Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 07)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

صبح سے دوپہر ، دوپہر سے شام اور شام سے رات ہوچکی تھی ۔۔ مگر امل کا کوئی پتہ نہیں تھا ۔۔ وہ شانزے سے بھی پوچھ چکا تھا ۔۔۔ فرہاد پر بھی وہ مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔ مگر امل کا کہیں کوئی نشان نہیں تھا ۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا ۔ وہ اچانک کہاں جاسکتی تھی ۔۔ اسکا موبائل مسلسل آف تھا ۔۔ وہ اسے ٹریک بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔

’’ میں نے کہا تھا ۔۔۔ کہا تھا میں نے یہاں خطرہ ہے ۔۔ ‘‘ مایا مسلسل بڑبڑا رہی تھی ۔۔ وہ بھی اتنی ہی شاکٹ تھی جتنا مصطفی تھا ۔۔۔ مگر وہ اس سے زیادہ ڈری ہوئی تھی ۔۔۔

’’ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔ میں ساری معلومات لے چکا ہوں ۔۔ امل ان لوگوں کے ہاتھ نہیں لگی ہے ۔۔۔ وہ کہیں اور ہے۔۔ ان سب کے پیچھے کوئی اور ہے ‘‘ اپنا سر تھامے وہ کہہ رہا تھا ۔۔

’’ کوئی اور کون ہوسکتا ہے ؟؟ امل کی ان لوگوں کے علاوہ اور کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔۔ اس کے بارے میں تو کوئی کچھ جانتا بھی نہیں ہے ‘‘ مایا کچھ بھی ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔

’’ میں نہیں جانتا ۔۔۔ کچھ نہیں جانتا میں ‘‘

’’ تم اپنے آپ کو سنبھالوں مصطفی ۔۔ صبح سے کچھ نہیں کھایا تم نے ۔۔ ‘‘ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔

’’ کیسے سنبھالوں خود کو ۔۔۔ وہ غائب ہے مایا ۔۔ اس سے ناراض تھا میں ۔۔ آخری بار اس سے میری کوئی بات بھی نہیں ہوئی ۔۔۔ اور اب دیکھو ۔۔ وہ یہاں نہیں ہے تو مجھے بھی سکون نہیں مل رہا ۔۔ اگر اسے کچھ ہوگیا ؟ اسے کچھ ہوگیا تو میں خود کو معاف نہیں کرسکونگا ۔۔۔ وہ میری ذمہ داری تھی ‘‘ اس نے مایا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

اور مایا نے دیکھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں محبت تھی ۔۔۔ ہاں ۔۔ محبت ۔۔ وہ بھی امل کے لئے ۔۔۔

’’ تم اس سے محبت کرنے لگے ہو مصطفی ؟؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ محبت ۔۔۔ !!! ‘‘ مصطفی نے حیرانگی سے کہا تھا ۔۔۔۔

’’ ہاں ۔۔ تمہاری آنکھوں میں ۔۔ اسکے لئے فکر ہے ۔۔ محبت ہے ‘‘ مایا نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔

’’ میں محبت کرتا ہوں اس سے مایا ۔۔۔ مگر محبتوں کی بھی نیتیں ہوتی ہیں ۔۔ محبتوں کے بھی رنگ ہوتے ہیں ۔۔ ہر انسان سے الگ رنگ کی محبت کی جاتی ہے ۔۔۔ کسی کے لئے محبت محسوس کرو تو پہلا کام اس کا رنگ جاننے کا کرنا چاہئے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور مایا اس کا جواب سمجھ چکی تھی ۔۔ اس نے گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ ماسٹر کو بتایا ؟ ‘‘ مایا کے اگلے سوال نے مصطفی کو چونکا دیا تھا ۔۔ اس نے حیرانگی سے مایا کی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ اتنے حیران کیوں ہورہے ہو ؟؟ ماسٹر کو بتانا ضروری ہے مصطفی ‘‘ مایا اسکا ردعمل نہیں سمجھی تھی ۔۔

’’ لیکن ماسٹر کی نظر تو ہر پل ہوتی ہے مایا ۔۔ انہیں تو معلوم ہونا چاہئے کہ امل کے غائب ہے ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اور ساتھ ہی وہ کچھ سوچ بھی رہا تھا ۔۔

’’ انہیں اگر معلوم ہوتا تو اب تک وہ ہمیں مار چکے ہوتے مصطفی ۔۔ ‘‘ اس نے مصطفی کو سمجھانا چاہا تھا ۔۔ اور مصطفی اچانک کھڑا ہوا تھا ۔۔ مایا نے دیکھا ۔۔ اس کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔ اب چہرے پر خوف تھا ۔۔ پریشانی کے ساتھ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ مایا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ تو انہوں نے ہمیں مارا کیوں نہیں ابھی تک مایا ؟؟؟ اب تک ماسٹر کی جانب خاموشی کیوں ہے ؟ ‘‘ وہ پوچھ رہا تھا ۔۔۔ اور مایا اب بھی کچھ سمجھی نہیں تھی ۔۔

’’ کیونکہ وہ اب تک کچھ جان نہیں پائے ہیں ‘‘ اس نے جواب دیا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔۔ کیونکہ وہ سب جاتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ امل ۔۔ ان کے پاس ہے ‘‘ اور مصطفی نے ایک دھماکہ کیا تھا ۔۔ اور مایا حیرانگی کی انتہاہ پر تھی ۔۔۔۔



اس کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ سر میں درد کی ایک لہر دوڑی تھی ۔۔ اس نے اپنا سر تھاما تھا ۔۔ کچھ دیر وہ اس درد کے کم ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی ۔۔ اور پھر اگلے ہی پل اسے یاد آیا کہ وہ تو یونیورسٹی میں تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ کسی نے اسے بے ہوش کیا تھا ۔۔ وہ اب کہاں ہے ؟؟

وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ ایک کمرے میں موجود تھی ۔۔ مگر وہ اس کمرے کو پہچانتی تھی ۔۔ وہ یہاں پہلے بھی آچکی تھی۔۔۔ اب وہ تیزی سے کھڑکی کی جانب بڑھی تھی ۔۔ اس نے کھڑکی کے پردے ہٹائے تھے ۔۔۔ اور اس کا شک یقین میں بدل چکا تھا ۔۔۔ سامنے کا منظر ویسا ہی تھا ۔۔۔ وہی درختوں سے بھرے پہاڑ ، خالی سڑک ، دھند ، ہوا میں نمی ۔۔۔۔۔ وہ یقیناً ناران میں تھی ۔۔

’’ مصطفی ۔۔ !!! ‘‘ اسے ایک خیال آیا تھا اور وہ کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔

’’ مصطفی ۔۔۔ مایا ‘‘ وہ پکار رہی تھی ۔۔ مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔۔

’’ مایا ۔۔ ‘‘ وہ کچن میں آئی تھی مگر مایا وہاں نہیں تھی ۔۔۔

’’ مصطفی ۔۔ ‘‘ وہ سٹڈی میں آئی تھی ۔۔ مگر مصطفی وہاں نہیں تھا ۔۔۔

’’ ایسا نہیں ہوسکتا تھا ‘‘ بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کہاں ہیں سب ؟؟ ‘‘ وہ اب اپنے چاروں جانب دیکھ رہی تھی مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔

’’ کوئی ہے۔۔۔ ؟؟ ‘‘ اس نے پکارا تھا۔۔ مگر ہر جانب خاموشی تھی۔۔۔

اور پھر اسے یقین آگیا تھا ۔۔ کہ اب ۔۔وہ اس گھر میں بلکل اکیلی تھی ۔۔۔

’’ ماسٹر ۔۔۔ ‘‘ اور وہ یہ بھی سمجھ چکی تھی کہ اسے یہاں تک پہنچانے والا کون تھا ۔۔۔ یقیناً اب وہ اس کے سامنے بھی آنے والا تھا ۔۔۔ وہ ایک گہری پرسکون سانس لے کر کچن کی جانب بڑھی تھی ۔۔ اسے بھوک لگی تھی ۔۔

اب ظاہر ہے ۔۔ جب وہ جانتی ہے کہ یہ سب ماسٹر کے کارنامے ہیں۔۔ تو پھر پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ اپنا ہی تو گھر ہے ۔۔۔

اور اگر یہاں سے بہت دور ۔۔ اسلام آباد کے اس فلیٹ میں آؤ ۔۔ تو مصطفی نے کھانے کی جانب دیکھنا بھی گنوارا نہ کیا تھا ۔۔

اب ظاہر ہے ۔۔۔ جب وہ جانتا ہے کہ یہ سب ماسٹر نے کیا ہے ۔۔ تو وہ کیسے پریشان نہ ہوتا ۔۔ آخر وہ اکیلی تھی وہاں۔۔

کتنا فرق تھا نہ دونوں میں ؟؟



آج دو دن ہوگئے تھے ۔۔ اور امل یونیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔ وہ اب کچھ پریشان ہورہا تھا ۔۔

’’ شانزے ۔۔ ‘‘ وہ کیفےٹیریا میں بیٹھی شانزے کے پاس آیا تھا ۔

’’ فرہاد ۔۔ کیسے ہیں آپ ؟ ‘‘ اسکی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم کیسی ہو ؟ ‘‘ وہ بیٹھا نہیں تھا ۔۔

’’ میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔ ‘‘

’’ اچھا شانزے ۔۔ تم جانتی ہو کہ امل کیوں نہیں آرہی یونیورسٹی ؟ ‘‘ اس کی جانب تھوڑا جھکتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا تھا۔۔

’’ ہاں ۔۔ اسکے کزن کی کال آئی تھی ۔۔ کہہ رہے تھے کہ انکی وائف کی طبیعت کچھ خراب ہے تو عمل انکی وجہ سے کچھ دن نہیں آسکے گی ‘‘ شانزے نے مصطفی کی کہی ہوئی بات ہی اس تک پہنچائی تھی ۔۔

’’ اوہ اچھا ۔۔ اسکا نمبر مل سکتا ہے مجھے ؟ ‘‘ فرہاد نے پوچھا تھا ۔۔ جبکہ شانزے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

’’ آفکورس ۔۔۔ ابھی تو بند ہے نمبر ۔۔ مگر آپ بعد میں ٹرائے کر لیجیئے گا ‘‘ اس نے کہا تھا اور فرہاد نے اسکا نمبر اپنے موبائل میں سیو کیا تھا ۔۔

’’ پھر ملاقات ہوتی ہے تم سے ‘‘ وہ کہہ کر آگے بڑھ چکا تھا اور شانزے اب اپنی کافی کی جانب متوجہ ہوچکی تھی ۔۔



آج دوسرا دن تھا ۔۔ اور وہ اب بھی اس گھر میں اکیلی تھی ۔۔۔ کچن میں کھانے کا سامان ، اور کمرے میں اسکے استعمال کے لئے ہر چیز موجود تھی ۔۔۔ مگر وہ اس گھر میں اکیلی پورا دن رہ بھی نہیں پارہی تھی ۔۔ اس نے ایک مرتبہ باہر جانے کی کوشش کی تھی ۔۔ مگر مین گیٹ لاک تھا ۔۔ کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تو گھر کے چاروں جانب گارڈز موجود تھے ۔۔ یعنی اس کے فرار کا کوئی بھی راستہ نہیں تھی ۔۔۔ گئ کھڑکیاں لاک کر دی گئ تھیں ۔۔ جہاں سے اسکا بھاگنا ممکن ہوسکتا تھا۔۔ اور جو کھلی تھیں ۔۔ وہاں گارڈ کے پہرے ہوتے تھے ۔

۔ اس نے رات میں بھی دو تین مرتبہ اٹھ کر دیکھا تھا ۔۔ مگر وہ حیران ہوئی تھی ۔۔۔ پوری رات کوئی گارڈ ایک منٹ کے لئے بھی اپنی جگہ سے ہلتا نہیں تھا ۔۔

’’ کیا بات ہے ۔۔۔ اتنی سخٹ سکیورٹی تو پرائم منسٹر کے لئے بھی نہیں ہوتی ۔۔ جتنی مجھ پر اس ماسٹر نے لگائی ہوئی ہے‘‘ کھڑکی کا پردہ دوبارہ ٹھیک کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔ آج دوسری رات تھی یہاں ۔۔ یعنی کل تیسرا دن شروع ہوجنا تھا ۔۔

’’ آخر یہ انسان کب سامنے آئے گا ؟ ‘‘ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی ۔۔

’’ دو دن ہوگئے ۔۔ مجھے یہاں قید کر کے رکھا ہوا ہے ۔۔ مگر وہ یہاں آنہیں رہا ۔۔ کیا کرنا چاہتا ہے اب وہ ؟ ‘‘ اپنا سر تھامتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔۔

’’ ماسٹر ہر پل تم پر نظر رکھے ہوئے ہیں امل ۔۔۔ تم کچھ بھی کروگی انہیں معلوم ہوجائے گا ‘‘ اسے مصطفی کی یہ ایک بات یاد آئی تھی ۔۔۔ اور جھٹکے سے وہ سیدھی ہوئی تھی ۔۔

’’ یقیقناً وہ اب بھی مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔۔ مگر کیسے ؟؟؟ ‘‘ اب وہ کمرے چکر لگانے لگی تھی ۔۔

’’ گھر میں کوئی ملازم نہیں ہے ۔۔ ضرورت کی ہر چیز یہاں پہلے سے موجود ہے ۔۔۔ گارڈ بھی گھر سے باہر پہرا دیتے ہیں ۔۔ کوئی نہیں جانتا کہ اندر میں کیا کر رہی ہوں ؟ زندہ بھی ہو کہ مر گئ ؟؟ مگر پھر بھی ۔۔۔ پھر بھی وہ مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔۔۔ کیسے ؟؟؟ ‘‘ ایک نئ سوچ نے اسے الجھایا تھا ۔۔

’’ مصطفی ۔۔۔۔ ‘‘ اسے اب مصطفی کی شدت سے یاد آئی تھی ۔۔ وہ ہوتا تو یقیناً کوئی نہ کوئی حل نکال لیتا ۔۔

’’ مصطفی کو بھی میرے ساتھ اغواہ کر لیتا تو کتنا اچھا ہوتا ‘‘ اس نے حسرت سےسوچا تھا۔۔

اور اگر یہاں سے بہت دور ۔۔ اپنے فلیٹ کے کمرے میں ۔۔۔ لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے۔۔ ماسٹر کو منانے کے لئے ای۔میل کرنے میں مصروف مصطفی تک امل کی یہ حسرت پہنچ جاتی ۔۔۔ تو شاید وہ امل کو ڈھونڈنے کے لئے اتنی محنت نہ کررہا ہوتا ۔۔۔

اب اگر امل کے پاس واپس آؤ ۔۔ تو وہ اب بھی ماسٹر کو کوسنے ۔۔ اور مصطفی کی قدر کرنے میں مصروف تھی ۔۔

’’ کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔اس ماسٹر کے دماغ کو مصطفی کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔۔ آخر سامنے کیوں نہیں آتا میرے وہ ؟ ‘‘ اب اسے غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔ کچھ دیر اسی طرح غصے سے چکر لگاتے گزری تھی مگر پھر ۔۔۔ اچانک ۔۔۔ ایک خیال نے اسکے قدم روک لئے تھے ۔۔۔

’’ لیکن مصطفی کے دماغ کو تو میں سمجھ سکتی ہوں نہ ۔۔ سوچو امل ۔۔۔ سوچو ۔ْ۔۔ اگر تم مصطفی ہوتی ۔۔۔ تو تمہاری نظر میں ۔۔ ماسٹر امل پر نظر کیسے رکھ سکتا ہے ؟ ‘‘ اب اسکی سوچ ایک نئ راہ پر چلنے لگی تھی ۔۔

اب امل ۔۔ مصطفی بن کر سوچ رہی تھی ۔۔۔

اور یہاں سے بہت دور ۔۔۔ مصطفی کے کمرے میں آؤ ۔۔ تو وہ ماسٹر کو اپنی ای۔میل سینڈ کر رہا تھا ۔۔ وہ ماسٹر سے ریکوسٹ کر رہا تھا ۔۔۔ یہ مصطفی کا سٹائل تو نہیں تھا ۔۔۔ مگر ۔۔ وہ امل کی بے بسی محسوس کررہا تھا۔۔۔ مگر کیسے ؟ ۔۔ کیونکہ ۔۔۔ اب مصطفی ۔۔ امل بن کر سوچ رہا تھا ۔۔

اب اگر امل کے جانب آؤ تو ۔۔ وہ جو مصطفی بن چکی تھی ۔۔ اسے یاد آیا کہ مصطفی کرتا کیا تھا ؟؟

’’ باس کا اسسٹنٹ ہوں ۔۔ کسی کا ڈیٹا نکالنا ہو ، کسی کی جاسوسی کرنی ہو ، کسی پر نظر رکھنی ہو ، ہیکنگ کرنی ہو اور اس طرح کا ہر کام کرلیتا ہوں میں ‘‘

اسے مصطفی کے الفاظ یاد آئے تھے ۔۔

’’ مصطفی ۔۔۔ یعنی مجھ جیسا بندہ ۔۔ ایک گھر میں نہ رہتے ہوئے بھی ۔۔ اس گھر کے افراد پر نظر ۔۔ صرف ایک ہی طریقے سے رکھ سکتا ہوں ۔۔۔ ‘‘ وہ مصطفی بنی کہہ رہی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔۔۔

’’ کیمرے ۔۔۔ آفکورس مصطفی ۔۔ تم اس میں ماسٹر ہو ۔۔۔ اپنے ماسٹر سے بھی زیادہ ‘‘ اور ایک معنی خیز مسکراہٹ نے امل کے ہونٹوں کو چھوا تھا ۔۔۔

’’ تم سے جلد ملاقات ہونے والی ہے ماسٹر ۔۔۔ تم نے امل کو انڈرایسٹیمیٹ کیا ہے ۔۔ اب دیکھو ۔۔ امل کا جلوہ ‘‘ اور پھر وہ سکون سے بیڈ پر لیٹی ۔۔ کمبل اوڑھا ۔۔ اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کی تھیں ۔۔ اسے صبح کا انتظار تھا ۔۔

اور یہاں سے بہت دور ۔۔۔ مصطفی بیڈ پر لیٹا ۔۔ کمبل اوڑھا ۔۔ مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔ماسٹر کا جواب آنا تھا ۔۔۔ اور اسی لئے ۔۔۔ اسے صبح کاانتظار تھا ۔۔



یہ ایک ہوٹل کا کمرہ تھا ۔۔ وہی کمرہ جہاں وہ ایک مہینے پہلے آیا تھا ۔۔۔ اس نے میز کے اوپر رکھی دوربین اٹھائی تھی ۔۔ اب کمرے کی کھڑکی کے پاس آکر اس نے سامنے اسی گھڑ کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔ اس کمرے کی کھڑکی کا پردہ ہٹا ہوا تھا ۔۔ اسکا مطلب ۔۔ وہ اٹھ گئ تھی ۔۔

اب وہ دوربین واپس رکھ کر کمرے کے ساتھ اٹیچڈ اس سٹڈی میں آیا تھا ۔۔ جہاں اسکا لیپ ٹاپ اور موبائل رکھا تھا ۔۔

لیپ ٹاپ آن کرتے ہی اس نے سب سے پہلے اپنی ای۔میلز چیک کی تھیں ۔۔۔ ٹاپ پر ہی مصطفی کی ای۔میل تھی ۔۔ اس نے ای۔میل کھولی تھی ۔۔

’’ ماسٹر ۔۔۔ میں مانتا ہوں کہ اس نے غلط کیا ۔۔ مگر اسے سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔ وہ بہت پریشان ہے ۔۔ پلیز ماسٹر ۔۔ اسے واپس بھیج دیں ۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی ۔۔ پلیز ‘‘

مصطفی کی ای۔میل پڑھ کر اسے تھوڑی حیرت ہوئی تھی ۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ مصطفی اس سے ریکوسٹ کررہا تھا ۔۔ اور بھی امل کے لئے ۔۔۔

اس نے جواب دینے کے بجائے ۔۔ اب کچھ اور بٹن کئے تھے ۔۔ اور وہ ۔۔ دیکھ رہا تھا ۔۔ اس گھر کا کچن ۔۔ جہاں امل موجود تھی ۔۔ اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہت آئی تھی ۔۔

’’ میں تمہارے سامنے نہیں آؤنگا امل ۔۔۔ مگر تم میرے سامنے ہی رہوگی ۔۔ ہر لمحہ ۔۔ ہر پل ‘‘ کہتے ساتھ ہی اب وہ مکمل اس کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔

اور اب اگر اس کچن میں آؤ تو امل اپنے لئے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔۔ اور ساتھ وہ گنگنا بھی رہی تھی ۔۔ آج وہ کچھ زیادہ ہی مطمئن نظر آرہی تھی ۔۔۔

اپنے لئے آملیٹ اور ساتھ ٹوسٹ ریڈی کرنے کے بعد وہ کپ میں چائے ڈال کر ڈائیننگ ٹیبل کے پاس آکر بیٹھی تھی ۔۔

اب وہ بہت سکون سے بیٹھی ناشتہ کرنے میں مصروف تھی ۔۔

’’ لگتا ہے تمہیں اس گھر کی عادت ہوگئ ہے مائی ہارٹ ‘‘ ماسٹر نے اسے ناشتہ کرتے دیکھ کر کہا تھا ۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔

اس نے ناشتہ ختم کیا تھا ۔۔۔ اور پھر وہ اپنے کمرے میں واپس گئ تھی ۔۔ اب ماسٹر اسے دیکھ نہیں سکتا تھا ۔۔ گھر وہ واحد جگہ تھی جہاں اس نے کیمرے نہیں لگائے تھے ۔۔ وہ اب کرسی سے ٹیک لگائے ۔۔ امل کے کمرے سے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا تھا ۔۔ ایسے جیسے ۔۔۔ اس کے علاوہ اسے کوئی کام ہی نہ ہو ۔۔

کچھ دیر بعد امل کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔ وہ باہر آئی تھی ۔۔ اور اب ۔۔ ماسٹر کو چونکنا پڑا تھا ۔۔

’’ یہ اس نے کیا حلیہ بنایا ہوا ہے ؟ ‘‘ وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھ رہا تھا ۔۔۔

نیلے رنک کا ٹراؤز ، سفید ٹی شرٹ پہنے ، اس کے اوپر ایپرن پہنے ۔۔ سر پر ایک چھوٹا سا سکارف باندھے ہاتھ میں ایک کپڑا پکڑے وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے چاروں جانب دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ یہ کیا کر رہی ہے ؟ ‘‘ سکرین کے قریب ہوتے ہوئے ماسٹر نے حیرانگی سے کہا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ اسے مزید حیران ہونا پڑا تھا ۔۔

امل اب کچن واپس آئی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔ اس نے کچن کا سارا سامان نکال کر باہر رکھنا شروع کیا تھا ۔۔ وہ ایک ایک چیز ہاتھ میں پکڑے اس کپڑے سے صاف کرنے لگی تھی ۔۔

’’ اوہ ۔۔۔ تو صفائی کا موڈ ہے میڈم کا ۔۔ گڈ ‘‘ وہ بہت غور سے امل کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جو ایک سٹول کے اوپر کھڑی ہوکر کچن کے کیپلٹس ، سامان ، چھت ، دیواریں ، ہر ایک چیر صاف کر رہی تھی ۔۔ اور وہ یہ کام بہت آرام آرام سے کر رہی تھی۔۔ تقریباً دو گھنٹے اس نے صرف کچن میں لگائے تھے ۔۔

کچن صاف کرنے کے بعد وہ کچن کے بیچ میں کھڑی ہر چیز کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ شاید اپنی صفائی کی تعریف بھی کر رہی تھی ۔۔ اپنی نگاہوں سے ۔۔۔ پھر جیسے صفائی سے مطمئن ہوکر وہ فرج کی جانب بڑھی تھی ۔۔ ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر وہ سٹول پر بیٹھی ۔۔ آدھی بوتل پانی پینے کے بعد وہ دوبارہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اب اسکا رخ لاؤنچ کی جانب تھا ۔۔

’’ تین گھنٹے تم نے ایک کچن صاف کرنے میں لگا دیئے سلیپنگ بیوٹی ۔۔ تم ایک ناکام ہاؤس وائف بنوگی ‘‘ کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے ماسٹر نے کہا تھا ۔۔ اور اب ۔۔ اس نے ایک بٹن پش کیا تھا ۔۔ سکرین پر ایک لاؤنچ کا منظر واضح تھا ۔۔

اور اسے ۔۔ ایک بار پھر ۔۔ حیران ہونا پڑا تھا ۔۔۔

امل اب لاونچ صاف کررہی تھی۔۔ ایک ایک چیز ۔۔۔ ایک ایک ڈیکوریشن پیس ، چھت ، پینٹگز ، فانوس ، ای۔سی ، صوفے ، ایل۔ای۔ڈی ۔۔ ایک ایک چیز ۔۔ بہت آرام آرام سے ۔۔ بہت دھیان سے اس نے صاف کی تھی ۔۔ بیچ میں رک کر وہ بس ٹھنڈا پانی پی لیا کرتی تھی ۔۔ اور پھر سے ۔۔ سٹول میں کھڑی ہوکر ۔۔ وہ کپڑا پکڑے سب صاف کرنے لگ جاتی تھی ۔۔ اسے پورا ٹی۔وی لاؤنچ صاف کرنے میں تین گھنٹے اور لگ گئے تھے ۔۔۔

’’ بہت اچھا طریقہ نکالا ہے تم نے وقت گزارنے کا ۔۔۔ آئی ایم امپریسڈ ‘‘ اسے واپس کچن میں آتا دیکھ کر ماسٹر نے کہا تھا۔۔ اتنے گھنٹوں میں اس نے ایک بار بھی امل سے اپنی نظر نہیں ہٹائی تھی ۔۔ بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو کھڑا ہوجاتا ۔۔ پھر دوبارہ بیٹھ جاتا ۔۔ مگر اس وقت اس کے لئے امل پر نظر رکھنے سے زیادہ کوئی کام اہم نہیں تھا ۔۔

امل نے کچن میں آکر فریج کھولا تھا ۔۔ ایک پلیٹ بریانی نکال کر اب اس نے اسے اوون میں گرم ہونے کے لئے رکھا تھا۔۔

’’ تھک گئ آج تو بہت ‘‘ ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ پھر اپنا ایپرن اتار کر ہاتھ منہ وہی کچن میں دھوئے تھے ۔۔ اسے اس وقت اپنے دوپٹے کا بھی خیال نہیں تھا ۔۔ ویسے بھی گھر میں تھا ہی کون ؟

’’ اف ۔۔۔ ‘‘ وہ اسے سوچ پر چونکی تھی ۔۔ اور جلدی سے دوبارہ ایپرن پہنا تھا ۔۔

’’ جس وجہ سے اتنی صفائی کرنی پڑ رہی ہے ۔۔ اسے ہی بھول جاتی ہو تم امل ۔۔ حد ہے ‘‘ خود سے کہتے ہوئے اس نے اوون سے بریانی نکالی تھی ۔۔ اب وہ کچن شیلف کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی اسے کھانے میں مصروف تھی ۔۔

’’ شکر ہے تمہیں کھانے کا خیال بھی آیا ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا ۔۔

وہ کھانے سے فارخ ہوکر دوبارہ کھڑی ہوگئ تھی ۔۔ اور ماسٹر کی حیرت انتہا پرتھی ۔۔۔

سٹڈی روم ، گیسٹ روم ، گارڈن ، ٹیرس ، بالکنی ، چھت ، یہاں تک کے گھر کی سیڑھیاں بھی اس نے نہیں چھوڑی تھی۔۔ وہ ایک مشین کی طرح اس گھر کا کونا کونا صاف کررہی تھی ۔۔۔

اور ماسٹر کو اسکی ذہنی حالت پر شک ہونے لگا تھا ۔۔۔

وہ جس وقت پورا گھر چمکا کر فارغ ہوئی ۔۔ اس وقت رات کے نو بج رہے تھے ۔۔۔

اور وہ اب اپنے روم میں جاچکی تھی ۔۔۔

اور ماسٹر ۔۔ جو حیران کن نگاہوں سے سکرین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کے کمرے میں جاتے ہی اس نے گہری سانس لی تھی۔۔

’’ آئی کانٹ بیلیو دز ۔۔۔ بارہ گھنٹے ۔۔ کوئی انسان لگاتار بارہ گھنٹے تک صفائی کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟ ‘‘ اور دماغ جواب دینے سے قاصر تھا ۔۔



وہ تقریباً ایک گھنٹے بعد اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔ اور ماسٹر کو ایک بار پھر چونکنا پڑا تھا ۔۔

’’ یہ اس نے کیا حلیہ بنایا ہے ؟ ‘‘ ایک بار پھر ۔۔ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

بلیک ٹراؤزر اور ٹاپ پہنے ، کھلے ہوئے بال ۔۔ جوکہ دونوں کاندھوں میں بکھرے تھے ، لمبائی کمر کے کچھ اوپر تک آتی تھی، آنکھوں میں کاجل ، ڈارک ریڈ لپ سٹک لگائے ہوئے ۔۔۔ وہ یقیناً بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔ کچھ دیر کے لئے۔۔۔ ماسٹر جیسے اس میں کھو سا گیا تھا ۔۔ مگر اسے واپس آنا پڑا ۔۔ اسکی خوبصورتی کے سحر سے ۔۔۔ اسکی آواز اسے واپس لائی تھی ۔۔

’’ ہیلو ماسٹر ۔۔ ‘‘ اپنا ہاتھ لہراتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔اور ماسٹر کو جیسے کرنٹ لگا تھا ۔۔ وہ فوراً اچھل کر سیدھا ہوا تھا۔۔ اس بار ۔۔ آنکھوں کے ساتھ ساتھ منہ بھی حیرت سے کھل چکا تھا ۔۔

’’ ارے ۔۔ اتنا حیران کیوں ہورہے ہو ۔۔ ؟؟ ‘‘ وہ ہلکا سا ہنسی تھی ۔۔ اور ماسٹر کا منہ مزید کھل گیا تھا ۔۔

’’ اسے کیسے پتہ ؟؟ ‘‘دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔۔

’’ کیونکہ میں امل ہوں ماسٹر ‘‘ وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی کہہ رہی تھی ۔۔ چاروں طرف دیکھ رہی تھی ۔۔

ماسٹر نے دیکھا ۔۔ اس بار اسکے ہونٹوں کے ساتھ ساتھ ۔۔ انکھیں بھی مسکرا رہی تھیں ۔۔

’’ تم نے کہا تھا کہ میں تمہیں انڈرایسٹیمیٹ نہ کروں ۔۔۔ ‘‘ لاؤنچ کے بیچ میں کھڑی وہ کہہ رہی تھی ۔۔ اور اسکا ایک ایک لفظ اسے حیران کر رہا تھا ۔۔

’’ مگر ۔۔ اصل میں تو ۔۔ تمہیں مجھے انڈرایسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہئے تھا ۔۔ تمہیں لگا تم مجھے اغواہ کر کے یہاں لے آؤ گے۔۔ اور میں تنہائی کا شکار ہوکر تم سے معافی مانگ لونگی ؟ ‘‘ وہ دوبارہ ہنسی تھی ۔۔ اور اب ماسٹر کی حیرانگی سنجیدگی میں بدلی تھی۔

’’ میں جانتی ہوں میں اکیلی نہیں ہو ۔۔ چوبیس گھنٹے تم یہاں ہوتے ہو ۔۔ مگر میرے سامنے نہیں آتے تم ۔۔۔ بہت ڈر لگتا ہے کیا میرے سامنے آنے سے ؟ ‘‘ ایک چیلینجنگ انداز تھا ۔۔

’’ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ماسٹر ۔۔۔ سامنے آؤ ۔۔۔ بچوں کی طرح چھپن چھپائی کیوں کھیل رہے ہو تم ؟ چلو سامنے آؤ شاباش ۔۔ باہر نکلو ماسٹر ‘‘ وہ اب ہرطرف دیکھتی ہوئی کہہ رہی تھی ۔۔ صوفے کے پیچھے ، پردوں کے پیچھے ، دروازوں کے پیچھے ۔۔ جیسے ۔۔ وہ ماسٹر کو گھر میں ڈھونڈ رہی ہو ۔۔

’’ ڈرو مت ماسٹر سامنے آجاؤ ۔۔ گڈ بوائے ۔۔ ‘‘ کچن میں آکر کہہ رہی تھی ۔۔ انداز مزاق اڑانے والا تھا ۔۔

اور ماسٹر کی سنجیدگی اب غصے میں بدلنے لگی تھی ۔۔۔

وہ فرج کے پاس آئی تھی ۔۔

’’ ارے ارے ۔۔۔ تم یہ فریج کے اوپر کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ امل نے ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔ اور ماسٹر کو لگا جیسے وہ اسکی جانب ہاتھ بڑھا رہی ہو ۔۔ وہ بے اختیار پیچھے ہوا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ کیمرہ ہٹ چکا تھا ۔۔ سکرین بلیک ہوگئ تھی ۔۔

اور اب ۔۔ ماسٹر کی حیرانگی کی کوئی انتہا نہیں تھی ۔۔ اسے اب سمجھ آیا تھا ۔۔ کہ وہ صبح سے اصل میں کر کہا رہی تھی ۔۔ وہ ایک جھٹکے سے آگے ہوا تھا ۔۔ اس نے دوسرا کیمرہ آن کیا تھا ۔۔ اب لاونچ کا منظر سامنے تھا ۔۔

’’ پھر سے چھپ گئے ماسٹر ۔۔۔ کہا ہو اب تم ؟؟ ‘‘ وہ آس پاس دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔۔

’’ ارے ۔۔ یہ تم پینٹنگ کے اوپر کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ امل نے کہتے ساتھ ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔۔ اور اب ۔۔ دوبارہ سکرین بلیک ہوگئ تھی ۔۔

اس نے فوراً سے دوسرا کیمرہ آن کیا تھا ۔۔ اب ڈائیننگ ٹیبل نظر آرہی تھی۔۔ اس نے دیکھا امل اسی جانب آئی تھی ۔۔

’’ ویسے کمال کے ہو تم بھی ماسٹر ۔۔ نظر ہٹا بھی نہیں سکتے ۔۔ اور نظر آنا بھی نہیں چاہتے ‘‘ وہ اب سیڑھوں کے درمیان میں آکر رکی تھی ۔۔

اس نے سر اٹھا کر کیمرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ ایسا نہیں چلے کا ماسٹر ‘‘ کہتے ساتھ اس نے ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔ اور ایک بار پھر ۔۔۔ سکرین پر اندھیرا چھا گیا تھا ۔۔

اس نے اب ایک اور کیمرہ آن کیا تھا ۔۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا تھا ۔۔۔ آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھیں۔

اب گارڈن کا منظر سامنے تھا ۔۔

’’ ویسے یہ منظر واقعی بہت خوبصورت ہے ۔۔ ہے نہ ؟ ‘‘ وہ کہتی ہوئی آگے بڑھی تھی ۔۔

’’ لیکن ایسے خوبصورت منظر ۔۔ کیمرے میں نہیں ۔۔ آنکھوں سے دیکھنے میں زیادہ حسین ہوتے ہیں ‘‘ کہتے ساتھ اس نے ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔ اور سکرین پھر سے بلیک ہوگئ تھی ۔۔۔

اور پھر ۔۔۔ اسی طرح بالکنی ، ٹیرس ۔۔ چھت ۔۔۔ اور آخر میں ۔۔۔

یہ سٹڈی کا منظر تھا ۔۔۔ وہ سٹڈی روم میں آئی تھی ۔۔ اور میز کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئ تھی ۔۔ کتنا سکون تھا اسکے چہرے پر ۔۔۔ اور ماسٹر کو اس وقت اسکا سکون زہر لگ رہا تھا ۔۔

’’ پتہ ہے ۔۔ مصطفی بار بار مجھ سے ایک ہی بات کہتا ہے ۔۔۔ ‘‘ اس نے کہنا شروع کیا تھا ۔۔ نظر سامنے رکھے لیمپ پر لگے کیمرے پر تھی ۔۔

’’ وہ کہتا ہے کہ ۔۔۔ امل ۔۔ تم اور ماسٹر ایک جیسے ہو ‘‘ وہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اور ماسٹر نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنائی تھی ۔۔ وہ خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔

’’ مجھے اس بات پر پہلے یقین نہیں آتا تھا ماسٹر ۔۔۔ مگر اب ‘‘ وہ لیمپ کے قریب جھکی تھی ۔۔ نظر کیمرے پر تھی ۔۔

’’ اب مجھے لگنے لگا ہے ۔۔ تم مجھے قید کرلیتے ہو ۔۔ اور میں ۔۔ تمہاری قید میں رہ کر بھی آزاد ہوتی ہوں ۔۔ کیونکہ ہم دونوں ایک ہی جیسے ہیں ۔۔ ایک دوسرے کے لئے ۔۔ ایک دوسرے جیسے ‘‘ اس کے کہتے ساتھ کیمرہ ہٹایا تھا ۔۔ لیپ ٹاپ کی سکرین اب بلیک پوچکی تھی ۔۔ اب کوئی کیمرہ نہیں بچا تھا ۔۔۔

وہ اپنی جکہ سے اٹھا تھا ۔۔۔ اب وہ بے چینی سے کمرے میں چکر لگارہا تھا ۔۔

’’ یہ لڑکی ۔۔۔ یہ مجھے ہمیشہ حیران کردیتی ہے ‘‘ وہ اپنا سر تھامے کہہ رہا تھا ۔۔ امل نے اسے آج حیران کر دیا تھا ۔۔ اور یہ پہلی بار نہیں تھا ۔۔ ہمیشہ ہی اسے حیران کردیتی تھی ۔۔ مگر اب ۔۔۔ اب وہ کیا کرے گا ۔۔ وہ اس گھر میں اکیلی تھی ۔۔ اور اب وہ نہیں جانتا کہ وہ وہاں کیا کررہی ہوگی ۔۔ وہ اب اسکی طرف سے فکر مند ہورہا تھا ۔۔ جانے آگے کیا کرے گی وہ ۔۔ اب تو اسے کوئی روک بھی نہیں سکے گا ۔۔ کیونکہ اب تو اسے کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا ۔۔۔

وہ کچھ دیر اسی سوچ میں گم رہا تھا ۔۔ اور پھر اس نے ایک فیصلہ کیا تھا ۔۔۔

اس نے مصطفی کو ای۔میل سینڈ کی تھی ۔۔۔ اور پھر ۔۔ وہ مسکرایا تھا ۔۔

اور یہاں سے بہت دور ۔۔۔ ٹیرس ہر کھڑے مصطفی کے موبائل پر نوٹیفیکیشن ٹیون بجی تھی ۔۔۔ اس نے بے چینی سے موبائل نکالا تھا۔۔ آج کا پورا دن اس نے ماسٹر کے انتظار میں گزارا تھا ۔۔ اور اب جاکر اسکا انتظار ختم ہوا تھا ۔۔ اس نے جلدی ای۔میل آن کی تھی ۔۔ اور پھر ۔۔۔ اس کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔۔ وہاں اب پہلے سے زیادہ پریشانی تھی ۔۔ وہ فوراً پلٹا تھا۔۔ اس نے دوبارہ ای۔میل پڑھی تھی ۔۔

’’ تم نے ٹھیک کہا تھا مصطفی ۔۔۔ ہم دونوں ایک جیسے ہی ہیں ۔۔۔ اور اب ۔۔ وقت آگیا ہے ۔۔ کہ یہ ایک جیسے لوگ ۔۔ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجائیں ۔۔۔ ایک دوسرے کے مقابل ‘‘

اور اس بات نے اسے بتا دیا تھا۔۔ کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔۔۔

’’ مایا ‘‘ وہ مایا کو پکارتے ہوئے اندر کیا تھا ۔۔۔ مایا کو بتانا ضروری تھا ۔۔۔

اور یہاں سے بہت دور ۔۔ ناران کے اس فلیٹ کے کمرے میں موجود ماسٹر نے ۔۔ اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی تھی ۔۔ اور وہ تیزی سے وہاں سے باہر نکلا تھا ۔۔

’’میں آرہا ہوں مائی ہارٹ ۔۔۔ تمہارے مقابل ‘‘

کہتے ساتھ اس کے گاڑی چلائی تھی۔۔۔۔ اور اب وہ گاڑی تیزی سے آگے بڑھی تھی ۔۔۔ اپنی منزل کی جانب۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *