Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 08)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

یہ صبح کے چھ بجے کا وقت تھا ۔۔ جب اسکی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ وہ اب بھی رات والے کپڑوں میں ہی تھی ۔۔ اسے رات نیند نہیں آئی تھی ۔۔ جو کچھ اس نے کیا ۔۔ وہی ٹھیک تھا ۔۔ اور اسے کہیں نہ کہیں اس بات کا یقین تھا کہ ماسٹر اب ضرور آئے گا ۔۔ جانے کیوں ؟ مگر اسے ایسا لگا کہ جیسے وہ اسی وقت آجائے گا ۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔ اس نے پوری رات انتظار کر کے گزاری تھی ۔۔ اور اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب اسکی آنکھ لگی تھی ۔۔ وہ اپنے کمرے کے صوفے پر بیٹھی بیٹھی ہی سوگئ تھی ۔۔ اس نے اٹھ کر کھڑکی کے آگے سے پردے ہٹائے تھے ۔۔ باہر اب بھی مکمل روشنی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ دھند چاروں جانب پھیلی تھی ۔۔ سامنے کا منظر کچھ صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔

‘’ جانے اب اور کتنے دن اسکا انتظار کرنا ہوگا مجھے ۔۔ ابھی تو یونیورسٹی جانا شروع کیا تھا میں نے ۔۔ پچھلے اسائنمنٹس مکمل کئے ہی تھے کہ اب پھر میں وہاں نہیں جاسکتی ۔۔۔ یہ سب اس ماسٹر کی وجہ سے ہورہا ہے ۔۔۔ ایک بار میرے سامنے آجائے یہ ۔۔۔ ‘‘ وہ خود سے باتوں میں مصروف تھی ۔۔ جب اسے ایک آواز نے چونکایا تھا ۔۔۔

’’ یہ کیسی آواز ہے ‘‘ اسے محسوس ہوا ۔۔ جیسے یہ فائرنگ کی آواز تھی ۔۔ مگر وہ آکہاں سے رہی تھی ۔۔

’’ یہ کیا ہورہا ہے ؟ ‘‘ وہ اب گھبرائی تھی ۔۔ آواز کمرے کے باہر سے آرہی تھی ۔۔ یعنی باہر فائرنگ ہوئی تھی۔۔۔ اور اسی سوچ نے اسے ڈرایا تھا ۔۔

وہ اب آہستہ آہستہ باہر کی جانب بڑھی تھی ۔۔ آواز اب بھی آرہی تھی ۔۔ ایسے جیسے باہر کوئی ہنگامہ ہورہا ہو ۔۔

’’ کون ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ آواز ڈر سے کانپ رہی تھی ۔۔

وہ اب اپنے کمرے کا لاک کھول کر باہر آئی تھی ۔۔۔ اب آواز مزید تیز محسسوس ہورہی تھی ۔۔

’’ یہ ۔۔ لاؤنچ سے آرہی ہے ‘‘ اس نے سوچا تھا ۔۔ اور اسکے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھے تھے ۔۔

وہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے آرہی تھی ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ لاؤنچ کی تمام لائیٹس آف تھیں ۔۔ مگر۔۔ ایل۔ای۔ڈئی سے نکلتی روشنی نے لاونچ کو روشن کیا ہوا تھا ۔۔

’’ یہ ٹی وی کس نے آن کیا ہے ؟ ‘‘ اسے حیرت ہوئی تھی۔۔ گھر میں اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔۔ پھر ٹی۔وی کس نے آن کیا تھا ۔۔ ؟؟

وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی ۔۔مگر پھر ۔۔۔ اس کے قدم رک گئے تھے ۔۔ خوف نے اس کے پورے وجود کو کانپنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ کوئی سایہ تھا ۔۔ صوفے پر بیٹھا ۔۔ یقیناً وہ کوئی آدمی تھا ۔۔

’’ کک ۔۔۔ کون ہے ‘‘ کانپتی آواز سے اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ کون ہو تم ؟ ‘‘ وہ ایک ایک قدم نیچے آتے پوچھ رہی تھی ۔۔ مگر وہ سایہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا ۔۔

وہ اب آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی لاؤنچ میں آئی تھی۔۔ وہ اس سائے کو واضح دیکھ سکتی تھی ۔۔

’’ کون ہو تم ؟ ‘‘ اچانک ہی جیسے اسکا ڈر ختم ہوا تھا ۔۔ اور وہ تیزی سے اسکے سامنے جاکھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ اور پھر ۔۔ اسے حیران ہونا پڑا تھا ۔۔۔

بلیک پینٹ کوڈ پہنے ۔۔ گہری براؤن آنکھیں ، گورا رنگ ، گردن تک آتے لمبے بال ، ہلکی بیئرڈ ، دائیں کلائی میں قیمتی گھڑی، ہاتھ میں پکڑی کی۔چین جسے انگلی میں گمارہا تھا ، سوچ میں ڈوبی گہری آنکھیں جو اسی پر ٹکی تھیں ۔۔ وہ جانے کتنے ہی پل اسے دیکھتی رہی تھی ۔۔ وہ جانے کتنے ہی پل اسے دیکھتا رہا تھا ۔۔

اور پھر ۔۔ اس خاموشی کو ۔۔۔ امل نے ہی توڑا تھا ۔۔

’’ ماسٹر ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ جیسے اسے پہچان گئ تھی۔۔۔ اس شخص کو وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی ۔۔ اسلام آباد کے ائیرپورٹ پر ۔۔

’’ نہیں ۔۔۔ تھرڈ کلاس ڈانسر ‘‘ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔ ہونٹ مسکرائے تھے ۔۔ اور امل نے دیکھا ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بہت پرکشش لگ رہا تھا ۔۔اس کے دائے گال کر ہلکا سا ڈمپل پڑتا تھا ۔ وہ بس اسے دیکھتے ہی رہ گئ تھی ۔۔

’’ اتنے غور سے مت دیکھو کہ مجھے خوش فہمی ہوجائے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل حیران ہوئی تھی ۔۔ کیا کر رہی ہو تم امل ؟ تمہیں اس سے سوال کرنا چاہئے ۔۔ اتنی مشکل سے تو سامنے آیا ہے وہ ۔۔

اس نے جیسے خود کو ٹوکا تھا۔۔۔

’’ تو آہی گئے تم سامنے ۔۔ ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ تمہیں اتنی بے چینی جو تھی مجھ سے ملنے کی ‘‘ معنی خیز انداز تھا ۔۔ مگر امل نے اس انداز کو اگنور کردیا تھا ۔۔

’’ بے چینی تو ہونی ہی تھی نہ ماسٹر ۔۔۔ ‘‘ وہ صوفے پر جاکر بیٹھی تھی ۔۔

’’ تم میرے لئے ایک مسٹری بن چکے تھے ۔۔۔ اور مسٹریز کو حل کرنا تو میرا فیورٹ کام ہے ‘‘ اسکے سامنے بہت کانفیڈٹ سے بیٹھے وہ ٹانگ ہر ٹانگ جماتی ہوئی کہہ رہی تھی ۔۔ اور اسکا یہ انداز ۔۔۔ ماسٹر کے مسکراہٹ گہری کرگیا تھا ۔۔ ڈمپل گہرا ہوا تھا ۔۔ اف امل ڈمپل پر فوکس مت کرو ۔۔ اس نے پھر سے خود کو ٹوکا تھا ۔۔۔

’’ یو آر سم تھنگ امل ۔۔۔ یو آر سم تھنگ ویری سپیشل ۔۔۔ مجھے پہلی بار کوئی انسان اتنا حیران کن لگا ہے ۔۔ تم جیسی لڑکی میں نے کبھی نہیں دیکھی ‘‘ وہ کہتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔ نظر اسی پر ٹکی تھی ۔۔ جو اس کی بات پر مسکرائی تھی ۔۔

’’ تم جیسا انسان بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا ماسٹر ۔۔۔ کسی کی مدد کرنے کا بہت انوکھا انداز اپنایا ہے تم نے ۔۔ خود کو سپیشل بنانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تم نے ۔۔ یو آر آلسو سم تھنگ سپیشل ‘‘ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ غور سے اسے دیکھتے ہوئے ۔۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب اسی طرح دیکھتے رہے تھے ۔۔

’’ تم کیا چاہتے ہو مجھ سے ؟ ‘‘ دونوں کی خاموشی کو امل نے توڑا تھا ۔۔

’’ تم کیا چاہتی ہو مجھ سے ؟ ‘‘ سوال کے جواب میں بھی سوال ہوا تھا ۔۔

’’ آزادی ۔۔۔ ‘‘ وہ آگے کو جھکی تھی ۔۔

’’ میں چاہتی ہوں کہ تم میرے معاملات میں مداخلت کرنا چھوڑ دو ‘‘ ماسٹر کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔ مسکراہٹ فوراً ہی غائب ہوئی تھی ۔۔ ڈمپل بھی غائب ہوا تھا ۔۔

’’ واہ امل اب تمہیں اس ڈمپل پر بھی افسوس ہونے لگا ہے ‘‘ اس نے خود پر حیرت کی تھی ۔۔۔

’’ اور کیا ہیں تمہارے معاملات ؟ وہ فرہاد ؟؟ ‘‘ ماتھے پر بل لئے اس نے کہا تھا ۔۔ اور امل کو اسکے انداز پر حیرانگی ہوئی تھی۔

’’ اسے بیچ میں مت لاؤ ۔۔۔ میرے معاملات جس سے بھی ہیں ۔۔ جو بھی ہیں ۔۔ تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔۔

’’ وہ بیچ میں آچکا ہے امل ۔۔۔ تمہیں میں نے منع کیا تھا اس سے دوستی کرنے سے ۔۔ پھر بھی تم مجھے ہمیشہ اس کے ساتھ نظر آئی ہو ‘‘ اپنا غصہ دبائے وہ کہہ رہا تھا مگر امل محسوس کر سکتی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلے ۔۔

’’ تم ہوتے کون ہو مجھے منع کرنے والے ؟ میں جس سے بھی چاہو ملو ۔۔ جس سے چاہو نہ ملوں ۔۔ تم ‘‘ انگلی اسکی جانب اٹھائی تھی ’’ تم مجھے روک نہیں سکتے ‘‘

’’ آفکورس میں تمہیں روک سکتا ہوں ۔۔ یہ مت بھولوں کہ یہ جو سانسیں چل رہی ہیں نہ تمہاری ۔۔ یہ میری وجہ سے چل رہی ہیں ۔۔ ‘‘ اسے اپنی سخت نگاہوں کے حصار میں لیتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔۔

’’ مجھے یہ سانسیں اللہ نے دی ہیں ۔۔ تم بس ایک ذریعہ تھے ماسٹر ۔۔ ‘‘ وہ بھی نظریں ہٹانے والی کہاں تھی ؟

’’ ہاں ۔۔ میں ایک ذریعہ تھا ۔۔ اور یہ میرا تم پر احسان ہے امل ۔۔ جب تک تم اس احسان کو چکا نہیں لیتی ۔۔ میں تمہیں نہیں چھوڑونگا ‘‘ وہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا تھا ۔۔ جیسے بات ختم ہوگئ ہو ۔۔

’’ ٹھیک ہے پھر ۔۔۔ ‘‘ وہ کھڑی ہوئی تھی۔۔ اس کے مقابل ۔۔ ’’ احسان کیا ہے نہ تم نے مجھ پر ۔۔ تو پھر بتاؤ ۔۔ کیا چاہتے ہو تم ؟ تمہارا یہ احسان چکانے کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا ؟ ‘‘

’’ تمہیں ۔۔ ‘‘ وہ آگے بڑھا تھا ۔۔ یہاں تک کے وہ امل سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر رکا تھا ۔۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘ امل نے اسے خاموش دیکھ کر کہا تھا ۔۔

’’ تمہیں مجھ سے ۔۔ ایک ایگریمنٹ کرنا ہوگا ۔۔ اور پھر ۔۔۔ تم آزاد ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کیسا ایگریمنٹ ؟ ‘‘ امل نے پوچھا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔۔ ماسٹر مسکرایا تھا ۔۔۔ اور امل کو لگا ۔۔ جیسے یہ مسکراہٹ ایک نیا طوفان لانے والی تھی ۔۔

’’ آج شام کو میرا وکیل آئے گا ۔۔ اور پھر ۔۔ ہم وہ ایگریمنٹ سائن کرینگے ۔۔ اب مجھے چلنا چاہئے ۔۔ شام کو ملاقات ہوتی ہے ‘‘ وہ کہہ کر پلٹا تھا ۔۔

’’ لیکن اس ایگریمنٹ میں ہے کیا ؟ ‘‘ امل کے سوال نے اس کے قدم روکے تھے ۔۔

’’ شام کو بات ہوگی امل ۔۔ ‘‘ وہ بنا پلٹے کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا ۔۔ جبکہ امل وہی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔

’’ اس انسان کو اتنا مسٹیرئیس ہونے کا شوق کیوں ہے ؟ ‘‘ خود سے کہتی ہوئی وہ اپنے کمرے کی بڑھی تھی ۔۔

’’ پتہ نہیں اب کیا کرنے والا ہے یہ ‘’ وہ مسلسل اسی بارے میں میں سوچ رہی تھی ۔۔ اور وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی نہیں جان پائے گی کہ ماسٹر کیا سوچ رہا ہیں؟ ۔۔ کاش ۔۔۔ کاش مصطفی یہاں ہوتا ۔۔ !!



وہ اس وقت ہسپتال میں تھی جب اس کا موبائل بجا تھا ۔۔

’’ ہیلو ؟ ‘‘ کال ریسیو کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ میں تمہارے ہسپتال کے باہر ہوں جلدی آجاؤ ‘‘ مصطفی کی بات پر وہ چونکی تھی ۔۔

’’ کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔ تم جلدی آجاؤ ‘‘ اس نے کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔ اور مایا اب اپنے آفس سے باہر آئی تھی۔۔

’’ میں لنچ کرنے جارہی ہوں ۔۔ کوئی ایمرجنسی ہو تو کال کرلینا مجھے ‘‘ ریسیپشن پر کہہ کر وہ آگے بڑھ گئ تھی ۔۔

باہر آتے ہی اسے سامنے مصطفی کی گاڑی نظر آئی تھی ۔۔ وہ فوراً اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔

’’ کیا ہوا ہے مصطفی ؟؟ ‘‘ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ کچھ ہونے والا ہے مایا ۔۔ ماسٹر کچھ کرنے والے ہیں ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ مایا نے دیکھا ۔۔ وہ بہت بے چین تھا۔

’’ کیا کرنے والے ہیں وہ ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی ۔۔

’’ مجھے نہیں معلوم ۔۔ مگر کچھ گڑبڑ ہے ‘‘

’’ تم مجھے صاف صاف بتاؤگے کہ ہوا کیا ہے ؟ ‘‘ مایا اب چڑنے لگی تھی ۔۔ وہ بات گما کر کیوں کررہا تھا ؟

’’ بتاتا ہوں۔۔ چلو ‘‘ ایک ریسٹورانٹ کے آگے گاڑی روکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ وہ دونوں اب ریسٹورانٹ کے اندر گئے تھے ۔۔ کونے پر رکھی میز پر جاکر وہ دونوں بیٹھے تھے ۔۔

کھانے کا آرڈر دینے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔

’’ اب بتا بھی دو مصطفی ۔۔ ‘‘ اس نے بےچینی سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ماسٹر نے مجھے بلایا ہے ۔۔ آج شام کو ‘‘

’’ تو ؟ ‘‘ مایا نے پوچھا تھا ۔۔

’’ انہوں نے مجھے ناران بلایا ہے مایا ۔۔ امل وہی ہے ‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔ جبکہ مایا مسکرائی تھی ۔۔

’’ تو یہ تو بہت اچھی بات ہے نہ ۔۔ فائنلی وہ امل کو واپس بھیج رہے ہیں ۔۔ اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ ‘‘

’’ پریشان ہونے والی بات یہ ہے ۔۔ کہ میں اکیلا نہیں ہوں جسے انہوں نے بلایا ہے ؟ ‘‘ دبی ہوئی آواز میں کہا تھا۔۔

’’ مجھے بھی جانا ہوگا کیا ؟ ‘‘

’’ نہیں ۔۔ تمہیں نہیں ‘‘

’’ تو پھر ؟ مصطفی صاف صاف بتاؤ پلیز ‘‘ مایا نے چڑ کر کہا تھا ۔۔

’’ صاف صاف یہ ہے کہ انہوں نے وکیل کو بھی بلایا ہے ۔۔ اور کسی ایگریمنٹ کا ذکر بھی ہورہا تھا ‘‘

’’ کیسا ایگریمنٹ ؟ ‘‘ مایا نے پوچھا تھا ۔۔ اور مصطفی نے گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ میں نہیں جانتا ۔۔ مجھے بس وکیل کو وہاں لے کر جانا ہے اس ایگریمنٹ کے ساتھ ۔۔ اس میں کیا ہے ؟ یہ صرف ماسٹر اور وہ وکیل ہی جانتا ہے ۔۔ اور تم جانتی ہو ؟ دونوں میں سے کوئی مجھے کچھ نہیں بتا رہا ۔۔۔ ‘‘ وہ بہت پریشان تھا ۔۔ اور اب مایا بھی اسکی پریشانی سمجھ چکی تھی ۔۔

’’ تمہیں کیا لگتا ہے ؟؟ کیسا ایگریمنٹ ہوگا وہ ؟ ‘‘ مایا نے اسکی جانب جھک کر پوچھا تھا ۔۔

’’ مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے ۔ْ۔۔ مگر ‘‘ وہ بھی اسکی جانب جھکا تھا ۔۔

’’ اس میں جو کچھ بھی ہے ۔۔ وہ امل اور ماسٹر کے درمیان ہے ۔۔ مجھے یقین ہے ۔۔ امل اور ماسٹرکوئی ڈیل کرنے والے ہیں مایا ۔۔ ایک ایسی ڈیل ۔۔ جو سب بدل دیگی ۔۔ میری چھٹی حس کہہ رہی ہے ‘‘ مصطفی نے کہا تھا ۔۔ اور مایا بس اسے دیکھتی رہ گئ تھی ۔۔ ایسا کیا ہونے جارہا تھا ؟



اس نے پورا وقت اپنے کمرے میں گزارا تھا ۔۔ سوچ سوچ کر تھک گئ تھی مگر اسے اب بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ آخر ماسٹر چاہتا کیا ہے ؟ اور اب وہ کیسا ایگریمنٹ کرنے والا ہے ؟

اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے ۔۔ وہ اب بھی اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی اسی سوچ میں گم تھی۔ جب اسکے کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا ۔۔ وہ تھوڑی حیران ہوئی تھی ۔۔ گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے ؟ پھر یہ کون آگیا ؟

’’ کم ان ‘‘ دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ وہی آیا تھا ۔۔ جو یہاں تک آسکتا تھا ۔۔

’’ کیا حال ہیں سلیپنگ بیوٹی ؟ ‘‘ اس کے بلکل سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ میرا نام امل ہے ماسٹر ۔۔ واقف تو ہو ہی تم ‘‘ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ بلکل واقف ہوں ۔۔ مگر تم پر یہ نام بھی سوٹ کرتا ہے بہت ۔۔ سلیپنگ بیوٹی ‘‘ تھوڑا جھکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ جبکہ امل کے چہرے کے تعصورات بگڑتے تھے ۔۔

’’ کام کی بات کرو ماسٹر ۔۔ ‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔ جس پر وہ کچھ دیر بس اسے دیکھتا رہا تھا ۔۔ پھر ایک گہری سانس لے کر کھڑا ہوا ۔۔ اور اس کے دائیں جانب رکھے صوفے پر جابیٹھا تھا ۔۔

’’ تم کیا چاہتی ہو امل ؟ ‘‘ اب وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔۔

’’ میں تمہیں بتا چکی ہوں ۔۔ تمہاری قید سے آزادی چاہئے مجھے ‘‘

’’ یہ تو تم مجھ سے چاہتی ہو ۔۔ مگر میں تم سے فرہاد کا پوچھ رہا ہوں ۔۔ اس کے بارے میں سب جانتے ہوئے بھی ۔۔ تم اس کے قریب کیوں ہورہی ہو ؟ ‘‘ دبے دبے غصے میں کہا تھا ۔۔

’’ یہ میرا پرسنل میٹر ہے ۔۔ تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ میرا تعلق ہے امل ۔۔ مت بھولوں کہ تم میری وجہ سے زندہ ہو آج ۔۔ میرے گھر میں رہ رہی ہو اور میری دی ہوئی ہر چیز استعمال بھی کر رہی ہو ۔۔ ‘‘ وہ اسکی جانب جھکا کہہ رہا تھا ۔۔ اور اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلوں کی حبس امل محسوس کر چکی تھی ۔۔ کچھ پل کے لئے ہی سہی ۔۔ مگر وہ اس شخص کے غصے سے ڈری ضرور تھی ۔۔

’’ جانتی ہوں تمہارے بہت احسانات ہیں مجھ پر ۔۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم نے خرید لیا ہے مجھے ‘‘ اسی کے انداز میں جواب دیا تھا ۔۔ اور اس کے جواب پر وہ مسکرایا تھا ۔۔ ڈپمل پر ظاہر ہوا تھا ۔۔۔ اف امل ۔۔ !!

’’ ٹھیک کہا تم نے ۔۔ ‘‘ وہ اب صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ۔۔ ’’ خرید نہیں لیا میں نے تمہیں ۔۔ مگر بہت احسانات ہے میرے تم پر ۔۔ انہیں چکانا تو پڑے گا نہ تمہیں ۔۔ ایسے تو نہیں جانے دونگا میں تمہیں ‘‘ معنی خیز انداز تھا۔

’’ کیا چاہتے ہو تم ؟ ‘‘

’’ تم فرہاد کے قریب کیوں ہورہی ہو ؟ جواب چاہئے مجھے ‘‘ سکون سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ۔۔ ٹانگ پر ٹانگ جمائے وہ اس سے جواب مانگ رہا تھا ۔۔

’’ تم جانتے ہو ‘‘ سامنے رکھی میز پر نظر جماتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ تمہیں لگتا ہے تم یہ سب اکیلے کر سکتی ہو ؟ شہزاد شاہ کوئی عام انسان نہیں ہے ۔۔ اور وہ فرہاد ۔۔ ‘‘ وہ دوبارہ اس کی جانب جھکا تھا ۔ ’’ جس دن اسے تمہاری شناخت معلوم ہوگئ ۔۔ وہ اسی دن تمہیں مار دیگا ‘‘

’’ مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا ماسٹر ۔۔ اس لئے مجھے ڈرانے کی ناکام کوشش مت کرو ۔۔ میں اپنا انتقام لے کر رہونگی ۔۔ اور مجھے اس سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔ ‘‘ وہ اسکی جانب جھکی تھی ۔۔ اس کے چہرے کے قریب ۔۔ ’’ تم بھی نہیں ‘‘

اور وہ اپنے سامنے موجود اس بہادر لڑکی کو بس دیکھتا رہ گیا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہے ۔۔ لو اپنا انتقام ۔۔ مگر فرہاد نہیں ۔۔ میرے ذریعے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔۔ اور اب امل کو حیران ہونا پڑا تھا۔

’’ کیا مطلب ہے تمہارا ؟ ‘‘

’’ مطلب یہ کہ تم مجھ سے ایک ایگریمنٹ کرو ‘‘ وہ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیتےہوئے کہہ رہا تھا ۔۔

’’ کیسا ایگریمنٹ ؟ ‘‘

’’ میں چاہتا ہو تم مجھے استعمال کرو ۔۔۔ میری دولت ، میرا نام ، میری شناخت ، میرا دماغ ، میرا دل اور مجھ سے جڑی ہر چیز۔۔ تم اپنے انتقام کےلئے استعمال کرو ۔۔ مجھے اپنے انتقام کا سامان بنادو ۔۔ مجھے اپنے اشارے پر چلاؤ ۔۔ مجھ سے اپنا ہر مطلب نکلواؤ ، میرے ذریعے اپنے دشمنوں کو تڑپاؤ ۔۔ تمہارے انتقام کے اس سفر میں ۔۔ میں تمہارا راستہ بن جاؤنگا امل ۔۔ مجھ سے فائدہ اٹھاؤ ۔۔ ‘‘ وہ ایک ایک لفظ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر کہہ رہا تھا ۔۔ اور اسکا ایک ایک لفظ امل کو حیران کر رہا تھا ۔۔

’’ اور اس کے بدلے ۔۔ تمہیں کیا چاہئے ؟ ‘‘

’’ قید ۔۔۔ تمہیں قید کرنا پسند ہے مجھے ۔۔ میں ’’ نائل شہزاد شاہ ‘‘ اپنے باپ کے خلاف تمہارے ساتھ کھڑا ہونگا ۔۔ میں اپنے ہی خاندان کے خلاف کی ہوئی تمہارے سازشوں کا حصہ بنونگا ۔۔ میں ’’ نائل شاہ ‘‘ اپنے ہی باپ سے تم پر کئے گئے ہر ظلم کا حساب لونگا ۔۔ میں نائل شاہ تمہارے ہاتھ کا کھلونا بن جاؤنگا ۔۔ مگر۔۔ تمہارے نام کو اپنے نام کی قید میں لے کر ۔۔ تمہارا وجود ، تمہارا دل، تمہارا دماغ اور تمہارا ہر عمل آزاد ہوگا ۔۔ مگر تمہارا نام میرے نام کی قید میں ہونگا امل ۔۔ تمہیں مجھے استعمال کرنے کے لئے میرے نام کی قید میں آنا ہوگا ۔۔ تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا ‘‘ اور اس کے الفاظ نے امل پر جیسے بجلیاں گرائی تھیں ۔۔ وہ سکتے میں تھی ۔۔۔

’’ نائل شہزاد شاہ ؟؟ ‘‘ جانے کیسے ؟ مگر بہت ہی دھیمی آواز میں اس نے لفظ ادا کئے تھے ۔۔

تو ماسٹر کون تھا ؟؟ شہزاد شاہ کا بیٹا ۔۔۔ نائل شہزاد شاہ ۔۔۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت تھی ۔۔ جب سے سب بدل دیا تھا۔۔ ایک ایسی حقیقت جو وقت کو بہت پیچھے لے گئ تھی ۔۔۔ کچھ مہینوں پیچھے ۔۔۔ اسی رات میں ۔۔۔ جس رات نے یہ سب شروع کیا تھا ۔۔



چار مہینے پہلے:

وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا ایک فائل سٹڈی کر رہا تھا ۔۔ اسے ایک ہفتہ ہوا تھا یہاں واپس آئے۔۔ اپنے کام کے سلسلے میں اسے کچھ عرصے کے لئے باہر جانا پڑا تھا ۔۔ بس ایک رات ہی اس نے اپنے گھر گزاری تھی اور اس کے بعد وہ یہاں واپس آگیا تھا ۔۔ اپنے کام سے زیادہ دیر کے لئے دوری وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔ اس وقت بھی وہ پوری رات کاجاگا ہوا اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔ جب انٹرکام کی آواز نے اسکی توجہ اپنی جانب کی تھی ۔۔

’’ ہاں منہاج کہو ؟ ‘‘ فائل کی جانب دیکھتے ہوئے ہی اس نے کہا تھا ۔۔

’’ ماسٹر آپ سے ملنے کوئی شہزاد شاہ آئے ہیں ‘‘ منہاج کی بات پر اس نے اپنی فائل بند کی تھی ۔۔

’’ انہیں اندر بھیج دو ‘‘ ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ جانے کیوں ؟ مگر اسے بابا کا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا تھا ۔۔

تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تھا اور شہزاد شاہ اپنے مخصوص باڈی گارڈ کے ساتھ اندر آیا تھا ۔۔

’’ سلام بابا کیسے ہیں آپ ؟‘‘ ان سے گلے ملتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ بس اپنے شیر کو دیکھ لیا ہے نہ ۔۔ اب بلکل ٹھیک ہوگیا ہوں میں ‘‘ اس کے کاندھے پر ہاتھ جماتے ہوئے انہوں نے کہا تھا۔۔

’’ آپ بیٹھیں ‘‘ کرسی کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔

’’ بھئ گھر کا راستہ تو تم جیسے بھول ہی گئے ہو ۔۔ مہینوں بعد ایک دن کے لئے آتے ہو اور پھر مہینوں غائب ‘‘ کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا جبکہ وہ اپنی کرسی پر جابیٹھا تھا ۔۔

’’ آپ تو جانتے ہیں میرا کام ہی ایسا ہے ۔۔ آپ بتائیں کیسے آنا ہوا ؟ کافی لینگےیا چائے ؟ ‘‘ انٹرکام اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا۔۔

’’ نہیں کچھ بھی نہیں ۔۔ میں بس یہاں ایک کام سے آیا تھا۔۔ سوچا تم سے بھی ملاقات کر لوں ۔۔ اب چلونگا میں ‘‘ وہ فوراً ہی کھڑے ہوئے تھے ۔۔

’’ گھر جارہے ہیں ؟ ‘‘ اس نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ کچھ اہم کام کرنے کے بعد گھر ہی جاؤنگا ۔۔ اپنا خیال رکھنا ‘‘ اس سے ملنے کے بعد وہ وہاں سے جاچکے تھے ۔۔ جبکہ وہ اب دوبارہ انٹرکام کی جانب آیا تھا ۔۔

’’ منہاج ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ یس ماسٹر ‘‘ آواز آئی تھی ۔۔

’’ مسٹر واجد سے کہیں مجھ سے آکر ملے ۔۔ فوراً ‘‘ کہتے ساتھ ہی وہ اپنے سامنے رکھی فائل کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد آفس کا دروازہ بجا تھا ۔۔

’’ کم ان ‘‘ اس نے بنا سر اٹھائے اندر آنے کی اجازت دی تھی ۔۔

بلو پینٹ کوٹ پہنے ، صاف رنگت ، ہلکی داڑھی ، گہری براؤن آنکھیں اور ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ ماسٹر کے سامنے کھڑا تھا ۔۔ جنہوں نے اب تک اسے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔

’’ آپ نے بلایا ماسٹر ؟ ‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔ اور ماسٹر نے فائل سر نظر ہٹا کر اسکی جانب تھا ۔۔

’’ ہاں واجد ۔۔ ایک کام کرنا ہے تمہیں ‘‘ اپنی فائل بند کر کے وہ مکمل اسکی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ کیا کام ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔۔

’’ جاکر معلوم کرو ۔۔ آج کل شہزاد شاہ کیا کررہا ہے ؟ اور وہ اسلام آباد کیوں آیا تھا ؟ مجھے ایک ایک بات معلوم کر کے بتاؤ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ اوک ماسٹر ‘‘ واجد نے جواب دیا تھا ۔۔

‘’ تم جاسکتے ہو ۔۔ کوشش کرنا کوئی بھی بات مس نہ ہو تم سے ‘‘ اسے کہہ کر وہ دوبارہ فائل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔ اور وہ وہاں سے جاچکا تھا ۔۔ اس نے اب بہت کام کرناتھا ۔۔۔

اسے اس کام میں دو دن لگ گئے تھے ۔۔ اپنی معلومات کی مکمل فائل ریڈی کر کے اس نے ماسٹر کو کال کی تھی ۔۔

’’ ہیلو ماسٹر ۔۔۔ کیا میں آفس آسکتا ہو ؟ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ اوک ‘‘ اس نے کہتے ساتھ گاڑی سٹارٹ کی تھی اور اب وہ ماسٹر سے ملنے جارہا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد وہ ایک ریسٹورانٹ میں داخل ہوا تھا جہاں سامنے ہی اسے ماسٹر بیٹھے نظر آئے تھے ۔۔ وہ انکی جانب بڑھا تھا ۔۔

’’ کیسے ہیں آپ ؟ ‘‘ ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ۔۔ تم بتاؤ کیا ریپورٹ ہے ؟ ‘‘ ماسٹر کے پوچھنے پر اس نے فائل انکی جانب بڑھائی تھی ۔۔

’’ مری میں ایک گھر ہے ۔۔ آج کل ان کے بندے اس گھر کے آس پاس نظر آئے ہیں ۔۔ اس گھر میں جہانگیر شاہ نامی ایک آدمی رہتا ہے ۔۔۔ ہوٹل منیجر ہے ۔۔ کچھ دن پہلے ہی اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ وہاں ٹرانسفر ہوا ہے ۔۔ ماسٹر ؟؟ ‘‘ اس نے ماسٹر کو پکارا تھا ۔۔ جس کی نظر فائل پر جمی ہوئی تھی ۔۔ چہرے پر پریشانی آئی تھی۔۔

’’ ہاں ؟ ‘‘ کھوئے ہوئے انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ جہانگیر شاہ ۔۔۔ شہزاد شاہ کا بھائی ہے ۔۔ وہی جو ۔۔ سالوں پہلے غائب ہوگیا تھا ۔۔ اور مجھے شک ہے کہ وہ اب ۔۔ انہیں ختم کرنے کی پلیننگ کر رہے ہیں ۔۔ وہ لوگ خطرے میں ہیں ماسٹر ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور ماسٹر بس اسے کچھ دیر دیکھتا رہا تھا ۔۔ واجد نے دیکھا ۔۔ انکی آنکھوں میں ایک خوف تھا ۔۔ ایک ڈر تھا ۔۔

’’ چلو جلدی ۔۔ ‘‘ وہ فوراً گاڑی کا چابی اٹھا کر کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ کہا ؟ ‘‘ وہ بھی کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ جہانگیز چاچا کے پاس واجد ۔۔ انہیں کچھ نہیں ہونا چاہئے ۔۔ چلو جلدی ۔۔ ‘‘ وہ کہہ کر گاڑی کی جانب آیا تھا ۔۔ اور واجد ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا تھا ۔۔

انہیں مری پہنچتے پہنچتے شام ہوگئ تھی ۔۔ وہ اب انکے گھر کے قریب ہی تھے کہ اچانک ۔۔ واجد نے گاڑی روکی تھی ۔۔

’’ گاڑی کیوں روک دی تم نے ؟ ‘‘ ماسٹر نے بے چینی سے کہا تھا۔۔

’’ ہمیں دیر ہوگئ ماسٹر ۔۔۔ بہت دیر ‘‘ اس نے باہر نکلتے ہوئے کہا تھا ۔۔اور ماسٹر بھی باہر نکلا تھا ۔ وہ دوسری جانب موجود اس گھر کو دیکھررہے تھے جو آگ کی لپیٹ میں تھا ۔۔

’’ یہ نہیں ہوسکتا ۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا ‘‘ ماسٹر اس گھر کی جانب بھاگا تھا اور واجد اس کے پیچھے ۔۔

’’ ماسٹر ۔۔۔ وہاں اس کے بندے ہونگے ماسٹر۔۔ رک جائیں ‘‘ وہ کہہ رہا تھا مگر وہ رک نہیں رہا تھا۔۔۔ مگر پھر اسے رکتا پڑا ۔۔ ایک دھماکے کی آواز نے اسکے قدم روکے تھے ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ کوئی وجود تیزی سے نیچے گرا تھا ۔۔۔ اور پھر وہ اٹھا تھا ۔۔ یہاں سے وہ اسے صاف دیکھ نہیں سکتا تھا مگر ۔۔ اتنا ضرور دیکھ سکتا تھا کہ وہ کوئی لڑکی تھی ۔۔ جو اب بھاگ رہی تھی ۔۔ اور اس کے پیچھے دو آدمی بھاگ رہے تھے ۔۔

’’ ماسٹر ۔۔ ہمیں اس طرف سے جانا چاہئے ۔۔ ہم اسے بچا سکتے ہیں ‘‘ واجد نے درختوں کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ اور وہ دونوں اس جانب بھاگنے لگے تھے ۔۔ وہ یہاں سے دیکھ سکتے تھے ۔۔ وہ لڑکی سڑک پر بھاگ رہی تھی ۔۔وہ زخمی تھی۔۔ مگر اپنی جان بچانے کی خاطر وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ اور وہ بھی بھاگ رہا تھا ۔۔ اسی کی جانب ۔۔ اسکی جان بچانے کی خاطر ۔۔

اور پھر ۔۔۔ اس نے دو گولیاں چلنے کی آواز سنی تھی ۔۔ اسکے قدموں کی رفتار تیز ہوئی تھی ۔۔

پھر اس نے دیکھا ۔۔ وہ لڑکی گری تھی ۔۔ اسی کھائی کی جانب ۔۔ جہاں وہ بھاگ رہا تھا ۔۔ مگر وہ اس تک پہنچ نہیں سکا تھا۔۔ وہ رک گیا تھا ۔۔ اس میں جیسے اب آگے بڑھنے کی ہمت ختم ہوگئ تھی ۔۔۔ مگر واجد نہیں رکا تھا ۔۔ وہ بھاگا تھا ۔۔ اسکی جانب۔۔۔ وہ لڑکی ڈھلان ہونے کی وجہ سے نیچے آرہی تھی ۔۔ اور واجد اس کی جانب جارہا تھا۔۔ اور پھر واجد نے ایک چھلانگ لگائی تھی ۔۔ اور وہ اسے روکنے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔۔ اسکا پورا وجود خون سے بھیگا ہوا تھا ۔۔ واجد نے اسکی نبض چیک کی تھی ۔۔

’’ ماسٹر ‘‘ واجد کی آواز اسے سکتے سے باہر لے آئی تھی ۔۔

’’ نبض بہت ہلکی ہے ماسٹر ۔۔۔ اسے فوراً ہسپتال پہنچانا ہوگا ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ یعنی وہ زندہ تھی ۔۔ ؟؟

وہ اب تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔ اسے اٹھا کر وہ اپنی گاڑی کی جانب لایا تھا ۔۔

’’ جلدی چلو واجد ۔۔ ‘‘ ماسٹر نے اسے پچھلی سیٹ پر لٹایا تھا ۔۔۔ اسکا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے اس نے اسکے چہرے پر سے بال ہٹائے تھے ۔۔ کتنی معصوم تھی وہ ۔۔ اور کتنی بہادر ؟؟ اس نے دیکھا ۔۔ اس کے پورے وجود میں کانچ کے ٹکڑے چبھے تھے ۔۔ اس کے بازوں اور ٹانگ پر گولی لگی تھی ۔۔ مگر پھر بھی ۔۔۔ پھر بھی۔۔۔ وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ کوئی انسان اتنی تکلیف میں اتنا کیسے بھاگ سکتا ہے ؟ وہ بھی ایک لڑکی ؟؟ اور وہ پہلی بار تھا ۔۔ جب امل نے اسے حیران کیا تھا۔۔

’’ واجد ۔۔۔ گاڑی مایا کے گھر کی جانب موڑو ‘‘ ماسٹر نے کہا تھا ۔۔ نظریں امل پر تھیں ۔۔۔ اور واجد چونکا تھا ۔۔

’’ مگر ماسٹر ۔۔ ‘‘

’’ جلدی ۔۔۔ ‘‘ اس نے واجد کی بات کاٹ دی تھی ۔۔ وہ امل کو مایا کی جانب لے کر جارہا تھا ۔۔ کیونکہ ۔۔ اسے صرف امل کی جان نہیں بچانی تھی ۔۔ بلکہ اسے شہزاد شاہ سے محفوظ بھی رکھنا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *