Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 23)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 23)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
’’ یہ تم نے کیا کیا فرہاد ‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔۔ آج دو دن ہوگئے تھے اسے اس جگہ ۔۔ اس طرح بے جان پڑے ہوئے ۔۔ اور اسے نہیں یاد تھا کہ ان دو دنوں میں وہ ایک پل کے لئے بھی اس کے پاس سے ہٹی ہو ۔۔
’’ اس لڑکی کے لئے تم یہ سب کیسے کر سکتے ہو ۔۔ ایک بار بھی نہیں سوچا میرے لئے ۔۔۔ ہمارے پاس ایک دوسرے کے علاوہ ہے ہی کون ؟ ‘‘ اپنا ماتھا اس کے ہاتھ کی پشت پر ٹکایا تھا ۔۔
’’ تمہیں کچھ ہو جاتا تو پھر کون رہتا ؟؟ کون رہتا میرا اپنا فرہاد ۔۔ کیا وہ لڑکی مجھ سے زیادہ اہم ہے ؟؟ آخر ہے کون وہ لڑکی جس کے لئے تم نے یہ سب کیا ؟؟ کون ہے وہ امل ۔۔۔ کون ہے وہ ؟ ‘‘ اس کے آنسو فرہاد کے ہاتھوں کو گیلا کر چکے تھے ۔۔اور جانے ۔۔ یہ اس کے آنسوؤں کا اثر تھا ۔۔ یا پھر اس کے سوالات کا ۔۔ کہ اچانک ۔۔ اس کے ہاتھوں نے حرکت کی تھی ۔۔
’’ فرہاد ۔۔۔ ‘‘‘ اس نے چونک کر سر اٹھایا ۔۔۔ فرہاد کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھل رہی تھیں ۔۔
’’ شکر ہے ۔۔ شکر ہے تمہیں ہوش آیا ۔۔۔ فرہاد ۔۔ مجھے سن رہے ہو تم ؟ ‘‘ وہ اب اس پر جھکی کہہ رہی تھی ۔۔
’’ امل ۔۔۔۔ ‘‘ اور یہ پہلا لفظ تھا جو فرہاد نے ادا کیا تھا ۔۔
’’ مایا ۔۔ فرہاد ۔۔۔ مایا ہوں میں ‘‘ اسے لگا شاید وہ اسے پہچان نہیں سکا ۔۔۔ لیکن وہ امل کو کیوں پہچاننا چاہتا تھا ۔۔
’’ کیوں ۔۔ کیوں بچایا مجھے تم نے مایا ۔۔ مرنا چاہتا ہوں میں ۔۔نہیں جی سکتا اب ۔۔ مجھے مرنے دو ‘‘ آنسو کا ایک قطرہ فرہاد کی دائیں آنکھ سے نکل کر تکیے پر جزب ہوا تھا ۔۔
’’ مرنا چاہتے ہو ؟؟ اس لڑکی کے لئے مرنا چاہتے ہوں ۔۔ اور میں ؟ میں کیا کرونگی فرہاد ؟ تمہارے علاوہ اور ہے ہی کون میرا ؟ ‘‘ اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔ اسے فرہاد پر افسوس اور غصہ دونوں ایک ساتھ آرہا تھا ۔۔
’’ اسکا بھی تو کوئی نہیں بچا ۔۔ میں نے اسکا کوئی نہیں چھوڑا مایا ۔۔ میں اسکا سامنا نہیں کرسکتا ۔۔ میں ایسے نہیں جی سکتا ‘‘ اسکا لہجہ اسکا درد ظاہر کر رہا تھا ۔۔ اور اس کے اس درد پر مایا کو حیرت ہوئی تھی ۔۔
’’ آخر تمہیں اسکی اتنی پرواہ کیوں ہورہی ہے فرہاد ۔۔۔ تم تو اسے مارنا چاہتے تھے نا ؟ تو مار دو ۔۔ مار دو اسے اور آزاد ہوجاؤ اس عذاب سے ‘‘ وہ شاید خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے ۔۔ یا شاید وہ جان کر سب کہہ رہی تھی ۔۔ اپنے بھائی کو اس حال میں دیکھ کر آج وہ سب کچھ بھول گئ تھی ۔۔ مصطفی ، امل ۔۔ اور انصاف ۔۔۔ سب ۔۔
’’ کوئی اپنی محبت کو کیسے مار سکتا ہے مایا ؟ کیسے ؟ ‘‘ اور فرہاد کے الفاظ نے ایک بار پھر ۔۔ اسے حیران کر دیا تھا ۔۔ وہ بس اسے دیکھتی رہ گئ تھی ۔۔ محبت ۔۔ اور فرہاد ۔۔ وہ بھی امل سے ۔۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
’’ تمہیں اس سے محبت کب ہوئی فرہاد ؟ ‘‘ ایک قدم پیچھے ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔
’’ اسی پل ۔۔ جب میں نے اپنی آنکھ کھولی ۔۔ اور سامنے اسے کھڑا دیکھا ۔۔ وہ میرے ساتھ بیٹھنا چاہتی تھی ۔۔ ‘‘ وہ مسکرایا تھا۔۔ ایسے جیسے ایک بار پھر وہ منظر اسکی نظروں کے سامنے سے گزر رہا ہو ۔۔
’’ اور میں نے اسے بیٹھنے دیا ۔۔ جانتی ہو کیوں ؟ کیونکہ میں چاہتا تھا وہ میرے ساتھ ہی بیٹھے ۔۔ میں تو پوری زندگی اس کے ساتھ رہنا چاہتا تھا مایا ۔۔ مگر دیکھو ۔۔۔ دیکھو کیا ہوا میرے ساتھ ۔۔‘‘ وہ آگے بھی کہہ رہاتھا ۔۔ اور مایا آگے بھی سن رہی تھی ۔۔۔ حیرانگی سے ۔۔ بے یقینی سے ۔۔
✵✵✵✵
’’ کیا ہوا ؟ تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو ؟ ‘‘ واجد نے مصطفی سے پوچھا تھا ۔۔ وہ جانے جب سے سوچ کے کسی اور جہاں میں گم تھا ۔۔
’’ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے واجد ۔۔ کچھ ایسا جو نہیں ہونا چاہئے ‘‘ دھیمی آواز میں کہاتھا ۔۔ اسے جب سے فرہاد کے بارے میں معلوم ہوا تب سے ہی اسے پریشانی ہورہی تھی ۔۔ یہ ایسا نہیں تھا جیسا اس سب نے پلین کیا تھا ۔۔ انہیں تو لگا کہ فرہاد امل کو دوبارہ مارنے کی کوشش کرے گا ۔۔ اور وہ اسے رنگے ہاتھوں پکڑیں گیں ۔۔ مگر فرہاد کے ایسےرئیکشن کی تو کسی نے بھی امید نہیں رکھی تھی ۔۔ لیکن یہ صاف ظاہر ہوچکا تھا ۔۔ کہ امل سے محبت کرتا ہے ۔۔ مگر ۔۔ اب کیا ؟؟ کیا اب وہ اس محبت میں امل کی مدد کرے گا ؟ یا پھر ۔۔ وہ امل کے لئے زیادہ خطرناک بن جائے گا ۔۔ جو بھی تھا ۔۔ دونوں صورتوں میں ہی حالات بگڑنے والے تھے ۔۔۔
’’ ہم سب شروع سے جانتے تھے مصطفی کہ ان سب میں کبھی بھی کچھ بھی برا ہوسکتا ہے ۔۔ ‘‘
’’ ہاں ۔۔ مگر امل کے لئے مجھے بہت ٹینشن ہورہی ہے واجد ۔۔ اسے کوئی نقصان نہ ہو ‘‘ وہ واقعی امل کے لئے بے حد پریشان تھا ۔۔
’’ امل کی سیکیورٹی کا انتظام ہم بہت پہلے کر چکے ہیں مصطفی ۔۔ اسے ہمارے ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ‘‘
’’ امید ہے ایسا ہی ہو ‘‘ اس کے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ یقین تو وہ کرنا چاہتا تھا مگر جانے کیوں ۔۔ دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا ۔۔ جانے کیوں ؟
✵✵✵✵✵
وہ بے چین تھا ۔۔ بے حد بے چین ۔۔ اور یہ بےچینی بے سبب نہیں تھی ۔۔ یہ امل کی خاموشی سے تھی ۔۔
جب سے اسے فرہاد کی حالت کا معلوم ہوا تھا ۔۔ وہ جانے کیوں بلکل خاموش ہوگئ تھی ۔۔
اور یہی خاموشی تو ماسٹر کو پریشان کر رہی تھی ۔۔ ایک ہی سوال تھا جو پچھلے دو دن سے اسے بے چین کر رہا تھا ۔۔ مگر اب اور نہیں ۔۔ وہ اب مزید یہ سب برداشت نہیں کرسکتا ۔۔
’’ امل کہاں ہے ؟ ‘‘ اس نے کچن میں موجود ملازمہ سے پوچھا تھا ۔۔
’’ جی صاحب وہ باہر لان میں ہیں ‘‘ ملازمہ کا جواب سنتے ہی وہ لان کی جانب آیا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ لان میں لگے جھولے پر بیٹھی تھی ۔۔ نظریں آسمان پر تھیں ۔۔ مگر وہ جانتا تھا کہ صرف نظریں ہی آسمان پر تھیں ۔۔ جبکہ امل خود تو کہیں اور تھی ۔۔۔ مگر کہاں ؟ اور اسی سوچ کے ساتھ وہ تیزی سے امل کی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ کیا دیکھ رہی ہو ؟ ‘‘ ماسٹر کی آواز اسے سوچوں کی دنیا سے باہر لائی تھی ۔۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ اسکے پاس آکر بیٹھا تھا ۔۔
’’ اسکی شان ۔۔ ‘‘ ایک اداس مسکراہٹ لئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ؟ ‘‘وہ سمجھا نہیں تھا ۔۔
’’ میں انصاف لینے چلی تھی ماسٹر ۔۔ اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو سزا دلوانے چلی تھی ۔۔ تم سب کے ساتھ ۔۔ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر میں انصاف کے راستے پر چلی تھی ۔۔ جانتے ہو۔۔ میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ میرا اب اس دنیا میں کوئی نہیں رہا ۔۔ میں سوچتی تھی کہ میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا ؟ اللہ نے مجھ سے ان دونوں کو کیوں چھین لیا ؟ مجھے اس دنیا میں اکیلا کیوں کردیا ۔۔ مگر پھر ۔۔ مجھے مصطفی ملا ۔۔ ایک بہت مخلص دوست ۔۔ جس نے مجھے حوصلہ دیا ۔۔ آگے بڑھنے کا ۔۔ جس نے میرے زخموں پر مرہم رکھا ۔۔ لیکن میں پھر بھی سوچتی تھی کہ یہ زندگی میرے کسی کام کی نہیں ہے ۔۔ کیوں زندہ ہوں میں؟ جب میرے ماں باپ نہیں رہے تو ۔۔ ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔ اور اپنے پاس بیٹھے نائل شاہ کا دیکھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ بہت غور سے ۔۔
’’ پھر تم میرے سامنے آئے ۔۔ مجھے بہت تنگ کرنے کے بعد ماسٹر ۔۔ تم میرے سامنے آہی گئے ۔۔ تم نے مجھے مقصد دیا ۔۔ تم نے کہا کہ تم مجھے انصاف دلواؤگے ۔۔ تم نے کہا تم میرے لئے ۔۔ انصاف کے لئے اپنے ہی بابا کے خلاف ہوجاؤگے ۔۔ تم نے مجھے میری اس زندگی کا مقصد دیا ماسٹر ۔۔ تم نے مجھے احساس دلایا کہ میری یہ زندگی میرے ماں باپ کے قاتلوں کو سزا دینے کے لئے ہے ۔۔ اور میں تمہارے ساتھ چل پڑی ۔۔ تمہارے ساتھ اس حویلی میں آگئ ۔۔ تہارے ساتھ میں نے سامنا کیا ۔۔ اپنے ماں باپ کے قاتل ۔۔ فرہاد کا ۔۔ شہزاد شاہ تھا ۔۔ مگر ۔۔ ‘‘ وہ رکی تھی ۔۔
’’ مگر ؟ ‘‘
’’ مگر آج دیکھو ۔۔ میرے ماں باپ کو قتل کرنے والا ۔۔ میری محبت میں گرفتار بیٹھا ہے ۔۔۔ آج میرے ماں باپ کے قاتل کا ضمیر جاگ اٹھا ۔۔ اور یہ کیسا پر شدت دھچکہ تھا اس کے لئے ۔۔ کہ وہ اتنا جنونی ہوگیا ۔۔ مجھے مارنے کا ارادہ کرنے والا وہ شخص آج میرے سامنے آجانے کے ڈر سے خود کو مار چکا ہے ۔۔ آج اسکی حالت پر کتنا ترس آتا ہے نا ۔۔ اور جانتے ہو ۔۔ فرہاد کی یہ محبت میرے سامنے کیا لائی ہے ؟ ‘‘ وہ اب دوبارہ آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔
’’ کیا ؟ ‘‘
’’ اللہ ۔۔ آج میرے سامنے خدا آگیا ہے نائل ۔۔ آج مجھے احساس ہوا کہ اس سفر میں میرے ساتھ اللہ سب سے پہلے تھا ۔۔ اللہ سب سے پہلے ہے ۔۔ ہم نے جو کچھ بھی کیا ۔۔ مل کر کیا ۔۔ سوچ سمجھ کر کیا ۔۔ ہر خطرہ مول کر کیا ۔۔ ایک دوسرے کا ساتھ دے کر کیا ۔۔ مگر وہ اللہ ۔۔۔ ‘‘ وہ مسکرائی تھی ۔۔ ایک سچی مسکراہٹ ۔۔
’’ مگر وہ اللہ کتنی خاموشی سے سب کر گیا ۔۔ کتنی خاموشی سے اس نے میرے لئے انصاف کا راستہ کھول دیا ۔۔ کتنی خاموشی سے ۔۔ مجھے احساس بھی دلائے بنا ۔۔ اس نے میرے پاں باپ کے قاتل کو کیسی بہترین سزا دی نائل ۔۔ اس کے دل میں محبت ڈال دی ۔۔ اور پھر ۔۔ اسکا ضمیر جھنجھوڑ دیا ۔۔ کتنی بہترین سزا دی ۔۔ بے شک ۔۔ وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ‘‘ امل نے اپنی آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ایک پرسکون سانس ۔۔ جو جانے کتنے ہی عرصے بعد اسے نصیب ہوئی تھی ۔۔
’’ تم نے میرا نام لیا امل ‘‘ کچھ دیر بعد کی خاموشی کے بعد نائل نے کہا ۔۔ اور امل نے چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ ناسمجھی سے ۔۔
’’ بے شک وہ دلوں میں محبتوں کا بیج بونے والا ہے ۔۔۔ بہت خاموشی سے ۔۔ اور پھر ۔۔ یہ بیج پھوٹ کر اپنی جڑیں پھیلاتا ہے ۔۔ ہر کدورت کو مٹا دیتا ہے ۔۔ اور انسان کو جب تک اس کا احساس ہوتا ہے ۔۔ وہ ایک مضبوط درخت بن چکا ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا درخت ۔۔ جس کی جڑوں کو اگر اکھاڑنے کی کوشش بھی کریں جو دل تڑپ جاتا ہے ۔۔ دل پھٹ جاتا ہے۔۔ مگر یہ درخت ۔۔ پھر بھی قائم رہتا ہے ۔۔ ہمیشہ کے لئے ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ امل نے محسوس کیا کہ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا ۔۔ مگر شاید ۔۔ مناسب الفاظ کا چناؤ کر رہا تھا ۔۔
’’ ایک ایسا ہی ایک بیج اس رات اس نے میرے دل میں بھی بو دیا تھا امل ۔۔ اور جب مجھے اس کا احساس ہوا ۔۔ تو یہ ایک مضبوط درخت بن چکا تھا ۔۔ اس درخت کی جڑیں میرے دل میں پھیل چکی ہیں ۔۔ میں چاہ کر بھی اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتا ۔۔ ایسی سوچ بھی مجھے تڑپا دیتی ہے ۔۔ امل ۔۔ ‘‘ نائل نے اسے پکارا تھا جیسے ۔۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ۔۔ امل کو محسوس ہوا ۔۔ جیسے سینے میں کوئی چیز بہت زور سے دھڑک رہی ہو ۔۔ جیسے کوئی چیز باہر نکلنے کے لئے بے چین ہو ۔۔ مگر وہ خود کو کمپوز کیے بیٹھی تھی ۔۔ اسے مزید سننے کے لئے ۔۔
’’ دل پر لگا ہوا محبت کا درخت بنجارا ہوتا ہے ۔۔ اسے جب تک اپنے محبوب کی محبت کی چھینٹ نہیں ملتی ۔۔ یہ کھلتا نہیں ہے ۔۔ یہاں پت جھڑ رہتی ہے ۔۔ اور جس دن محبوب کی محبت کی پہلی چھینٹ اس پر پڑتی ہے ۔۔ اسی دن یہ پت جھڑ رک جاتی ہے ۔۔ محبت برستی ہے تو درخت کھل اٹھا ہے ۔۔ یہ پھل دیتا ہے۔ ہر طرف بس بہار ہوتی ہے ۔۔ ‘‘ وہ مسکرایا تھا ۔۔ ایک اداس مسکراہٹ ۔۔ اور امل نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ ایک دکھ ۔۔ ایک اداسی ۔۔ ایک کمی ۔۔۔ مگر کیوں ؟ وہ سمجھ نہیں سکی تھی ۔۔ اور اچانک وہ کھڑا ہوا تھا ۔۔ اس سے منہ موڑ کر ۔۔ امل کو لگا جیسے زندگی نے منہ موڑ لیا ہو ۔۔ دل اچانک ہی خاموش ہوگیا تھا ۔۔ جانے کیوں ؟
’’ میرا دل بنجر ہے امل ۔۔ میں محبت کی اس چھینٹ کا منتظر ہوں۔۔ میں بہار کو محسوس کرنا چاہتا ہو ۔۔ وہ اللہ جس نے فرہاد کے دل میں یہ درخت اگایا ۔۔ اور اسے جھنجوڑ دیا ۔۔ میں اس تڑپ کو محسوس کرنے سے ڈرتا ہوں امل ۔۔ کیا تم نہیں ڈرتیں ؟؟ ‘‘ ایک سوال ہوا تھا ۔۔ ایسا سوال ۔۔ جو امل کو حیران کر گیا تھا ۔۔
’’ کیا اس خدا نے ۔۔ اسی خاموشی سے ۔۔ تمہارے دل میں یہ بیج نہیں بویا امل ؟ کیا میرا انتظار لاحاصل ہے ؟ ‘‘ اور یہ وہ سوال تھے ۔۔ جنہوں نے امل کو کانپنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔ وہ کیا پوچھ رہا تھا اس سے ؟ اور یہ کیسی بے چینی ہونے لگی تھی اسے ۔۔ یہ کیسے سوال تھے ۔۔ جو اس کے دل اور دماغ کو متاثر کر رہے تھے ۔۔ یہ کیسے سوال تھے جنہوں نے اس دھڑکن کو مزید تیز کردیا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ وہاں سے جاچکا تھا ۔۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے اچانک کوئی مضبوط حصار ٹوٹا ہو ۔۔ اچانک ہی سب خالی ہوگیا ہو ۔۔ ہر چیز اچانک ہی ۔۔ بے معنی ہوگئ ہو ۔۔
اور اپنے اس خالی پن میں گم امل ۔۔ اپنے دل کی احساسات میں الجھی امل ۔۔ یہ محسوس ہی نہ کر سکی ۔۔ کہ کوئی نسوانی وجود ایک کونے میں چھپا ۔۔ سب سن چکا تھا ۔۔
✵✵✵✵
وہ ہسپتال سے باہر نکلی تھی ۔۔ ماتھے پر بل لئے ۔۔ غصے سے لال آنکھیں لئے ۔۔ ایک ارادہ لئے ۔۔ ایک سوچ لئے۔۔
اپنی گاڑی میں آکر اس نے ایک لفافہ نکالا تھا ۔۔ یہ وہی لفافہ تھا جو رمشائ کے ذریعے اس نے منگوایا تھا ۔۔ یہ لفافہ کھول کر اس نے ایک بار پھر وہ لیٹر پڑھا ۔۔ اور ایک معنی خیز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔
’’ تم نے میرے بھائی کو اپنے عشق کے جال میں پھنسا کر اپنا انتقام لیا امل ۔۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔ اب ۔۔۔ وہ کام جو فرہاد نے تمہاری محبت میں ادھورا چھوڑ دیا ۔۔ اسے میں پورا کرونگی ۔۔ میں اپنے بھائی کو سزا نہیں ہونے دونگی ۔۔ کبھی نہیں ۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ اس نے اپنی گاڑی آگے بڑھا دی تھی ۔۔
اب اگر ہسپتال کے اندر اس کمرے میں آؤ ۔۔ جہاں فرہاد پٹیوں میں جکڑا بیڈ پر آدھا بیٹھا تھا ۔۔ اس کے دائیں جانب رکھی کرسی پر احمد بیٹھا بغور اسکی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی ۔۔
’’ اب تم کیا کرو گے ؟ ‘‘ سوال احمد کی جانب سے ہوا تھا ۔۔
’’ میں یہ موقع نہیں گنواؤنگا ‘‘ پرسوچ انداز میں کہا تھا ۔۔ احمد نے دیکھا ۔۔ اس کی نظریں کھڑکی سے باہر آسمان کی جانب تھیں ۔۔ جیسے وہ کچھ تلاش کر رہا ہو ۔۔ جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہو ۔۔
’’ کیسا موقع ؟ ‘‘
’’ دوبارہ زندگی ملنے کا موقع ۔۔۔۔ میں اسے استعمال کرونگا احمد ‘‘ وہ جیسے ایک فیصلہ کر چکا تھا ۔۔
’’ اور کس کے لئے استعمال کروگے تم اسے ؟ ‘‘ احمد کو اسکی ذہنی حالت پر کچھ شک ہوا تھا ۔۔
’’ ضمیر سے آزادی کے لئے ‘‘ اور فرہاد کا جواب اسے سب سمجھا چکا تھا ۔۔
’’ آر یو شیور ؟ ‘‘
’’ ہنڈریٹ پرسنٹ ۔۔ اب جاؤ ‘‘ نظریں دوبارہ کھڑکی کی جانب کی تھیں ۔۔
’’ کہاں ؟ ‘‘
’’ نائل شاہ کے پاس ۔۔۔ اسے کہو ۔۔ مجھے اس سے بات کرنی ہے ‘‘ اور اس بار اس کی آواز میں پہلے سے زیادہ مضبوطی تھی ۔۔۔
✵✵✵✵
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی مسلسل کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔ جب سے امل اور نائل کی باتیں سنی تھی ۔۔ حقیقت ایک آئینے کی طرح اس کے سامنے ظاہر ہوچکی تھی ۔۔ اور جب سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی تھی ۔۔ اسے لگا کہ جیسے اب منزل حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا ۔۔
اب ذہن میں دو باتیں چل رہی تھی ۔۔ ایک یہ کہ کیا اسے شہزاد شاہ کو سب بتا دینا چاہئے ؟ اگر وہ ایسا کرتی ہے ۔۔ تو اس طرح نائل یہاں سے مزید دور چلا جائے گا ۔۔ لیکن وہ تو صرف امل کو راستے سے ہٹانا چاہتی ہے ۔۔ نائل اسے یہی اس حویلی میں ہی چاہئے ۔۔ اس کے ساتھ ۔۔ اور اگر وہ شہزاد شاہ کو کچھ نہیں بتاتی ۔۔ تو پھر وہ امل تو کیسے اپنے راستے سے ہٹا سکتی ہے ۔۔ جبکہ اسکے ساتھ نائل کھڑا ہے ۔۔ اب دونوں کے درمیان موجود ہے فرہاد ۔۔ فرہاد ہی ایک واحد راستہ ہے اس کے پاس ۔۔ مگر اسکی موجودہ حالت بتا رہی تھی کہ وہ شاید امل کے خلاف کچھ نہ کرے ۔۔
’’ کچھ سوچوں زویا ۔۔۔ کچھ سوچوں ۔۔ کچھ ایسا کے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ‘‘ وہ اب کمرے میں چکر لگا رہی تھی ۔۔۔ اچانک اس کے موبائل کی مسیج ٹیون بجی ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ کوئی انجان نمبر تھا ۔۔
’’ اگر نائل شاہ واپس چاہئے ۔۔۔ تو اس ایڈریس پر آدھے گھنٹے میں آجاؤ ۔۔ تمہاری محسن ‘‘
’’ میری محسن ؟ اب یہ کون ہے ؟ ‘‘ دماغ ایک نئ سوچ پر چل چکا تھا ۔۔ مگر جواب کوئی نہیں تھا ۔۔
’’ نائل شاہ تو ہر قیمت پر چاہئے ۔۔ دیکھتے ہیں ‘‘ کہتے ساتھ موبائل اپنے بیگ میں ڈال کر وہ بیگ اٹھاتی باہر کی جانب گئ تھی ۔۔۔ اپنی محسن سے ملنے ۔۔۔
وہ اس وقت اپنی اس چھوٹی سی سٹڈی میں بیٹھا تھا جو اس کے کمرے کے ساتھ ہی اٹیچ تھی ۔۔ آج اس نے اپنے دل کی بات امل سے کہہ دی تھی ۔ آج اس نے اظہار کر دیا تھا ۔۔جب سے فرہاد کی محبت امل پر ظاہر ہوئی تھی ۔۔ وہ ان سکیور محسوس کررہا تھا ۔۔اسے ڈر تھا ۔۔ کہ کہیں امل ۔۔ فرہاد کی محبت کے آگے نرم نہ پڑجائے ۔۔ کہیں فرہاد کی محبت کی شدت امل تک پہنچ کر اسے اس سے دور نہ کردے ۔۔ امل اس کے بارے کیا سوچتی ہے ؟ یہ وہ نہیں جانتا ۔۔ مگر وہ اتنا ضرور جانتا ہے کہ امل کے سوا ۔۔وہ کسی کے بارے میں کچھ نہیں سوچ سکتا ۔۔ امل کی خاموشی نے اسے مزید بے چین کر دیا تھا ۔۔ بہت سے سوالات تھے جو اس کے دماغ میں گھوم رہے تھے ۔۔۔ اور انکے جوابات صرف اور صرف امل کے پاس تھے ۔۔ مگر اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔ کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوکر پوچھ سکتا ۔۔ مگر ۔۔ اپنے اندر اتنی ہمت اس نے پیدا کر لی تھی کہ وہ امل تک اپنے جزبات پہنچا سکتا تھا ۔۔ اور آج اس نے یہ کردیا تھا ۔۔ یہ سوچ کر ۔۔ کہ شاید اب اسکی بے چینی کچھ کم ہوجائے۔۔ مگر نہیں ۔۔ اب وہ مزید بے چین ہوچکا تھا ۔۔ اب ایک نئ پریشانی اسے لاحق ہوچکی تھی ۔۔ امل کے جواب کی پریشانی ۔۔۔ اگر اس نے انکار کر دیا تو ؟ اگر وہ اس سے دور ہوگئ تو ؟ اور یہ سوچ ہی اسے ڈرانے کے لئے کافی تھی ۔۔
موبائل پر بجنے والی رنگ ٹیون ۔۔ اسے سوچوں کی دنیا سے باہر لائی تھی ۔۔
’’ ہیلو ‘‘
’’ نائل شاہ بات کر رہے ہیں ؟ ‘‘ ایک انجان آواز تھی ۔۔
’’ یس ۔۔ ہو آر یو ؟ ‘‘ سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ احمد ۔۔ فرہاد کا قریبی دوست ‘‘ اور اس کے جواب پر وہ چونک کر سیدھا ہوا تھا ۔۔
’’ تم ؟ کیوں کال کی ہے ؟ ‘‘ اسے ناجانے کیوں غصہ آنے لگا تھا ۔۔
’’ آپکو بتانے کے لئے ۔۔ کہ کل شام ۔۔ اس ایڈریس پر ۔۔ وہ آپکا انتظار کرے گا ۔۔ ‘‘ اور اسی کے ساتھ کال کٹ کر دی گئ تھی ۔۔ جبکہ نائل ۔۔ اپنی جگہ حیران رہ گیا تھا ۔۔ اب یہ شخص اس سے کیا چاہتا تھا ؟
اور یہاں سے کچھ دور ۔۔ ایک ریسٹورانٹ میں ۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی تھیں ۔۔
’’ کون ہو تم ؟ ‘‘ ویٹر کے جانے کے بعد زویا نے سامنے بیٹھی اس لڑکی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ سمجھو کہ تمہاری منزل کا راستہ ہوں ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اور تم میری منزل کیسے جانتی ہو ؟ ‘‘
’’ کیونکہ میں مایا ہوں ۔۔۔ اور مایا ۔۔ سب جانتی ہے ۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے کافی کا کپ اٹھایا تھا ۔۔
’’ مایا ۔۔ فرہاد کی بہن ؟ ‘‘ اس بار مسکرانے کی باری زویا کی تھی ۔۔
’’ تمہیں کیسے پتہ ؟ ‘‘ اور اس بار حیران ہونے کی باری مایا کی تھی ۔۔
’’ کیونکہ میں زویا شاہ ہوں ۔۔ اور شاہ سب جانتے ہیں ‘‘ مسکرا کر کافی کا کپ اٹھایا تھا ۔۔
’’ تو تمہیں سب معلوم ہوچکا ہے ۔۔ ‘‘
’’ ہاں ۔۔ آج ہی آشکار ہوا سب مجھ پر ‘‘
’’ گڈ ۔۔ تو پھر کام کی بات کرتے ہیں ۔۔ ‘‘ وہ اب اسکی جانب جھکی تھی ۔۔
’’ امل کو راستے سے ہٹا کر نائل کو حاصل کرنا چاہتی ہو نا تم ؟ ‘‘ دھیمی آواز میں پوچھا تھا ۔۔ اور اب زویا بھی اسکی جانب جھکی تھی ۔۔
’’ امل کو راستے سے ہٹا کر ۔۔اپنے بھائی کو شہزاد شاہ سے بچانا چاہتی ہو نا تم ؟ لیکن نائل شاہ سے کیسے بچاؤگی ‘‘
’’ نائل شاہ سے اسے شہزاد شاہ بچائے گا ۔۔ جب امل ہی نہیں رہے گی ۔۔ تو نائل شاہ انصاف کس کو دلوائے گا ؟ ‘‘ اور مایا کے جواب پر ایک معنی خیز مسکراہٹ زویا کے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔
’’ ویل ڈن ۔۔ تو پھر بتاؤ َ۔ ارادے کیا ہیں ؟ ‘‘ اور اس سوال پر اپنی چمکتی مسکراتی آنکھوں کے ساتھ ۔۔ اب مایا کچھ کہہ رہی تھی ۔۔ کچھ ایسا ۔۔ جو زویا کو یقیناً بہت پسند آرہا تھا ۔۔ مگر وہ ایسا تھا کیا ؟؟
