Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 16)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

اس نے گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے روکی تھی ۔۔

‘’ ہم یہاں کیوں آئے ہیں ؟‘‘ کافی دیر سے موجود دونوں کی بیچ اس خاموشی کو امل نے توڑا تھا ۔ وہ جب سے وہاں سے نکلے تھے دونوں میں سے کسی نے بھی کوئی بات نہ کی تھی۔۔۔ دونوں اپنی اپنی ہی سوچوں میں گم تھے ۔۔

’’ کیا تم ساری رات گاڑی میں گزارنا چاہتی ہو ؟ ‘‘ سوال کے جواب میں بھی سوال ہوا تھا ۔۔

’’ مجھے لگا ہم واپس جارہے ہیں‘‘

’’ اتنی جلدی نہیں ‘‘ وہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکلا اور امل بھی ۔۔

دونوں اب ہوٹل کے اندر آکر لفٹ کی جانب بڑھے تھے۔۔ شاید اس نے پہلے ہی یہاں بکنگ کروارکھی تھی اس لئے وہ ڈائیریکٹ رومز کی جانب آئے تھے ۔۔

’’ یہ لو ۔۔ سامنے والا روم میرا ہے ۔۔ تم فریش ہوجاؤ ‘‘ روم کی چابی اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔ جسے لے کر وہ پلٹی اور روم میں چلی گئ ۔۔

اندر آکر وہ سیدھا بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔ آج کا دن اس کے لئے بہت مشکل تھا ۔۔ خاص طور پر وہ لمحہ جب شہزاد شاہ اس کے سامنے تھا ۔۔ یہ صرف وہی جانتی تھی کہ کس طرح اس نے اپنے غصے اور نفرت کو کنٹرول کیا تھا ۔۔

’’ماما ۔۔ پاپا ۔۔۔ ‘‘ اس نے کہنا شروع کیا تھا جیسے وہ اسے سن رہے ہوں ۔۔

’’ میری زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہے ۔۔ آپکے قاتل کو سزا دلوانا ۔۔ اور اس کے لئے میں ہر طرح کی تکلیف ، ہر طرح کا خطرہ برداشت کرنے کو تیار ہوں ۔۔ میں اس شخص کو سکون کا سانس نہیں لینے دونگی ۔۔۔ کبھی نہیں ‘‘ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی وہ اٹھی اور واش روم کی جانب گئ تھی ۔۔

وہ شاور لےکر باہر نکلا جب دروازے پر ناک ہوا تھا ۔ اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئےاس نے دروازہ کھولا جہاں سامنے ایک شخص ہاتھ میں ٹرے لے کر کھڑا تھا ۔

’’ آپکا آرڈر سر ‘‘ ٹرے اسکے ہاتھ میں تھما کر وہ پلٹا جبکہ ماسٹر بھی اپنے کمرے سے باہر نکل کر سامنے والے روم کے دروازے کی جانب آیا تھا ۔۔ اس نے ایک ہاتھ سے دروازہ ناک کیا تھا ۔۔

’’ کون ہے ؟ ‘‘ امل کی آواز آئی تھی ۔۔

’’ تمہارا ہسبنڈ ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔ شاید اندر وہ کچھ کر رہی تھی اس لئے کچھ دیر لگی تھی اسے دروازہ کھولنے میں ۔۔

’’ کانٹریکٹڈ ہسبنڈ ‘‘ دروازہ کھول کر اسے اندر آنا کا رستہ دیتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

ٹرے بیڈ پر رکھ کر اس نے بغور امل کی جانب دیکھا ۔۔ اس کے بال گیلے ، اور چہرہ میک اپ سے پاک تھا ۔۔ اور اس حلیے میں وہ پہلے سے زیادہ پر کشش لگ رہی تھی ۔۔

’’ کانٹریکٹڈ ہی سہی ۔۔ ہوں تو ہسبنڈ ہی نا ۔۔ سلیپنگ بیوٹی ‘‘ اپنی نظروں کے حصار میں اسے لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اس وقت تم یہاں کیا کرنے آئے ہو ماسٹر ‘‘ اسکی بات اگنور کرکے پوچھا تھا ۔۔

’’ تمہارے لئے کچھ آرڈر کیا ہے ۔۔ کھا لینااسے ‘‘

’’ لیکن ہم ابھی تو کھانا کھا کر آئے ہیں وہاں سے ؟ ‘‘

’’ ہم نہیں صرف میں ۔۔ تم ایک فرمانبردار بیوی بننے میں اتنی مصروف تھی کہ اپنے ہسبنڈ کو دیکھ کر ہی پیٹ بھرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ کھانا تو تم نے کھایا ہی نہیں ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ لئے کہا تھا ۔۔ جبکہ امل نے نظروں کو رخ پھیرا تھا ۔۔

’’ زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ وہ صرف ایکٹنگ تھی ۔۔اور یہ تم بہت اچھی طرح جانتے ہو ‘‘

’’ نہیں ۔۔ مجھے لگنے لگا ہے کہ ابھی تمہارے بہت سے روپ جاننا باقی ہیں ‘‘

’’ شاید ایسا ہی ہے ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے وہ بیڈ کی جانب بڑھی تھی جبکہ وہ کمرے سے باہر جانے لگا تھا ۔۔

’’ ماسٹر ‘‘ امل کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رکے تھے ۔۔ لیکن وہ پلٹا نہیں تھا ۔۔ امل کی آواز کی سنجیدگی ہی اسے بتا رہی تھی کہ وہ کیا پوچھنے والی ہے ۔۔

’’ اب وہ کیا کرے گا ؟ ‘‘ اور یہی تو وہ سوال تھا ۔۔جو وہ سننا نہیں چاہتا تھا ۔۔

’’ کاش میرے پاس اسکا جواب ہوتا امل ۔۔ ‘‘ بنا پلٹے ہی کہا تھا ۔۔ کچھ دیر تک خاموشی رہی ۔۔

’’ اور ہم ؟ ہم کیا کریں گے ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا ۔۔

’’ انتظار ‘‘ وہ کہہ کر روم سے باہر نکلا تھا ۔۔ جبکہ امل کھانے کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔۔

وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ آنے والے وقت کا اندازہ لگانا مشکل تھا ۔۔ بے حد مشکل ۔۔ مگر وہ دونوں یہ بھی جانتے تھے ۔۔ کہ وقت کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہوجائے ۔۔ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہی ۔۔ اس وقت سے لڑنا تھا ۔۔ اور شاید ۔۔ خود سے بھی ۔۔



’’ کیسے ۔۔۔ کیسے کر سکتا ہے تمہارا بیٹا یہ ۔۔۔ کیسے ؟؟؟؟؟ ‘‘ وہ سادیہ بیگم پر دھاڑے تھے ۔ جو ایک کونے میں سر جھکائے کھڑی تھیں ۔۔۔

’’ اس جہانگیر کی بیٹی کو وہ بیوی بنا کر لے آیا ؟؟ وہ جہانگیر جسے بابا نے اس گھر سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا تھا ۔۔ جس نے ہماری روایات کے خلاف بغاوت کی ۔۔۔ اس کی بیٹی کو وہ اس گھر میں کیسے لاسکتا ہے ‘‘ میز پر رکھا کانچ کا گلاس پوری طاقت سے دیوار پر مارا تھا ۔۔ فرش پر اب کانچ کے ٹکڑے بکھرے تھے ۔۔

’’ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔ وہ لڑکی اس گھر میں کبھی نہیں آئے گی ۔۔ میں اسے بغاوت نہیں کرنے دونگا ‘‘ وہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے تھے ۔۔ اور جانے کب سے روکی ہوئی سانس سادیہ بیگم نے خارج کی تھی ۔۔ شہزاد شاہ کو اس قدر غصے میں وہ آج پہلی بار دیکھ رہی تھیں ۔۔

’’ یہ کیا کر دیا تم نے نائل ۔۔ ‘‘ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔ جانے اب شہزاد شاہ کیا کرنے والا تھا۔۔

وہ اپنی سٹڈی کی جانب بڑھ رہے تھے جب جمشید شاہ انکے راستے میں آکھڑے ہوئے تھے ۔۔

’’ میں اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا جمشید ‘‘

’’ بات تو آپکو کرنی ہوگی بھائی ۔۔ میری بیٹی تین گھنٹے سے اپنا کمرہ بند کئے رورہی ہے ۔۔ آپکا بیٹا جہانگیر کی بیٹی کو اپنی بیوی بنا کر لے آیا ۔۔ اور آپ کھڑے سب دیکھ رہے ہیں ؟ ‘‘

’’ یہ تمہاری غلط فہمی ہے جمشید ۔۔ میں ماضی کا قصہ دوبارہ دہرانے نہیں دونگا ۔۔ اس گھر کی بہو زویا کے علاوہ کوئی نہیں بن سکتی ۔۔ اور جہانگیر شاہ کی بیٹی تو بلکل نہیں ‘‘ حتمی انداز میں کہتے ہوئے وہ سٹڈی میں جاچکے تھے ۔۔

اندر آتے ہی انہوں نے ایک کال ملائی تھی ۔۔

’’ سب کچھ چھوڑ کر یہاں پہنچو فوراً ‘‘ چیختے ہوئے کہہ کر دوسری جانب موجود فرہاد کا کوئی بھی جواب سنے بغیر انہوں نے کال کٹ کر دی تھی ۔۔ ان سب کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہی ہوگا ۔۔ اور آج رات وہ اسی حل کو سوچنے والے تھے۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ احمد نے فرہاد کے چہرے کے بدلتے رنگ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ شہزاد شاہ نے سب چھوڑ کر آنے کا کہا تھا ۔۔ وہ بہت غصے میں لگ رہا تھا ۔۔ ‘‘ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ایسا کیا ہوا ہوگا ؟ ‘‘

’’ میں نہیں جانتا ۔۔ مگر ہمیں ابھی اور اسی وقت نکلنا ہوگا ۔۔ اپنا سامان پیک کرو احمد ‘‘ وہ الماری کی جانب بڑھا تھا۔۔

’’ سامان پیک کروں ؟ کیا مطلب ؟ میں بھی ساتھ جاؤنگا ؟ ‘‘

’’ ہاں ۔۔ تم بھی جاؤگے ۔۔ اس نے اگر مجھے اس طرح بلایا ہے ۔۔ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہاں ایک نئ مصیبت میرے انتظار میں بیٹھی ہے احمد ۔۔ مجھے تمہاری ضرورت پڑ سکتی ہے ‘‘ سوٹ کیس میں اپنے کپڑے ڈالنا شروع کئے تھے ۔۔

’’ اوک ۔۔ میں آتا ہوں آدھے گھنٹے میں ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے نکلا تھا ۔۔

’’ خدا کرے امل اس بار بھی تم بچ جاؤ ‘‘ احمد نے دل سے امل کے لئے دعا کی تھی ۔۔

جانے اسکی دعا نے قبول ہونا بھی تھا یا نہیں ۔۔

اپنا سامان پیک کر کے فرہاد نے مایا کو کال ملائی تھی ۔۔ بیل جارہی تھی ۔۔

جب سے اسکی مصطفی سے بات ہوئی تھی وہ پریشان تھی ۔۔ اگر مصطفی سچ بھی کہہ رہا ہے تو یہ بھی کنفرم تھا کہ وہ لوگ اب اس سے بہت کچھ چھپا رہے ہیں ۔۔ مگر کیا ؟؟ یہ جاننے کے لئے وہ بے تاب تھی ۔۔

اس وقت وہ ایک پیشنٹ کو دیکھ کر اسکے روم سے باہر آئی تھی جب موبائل بجا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ فرہاد کی کال تھی۔۔

’’ کیا بات ہے فرہاد ؟ ‘‘ تھکے ہوئے انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ وہ لڑکی کہاں ہے ؟؟ آخر کیا کرتی پھر رہی ہے وہ مایا ؟ ‘‘ فرہاد کی غصیلی آواز پر اسکے چلتے قدم رکے تھے ۔۔

’’ کیا ہوا ہے ؟؟ اب کیا کیا ہے اس نے ؟ ‘‘

’’ یہ تو تم اس سے پوچھو اب کیا کردیا ہے اس نے ؟ کیوں وہ بار بار شہزاد شاہ کو چھیڑتی ہے ؟ ‘‘ وہ اس پر برسا تھا ۔۔

’’ فرہاد وہ میرے ساتھ نہیں ہے ۔۔ میں نہیں جانتی کہ وہ کیا کر رہی ہے اور کہاں ہے ؟ پلیز مجھے بتاؤ ہوا کیا ہے ؟ ‘‘

’’ شہزاد شاہ نے مجھے سب چھوڑ کر آنے کا کہا ہے ۔۔۔ اس کا مطلب سمجھتی ہو تم مایا ۔۔ ایک بار پھر میں اسکی قید میں جانے والا ہوں ۔۔ اور اس بار ۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں زندہ واپس آسکونگا ‘‘ اور فرہاد کے آخری الفاظ پر مایا کا وجود کانپ گیا تھا ۔۔

’’ ایسا مت کہو فرہاد ۔۔ اللہ نہ کرے کہ تمہیں کچھ ہو ‘‘

’’ کچھ نہ کچھ تو ہونا ہی ہے مایا ۔۔ میں کچھ دیر میں نکل رہا ہوں ۔۔ صبح وہاں پہنچ جاؤنگا ۔۔ شاید ہم آخری بار بات کررہے ہوں ۔۔ اس لئے ۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ اور مایا کو لگا کہ جیسے اسکا دل رک گیا ہو ۔۔

’’ میں کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کر دو مایا ۔۔ میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پایا ۔۔ میں نے تمہیں بہت ہرٹ کیا ہے ۔۔ میں نے بہت سے لوگوں کو ہرٹ کیا ہے ۔۔ مگر میں مجبور تھا مایا ۔۔ جیسے میں آج مجبور ہوں ۔۔ ہوسکے تو ۔۔ مجھے معاف کردینا مایا ۔۔ آئی لو یو ۔۔ ‘‘ اور مایا کا جواب سنے بغیر ہی اس نے کال کٹ کر دی تھی ۔۔ جبکہ مایا ۔۔ اپنی جگہ سن کھڑی تھی۔۔



’’ کیا ہے یار ۔۔۔ تھک گیا میں ‘‘ گاڑی کی پیسینجر سیٹ پر بیٹھے واجد نے اکتا کر کہا تھا ۔۔

’’ میری کمر بھی اب جواب دینے لگی ہے ‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے مصطفی نے کہا ۔۔

’’ یہ عورتوں والی بیماری تمہیں کب لگی ؟ ‘‘

’’ جب سےتمہارے سائے میں رہنا شروع کیا ہے ۔۔ ‘‘

’’ لیکن میں تو مرد ہوں ۔۔ ‘‘

’’ اچھا ۔۔ مجھے اندازہ نہیں تھا ‘‘

اور واجد کی گھوری پر وہ بس مسکرایا ہی تھا ۔۔

’’ صبح سے دوپہر ، دوپہر سے شام اور شام سے رات ہوچکی ہے ۔۔ اور اب تک کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔ ہم ایسے کب تک یہاں رہنے والے ہیں مصطفی ؟ ‘‘ وہ بے حد بیزار ہوچکا تھا ۔۔

’’ جب تک کچھ ہو نہیں جاتا ‘‘ سامنے نظر جماتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ اگر کچھ ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا مصطفی ۔۔ انہیں گئے پورا دن گزر گیا اور اب تو رات بھی گزرنے والی ہے ‘‘

’’ ماسٹر نے کہا ہے تو ضرور کچھ تو ۔۔۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ نظریں سامنےکے منظر پر تھیں ۔۔

’’ دیکھو ۔۔ یہ تو وہی لڑکا ہے نا ؟ ‘‘ مصطفی کے کہنے پر واجد نے بھی سامنے دیکھا تھا ۔۔ جہاں مین گیٹ کے سامنے ایک کار آکر رکی تھی ۔۔ اب دونوں بہت غور سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔

’’ ہاں ۔۔ یہ وہی گاڑی ہے ۔۔ ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہی تو یہ یہاں سے گیا تھا ۔۔ اب واپس کیوں آگیا ؟ ‘‘ واجد نے کہا تھا۔

’’ دیکھتے ہیں ‘‘

کچھ دیر بعد گھر کے مین گیٹ سے فرہاد ایک سوٹ کیس ہاتھ میں لیئے باہر نکلا تھا ۔۔ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر وہی لڑکا جو شاید اسکا اسسٹنٹ تھا ۔۔ باہر نکلا اور سوٹ کیس فرہاد کے ہاتھ سے لے کر گاڑی کی ڈگی میں رکھا تھا ۔۔ اور کچھ دیر بعد وہ دونوں وہاں سے نکل گئے تھے ۔۔

’’ چلو چلو ۔۔ جلدی چلو ‘‘ واجد نے اسکے بازوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ چلا رہا ہوں ۔۔ ماسٹر کو انفارم کر دو تم ‘‘ مصطفی نے گاڑی چلا کر سامنے چلنے والی گاڑی کے پیچھے لگائی دی تھی۔۔



ان دونوں میں سے کوئی بھی اس رات سویا نہیں تھا ۔۔ اپنے اپنے کمروں میں ۔۔ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔۔ ایسے حالات میں نیند کسے آسکتی تھی ۔۔ یہ صبح سات بجے کا وقت تھا جب وہ اس کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا ۔۔

’’ ہوسکتا ہے وہ سورہی ہو ؟ ‘‘ اس نے خود سے کہا تھا۔۔

’’ نیند آسکتی ہے کیا اسے ؟ ‘‘ دل نے جواب دیا تھا ۔۔

’’ لیکن تھکن بھی تو تھی کافی ‘‘

’’ وہ تو تمہیں بھی تھی ۔۔ کیا تم سوئے ؟ پھر وہ کیسے سوسکتی ہے ؟ ‘‘ دل کی جانب سے دوبارہ جواب آیا تھا ۔۔

’’ دیکھ لیتے ہیں‘‘ اس نےہاتھ بڑھا کر دروازہ ناک کیا تھا ۔۔

کچھ دیر گزر جانے کے باوجود دروازہ نہیں کھلا ۔۔

’’ سو ہی رہی ہیں محترمہ ۔۔ ‘‘ خود سے کہتے ہوئے پلٹا ہی تھا کہ دروازہ کھلا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ رات والے کپڑوں میں ہی میں اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔آنکھوں میں نیند کے کوئی آثار نہیں تھے ۔۔

’’ جاگ رہی ہو تم ؟ ‘‘ جانے یہ بے وقوفانہ سوال اس نے کیسےکیا ؟

’’ نہیں۔۔ نیند میں چلنے اور بولنے کی عادت ہے مجھے ‘‘ اور یہ آگئ امل کی زبان ۔۔۔

’’ تیار ہوجاؤ ہمیں جانا ہے ‘‘ سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔

’’ کیا ہم واپس جارہے ہیں ؟‘‘ سوال ہوا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ ہم شاپنگ پر جارہے ہیں ‘‘ ماسٹر کے جواب پر امل چونکی تھی ۔۔

’’ شاپنگ پر ۔۔۔مگر کیوں ؟ ‘‘

’’ کیا تم انہیں کپڑوں میں زندگی گزاروگی امل ۔۔ تمہارے لئے اس طرح کے اور کپڑے لینے ہیں ہمیں ‘‘

’’ لیکن ہم واپس کب جائیں گے ؟ ‘‘ امل کو یہاں رکنے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔

’’ تمہیں واپس جانے کی اتنی جلدی کیوں ہے ؟ ‘‘ وہ اب چڑنے لگاتھا ۔۔

’’ کیونکہ مجھے مصطفی یاد آرہا ہے ‘‘ واہ امل۔۔ کیاجواب دیا ہے ۔۔؟ اس نے خود کو کوسا تھا ۔۔

’’ یہ مصطفی کچھ زیادہ ہی یاد نہیں آتا تمہیں ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے وہ ایک قدم آگے بڑھا تھا ۔۔

’’ کیوں نہیں آئے گا ؟ آخر اس کے علادہ میرا ہے ہی کون ؟ ‘‘ یہ صبح صبح کیا باتیں کر رہی ہو تم امل ؟

’’ اوہ ۔۔ اچھا ‘‘ ماسٹر نے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھے تھے ۔۔

’’ جی ۔۔ اچھا ‘‘ کہتے ساتھ اس نے دروازہ بند کیا اور ماسٹر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔

’’ اسکی اتنی ہمت ؟؟ میرے منہ پر دروازہ بند کردیا ‘‘ اسے اب غصہ آنے لگا تھا ۔۔

’’ جسٹ ویٹ ایڈ واچ امل ‘‘ دروازے سے کہتے وہ اپنے کمرے میں واپس آیا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک مال میں موجود تھے ۔۔ ماسٹر آگے اور امل اس کے پیچھے پیچھے ۔۔ وہ اس کے لئے ماڈرن کپڑے دیکھ رہا تھا ۔۔

’’ یہ ٹرائے کرو ‘‘ ایک ڈریس اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ٹرائے کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اچھا لگ رہا ہے تو لے لیتے ہیں ‘‘ وہ اس شاپنگ میں بلکل بھی انٹرسٹڈ نہیں تھی۔۔

’’ کیا پہلے کبھی ایسے کپڑے پہنے ہیں تم نے ؟ ‘‘

’’ نہیں ‘‘

’’ تو تمہیں کیسے پتا کہ یہ تم پر اچھے لگیں گے یا نہیں ؟ ‘‘ ماسٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔

’’ اوک ‘‘ ڈریس اس کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ گڈ ۔۔ جاؤ ‘‘ ایک فاتحانہ مسکراہٹ ماسٹر کے لبوں پر آئی تھی ۔۔

’’ ایک منٹ ‘‘ ماسٹر کی آواز پر اس کے قدم رکے تھے ۔۔ ماسٹر فوراً ڈریسنگ روم کے اندر گیا ۔۔ وہ بھی اس کے پیچھے اندر آئی تھی ۔۔

’’ تم یہاں کیا کرنے آئے ہو ؟‘‘ اس نے ماسٹر سے پوچھا تھا جو آس پاس ہر چیز کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔پھر موبائل نکال کر اس میں بھی کچھ کرنے لگا تھا ۔

’’ تم آخر کر کیا رہے ہو ؟ ‘‘ اپنا سوال اگنور کئے جانا اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔۔

’’ کچھ نہیں ۔۔ تم اب چینچ کر لو ‘‘ وہ باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھا ۔۔

’’ پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم یہاں کیا کرنے آئے تھے ؟ ‘‘ امل بھی کہاں جواب لئے بنا رہنے والی تھی ۔۔

’’ کیمرے چیک کر رہا تھا امل ۔۔۔ ڈونٹ وری یہاں کوئی کیمرہ نہیں ہے ۔۔ یو آر سیف ‘‘ وہ کہہ کر باہر نکلا تھا جبکہ امل وہی کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔

’’ تم شاید اتنے بھی برے نہیں ہو ماسٹر ‘‘ بند دروازے سے کہتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔۔

اور پھر ۔۔ چینچ کر کے باہر آئی تھی ۔۔ جہاں سامنے کھڑا وہ اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔

اس نے محسوس کیا ۔۔اس کی نظروں کو ۔۔ وہ بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اور اس کے دیکھنے کا انداز ناجانے کیوں اسے کنفیوز کررہا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ اسے مسلسل گھورتا دیکھ کر امل نے پوچھا ۔۔

’’ کچھ نہیں ۔۔ یہ اچھا نہیں لگ رہا ۔۔ یہ ٹرائے کرو ‘‘ ماسٹر نے ایک اور ڈریس اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔

’’ اوک ‘‘ وہ کہہ کر پلٹی تھی ۔۔ اگر اچھا نہیں لگ رہا تھا تو اتنا گھورنے کی کیا ضرورت تھی ؟ وہ سوچ کر رہ گئ ۔۔

کچھ دیر بعد وہ دوسرا ڈریس پہن کر باہر آئی تھی ۔۔۔ اس بار بھی اس نے بہت غور سے اسے دیکھا تھا ۔

’’ یہ کلر اچھا نہیں ہے ۔۔۔ یہ ٹرائے کرو ‘‘ ایک اور ڈریس اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔

’’ سیریسلی ؟ ‘‘ امل نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ یس ۔۔ اب جاؤ ‘‘ وہ دوبارہ ڈریسسگ روم کی جانب بڑھی تھی ۔۔

’’ یہ اوور لگ رہا ہے ۔۔ یہ والا ٹرائے کرو ۔۔ ‘‘

’’ نہیں ۔۔ یہ تم پر سوٹ نہیں کر رہا ۔۔ یہ چیک کرو ‘‘

’’ یہ ٹھیک ہے ۔۔ اب یہ والا ٹرائے کرو ‘‘

’’ اسکی شرٹ کچھ زیادہ ہی چھوٹی ہے ۔۔ یہ لو ۔۔ یہ ٹرائے کرو ‘‘

’’ یہ کچھ اولڈ فیشن لگ رہا ہے ۔۔ یہ ٹرائے کرو ‘‘

’’ بس ٹھیک ہی ہے ۔۔ مجھےیہ والا زیادہ ٹھیک لگ رہا۔۔ ذرا یہ ٹرائے کرنا ‘‘

’’ یہ کچھ بہترہے ۔۔ مگر کچھ زیادہ ہی فٹ ہے ۔۔ اسے ٹرائے کرو ذرا ‘‘

’’ سیریسلی ماسٹر ۔۔ یہ دسواں ڈریس ہے ۔۔ ‘‘ وہ اب تنگ آچکی تھی ۔۔

’’ اب اگر تم پر کچھ سوٹ ہی نہیں کرتا امل تو اس میں میرا کیا قصور ؟ ‘‘ معصومیت سے کہا تھا ۔۔

’’ مجھ پر سب سوٹ کرتا ہے ۔۔ ہاں اگر تمہاری ان ناکارہ آنکھوں میں مسئلہ ہے تو اس میں میرا بھی کوئی قصور نہیں ۔۔۔ میں اب کچھ بھی ٹرائے نہیں کرونگی ‘‘ کہہ کر وہ غصے سے باہر نکلی تھی ۔۔ جبکہ ماسٹر کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی تھی۔۔



حویلی کی جانب آؤ تو فرہاد سنجدہ چہرہ لئے سٹڈی کی جانب بڑھ رہا تھا ۔۔ جہاں شہزاد شاہ اس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔۔

’’ آپ نے اتنی ایمرجنسی میں بلایا ۔۔ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ‘‘ شہزاد شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہاتھا ۔۔

’’ ٹھیک ۔۔۔ ؟؟ ‘‘ سگار میز میں رکھی سٹرے میں مسلتے ہوئے وہ کھڑے ہوئے تھے ۔۔

’’ کیا تم نے کچھ ٹھیک رہنے دیا ہے فرہاد ؟ ‘‘ وہ ایک ایک قدم آہستہ آہستہ اسکی جانب بڑھا رہے تھے ۔۔

’’ کیا مطلب ؟ ‘‘ اسے شہزاد شاہ سے خوف آرہا تھا ۔۔

’’ مطلب پوچھ رہے ہو ‘‘ اور اسی کے ساتھ شہزاد شاہ نے اسکا گریبان پکڑ کر اسے سامنے رکھے صوفے کی جانب دھکیلا تھا۔۔

’’ ایک کام۔۔۔ تمہیں ایک معمولی سا کام دیا تھا میں نے۔۔ اور وہ بھی سے نہ ہوسکا ؟ ‘‘ اس کا گریبان پکڑے اور اس پر جھکتے ہوئے آنکھوں میں شعلے لئے اس سے کہہ رہا تھا ۔۔

’’ مم ۔۔ میں اس لڑکی کو ڈھونڈ رہا ہو ۔۔ ‘‘ وہ اس سے زیادہ کچھ کہہ ہی نہیں سکا تھا کہ شہزادہ شاہ نے ایک بار پھر اسے دھکیلتے ہوئے زمین پر پھینکا تھا ۔۔

’’ ڈھونڈ رہے ہو ۔۔تم اب تک اس لڑکی کو ڈھونڈ ہی رہے ہو ‘‘ میز پر رکھا گلدان اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا تھا۔۔ فرہاد ایک پل کے لئے کانپا تھا ۔۔ شکر ہے گلدان اس کے سر پر نہیں مارا ۔۔

’’ تم ۔۔۔ ‘‘ ایک بار پھر اسے گریبان سے پکڑ کر زمین سے اٹھایا تھا ۔۔

’’ جس تھرڈ کلاس لڑکی کو تم اب تک ڈھونڈ نہیں سکے ۔۔ میرا وہ بیٹا اسے میرے سامنے لے آیا فرہاد ۔۔ ایسا کیسے ہوا ؟؟ کیسے ہوگیا یہ ؟ بتاؤ مجھے ‘‘ ایک زور دار مکا اس کے ہونٹوں کے گرد لگا تھا ۔ اور وہ دوبارہ صوفے پر گرا تھا ۔۔

’’ وہ لڑکی مہینوں سے اس کے ساتھ ہے ۔۔۔ وہ لڑکی جسے تم مہینوں سے ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے نہیں ڈھونڈ سکے۔۔‘‘

’’ لیکن ۔۔ ‘‘ اپنے ہونٹوں سے خون صاف کیا تھا ۔۔ ’’ وہ ۔۔ وہ یہاں کیسے آئی ؟ ‘‘

’’ میرے بیٹے کے ساتھ آئی تھی وہ ۔۔ اور جانتے ہو ؟؟ جانتے ہو تم کہ کس حیثیت سے آئی تھی وہ یہاں ؟ ‘‘

اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔۔ وہ سب اپنا خود صاف کرتے ہوئے کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ میرا بیٹا ۔۔ نائل شہزاد شاہ ۔۔ اس تھرڈ کلاس لڑکی کو اپنی بیوی بنا کر لے آیا ۔۔۔ سمجھ رہے ہو تم اس بات کو فرہاد ۔۔ اس نے اسے اپنی بیوی بنا لیا ۔۔ وہ اسے اس حویلی میں لے آیا ۔۔ میرے سامنے ۔۔ اور تم ؟؟؟؟ ‘‘ انہوں نے ایک بار پھر اسکا گریبان پکڑا تھا ۔۔ ’’ تم نے کیا کیا ؟؟ ہاں ؟ ‘‘ اپنی لال سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔ مگر اس بار فرہاد کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔۔ یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ مایا نے تو اسے ایسا کچھ نہیں بتایا ؟ وہ لڑکی شہزاد شاہ کےبیٹے سے شادی کر چکی ہے ؟؟ یہ کیسی چال چلی ہے اس نے ؟ اب وہ دونوں کیا کریں گے ؟

’’ یہ سب تمہارا کیا ہوا ہے فرہاد ۔۔ تمہاری ایک غلطی ہمیں یہاں تک لے آئی ہے ۔۔ الیکشن میرے سر پر ہیں ۔۔ بتاؤ مجھے میں کیا کروں اب ؟ ‘‘ اس کا گریبان چھوڑتے ہوئے کہا تھا ۔۔ وہ اب واقعی پریشان لگ رہے تھے ۔۔

’’ ایک راستہ ہے ۔۔۔ ‘‘ اور فرہاد کی آواز پر شہزاد شاہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ آنکھوں میں ایک امید جاگی تھی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *