Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 12)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 12)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
وہ تینوں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کتابوں میں سر دیئے بیٹھے تھے ۔۔۔
’’ اف ۔۔ بس بھئ تھک گئ میں تو ‘‘ نوٹ بک بند کرتے ہوئے شانزے نے کہا تھا ۔۔
’’ لیکن ابھی تو بہت کام رہتا ہے ‘‘ فرہاد نے نوٹ بک میں کچھ لکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ مگر مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔۔ میں کچھ کھانے کے لئے لے کر آتی ہوں ‘‘ وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔ جبکہ فرہاد نے اسے دیکھے بنا صرف سر ہلایا تھا ۔۔
’’ تمہارے لئے بھی کچھ لاؤں امل ‘‘ شانزے نے پوچھا تھا ۔۔مگر امل کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔۔
’’ امل ؟؟ ‘‘ شانزےنے اسے دوبارہ پکارا تھا ۔۔ اس بار فرہاد نے بھی سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔
’’ امل ۔۔۔ !! شانزے نے اسے کاندھے سے پکڑ کر ہلایا تھا ۔۔ اور وہ جیسے ہوش میں آئی تھی ۔۔
’’ ہاں۔۔۔ کیا ہوا ؟ ‘‘ انجان نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
’’ کہاں گم ہو ؟ ‘‘
’’ کہیں نہیں ۔۔ کیا کہہ رہی تھی تم ؟ ‘‘ اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔
’’ کچھ کھاؤگی تم ۔۔ میں کینٹین جارہی ہوں ‘‘
’’ نہیں ۔۔ تم جاؤ ‘‘ مسکرا کر کہتی وہ اپنی نوٹ بک کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔
’’ اوک ۔۔ ‘‘ کاندھے اچکا کر وہ وہاں سے چلی گئ تھی ۔۔
’’ تم ٹھیک ہو ؟ ‘‘ سوال فرہاد کی جانب سے ہوا تھا جو اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ ٹھیک ہوں میں ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔ ایک پھیکی مسکراہٹ ۔۔
’’ تم مجھ سے شئیر کر سکتی ہو امل ۔۔ کوئی بھی پریشانی ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل نے بس اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ ہمیں وہ ڈھونڈنا ہے جو ہمیں وہاں نہیں ملا ‘‘ ایک آواز اسکے کانوں میں گونجی تھی ۔۔۔
’’ ڈیڈ باڈیز ‘‘
’’ تو کیا ڈیڈ باڈیز بھی تم نے غائب کر دی ہیں فرہاد ؟ کہاں ہے میرے ماں باپ کی ڈیڈ باڈیز ؟ ‘‘ اسکا دل چیخ چیخ کر اس سے یہی سوال کرنا چاہتا تھا ۔۔ مگر وہ خاموشی سے بس اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسے اپنے سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہتی ہو ۔۔
’’ کیا دیکھ رہی ہو ؟ ‘‘ وہ اپنے چہرے پر اس کی متلاشی نگاہیں دیکھ کر پوچھ رہا تھا ۔۔
’’ دیکھ رہی ہوں کہ انسان اندر سے بھی ویسے کیوں نہیں ہوتے ۔۔ جیسے وہ دکھتے ہیں ؟ ‘‘ نظریں ہٹائے بنا کہا تھا ۔
’’ کیسے دکھتے ہیں انسان ؟ ‘‘ اپنی نوٹ بک بند کرتے ہوئے وہ مکمل اسکی جانب متوجہ ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔
’’ معصوم ۔۔ شریف ۔۔ سیدھے سادے ‘‘ تین لفظوں سے زیادہ وہ نہیں کہہ سکی تھی ۔۔
’’ اس میں قصور انسانوں کا نہیں ہے امل ۔۔ دیکھنے والی نظروں کا ہے ‘‘
’’ نظروں کا ؟ ‘‘ وہ کچھ حیران ہوئی تھی ۔۔
’’ بلکل ۔۔ انسان کی آنکھیں اسکا دل دکھاتی ہیں ۔۔ اس کی نیت دکھاتی ہیں ۔ چہرے کے تعصورات اسکے جزبات دکھاتے ہیں ۔۔ جھکی اور اکڑی ہوئی گردنیں اسکے انداز دکھاتی ہیں ۔۔ مگر ہم وہ سب نہیں دیکھتے ۔۔ ہم بس اسکے چہرے کے پر کشش نقوش دیکھ کر ہی سوچ لیتے ہیں کہ وہ بہت سادہ اور معصوم انسان ہے ۔۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا ‘‘ وہ خاموش ہوا تھا ۔۔ جبکہ امل اب اسکی بات کو سمجھ رہی تھی ۔۔ اور شاید عمل بھی کر رہی تھی ۔۔
’’ اب اپنے آپ کو ہی دیکھ لو ‘‘ اس کی جانب تھوڑا جھکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل حیران ہوئی تھی ۔۔ وہ اسکے قریب تھا ۔۔
’’ تم بہت خوبصورت ہو ۔۔ تمہاری آنکھیں ۔۔ تمہارا ایک ایک نقش بے حد پرکشش ہے امل ‘‘ وہ اسکے چہرے کا ایک ایک نقش غور سے دیکھتے کہہ رہا تھا ۔۔ جبکہ امل اپنی جگہ سن ہوگئ تھی ۔۔
’’ لیکن ۔۔ تم بہت مشکوک انسان ہو ۔۔ تمہاری یہ جو آنکھیں ہیں نہ ۔۔ ان میں بہت سے راز چھپے ہیں ۔۔ بہت گہری ہو تم ۔۔ بلکل ایک اندھے کنویں کی طرح ۔۔ اور ایسے مشکوک انسان سادہ اور معصوم نہیں ہوتے امل ‘‘ وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہہ رہا تھا ۔۔ جبکہ امل بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ بلکہ نہیں ۔۔ وہ بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔ شاید نیت ۔۔ مگر یہ کیا ؟ اسکی آنکھیں تو بلکل صاف تھیں ۔۔ کوئی بدنیتی نہیں تھی ۔۔ مگر ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟؟
وہ اب اسکی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔ جیسے کچھ ڈھونڈنا چاہ رہی ہو ۔۔اور پھر ۔۔ اسے گلٹ دکھا تھا ۔۔
’’ اہم ۔۔۔ ‘‘ شانزے کی آواز ان دونوں کو اپنے اس ٹرانس سے واپس لائی تھی ۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے فوراً دور ہوئے تھے ۔۔
’’ میں شاید غلط ٹائم پر آگئ ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شانزے نے معنی خیز انداز میں کہا تھا ۔
’’ نہیں ۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے ‘‘ فرہاد کہہ کر دوبارہ اپنی نوٹ بک کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔ ایسے ۔۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔ جبکہ شانزے نے اس کی جانب مسکراہٹ اچھالی تھی ۔۔ جسے اگنور کرتی وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔
’’ کہاں جارہی ہو ؟ ‘‘ شانزے نے پوچھا تھا ۔۔
’’ آتی ہوں کچھ دیر میں ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے فوراً تیزی سے جاچکی تھی ۔۔ جبکہ فرہاد کی نگاہیں دور تک اسکے ساتھ تھیں ۔۔
حویلی میں اس وقت سب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ۔۔ شہزاد شاہ اور جمشید شاہ زمینوں کے مسئلوں پر بات کر رہے تھے ۔۔ جبکہ زویا اور سادیہ بیگم خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے ۔۔
ایسے میں باہر آؤں تو مین گیٹ کے پاس موجود دو گارڈز نے دروازہ کھولا تھا ۔۔ اور ایک بلیک کرولا اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ گھر کے سامنے گاڑی روک کر اس میں سے ایک شخص باہر نکلا تھا ۔۔
گرے پینٹ کوڈ پہنے ، گردن تک آتے لمبے بال ، آنکھوں میں سن گلاسس، ہلکی بئیرڈ ، دائیں کلائی پر قیمتی گھڑی پہنے انگلی پر کی چین گماتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔۔
’’ نائل صاحب تشریف لائے ہیں ‘‘ ایک ملازم نے آکر اطلاع دی تھی ۔۔ اور گھر کے سارے افراد فوراً کھڑے ہوئے تھے ۔۔
’’ نائل آیا ہے ‘‘ سادیہ بیگم کہتی ہوئیں لاؤنچ کی جانب بڑھی تھیں ۔۔ باقی سب بھی ان کے پیچھے آئے تھے ۔۔ جن میں زویا بھی شامل تھی ۔۔ اس کا چہرہ جیسے اچانک ہی کھلکھلا گیا تھا ۔۔
وہ سیدھا لاؤنچ کی جانب آیا تھا جہاں گھر کے تمام افراد اسکے منتظر تھے ۔۔ اسکی نظر سب سے پہلے اپنی ماں پر پڑی تھی ۔۔ جو اس کی جانب باہیں پھیلائے آرہی تھیں ۔۔ اور انہیں دیکھ کر ۔۔ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ وہ فوراً انکے گلے لگا تھا ۔
’’ خیال آگیا گھر آنے کا ؟ ‘‘ اسکا ماتھا چھومتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔
’’ نہیں ۔۔ صرف آپکا خیال یہاں لایا ہے مجھے ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔ اور سچ ہی تو کہا تھا ۔۔ اس گھر میں اسکی ماں کے علاوہ اور کوئی تھا ہی نہیں ۔۔ جسے وہ اپنا سمجھتا ہو ۔۔
’’ ہم سے بھی مل لو ۔۔ ہم بھی تمہارے انتظار میں کھڑے ہیں یہاں ‘‘ شہزاد شاہ کی کہنے پر اس نے انکی جانب دیکھا تھا۔۔
’’ بابا ۔۔۔ ‘‘ وہ انکے گلے لگا تھا ۔۔
’’ کیسے ہیں آپ ؟ ‘‘ الگ ہوتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
’’ اپنے شیر کو دیکھ لینے کے بعد اور بھی اچھا ہوگیا ہوں ‘‘ اسکا کاندھا تھپتھپاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔
اب وہ اپنے چچا کے جانب بڑھا تھا ۔۔ ان سے ملنے کے بعد اسکی نظر انکے ساتھ کھڑی زویا پر پڑی تھی ۔۔ جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔ وہی مسکراہٹ۔۔ جو ہمیشہ اسے دیکھتے ہی اسکے ہونٹوں پر بکھر جاتی تھی ۔۔
’’ اور ایک وہ لڑکی ہے ۔۔ مسکرانا تو دور ۔۔ مجھے دیکھتے ہی انگاروں میں بیٹھ جاتی ہے ‘‘ وہ بس سوچ کر رہ گیا تھا ۔۔
’’ کیسی ہو تم ؟ ‘‘ اس نے زویا سے پوچھا تھا ۔۔
’’ اچھی ہوں ۔۔ آپ کیسے ہیں ؟ ‘‘ دلکش مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہوں ۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر دوبارہ اپنی ماما کی جانب متوجہ ہواتھا ۔۔
’’ میں تھوڑا آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔ لنچ پر ملاقات ہوتی ہے ‘‘ کہہ کر وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔۔ جبکہ زویا کی نگاہیں اس پر ہی ٹکی تھیں ۔۔
’’ چلو آؤ زویا ۔۔ نائل کے پسند کا کھانا تیار کرنا ہے آج ۔۔ چلو شاباش ‘‘ سادیہ بیگم کے کہنے پر زویا فوراً انکے پیچھے پیچھے کچن کی جانب گئ تھی ۔۔
’’ نائل آگیا ہے بھائی ۔۔ اب آپکو اس سے بات کر لینی چاہئے ‘‘ جمشید شاہ نے کہا تھا ۔۔
’’ فکر مت کرو ۔۔ میں کھانے پر اس سے بات کرتا ہوں ‘‘ جمشید شاہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر شہزاد شاہ نے جواب دیا تھا ۔۔
وہ اس وقت ٹیرس پر کھڑی کافی پی رہی تھی ۔۔ صرف ایک ہی سوچ تھی جو صبح سے اسکے سر پر سوار تھی ۔۔
’’ کیا سوچ رہی ہو ؟ ‘‘ وہ جو کب سے اسے کسی گہری سوچ میں گم دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کے پاس آکر اس سے پوچھا تھا ۔
’’ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ گناہ کرنے کے بعد بھی کسی کی آنکھوں میں پاکیزگی ہو ؟ ‘‘ نظریں آسمان پر جماتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ ایک صورت میں ہوسکتا ہے ایسا ‘‘ کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کس صورت میں ؟ ‘‘ اب وہ ناسمجھی سے مصطفی کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔
’’ اگر گناہ کا احساس ہوگیا ہو ۔۔ اگر ضمیر جاگ گیا ہو ۔۔ اگر پچھتاوا ہو اور ۔۔ دوبارہ وہ گناہ کبھی نہ کرنے کی لگن ہو تو ایسا ہوسکتا ہے کہ آنکھوں میں بدنیتی نظر نہ آئے ۔۔ کیونکہ آنکھیں دل کا حال بتاتی ہیں ۔۔ اور دل کے حالات تو بدلتے رہتے ہیں ‘‘ مسکرا کر کہاتھا ۔۔
’’ تو کیاگلٹی ہونے سے گناہ مٹ جاتا ہے۔۔ کیا معافی مل جاتی ہے خدا سے ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا ۔۔
’’ نہیں ۔۔ معافی تو تب تک نہیں ملتی جب تک خدا کے بندے معاف نہ کردیں ‘‘
’’ اللہ کے بندوں کا اتنا بڑا ظرف نہیں ہوتا ‘‘ نظریں دوبارہ آسمان کی جانب پلٹی تھیں ۔
’’ وقت وقت کی بات ہے امل ۔۔۔ جب کوئی گناہگار آپکے سامنے آکر جھک جاتا ہے نہ ۔۔ تو خدا دل میں ایسی نرمی ڈال دیتا ہے کہ بندے کا ظرف خود ہی بلند ہوجاتا ہے ۔۔ پھر وہ سب معاف کر دیتا ہے ۔۔ ہر زخم ۔۔ ہر زیادتی ‘‘ مصطفی کے الفاظ سنتے ہی اس کے سامنے وہ آنکھیں آئی تھیں ۔۔ وہ جن میں اسے گلٹ نظر آیا تھا ۔۔ مگر اسکا ظرف اتنا بلند نہیں تھا ۔۔ اس کے دل میں کوئی نرمی نہیں تھی۔۔
’’ تمہیں کیا لگتا ہے مصطفی ؟ ڈیذ باڈیز کسی کو کیوں نہیں ملیں ؟ ‘‘ اس نے مصطفی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
’’ چھپا دی گئیں ہونگی امل ۔۔ خالی گھر میں آگ لگ جائے تو کوئی بھی اس پر شک نہیں کرتا ۔۔ مگر ۔۔ اگر گھر میں سے ڈیڈ باڈیز مل جائے تو قتل کا خدشہ ہر انسان کے دل میں رہتا ہے ۔۔ بس یہ سمجھو کے شہزاد شاہ نے کوئی خدشہ بھی نہیں رہنے دیا ۔۔ نہ کوئی وہاں تھا ۔۔ اور نہ ہی کوئی جرم ہوا ‘‘ اور مصطفی کے جواب نے جیسے اسے سب سمجھا دیا تھا ۔۔
’’ تو اس نے کیا کیا ہوگا ماما پاپا کے ساتھ ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا اور مصطفی نے دیکھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک خوف تھا۔۔
’’ کچھ نہیں امل ۔۔ کہیں دفنا دیا ہوگا ۔۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے وہ ‘‘ اسے کاندھوں سے تھامتے ہوئے کہا تھا۔
’’ انہیں ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا ۔۔۔ انشائ اللہ ‘‘ ایک گہری سانس لے کر اس نے اپنی آنکھوں میں بھرنے والے آنسو صاف کئے تھے ۔۔۔
کمرے میں ہونے والی دستک پر اسکی آنکھ کھلی تھی ۔۔
’’ آجاؤ ‘‘ سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے اس نے اجازت دی تھی ۔۔ جبکہ دروازہ کھول کر زویا اندر آئی تھی۔۔
’’ جاگ گئے آپ ؟ ‘‘ دلکش مسکراہٹ کے ساتھ اسکے سامنے کھڑی وہ کہہ رہی تھی ۔۔
’’ تمہیں کوئی کام تھا زویا ؟ ‘‘ بیڈ سے اترتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔ اسے زویا کا اس طرح اپنے کمرے میں آنا اچھا نہیں لگتا تھا ۔
’’ وہ آنٹی نے آپکو کھانے پر بلایا ہے ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ تم جاؤ ۔۔ میں آتا ہوں ‘‘ اسے بنا دیکھتے ہی کہہ کر وہ واش روم میں جاچکا تھا جبکہ زویا ایک گہری سانس لے کر کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔
کچھ دیر بعد وہ سب ڈائیننگ ٹیبل ہر بیٹھے لنچ کر رہے تھے ۔۔اسکی پسند کی ہر چیز وہاں موجود تھی ۔۔ اتنے عرصے بعد ماما کے ہاتھ کا کھانا دیکھ کر اسکی بھوک بھی جاگ گئ تھی ۔۔
’’ اور آج کل کس کیس پر کام کر رہے ہو تم ؟ ‘‘ جمشید شاہ نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ایک بہت اہم کیس ہے ۔۔۔ مرڈر کا ‘‘ کن انکھیوں سے شہزاد شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جو اپنے کھانے کی جانب متوجہ تھے ۔۔
’’ اللہ تمہیں کامیاب کرے ‘‘ سادیہ بیگم نے دعا دی تھی ۔۔
’’ آمین ‘‘ زویا نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ جبکہ وہ اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہوگیا تھا ۔۔
’’ تم نے آگے کا کیا سوچا ہے ؟ ‘‘ شہزاد شاہ نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کس بارے میں ؟ ‘‘ نظریں اٹھائے بنا کہا تھا ۔۔
’’ اپنے فیوچر کے بارے میں ‘‘
’’ آپ جانتے ہیں کہ میرا کام ہی میرا فیوچر ہے ‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔
’’ مگر ہم اب تمہاری شادی کردینا چاہتے ہیں ۔۔۔ ‘‘ شہزاد شاہ کی بات پر اس کے پلیٹ میں چلتے ہاتھ رک گئے تھے ۔۔ جبکہ زویا ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔
’’میں میٹھا لے کر آتی ہوں ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے جاچکی تھی ۔۔ جبکہ نائل نے سامنے بیٹھی سادیہ بیگم کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔
’’ مگر میں ابھی ایسا کچھ نہیں چاہتا بابا ‘‘ نظریں شہزاد شاہ کی جانب پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہے ۔۔ ایک چھوٹی سی تقریب کر لیتے ہیں ۔۔ شادی تمہاری مرضی کے وقت پر ہوگی ‘‘ شہزاد شاہ نے ایک اور حل نکالا تھا ۔۔
’’ تقریب کیسی ؟ ‘‘ اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔
’’تمہاری اور زویا کی منگنی کی تقریب ‘‘ شہزاد شاہ نے مسکراتے ہوئے دھماکہ کیا تھا جبکہ نائل نے فوراً سادیہ بیگم کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جنہوں نے گردن جھکا لی تھی ۔۔
’’ سوری بابا ‘‘ وہ فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔ جبکہ سب کی سنجیدہ نظریں اسی کی جانب تھیں ۔۔
’’ پہلی بات تو یہ کہ میں اس قسم کی کوئی تقریب نہیں کرنا چاہتا ‘‘ کہتے ہوئے اس کی نظر سامنے کھڑی زویا پر پڑی تھی ۔۔ جو اس کے بات سن کر رک گئ تھی ۔۔ ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد اس نے دوبارہ شہزاد شاہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔
’’ اور دوسری بات یہ کہ اگر کبھی کی بھی تو زویا کے ساتھ نہیں ہوگی ‘‘ دو ٹوک انداز میں کہا تھا جبکہ شہزاد شاہ فوراً تیش میں کھڑے ہوئے تھے ۔۔
’’ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟ ‘‘
’’ وہی جو آپ سن رہے ہیں ۔۔ میں زویا سے شادی نہیں کرونگا ‘‘ ایک بار پھر انکار ہوا تھا ۔۔
’’ لیکن شادی تو تمہیں کرنی ہوگی نائل ۔۔ تمہارے بابا نے زبان دی ہے مجھے ‘‘ اس بار جمشید صاحب نے کہا تھا ۔۔
’’ یہ آپکا اور بابا کا مسئلہ ہے ۔۔ زبان انہوں نے دی ہے ۔۔ میں نے نہیں ‘‘ جواب برابر آیا تھا ۔۔ سادیہ بیگم نے زویا کی جانب دیکھا جس کے چہرے پر کئ تعصورات تھے ۔۔ وہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گئیں تھیں ۔ انہیں نائل سے اسی کی امید تھی ۔۔
’’ میں تمہاری بات تہہ کر چکا ہوں ۔۔ اور تم اس رشتے سے انکار نہیں کرسکتے ‘‘ شہزاد شاہ نے حتمی انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ اور میں ایسا کیوں نہیں کرسکتا ؟ ‘‘ نائل نےانہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیونکہ خاندان میں زویا کے علاوہ کوئی بھی تمہارے معیار کی نہیں ہے نا ہی عمر کی ‘‘ انہوں نے ایک بہترین جواز پیش کیا تھا ۔۔
’’ بات اگر معیار کی ہے تو ۔۔ ‘‘ اس نے ایک نظر سامنے کھڑی زویا کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جسکے چہرے پر اب غصے کے تعصورات تھے۔۔
’’ تو زویا کا میرے معیار سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر پلٹا تھا ۔۔ جبکہ سب اسے جاتا دیکھ رہے تھے ۔۔ اور پھر ۔۔۔ وہ کچھ دور جاکر رکا تھا ۔۔ شاید کچھ آیا تھا ۔۔
’’ اور ہاں ‘‘ وہ دوبارہ پلٹا تھا ۔۔ نظر شہزاد شاہ کی جانب تھی ۔۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔
’’ اگر بات خاندان کی واحد لڑکی ہونے کی ہے ۔۔ تو آپکی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ۔۔ ‘‘ اس نے اب سادیہ بیگم کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے سوالیاں نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔۔
’’ اس خاندان کی ایک اور لڑکی بھی ہے۔۔ جسے لے آؤنگا میں ‘‘ اور وہ کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا۔۔ جبکہ شہزاد شاہ سکتے میں آگئے تھے ۔۔۔
’’ یہ کیا کہہ کر گیا ہے بھائی ؟ ‘‘ جمشید شاہ نے پوچھا تھا ۔۔ مگر وہ کوئی جواب دیئے بنا سٹڈی روم کی جانب بڑھے تھے۔۔
’’ یہ کس لڑکی کے بارے میں بات کر رہا تھا بھابھی ؟ ‘‘ جمشید شاہ نے اب سادیہ بیگم سے پوچھا تھا ۔۔
’’ میں نہیں جانتی ‘‘ وہ کہہ چلی گئیں تھیں ۔۔ جبکہ زویا اپنی جگہ پتھر بنی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔
وہ اس وقت ٹی وی دیکھ رہا تھا جب اسکا موبائل بجا تھا ۔۔
’’ ہیلو ؟ ‘‘ اس نے بنا دیکھتے ہی کال ریسیو کر لی تھی ۔۔
’’ ایک گھنٹے کے اندر اندر مجھے تم میرے سامنے نظر آؤ فرہاد ‘‘ اور کال کاٹ دی گئ تھی ۔۔ جبکہ وہ حیران رہ گیا تھا ۔۔
’’ احمد ۔۔۔ احمد ‘‘ احمد کو آواز دیتا وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا باس ؟ ‘‘ احمد نے اندر آتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ جلدی سے گاڑی ریڈی کرو ۔۔ ہم نے شہزاد شاہ کی سے ملنے جانا ہے ‘‘ ہاتھ میں گھڑی پہنتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔
’’ اوک باس ‘‘ احمد فوراً باہر کی جانب بھاگا تھا ۔۔ جبکہ وہ تھوڑی دیر بعد تیار ہوکر گاڑی کی جانب آیا تھا ۔۔
’’ سب ٹھیک ہے باس ؟ ‘‘ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے احمد نے پوچھا تھا ۔۔ فرہاد کے چہرے کی پریشانی اسے بھی پریشان کر رہی تھی ۔۔
’’ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا احمد ۔۔ شہزاد شاہ نے فوراً بلایا ہے ۔۔ ضرور کوئی اہم بات ہے ‘‘ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ جبکہ احمد خاموش ہوگیا تھا ۔۔ اس نے اب تک فرہاد سے امل کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔ وہ صحیح وقت کا انتظار کررہا تھا ۔۔
وہ ایک گھنٹے بعد حویلی کے اندر گاڑی پارک کر رہے تھے ۔
’’ تم یہی رکو ۔۔ میں کچھ دیر میں آتا ہوں ‘‘ اسے کہتے ہوئے فرہاد گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔۔
وہ گھر کے دروازے کے پاس گیا تھا جہاں دو گارڈ کھڑے تھے ۔۔
’’ شہزاد شاہ اندر ہیں ؟ ‘‘ اس نے ان میں سے ایک سے پوچھا تھا ۔۔
’’ جی ۔۔ وہ سٹڈی میں آپکا انتظار کر رہے ہیں ‘‘ گارڈ کا جواب سن کر وہ اندر داخل ہوا تھا ۔۔ اسکے قدم تیزی سے سٹڈی کی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔
سٹڈی کا دروازہ کھول کر وہ اندر آیا تھا ۔۔ جہاں سامنے ہی اسے شہزاد شاہ ہاتھ میں سگار پکڑے بیٹھے نظر آئے تھے ۔۔
’’ سب ٹھیک ہے ؟ ‘‘ ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ تمہیں میں ایک بہت چالاک اور ذمہ دار انسان سمجھتا تھا فرہاد ۔۔ مگر تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے انہوں نے سامنے رکھی سٹرے میں سگار دبائی تھی ۔۔
’’ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئ ہے کیا ؟ ‘‘ اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ غلطی ؟؟؟ ‘‘ شہزاد شاہ کی آواز اونچی ہوئی تھی ۔۔ اور اسے چونکنا پڑا تھا ۔۔
’’ تم نے سارا کھیل بگاڑ دیا فرہاد ۔۔ ایک کام دیا تھا تمہیں۔۔ وہ بھی تم سے نہ ہوسکا ‘‘ وہ غصے سے کہہ رہے تھے جبکہ فرہاد اب بھی انکی بات نہیں سمجھا تھا ۔۔
’’ میں معافی چاہتا ہوں باس ۔۔ مگر ہوا کیا ہے ؟ ‘‘ اس نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔
’’ وہ لڑکی ؟ لگتا ہے اسے بھول گئے ہو تم فرہاد ‘‘ انداز طنزیہ تھا ۔۔ مگر فرہاد سمجھ چکا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہے تھے ۔۔
’’ ایسی بات نہیں ہے باس ۔۔ میں اسکی تلاش کر رہا ہوں ‘‘ اس نے سر جھکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ یہ کیسی تلاش ہے تمہاری فرہاد ۔۔۔ پانچ مہینے سے ایک لڑکی نہیں ڈھونڈی گئ تم سے ۔۔ اور وہ ۔۔۔ میرا بیٹا ۔۔ اسے مل گئ وہ ۔۔۔ کیسے ؟ ‘‘ وہ فوراً چیختے ہوئے کھڑے ہوئے تھے جبکہ فرہاد کے پیروں تلے جیسے زمین نکل گئ تھی ۔۔ وہ نائل شاہ کو مل گئ ہے ؟؟ کیسے ؟
’’ وہ مل گئ ؟ ‘‘ حیرت کی انتہاؤں میں اس نے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ اور اس سے پہلے کہ وہ اسے اس گھر میں لے کر آئے ۔۔ تم ۔۔ ‘‘ انگلی اسکی جانب اٹھائی تھی ۔۔
’’ تم اسے ختم کروگے فرہاد ۔۔ مجھے اس لڑکی کی موت چاہئے ‘‘ وہ ایک قدم اسکی جانب بڑھے تھے ۔۔ اور فرہاد کو لگا جیسے موت کا فرشتہ اسکی جانب بڑھا ہو ۔۔
’’ اور اگر وہ بچ گئ ۔۔۔ تو تم نہیں بچو گے فرہاد ۔۔ مار دو اسے ۔۔ ورنہ مر جاؤگے تم ‘‘ دبی ہوئی آواز میں کہا تھا ۔۔ مگر کہا نہیں تھا ۔۔ یہ دھمکی تھی ۔۔ اور فرہاد اس انداز کو اچھی طرح سمجھتا تھا ۔۔
’’ جاؤ یہاں سے ‘‘ وہ کہہ کر دوبارہ اپنی جگہ پر جا بیٹھے تھے ۔۔ جبکہ فرہاد کے قدم باہر کی جانب بڑھے تھے ۔۔ مگر اسکا ایک ایک قدم اس کے لئے بہت بھاری تھا ۔۔ اب وہ کیا کرے گا ؟ آخر نائل شاہ کو کیسے ملی وہ لڑکی ؟ وہ تو مایا کے ساتھ تھی نہ ؟؟ تو کیا ؟؟ کیا نائل شاہ اسے وہاں لایا تھا ؟
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اب کیا کرے گا ؟
وہ اسی سوچ میں گھرا گاڑی تک آیا تھا ۔۔ باقی کا راستہ بلکل خاموشی سے تہہ کیا گیا تھا ۔۔
’’ آپ ٹھیک ہیں باس ؟ ‘‘ گاڑی اسکے گھر کے سامنے روکتے ہوئے احمد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا احمد ۔۔ سب بہت برا ہورہا ہے ‘‘ اپنا سر تھامے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ اندر چل کر بات کرتے ہیں ‘‘ وہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔ دونوں گھر میں آئے تھے ۔۔ فرہاد فوراً ٹیرس کی جانب بڑھا تھا ۔۔ جبکہ احمد کافی بنانے کچن کی جانب گیا تھا ۔۔
وہ ٹیرس پر بیٹھا اسی سوچ میں گم تھا ۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہئے ۔۔
’’ کافی ؟ ‘‘ احمد نے کافی کا کپ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔ جسے اس نے تھام لیا تھا ۔۔۔
’’ اب بتائیں ۔۔ کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے احمد نے پوچھا تھا ۔۔
’’ شہزاد شاہ کے بیٹے نے اس لڑکی کو ڈھونڈ لیا ہے احمد ۔۔ اسے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ زندہ ہے ‘‘ فرہاد نے کہا تھا۔۔ اور احمد کو ایک بار پھر حیران ہونا پڑا تھا ۔۔
’’ تو پھر ۔۔ اب کیا کروگے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ اسے قتل کرنے کا حکم ملا ہے مجھے احمد ۔۔ مجھے اسے مارنا ہوگا ‘‘ اور فرہاد کے الفاظ پر احمد کے ہاتھوں میں پکڑا کافی کا کپ نیچے گرا تھا ۔۔
’’ یہ کیا کہہ رہے ہو فرہاد ؟ تم ۔۔ تم اسے مار دوگے ؟ ‘‘ وہ فوراً کھڑا ہوا تھا ۔۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔۔
’’ مجھے نہیں پتہ احمد ۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔ مجھے بس ایک بات معلوم کے کہ ۔۔اب مجھے اسے ڈھونڈنا ہوگا ‘‘ کافی کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ وہ اس وقت واقعی بہت پریشان تھا ۔۔
’’ اسے ڈھونڈ کر کیا کروگے تم ؟ قتل ؟ ‘‘احمد نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔
’’ اسے نہیں مارونگا تو شہزاد شاہ مجھے مار دیگا احمد ۔۔بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہے میرے پاس ‘‘ بے بسی سے کہا تھا ۔۔۔ مگر احمد کو اس وقت یہ بے بسی بلکل بھی اچھی نہیں لگی تھی ۔۔
’’ ایک ظلم کے بعد دوسرا ظلم کرنے والے ہو تم فرہاد ۔۔ مجھے تو لگا تھا کہ تم گلٹی ہو ۔۔ مگر نہیں ۔۔ تم اب بھی صرف اپنے بارے میں سوچ رہے ہو ‘‘ اسے اب فرہاد پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔
’’ تو کیا کروں میں ؟؟ بتاؤ مجھے ؟ قتل نہ کروں تو کیا قتل ہوجاؤ ۔۔ میرا مرنا قبول ہے تمہیں ‘‘ فرہاد نے کھڑے ہوکر اس سے سوال کئے تھے ۔۔ وہ تو خود بھی یہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ مگر وہ اور کیا کرے ؟ اسے کوئی راستہ نہیں دکھ رہا تھا ۔۔
’’ انصاف کرو فرہاد ۔۔ کیا مزید گناہوں کا بوجھ لے کر زندہ رہ لوگے تم ؟ ‘‘ احمد نے کہا تھا ۔۔ اور فرہاد لاجواب ہوگیا تھا ۔۔
کیا وہ واقعی زندہ رہ لے گا ؟ نہیں ۔۔۔ یہ بوجھ وہ کیسے برداشت کرے گا ؟
مگر کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھا ۔۔
’’ مایا کا ایڈریس نکالو احمد ۔۔ کل صبح ہم وہاں جارہے ہیں ‘‘ وہ کہہ کر پلٹا تھا ۔۔ جبکہ احمد باہر کی جانب بڑھا تھا۔
اگر وہ لڑکی امل ہی ہوئی تو ؟؟ تو کیا فرہاد اسے قتل کر لے گا ؟ وہ جانتا تھا کہ وہ لڑکی مایا کے ساتھ ہی رہتی ہے ۔۔ اور اگر ۔۔ وہ وہی گھر ہوا تو ؟ تو کیا کرے گا وہ ؟
نہیں ۔۔ وہ امل کو قتل ہونے نہیں دے سکتا تھا ۔۔ وہ ایک معصوم لڑکی ہے ۔۔ وہ فرہاد کو کچھ نہیں بتا سکتا تھا ۔۔ مگر ۔۔ کل اگر فرہاد مایا کے گھر چلا گیا ؟ تو اسے سب معلوم ہوجانا تھا ۔۔
اور احمد ایسا ہونے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔ اسے فرہاد کو روکنا تھا ۔۔ اسے امل کو بچانا تھا ۔۔ اسے اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنا تھا ۔۔۔
