Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 13)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

وہ اس وقت لاؤنچ میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے جب سادیہ بیگم ان کے پاس چائے لے کر آئیں۔۔

چائے کا کپ انہیں دے کر وہ انکے ساتھ ہی بیٹھیں بات شروع کرنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہی تھیں ۔۔

’’ ایسی کیا بات کرنی ہے آپ نے کہ اتنا سوچنا پڑھ رہا رہے ‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے شہزاد شاہ نے کہاتھا ۔

’’ نائل ۔۔ میں اس کے لئے پریشان ہوں شاہ جی ‘‘

’’ اسکے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ شادی اسکی زویا سے ہی ہوگی ‘‘ حتمی انداز تھا ۔۔

’’ لیکن ہم اسے مجبور نہیں کرسکتے ۔۔ وہ مجبور ہونے والوں میں سے نہیں ہے ۔۔ ‘‘ سادیہ بیگم نے انہیں سمجھانا چاہا تھا ۔

’’ لیکن ہم اسے راضی کر سکتے ہیں سادیہ ۔۔ اور اسے کیسے راضی کرنا ہے یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘ اور انکا انداز بتارہا تھا کہ وہ جیسے بہت کچھ سوچ چکے تھے ۔۔

’’ اور وہ لڑکی ؟ نائل کس لڑکی کی بات کر رہا تھا ؟ ‘‘ ایک اور سوال کیا تھا۔۔

’’ وہ جو بھی ہے یہاں کبھی نہیں آئے گی ‘‘ وہ کہتے ساتھ وہاں سے جاچکے تھے جبکہ سادیہ بیگم اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچ رہی تھیں ۔۔

’’ خاندان کی لڑکی کون ہوسکتی ہے آخر ؟ ‘‘ اور اس سوال کے جواب کا انتظار کرنا ہی تھا ۔۔



یہ صبح کے گیارہ بجے کا وقت تھا ۔۔ آج یونیورسٹی آف ہونے کی وجہ سے وہ گھر میں ہی موجود تھا ۔۔ اس نے کچھ دیر پہلے ہی احمد کو مسیج کر کے اپنے دیئے ہوئے کام کا پوچھا تھا ۔۔ اور جواب میں اس نے کہا کہ وہ آرہا ہے ۔۔ وہ اب اپنے کمرے میں احمد کا انتظار کر رہا تھا ۔۔

اگر احمد مایا کا ایڈریس لے کر آگیا ۔۔ تو اسے آج رات ہی یہ کام کرنا ہوگا ۔۔ اور وہ جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے وہ مایا کو ہمیشہ کے لئے کھو دیگا ۔۔ اس بار وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ ایسا کچھ کرنا بھی نہیں چاہتا ہے ۔ مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شہزاد شاہ کی دھمکی صرف دھمکی نہیں ہے ۔۔ اگر اس نے اس لڑکی کو نہیں مارا ۔۔ تو شہزاد شاہ اسے اگلی سانس نہیں لینے دے گا ۔۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اگر اس نے یہ کام کردیا ۔۔ تو وہ زندہ رہ کر بھی کبھی سکون نہیں حاصل کر سکے گا ۔۔

دروازے پر ہونے والی دستک اسے سوچوں سے باہر لائی تھی ۔۔۔

’’ آجاؤ احمد ‘‘ وہ جانتا تھا کہ احمد ہی ہے ۔۔ کیونکہ ایک وہی ہے جو اسکے گھر میں آسانی سے آسکتا تھا ۔۔

دروازہ کھول کر احمد اندر آیا تھا ۔ چہرہ سنجیدہ تھا ۔۔

’’ ایڈریس مل گیا ؟ ‘‘ اس نے فوراً پوچھا تھا ۔۔

’’ جی باس ‘‘ اور وہ نہیں جانتا تھا کہ احمد کے جواب پر اسے خوشی ہوئی یا افسوس ۔۔

’’ گڈ ۔۔ اور مایا کی کیا انفارمیشن ہے ؟ ‘‘ اگلا سوال کیا تھا ۔۔

’’ انکی نائیٹ ڈیوٹی چل رہی ہے آج کل ‘‘ مختصر جواب تھا ۔۔ اور فرہاد کو لگا کہ جیسے قدرت بھی اس سے یہی چاہتی ہے ۔۔

’’ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم آج رات ہی اپنا کام کرسکتے ہیں ‘‘ کہتے ہوئے وہ کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ ہم نہیں ۔۔ آپ ۔۔۔ میں اس کام میں آپکا ساتھ نہیں دے سکتا باس ‘‘ صاف انکار ہوا تھا ۔۔

’’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ کیا میں اکیلے وہاں جاؤنگا ؟ ‘‘ اسے حیرت ہوئی تھی ۔۔ حالانکہ اسے ہونی نہیں چاہئے تھی ۔

’’ آپکو میری ضرورت نہیں ہے باس ۔۔ پہلی بھی تو اکیلے ہی تھے آپ ؟ ‘‘ طنزیہ انداز تھا ۔

’’ تم جانتے ہو میں مجبور ہوں ‘‘ اس کے لئے علاوہ کچھ کہہ نہیں سکا تھا ۔۔

’’ میں بھی مجبور ہوں باس ۔۔ اپنے اندر کی انسانیت کے ہاتھوں ‘‘ وہ جواب دے کر وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ فرہاد اپنی جگہ جم گیا تھا ۔۔

’’ کیا میرے اندر انسانیت نہیں ہے ؟ ‘‘ خود سے پوچھے ہوئے اس سوال کا کوئی جواب نہ ملا تھا ۔۔



وہ مکمل طور پر لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ تھا ۔۔ جب اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ اس نے بنا دیکھے کال ریسیو کی ۔۔

’’ ہیلو ؟ ‘‘

’’ سب ویسا ہی ہورہا ہے ۔۔ جیسا آپ نے کہا تھا ماسٹر ‘‘ جواب سن کر ماسٹر کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی تھی۔۔

’’ ایسا ہی ہونا تھا واجد ۔۔ بس تم تیار رہنا ‘‘

’’ آپ فکر مت کریں ماسٹر ۔۔ سب ہمارے پلین کے مطابق ہی ہوگا ‘‘

‘’ گڈ ‘‘ کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوگیا تھا ۔۔



یہ رات کے ایک بجے کا وقت تھا ۔۔ سوسائیٹی میں اس بہت سڑکیں بلکل خالی اور ویران تھی ۔۔

ایسے میں ایک سڑک پر ایک گاڑی آکر رکی تھی ۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے فرہاد نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھا اور پھر سامنے موجود اس اونچی بلڈنگ کی جانب ۔۔

’’ کیا اتفاق ہے ۔۔ ‘‘ گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا تھا ۔۔ نظر سامنے اس بلڈنگ کی جانب تھی جس کے تیسرے فلور پر مایا کا فلیٹ تھا ۔

وہ اس جگہ کو امل کی وجہ سے پہچانتا تھا ۔۔ اسے یاد تھا کہ وہ امل کو یہاں چھوڑنے آیا تھا ۔۔

’’ امل ۔۔ مجھے امید ہے کہ تم وہ نہیں ہو ‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھا تھا ۔۔

لفٹ میں آتے ہی اس نے تیسرے فلور کا بٹن پش کیا ۔۔ اور ۔۔ جیسے جیسے لفٹ اوپر کی جانب جارہی تھی۔۔ اسکے دل کی دھڑکن اتنی ہی تیز ہورہی تھی ۔۔ وہ آج ایک اور گناہ کرنے آیا تھا ۔۔ ایسا گناہ جس سے اسکی جان تو بچ جائے گی مگر زندگی ختم ہوجائیگی ۔۔ لفٹ کا دروازہ کھلا تھا ۔۔ اور قدم آگے بڑھایا تھا ۔۔ ایک ایک قدم اس کے لئے بہت مشکل تھا ۔۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ امل کا فلیٹ کونسا ہے ؟ اس نے امل کو باہر ڈراپ کیا تھا ۔۔ مگر وہ یہ ضرور جانتا تھا کہ یہی کہیں آس پاس امل بھی موجود ہے ۔۔ اگر اس نے اسے دیکھ لیا تو ؟ اگر وہ اسکی سچائی جان گئ تو ؟ اور یہی خیال اسے ڈرا رہا تھا ۔۔ وہ امل کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔ وہ امل کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔

’’ خدا کرے تم یہاں نہ ہو امل ۔۔ خدا کرے تم کبھی میرا یہ روپ نہ دیکھو ‘‘ دل سے دعا نکلی تھی ۔۔

اور پھر ۔۔ وہ ایک دروازے کے سامنے رکا تھا۔۔ یہ مایا کا فلیٹ تھا ۔۔اس نے اپنے دائے اور بائیں جانب دیکھا ۔۔ وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔ اس نے اپنی جیکٹ کا ہیڈ اپنے سر کے اوپر کیا تھا ۔۔ اور پھر جیب سے ایک چابی نکال کر اس دروازے کے لاک پر لگائی تھی ۔۔

دروازہ کھول کر وہ دبے پاؤں اندر داخل ہوا تھا ۔۔ پورا اپارٹمنٹ اس وقت اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔ یہ دو بیڈ روم ، ایک گیسٹ روم ، ٹی وی لاؤنچ ، اور اوپن کچن پر مشتمل چھوٹا تھا اپارٹمنٹ تھا ۔۔

وہ دبے پاؤں آگے بڑھا تھا ۔۔ احمد کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس لڑکی کا کمرہ سامنے والا تھا ۔۔ وہ اس کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔۔

کمرے کے دروازے کے قریب آکر اس نے لاک گمایا تھا ۔۔ دروازہ لاک نہیں تھا ۔۔ اسے حیرانی ہوئی تھی ۔۔ مگر شاید قسمت اس کے ساتھ تھی ۔۔

ایک گہری سانس لے کر اس نے دروازہ کھولا ۔۔۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا ۔۔ وہ دبے پاؤں اندر داخل ہوا اور فوراً دروازہ بنا کوئی آواز کئے بند کردیا تھا ۔۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ بیڈ پر وہ کمبل اوڑھے سورہی تھی ۔۔

’’ بس یہ آخری بار ے فرہاد ۔۔۔۔ پھر یہ قصہ ختم ہوجائے گا ‘‘ اس نے خود کو تسلی دی تھی ۔۔

بیڈ کے قریب پہنچ کر اس نے ایک تکیہ اٹھایا اور ایک گہری سانس لی ۔۔

اور پھر ۔۔ تیزی سے ۔۔ اس نے وہ تکیہ اس لڑکی کے چہرے پر رکھ کر اپنی پوری طاقت سے اسے دبایا تھا ۔۔ اسکی آنکھیں بند تھیں ۔۔ وہ یہ کام جلد کی ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔ اور اس کے لئے ۔۔ وہ اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا ۔۔

مگر ۔۔۔ پھر اچانک ذہن میں کچھ کلک کیا تھا ۔۔ اور اس کے ہاتھ رکے تھے ۔۔ اس نے آنکھیں کھولی ۔۔ وہ وجود بلکل بے جان پڑا تھا ۔۔ کوئی مزاحمت کوئی کوشش نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ کچھ تھا ۔۔ جو بہت عجیب تھا ۔۔

اس نے فوراً تکیہ ایک جانب پھینکا اور وہ کمبل پکڑ کر تیزی سے اسے اس وجود سے ہٹایا تھا ۔۔ مگر یہ کیا ؟

وہاں تو تکیے رکھے تھے ۔۔ اور وہ لڑکی ؟ وہ کہاں ہے ؟

تو اسکا مطلب کہ وہ جانتی تھی کہ فرہاد آنے والا ہے ۔۔ تو اسکا مطلب کہ مایا بھی جانتی تھی ۔۔

’’ نو ۔۔۔۔ نو ۔۔ نو ۔۔۔نو ‘‘ وہ بیڈ پر لات مارتے ہوئے چیخا تھا ۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ۔۔

کتنی ہمت جما کر کے وہ یہاں آیا اور سب ختم ہوگیا ۔۔

’’ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔ کیسے ہوگیا ہے ؟ ‘‘ اپنے بالوں کو پکڑتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ یہ جال تھا ۔۔۔ یہ سب سازش ہے ‘‘ اس نے اپنے اطراف میں دیکھنا شروع کیا تھا ۔۔ ضرور یہ سب اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لئے کیا گیا تھا ۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔ یہاں خطرہ تھا ۔۔ اور اسے یہاں سے فوراً نکلنا چاہئے تھا ۔۔

اسے سوچ کے ساتھ وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھا تھا ۔۔



‘’ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ تمہارے ماسٹر نے ہمیں مایا سے الگ کیوں کیا ہے ؟ ‘‘ چائے کا کپ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔

’’ سمجھ تو میں بھی نہیں پایا ۔۔ اچانک ہی انکا مسیج آیا کہ تمہیں لے کر یہاں آجاؤں ۔۔ تو میں آگیا ‘‘

’’ لیکن یہ عجیب نہیں ہے ؟ ہم لوگ ایک ہی جگہ مگر الگ الگ اپارٹمنٹ میں رہ رہے ہیں ‘‘ امل کو یہ سب واقعی بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔ مایا کو اکیلا چھوڑ کر وہ دونوں چوتھے فلور کے فلیٹ میں آگئے تھے ۔۔ اسے اس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی۔۔

’’ ضرور اس کے پیچھے بھی کوئی خاص وجہ ہوگی ‘‘

’’ ہاں ۔۔ اور وہ وجہ تمہارا ماسٹر ہمیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ یہ تم بار بار تمہارا ماسٹر تمہارا ماسٹر کیوں کہہ رہی ہو ؟ جبکہ حقیقت میں تو وہ تمہارے ہیں ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ مصطفی کے ہونٹوں پر بکھری تھی ۔۔

’’ مصطفی پلیز ۔۔ ایسی باتیں کر کے میرا موڈ خراب مت کیا کرو ‘‘ اس کا تو واقعی موڈ خراب ہوگیا تھا ۔۔

’’ اب رہنے بھی دو امل ۔۔ حقیقت جیسی بھی ہو قبول کرنے میں ہی عقل مندی ہے ‘‘ وہ بھی کہاں سدھرنے والا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ پھر تم یہاں بیٹھ کر حقیقت قبول کرو ۔۔ میں سونے جارہی ہوں ‘‘ وہ کہہ کر وہاں ست جاچکی تھی جبکہ مصطفی اب دوبارہ اپنی چائے کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔

وہ تیزی سے اپکی گاڑی تک آیا تھا ۔۔ اسے ہر ہل محسوس ہورہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے ۔۔ کوئی ہے جو اس پر نظر رکھ رہا ہے ۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے سب سے پہلے پیچھے دیکھا تھا ۔۔ جہاں دور دور تک کوئی نہیں تھا ۔۔ سڑک بلکل خالی تھی ۔۔ مگر وہ محسوس کر رہا تھا ۔۔ کسی کی موجودگی کو ۔۔ اس نے فوراً گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھ گیا ۔۔

اس کے جاتے ہی سڑک کی دوسری جانب کھڑی ایک کار میں موجود جواد نے اپنا موبائل نکال کر کسی کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔

کچھ دیر بعد کالن ریسیو کرلی گئ تھی ۔۔

’’ کام ہوگیا ہے ماسٹر ۔۔ ‘‘ اس وہ ماسٹر کا جواب سننے کے لئے رکا تھا ۔۔

’’ کیا میں اس کے پیچھے جاؤں ؟ ‘‘ اجازت چاہی تھی ۔

’’ اوک ۔۔ میں صبح ہوتے ہی ان کے پاس جاؤنگا ‘‘ کہہ کر کال کٹ کردی گئ تھی ۔۔

اب اگر یہاں سے کچھ دور ایک گھر کی بیسمنٹ میں آؤ تو یہاں نائل شاہ اپنے سامنے کچھ کاغذ اور تصاویر پھیلائے بیٹھا ہے۔۔ نظر ان پر مگر سوچ کہیں اور تھی ۔۔ آج شام ہی اس نے مصطفی سے کہہ کر انکا اپارٹمنٹ بدلوایا تھا ۔۔ ظاہر ہے ۔۔ اب شہزاد شاہ کو سب بتا دینے کے بعد وہ امل کی سیکیورٹی سے لاپرواہی اختیار نہیں کرسکتا تھا ۔۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ فرہاد امل کو مارنے کے لئے ضرور آئے گا ۔۔ اور مایا ۔۔

اس نے سامنے رکھی تصاویر میں سے ایک تصویر اٹھائی ۔۔ جس میں مایا ایک ریسٹورانٹ میں فرہاد کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔

’’ تم نے کیسے سوچ لیا کہ تم مجھ سے کچھ چھپا سکوگی مایا ؟ ‘‘ اس نے تصویر میں موجود مایا سے کہا تھا ۔۔

’’ تمہیں بہت فرصت میں سبق سکھاؤنگا مایا ۔۔ ابھی مجھے بہت اہم کام کرنے ہیں ‘‘ تصویر کو ایک جانب پھینکتے ہوئے وہ دوبارہ اس فائل کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔

اب اگر اسی شہر میں موجود ایک ہسپتال کے آفس میں بیٹھی مایا کی جانب آؤ ۔۔ تو وہ بے حد پریشان نظر آرہی تھی ۔ لیکن اسکی پریشانی کیا تھی ؟

اس نے موبائل نکال کر ایک مسیج کیا تھا ۔۔

’’ جاگ رہے ہو ؟ ‘‘

’’ ہاں ۔۔ ‘‘ ریپلائی فوراً آیا تھا ۔۔

’’ میں بھی ‘‘ بے تکا جواب تھا ۔۔

’’ ظاہر ہے ۔۔ اب ہسپتال سونے تو نہیں گئ تم ‘‘ جواب پر وہ مسکرائی تھی ۔

’’ ماسٹر نے ایسا کیوں کیا مصطفی ؟ ‘‘ تو یہ اسکی پریشانی تھی ؟

’’ کیسا ؟ ‘‘ انجان بننے کی ناکام کوشش ہوئی تھی ۔۔

’’ تم جانتے ہو میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں ‘‘

’’ نہیں ۔۔ تم بتاؤ ‘‘ وہ بھی کہاں بعض آنے والا تھا ۔۔

’’ انہوں نے ہمیں الگ کیوں کیا ؟ ‘‘ مایا نے اب ڈائیریکٹ سوال کیا تھا ۔۔

’’ یہ میں بھی نہیں جانتا ۔۔ مگر کچھ ہے ۔۔ کچھ ایسا جو چھپا ہوا ہے ‘‘

’’ کہیں انہیں سب پتہ تو نہیں لگ گیا ؟ ‘‘ اسے ایک یہی ڈر تھا بس ۔۔

’’ اگر تم نے کچھ گڑبڑ نہیں کی تو انہیں کچھ معلوم نہیں ہوگا مایا ۔۔۔ کیا تم نے کچھ کیا ہے ؟ ‘‘ اور مصطفی نے سوال نے اس کے ہاتھ روک دیئے تھے ۔۔ وہ اسے کیا جواب دیتی ؟ کیا وہ اسے فرہاد سے ملنے کے بارے میں بتادے ؟ نہیں ۔۔ اگر اسے معلوم ہوگیا تو وہ کبھی اسکا اعتبار نہیں کرے گا ۔۔ اور مصطفی کو اعتبار وہ کھو نہیں سکتی تھی ۔۔

’’ نہیں ۔۔ مجھے ایک پیشنٹ کو دیکھنا ہے ۔۔ بائے ‘‘ اس نے ریپلائی دے کر موبائل واپس رکھا تھا ۔۔ مگر اسکی پریشانی اب بھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔ ماسٹر کا اس طرح اچانک اسے الگ کرنا ۔۔ یہ کسی خطرے کی علامت تھی ۔۔



وہ دونوں اپنے اپنے کمروں میں نیند میں گم تھے ۔۔ جب لگاتار ہونے والی ڈوربیل مصطفی کو تو اپنی جگہ سے ہلانے میں ناکام رہی تھی ۔۔ مگر امل کی نیند ضرور اڑ گئ تھی ۔۔

’’ کیا مسئلہ ہے ؟ صبح صبح کون آگیا تم ؟ ساری نیند خراب کردی میری ‘‘ دروازے کی جانب جاتے ہوئے وہ بڑبڑائی تھی۔۔

’’ کون ہے بھئ ۔۔ کیا ۔۔۔ ‘‘ وہ کہتے ہوئے دروازہ کھول رہی تھی جب سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر زبان رک گئ تھی۔

’’ آپ ؟؟ یہاں ؟ ‘‘ اسے دیکھ کر وہ واقعی حیران ہوگئ تھی ۔۔

’’ کیوں ؟ کیا میرا یہاں آنا منع ہے کیا ؟ ‘‘ کاندھاتے اچکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ آئیں ‘‘ اسے اندر آنے کا راستہ دیا تھا ۔۔

’’ اچھا پارٹمنٹ ہے ‘‘ آس پاس تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کام کی بات بتائیں واجد ۔۔ ماسٹر نے کیوں بھیجا ہے آپکو یہاں ؟ ‘‘

’’ چائے یا کافی پوچھنے کا رواج نہیں ہے آپکے یہاں ؟ ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ چائے یا کافی بنانے والا سورہا ہے ۔۔ اس لئے اب آپ مجھ سے کام کی بات کریں ‘‘ وہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔۔

’’ اوک ‘‘ گہری سانس لے کر وہ اسکے سامنے بیٹھا تھا ۔۔

’’ میں یہاں تمہیں لینے آیا ہوں ‘‘

’’ مجھے یا ہمیں ؟ ‘‘ امل نے پوچھا تھا ۔۔

’’ صرف تمہیں ‘‘

’’ کیوں ؟؟ کہا جارہے ہیں ہم ؟ ‘‘

’’ ہم نہیں ۔۔ تم اور ماسٹر جارہے ہو ‘‘ واجد کے جواب پر وہ چونکی تھی ۔۔

’’ کہاں ؟؟ ‘‘

’’ شہزاد شاہ سے ملنے ‘‘ اور اس جواب نے اسے سکتے میں ڈال دیا تھا ۔۔

’’ شہزاد شاہ سے ملنے ؟؟ ‘‘ اس نے یقین چاہا تھا ۔۔

’’ کل وہ تمہیں مارنے گیا تھا ۔۔ مگر ناکام ہوگیا ‘‘

’’ فرہاد ؟ ‘‘ امل نے پوچھا تھا ۔۔ اور جانے کیوں ۔۔ مگر وہ جواب میں انکار سننا چاہتی تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔ وہی ‘‘ اور اس جواب نے جانے کیوں ؟ مگر اسے مایوسی ہوئی تھی ۔۔

’’ تو کیا اسے پتہ چل گیا ؟ ‘‘

’’ نہیں ۔۔ اسے معلوم ہوتا تو سچویشن کچھ الگ ہوتی ‘‘

’’ لیکن ہم شہزاد شاہ کے پاس کیوں جارہے ہیں ؟ ‘‘ اور اس کے سوال کر جواد کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ اس سوال کے جواب میں خاموشی تھی ۔۔ مکمل خاموشی ۔۔۔



اسکی دوپہر دو بجے کے قریب کھلی تھی ۔۔ دیوار پر لگی وال کلاک پر نظر پڑھتے ہی وہ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا۔۔

’’ حیرت ہے ۔۔ آج میڈم اب تک میرے سر پر سوار نہیں ہوئیں ؟ ‘‘ امل کے ہوتے ہوئے اتنی دیر تک سوجانا اسکے لئے واقعی حیرت انگیز بات تھی ۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلا مگر ہر طرف خاموشی تھی ۔۔

’’ امل ۔۔۔ ‘‘ وہ امل کے کمرے کے باہر کھڑے ہوکر اسے آواز دے رہا تھا مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا تھا ۔۔ ایک دو بار پھر سے آواز دینے کے بعد بھی جب کوئی جواب نہ آیا تو وہ کمرے کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔ مگر ۔۔۔ وہاں تو کوئی نہیں تھا۔۔

’’ یہ لڑکی کہاں چلی گئ ؟ ‘‘ کمرے سے باہر آکر اب وہ ہر جگہ اس ڈھونڈ رہا تھا ۔۔

’’ ڈونٹ ٹیل میں کہ یہ فرہاد کے پاس چلی گئ ہے ‘‘ کچن میں آتے ہوئے اس نے خود سے کہا تھا ۔۔

’’ بنا بتائے کہاں چلی گئ اب یہ ‘‘ وہ امل کے لئے اب پریشان ہورہا تھا ۔۔ اور پھر وہ پانی کی بوتل نکالنے کے لئے فریج کی جانب بڑھا تھا ۔۔ مگر اس کے بڑھتے ہاتھ فریج پر لگی ایک چٹ کی جانب گئے تھے ۔۔ اس نے وہ پیپر اتار کر پڑھا تھا ۔

’’ تمہارے ماسٹر کے ساتھ شہزاد شاہ سے ملنے جارہی ہوں ۔۔ لیکن پریشانی کی بات شہزاد شاہ سے ملاقات نہیں ۔۔ بلکہ نائل شاہ کے ساتھ اتنا لمبا سفر ہے ۔۔ دعا کرنا خدا مجھے صبر دے ‘‘

اور یہ پڑھتے ہی ایک مسکراہٹ مصطفی کے ہونٹوں پر پھیل گئ تھی ۔۔

’’ خدا یہ سفر مبارک کرے ‘‘ اس نے دل سے دعا کی تھی ۔۔



احمد نے دیکھا ۔۔ وہ لاؤنچ میں اپنا سر دیئے بیٹھا ہے ۔۔ وہ یہاں گزری ہوئی رات کا معلوم کرنے آیا تھا ۔۔ اسے افسوس تھا کہ وہ امل سے رابطہ نہیں کر پایا ۔۔ وہ اسے ملی ہی نہیں ۔۔

’’ کیا حال ہیں باس ؟ ‘‘ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔۔ جبکہ فرہاد نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں رات بھر جاگنے اور پریشانی کی وجہ سے لال سرخ تھی ۔۔ ابھی احمد اپنے جواب کا انتظار ہی کررہا تھا جب فرہاد نے اپنی جگہ سے فوراً اٹھ کر اسکا گریبان پکڑا تھا ۔۔ وہ اسے شعلہ برساتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔

’’ کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟ بتاؤ کیوں کیا ؟ ‘‘ وہ اس وقت ڈرا ہوا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں کا ڈر احمد کو کنفیوز کررہا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ہے ؟ کیا کیا میں نے ؟ ‘‘

’’ کیا کیا تم نے ‘‘ کہتے ساتھ اسے پوری قوت سے پیچھے کی جانب دھکیلا تھا ۔۔

’’ اسے سب بتا دیا تم نے ۔۔ بھاگ گئ وہ وہاں سے ‘‘ وہ چیخا تھا جبکہ احمد حیران رہ گیا تھا ۔۔

’’ بھاگ گئ ؟ ‘‘

’’ ہاں بھاگ گئ ۔۔ وہ جانتی تھی کہ میں وہاں آونگا ۔۔ اس لئے وہ اپنی جگہ تکیے رکھ کر بھاگ گئ ‘‘

’’ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اسے کیسے معلوم ہوا سب ؟ ‘‘

’’ یہی تو میں تم سے جاننا چاہتا ہوں ۔۔ اسے کیسے معلوم ہوا سب ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ لہجے میں شک تھا ۔۔

’’ یہ مجھے کیسے معلوم ہوگا ؟ ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تمہیں کچھ معلوم نہ ہو ۔۔ ورنہ بہت برا ہوگا احمد ۔۔ یاد رکھنا ‘‘ وہ اسے دھمکی دے کر وہاں سے جاچکا تھا ۔۔ جبکہ احمد اب سوچ میں پڑ گیا تھا ۔۔

’’ آخر اسے کیسے معلوم ہوا ؟ ‘‘

وہ دونوں خاموشی سے اپنی منزل کی جانب رواں تھے ۔۔ اس نے مصطفی کے لئے پیغام چھوڑ دیا تھا ۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے وہاں نہ پاکر پریشان ہوجائے گا ۔۔ لیکن اصل پریشانی تو آگے آنے والی تھی ۔۔ اسے اب بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس طرح اچانک وہ لوگ شہزاد شاہ سے ملنے کیوں جارہے تھے ؟ پلین کے مطابق تو امل کا فرسٹ سیمیسٹر ختم ہونے کے بعد یہ کرنا تھا ۔۔ پھر کیوں ؟

واجد نے اچانک ہی گاڑی ایک خالی سڑک پر روکی تھی ۔۔

’’ گاڑی کیوں روکی ہے ؟ ‘‘

’’ کیونکہ آپکو اب جانا ہوگا ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ کہاں ؟ ‘‘

’’ وہاں ‘‘ واجد نے انگلی کا اشارہ سامنے کی جانب کیا تھا ۔۔ اور امل نے دیکھا ۔۔ سامنے ہی ایک بلیک کرولا کھڑی تھی ۔۔ اور وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ کس کی ہے ۔۔

’’ تو برا بہت شروع ہوا ‘‘ گہری سانس لے کر امل نے کہا تھا ۔۔ جبکہ واجد کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔

’’ اب اتنے بھی برے نہیں ہمارے ماسٹر ‘‘ اس نے انکی سائیڈ لینی چاہی تھی ۔۔

’’ بلکل ۔۔ میری سوچ سے کئ زیادہ ہے ‘‘ کاندھے اچکا کر کہتے ہوئے اس نے ڈور اوپن کیا تھا ۔۔

’’ بائے دا وے ۔۔ تھینک یو ‘‘ اسے مسکرا کر کہتی وہ گاڑی سے باہر نکلی تھی ۔۔ واجد نے اسے ہاتھ کے اشارے اسے الوداع کہا تھا ۔۔

امل اب اس گاڑی کی جانب بڑھی تھی ۔۔

’’ اب اتنے گھنٹوں کا سفر اس تھرڈ کلاس ڈانسر کے ساتھ کرنا پڑے گا ۔۔ مصطفی !! تم یہاں کیوں نہیں ہو ؟ ‘‘ وہ اداسی سے سوچتی ہوئی گاڑی کے قریب پہنچی تھی ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔

’’ آخر یہ اتنا ہینڈسم کیوں ہے ؟ ‘‘ اسے دیکھتے ہوئے جانے کیوں ؟ مگر یہ خیال آہی گیا تھا ۔۔

بلیک پینٹ کوڈ ، آنکھوں میں گلاسس ، ہلکی بیئرڈ ، نکھری رنگت ، لمبے گردن تک آتے بال ، سیدھے ہاتھ میں قیمتی گھڑی، مغرور ناک اور اپنے چوڑے کاندھوں کے ساتھ وہ واقعی بے حس پرکشش لگ رہا تھا ۔۔

’’ اگر مجھے جی بھر کر دیکھ لیا ہو تو چلیں‘‘ بھاری آواز میں معنی خیزی سے کہے گئے اس جملے نے امل کو اس کے خیالوں سے باہر لایا تھا ۔۔۔ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ کب اس نے اس کے لئے دروازہ کھولا اور وہ باہر کھڑی بس اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اب جب احساس ہوا ۔۔ تو شرمندگی نے اسکے گال لال کردیئے تھے ۔۔ جبکہ نائل شاہ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔

’’ سوری ۔۔ ایکچولی ایلینز پہلے کبھی دیکھے نہیں تھے نہ ‘‘ بیٹھتے ساتھ ہی اس نے کہا تھا ۔۔ اور بس ۔۔ امل کے الفاظ ہی تھے جنہوں نے نائل شاہ کی مسکراہٹ کو غائب کیا تھا ۔۔

’’ تمہیں میں ایلین لگتا ہوں ؟ ‘‘ سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔ وہ تو دل پر ہی لے گیا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ میں نے ایسا تو نہیں کہا ‘‘ اب مسکرانے کی باری امل کی تھی ۔۔۔

’’ تمہاری باتوں کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں میں امل ۔۔ ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ می ‘‘ کہتے ہوئے اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی جبکہ امل نے جواب دینے کے بجائے خاموشی سے مسکرانا ہی مناسب سمجھا تھا ۔۔

مگر یہ خاموشی آدھے گھنٹے بعد ہی اسے بور کرنے لگی تھی ۔۔۔ اگر مصطفی ہوتا تو یہ وقت کتنی آسانی سے گزر جاتا ۔۔ اس نے موبائل نکال کر مصطفی کو مسیج کیا تھا ۔۔

’’ میں بور ہورہی ہوں ‘‘

’’ میں بھی ۔۔ ‘‘ جواب فوراً آیا تھا ۔۔

’’ کیوں ۔۔ تم مایا کے ساتھ نہیں ہو کیا ؟ ‘‘

’’ نہیں ۔۔ میں تمہارے لئے پریشان ہوں بس ‘‘ اسکے جواب پر وہ مسکرائی تھی ۔۔ اور اس مسکراہٹ کن انکھیوں سے نائل شاہ نے بھی دیکھا تھا ۔۔

’’ اور میں تمہارے ماسٹر کے ساتھ پریشان ہوں ‘‘

’’ یعنی دونوں ایک دوسرے کی پریشانی ہیں ‘‘ اس نے مسکرا کر جواب لکھنا شروع کیا تھا ۔۔

’’ اتنا مسکرا کر کس سے بات کررہی ہو تم ؟ ‘‘ ماسٹر کی روب دار آواز نے اسکی موبائل پر چلتی انگلیوں کو روکا تھا ۔۔

’’ ایک بہت اچھے دوست سے ‘‘ اب وہ سیدھا جواب کیسے دے سکتی تھی ۔۔۔

’’ کون سا دوست ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا ۔

’’ نن آف یور بزنس ‘‘ کہتے ہوئے وہ دوبارہ موبائل کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔ جبکہ ماسٹر کے چہرے کے تعصورات مزید سخت ہوئے تھے ۔۔

’’ اٹ از ڈئیر ۔۔۔ تم بھول رہی ہو کہ تم میری بیوی ہو ‘‘ اسے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا ۔۔

’’ کانٹریکٹڈ ‘‘ مختصر سے امل کے جواب نے جیسے نائل شاہ کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی ۔۔ ایک جھٹکے سے گاڑی روک کر ا وہ امل کی جانب ٹرن ہوکر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ امل کو اس کا ارئیکشن عجیب لگا تھا ۔۔

’’ جس کانٹریکٹ کی تم بات کررہی ہو ۔۔ اس کے مطابق تم کسی نے مجھے انفارم کئے بنا بات نہیں کروگی ‘‘

’’ مصطفی سے بات کر رہی ہوں میں ‘‘ امل نے جواب دینا ہی مناسب سمجھا تھا ۔۔ اب ظاہر ہے وہ ماسٹر کے ساتھ اس جگہ پر اکیلے اور شہر سے دور لڑائی کرنے کی بے وقوفانہ حرکت نہیں کرسکتی تھی ۔۔

’’ اب نہیں کروگی ‘‘ کہتے ہوئے اس نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی تھی ۔۔

’’ واٹ !!! ‘‘ اسے لگا جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہو۔۔

’’ تم اب اس سے یا کسی سے بھی بات نہیں کروگی ‘‘ آرڈر جاری ہوا تھا ۔۔

’’ اور میں ایسا کیوں کرونگی ؟ ‘‘ یہ شخص آج اسے حیران کر رہا تھا ۔۔

’’ کیونکہ تم بلکل نہیں چاہوگی کہ یہ موبائل تم سے واپس لے لیا جائے ‘‘ اور اس جواب پر امل کا منہ کھل گیا تھا ۔۔ وہ اسے دھمکی دے رہا تھا ۔۔

’’ ایڈیٹ ‘‘ بڑبڑاتے ہوئے اس نے موبائل اپنے پرس واپس لگا تھا ۔۔ اب ظاہر ہے ۔۔ موبائل جیسی نعمت سے وہ کیسے محروم رہنا قبول کرسکتی تھی ۔۔

’’ کچھ کہا تم نے ؟ ‘‘ سوال ہوا تھا ۔۔

’’ کچھ نہیں ‘‘ کھرا جواب دیتے ہوئے امل نے چہرے کا رخ کھڑکی کی جانب کیا تھا ۔۔ اب وہ اس شخص سے کسی بھی بحث کے موڈ میں نہیں تھی ۔۔ جبکہ دوسری جانب ۔۔ نائل شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔

آخر اس کے ہوتے ہوئے ۔۔ وہ امل کو کسی اور سے مسکرا کر بات کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا تھا ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *