Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 14)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

اس نے اپنے چہرے پر کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس کیا تھا ۔۔ کوئی اس کے بال چہرے سے ہٹا کر کان کے پیچھے کر رہا تھا ۔۔ لیکن یہ لمس اس کے لئے نیا تھا ۔۔ اچانک ہی اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولی تھیں ۔

اور ماسٹر نے جلدی سے اپنا ہاتھ اسکے چہرے پر سے ہٹایا تھا ۔۔

’’ کیا کر رہے تھے تم ؟ ‘‘ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ تمہارے پر بال بکھرے تھے ۔۔ وہی ہٹا رہا تھا ۔۔ ‘‘ سامنے دیکھتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔

’’ آئیندہ مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرنا نائل شاہ ‘‘ ایک انگلی اسکی جانب اٹھا کر اس نے جیسے دھمکی دی تھی ۔۔

’’ تمہیں چھونے کا شوق ہے بھی نہیں مجھے ۔۔ ڈر لگ رہا تھا تم سے اس لئے ہٹائے بال ‘‘

’’ ڈر لگ رہا تھا ؟ واو ۔۔ تو نائل شاہ کو امل شاہ سے ڈر بھی لگتا ہے ‘‘ ایک مسکراہٹ امل کے ہونٹوں پر بکھری تھی۔

’’ ہاں ۔۔ کیونکہ اس حالت میں مجھے تم بلکل رنگز مووی کی چڑیل لگ رہی تھی ‘‘ اور اس جواب پر امل کے ہونٹوں کی مسکراہٹ فوراً غائب ہوئی تھی ۔۔

’’ ایسا تو لگنا ہی ہے نہ ۔۔ آخر ہمارا تعلق ایک خاندان سے جو ہے ‘‘ اور وہ امل ہی کیا جو ٹکاسا جواب نہ دے ۔۔

’’ تمہیں اپنی زبان پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے امل شاہ ‘‘ ماسٹر کو اب غصہ آنے لگا تھا ۔۔

’’ اور تمہیں اپنے ہاتھوں کو ‘‘

’’ بھولوں مت کے بیوی ہو تم میری ۔۔ ‘‘ اس نے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا ۔

’’ اور تم بھی بھولو مت کے بیوی ہونے کی پہلی شرط تمہارا چار فٹ دور رہنا تھا ‘‘ چلو پھر امل نے بھی یاد دلا ہی دیا۔

’’ ٹھیک ہے پھر گاڑی سے اتر جاؤ ۔۔ کیونکہ تم صرف دو فٹ دور ہو مجھ سے ‘‘

’’ بہت خوشی سے ‘‘ اور وہ کہہ کر گاڑی سے اتر گئ تھی ۔۔ جبکہ ماسٹر کا منہ حیرانی سے کھل گیا تھا ۔۔

’’ آخر یہ لڑکی اتنی ضدی کیوں ہے ؟ ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے وہ گاڑی سےباہر نکلا تھا۔۔

’’ امل ۔۔ امل ۔۔ واپس آؤ ‘‘ وہ اسے آواز دے رہا تھا مگر امل ان سنی کرتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔

’’ امل ۔۔ ‘‘ وہ تیزی سے اسکے سامنے آکھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ کیا مسئلہ ہے ؟ ‘‘

’’ گاڑی میں واپس آکر بیٹھو ‘‘ حکم جاری ہوا تھا ۔

’’ میں نہیں بیٹھونگی ‘‘ وہ کہہ کر دوبارہ چلنے لگی تھی ۔۔

’’ تم اگر دو منٹ میں گاڑی میں واپس نہیں بیٹھی تو میں تمہیں اٹھا کر لے جاؤنگا ‘‘ ماسٹر کی دھمکی پر امل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ تمہیں کیا لگتا ہے ماسٹر ؟ تم مجھے اٹھا کر گاڑی میں پھینک دوگے اور میں کچھ بھی نہیں کرونگی ؟ ‘‘

’’ کیا کروگی تم ؟ ‘‘ دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھتے ہوئے ماسٹر نے کہا تھا ۔۔

’’ سامنے دیکھو ۔۔ ریسٹورانٹ ہے ۔۔ لوگوں کی بھیٹر ہے ۔۔ اور میں ان تمام لوگوں سے تمہاری ایسی چھترول لگواؤنگی کہ دن میں تارےنظر آجانے ہیں ‘‘ چیلینجنگ انداز تھا ۔۔

’’ میں تمہیں کہہ رہا ہوں امل مجھے چیلینج مت کرو ‘‘ انگلی اسکی جانب اٹھائی تھی ۔۔

’’ لیکن میں تو چیلینج کر چکی ہوں ماسٹر ‘‘ کہہ کر وہ دوبارہ پلٹ کر ریسٹورانٹ کی جانب چلنے لگی تھی ۔۔ اور اب نائل سے مزید برداشت کرنا مشکل ہوچکا تھا ۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسکا بازو سختی سے پکڑ کر اسے دھکیلتا ہوا گاڑی کی جانب لے جانے لگا ۔۔

’’ چھوڑو مجھے ۔۔ کیا بدتمیزی ہے یہ ‘‘ وہ مسلسل اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ ایسا کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں تھا ۔۔

’’ چھوڑو مجھے ورنہ میں چیخونگی ‘‘ امل نے دھمکانہ چاہا تھا ۔۔

’’ ٹرائے کرو اور انجام دیکھو ‘‘ وہ اب گاڑی کے قریب پہنچ گئے تھے ۔۔ ماسٹر نے اسے پیسینچر سیٹ پر بٹھایا اور خود تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تھا ۔۔

’’ تم جیسا بے حس انسان میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا ‘‘ وہ اب شدید غصے میں تھی ۔۔

’’ اور مجھے خوشی ہوگی کہ تم میرے علاوہ کسی اور بے حس کو دیکھو بھی نہ ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔ جبکہ امل اب خاموشی سے کھڑکی پر سر ٹکائے اسے بلکل اگنور کئے باہر دیکھنے میں مصروف ہوچکی تھی ۔۔



وہ اس وقت یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر آیا تھا ۔۔ سوچ اب امل کی جانب تھی ۔۔ جانے وہ پھر سے کہاں غائب ہوگئ تھی ۔۔ آج بھی وہ یونیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔اور شانزے بھی اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔۔ فرہاد نے اسے مسیجز بھی کئے تھے مگر اسکا کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔۔ اب وہ امل سے ملنے جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔ مگر اسے اسکا اپارٹمنٹ نہیں معلوم تھا ۔۔۔ اس دن بھی امل نے اسے اندر آنے سے منع کردیا تھا جسکی وجہ سے وہ اسکا فلیٹ نہیں دیکھ سکا تھا ۔۔ اور آج جب اس نے شانزے سے پوچھا تو وہ بھی نہیں جانتی تھی ۔۔ اسے کافی حیرانی ہوئی تھی ۔۔ شانزے کیسے نہیں جانتی ؟ جبکہ وہ تو امل کی بہت قریبی دوست ہے ۔۔ مگر امل نے اسے بھی نہیں بتایا ۔۔

کبھی کبھی امل اسے بہت مشکوک لگتی تھی ۔۔ بلکہ وہ ہمیشہ سے ہی اس کے لئے مشکوک تھی اور آج تک ہے ۔۔ کچھ تھا ایسا جو امل ہر ایک سے چھپا رہی تھی ۔۔ کوئی راز ۔۔ کچھ توایسا ہے جو اسکے اس طرح ہمیشہ غائب ہوجانے کا سبب بنتا ہے۔ مگر وہ کیا ہے ؟ یہ وہ آج تک سمجھ نہیں پایا تھا ۔۔ مگر وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ ضرور سکتا تھا ۔۔ ایک درد ، ایک انتظار ، اور ایک راز تھا اسکی آنکھوں میں ۔۔ اور اسکی مسکراہٹ ؟؟

اسکی تو مسکراہٹ میں بھی دل شامل نہیں ہوتا تھا ۔۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اسکی مسکراہٹ بھی کوئی راز ہو ۔۔ وہ مسکراتی ہے تو آنکھوں میں کوئی چمک نہیں ہوتی ۔۔ یہ مسکراہٹ صرف اسکے ہونٹوں تک ہی رہتی ہے ۔۔ مگر۔۔ کبھی کبھی ۔۔ جب وہ مسکراتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے اسکی مسکراہٹ کچھ کہنے کی کوشش کررہی ہو ۔۔ اسکی مسکراہٹ کی وجہ بظاہر وہ نہیں ہوتی جو دکھ رہی ہوتی ہے ۔۔ کچھ اور ہے۔۔مگر ان سب کے باوجود ۔۔ وہ مسکراتی ہے ۔۔ اور اسکے دل پر اثر کرتی ہے ۔۔ اور پھر دل چاہتا ہے کہ وہ بس ایسے ہی مسکراتی رہے اور وہ اسے ایسے ہی دیکھتا رہے ۔۔ کتنا سکون دیتی ہے اسکی مسکراہٹ اسے ۔۔

اور امل کی مسکراہٹ کا تصور ہی اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آیا تھا ۔۔ اسے تو یہ بھی محسوس نہیں ہوا کہ کب وہ اپنی گاڑی کے اندر آبیٹھا تھا ۔۔ امل کی سوچوں نے اسے ہر چیز سے بیگانا کردیا تھا ۔۔

’’ اوہ امل ۔۔۔ تم یقیقناً کوئی جادوگرنی ہو ‘‘ وہ اپنے تصور میں اس سے مخاطب تھا ۔۔

اور پھر ۔۔ اس کے موبائل پر آنے والی کال اسے اس تصور کی دنیا سے باہر لائی تھی ۔۔

اس نے کال کرنے والے کا نام پڑھا اور اس کے چہرے کے تعصورات اچانک ہی بدلے تھے ۔۔

ہونٹوں کی مسکراہٹ فوراً غائب ہوئی تھی ۔۔ چہرے پر سنجیدگی کا سایہ تھا ۔۔

’’ ہیلو ‘‘ موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کام ہوگیا ؟ ‘‘ سوال ہوا تھا ۔۔

’’ نہیں ‘‘ مختصر جواب دیا تھا ۔

’’ کیا مطلب نہیں ؟ تم نے کل رات اسے ختم کیوں نہیں کیا ؟ آخر کر کیا رہے ہو تم ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی دھاڑتی ہوئی آواز آئی تھی ۔۔

’’ اسے سب معلوم ہے باس ۔۔ وہ جانتے تھے کہ میں اسے مارنے آرہا ہوں اس لئے انہوں نے اسے غائب کردیا۔۔ لیکن انہوں نے مجھے پکڑا نہیں ۔۔ ‘‘

’’ تم کیا کہنا چاہتے ہو فرہاد ؟ کیا نائل سب جانتا ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی آواز میں اب ایک ڈر تھا ۔

’’ نہیں ۔۔۔ اگر وہ سب جانتے ہوتے تو مجھے اب تک پکڑ چکے ہوتے اور آپکو بھی ‘‘ اس نے اپنا اندازہ بتایا تھا ۔۔

’’ یعنی وہ یہ جانتا ہے کہ کوئی اسکے پیچھے ہے ۔۔ مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ کون ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ اب کچھ مطمئن ہوئے تھے ۔۔

’’ بلکل ۔۔ اور وہ لڑکی بھی یقیناً کچھ نہیں جانتی ۔۔ ورنہ اب تک وہ انہیں سب بتا چکی ہوتی ‘‘

’’ لیکن ہمیں اسے ہر حال میں ختم کرنا ہے فرہاد ۔۔ مجھے وہ لڑکی مردہ چاہئے ‘‘ وہ ایک بار پھر اپنی بات کی جانب آچکے تھے ۔

’’ میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں باس ۔۔ آپ فکر مت کریں۔۔ وہ زندہ نہیں رہے گی ‘‘ کال کٹ کردی گئ تھی ۔۔ وہ اس کے علاوہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔ اس کہانی کا اختتام اس لڑکی کے اختتام پر ہی ہونا تھا ۔۔ اس لڑکی کو ختم کرکے ہی وہ اس کہانی سے آزاد ہوسکتا تھا ۔۔ اس کہانی کے اختتام کے بعد ہی وہ اپنی زندگی پر توجہ سے سکتا تھا ۔۔ اور اس کی زندگی کیا تھی ؟

’’ امل ۔۔۔ میری زندگی ۔۔ تمہیں زندگی میں شامل کرنے سے پہلے ۔۔ مجھے اپنی زندگی کے اس چیپٹر کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہوگا ۔۔ مجھے اسے ختم کرنا ہوگا ۔۔ تاکہ میں تم تک آسکوں ۔۔ ‘‘ خود سے کہتے ہوئے اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔

وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کہانی تو اب شروع ہوئی تھی ۔۔ اور اس کہانی کا اختتام سب بدلنے والا تھا ۔۔۔



وہ آدھے گھنٹے سے اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی ۔۔ اور وہ آدھے گھنٹے سے کن انکھیوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

کیسی ناراض ناراض سی لگ رہی تھی وہ ۔۔ نائل شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ اسے امل کا یہ غصیلا انداز بہت پیارا لگ رہا تھا ۔۔

’’ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کسی کا غصہ بھی اتنا سکون دے سکتا ہے ‘‘ گہرے ڈمپلز کے ساتھ اس نے کہا تھا ۔ اور اس کی آواز جیسے امل کو کرنٹ کی طرح لگی تھی ۔۔ چہرے کا رخ فوراً اسکی جانب کیا تھا ۔۔ اور نظر اسکے ڈمپلز پر پڑی تھی ۔۔

’’ اف امل ۔۔ ڈمپلز کو مت دیکھو ‘‘ اس نے خود کو ٹوکا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ زبان پر تالے کیوں ڈال دیئے ہیں ؟ ‘‘ اس نے اسے دوبارہ چھیڑا تھا ۔۔

’’ میں تم سے اب کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی ‘‘ وہ اب بھی غصے میں تھی ۔۔

’’ لیکن میں تو کرنا چاہتا ہوں ‘‘ نظریں راستے پر ٹکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ جیسے تمہارے چاہنے سے مجھے کوئی فرق پڑھتا ہے نہ ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے کہاتھا ۔۔

’’ نہیں پڑتا وہ پڑ جائے گا ۔۔۔ آخر کب تک میرے ڈمپلز کو اگنور کرسکوگی تم ؟ ‘‘ گاڑی اچانک ہی ایک ریسٹورانٹ کے سامنے روکی تھی ۔۔ اور امل نے حیران ہوکر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ تو اسکی چوری پکڑی گئ تھی ؟

’’ ڈوب کر مر جاؤ امل ‘‘ خود کو کوستے ہوئے اس نے نظروں کا رخ بدلا تھا ۔۔

’’ چلو اب ۔۔ تمہیں اچھا سا لنچ کرواتا ہوں ۔۔ یقیناً تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔۔ اور مجھ سے بحث کرنے کے لئے تمہیں اسکی شدید ضرورت ہے ‘‘ اس پر مزید الفاظ کی برسات کرکے وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔ اور امل بھی فوراً باہر آئی تھی ۔۔ وہ اب بلکل خاموش تھی ۔۔ اور کیوں نہ ہوتی خاموش ؟ آخر اسکی چوری جو پکڑی گئ تھی ۔۔

’’ یہ تمہارا وقت ہے نائل شاہ ‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ امل کے ساتھ ریسٹورانٹ کے اندر داخل ہوا تھا۔۔

کھانی کے دوران ان دونوں کے مابین کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔ نا ہی امل نے اب کچھ کہنا مناسب سمجھا تھا ۔۔ اور نہ ہی ماسٹر نے اسے مزید چھیڑنا ۔۔ ویسے بھی آگےبہت سے موقعے آنے تھے ۔۔

کھانے کے بعد وہ دوبارہ اپنی منزل کی جانب چل دیئے تھے ۔۔



وہ اس وقت لیپ ٹاپ کھولے ماسٹر کے دیئے ہوئے کسی اہم کام میں مصروف تھا جب ڈوربیل کی آواز آئی تھی ۔ اس نے جاکر دروازہ کھولا تو سامنے اسے واجد کھڑا نظر آیا تھا ۔۔

’’ دیر لگا دی تم نے آنے میں ‘‘ اپنی جگہ پر واپس آتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ کچھ کام آگیا تھا ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہاتھا ۔۔

’’ تم اسے یہاں سے لے گئے اور مجھے بتانا تک ضروری نہیں سمجھا ‘‘ اسے اب بھی اس بات پر غصہ تھا ۔۔

’’ ماسٹر کا آرڈر تھا ۔۔ میں کیا کر سکتا تھا ؟ ‘‘ واجد نے کاندھے اچکائے تھے ۔۔

’’ امل کو لے کر جانے کا آرڈر تھا ۔۔ مجھے نہ اٹھانے کا نہیں ‘‘ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ امل کو ٹائم پر لے جانے کا آرڈر تھا ۔۔ تمہیں اٹھانے لگتا تو دو گھنٹے لیٹ ہوجاتا میں ‘‘

’’ اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ‘‘ اب اپنی ان خصوصیات سے انکار تو کرنا ہی تھا ۔۔ حالانکہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ اسے اٹھانا اتنا آسان نہیں تھا ۔۔

’’ جیسے میں جانتا نہیں ‘‘ واجد نے اتراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ یہ بتاؤ کام ہوگیا ؟ ‘‘ مصطفی کی انگلیاں اب لیپ ٹاپ پر تیزی سے چلنے لگی تھیں ۔۔

’’ ہاں ہوگیا ‘‘ جیب سے ایک یو۔ایس۔بی اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔

’’ گڈ ۔۔ ‘‘ یو۔ایس۔بی لیپ ٹاپ پر لگائی تھی ۔۔ اس میں ایک ہی فولڈر تھا جس میں دو ویڈیوز تھی ۔۔ مصطفی نے ایک ویڈیوں اوپن کی تھی ۔۔ اب وہ دونوں اس ویڈیوں کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔

’’ چہرہ کلئیر نہیں ہے اس میں ‘‘ ویڈیو ختم ہوتے ہی مصطفی نے کہا تھا ۔۔

’’ اگلی لگاؤ ۔۔ شاید اس میں آجائے ‘‘ مصطفی نے سر ہلاتے ہوئے دوسری ویڈیوں اوپن کی تھی ۔۔

’’ اس میں بھی چہرہ نظر نہیں آرہا واجد ۔۔ یہ اچھا نہیں ہے ۔۔ ہمیں چہرہ چاہئے تھا ‘‘ مصطفی اب کچھ پریشان لگ رہا تھا ۔۔

’’ تمہارا فل فوکس چہرے پر ہے مصطفی ۔۔ اس لئے تم نے ایک چیز نوٹ نہیں کی ‘‘ واجد نے غور سے سکرین کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘

’’ یہ دیکھو ‘‘ انگلی سکرین پر ایک جگہ رکھی تھی ۔۔ اور مصطفی نےاپنے گلاسس سیٹ کرتے ہوئے اس جگہ کو زوم کر کے دیکھا تھا ۔۔

’’ گریٹ ۔۔ یہ میں نے پہلے کیوں نہیں دیکھا ‘‘ مصطفی کے چہرے پر اب مسکراہٹ تھی ۔۔

’’ کیونکہ تمہارے چشمے کے نمبر بڑھ گئے ہیں ‘‘ واجد نے اسکا مزاق اڑایا تھا ۔۔

’’ بلکل میرے آئی۔کیو لیول کی طرح ‘‘ فخریہ انداز تھا ۔۔

’’ ہاہاہاہا ۔۔ اچھا مزاق ہے یہ بھی ‘‘ واجد اب باقاعدہ ہنسنے لگا تھا ۔۔

’’ میں ماسٹر کو بتاتا ہوں کہ تمہیں کام کے وقت مزاق سوج رہا ہے ‘‘ اس نے واقعی موبائل اٹھا کر ماسٹر کا نمبر نکالا تھا ۔۔

’’ ارے ارے ۔۔ رک جاؤ ۔۔ مت تنگ کرو انہیں ۔۔ ویسے بھی اپنی سلیپنگ بیوٹی کے ساتھ ایک خوبصورت سفر پر ہیں وہ ‘‘ ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا تھا ۔۔جبکہ مصطفی کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔

’‘ اور میں امیجن کر سکتا ہوں کہ وہ دونوں اب تک کتنی بار لڑ چکے ہونگے ‘‘ اب ظاہر ہے ۔۔ امل کو اس سے بہتر کون جان سکتا تھا ؟

’’ ویسے وہ لڑکی کمال ہے ۔۔ماسٹر کو میں نے کبھی کسی لڑکی کو اتنا وقت دیتے ہوئے نہیں دیکھا ‘‘

’’ وہ امل شاہ ہے واجد ۔۔ اور ماسٹر کو امل کے علاوہ کوئی اور لڑکی برداشت کر بھی نہیں سکتی ‘‘ وہ مکمل امل کی سائیڈ پر تھا ۔۔

’’ یا یہ کہیں کہ امل شاہ کو ماسٹر کے علاوہ کوئی اور برداشت نہیں کرسکتا ؟ ‘‘ واجد نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔

’’ دونوں ایک دوسرے کی ٹکر کے ہیں ۔۔ اور اے کاش کہ اس وقت میں انہیں لڑتا دیکھ سکتا ‘‘ مصطفی نےایک آہ بھری تھی ۔۔ جیسے اسے واقعی اس بات پر بہت افسوس ہوا ہو ۔۔ اور افسوس بھی بےجا نہیں تھا ۔۔ امل اور ماسٹر کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے دیکھنے سے زیادہ حسین منظر اور کیا ہوسکتا تھا بھلا ؟

لیکن ہم اسی منظر کی جانب آئیں تو یہاں اس چلتی گاڑی میں بلکل خاموش تھی ۔۔ امل کا مکمل دھیان کھڑکی سے باہر کے منظر پر تھا جبکہ ماسٹر کا دھیان ۔۔ دونوں پر تھا ۔۔ ایک تو سامنے سڑک ۔۔ اور دوسری ساتھ بیٹھی امل۔۔

’’ ہم آدھے گھنٹے میں حویلی پہنچ جائیں گے ‘‘ اس خاموشی کو ماسٹر نے ہی توڑا تھا ۔۔

’’ اور ہم وہاں جاکر کیا کریں گے ؟ ‘‘ امل نےاسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ۔۔

’’ دھماکہ ۔۔ ‘‘ ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔۔ ڈمپل کی ہلکی جھلک نظر آئی تھی ۔۔

’’ تھوڑا اور نہیں مسکرا سکتے تھے ۔۔۔ ؟ ‘‘ امل کے اندر سے آواز آئی تھی ۔۔ جسے وہ اگنور کرنے کو تیار تھی ۔۔

’’ کیسا دھماکہ ؟ ‘‘

’’ تمہاری شناخت کا دھماکہ ‘‘ گاڑی روکتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جبکہ امل اپنی جگہ سن سی ہوگئ تھی ۔۔ تو وقت آگیا۔

’’ مگر اس طرح اچانک کیوں ؟ ہم تو یہ ڈیسائیڈ کیا تھا نہ کہ میرے پیپرز کے بعد ہم یہ کرینگے ؟ ‘‘

’’ ہاں ۔۔ مگر حالات بدل گئے ہیں ۔۔ کل رات جو کچھ ہوا ۔۔ یقیقناً شہزاد شاہ کو شک ہوگیا ہوگا کہ مجھے کچھ معلوم ہے۔۔ اس لئےمیں انہیں یہ یقین دلانے جارہا ہوں کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ اعتبار مجھے انہیں پر ہے ‘‘ سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔

’’ اور اس کے لئے تم میری شناخت ان کے سامنے رکھ دو گے ؟ ‘‘ امل کو حیرانی ہوئی تھی ۔۔۔ یہ شخص صرف خود پر سے شک ہٹانے کے لئے اسے خطرے میں ڈال رہا تھا ؟

’’ تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا چاہئے امل ۔۔ میں تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دونگا ۔۔ چاہے اس کے لئے مجھے کتنے ہی خطرناک کام کیوں نہ کرنے پڑے ‘‘ وہ امل کو غور سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔

’’ تم پر یقین کرنے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی راستہ ہی کہاں ہے نائل شاہ ۔۔ ‘‘ امل نے نظروں کو رخ دوبارہ کھڑکی کی جانب موڑا تھا ۔۔ اور اسے ایک بار پھر ۔۔ چونکنا پڑا تھا ۔۔

’’ ہم یہاں کیوں رکے ہیں ؟ ‘‘ ماسٹر کی جانب دوبارہ دیکھتے ہوئے اس نے حیرانی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ تمہیں گرومنگ کی ضرورت ہے ۔۔ تمہیں بدلنا ہوگا امل ‘‘ اس بار ماسٹر کے ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ گہری تھی ۔۔

’’ تم کیا کرناچاہ رہے ہو میرے ساتھ ؟ ‘‘ اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔۔ یہ شخص اسے کچھ اور ہی بنانے والا تھا ۔۔

’’ دیکھو امل ۔۔ ‘‘ اس کی جانب غور سے دیکھتے ہوئے اس نے کہنا شروع کیا تھا ۔۔

’’ ہمیں شہزاد شاہ کے خلاف ثبوت بنانے ہیں ۔۔ اور اس کے لئے ہمیں ان نے کچھ ایسا کروانا ہوگا جو ان کے خلاف استعمال ہوسکے ۔۔ اور اس کے لئے تمہیں انکی نفرت کو ہوا دینی ہوگی ۔۔ انہیں بھڑکانا ہوگا ۔۔ تاکہ وہ جوش میں ہوش کھو بیٹھے ۔۔ وہ ہر حد سے گزر جائے تمہیں مارنے یا میرے زندگی سے نکالنے کے لئے ۔۔ بس شہزاد شاہ کو اسکی حد سے گزارنے کے لئے۔۔ تمہیں ۔۔ خود کو ایسا بنانا ہوگا کہ وہ صرف جہانگیر شاہ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں ۔۔ بلکہ تمہارے انسان ہونے ، ایک لڑکی ہونے ، میرے ساتھ ہونے ۔۔ ہر وجہ سے تم سے نفرت کریں ۔۔ اور اس کے لئے ۔۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ اور امل اب سمجھنے لگی تھی ۔۔ کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے ؟

’’ تمہیں بولڈ ہونا ہوگا امل شاہ ۔۔ تمہیں ایک بگڑی ہوئی لڑکی بننا ہوگا ۔۔‘‘ اور یہ وہی تھا جو امل نے سمجھا تھا ۔۔

تو اسکا مطلب یہ تھا کہ ۔۔

اب امل شاہ کو ۔۔ ایک مارڈرن ، بولڈ ، خوبصورت ۔۔ مگر ۔۔ ایک بگڑی ہوئی لڑکی کا کردار کرنا تھا ۔۔

اور وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔ کہ کبھی اسے ایسا بھی بننا ہوگا ۔۔

اس نے دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھا تھا ۔۔۔

’’ چلیں ؟ ‘‘ ماسٹر نے پوچھا تھا ۔۔

’’ چلو ‘‘ وہ کہہ کر باہر نکلی تھی ۔۔

’’ آنے والا وقت میری سوچ سے بھی زیادہ برا ہے ‘‘ امل نے خود سے کہا تھا ۔۔ جبکہ نائل شاہ نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔

وہ جانتا تھا کہ امل جیسی لڑکی کے لئے یہ مشکل ترین کام ہے ۔۔ مگر امل شاید یہ نہیں جانتی تھی ۔۔

کہ نائل شاہ کے لئے یہ فیصلہ اس سے کئ زیادہ مشکل تھا ۔۔ امل کو بولڈ ہونے کا کہنا وہ بھی کسی اور کے سامنے جانے کے لئے ۔۔ یہ انتہائی مشکل تھا ۔۔

آخر وہ اس کی کزن تھی ۔۔ آخر وہ اسکی بیوی تھی ۔۔۔ اور ۔۔۔ آخر وہ اسکی محبت تھی ۔۔

واٹ !!! محبت ؟؟؟؟

وہ اپنی ہی سوچ پر حیران ہوا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *