نوٹ بک اس کی جانب بڑھائی تھی ۔۔

’’ تھینک یو ‘‘

’’ یور ویلکم ‘‘ وہ کہہ کر واپس پلٹ چکا تھا ۔۔ جبکہ شانزے اب اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔

’’ تھینک یو ۔۔ ہاں ‘‘ اسکی نقل اتاری گئ تھی ۔۔

’’ کیا ہاں ؟ ‘‘ کاندھے اچکا کر کہتی وہ آگے بڑھی تھی ۔۔

’’ مطلب یہ کہ تم نے بات کا آغاز کر ہی لیا ۔۔۔ پہلے تو بڑا کہہ رہی تھی ۔۔ آئی ایم ناٹ انٹرسٹڈ ۔۔ اسے دیکھتے ہی ارادہ بدل گیا تمہارا ؟ ‘‘ اس کے کاندھے پر کاندھا مارتے ہوئے اس نے چھیڑا تھا ۔۔

’’ کوئی ارادہ نہیں بدلا میرا ۔۔ وہ تو میں نے سوچا دیکھ لوں۔۔ آخر ایسا ہے کیا اس میں ؟ ‘‘ صاف انکار ہوا تھا ۔۔

’’ اچھا تو پھر کیا دکھا تمہیں اس میں ؟ ‘‘

’’ بے سکونی ‘‘ اس کے دل نے کہا تھا ۔۔ مگر ہونٹوں نے کوئی اور الفاظ ادا کئے تھے ۔۔

’’ کچھ نہیں ۔۔ بس ٹھیک ہی ہے ۔۔ باقی سب کی طرح ‘‘ انداز ٹالنے والا تھا ۔۔

’’اوہو ۔۔ بس ٹھیک ہی ہے ۔۔ بنو مت زیادہ ‘‘ اور اس نے شانزے کی بات پر صرف مسکرانا ہی ٹھیک سمجھا تھا ۔۔ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ ٹھیک تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔

احمد نے گاڑی یونیورسٹی کے سامنے روکی تھی ۔۔ نظر یونیورسٹئ کے گیٹ پر تھی ۔۔ وہ یہاں آیا تو فرہاد کے لئے تھا ۔۔ مگر ملنا وہ کسی اور سے بھی چاہتا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد سے اسے دو لڑکیاں باہر آتی دکھائی دی تھیں ۔۔۔ وہ فوراً گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔

’’ کیسی ہو تم ؟ ‘‘ ان کے قریب آتے ہی اس نے شانزے سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ۔۔ تم کیسے ہو ؟ ‘‘ اس نے مسکرا کر پوچھا تھا ۔۔

’’ اب بلکل ٹھیک ہوں ‘‘ انداز معنی خیز تھا ۔۔

’’ پوچھ تو ایسے رہے ہیں جیسے کئ دنوں سے بات نہیں ہوئی ۔۔ بند کرو یہ ڈرامے پلیز ‘‘ امل نے دونوں کو ٹوکا تھا ۔۔

’’ ویری فنی ‘‘ شانزے نے جواب دیا تھا ۔۔ جواب میں امل کچھ کہنے ہی والی تھی کہ کسی کی آواز نے اسے روک دیا تھا۔

’’ کیا ہورہا ہے یہاں ؟ ‘‘

’’ ارے باس ۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ میں تو بس شانزے سے خیریت پوچھ رہا تھا ‘‘ احمد تو فوراً ہی گڑبڑا گیا تھا ۔۔

’’ ہاں۔۔ دن میں کئ بار تم بس یہی تو کرتے ہو ‘‘ اسے جواب دیتے ہوئے وہ اب ان دونوں لڑکیوں کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔ چہرے کے تعصورات کچھ سنجیدہ ہوئے تھے ۔۔

’’ آپ ۔۔ آپ شانزے ہیں ؟؟ ‘‘ اس نے امل سے پوچھا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ یہ شانزے ہے ‘‘ امل نے شانزے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ اور اس کے چہرے کے تعصورات کچھ بدلے تھے ۔۔

’’ اوہ اچھا ۔۔۔ نائس ٹو میٹ یو مس شانزے ۔۔ احمد بہت یاد کرتا ہے آپکو ‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ بولو نا ؟ ‘‘ امل نے شانزے سے کہا تھا ۔۔

’’ کیا بولوں ؟ ‘‘ وہ سمجھی نہیں تھی ۔۔

’’ یہی کہ میں بھی بہت یاد کرتی ہوں احمد کو ‘‘ اس کی بات پر وہ تینوں ہنسنے لگے تھے جبکہ شانزے نے اسے گھورا تھا ۔

’’ بائے دا وے ۔۔ شی از امل ۔۔ مائی بیسٹ فرینڈ ‘‘ اس نے فرہاد سے کہا تھا ۔۔

’’ ہیلو مس امل ۔۔ نائس ٹو میٹ یو ‘‘ فرہاد اب امل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ ہائے ‘‘ آواز دھیمی تھی ۔۔

’’ اب تم بھی کہو نا ؟ ‘‘ شانزے نے کہا تھا ۔۔ اور امل سمجھ چکی تھی ۔۔ اس نے بدلا تو لینا ہی تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘

’’ نائس ٹو میٹ یو ٹو مسٹر فرہاد ‘‘ اس کی بات پر امل نے اسے گھورا تھا ۔۔

’’ سی یو اگین ‘‘ اتنا کہہ کر پلٹی تھی ۔۔

’’ اس نے کہا ہے کہ وہ آپکو دوبارہ دیکھے گی ‘‘ شانزے نے فرہاد کی جانب جھک کر کہا تھا ۔۔

’’ شانزے ‘‘ امل کی کڑکتی آواز پر وہ گڑبڑائی تھی ۔۔

’’ بائے گائز ‘‘ وہ کہہ کر اب اس کے ساتھ چلنے لگی تھی ۔۔ جبکہ وہ وہی کھڑا ان دونوں کو جاتے دیکھ رہا تھا ۔۔

’’ چلیں باس ؟ ‘‘ احمد کی آواز پر وہ چونکا تھا ۔۔

’’ یہ جو لڑکی ہے ۔۔ امل ۔۔۔ یہی کی رہنے والی ہے ؟ ‘‘ وہ الجھے انداز میں پوچھ رہا تھا ۔۔

’’ بیسک تو نہیں معلوم مجھے ۔۔ مگر شانزے کی کالج فرینڈ ہے یہ ۔۔ ‘‘ احمد نے سوچتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔

’’ ہمم ۔۔ چلو ‘‘ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ احمد بھی اپنی جگہ آکر بیٹھ چکا تھا ۔۔

کچھ دیر دونوں میں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔ مگر احمد کو یہ خاموشی توڑنی پڑی تھی ۔۔

’’ امل کا کیوں پوچھ رہے تھے تم ؟ ‘‘ وہ جو کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔۔ اس کے سوال پر چونکا تھا ۔۔

’’ ایسے ہی ۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اسے کہیں دیکھا ہے میں نے ‘‘ سنجیدہ انداز تھا ۔۔ وہ اب بھی کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔

’’ مجھے ایسا نہیں لگتا ۔۔ تم اتنے عرصے سے یہاں تھے نہیں اور وہ تو کئ سالوں سے یہاں ہے ‘‘ احمد نے اپنا اندازہ بتایا تھا ۔

’’ ہوسکتا ہے ‘‘ وہ کہہ کر خاموش ہوگیا تھا ۔۔ مگر دماغ ۔۔۔ دماغ جانے کیوں بار بار اس لڑکی کی جانب جارہا تھا ۔۔ ؟؟



وہ یونیورسٹی سے آکر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ۔۔ اسے آرام کرنا تھا ۔۔ یہ اس نے مصطفی سے کہا تھا ۔۔ مگر وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ ایسا نہیں تھا ۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔ جب سے آئی تھی ۔۔ کھوئی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔ مصطفی نے اس سے زیادہ سوال نہیں کئے تھے ۔۔ مگر وہ جاننا چاہتا تھا ۔۔

ڈنر کا وقت ہوچکا تھا ۔۔ مایا بھی ہسپتال سے آچکی تھی ۔۔ مصطفی اب اسے کھانا کھانے کے لئے بلانے آیا تھا ۔۔

’’ اب اٹھ جاؤ سلیپنگ بیوٹی ۔۔ ڈنر لگ چکا ہے ‘‘ کمرے کے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر اس نے پکارا تھا ۔۔

’’ مجھے بھوک نہیں ہے مصفطی ‘‘ تھکی ہوئی آواز آئی تھی ۔۔ اور وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ سوئی نہیں تھی ۔۔

’’ بھوک کے لئے کھانا بھی نہیں ہے تم نے ‘‘ اس نے جواب دیا تھا ۔۔

’’ پھر کس لئے کھانا ہے میں نے ؟ ‘‘ سنجیدہ آواز تھی ۔۔

’’ دروازہ کھولو ۔۔ پھر بتاتا ہوں ‘‘ اس نے ایک اور بار دروازہ ناک کیا تھا۔۔۔ اور امل نے دروازہ کھولا تھا ۔۔ وہ اب بھی صبح والے کپڑوں میں ہی تھی ۔۔ بکھرے ہوئے بال ۔۔ اور اداس چہرہ ۔۔۔ مصطفی کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔

’’ یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے ؟ ‘‘

’’ کیا ہوا ہے میرے حلیے کو ؟ ‘‘ خود کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کھانا کھاؤ پھر بتاتا ہوں ‘‘ وہ کہہ کر پلٹا تھا ۔۔

’’ میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا مصطفی ؟ ‘‘ اس نے پھر انکار کیا تھا ۔۔

’’ لیکن میرا دل تو چاہ رہا ہے نہ ؟ کیا میرا دل توڑ دوگی تم بیوٹیفل گرل ‘‘ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے فلمی انداز میں کہا تھا۔۔

’’ تم بھی نا ‘‘ مسکراتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چلنے لگی تھی ۔۔ مایا نے دونوں کو ساتھ آتے دیکھا تو اپنی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔

’’ کیسی ہیں آپ ؟ ‘‘ اپنی چئیر پر بیٹھتے ہوئے امل نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ۔۔ تم بتاؤ یونیورسٹی میں پہلا دن کیسا رہا ؟ ‘‘ مسکرا کر پوچھا تھا ۔۔

’’ اچھا تھا ۔۔۔ بہت اچھا ‘‘ انداز معنی خیز تھا ۔۔ مایا اور مصطفی نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’چلو کھانا کھاتے ہیں ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اور وہ تینوں اب کھانے کے طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔۔

کھانے کے بعد مایا اپنے کمرے میں جاچکی تھی ۔۔ جبکہ مصطفی اپنے اور امل کے لئے چائے بنا رہا تھا ، اور امل لاؤنچ میں اسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔

وہ آج کے دن کو ہی سوچ رہی تھی ۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے آگے کیا کرنا ہے ۔۔ مگر وہ اتنا ضرور جانتی تھی کہ اسے شہزاد شاہ تک پہنچنا ہے ۔۔ پھر چاہے اس کے لئے اسے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑجائے ۔۔۔

’’ چائے ‘‘ چائے کا کپ اسکے سامنے کرتے ہوئے مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اس نے مسکرا کر کپ تھاما تھا ۔۔ وہ اب بلکل اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔

’’ تو آج تمہارا دن ’ بہت اچھا ‘ کیسے رہا ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ظاہر ہے ۔۔۔ اس قید سے نکلنے کے بعد سب بہت اچھا ہی لگے گا مجھے ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

’’ تم جانتی ہو کہ یہ جگہ اب قید نہیں ۔۔ تمہاری رہائش بن چکی ہے ۔۔ اس لئے مجھے سچ بتاؤ ۔ کیا کر کے آرہی ہو تم ؟ ‘‘ امل نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ وہ سنجیدہ تھا ۔۔

’’ یونیورسٹی کیا کرنے گئ تھی میں مصطفی ؟ تم بار بار مجھ سے یہ تفتیش کیوں کر رہے ہو ؟ ‘‘ وہ اب چڑنے لگی تھی ۔۔

’’ اوہ ۔۔۔ ‘‘ مصطفی کے جواب دینے سے پہلے ہی وہ کچھ سمجھ کر بولی تھی ۔۔

’’ تمہارے اسی ماسٹر نے کہا ہوگا نہ تمہیں ؟ مجھ سے انویسٹیگیشن کرو ۔۔ کیا کیا میں نے ؟ کیوں کیا ؟ کہاں کیا؟ یہی بات ہے نہ ؟ ‘‘ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ تم غلط سمجھ رہی ہو امل ‘‘ نرم لہجے میں کہا تھا ۔

’’ ہاں بلکل ۔۔ میں غلط سمجھ رہی ہوں ۔۔ تم سب تو بلکل ٹھیک سمجھتے ہو ‘‘ چائے کا کپ میز پر پٹخ کر وہ واپس جانے لگی تھی جب مصطفی نے اسکا بازو پکڑ کر اس روکا تھا ۔۔

’’ میری بات سنو ‘‘ اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔۔ وہ اب اسے گھور رہی تھی ۔۔ اور اس کے ہاتھ کو ۔۔۔

’’ سوری ‘‘ مصطفی نے اسکا بازو چھوڑا تھا ۔۔

’’ میں تمہارا دوست ہوں امل ۔۔ یہ سب میں ماسٹر کے لئے نہیں ۔۔ اپنے لئے پوچھ رہا ہوں ۔۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم پریشان ہو ۔۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کسی گہری سوچ میں گم ہو ۔۔ اور میں محسوس کررہا ہوں کہ تم کچھ چھپا رہی ہو ۔۔ کچھ ایسا جو تم کر چکی ہو ۔۔۔ ‘‘ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا تھا ۔۔ اور امل اس کے ہر لفظ پر حیران ہورہی تھی ۔۔

’’ اور تم یہ سب کیسے جانتے ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔

’’ کیونکہ میں تمہارا دوست ہوں ۔۔ اور تمہیں دیکھ کر تمہارے اندر کا حال جان جاتا ہوں میں ‘‘ اس نے اب اسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔

’’ دیکھو امل ۔۔ تم اکیلی ہو ۔۔ اور کوئی ایک ایسا ہونا چاہئے جسے تم سب بتا سکو اور جو تمہیں بنا کسی غرض کے مشورہ دے سکے یا تمہارے کام آسکے ۔۔ تمہیں کسی نہ کسی پر اعتبار تو کرنا ہی ہے نہ ؟ تو پھر مجھ کرلو ۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔ ایک اچھے دوست کی طرح تمہارا ساتھ دونگا ‘‘ وہ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر کہہ رہا تھا ۔۔ امل نے کچھ دیر اسے دیکھا ۔۔ اور پھر ایک گہری سانس لے کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے دور کیا تھا ۔۔ اب وہ چلتی ہوئی کھڑکی کے پاس آئی تھی ۔۔

’’ میں آج اپنی ایک پرانی دوست سے ملی۔۔۔ شانزے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور مصطفی نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔ وہ اسے منانے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔۔

’’ کیا اسے سب بتا دیا ‘‘ اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا ۔۔ نظر امل کی پشت پر تھی ۔۔۔

’’ نہیں ۔۔ صرف اتنا بتایا ہے ۔۔ جتنا ہر انسان کو بتایا جاسکتا ہے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ گڈ ۔۔۔ اور پھر ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اور امل نے اسے سب بتایا شروع کیا تھا ۔۔۔ جسے وہ بہت غور سے سن رہا تھا۔۔



وہ اپنے فلیٹ میں داخل ہوا تھا ۔۔ ہاتھ میں کچھ فائیلز تھیں جنہیں لاؤنچ پر رکھی میز پر رکھ کر وہ صوفے پر نیم دراز ہوا تھا ۔۔ وہ کافی تھک چکا تھا ۔۔ آج پورا دن اس نے بہت کام کیا تھا ۔۔ اب اسے آرام کرنا تھا ۔۔ ابھی اسے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اس کے موبائل کی بیپ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔۔ اس نے دیکھا کسی نمبر سے مسیج آیا تھا ۔۔

’’ آج کی رپورٹ میل کر دی ہے ماسٹر ‘‘

مسیج پڑھتے ہی وہ سیدھا ہوا اور اپنے کمرے کی جانب آیا تھا ۔۔ کمرے سے لیپ ٹاپ اٹھا کر وہ دوبارہ باہر آیا اور لیپ ٹاپ آن کیا ۔۔

اس کے پاس ایک میل آئی تھی ۔۔ اس نے وہ کھولی تھی ۔۔

’’ آج وہ تین لوگوں کے زیادہ قریب نظر آئی تھیں ‘‘ اس کے ساتھ ہی اٹیچ فائل میں کچھ تصاویر تھیں ۔۔

اس نے تصاویر کھولی تھیں ۔۔

پہلی تصویر ۔۔۔

’’ وہ ایک لڑکی کے ساتھ کیفے ٹیریا میں بیٹھی تھی ‘‘

دوسری تصویر ۔۔۔

’’ وہ کلاس میں ایک شخص کے سامنے کھڑی تھی ۔۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر تھیں ‘‘

تیسری تصویر ۔۔

’’ وہ اب اس شخص کے ساتھ بیٹھی تھی ‘‘

چوتھی تصویر ۔۔۔

’’ وہ شخص اسے کوئی نوٹ بک دے رہا تھا ۔۔ ساتھ ایک لڑکی بھی تھی ‘‘

آخری تصویر ۔۔۔

’’ وہ یونیورسٹی کے باہر انہیں دونوں کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔ مگر اب ساتھ ایک اور لڑکا بھی تھا ۔۔ وہ چاروں ہنس رہے تھے‘‘

اور اسکی ہنسی پر اسکی نظریں رک گئ تھیں ۔۔۔ اس نے امل کی جانب زوم کیا تھا ۔۔ وہ ہنس رہی تھی ۔۔ اور یہ بناوٹی ہنسی نہیں تھی ۔۔ آخر کون تھے یہ لوگ ؟ جن کے ساتھ وہ اتنی خوش تھی ؟

اس نے موبائل اٹھاکر کسی کو کال کی تھی ۔۔

’’ مجھے ان تینوں لوگوں کے بارے میں معلوم کر کے بتاؤ ۔۔ کون ہیں ؟ کیا کرتے ہیں ؟ اور اس سے کیا تعلق ہے انکا ؟‘‘ ایک آرڈر پاس کر کے اس نے موبائل پھینکنے کے انداز میں رکھا تھا ۔۔

اب اس نے دوبارہ ان تصاویر کو دیکھا تھا ۔۔

’’ تم ایک ہی شخص کے ساتھ چار تصاویر میں کیوں نظر آرہی ہو ۔۔۔ مائی ہارٹ ؟ ‘‘ اسکی تصویر کو زوم کر کے اس نے کہا تھا۔۔ جیسے وہ اسے ہی کہہ رہا ہو؟ جیسے وہ اس سے ہی پوچھ رہا تھا ؟ جیسے وہ اسے سن رہی تھی ۔۔۔



’’ واٹ !!! ‘‘ وہ تقریباً چیختا ہوا کھڑا ہوا تھا ۔۔ اور اس کے اچانک چیخنے سے امل اچل کر پلٹی تھی ۔۔ ہاتھ سیدھا دل پر رکھا تھا ۔۔

’’ کیا ہوگیا ہے مصطفی ۔۔ ڈرا دیا تم نے مجھے ‘‘

’’ ڈرا دیا !!۱ تم کہہ رہی ہو کہ میں نے ڈرا دیا ؟؟ ‘‘ وہ تو جیسے کسی صدمے میں کہہ رہا تھا ۔۔

’’ امل امل امل !! تم جانتی ہو تم نے کیا کیا ہے ؟؟ ‘‘ اب وہ باقاعدہ چکر لگانے لگا تھا ۔۔

’’ ایسا کیا کردیا ہے میں نے جو تم اس طرح رئیکٹ کر رہے ہو ؟ ‘‘ عام سا انداز تھا ۔۔

’’ ایسا کیا کردیا ؟؟ واہ واہ واہ !! ایسا کیا کردیا ۔۔۔ میڈم تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم نے کیا کیا ہے ؟؟؟ ‘‘ اس کے سامنے آکر وہ کہہ رہا تھا ۔۔

’’ شہزاد شاہ کے رائیٹ ہینڈ سے جاملی ہو تم ۔۔ اگر اس نے تمہیں پہچان لیا تو جانتی ہو کیا ہوگا تمہارا ؟ ‘‘ اسکی بے وقوفی پر وہ حیران تھا ۔۔

’’ پہنچانا تو نہیں نہ ۔۔۔ اور اگر پہنچان بھی لیا تو کیا کر لے گا ۔۔ شہزاد شاہ کے پاس لے جائیگا نا مجھے ۔۔ وہیں تو جانا چاہتی ہوں میں ‘‘ وہ اب بھی پرسکون تھی ۔۔

’’ وہ تمہیں مار دیگا امل ‘‘ اسکا بازو پکڑ کر کہا تھا ۔۔

’’ وہ مجھے مار چکا ہے مصطفی ۔۔ مرا ہوا انسان مرنے سے نہیں ڈرتا ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور مصطفی نے اب اپنا سر پکڑ لیا تھا ۔۔

’’ تم اب اس سے بات نہیں کروگی ۔۔۔ بس ‘‘ حتمی انداز میں کہا تھا ۔۔۔

’’ تم جانتے ہو میں ایسا کچھ نہیں کرونگی ‘‘ اسکا انداز بھی اٹل تھا۔۔

’’ ماسٹر ۔۔ تم ماسٹر کو بھول رہی ہو امل ‘‘ وہ جیسے اسے یاد دلا رہا تھا ۔۔

’’ اسےکیسے بھول سکتی ہوں میں ‘‘ انداز طنزیہ تھا ۔۔

’’ تو یاد رکھو ۔۔ یاد رکھو امل ۔۔ ماسٹر کو معلوم ہوا تو قیامت آجائے گی ‘‘ وہ اسے ڈرانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔

’’ مجھے کسی قیامت سے ڈر نہیں لگتا ۔۔ اور تمہارے ماسٹر کی قیامت سے تو بلکل بھی نہیں ‘‘ وہ انتہائی لاپرواہ تھی ۔۔

’’ ڈرنا چاہئے ۔۔ تمہیں ڈر لگنا چاہئے ۔۔ ابھی انہیں جانتی نہیں ہو تم ۔۔ بہت کڑک انسان ہیں۔۔ وہ غلطی معاف نہیں کرتے۔۔ اور نہ ہی دوسرا موقع دیتے ہیں ۔۔ انہیں اگر تمہاری اس حرکت کا معلوم ہوگیا تو تم گئ ‘‘ اپنی گردن سے ہاتھ گزارتے ہوئے وہ اسے گردن کٹنے کا اشارہ دے رہا تھا ۔۔ جس پر امل بے اختیار مسکرائی تھی ۔۔

’’ تمہیں کیا لگتا ہے مصطفی ؟ کیا اسے معلوم نہیں ہوا ہوگا ؟؟ ‘‘ اور امل کے اس جواب نے مصطفی کو حیران کردیا تھا۔۔

’’ کیا مطلب ؟ ‘‘

’’ مطلب یہ کہ اسے معلوم ہو ۔۔۔ یہی تو میں چاہتی ہوں ۔۔۔ اسی لئے تو کیا ہے میں نے یہ ‘‘ معنی خیز انداز تھا ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔

’’ اور اس سے کیا ہوگا ؟ ‘‘ وہ اسکی سوچ کی گہرائی تک جانا چاہتا تھا ۔۔ جہاں وہ کچھ سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔

’’ اس کے بعد ۔۔۔ وہ مجبور ہوجائے گا ۔۔۔ میرے سامنے آنے پر ‘‘ اس پر ایک مسکراہٹ اچھال کر وہ اپنے کمرے کی جانب مڑ گئ تھی ۔۔ جبکہ مصطفی ۔۔ وہی کھڑا اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

’’ تو یعنی جنگ شروع ہوگئ ہے ‘‘ وہ سوچ کر رہ گیا تھا ۔۔۔



اگلی صبح وہ تیار ہوکر کمرے سے باہر نکلی تو آج بھی اسے مصطفی کچن میں چائے بناتا نظر آیا تھا ۔۔

’’ تو تم نے چائے بنانی کی ڈیوٹی اپنے سر لی ہوئی ہے ‘‘ شیلف کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ یہی سمجھ لو ۔۔۔ جلدی اٹھنے کی عادت ہے مجھے ۔۔ اور کام بھی کرنا ہوتا ہے ‘‘ چائے کا کپ اسکے سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کیا کام کرتے ہو تم ؟ ‘‘ اسے اب پوچھنے کا خیال آیا تھا ۔۔

’’ باس کا اسسٹنٹ ہوں ۔۔ کسی کا ڈیٹا نکالنا ہو ، کسی کی جاسوسی کرنی ہو ، کسی پر نظر رکھنی ہو ، ہیکنگ کرنی ہو اور اس طرح کا ہر کام کرلیتا ہوں میں ‘‘ فخریہ انداز تھا ۔

’’ انٹرسٹنگ ۔۔۔ پھر تو میری معلومات بھی نکلوائی ہوگی ‘‘ چائے کا گھونٹ بھرا تھا ۔۔

’’ آفکورس ۔۔ اور تمہاری معلومات سیکیور بھی کردی ہے تاکہ کوئی اور تمہارا پاسٹ ناجان پائے ‘‘

’’ گڈ ۔۔۔ ویسے تمہارے ماسٹر کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘ چائے کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔

’’ یہ میں تمہیں نہیں بتاسکتا ‘‘

’’ ہاں ۔۔ دوستی کے ساتھ ساتھ باس کی وفاداری بھی تو نبھانی ہے ‘‘ طنزیہ انداز میں کہہ کر وہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔

’’ کوئی بات نہیں ۔۔ ویسے بھی بہت جلد مجھے سب معلوم ہوجائے گا ‘‘ کہہ کر وہ وہاں سے جاچکی تھی ۔۔

مصطفی نے گہری سانس لے کر اپنا موبائل اٹھایا تھا ۔۔ نظر کسی کے کچھ دیر پہلے آئے مسیج پر گئ تھی ۔۔

’’ کیا اس نے تمہیں کچھ بتایا ؟ ‘‘

‘’ نہیں ۔۔‘‘ ایک مختصر سا جواب دے کر اس نے موبائل واپس رکھا تھا ۔۔

آخر دوستی بھی تو نبھانی تھی ۔۔۔

وہ آج پھر اس کے ساتھ آکر بیٹھی تھی ۔۔۔ جبکہ شانزے ابھی تک یونیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔

’’ اسلام و علیکم ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ وہ بھی مسکرایا تھا ۔۔

’’ وعلیکم اسلام ۔۔۔ کیسی ہیں آپ ؟ ‘‘

’’ بہت اچھی ۔۔ آپ کیسے ہیں ؟ ‘‘ بیگ سے ایک بک نکالی تھی ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ‘‘ اور پھر کلاس میں پرافیسر آئے تھے ۔۔ دونوں کی انکی جانب متوجہ ہوگئے تھے ۔۔

کلاس کے دوران ہی شانزے بھی آگئ تھی ۔۔ اور اسے آنکھ مار کر وہ پیچھے رکھی خالی کرسی میں جابیٹھی تھی ۔۔ اس کی اس حرکت پر وہ مسکرائی تھی ۔۔ اور اس کی یہ مسکراہٹ ساتھ بیٹھے فرہاد نے بھی دیکھی تھی ۔۔۔

’’ لگتا ہے لیکچر بہت اچھا لگ رہا ہے آپ کو ؟ ‘‘ سرگوشی کی تھی ۔۔ اور امل حیران ہوئی تھی ۔۔

’’ نہیں ۔۔ مجھے تو بورنگ لگ رہا ہے ‘‘ اس نے اسکی غلط فہمی دور کی تھی ۔۔

’’ سچ میں ۔۔ !! ‘‘ اب حیران ہونے کی باری اس کی تھی ۔۔۔

’’ جی ۔۔ کیوں ؟ آپ کو نہیں لگ رہا کیا ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ لگ رہا تھا ۔۔ مگر آپکو مسکراتے دیکھا تو احساس ہوا شاید یہ اتنا بھی بورنگ نہیں ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور امل نے کچھ دیر ایسے ہی اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ میں شانزے کی ایک حرکت پر مسکرائی تھی ‘‘ اس نے نظر سامنے پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اوہ ! اچھا ‘‘ کہہ کر وہ بھی سامنے دیکھنے لگا تھا ۔۔

کلاس ختم ہونے کے بعد وہ شانزے کے ساتھ کلاس سے باہر نکلی تھی ۔۔ جب فرہاد نے اسے روکا تھا۔۔

’’ کیسی ہیں مس شانزے آپ ؟ ‘‘ اس نے شانزے سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ۔۔ آپ بتائیں بہت خوش لگ رہے ہیں ‘‘ معنی خیز انداز تھا ۔۔ جس پر امل نے اسے گھورا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں میں بھی ۔۔ امل کیا آپ میری مدد کر سکتی ہیں ؟ ‘‘ شانزے کو اگنور کر کے وہ امل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ جی ضرور ۔۔ مگر کیا کرنا ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ میں ایکچولی تین مہینے تک یونیورسٹی نہیں آسکا تھا ۔۔ جسکی وجہ سے کافی لاس ہوا ہے ۔۔ کیا آپ مجھے پچھلے دنوں کے سائنمنٹس کاپی کرنے کے لئے دے سکتی ہیں ‘‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل کا دل زور سے دھڑکہ تھا ۔۔ مگر خوف سے ۔۔ وہ تین مہینے بعد یونیورسٹی آیا تھا ۔۔ تو کیا وہ اس کام میں شریک رہا تھا ؟؟

اور اسی سوچ کے ساتھ اسکا خون تیزی سے جسم میں دوڑنے لگا تھا ۔۔ ایسا لگ رہا تھا ۔۔ جیسےوجود میں کرنٹ دوڑ رہا ہو ۔۔

’’ امل ؟ ‘‘ اسے مسلسل خود کو گھورتے اور سوچ میں گم دیکھ کر فرہاد نے دوبارہ پوچھا تھا ۔۔

’’ ایکچولی فرہاد ۔۔ امل اس معاملے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکے گی ۔۔ کیونکہ یہ تو خود شہر سے باہر تھی ۔۔ آپکی طرح یہ بھی ابھی ہی واپس آئی ہے ‘‘ شانزے نے جواب دیا تھا ۔۔ شاید وہ امل کی حالت سمجھ گئ تھی ،۔۔ مگر سامنے کھڑے فرہاد کو کسی چیز نے چونکایا تھا ۔۔۔

’’ آپ بھی تین مہینے بعد آئی ہیں ؟؟؟ کیوں ۔۔ کہاں تھیں ؟ ‘‘ اس نے سوال کئے تھے ۔۔ جانے کیوں ؟

’’ ایکچولی یہ اپنے والدین کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ ‘‘

’’ شانزے ۔۔۔ مجھے بھوک لگی ہے ‘‘ امل نے اچانک اسکی بات کاٹ دی تھی ۔۔ شانزے کچھ حیران ہوئی تھی۔۔

’’ آفکورس ۔۔۔ مگر آپ پریشان مت ہوں فرہاد ۔۔ میں آپ دونوں کو کل نوٹس دے دونگی ۔۔ آپ دونوں آپس میں بیٹھ کر کمپلیٹ کر لیجئے گا ‘‘

’’ تھینکس ‘‘ فرہاد نے کہا تھا ۔۔ نظر امل کے چہرے پر تھی ۔۔ جیسے وہ وہاں کچھ ڈھونڈ رہا ہو ۔۔

’’ اوک بائے ‘‘ وہ کہہ کر پلٹ چکی تھیں ۔۔ جبکہ فرہاد ان دونوں کو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

’’ تم نے مجھے روکا کیوں تھا ؟ اور اچانک تمہیں کیا ہوا ؟ ‘‘ اسکے ساتھ چلتے ہوئے شانزے نے پوچھا تھا ۔۔

’’ کچھ نہیں۔۔۔ میرے سر میں بہت درد ہے بس ‘‘ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ آر یو شیور کے یہی بات ہے ؟ ‘‘ اسے اب بھی شک تھا ۔۔۔

’’ کیا تمہیں کوئی اور بات ہونے کا انتظار ہے ؟ ‘‘ چڑ کر سوال کیا تھا ۔۔

’’ انتظار تو ہے ۔۔۔ مگر کچھ اچھا ہونے کا ‘‘ معنی خیز انداز تھا ۔۔

’’ دیکھتے ہیں ‘‘ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

وہ یونیورسٹی سے باہر نکل کر اپنی گاڑی کی جانب آیا تھا ۔۔۔

’’ کیا بات ہے ؟ اچانک کیوں بلایا مجھے ؟ ‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے احمد نے پوچھا تھا ۔۔

’’ وہ لڑکی کون ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ کون لڑکی ؟ ‘‘ وہ سمجھا نہیں تھا ۔۔

’’ امل ۔۔۔ کیا جانتے ہو تم اس کے بارے میں ؟ ‘‘ احمد نے دیکھا ۔۔ اس کے چہرے کے تعصورات خطرناک تھے ۔۔

’’ بس اتنا ہی کہ وہ شانزے کی دوست ہے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ مجھے آج شام تک ۔۔۔ اس کے بارے میں ساری ڈیٹیل چاہئے ۔۔۔ ہر ۔۔ ایک ۔۔ بات ۔۔ ہر ۔۔ ایک ۔۔ چیز ‘‘ ٹھہر ٹھہر کر ایک ایک لفظ ادا ہوا تھا ۔۔

احمد نے پہلی بار اسکا یہ روپ دیکھا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *